3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 3:110–120

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

تم بہترین جماعت ہو جو لوگوں کے واسطے ظاہر کی گئی ہے تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا بعض ان میں ایمان والے ہیں اور اکثر ان میں بدکار (کافر) ہیں

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

معمولی ایذا کے علاوہ وہ تمہیں ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو تم سے پیٹھ پھیر جائیں گے پھر ان کو (کہیں سے) مدد بھی نہیں ملے گی

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

جہاں کہیں بھی پائے جائیں ان پر ذلت مسلط کردی گئی سوائے اس کے کچھ سبب اللہ کی طرف سے ہو اور کچھ سبب انسانوں کی طرف سے اور وہ لوگ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوئے اور ان پر ناداری مسلط کردی گئی یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے یہ سب اس لئے تھا کہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے نکل جاتے تھے

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

اہل کتاب میں سب ایک جیسے نہیں (ان میں) ایک جماعت ہے جو (اللہ کے احکام پر) قائم ہے رات کے اوقات میں اللہ کی آیات پڑھتی ہے اور وہ (اللہ کو) سجدہ کرتی ہے

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت کے دن پر اور نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی نیک لوگوں میں سے ہیں

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور وہ جس طرح کی نیکی کریں گے تو اس کی ہرگز ناقدری نہ کی جائے گی اور اللہ پرہیزگاروں کو جانتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے ان کے مال اور ان کی اولادیں اللہ کے مقابلے میں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی اور یہی دوزخ کے رہنے والے ہیں اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

جو وہ اس دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے تیز ہوا جس میں سخت سردی ہو ایسے لوگوں کی کھیتی کو لگ جائے جنہوں نے اپنے ساتھ ظلم کیا ہو پس اسے برباد کردے اور اللہ نے اس کے ساتھ زیادتی نہیں کی بلکہ خود انہوں نے اپنے آپ کے ساتھ زیادتی کی

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنوں کے علاوہ کسی سے دلی دوستی نہ کرو کہ وہ لوگ تمہارا نقصان کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں ایذا دیں بیشک ان کے مونہوں سے بغض ظاہر ہوچکا اور جو کچھ ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ (اس سے) بہت زیادہ ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو بیشک ہم نے تمہارے لئے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

ہاں تم ہی وہ لوگ ہو جو ان سے محبت رکھتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے اور تم (تو) ساری کتابوں پر ایمان لائے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر غصے سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔ (ان سے) کہو تم اپنے غصے سے مرجاؤ یقینا اللہ دلوں کی باتیں جانتے ہیں

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہیں بھلائی نصیب ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تمہیں تکلیف پہنچے تو اس سے وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور پرہیز گاری اختیار کرو تو ان کا فریب تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ بیشک اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہیں

