3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 3:92–101

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 3:92 in the Quran reader

جب تک تم اپنی محبوب چیز کو (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو تم ہرگز بھلائی نہ پاسکو گے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو جانتے ہیں

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:93 in the Quran reader

بنی اسرائیل کے لئے تمام طرح کے کھانے حلال تھے سوائے ان کے جو یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے پر حرام کرلیے (ان سے) کہیے اگر تم سچے ہو تورات لے آؤ سو اس کو پڑھو

فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ Open ayah 3:94 in the Quran reader

پھر جو کوئی اس کے بعد اللہ پر جھوٹ باندھے تو ایسے ہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:95 in the Quran reader

کہہ دیجئے کہ اللہ نے سچ فرمایا تو دین ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کی پیروی کرو اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 3:96 in the Quran reader

یقینا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور (باعث) ہدایت ہے جہانوں کے لئے

فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:97 in the Quran reader

اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ۔ اور جو اس (مبارک گھر) میں داخل ہوا امن پا گیا اور اللہ کا لوگوں پر حق ہے کہ جو اس (گھر) تک جانے کی استطاعت رکھے اس گھر کا حج کرے اور جو کفر (انکار) کرے تو یقینا اللہ جہانوں سے بےنیاز ہیں

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:98 in the Quran reader

کہئے اے اہل کتاب ! تم اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیوں کرتے ہو اور اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہیں

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:99 in the Quran reader

کہہ دیجئے اے اہل کتاب ! تم اس کو جو ایمان لاچکا اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو تم اس (راہ) کے لئے کجی تلاش کرتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو اور اللہ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 3:100 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم ان کے کچھ لوگوں کا کہا مانو گے جن لوگوں کو (پہلے) کتاب دی گئی تو و ہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر بنادیں گے

وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 3:101 in the Quran reader

اور تم کس طرح کفر کرسکتے ہو جبکہ تم تو وہ ہو کہ تم پر (تمہارے سامنے) اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان اس کے رسول موجود ہیں اور جس نے اللہ کو مضبوط پکڑا تو یقینا وہ سیدھے راستے پر لگا دیا گیا