آیات 110- 120 اسرارو معارف کنتم خیرامۃ……………واکثرھم الفسقون۔ تم سب سے اچھی امت ہو کہ آقائے نامدار ﷺ خیرالرسل ہیں اور قرآن کریم سب کتابوں سے اعلیٰ و افضل کتاب ہے۔ تم لوگ جنہیں آپ ﷺ سے نسبت حاصل ہے۔ اور اس کی برکت سے کتاب اللہ کو سمجھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ایک ایسی سعادت ہے کہ ارشاد ہوا۔ اتممت علیکم نعمتی۔ کہ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ تم ہی بہترین لوگ ہو۔ اتمام نعمت ایک ایسی عطا ہے جس کی حدود متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور اس پر مزید یہ کہ نعمت کا حصول بھی بیشک بہت بڑی بات ہے مگر اس کو دوسروں پر تقسیم کرنا اور بےحدوحساب بانٹنا بہت ہی بڑی شے ہے اور تمہیں تو بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ تم یہ دولت عظمیٰ لٹائو۔ ظاہر ہی لوگوں کے لئے کئے گئے ہو۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ یہ امت معتدل ہے باعتبار اعمال کے بھی اور عقائد کے بھی ، نہ تو کہیں عقائد میں غلو ہے اور اعمال میں شدت۔ عظمت باری کا اقرار ہے تو صاف ستھرا بغیر کسی لگی لپٹی کے۔ رسالت پہ ایمان ہے تو کھرا۔ آخرت ، حشر ونشر اور جملہ ضروریات دین کے متعلق ایسا ٹھوس ، صاف ستھرا نظریہ جو نقلاً ثابت اور عقلاً بھی درست۔ اس کے ساتھ اعمال اور عبادات میں ایسا عمدہ توازن کہ نہ اتنی شدت کہ انسان پر بوجھ بن جائے نہ ایسے کم کہ اس کی روحانی تشنگی باقی رہے۔ غرض حقوق اللہ اور حقوق العباد ہر شے ایک قرینہ اور ایک سلیقہ لئے ہوئے ہے اور اس پر بس نہیں بلکہ اس دولت کو دنیا میں بانٹنے والے بھی ہو ، نیکی کا حکم کرنے والے اور بدی ، ظلم و زیادتی کو مٹانے والے کہ اللہ کریم نے اس امت کو جہاد کی نعمت سے نوازا ہے یعنی جہاں بھی برائی یا ظلم و زیادتی ہو۔ اس کا فرض ہے کہ اس کا سدباب کرے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان میں ایک لڑکی کی چیخ صحرائے عرب کو ہلاگئی اور اٹھے تو نہ صرف اپنوں کو آزادی دلائی بلکہ صدیوں کی مظلوم انسانیت کے لئے مژدہ نجات لائے اور کمال یہ ہے کہ کسی کو بھی جبراً اپنا عقیدہ قبول کرنے پر مجبور نہ کیا۔ کافر اگر کفر پر قائم رہنا چاہے تو رہے مگر نہ کسی سے زیادتی کا مرتکب ہو اور نہ کوئی اس پر ظلم کرے اور بحیثیت انسان جو حقوق اسے حاصل ہیں ان سے ضرور بہرہ ور ہو۔ اسی طرح انسانیت نے فارس میں پکارا یا ارض روم میں ، خادمان رسول ﷺ ہی ہیں جو تڑپ کر پہنچے ، سمندروں کے سینے چیر کر افریقہ جیسے تاریک براعظم میں بھی انسانیت کی دستگیری کی اور کمال یہ ہے کہ کسی پر اپنی تہذیب یا نظریہ مسلط نہیں کیا ، ہاں ! اسلام کے کمال سے متاثر ہو کر جس نے قبول کیا وہ پھر گورا کالا یا مغربی ومشرقی نہ رہا بلکہ مسلمان ہوگیا۔ اور وہ تمام حقوق جو ایک مسلمان کو حاصل تھے اسے بھی حاصل ہوگئے۔ کسی مذہب یا قوم کی تاریخ اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتی۔ ایسی عادل افواج کہ جنہوں نے ربع صدی میں معلوم دنیا کے تین حصے فتح کئے مگر کسی مفتوح قوم سے ذرا بھر زیادتی کی نہ کسی کا مال لوٹا نہ عزت بلکہ فاتح لشکر نے مفتوحین کے حقوق کا حق ادا کردیا۔ یہ سب کیا ہے ؟ اتمام نعمت باری ہے اور یہ سارا کمال ہے نسبت محمدیہ ﷺ کا۔ اور ارشاد ہوا تو منون باللہ کہ حقیقی ایمان کی لذت پانے والے ہو ، ورنہ اللہ سے ایمان تو تمام امتوں کا تھا۔ توحید و رسالت ہی تو باب اسلام ہے جو بھی جس دور میں بھی داخل اسلام ہو اس نے توحید باری کا اور نبی پاک ﷺ کی نبوت کا اقرار پہلے کیا اور پھر ضروریات دین کا۔ تو خصوصاً امت مرحومہ کو یہ شرف کیوں بخشا گیا ؟ کیا تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو ؟ مفسرین کرام نے اسے کمال ایمان فرمایا ہے کہ نفس ایمان تو سب کو حاصل ہے مگر جو درجہ کمال اس امت کو نصیب ہوا وہ اسی کا حصہ تھا کہ قرآن کریم پر نگاہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تمام امتوں نے دنیا میں اپنے لئے چیزیں طلب کیں ، دولت ، حکومت ، ملک یا غذایہ وغیرہ۔ یہ جرات رندانہ اس امت کو نصیب ہوئی کہ یہ ہمیشہ رضائے باری ہی کی طالب رہی۔ اور اللہ سے اللہ ہی کو مانگا۔ ان کی نگاہ غیر اللہ پہ نہیں ٹھہری۔ زندگی کے دو اصول ہیں تجویز اور تفویض۔ تمام امتیں اصول تجویز سے آگے نہ بڑھ سکیں اور ہمیشہ طالب رہیں کہ یہ نعمت مل جائے وہ دولت حاصل ہو صرف اور صرف اس امت کا کمال تھا کہ اس نے دنیا دے کر ، راحت قربان کر کے حتیٰ کہ جان بھی دے کر صرف اور صرف اللہ کی رضا طلب کی۔ یہ حسن طلب بھی حددرجہ کا کمال رکھتا ہے اس ساری دولت کی اصل آپ ﷺ سے نسبت ہے۔ افسوس ! کہ آج وہی گھٹ گئی۔ سنت کو چھوڑ کر رواج کو اپنایا جارہا ہے۔ ایک چھوٹی سی بات ہے کہ مسلمان اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کی سی شکل بنانا خلاف عزت جانتا ہے اور یورپ کی نقل کرکے یہ سمجھتا ہے کہ میں بڑا معزز ہوگیا ہوں ، بھلا اس سے کسی اچھائی کی امید کی جاسکتی ہے۔ آیہ کریمہ کے اصل مخاطب تو صحابہ کرام ؓ تھے اور جملہ امت میں سے سب سے اعلیٰ مقامات کے حامل کہ ارشاد ہوا ، میرے اصحاب ؓ کو گالی نہ دو ۔ کیونکہ تم میں سے اگر کوئی احد کے برابر سونا راہ خدا میں خرچ کرے گا تو ان کے سیر بھر بلکہ آدھے سیر (خرچ کرنے کے درجہ) کو بھی نہیں پہنچے گا ۔ نیز ارشاد رسول مقبول ﷺ ہے کہ میرے صحابہ ؓ میں سے جو کوئی کسی زمین میں مرے گا۔ قیامت کے دن وہ ان لوگوں کے لئے قائد اور نور راہ بنا کر اٹھایا جائے گا۔ (تفسیر مظہری) باقی تمام امت میں سے اگر کوئی سعادت سے بہرور ہوگا تو وہ اتباع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیز صاحب تفسیر مشہری فرماتے ہیں کہ گزشتہ اقوام کی نسبت اس امت کے مبلغین اور مرشدین کی ہدایت میں زیادہ اثر ہے کہ لوگ کو کھینچ کر اللہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ تقسیم ولایت : پھر لکھتے ہیں کہ حضرت علی ؓ قطب الارشاد اور شاہ ولایت تھے۔ گزشتہ امتوں میں سے کوئی بھی آپ کی روحانی وساطت کے بغیر درجہ ولایت تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ بات بہت عجیب ہونے کے ساتھ بالکل درست ہے کہ جب کمالات صحابہ ؓ پہلی کتابوں میں نازل فرمائے گئے تو ظاہر ہے ان امتوں کے لئے ان حقائق کو قبول کرنا جزو ایمان ٹھہرا اور یہی روحانی استفادہ کی راہ ہے جہاں تک مشاہدات کا تعلق ہے تو اس امت میں بھی ولایت کا رجسٹر بارگاہ نبوی ﷺ میں اور حضرت علی ؓ کے سامنے رکھا ہوتا ہے اور سوائے نسبت اویسیہ کے تمام سلاسل اولیاء ان ہی کی ذات سے جاری ہوتے ہیں۔ یہ اکیلی نسبت ہے جو سیدنا صدیق اکبر ؓ سے جاری ہوتی ہے اور پھر یہ بھی حضرت علی ؓ سے ہو کر تقسیم ہوتی ہے کہ اس سلسلہ جلیلہ میں طالب کو روحانی طور پر بارگاہ نبوت میں لاکر آپ ﷺ سے روحانی بیعت کرائی جاتی ہے پھر سیدنا صدیق اکبر ؓ سے اور پھر سیدنا علی ؓ سے۔ گویا باب ولایت وہی ہیں اگرچہ تکمیل کمالات صدیقیت پہ جاکر ہوتی ہے کہ اس سے اوپر نبوت ہوتی ہے بقول حضرت استاذ نالمکرم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صدیقیت کی چھت نبوت کا صحن ہوتا ہے۔ اگر اہل کتاب بھی تمہاری طرح ایمان لے آتے تو ان کے لئے کس قدر بہتر ہو تاکہ ان کا شمار بھی خیرالامم میں ہوجاتا جس طرح کچھ لوگ ان میں سے ایمان رکھتے ہیں یعنی وہ بزرگ جنہیں حضور ﷺ پہ ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ ، کہ یہ ایمان جو اس امت کو نصیب ہے ، کمال ایمان ہے یعنی دل کو ماسوا سے پاک کرنا اور ایسی محبت دل میں جمانا کہ دنیا کی غرض باقی رہے نہ دنیوی لالچ بلکہ ہر قدم صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے اسی کی طلب میں اٹھے۔ بالکل یہی کمالات ہر اس انسان کو نصیب ہوئے جو اس امت میں داخل ہوا۔ اور اہل کتاب میں سے بہت کم لوگ اس درجہ کو پہنچے ، اکثریت کفر میں بھٹک رہی ہے کہ انہیں خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانا نصیب نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے انعامات کو اسی ایمان پہ تمام فرمادیا اور اس کے بعد کسی نئے نبی پہ ایمان لانے کی ضرورت باقی نہ رکھی نہ رسول خدا ﷺ نے اس کی خبر دی بلکہ لا نبی بعدی۔ فرما کر یہ دروازہ ہی بند فرمادیا۔ اب اگر کوئی نبوت کا مدعی ہو تو کذاب ہوگا۔ خواہ مسیلمہ ہو یا قادیانی ۔ کیونکہ آپ ﷺ کی بعثت سے انعامات تمام ہوچکے ، اور یہ امت خیر الامم ٹھہری۔ لن یضروکم الا ذیٰ……………ثم لا ینصرون۔ یہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے سوائے اس کے کہ بہتان تراشی وغیرہ سے اذیت پہنچائیں اور اگر اس سے بڑھ کر انہوں نے جنگ کرنے کی ٹھانی تو ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوں گے اور کسی طرف سے انہیں کوئی مدد نصیب نہ ہوگی۔ یہ ایک عظیم پیشگوئی تھی ، جو حرف بحرف پوری ہو کر قرآن کی صداقت اور آپ ﷺ کی نبوت پہ گواہ ثابت ہوئی کہ یہود کے بہت بڑے قبیلے مدینہ منورہ سے خیبر تک شکست سے دوچار ہوئے اور ذلیل کرکے نکالے گئے بعض پہ جزیہ لگا۔ کچھ قتل ہوئے اور بالآخر جلاوطن ہوئے حالانکہ غزوہ خندق میں انہوں نے پورے جزیرۃ العرب کو متحد کرکے مسلمانوں کو نابود کرنے کی ٹھانی تھی اور خود بدعہدی کرکے پشت میں چھرا گھونپنا چاہا مگر اللہ نے انہیں ہمیشہ ذلیل کیا۔ ضربت علیھم الذلۃ……………ذالک بما عصوا وکانوا یعتدون۔ ان پر ذلت مسلط کردی گئی خواہ یہ کہیں ہوں سوائے اس کے کہ اللہ کے عطا کردہ بذریعہ کے مطابق کسی حد تک گزر بسرکریں یعنی ان حقوق کی بناء پر جو زندہ رہنے کے لئے بحیثیت انسان کافر کو بھی حاصل ہیں ، یا دوسروں کی مدد سے زندگی گزاریں۔ صاحب کشاف کے مطابق چونکہ استثناء متصل ہے اس لئے ان مذکورہ دو صورتوں کے علاوہ یہود پر ہمیشہ ذلت مسلط رہے گی۔ یہ اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے اور ان پر مسکنت یعنی حاجتمندی اور پستی مسلط کردی گئی کیونکہ یہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے ہیں اور ناحق جانتے ہوئے بھی قتل انبیائ (علیہ السلام) کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے اطاعت نہ کی اور حد سے نکل گئے۔ یہاں یہودی معاشرے کی پوری تصویر نظر آتی ہے کہ نزول قرآن سے لے کر آج تک ذلیل ہیں اور ایسے مسکنت میں جکڑے ہوئے کہ امیر ہوں تو بھی طبعی کنجوسی کی وجہ سے نہ اچھا کھاتے ہیں اور نہ اچھا پہنتے ہیں بلکہ ہمیشہ سود درسود ہی کے چکروں میں دولت کو بڑھانے کے درپے رہتے ہیں۔ اگر انہیں زمانہ حاضرہ میں آکر یہودی ریاست نصیب ہوئی تو اس کی حیثیت بھی مغربی طاقتوں کی چھائونی سے زیادہ کچھ نہیں۔ روس ، امریکہ اور برطانیہ آج ہاتھ اٹھالیں تو یہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اور ان کی مدد سے بھی بحیثیت حکومت زندہ نہ رہ سکتے اگر مسلمان اپنی جگہ پر قائم رہتا۔ آج یہ بدی کو مٹانے اور نیکی کو پھیلانے کے لئے مبعوث ہونے والی امت خود بدی کی ذلت میں ڈوبتی جارہی ہے اس کا قبلہ مغرب کی تہذیب بن رہا ہے اور یہ ایمان باللہ کی عظیم دولت کو دنیا کی عارضی چمک پر فروخت کررہی ہے مسلمان کی یہ کمزوری بھی یہود کے ناسور کو پھیلنے کا موقع دے رہی ہے جس جسم میں بھی خون صاف نہ رہے اسے پر پھوڑے نکل آتے ہیں۔ تو یہ ریاست یہود کی ریاست نہیں۔ ہمارے گناہوں اور کوتاہیوں کی مجسم صورت ہے۔ جہاں ایمان کی دولت ہے وہاں چند سرفروش برسوں سے روس کے ریچھ کو تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں اور ادھر دس کروڑ عرب پچیس لاکھ یہودیوں سے روز مار کھاتے ہیں اور دہائی دیتے ہیں اس لئے یہ روضہ اطہر کو چھوڑ کر ساحل لبنان پر رہنا پسند کرتے ہیں اور مسلمانوں کی یہی کمزوری کہ اس نے نسبت آقائے نامدار ﷺ کی حفاظت کا حق ادا نہ کیا کفر کو ڈھیل دی گئی اور کفار حتیٰ کے ارذل ترین کافر بھی آج اس پر شیر ہو رہے ہیں۔ اللہ کریم تمام مسلمانوں کو سنت خیرالانام ﷺ پر جمع فرمائے۔ آمین ! لیسوا سوآء ……………… واللہ علیم بالمتقین۔ اہل کتاب سب تو ایک جیسے نہیں بلکہ ان میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جس نے دین حق کو قبول کیا ہے اور اس کا اثر ان کے کردار پر ظاہر ہے کہ ان کی راتیں تلاوت کلام سے مزین اور نوافل و سجود سے منور ہیں انہیں اللہ پر کامل ایمان نصیب ہوا ہے اور آخرت کے روز پر کہ وہ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور خود نیکی کی طرف لپکتے ہیں کہ وہ صالحین میں سے ہیں۔ مانع برکات : گویا یہ وضاحت فرمادی کہ مانع برکات صرف کفر ہے ، اگر کفر کی دیوار ڈھے جائے اور ایمان کی حلاوت نصیب ہو تو ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق خیروصلاح حاصل کرسکتا ہے۔ صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں کہ صالحین کے معزز لقب سے اللہ کریم نے انبیاء (علیہ السلام) کو نوازا ہے۔ جیسا کہ کتاب اللہ میں متعدد مقامات پر مذکور ہے۔ امتی بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس کمال کو حاصل کرسکتا ہے اور یہی مقصود ہے جس کی علامات یہاں گنوادی گئی ہیں کہ فرائض تو بجائے خود یہ لوگ نوافل پہ حریص ہوتے ہیں اور غفلت سے نکل کر ہوشیاری اور بیداری کو اختیار کرتے ہیں ، راتوں کو تلاوت اور سجدوں سے سجاتے ہیں اور نہ صرف خود نیک عمل کی طرف لپکتے ہیں بلکہ سراپا دعوت ہوتے ہیں اور برائی سے نہ صرف خود اجتناب کرتے ہیں بلکہ اس کے خلاف ہمیشہ جہاد کرتے ہیں یہی حاصل سلوک ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس میں سے ہر شخص اپنے آپ کو دیکھ کر اندازہ کرسکتا ہے کہ جو شخص بھی نیکی کرے گا اس کی ناقدری نہ کی جائے گی۔ ہمارے ہاں ایک جملہ غلط طور پر مشہور ہے کہ عبادت ادھاری محنت ہے اس کی اجرت آخرت میں ملے گی۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ اس آیہ کریمہ نے ایمان اور عبادت کے باعث جوا اجر دنیا میں مرتب ہوتا ہے ارشاد فرمایا اور یہ بھی کہ اللہ نیکی کرنے والوں سے ہر آن باخبر ہے اور کسی کی ذرا سی نیکی بھی ضائع نہیں فرماتا۔ بلکہ دنیا میں اس پر کمال ایمان اور اصلاح احوال کا پھل لگتا ہے اور آخرت میں قرب الٰہی نصیب ہوگا۔ ان الذین کفروا……………ولکن انفسھم یظلمون۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ایمان قبول نہیں کیا تو اگرچہ وہ دنیاوی اعتبار سے صاحب مال اور صاحب اولاد بھی ہوں یا جاہ واختیار بھی رکھتے ہوں اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ اور کوئی شے انہیں عذاب الٰہی سے خلاصی نہیں دلواسکتی کہ زندگی اور شعور کے ساتھ بعثت انبیاء (علیہ السلام) کی نعمت اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا انکار دوزخ میں نہ صرف گرادے گا بلکہ اسی آگ میں ابدالآباد تک رہنا ہوگا اگر وہ دنیا میں کوئی شے خرچ بھی کرتے ہیں تو نہ آخرت کے لئے کرتے ہیں اور نہ اللہ کی اطاعت میں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی ہرے بھرے کھیت میں کوئی سخت ہوا جس میں تیز سردی ہو چل کر اسے برباد کردے۔ اور کچھ باقی نہ چھوڑے کہ یہ ان کی بدعملی کا نتیجہ ہے یعنی ان کے کفر نے اس فطری استعداد کے ہرے بھرے کھیت کو جو یہ لے کر پیدا ہوئے تھے تباہ وبرباد کردیا۔ انہوں نے کفر اختیار کرکے خود اپنے اوپر ظلم ڈھایا ہے کہ کفر قبول انعامات کو مانع ہے ورنہ اللہ تو کریم ہے وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ یایھا الذین امنوا…………………ان اللہ بما یعملون محیط۔ اے ایمان والو ! سوائے اپنوں کے یعنی سوائے ایمان والوں کے کسی کو اپنا بھیدی اور رازدار مت بنائو کہ یہ تمہیں نقصان پہنچانے سے چوکیں گے نہیں۔ بلکہ تمارے ایمان لانے کا اس قدر دکھ ہے۔ کہ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف ہو اور یہ بات ان کی زبانوں سے بھی ٹپک رہی ہے۔ ان کی باتوں سے تمہاری دشمنی کی بو آتی ہے۔ اور جو کینہ انہوں نے دلوں میں چھپا رکھا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ ہم نے تم پر احسان فرما کر ساری بات کھول دی۔ اب تمہیں بھی چاہیے کہ عقل سے کام لو اور اگر پہلے کسی کے ساتھ دوستی یا تعلقات تھے بھی تو ایمان اور کفر نے تمہیں تقسیم کردیا۔ اب تمہارا حال یہ ہے کہ تم ان کا بھی بھلا چاہتے ہو ایمان سے دل صاف ہوگئے اور ان میں محبت ابھر آئی جس کی شدت اپنے تو اپنے بیگانوں کو بھی سیراب کرنے پر تلی ہوئی ہے مگر چونکہ یہ کافر ہیں اور دلوں میں غلظت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے دل نفرتوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ایمان داروں کے لئے سوائے دشمنی کے اور کچھ نہیں رکھتے ورنہ تم تو سب کتابوں پر اور جملہ انبیاء پر ایمان رکھتے ہو ، چاہیے تو یہ تھا کہ تمہارے ساتھ محبت کرتے کہ تم ان انبیاء (علیہ السلام) اور کتب کو بھی مانتے ہو جنہیں ماننے کے یہ مدعی ہیں اور تمہارے نبی اکرم ﷺ اور کتاب کا یہ انکار کرتے ہیں اور تمہیں ان سے نفرت ہوتی مگر معاملہ یکسر الٹ ہے کہ ایماندار سے محبت اور کافر کے دل سے نفرت جھلک رہی ہے۔ اس حد تک کہ تمہارے سامنے تو اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کر گزرے ہیں مگر علیحدگی میں فرط غضب سے انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاتے ہیں یعنی کوئی بھی کافر بہی خواہ نہیں ہوسکتا خواہ اس پر کتنے احسان بھی کئے جائیں۔ اس لئے انہیں کبھی معتمد اور مشیر نہ بنایا جائے۔ اگرچہ اسلام کی رحمت اور شفقت عالمگیر ہے اور کافر کے حقوق کی حفاظت کا بھی حکم دیا۔ بلکہ رواداری ، ہمدردی اور نفع رسانی کے لئے غیر معمولی تاکید فرمائی ہے وہاں ان کے ساتھ تعلقات کی ایک حد متعین فرمادی ہے کہ اس سے آگے بڑھنا فرد اور قوم دونوں کے لئے باعث ضرر ہے۔ سیدنا فاروق اعظم ؓ کو عرض کیا گیا کہ ایک غیر مسلم لڑکا بہت اچھا کاتب ہے۔ فرمایا ، اگر میں اسے منشی رکھ لوں تو گویا کافر کو معتمد بنالیا۔ اسی طرح تمام نظریاتی ممالک کبھی بھی اپنے نظریہ سے اختلاف رکھنے والے پر بھروسہ نہیں کرتے ، روس اور چین ہی کو لے لیں جو شخص کمیونزم پر یقین نہ رکھتا ہو اسے عہد تو کجا۔ ان ملکوں میں آرام سے رہنا نصیب نہیں۔ تو مسلمان کو بھی کفار پہ اعتماد کرنا گویا اپنے نقصان کو دعوت دینا ہے۔ نیز تمام ایسی تحاریک جو اسلام کے نام پر خلاف اسلام مصروف عمل ہیں وہ کھلے کافروں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں جیسے ہمارے ملک میں شیعہ اور قادیانی ، کہ جمل وصفین سے لے کر چونڈا تک روافض کی کارستانیاں بکھری پڑی ہیں اور قادیانیت کی تاریخ ایک گماشتے کی حکایت کے سوا کچھ نہیں۔ اسی قسم کے افراد کا ذکر ہورہا ہے کہ کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں مگر مسلمانوں کو تباہی کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ انہیں قریب مت پھٹکنے دو بلکہ کہہ دو کہ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی آزادی کو دیکھ دیکھ کر جلتے رہو اور غصے کی آگ میں بھسم بھی ہوجائو تو تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے کہ اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے وہ تمہاری چالوں سے باخبر ہے۔ ہاں ! یہ ارشاد فرمایا کہ تم خود انہیں اپنا مشیر نہ بنا لینا کہ یہ تمہارے دکھوں پہ خوش ہوتے ہیں اور اگر تمہیں راحت نصیب ہو تو انہیں سخت رنج ہوتا ہے یعنی انتہائی حاسد ہیں۔ ہمیشہ مسلمانوں پر بھروسہ کرو کہ جس دل میں ایمان ہو وہ دوسرے مومن کا بھلا سوچتا ہے اس کے دکھ پہ دکھ محسوس کرتا ہے اور اس کی راحت پہ خوش ہوتا ہے اور اے مومنین ! اگر تم صبر کرو یعنی کوئی مشکل بھی سامنے ہو تو بجائے کفار پہ اعتماد کرنے کے صبر کرو ! اور اطاعت الٰہی کو اپنا شعار بنائو تو ان کا فریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا کہ ان کے اعمال بھی اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ ہاں ! اگر تم خود ہی ان کی جھولی میں جاگرو یا اللہ کی نافرمانی شروع کردو تو پھر بات دوسری ہے گویا گناہ صرف آخرت کی مصیبت ہی نہیں لاتا دنیا کی ذلت اور پریشانی بھی عدم اطاعت کا پھل ہے جس طرح اطاعت کا پھل اطمینان اور دلی راحت ہے۔
Ayahs 3:121–129