آیات 92- 101 اسرارومعارف لن تنالو البر……………فان اللہ بہ علیم۔ بر سے مراد نیکی ہے اور نیکی کی اصل قرب رسول ہے کہ نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے نبی معصوم ہوتا ہے یعنی مکالمہ باری کی برکات میں سے عصمت بھی ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے۔ حصول بر قرب رسالت کا نام ہے : اسی طرح نبی کے قرب سے ایک خاص وصف ، جو مومن میں پیدا ہوتا ہے وہ گناہ سے نفرت اور نیکی کی محبت ہے جس کے باعث مومن گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی درجے کو حصول بر کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص کو کسی طرح کا مال یا منافع اتنا عزیز ہو کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو وہ اسلام کو کیسے پاسکتا ہے ؟ یا مال وجاہ اتنے عزیز ہوں کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کی راہ میں رکاوٹ بنیں تو ایسا آدمی نیکی کو یعنی قرب رسالت کو نہیں پاسکتا۔ جس طرح یہود نے دنیا کمانے اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے دین کا ذریعہ بنارکھا تھا۔ ایمان لانے کی توفیق تو کیا نصیب ہوتی۔ الٹے بدترین دشمن ثابت ہوئے۔ اس لئے مومن کو چاہیے کہ جب ایمان لایا ہے تو سب سے محبوب اللہ کی ذات اور اس کے رسول ﷺ کو رکھے اور اس راہ میں بڑی سے بڑی قربانی دے حتیٰ کہ جان بھی جائے اسے سعادت جانے اور صدقات واجبہ ہوں یا نافلہ ، یہ خیال رکھے کہ اللہ کی راہ میں اچھی اور محبوب چیز خرچ کرے۔ آثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس پر شاہد ہیں کہ حضرت ابوطلحہ ؓ انصاری کو ان کا ایک باغ بہت محبوب تھا جسے ” بیئرحائ “ کہا جاتا تھا۔ نزول آیت پر خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی ، ” یا رسول اللہ ﷺ ! میں یہ باغ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں ، آپ جس طرح پسند فرمائیں اس میں تصرف فرمائیں ! “ تو ارشا ہوا کہ یہ تو بہت قیمتی اور منافع بخش باغ ہے مناسب یہ ہے کہ اسے اپنے اقرباء میں تقسیم کردیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے اقرباء میں بانٹ دیا۔ اسی طرح حضرت زید بن حارثہ ؓ اپنا محبوب گھوڑا لے آئے جو آپ ﷺ نے اسامہ بن زید ؓ کو عطا فرمادیا تھا حضر ت زید ؓ کچھ دلگیر ہوئے تو فرمایا اللہ نے تمہارا صدقہ قبول فرمالیا ہے۔ سیدنا فاروق اعظم ؓ نے اپنی محبوب کنیز اللہ کی راہ میں آزاد فرمادی۔ اس کا مفہوم عام ہے ، کافر کے لئے تو اسے حب جاہ ایمان سے مانع ہے یا کوئی دنیوی منافع راہ کی رکاوٹ ہے تو اللہ کے لئے چھوڑ دے تب ایمان پاسکے گا اور مومن کے لئے یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں بہترین شے خرچ کرے صدقات کو تاوان سمجھ کر ادا نہ کرے کہ فالتو اور بےکار اشیاء دے کر جان چھڑا لے۔ نیز یہ مراد نہیں کہ گھر ہی لٹا دے بلکہ مقصد یہ ہے کہ جس قدر بھی خرچ کرنا چاہتا ہے۔ صدقات نافلہ میں اور جس قدر اس کے ذمہ بنتا ہے صدقات واجبہ میں اس کے لئے اچھی اور پیاری شے کا انتخاب کرے تاکہ مکمل ثواب اور حضور ﷺ کا قرب حاصل کرسکے جو نیکی کی اصل ہے۔ غریب آدمی کا انفاق فی سبیل اللہ : یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ کمال مالدار ہی پاسکتے ہیں بلکہ انانیت وغیرہ تک کو یہ خرچ شامل ہے۔ غریب آدمی بھی اس خیر عظیم کو اصل کرسکتا ہے ، جذبات قربان کرکے ، اوقات قربان کرکے کہ اپنے اوقات کا ذکر اللہ میں لگا لے۔ عبادت کا خاص اہتمام کرے اور پورے خلوص کے ساتھ ایک ایک رکن ادا کرے۔ نیز یہ بھی مناسب نہیں کہ زائد اور فالتو شے سرے سے اللہ کی راہ میں خرچ ہی نہ کرے مثلاً بچا ہوا کھانا یا پرانا کپڑا وغیرہ اگر ایسی چیزیں ہوں تو ضرور دے ثواب حاصل کرلے گا۔ مگر یہ وطیرہ نہ بنالے کہ جب بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا وقت آئے تو بےکار اشیاء ہی دے کہ جو شے بھی وہ خرچ کرے گا اللہ اس سے خوب واقف ہے کہ کیسی چیز خرچ کررہا ہے کس جذبے سے کررہا ہے کس مقصد کے لئے کررہا ہے ؟ محض شہرت کا خواہاں ہے یا اللہ کی رضا کا طالب۔ یہ اصول سامنے آیا کہ حضور ﷺ پر ایمان لانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کی پسندیدہ خواہشات ہیں اور اگر ایمان نصیب بھی ہو تو اس کے بعد وہی شخص فسق میں مبتلا ہوگا۔ جو اپنی پسند حضور ﷺ کے ارشاد پر قربان نہ کرسکا۔ اگر کسی کو یہ ہمت نصیب ہوئی تو اپنی حیثیت کے مطابق قرب نبوی ﷺ سے ضرور نوازا جائے گا (انشاء اللہ) ۔ کلا الطعام کان حلا……………وماکان من المشرکین۔ یہ خواہشات ہی اہل کتاب کو ایمان سے مانع تھیں تو ارشاد ہوا کہ انہیں قربان کرکے ہی فلاں پاسکتے ہو اور ساتھ ان کے اعتراضات کے جوابات بھی ارشاد ہوئے مثلاً انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نسخ احکام جائز نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ اللہ ایک حکم دے اور پھر اس کو تبدیل کرے۔ کیا پہلے جو ارشاد ہوا وہ صحیح نہیں تھا ؟ حالانکہ نسخ کی وجہ یہ نہیں بلکہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ اسے کس وقت کون سا کام پسند ہے جب تک یہ حکم تھا درست تھا اور جب اس کی جگہ دوسرا حکم آیا تو وہ بھی درست ہے اور اس میں اس حکیم مطلق کی بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ یہود نے اعتراض کیا کہ آپ ﷺ اونٹ کا گوشت اور بکری کا دودھ استعمال فرماتے ہیں اور ملت ابراہیمی کا دعویٰ رکھتے ہیں حالانکہ یہ تو ان پر حرام تھا۔ ہم تک یہ حکم ان ہی سے پہنچاتو ارشاد ہوا کہ تم درست نہیں کہتے بلکہ کھانے کی سب چیزیں تو بنی اسرائیل پر حلال تھیں۔ سوائے اس کے (یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ) جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں اور یہ نزول تورات سے پہلے کی بات ہے یعنی احکام کا نسخ تمہاری شریعت میں بھی ثابت ہے اور پیغمبر کی درخواست پہ ثابت ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء کا مرض تھا۔ انہوں نے نذر مانی کہ اگر صحت نصیب ہو تو سب سے پسندیدہ غذا ترک کردوں گا۔ چناچہ صحت ہوگئی تو انہوں نے اونٹ کا گوشت کھانا اور دودھ پینا بند کردیا۔ ان کی درخواست پر ان کی اولاد پر بھی حرام کردیا گیا۔ اب اگر تمہیں یہ بات تسلیم نہیں تو تورات لے کر آئو اور پڑھو ! اگر تمہارا قول درست ہے تو ثابت کرو۔ یہود تورات نہ لائے اور ان کا جھوٹ ثابت ہوگیا۔ تو ارشاد ہوا کہ جو بھی شخص اس قدر قوی ثبوت کے بعد غلط بیانی کرے تو وہ ایسا ہے کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے جو بہت بڑا ظلم ہے اور ایسے لوگ بڑے بےانصاف ہیں۔ آپ ﷺ انہیں فرما دیجئے کہ اللہ نے سچ فرمایا اللہ کی طرف غلط بیانی یا جھوٹ کا گمان بھی ممکن نہیں۔ اور قرآن اللہ کا کلام ہے اس لئے یہ سراسر حق ہے اور اسی کی اطاعت ملت ابراہیمی ہے۔ ملت اس اتباع کا نام ہے جو خلوص کے ساتھ کیا جائے۔ اس لئے ملت کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا بلکہ انبیاء کے ساتھ مختص ہے۔ ملت موسیٰ (علیہ السلام) ، ملت عیسیٰ (علیہ السلام) یا ملت محمد ﷺ۔ حضور ﷺ امام الانبیاء ہیں آپ ﷺ کسی تابع نہ تھے۔ بلکہ خود اکمل ترین شریعت لائے جو ساری انسانیت کے لئے اور ہمیشہ کے لئے تھی اور ہے۔ ملت ابراہیمی : ملت ابراہیمی سے مراد یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے تمام عمر خلوص دل سے اللہ کے احکام کی پابندی فرمائی اسی طرح تم بھی اطاعت کرو کہ وہ بھی اسلام تھا اور یہ بھی اسلام ہے اسی لئے ملت ابراہیمی کو اپنانے کا حکم ہے خود ابراہیم (علیہ السلام) کی اطاعت کا حکم نہیں کہ اطاعت تو محمد ﷺ کی ہوگی۔ ہاں ! ملت ابراہیمی کیا شے ہے ؟ فرمایا حنیفا وہو ایک کے ہو کے رہے اور وہ زندگی بھر صرف اور صرف اللہ کی رضا طلب کرتے رہے اور وہ ہرگز ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے کہ کسی کو اللہ کے برابر جانتے یا ان کی پسند یا خواہش کبھی اللہ کی اطاعت میں رکاوٹ نہ بنتی۔ ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعلمین۔ سب سے پہلا گھر جو بیک وقت تمام انسانوں کے لئے تعمیر کیا گیا بیت اللہ شریف ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک دنیا میں تعمیر ہونے والا پہلا مکان بھی یہی ہے حضرت آدم (علیہ السلام) جب زمین پر تشریف لائے تو ملائکہ کرام نے نشاندہی کی اور اس جگہ اللہ کا گھر تعمیر ہوا تاآنکہ طوفان نوح میں منہدم ہوا۔ پھر انہیں بنیادوں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا اس کے بعد قبیلہ جرہم نے اور ان کے بعد عمالقہ نے انہی بنیادوں پر تعمیر کیا۔ پھر عمارت مخدوش ہوئی تو قریش نے حضور ﷺ کے ابتدائی زمانہ میں تعمیر کیا جس میں آپ ﷺ کی شرکت اور آپ ﷺ کا حجراسود کو نصب فرما کر قریش میں جھگڑے کو ختم کرنا بڑا مشہور واقعہ ہے لیکن اس تعمیر میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں ، سب سے پہلی یہ کہ بناء ابراہیمی میں سے کچھ جگہ چھوڑ دی گئی جسے حطیمہ کہا جاتا ہے جس کا سبب یہ ہوا کہ قریش نے اعلان کیا تھا کہ تعمیر کعبہ پر جو رقم خرچ ہو اس کا خالص اور حلال ہونا ضروری ہے۔ چناچہ ان کے نزدیک سارے مکہ سے جو حلال رقم جمع ہوئی وہ جملہ تعمیر کے لئے کفالت نہ کرتی تھی۔ چناچہ طے یہ پایا کہ کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے۔ اے کاش ! آج کے مسلمان مساجد کی تعمیر میں ان لوگوں سے ہی سبق حاصل کرلیتے ۔ یہاں تو زنان بازاری تک سے چندہ لیا بھی جاتا ہے اور چندہ جمع بھی کرایا جاتا ہے۔ دوسری تبدیلی یہ کی گئی کہ بناء ابراہیمی میں دو دروازے تھے ایک داخلے کے لئے اور دوسرا اسی کے مقابل جانب پشت باہر جانے کے لئے ۔ پر یش نے دوسرا دروازہ بند کردیا اور تیسری تبدیلی یہ کی کہ دروازہ سطح زمین سے کافی بلند کردیا تاکہ لوگ آسانی سے داخل نہ ہوسکیں نیز جس کو چاہیں داخل ہونے کی اجازت دیں یا روک دیں۔ قریش کے بعد حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ نے جب ان کی حکومت مکہ مکرمہ پر تھی ، بیت اللہ کو بنا ابراہیمی پر تعمیر کروایا جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا تھا کہ ان کے پیش نظروہ حدیث مبارکہ تھی کہ جس میں حضور اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا ” میرا دل چاہتا ہے کہ موجودہ تعمیر کو منہدم کرکے بنا ابراہیمی کے مطابق بنا دوں لیکن ناواقف اور نو مسلم لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ “ یہ حدیث پاک کا مفہوم ہے۔ اس کے بعد جلدہی حضور ﷺ دار بقا تشریف فرما ہوئے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ نے یہ تعمیر درست کردی۔ لیکن جب حجاج بن یوسف نے آل مروان کے زمانہ میں مکہ فتح کیا اور حضرت ابن زبیر ؓ شہید ہوئے تو اس نے آپ ؓ کی تعمیر کو شہید کرکے پھر سے اس طرز پر بنادیا جس طرز پر قریش کی تعمیر تھی جو آج تک موجود ہے حالانکہ خود والید بن عبدالملک بن مروان نے چاہا تھا کہ اسے بنا ابراہیمی پر ہی بنایا جائے ، حجاج نے غلطی کی ہے۔ مگر امام مالک بن انس ؓ نے فتویٰ دیا کہ بار بار منہدم کرنا اور بنانا جائز نہیں ، اس طرح تو آنے والے اکثر حکمران گراتے اور بناتے رہیں گے اب جس حال میں ہے اسی پہ چھوڑ دیا جائے اور یہ فتوے تمام امت نے قبول کرلیا۔ ابھی تک وہی تعمیر موجود ہے صرف مرمت وغیرہ کا کام جاری رہتا ہے اندر کے ستون اور چھت کی لکڑی وہی ہے جو قریش نے جدہ سے ایک بحری جہاز خرید کر اور اسے توڑ کر حاصل کی تھی جس کی تعمیر میں آپ ﷺ بھی شریک تھے بندہ کے پاس اس کا ایک ٹکڑا تبرک کے طور پر موجود ہے جو مرمت میں کاریگروں نے کاٹ کے پھینک دیا تو کسی دوست نے مجھے لادیا تھا۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ مکان تو پہلے بھی تھے لیکن عبادت کے لئے سب سے پہلے جمیع مخلوق کے لئے بننے والا پہلا مکان خانہ کعبہ ہے اور یہ بھی موجود ہے کہ سب سے پہلے سطح آب پر جھاگ کی شکل میں جگہ رکھی گئی اور پھر ساری زمین یہاں سے پھیلائی گئی۔ وان الارض وحیث من مکۃ واول من طاف بالبیت الملائکۃ ۔ اوکماقال۔ اور یہ روایت بھی موجود ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے حضور اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ سب سے پہلی مسجد کونسی ہے ؟ فرمایا ، ” مسجد حرام ! “ انہوں نے عرض کیا ، ” اس کے بعد کون سی ہے ؟ “ فرمایا ” بیت المقدس ! “ پھر عرض کیا ، ان کی تعمیر میں کتنی مدت کا فرق ہے ؟ ارشاد ہوا ، ” چالیس سال “۔ اس روایت سے ثابت ہے کہ بیت المقدس بھی تعمیر ابراہیمی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بناء ابراہیمی پر نئی مسجد تعمیر فرمائی۔ وضع للناس سے ظاہر ہے کہ دنیا میں ہمیشہ یہ مرجع خلائق رہا ہے اور اس گھر کی تعظیم و تکریم ہر قوم نے کی ہے علامہ سمہودی (رح) نے ” وفاء الوفائ “ میں عجب واقعات نقل فرمائے ہیں جن کی گنجائش یہاں نہیں ، ہاں ! اگر کوئی چاہے تو اس کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ اللہ نے اس کی تعمیر میں ایک ہیبت ودبدبہ بھی رکھا ہے اور دلوں کو جذب کرلینے کی صلاحیت بھی۔ اس کی برکات کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا جو صوری بھی ہیں اور معنوی بھی۔ ایک لق ودق صحرا میں گھرا ہوا شہر ، بیشمار اور بےحساب مخلوق کو اپنے دامن میں سمولیتا ہے اس کی شفقت بھری گود سارا سال وارہتی ہے اور خصوصاً حج کے وقت کس قدر ہجوم بیک وقت جمع ہوتا ہے یہ صرف دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر کیا مجال ، جو کوئی بھوکا رہ جائے یا کسی کو ٹھکانہ نہ ملے یا کوئی شے بازار میں دستیاب نہ ہو۔ حتیٰ کہ سبزی تر کاری ، پھل دودھ ، دہی اور لسی تک ہر وقت موجود۔ کبھی قربانی کے جانور تک نایات نہیں ہوئے حالانکہ بعض لوگ سو سو تک ذبح کرتے ہیں اور حاجی کم از کم ایک قربانی ضرور دیتا ہے۔ اس کے ساتھ برکات معنوی کا شمار بھی ممکن نہیں۔ یہاں کی ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کا درجہ رکھتی ہے اور ایک درہم کا صدقہ ایک لاکھ دراہم کا ثواب حاصل کرتا ہے۔ یہ بہت مشہور حدیث ہے کہ حج کرنے والا گناہوں سے اس پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ یہ دلوں کو نہ صرف سرور بلکہ نور عطا فرماتا ہے اور مومن کا دل اس کی طرف پروانہ وار آتا ہے۔ اگرچہ طوفان نوح (علیہ السلام) میں یہ عمارت منہدم ہوگئی مگر اس کے باوجود وہ انبیاء جن کی قومیں ہلاک ہوئیں ترک وطن کرکے یہیں تشریف فرما ہوتے یہیں رہتے فوت ہوتے اور ہوائیں خاک اڑا اڑا کر انہیں دفن کردیتی تھیں ، جیسے ارشاد ہے۔ مامن نبی ھرب من قومہ الی الکعبۃ یعبد اللہ فیھا حتیٰ یموت۔ او کما قال صلی اللہ والہ وسلم۔ (کشف الاسرار) حضرت قلزم فیوضات وبحرا العلوم ، استاذی المحترنے ” اسرار الحرمین “ میں تحریر فرمایا ہے کہ صرف مطاف کے نیچے انہوں نے ننانوے انبیائ (علیہ السلام) کی زیارت کی ہے جو اس عہد میں دفن ہوئے۔ مطاف سے باہر بھی تو ہوں گے ۔ نیز حج جیسی عبادات تو اسی کے ساتھ مختص بھی ہے۔ معنوی برکات کا تذکرہ بڑی حد تک اس عاجز نے دوسرے پارے کے شروع میں بھی کیا ہے وہاں سے بھی دیکھ لیا جائے۔ یہ مرکز فلاح ونجات ہے اور اس کی برکات عالمین کے لئے ہیں نہ صرف انسانوں کے لئے۔ کیونکہ ذاتی تجلی جو اس مکان سے متعلق ہے دراصل عرش عظیم سے نیچے ساری مخلوق کی بقا کا سبب ہے ، بلکہ عالم امر سے نیچے ہر طرح کی مخلوق اس کے طفیل باقی ہے۔ جب یہ ڈھا دیا جائے گا اور عبادت منقطع ہوگی تو وقت قیام قیامت کا ہوگا جس کی خبر حدیث پاک میں دی گئی ہے اور قیامت کا زلزلہ ہر شے کہ تہہ وبالا کردے گا۔ عالم امر سے نیچے اگر عرش باقی رہے گا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی مہبط تجلیات ذاتی ہے۔ اسی طرح جنت مظہر لطف وکرم ہے تو دوزخ مظہر غضب الٰہی ہے یہ مظاہر صفات باری ہیں اور روح کا تعلق براہ راست عالم امر سے ہے اس لئے یہ مراکز تجلیات یا متعلق عالم امر باقی رہیں گے ان میں وہ اجساد مبارکہ جو اللہ کی ذاتی تجلیات کو حاصل کرکے مراد کو پہنچے وہ بھی باقی رہیں گے۔ بقائے اجساد کا سبب : جیسے انبیاء (علیہ السلام) کے اجساد مبارکہ یا ان لوگوں کے اجساد جنہوں نے انبیائ (علیہ السلام) کے طفیل اپنے قلوب مہبط تجلیات بنا لئے۔ صحابہ شہداء اور اہل اللہ۔ برکت کا لغوی معنی وہ تالاب ہے جس کے گرد بہت سی وادیاں ہوں اور اس میں سب کا پانی جمع ہوتا ہو تو اس بارہ میں صاحب تفسیر کبیر کا ارشاد جو برکات کعبہ کے بارہ میں فرمایا ہے عجیب ہے کہ ذہن میں کعبۃ اللہ کو ایک نقطہ تصور کرلے اور اس کے گرد اس کی طرف متوجہ ہونے والے لوگوں کی صفوف کو اس کے نقطے کے گرد بصورت دائرہ خیال کرے تو یہ کس قدر دائرے بنیں گے جو ساری دنیا میں پھیلے ہوں گے اور حال یہ ہوگا کہ سب نماز میں مشغول ہوں گے اب یہ بات تو شبہ سے بالا تر ہے کہ اس بیشمار مخلوق میں کتنے ایسے عظیم انسان ہوں گے جن کی ارواح علوی یعنی اعلیٰ منازل کی حامل اور قلوب قدسی اسرارنورانی اور ضمائر ربانی ہوں گے۔ جب یہ ارواح صافیہ کعبہ معرفت کی طرف متوجہ ہوں گی اور ان کے اجسام کعبہ حسی کی طرف متوجہ ہوں گے تو جو لوگ کعبہ میں ہوں گے وہ انورات و تجلیات سے کس قدر دلوں میں نور حاصل کریں گے۔ جو ان کی ارواح و توجہ کے باعث نازل ہوگا۔ یقینا اپنی اپنی استعداد کے مطابق سب لوگوں کے دل منور ہوں گے ایسے ہی دور والے بھی۔ نیز نماز باجماعت کے دیگر فوائد کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ فرماتے ہیں ، ھذا بحر عظیم ومقام شریف۔ فیہ ایات بینت……………فان اللہ عنی عن العلمین۔ کو بیت اللہ میں کھلی اور واضح نشانیاں موجود ہیں۔ برکات کعبہ : جن میں خوف سے امن کہ جب سے بیت اللہ قائم ہوا ہے اللہ نے اسے اور اس کی برکت سے اہل مکہ کو مخالفین کے حملوں سے پناہ دی ہے ابرہہ کا واقعہ کس قدر معروف ہے کہ اللہ نے اس کے ہاتھیوں کو پرندوں سے تباہ کرادیا۔ ایسی ہی نشانی ہے کہ کوئی پرندہ اڑا کر اوپر سے نہیں گزرتا۔ یا رمی جمار ، کہ ارشاد ہے حاجیوں کی پھینکی ہوئی کنکریاں فرشتے اٹھا لیتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ کسی وجہ سے کسی کا حج قبول نہ ہو ، اسی لئے وہاں سے پڑی ہوئی کنکریاں اٹھا کر رمی کرنا منع ہے کہ وہ غیر مقبول ہوتی ہیں۔ یہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ نہ حکومت اٹھواتی ہے نہ عوام مگر سوائے معمولی کنکریوں کے وہاں کچھ نہیں ہوتا اگر سب زمین پر جمع ہوتیں تو ایک دن میں پہاڑ بن جاتا۔ اب سنا ہے کہ حکومت اٹھوانے کا اہتمام کرتی ہے شاید اس لئے کہ لوگوں کی اکثریت حج کے نام پر پکنک مناتی ہے اور ارکان حج تک کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ ظاہر ہے ایسے لوگوں کی کنکریاں تو حکومت ہی اٹھائے گی۔ اسی طرح زمزم ، حلیم ، صفاومروہ غرض ہر ایک ذرہ اپنے اندر نشانیاں رکھتا ہے جو الوہیت وقدرت باری پر بھی دال ہیں اور صداقت پیغمبر ﷺ کی گواہ بھی۔ ان میں ایک بہت بڑی نشانی مقام ابراہیم (علیہ السلام) ہے۔ یہ وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نقوش پاثبت ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ تعمیر کعبہ کے وقت ابراہیم (علیہ السلام) پتھر گارا دیتے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر فرماتے تھے تو اس پتھر پر آپ کے قدم مبارک ٹخنوں تک دھنس گئے۔ یہ بجائے خود بہت بڑی نشانی ہے کہ سخت اور مضبوط پتھر موم کی طرح نرم ہو کر قدمین شریف کا نقش مبارک لے لے اور پتھر اسی طرح کا سخت اور مضبوط ہوجائے۔ اور تاحال اسے اس جگہ قائم رکھنا بھی اللہ کی عظمت پر دال ہے کس قدر مشرکین و مخالفین کے زمانے گزرے یہود و نصاریٰ یا کوئی اور دشمن بھی اسے ضائع نہ کرسکا۔ آج بھی ایک شیشے کے خول میں زیارت کے لئے رکھا ہے نیز جو اس کے اندر داخل ہوا وہ امن پا گیا ، مامون ہوگیا ، اصل امن تو عذاب سے ہے جو وہاں حاصل ہوتا ہے مگر صوری اعتبار سے حرم کے اندر ہر شے مامون ہے حتیٰ کہ درندے شکار تک نہیں کرتے اگر بھاگتا ہو شکار حرم میں داخل ہوجائے تو چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے ہی تشریعی طور پر حکم ہے کہ نہ کسی کو قتل کیا جائے اور نہ ستایا جائے۔ حتیٰ کہ اگر مجرم اندر چلا جائے ، اسے خوراک وغیرہ بند کرکے باہر آنے پر مجبور کیا جائے اندر سزا نہ دی جائے نہ پکڑا جائے اور تکوینی طور پر اللہ نے ہر دور میں ، ہر قوم کے دلوں کے اندر اس کی عظمت ڈال دی ہے۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ جاہلیت کے کفار بھی حرم کی عزت بحال رکھتے تھے اور حرم میں جھگڑا یا قتل و غارت نہیں کرتے تھے یا اگر کسی سے کوئی فعل خلاف ادب سرزدہوجاتا تو بہت برا جانتے تھے حتیٰ کہ فتح مکہ کے موقع پر صرف حضور ﷺ کے لئے بھی چند گھنٹوں کے لئے قتال کی اجازت ہوئی کہ بیت اللہ کی تطہیر کردی گئی۔ پھر ہمیشہ کے لئے اس کی حرمت ویسی ہی ہے۔ یا اگر کسی نے اس کی حرمت کو پامال کیا سیاسی یا حکومتی مصالح کی غرض سے ، جیسے حجاج بن یوسف نے ، تو باجماع امت اس کے فعل کو حرام اور سخت گناہ قرار دیا گیا۔ حتیٰ کہ وہ خود بھی اس کے حلال ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا۔ اس کی خصوصیات میں اس کے حج کا فرض ہونا بھی ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں پر بشرط استطاعت حج فرض کردیا ہے۔ استطاعت سے مراد صحت کا ہونا یا اس قدر خرچ کہ آنے جانے ، وہاں قیام کرنے کے لئے کافی ہو اور واپسی تک ان افراد (بیوی بچوں) کو جن کا نفقہ اس کے ذمہ ہے خرچ کے لئے رقم دے سکے جو لوگ معذور ہوں آنکھوں وغیرہ یا ہاتھ یا ہاتھ پائوں سے تو وہ بھی عدم استطاعت کے زمرے میں آتے ہیں یا پھر اپنے خرچ پر کوئی ملازم وغیرہ ساتھ رکھ سکیں۔ اسی طرح وہ عورت جس کے ساتھ محرم نہ ہو معذور ہوگی۔ بغیر محرم کے عورت کے لئے سفر کرنا شرعاً جائز نہیں۔ کوئی محرم اپنے خرچ پر جائے یا عورت خرچ ادا کرے۔ بہرحال ساتھ ضرور ہو ورنہ عدم استطاعت ثابت ہوگی حج کے معنی تو قصد کرنے کے ہیں مگر شرعی معنی کی تفصیل خود قرآن مجید میں بھی موجود ہے اور تعلیمات نبوی ﷺ میں بھی۔ طواف اور وقوف ، عرفہ ومزدلفہ وغیرہ۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ اگر کوئی اس کا انکار کرے ، جیسے کافر کرتے ہیں تو اللہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے ، اللہ کو احتیاج نہیں ہے بلکہ حج کرنے والوں کی اپنی بہتری اس میں ہے۔ اس کی فرضیت کا منکر تو کافر ہے ہی ، اگر کوئی باوجود استطاعت کے حج نہ کرے تو اس کا یہ فعل کافرانہ ہے۔ ہاں ! کوئی عذر ہو جیسے حکومت اجازت نہ دے یاراستے کا خطرہ یا صحت کی خرابی وغیرہ تو اور بات ہے ورنہ سیدنا فاروق اعظم ؓ کا قول اور در منشور میں ملتا ہے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کوئی آدمی مقرر کروں جوان لوگوں کا پتہ کرے جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے تو ان پر جزیہ لگایا جائے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ حج بشرط استطاعت زندگی میں ایک بار فرض ہے یہ ہر سال تشریف لے جانے والے حضرات اگر وہی رقم احیاء دین پر خرچ کرتے یا معذور مسلمانوں کی مدد میں خرچ کرتے تو کس قدر بہتر ہوتا۔ قل یا اھل الکتاب ……………وما اللہ بغافل عما تعملون۔ چونکہ بات اہل کتاب سے چل رہی ہے اور یہ درمیان میں بیت اللہ کا ذکر ، اس کے فضائل ، حج اور اس کے ارکان و احکام اور برکات سب کا بیان بجائے خودایک بہت بڑی دلیل ہے کہ بیت اللہ کی عظمت وہیبت ضرورموجود تھی مگر کسی کو عبادت کا صحیح طریقہ تک معلوم نہ تھا اور نہ ہی برکات کعبہ کی خبر تھی۔ نیز حج کی رسم ضرور موجود تھی مگر یاجاد بندہ قسم کی۔ حتیٰ کہ برہنہ طواف ہوتے اور گرداگرد ناچتے اور سیٹیاں بجاتے۔ اس ظلمت میں احقاق حق اور فضائل وبرکات کے ساتھ جملہ احکام کا بیان ان دلائل کے ساتھ جو پہلے سے بھی ان کی کتابوں موجود تھے ایک بہت مضبوط دلیل بن گئی۔ ارشاد ہوا ان سے فرمائیے کہ اس قدر دلائل باہرہ کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ یادرکھو ! تمہارے ان اعمال کو خود اللہ جل شانہ دیکھ رہے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ تم خود ایمان لاتے مگر تم ایسے بدبخت ہو کہ دوسروں کی راہ میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہو اور جانتے بوجھتے ہوئے بھی حیلہ جوئی اور بہانہ سازی کرتے ہو کہ لوگ گمراہ ہوجائیں مگر یادرکھو ! اللہ تمہارے کرتوتوں سے بیخبر نہیں ہے۔ یا ایھا الذین امنوا……………الی صراط مستقیم۔ ان اگلی دو آیات میں مسلمانوں سے خطاب ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی فطرت بد سے باز نہیں آتے تو تمہیں ہرگز ان کی بات پہ توجہ نہ دینی چاہیے کہ اگر تم ان کی باتوں میں آگئے تو یہ تمہیں ایمان کے بعد بھی کفر کی طرف لانے کی کوشش ہی کریں گے حالانکہ تمہارے پاس تو ایسے اسباب جو مانع کفر ہیں بدرجہ اتم موجود ہیں کہ تمہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ، جو قاطع کفر وضلال ہے۔ دلائل حقہ میں وجود رسالت (علیہ السلام) بڑی دلیل ہے : پھر سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ تم میں اللہ کا رسول ﷺ موجود ہے۔ گویا وجودرسول ﷺ ابدالآباد کفر کو مٹانے والا اور حق کو پھیلانے والا ہے اور تلاوت آیات کا سبب بھی ذات رسول اکرم ﷺ ہی تو ہے کہ آپ ہی کے قلب اطہر پر قرآن نازل ہوا۔ اور آپ ﷺ سے مخلوق کو پہنچا۔ نیز نہ صرف الفاظ بلکہ مفاہیم بھی۔ یہ آپ ﷺ ہی کا مقام ہے کہ ارشاد ہوا لتبین للناس مانزل الیھم۔ کہ لوگوں کو قرآن کا مفہوم بھی ارشاد فرمائیں ، ان معنی ومفاہیم ہی کو حدیث رسول ﷺ کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب اس کو فرائض نبوت میں شمار کیا گیا تو کوئی دوسرا از خود معانی تعین کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اگر ایسا ہو تو بعثت رسول ﷺ تحصیل حاصل ٹھہرے گی جو باطل ہے۔ حفاظت حدیث نبوی ﷺ: حفاظت الٰہیہ کا وعدہ صرف قرآنی الفاظ تک محدود نہیں بلکہ مقاہیم کو الفاظ سے زیادہ ضرورت حفاظت ہے اسی لئے حفاظت حدیث کا وہ عظیم الشان کام ہوا جو بجز توفیق باری ممکنات میں سے نظر نہیں آتا کہ کم وبیش سترہ فنون صرف حفاظت حدیث کے لئے مدون ہوئے۔ اور اسمائے رجال جیسا عظیم کارنامہ صرف مسلمان اکابر نے انجام دیا ، دنیا کی کوئی قوم اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتی کہ ایک لفظ ارشاد رسول ﷺ کا جس نے نقل کیا وہ کون تھا ؟ کیسا تھا ؟ کس زمانے میں تھا ؟ حتیٰ کہ دودھ اور پانی علیحدہ کردیا جو کوشش کفر نے آمیزش کے لئے کی تھی ، مانند تلچھٹ نکال کر پھینک دی۔ علمائے ربانیین نے عمریں اسی سعادت کے حصول میں صرف فرمادیں۔ آج اگر کوئی کہے کہ حدیث پہ اعتبار نہیں تو اس کے پاس قرآن کی صداقت کے ذرائع بھی وہی ہیں جو حدیث کے ہیں۔ اس کی صداقت بھی مجروع ٹھہرے گی۔ نیز یہ سب برکات رسول ﷺ سے متعلق ہے۔ وفیکم رسولہ سے مراد نہ صرف جسم ہے اور نہ صرف روح مبارک بلکہ وہ ذات جو جسم وجان کو جامع ہے اور ہمیشہ اسی حال پر رہے گی۔ خواہ اس دنیا میں ہو یا برزخ میں حیات جسمانی تسلیم نہ کی جائے تو لازم آئے گا کہ جسم اطہر روح سے خالی ہے تو لامحالہ رسالت ونبوت جو اوصاف روح کے ہیں ان سے بھی خالی ہوگا جب ایسا ہے تو وہ برکات جو وجود رسول ﷺ سے متعلق ہیں ان سے خالی ہوگا۔ اگر یہ سب درست ہو تو پھر مانع کفر کوئی شے باقی نہ رہی اور دنیا پہ کسی شخص کا اسلام پہ قائم رہنا ممکن نہ رہا۔ منکرین حیات کو یہاں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ قرآن کریم کوئی فسانہ آزاد نہیں بلکہ اس کے ساتھ خاص کیفیات بھی نازل ہوئیں۔ جن کا امین وجود رسول ﷺ تھا ، ہے اور رہے گا۔ حیات دنیا میں جو ایمان لایا قرب وجودی حاصل کرکے مرتبہ صحابیت پر فائز ہوا۔ اب اگر وجود اقدس روح اطہر سے خالی ہوتا تو ان برکات سے بھی خالی ہوتا اور ولایت خاصہ تو کجا ولایت عامہ یعنی صرف ایمان بھی کسی کو نصیب نہ ہوتا کہ کفر سے کوئی شے مانع نہ رہتی۔ اور جو کوئی بھی اللہ کو مضبوط پکڑے یعنی اللہ کے رسول ﷺ سے ایسارابطہ اور ایسا تعلق جوڑے کہ کمال اطاعت کو پالے یعنی اس کی حرکت و سکون اللہ کے حکم کے مطابق ہوجائے۔ گویا اس کا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اٹھاتا ہے تو اٹھتا ہے اور بٹھاتا ہے تو بیٹھ جاتا ہے۔ اگر یہ بات ہے تو جان لو کہ یہ شخص ہدایت کو پا گیا اور سیدھے راستے پر چلنا نصیب ہوگیا کہ یہی مقصد تخلیق ہے۔ اب اس سے اگلے رکوع میں مزید برکات رسول ﷺ کا ذکر ہے یاد رہے کہ بعثت کے وقت بھی جو ایمان لایا اس نے ان ہی برکات کو پایا جو آج ایمان لانے والا حاصل کرسکتا ہے سوائے اس کے کہ دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد کوئی صحابیت کو نہیں پاسکتا چونکہ عالم ایک نہیں رہا۔ یہ وجہ نہیں کہ معاذ اللہ حیات باقی نہیں رہی ، اگر ایسا ہوتا تو پھر کوئی ایمان بھی نہ پاسکتا کہ وفیکم رسول سے محروم ہوجاتا۔ سید عبدالعزیز دباغ (رح) فرماتے ہیں کہ ہر مومن کے دل سے ایک نور کی تار جڑی ہوتی ہے ، جو قلب اطہر رسول ﷺ سے نکلتی ہے اتباع سنت اس کو مضبوط کرتا چلا جاتا ہے کہ نہر اور دریا کی مثل بھی بن جاتی ہے اور عدم اطاعت سے کمزور ہوتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ ٹوٹ بھی سکتی ہے جس کی یہ تار ٹوٹ جائے وہ شخص اسلام پہ نہیں رہتا اور آج کل تو یہ کٹے ہوئے پتنگ ہر طرف نظر آتے ہیں۔
Ayahs 3:102–109