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور آپ صبح کو اپنے گھر والوں سے نکل کر مسلمانوں کو لڑائی کے لئے (مختلف) جگہوں پر متعین فرما رہے تھے اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جب تم میں سے دو جماعتوں نے خیال کیا کہ ہمت ہار دیں اور اللہ ان دونوں کے مددگار تھے اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور یقینا اللہ نے تمہیں بدر میں مدد دی اور تم بےسروسامان تھے پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم (اللہ کا) شکر ادا کرسکو

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب آپ مومنین سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار (اللہ) تین ہزار فرشتے نازل فرما کر تمہاری مدد فرمائے

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

بلکہ ہاں اگر تم صبر کرو اور (اللہ سے) ڈرتے رہو اور وہ (کافر) تم پر یکبارگی (جوش سے) حملہ کردیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار ایسے فرشتوں سے جن پر خاص نشان ہوں گے تمہاری مدد فرمائے گا

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اللہ نے اس امداد کو تمہارے لئے خوشخبری بنایا ہے اور تاکہ تمہارے دل اس سے قرار پکڑیں اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے (جو) غالب ہیں حکمت والے ہیں

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ (اللہ) کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کردیں یا انہیں ذلیل کردیں پس وہ نامراد واپس جائیں

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

آپ کا اس کام میں کچھ اختیار نہیں یا وہ (اللہ) ان پر مہربانی کریں یا وہ ان کے عذاب دیں پس بیشک وہ (کافر) ظالم ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے وہ جسے چاہیں بخش دیں اور جسے چاہیں عذاب کریں اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