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور سوائے اسلام کے کسی حالت میں تمہیں موت نہ آئے

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور متفرق نہ ہوجاؤ اور تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی پس تم اس کی نعمت (فضل وکرم) سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگے کے گڑھے (دوزخ) کے کنارے پر تھے پس اس نے تم کو اس سے بچا لیا اسی طرح اللہ تمہارے لئے نشانیاں بیان کرتے ہیں تاکہ تم ہدایت پاؤ

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف دعوت دے اور اچھے کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے منع کرے اور ایسے لوگ ہی کامیاب ہوں گے

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

اور تم ایسے لوگوں کی مانند نہ ہوجاؤ جنہوں نے آپس میں تفریق کرلی اور اپنے پاس واضح احکام آجانے کے بعد اختلاف کیا اور ایسے ہی لوگوں کے لئے بہت بڑا عذاب ہے

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن کہ کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے کالے ہوں گے پس وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا تم اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے پس عذاب (کا مزہ) چکھو کہ جو تم کفر کرتے تھے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جن کے چہرے سفید ہوں گے پس وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو صحیح طور پر پڑھ کر سناتے ہیں اور اللہ عالمین پر زیادتی نہیں کرنا چاہتے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے اور سب کام اللہ ہی کی طرف رجوع کیے جائیں گے