آیات 121- 129 اسرارو معارف واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔ کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔ یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام والے تجارتی قافلے کا سارا منافع بھی باتفاق رائے جنگ کی تیاری پر خرچ کیا گیا اور بہت سے قبائل کو ساتھ ملا کر تین ہزار کا لشکر جرار جس کے ساتھ عورتیں بھی تھیں کہ میدان جنگ میں مردوں کو غیرت دلائیں گی۔ یہ لشکر مدینہ منورہ سے باہر جبل احد کے قریب آکر خیمہ زن ہوا۔ آقائے نامدار ﷺ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا ۔ آپ کی رائے مبارک یہ تھی کہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ نیز یہ پہلا موقعہ تھا کہ عبداللہ ابن ابی وبظاہر مسلمان تھا۔ مشاورت میں شامل تھا بعض پرجوش مسلمانوں نے جو بدر میں شریک نہ ہوسکے۔ یہ تجویز کیا کہ میدان میں جاکر لڑا جائے۔ چناچہ آپ ﷺ مکان کے اندر تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر باہر تشریف لائے۔ اہل بیت نبوی ﷺ: اسی کی طرف اشارہ ہے کہ جب آپ ﷺ گھر سے نکلے۔ صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ یہ گھر حضرت عائشہ ؓ کا تھا۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ بحث فرمائی ہے کہ چونکہ آپ ﷺ منزل عائشہ صدیقہ ؓ سے روانہ ہوئے تھے۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ عائشہ صدیقہ ؓ آپ کی اہل ہیں اور جیسا کہ ارشاد ہے الطیبات للطیبین والطیبون الطیبات یہ اس بات پر نص ہے کہ آپ ؓ مظہرہ تھیں اور ہر قباحت سے مبرا ومنزہ۔ کیونکہ نوح (علیہ السلام) کا بیٹا کافر تھا تو ارشاد ہوا انہ لیس من اھلک ایسے ہی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی۔ آپ ایک ہزار آدمیوں کے ہمراہ مدینہ تشریف سے نکلے مگر ابن ابی راستے سے علیحدہ ہوگیا اور تین سو آدمیوں کو ساتھ لے گیا کہ ہمارا مشورہ نہیں مانا گیا لہٰذا ہم اپنے آپ کو ہلاکت میں کیوں ڈالیں ؟ اس کے ساتھی بھی منافقین کا معروف گروہ تھا۔ آپ ﷺ کے ساتھ صرف سات صدجاں نثار باقی رہے۔ جن کی آپ ﷺ نے میدان میں ترتیب سے صف آرائی فرمائی۔ کوہ احد کے پشت پر رکھا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کو پچاس تیراندازوں کے ساتھ پشت کی جانب درے قر مقرر فرمایا کہ دشمن اس طرف سے حملہ آور نہ ہوسکے۔ یہ طریقہ جنگ آپ ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا ورنہ عرب تو محض نسور اور قوت کے بل چڑھ دوڑے تھے آج جب فن حرب اپنے عروج پر ہے پھر بھی حضور ﷺ کا انداز جنگ ، میدان جنگ کے نشیب و فراز کی اہمیت اور سپاہ کی تقسیم کے ساتھ سخت نظم وضبط ایسی چیزیں ہیں جنہیں متتشرق بھی نظر انداز نہیں کرسکتے اور مختلف کتب میں اپنے اپنے انداز میں تعریف کرتے ہیں۔ احد میں تیرانداز : غرض جنگ چھڑی اور اہل مکہ کے منہ پھرگئے حتیٰ کہ ان کی فوج کے قدم اکھڑ گئے اور بھاگ کھڑی ہوئی۔ ایسی حالت میں وہ تیرانداز جو درے پر مقرر تھے فتح کے جوش میں درے سے اتر آئے اور حضرت ابن عمیر ؓ کے منع کرنے پر نہ رکے کہ وہ حکم تو اس وقت تھا اب فتح ہوگئی۔ اب اس کی ضرورت نہیں۔ صرف چند جانفروش باقی رہے۔ دوسری طرف حضرت خالد بن ولید ؓ نے جو اہل مکہ کی طرف سے رسالے کے سالار تھے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ درہ خالی دیکھ کر بھاگتے ہوئے سواروں کو سنبھالا اور عقب سے آکر حملہ کردیا حضرت مصعب بن عمیر ؓ جاں نثاروں کے ساتھ شہید ہوگئے۔ مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے پریشان ہوگئے اور مشرک فوج نے پلٹ کر حملہ کردیا۔ غرض سخت ابتری پھیل گئی۔ ساتھ کفار نے یہ افواہ اڑا دی کہ نبی کریم ﷺ شہید ہوگئے۔ اس خبر نے مسلمانوں کے حواس گم کردیئے بعض بےجگری سے لڑے کہ اب آپ ﷺ کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے اور بعض پریشان ہوگئے کہ اب کس لئے لڑیں ؟ نبی کریم ﷺ زخمی ہوئے آپ کے دندان مبارک شہید ہوگئے رخ انور سے خون جاری ہوا اور آپ ﷺ کے ساتھ دس بارہ جاں نثارہ رہ گئے۔ باقی سب میدان میں منتشر ہوگئے۔ امام رازی (رح) نے ساتھ رہ جانے والوں کے چند نام گنوائے ہیں جن میں پہلا نام سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا ہے۔ فرماتے ہیں۔ لم یبق معہ الا ابوبکر وعلی وعباس وطلحہ وسعد۔ (تفسیر کبیر) کہ ایک انصاری نے آپ ﷺ کو دیکھ کر اعلان کیا کہ آپ ﷺ اس طرف تشریف رکھتے ہیں چناچہ مہاجرین وانصار آپ کے گرد جمع ہوگئے اور مشرکین کو میدان سے بھاگنا پڑا۔ اکثر جلیل القدر صحابہ ؓ شہید ہوئے آپ ﷺ کا رخ انور زخمی ہوا مگر فتح بہرحال اسی لشکر کی شمار ہوگئی جو میدان میں مقیم رہا اور جو بھاگ گیا وہ ہزیمت خوردہ تھا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ درہ پر مقررہ صحابہ ؓ نے مال غنیمت لوٹنے کے لئے درہ چھوڑ دیا مگر یہ بات اس وجہ سے درست نہیں کہ غنیمت ہمیشہ ایک جگہ جمع ہوتی تھی۔ اور پھر سب پر تقسیم ہوتی تھی نہ کہ جس نے لوٹ لیا ، وہ مال اسی کا ہوگیا اس لئے یہ تو بات ہی غیر مناسب ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ سمجھے ، فتح ہوگئی۔ اب ہمارا کام ختم ہوگیا اور جوش فتح میں دوسری سپاہ کے ساتھ آملے اگرچہ اتباع رسالت ﷺ کو عمداً نہ چھوڑا۔ اجتہاداً خطا ہوئی مگر دنیا کی تکلیف تو اس پر بھی مرتب ہوئی۔ نیز صحابہ ؓ کے خلوص پر انعامات بھی بےبہا مرتب ہوئے اور شہادت وجاں نثاری کا موقع نصیب ہوا۔ یہاں جو متعدد امور مستفید ہوتے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ، 1 ۔ اذغدوت من اھلک ، یعنی آپ اہل و عیال میں تھے مگر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کھڑے ہوئے یعنی اولیت دین کو حاصل ہے اور باقی تمام تعلقات درجہ ثانی میں ہیں۔ 2 ۔ ام المومنین حضرت عائشہ الصدیقۃ ؓ اہل بیت رسول پاک ﷺ طاہر بی بی ہیں اگر اس بات میں تردد پیدا ہوا تو ایسا شخص نص قرآنی کا منکر ہو کر کافر ٹھہرے گا۔ مشاروت اور منشائے شیخ : 3 ۔ اگرچہ مشاورت درست ہے مگر منشائے رسول ﷺ کا لحاظ مقدم ہے اگر آپ خلاف منشاء پر راضی ہوجائیں تو دینی نقصان نہ ہوگا مگر دنیاوی تکلیف ضرور مرتب ہوگی اور یہی حال طالب کا شیخ کے ساتھ ہونا چاہیے کہ شیخ کو اس کی منشاء کے خلاف رائے نہ دے یعنی اگر دونوں طرف جواز ہو تو اس طرف کو اختیار کرے جو شیخ کو منظور ہو ورنہ نہ دنیاوی نقصان ہوگا۔ 4 ۔ تبوالمومنین مقاعد للقتال ، کہ آپ ﷺ مومنین کو ترتیب سے جما رہے تھے بلحاظ عہدہ ورتبہ بھی اور بلحاظ فرائض ومناصب بھی اور مناسب اور موزوں مقامات پر بھی۔ یعنی ہر کام میں جنگ ہو یا امن ایک ترتیب ضروری ہے۔ 5 ۔ اس مقررہ نظام کے تابع رہنا بہرحال ضروری ہے عمداً مخالفت دین کے نقصان کا باعث ہوگی اور نادانی سے اگر سرزد ہوئی تو بھی دنیاوی نقصان ضرور ہوگا۔ طالبان طریقت کے لئے یہ جملہ اموراشد ضروری ہیں۔ حفاظت الٰہیہ : فرمایا ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے حتیٰ کہ جب دو جماعتوں نے کم ہمتی دکھانے کا قصد کیا ، یعنی بنی سلمہ اور بنی حارثہ نے جب وہ ابن ابی منافق کی اس بات سے اثر پذیر ہوئے کہ یہ لڑائی تو اپنے آپ کو خواہ مخواہ ہلاکت میں ڈالنا ہے تو اللہ نے انہیں سنبھال لیا۔ اور ایسی نامردی سے محفوظ فرمایا۔ واللہ ولیھما اللہ ان کا مددگار تھا۔ یہ برکت ان کے خلوص کی اور حضور ﷺ کی معیت کی ظاہر فرمائی کہ اگرچہ حالات ظاہر ی نے ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی کہ یہاں سے پلٹ جانا چاہیے مگر چونکہ وہ مخلص تھے اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی اور انہیں ثابت قدم رکھا۔ حالانکہ منافقین پلٹ کر چلے گئے تھے انہیں اس سعادت سے محروم کردیا کہ وہاں نفاق تھا۔ سو ولایت خلوص کا نام ہے اور ایسے لوگ معصوم نہیں ہوتے مگر محفوظ ضرور ہوتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ان کی حفاظت فرماتے ہیں۔ لہٰذا بدکاروں کو ولی تسلیم کرنا جہالت ہے۔ نیز مومنین کا بھروسہ تو اللہ پر ہوتا ہے یعنی جملہ اسباب ظاہری پر پوری محنت ودیانت سے عمل کرنے کے بعد نتائج کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں۔ ترک سبب تو کل نہیں ہے بلکہ اسباب اختیار کرکے ذات باری پر بھروسہ کرے اور نتائج کی امید اس کی ذات سے رکھے۔ وہ ایسا قادر ہے کہ بغیر اسباب کے بھی اور اسباب کی کمی کے باوجودبھی جس طرح چاہے نتائج مرتب فرما سکتا ہے جیسے یوم بدر اس نے تمہاری مدد فرمائی حالانکہ کفار کے مقابلے میں تم لوگ بہت کمزور تھے۔ یہ واقعہ 17 رمضان المبارک 2 ھ کو پیش آیا۔ بدر مکہ معظمہ سے آتے ہوئے مدینہ کی طرف راستے میں ایک مقام ہے ۔ جہاں مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان سب سے پہلا معرکہ بپا ہوا۔ مشرکین تعداد میں ایک ہزار چنے ہوئے۔ جنگ جو بہادروں کا لشکر لائے تھے ، بہترین اسلحہ وافر راشن ، غرض ہر لحاظ سے مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ اور مسلمان تعداد میں تین سو تیرہ ، اسلحہ نہ ہونے کے برابر سواریاں بہت کم ، اور یہی حال راشن کا تھا۔ پھر ان تین سو تیرہ میں کچھ کمسن تھے تو کچھ حضرات عمر رسیدہ بھی۔ لشکر کفار نے پہلے پہنچ کر میدان کے جنگی اعتبار سے مفید حصے پر قبضہ جمالیا تھا۔ غرض باعتبار اسباب کے ہر لحاظ سے کفار مضبوط تھے مگر نصرت الٰہی کا کیا کہنا کہ اس قدر ذلت آمیز شکست سے دو چار ہوئے کہ ان کے چیدہ چیدہ افراد میں سے ستر نامور سردار قتل ہوئے اور اتنے ہی مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوئے جبکہ مسلمان شہداء کی تعداد صرف چودہ تھی۔ یہ بظاہر تو ایک چھوٹی سے اور مقامی سطح کی جنگ تھی مگر اپنے اثرات کے لحاظ سے اس نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور بقول ہٹی ، یہ اسلام کی پہلی فتح مبین تھی۔ (ہسٹری آف عریبیہ) اور ارشادات رسول ﷺ کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس مختصر سے لشکر پر اسلام کی فتح کی بنیاد رکھی گئی جیسا کہ آپ ﷺ نے دعا میں عرض کیا تھا کہ اے بار الٰہا ! اگر یہ لوگ آج یہاں کھیت رہے تو کبھی کوئی شخص تیری عبادت نہ کرسکے گا کہ آج میں سارے کا سارا اسلام کفر کے مقابلے پر لے آیا ہوں۔ اللہ کریم نے عظیم الشان فتح نصیب فرمائی اور اسلامی ریاست کی بنیاد مضبوط تر بنیادوں پر استوار ہوئی۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو کہ اصل طریقہ شکر یہی ہے قرآن کریم نے مسلمان کو تمام مصائب کا علان اور جملہ پریشانیوں کا حل ایک لفظ میں ارشاد فرمادیا ہے اور وہ ہے تقویٰ میں صبر اور صلوٰۃ میں شکر اور کہیں ذکر۔ موقع کی مناسبت سے یہ تمام امور بتلائے گئے ہیں جو درحقیقت تقویٰ کے حصے ہیں اور لفظ تقویٰ تمام امور کو شامل ہے۔ یہاں تقویٰ میں شکر فرع کے طور پر بیان ہوا ہے یعنی شکر کرنے کی عملی صورت خلوص دل سے اللہ کی اطاعت میں اپنی پوری کوشش صرف کرنے کا نام ہے اور یہی سب کچھ تصوف و سلوک کا محاصل ہے۔ اذتقول للمومنین…………فینقلبوا خائبین۔ جب آپ ﷺ بدر کے موقع پر ارشاد فرما رہے تھے کہ کیا تمہاری تقویت کے لئے یہ امر کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد تین ہزار ملائکہ کے لشکر جرار سے کرے جو صرف اسی غرض سے آسمان سے نازل ہوں یعنی یہ کام وہ فرشتے انجام نہ دیں جو پہلے ہی مختلف امور کی انجام دہی کے لئے زمین پر موجود ہیں بلکہ ایک خاص مقام کے حامل فرشتے جو صرف اس کام کو انجام دینے کے لئے نازل ہوں جو تمہیں کرنا ہے اور فرمایا اس سے بھی زیادہ کہ اگر تم صبر اور تقویٰ پر بدستور قائم رہو۔ کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ پہلے بھی وصف تقویٰ اور صبر سے متصف تھے تو نزول ملائکہ ہوا۔ اب اگر یہ وصف کمال کی طرف بڑھتا رہے تو ملائکہ کی تعداد بھی زیادہ کردی جائے گی کہ اگر کفار یکبارگی تم پر ٹوٹ پڑیں تو پانچ ہزار کا لشکر جو نشان زدہ گھوڑوں پر سوار ہو تمہاری مدد کو پہنچ جائے۔ یہ مختلف مدارج اور کیفیات ہیں فنا فی اللہ کی ، کہ جس قدر قرب بڑھتا جائے ، برکات میں زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ فرشتے لڑائی کے لئے مکلف نہ تھے بلکہ یہ کام مسلمانوں کو انجام دینا تھا مگر ان کے قلوب اس قدر مستغرق تھے جمال باری میں کہ ان کا کام ملائکہ کے سپرد ہوا اور وہ بھی خاص درجہ کے فرشتے مقرر ہوئے۔ اب صورت یہ ہوتی ہے کہ انسان اگر ذات باری سے دور ہوتا چلاجائے تو دل انوارت سے خالی ہو کر شیطان کی قرار گاہ بن جاتا ہے پھر جوں جوں دور ہو شیطان کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے کہ ظلمت بڑھتی چلی جاتی ہے لیکن قرب الٰہی کی صورت میں ابتداء ہی نورانیت کے ظہور سے ہوتی ہے اور جوں جوں ترقی نصیب ہو نورانیت بڑھتی چلی جاتی ہے جس کی وجہ سے ملائکہ مقربین کا نزول قلب پر ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے بشارت ، سکون اور اطمینان کا باعث بنتے ہیں۔ یہاں بھی نزول ملائکہ کا سبب یہی ارشاد ہوا ہے کہ ، بشریٰ لکم ولتطمئن قلوبکم۔ تمہارے لئے بشارت کا سبب ہوں اور دلوں کو قرار بخشیں ، نیز شیاطین اور ان کے مسکن قلوب پریشان ہوں ورنہ تو اللہ قادر ہے اصل غلبہ اور مدد اسی کی ہے جو حکیم ، دانا بھی اور زبردست اور قادر بھی ہے۔ اور یہ سب نزول برکات اور ملائکہ اس نے اس لئے فرمایا ہے کہ کفار میں سے بعض کو ہلاک کرے اور باقیوں کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کرکے خائب و خاسر لوٹا دے۔ کرامات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین : میدان بدر میں بعض کفار فرشتوں کے ہاتھوں بھی ہلاک ہوئے کہ بعض صحابہ ؓ فرماتے ہیں جب میں نے کافر پہ وار کرنا چاہا تو اس سے پہلے کہ میری تلوار اس پر پڑے اس کا سر تن سے کٹ چکا ہوتا۔ اسی طرح بعض جسمانی طور پر کمزور صحابہ ؓ نے بڑے طاقتور مشرکوں کو قیدی بنا لیا جس کے بارے وہ کفار بھی کہتے تھے کہ میں نہیں جان سکتا کہ اس نے مجھے کس طرح باندھ لیا ہے بس اتنی خبر ہے کہ میں اس کے ہاتھوں میں ہل نہیں سکتا تھا۔ اسی طرح میدان احد میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بہت سے مشاہدات بیان ہوئے ہیں جیسے حضرت انس بن نصرؓ نے فرمایا کہ پہاڑ کے دامن سے جنت کی خوشبو آرہی ہے اسی طرح لپکے اور شہید ہوگئے ، یا حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی شہادت پر ایک فرشتے نے بڑھ کر جھنڈا تھام لیا اور گرنے نہ دیا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اے مصعب ؓ ! آگے بڑھو تو فرشتے نے کہا میں مصعب ؓ نہیں ہوں اور آپ ﷺ نے دیکھا کہ فرشتہ ہے یا حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا بیان کہ میں تیر پھینکتا تھا تو ایک سفید رنگ کا جوان مجھے واپس لادیتا تھا۔ یہ واقعات تفسیر کبیر میں صفحہ 33 پر ارشاد ہوئے ہیں۔ صفحہ 35 پر امام رازی (رح) فرماتے ہیں ، کہ رویت ملائکہ کے بارے جسے شبہ گزرے وہ قرآن اور نبوت کا منکر ہے۔ اور اگر اقرار کرنے والا ہے تو ایسا شبہ اس کے دل میں نہیں آسکتا اور نزول ملائکہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تمام مفسرین اور جملہ مورخین متفق ہیں۔ ان جملہ امور میں معجزات نبوی ﷺ اور کرامات صحابہ ؓ واضح ہیں اور یہ سب قرب الٰہی کی برکات کا ظہور ہے۔ نیز غیر نبی کو یہ مقام حاصل ہوسکتا ۔ کہ فرشتوں کو دیکھے یا ان سے کلام کرے یا کسی کو اس درجہ کی فناء تمام نصیب ہو کہ وہ جس کی طرف متوجہ ہو وہ کام اللہ کی طرف سے انجام پاجائے اور اسی طرح صوفیا توجہ اور القا سے طالبین کے دلوں کو مضبوط اور روشن کرتے ہیں اور یہ کام نبی کی اطاعت کے سبب اپنی حیثیت کے مطابق نصیب ہوتے ہیں۔ لیس لک من الا مرشیئ………………واللہ غفور رحیم۔ حضور نبی کریم ﷺ جب احد میں زخمی ہوئے تو آپ ﷺ کو بہت رنج ہوا۔ اور ارشاد فرمایا کہ وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جس نے اپنے نبی کا چہرہ (رخ انور) خون آلود کردیا۔ درآں حالیکہ وہ ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے تو ارشاد ہوا ہر فرد کا معاملہ رب العٰلمین سے ہے اور آپ ﷺ کو اس میں کچھ دخل نہیں ۔ اگر چاہے تو توبہ کی توفیق ارزاں کردے اور چاہے تو انہیں عذاب کرے کہ وہ ناحق پر تو ہیں ہی۔ آپ ﷺ کو صبر کرنا ہی سزاوار ہے کہ یہی عبدیت کامل ہے کہ انسان ہر حال میں اظہار عجز کرے اور اس کی مملکت کو جاننے کا مدعی نہ ٹھہرے۔ یہی ظاہر ہوا کہ بعض کو تو مثالی تو بہ نصیب ہوئی جیسے حضرت خالد اور حضرت عکرمہ بن ابوجہل ؓ جلیل القدر صحابہ اور عالی قدر سالار ہوئے اور بعض کفر میں بھٹکتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ دراصل ہر شخص کی کیفیات قلبی اور اللہ کے ساتھ تعلق باطنی پر اجر مرتب ہوتے ہیں جن کی حقیقت کو جاننا صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے کہ ارض وسماء اور جو کچھ ان میں ہے سب کا مالک وہی ہے اور وہی منتظم بھی ہے جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کردے۔ بخش دینے میں تو کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ غفور اور رحیم ہے اس کی رحمت ہر چیز سے سابق ہے ، اور مبتلائے عذاب کرنے کا سبب پہلے ارشاد ہوا کہ فانھم طلمون۔ کہ وہ خود ناحق کرنے والے ہیں۔ شیخ کا کام صرف توجہ دینا ہے : یہ بات واضح ہوئی کہ شیخ توجہ تو دے سکتا ہے مگر اثر تب مرتب ہوگا جب طالب کے دل میں بھی خالص طلب ہو ورنہ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے جنہیں جاننا شیخ کے لئے ضروری نہیں اور اکثر وہ معاف فرمادیتا ہے اور دلوں کو خلوص عطا فرمادیتا ہے مگر بعض بدنصیب اپنے قلبی اثرات کے باعث تباہی کے گڑھے میں بھی گر جاتے ہیں۔ اللہ کریم ہم سب کو اپنے عذابوں سے محفوظ رکھے ! آمین۔