آیات 102- 109 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔ جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم ﷺ بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی ﷺ کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔ بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ حق تقویٰ یہ ہے کہ ، ان یطاع فلا یعصی ویذکر فلا ینسی ویشکر فلا یکفر اوکما قال صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ (اطاعت کرے اور نافرمانی نہ کرے ، ذکر کرے اور کبھی نہ بھولے ، شکر کرے اور کبھی ناشکری نہ کرے) شکر بجائے خود ذکر ہی کا نام ہے اور ذکر دوام ، ذکر قلبی کا نام ہے کہ لسانی کو دوام نصیب نہیں ہوسکتا ، اور ذکر قلبی ان فیوضات وبرکات کا نام ہے جو صحبت رسول ﷺ سے خلق خدا کو نصیب ہوئیں۔ جب قلب ذاکر ہوجائے تو اعضا نافرمانی سے رک جاتے ہیں۔ بتقاضائے بشریت اگر خطا سرزد ہو تو دل پہ چوٹ لگتی ہے اور فوراً رجوع الی اللہ نصیب ہوتا ہے۔ حق یہ ہے کہ ان کیفیات کو حاصل کرے اور دل زندہ کے ساتھ زندگی بسر کرے حتیٰ کہ دم واپسیں بھی اسی عقیدے اور ایمان پہ آئے یعنی موت بھی اسلام پر ہی نصیب ہو۔ ثمرات تقویٰ اور مدارج : اور یہ تقویٰ کے ثمرات کے مختلف مدارج ہیں۔ پہلا درجہ کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ اگر یہ بھی حاصل نہ ہو تو آدمی سرے سے مسلمان ہی نہیں۔ دوسرا درجہ معاصی سے بچنا ہے اور یہ مطلوب ہے اور تیسرا درجہ سب سے اعلیٰ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کا مقام ہے یا ان کے خاص نائبین اولیاء اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور وہ ہے دل کو غیر اللہ سے بچانا اور دل کو ہر آن اللہ کی یاد سے آباد رکھنا۔ انبیائ (علیہ السلام) کو یہ وہبی طور پر نصیب ہوتا ہے اور اہل اللہ کو ان کی تابعداری سے نصیب ہوتا ہے۔ موت بھی اسلام پہ آئے اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام کو پانے کی کوشش کرتے ہوئے آئے۔ یعنی انسان کو چاہیے کہ نہ صرف ایمان پر قائم رہے بلکہ تادم مرگ اطاعت پیغمبر ﷺ میں کوشاں رہے اور ارشاد ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے اور سب مل کر پکڑو۔ اتفاق کیسے ممکن ہے ؟ : اختلاف نہ کرو کہ اتفاق صرف اللہ ہی کی بات پر ممکن ہے اگرچہ دنیا میں ہر جماعت اور ہر طبقہ اتفاق کی بات کرتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دن بدن افتراق و انتشار میں اضافہ ہورہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی ایک یا چند انسانوں کی سوچ پر باقی لوگ جمع نہیں ہوسکتے۔ وہ بھی تو انسان ہیں ان کی بھی تو سوچ ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر آدمی یا ہر جماعت اپنے نظام پر متفق ہونے کی دعوت دیتی ہے لیکن سب لوگ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر اور اللہ کی کتاب پر متفق ہوں تو یہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ بہت ہی احسن ہے اور مزاج انسانی کے مطابق بھی ہے۔ اب رہی یہ بات کہ یہود و نصاریٰ یا دیگر مذاہب باطلہ بھی تو اپنے اپنے دین کو اللہ کی طرف سے بتاتے ہیں تو اس کا جواب بڑا آسان ہے کہ نہ کوئی محمد ﷺ کی نظیر پیش کرسکتا ہے اور نہ کتاب اللہ کی مثال۔ ذرا جذبات سے علیحدہ ہو کر جو بھی غور کرے گا ، اسے یہی مینارہ نور نظر آئے گا۔ خیر یہاں اس بحث کی گنجائش نہیں ، البتہ مسلمان تو اس بحث سے نکل چکے ہیں انہوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسول ﷺ کی اطاعت کا اقرار کرلیا اب انہیں اختلاف زیب نہیں دیتا۔ سب کو چاہیے کہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں جس کے بارے میں ارشاد ہے ، ان ھذا القرآن ھوحبل اللہ۔ یا اس کے ساتھ متعدد احادیث میں ” جماعت “ کو حبل اللہ کہا گیا ہے جیسے حضرات ابن مسعود ؓ اور ان کے علاوہ دیگر اصحاب ؓ سے منقول ہے۔ ہاں ! کتاب اللہ کے معاملے میں بھی اگر کوئی اپنی رائے ٹھونسنا چاہے گا تو اتفاق ممکن نہیں ہر شخص کا یہ منصب نہیں کہ وہ قرآن بیان کرنا شروع کردے بلکہ قرآن صاحب قرآن سے سیکھنا ہوگا کہ تعلیم قرآن فرائض نبوت میں سے ہے۔ اللہ کی کتاب پر اس کے رسول ﷺ کی بیان کردہ تفسیر کے مطابق متفق ہونا ہی اصل اتفاق ہے اور یہی ممکن بھی ہے ورنہ تفریق ہی ہوگی۔ جس سے اللہ کریم منع فرماتے ہیں۔ ارشاد ہے لاتفرقوا یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح دین میں نااتفاقی مت کرو۔ حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ جس کا مفہوم یوں ہے کہ یہودو نصاریٰ کے بہتر فرقے بنے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ سب دوزخی ہوں گے سوائے ایک فرقہ کے۔ عرض کیا گیا ، یارسول اللہ ! ﷺ وہ کون ہیں ؟ ارشاد ہوا ” ما انا علیہ و اصحابی “ یعنی وہ راہ پانے والا ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ؓ ہیں۔ فرقوں کا شمار : تفسیر قرطبی نے بہتر فرقے شمار کئے ہیں جن کی اصل چھ فرقے ہیں ، حروریہ ، قدریہ ، جمہیہ ، مرجیہ ، رافضہ ، جبریہ۔ فرماتے ہیں ان میں سے ہر ایک کی بارہ بارہ شاخیں ہیں۔ اس طرح یہ بہتر ہوجاتے ہیں ، یاد رہے کہ عذاب قبر کے منکریا اس بات کے مدعی کہ میت کو قبر میں ثواب و عذاب نہیں ہوتا ، ان ہی میں سے ہیں ، ان کی تفصیل تفسیر قرطبی جلدچہارم 141 تا 163 دیکھی جاسکتی ہے۔ رہی یہ بات ! کہ کیا کسی طرح کا اختلاف جائز بھی ہے یا نہیں ، وہ اختلاف جس میں اپنی خواہش کو دخل ہومذموم ہے لیکن اگر قرآن پر مجتمع رہتے ہوئے اور حضور ﷺ کی ارشاد کردہ تفسیر کو قبول کرتے ہوئے اپنی دماغی صلاحیتوں کی بنا پر فروع میں اختلاف پایا جائے تو اس کے بارے میں ارشاد ہے الاختلاف فی امتی رحمۃ ، صحابہ ؓ تابعین اور فقہا کا اختلاف اسی قسم کا تھا۔ ذرا ان احسانات اور نعمتوں کو یاد کرو کہ جب تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب صحابہ کرام ؓ ہیں اور پھر ساری انسانیت۔ تو عرب میں یہ حال تھا کہ قبائل لڑتے چلے جاتے تھے جسے انصار کے دونوں قبیلے اوس و خزرج ایک صدی سے زائد عرصہ تک آپس میں لڑتے رہے یا دیگر قبائل۔ ان آیات کے شان نزول میں یہی واقعہ نقل ہوا ہے کہ شماس بن قیس یہودی نے اوس اور خزرج کے لوگوں کو یکجا دیکھا تو حسد سے جل گیا اور اپنے کسی جوان سے کہا کہ ان میں بیٹھ کر ان کی گزشتہ جنگوں کا ذکر چھیڑو اور وہ اشعار جو انہوں نے جنگوں کے بارے کہے تھے پڑھو ، اس نے ایسا ہی کیا تو بات بڑھ گئی اور دونوں طرف جنگ کے نعرے بلند ہوگئے۔ حتیٰ کہ رسول اکرم ﷺ کو خبر ہوئی تو آپ صحابہ کرام ؓ سمیت تشریف لائے اور فرمایا کیا تم پھر جاہلیت کی طرف پلٹ رہے ہو حالانکہ اللہ نے تمہارے دلوں میں محبت پیدا کردی ہے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ سب نے ہتھیار پھینک دیئے اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر روئے۔ اور حضور ﷺ کے ہم رکاب چل دیئے۔ گزشتہ دو آیتوں سمیت یہ آیات نازل ہوئیں۔ علاوہ ازیں چپے چپے پر جنگ وجدل برپا تھا کسی کی عزت محفوظ تھی نہ مال۔ لوٹ مار کر بازار گرم تھا اور ایک نوالے کے لئے انسان ذبح کردیئے جاتے تھے کہ حضور ﷺ تشریف لائے اور دلوں کو محبت سے بھر دیا۔ ڈاکو محافظ بن گئے اور چور عادل بن گئے ، یکسر فضا بدل گئی ۔ عرب کے متفرق افراد اسلام کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے ، اللہ کا پیغام لے کر اٹھے اور دنیا پہ چھا گئے۔ اگر ایک پر دکھ آتا تو سب بانٹنے کو لپکتے ، ایک پر چوٹ پڑتی تو دوسرا آگے ہو کر اپنے اوپر لیتا۔ حتیٰ کہ الفت و محبت کا یہ رنگ دنیا نے دیکھا کہ میدان جنگ میں زخموں سے چور ، سکرات موت میں مبتلا غازی کو جب پانی پلایا جانے لگا تو اس نے کا کہ اس دوسرے زخمی کو پہلے پلا دو ۔ یہ محبت والفت یہ ایثار کی نعمت اور بہت بڑا انعام برکات رسول اکرم ﷺ میں سے تھا کہ تم سب بھائی بھائی ہوگئے۔ عرب سے باہر بھی اگر ظہور اسلام کا زمانہ دیکھا جائے تو یہی حال تھا۔ انسان انسان کے خون کا پیاسا ہورہا تھا اور جہاں جہاں اسلام پھیلتا گیا رحمت ورافت پھیلاتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ آج تک محبت و خلوص صرف اور صرف دین اسلام کی برکات میں سے ہے ورنہ روئے زمین پر صرف لفاظی ہے ، ظاہر داری ہے اور کوئی کسی کا بہی خواہ نظر نہیں آتا خود مسلمانوں میں سے جن لوگوں کے دل زبان کا ساتھ نہیں دیتے کس قدر سخت مزاج لوگ ہیں اور جن کے دل ذکر الٰہی سے منور ہیں کس قدر پر خلوص اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں کہ محبت اغراض سے پاک اور اللہ کے لئے ہوتی ہے ، باقی ساری محبتیں اغراض کے لئے۔ اگر غرض پوری ہوگئی تو محبت ختم یا پوری نہ ہوسکی تو ختم۔ بلکہ الٹ کر دشمنی بن جاتی ہے ، اور جہاں دل صرف اللہ کے لئے ملتے ہیں زمانے کا کوئی انقلاب ان میں تفرقہ نہیں ڈال سکتا۔ خلافت شیخین کی برکات : یہ کمال جس طرح عہد نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ خلافت شیخین میں قائم رہا اسی لئے ان کی خلافت کو علی منھاج النبوۃ کہا گیا ہے۔ عہد عثمانی ؓ کے اول چھ سال ایسے ہی گزرے پھر یہ برکات کم ہونا شروع ہوگئیں اور اختلاف در آئے۔ ابن سبا جیسے سازشیوں کو موقع ملا۔ حتیٰ کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ جیسی ہستی کو بھی انہوں نے چین نہ لینے دیا۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی (رح) نے تدوین حدیث کے صفحہ 460 پر اس موضوع کو بیان فرمایا ہے وہاں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اور تم آگ کے گڑھے یعنی دوزخ کے کنارے پر تھے تمہارے اور دوزخ کے درمیان صرف موت کا فاصلہ تھا کہ اے لوگو ! اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ یہ برکت بھی اللہ کے رسول ﷺ اور اس کے وجود مبارک کی تھی اور ہے جس کو اللہ نے اپنی مخلوق کی ہدایت کا ذریعہ بنادیا۔ اور جن کو فیضان صحبت نصیب ہوا وہ خلق خدا کو دنیاوآخرت کے عذابوں سے بچانے والے بن گئے ؎ خود نہ تھے جو راہ پر ، اوروں کے ہادی بن گئے کیا نظر تھی ، جس نے مردوں کو مسیحا کردیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حق غلامی اس طرح ادا کیا کہ خود ان کی تابعداری ہی اتباع رسول قرار پائی اور کتاب اللہ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ معیار دیا کہ والذین اتبعوھم باحسان یعنی جس نے خلوص قلب سے سابقون والاولون اور مہاجرین وانصار کا اتباع کیا اس نے رضائے باری کو پالیا جس کے ساتھ دنیا وآخرت میں یہ جملہ انعامات حاصل ہوں گے اور برکات نبوی ﷺ سے حصہ پائے گا۔ شیخ کا وصف : ان آیات میں طالبان حق کے لئے دلیل ہے کہ ایسے شخص کو شیخ بنائیں جس کی صحبت میں اتباع سنت اور اتباع صحابہ ؓ جو اتباع سنت ہی کی ایک شکل ہے نصیب ہو۔ نہ ایسا آدمی کہ جو بدعات میں مبتلا کردے ، اللہ ایسوں کی مجلس سے محفوظ رکھے ، آمین۔ اللہ اس طرح دلائل ارشاد فرماتا ہے اور تمہارے لئے ہدایت کی راہ آسان فرمادیتا ہے کہ کوئی بھی شخص جذبات سے الگ ہو کر غور کرے تو ہدایت کو پاسکے۔ ولتکن منکم امۃ………………اولئک لھم عذاب عظیم۔ جب اللہ کی رسی مضبوط تھامنے کا حکم دیا تو پھر اس خدشے کا مداوا بھی کردیا کہ کہیں کسی دور میں تمہارے ہاتھ سے یہ رسی چھوٹ نہ جائے ہمیشہ تم میں ایک جماعت ایسی ہو جو خیر کی طرف بلاتی رہے ، خیر کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ارشاد نبوی ﷺ ہے الخیر ھواتباع القرآن وسنتی اور کما قال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یعن یخیر سے مراد قرآن اور میری سنت کا اتباع ہے۔ مسلمان جس طرح خود نیکی پر کار بند ہو اور برائی سے بچتا ہو اسی طرح دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرے اور ان بھلائی کے لئے دعا کرے نہ کہ ان پر طنز کرے۔ یہ اصلاح کا عمومی طریقہ ہے اور امت کے ہر فرد پر لازم ہے۔ ہاں ! ہر شخص کی استعداد جدا ہے اس لئے ہر کوئی اپنی استعداد کے مطابق ہی مکلف بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسے معروف ومنکر کا پورا پورا علم ہو ، اگر خود پوری طرح واقف نہ ہوگا تو بجائے نفع کے نقصان کی امید زیادہ ہے جس طرح آج کل جہاں وعظ کہتے پھرتے ہیں اور سنی سنائی بلکہ گھڑی ہوئی روایات و حکایات سنا کر جگہ جگہ فساد پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ بات کہنے سے پہلے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرلے پھر امورواجبہ میں معروف کا امر بھی واجب ہوگا اور منکر سے روکنا بھی مثلاً نماز پنجگانہ فرض ہے تو ہر شخص پر واجب ہوگا کہ بےنماز کو نماز کی تاکید کرے اور نوافل مستحب ہیں تو ان میں نصیحت کرنا بھی مستحب ہوگا جو بالکل نرمی سے کی جائے گی اور فرائض میں اول نرمی اور اگر قبول نہ کرے تو ایک حد تک سختی بھی کی جاسکتی ہے مگر آج کل کی طرح نہیں کہ فرائض تو ترک ہو رہے ہیں اور مستحبات کو کفرو اسلام کا معیار قرار دیا جارہا ہے۔ نیز ہر شخص پر یہ فریضہ تب عائد ہوگا جب کوئی کام اس کے سامنے ہو خواہ مخواہ لوگوں کے احوال کی کرید کرنا درست نہیں۔ یہ حکومت اسلامی کا کام ہے کہ رعایا پر نگاہ رکھے اور مجرموں کا قلع قمع کرے۔ یہ تو سب مسلمانوں کی بات تھی۔ اس کے ساتھ ارشاد ہے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو ہمیشہ یہی کام کرے کہ لوگوں کو بھلائی کی دعوت دے اور برائی سے منع کرے اور یہ تب ممکن ہے کہ وہ لوگ پہلے مسائل سے پوری طرح آگاہی حاصل کریں اور پورا علم سیکھیں۔ قرآن وحدیث پر نگاہ ہو اور دعوت کا مسنون طریقہ اختیار کریں۔ اس طرح یہ فرض کفایہ ہوگا کہ جب ایک جماعت ایسی ہو تو سب کی طرف سے کفایت کرے ان کی یہ کوشش لگاتار اور مسلسل ہوگی یعنی دعوت الی الخیر ، کہ خواہ منکرات موجود نہ ہوں یا کسی فرض کی ادائیگی کا وقت نہ بھی ہو مثلاً رمضان المبارک نہیں ہے مگر یہ روزہ کی تلقین کرتے رہیں گے۔ اسی طرح کفار کے لئے اسلام کی طرف دعوت اور مسلمانوں کے لئے اطاعت واتباع کی طرف بلانا دعوت الی الخیر شمار ہوگا۔ حکومت اسلامی کا فرض ہے کہ ایسی جماعت کا اہتمام کرے اگر ایسا نہ ہو تو پھر تمام مسلمانوں پر فرض ہوگا کہ ایسی جماعت قائم کریں کہ حیات ملی کی دلیل ہے اور یوں تو جو کوئی بھی ایک کلمہ خیر کسی دوسرے تک پہنچاتا ہے بقدر اپنے حصہ کے اس میں شامل ہے لیکن کلی طور پر یقینا اس کے پہلے مصداق صحابہ کرام ؓ ہیں جو نسیم سحر کی مانند گلشن ہستی میں اس بو کو پھیلانے کا سبب بنے اور پھر وہ افراد اس خطاب کے سزاوار ہیں۔ جنہوں نے زندگیاں وصول الی اللہ کے لئے خرچ کردیں عمریں سفر کرتے اور پڑھتے پڑھاتے بیت گئیں جن کی راتیں اللہ کی یاد میں اور خلق خدا کی اصلاح میں بسر ہوئیں جنہوں نے علم دین حاصل کیا پھر نور قلبی کا اکتساب کیا ایسے مردان خدا کو تلاش کیا جہاں سے دولت پائی اور پھر نہ صرف عمر بھر اس پر عامل وکاربند رہے بلکہ خلق خدا کو دعوت حق پہنچائی اور نور ہدایت کو عام کیا۔ اس کے مصداق ہمیشہ صوفیہ صافیہ رہے ہیں جنہوں نے مملکتوں کو باطل سے ہٹا کر حق کا طالب بنایا۔ صدافسوس ! کہ آج کے دور میں ایسی برگزیدہ ہستیوں سے استفادہ تو کوئی کیا کرے گا۔ آج کے جاہل ان پر کفر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں اور حد یہ ہے کہ امام حسن بصری (رح) سے لے کر دو رحاضرہ تک کے صاحب احوال اور مقتداء وپیشوایان نیکوکار ان پر کفر کی توپ داغی جارہی ہے نہ خاندان ولی الٰہی کو بخشا گیا نہ علمائے دیوبند کو معاف کیا گیا نہ متقدمین کی عزت کا خیال اور نہ متاخرین کا پاس ادب ، ایسی مقدس جماعت کو کافر کہنے والا خود اللہ کی گرفت سے کیسے بچ سکے گا ؟ اللہ تمام مسلمانوں کو راہ ہدایت پر قائم رکھے ! آمین۔ اور ان لوگوں کی طرح مت بنو ! جنہوں نے واضح دلائل پالینے کے بعد بھی اختلاف کیا۔ یعنی اہل کتاب کے پہلے ان کی اپنی مذہبی کتب میں حضور اکرم ﷺ کا ذکر اور نشانیاں موجود تھیں پھر انہوں نے یہ سب کچھ دیکھ کر اختلاف کی راہ اپنائی۔ نہ صرف حضور اکرم ﷺ سے پہلے بلکہ اپنے دین کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا کو واضح دلائل کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی میں لگ گئے اور اہوا واوبام کا اتباع اختیار کرکے دین کی تباہی کا سبب بنے ، یوں دنیا وآخرت میں ذلت سے دوچار ہوئے۔ یہ سابقہ آیات کا تتمہ ہے کہ مرکز و وحدت اعتصام بحبل اللہ ہے ، نہ لوگوں کی آرائ۔ اور یہ اعتصام پوری قوم کو شخص واحد بنادیتا ہے اور اختلاف و انتشار پہلی امتوں کے لئے بھی تباہی کا سبب نا۔ آج بھی اس پر یہی پھل آئے گا۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ اصول دین ہمیشہ واضح اور غیر مبہم ہوتے ہیں اور وہاں اختلاف کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی رہے فروعات ، تو ان میں بھی اگر نفسانیت سے علیحدہ ہو کر دیکھیں تو کوئی تعارض نہیں۔ اجتہاد اور ان کی شرائط : ہاں ! بعض غیر واضح امور میں جہاں نص صریح نہ ہو تو جانبین میں سے ایک جانب کو اجتہاد سے اختیار کرنا اس امید کے ساتھ کہ میرے نزدیک یہ درست ہے اگرچہ خطا کا احتمال بھی ہو اور ممکن ہے اس کے خلاف درست ہو ، یہ جائز ہے اس پر صحیح حدیث دال ہے کہ مجتہد کو ٹھیک حکم دریافت کرنے پر دواجر ملتے ہیں۔ لیکن اگر اجتہاد میں غلطی بھی کر جائے تو ایک اجر پاتا ہے لیکن اس بارے میں فیصلہ اللہ ہی پر ہے۔ نیز کوئی مجتہد یا اس کا مقلد ، دوسرے مجتہدیا اس کے مقلد کو خاطی تصور نہیں کرتا کہ کوئی بھی جانب منکر نہیں ہوتی۔ یہ آج کل کا معاملہ کہ معمولی بات پر کفر کے فتوے اور بحث وتمحیص ، حتیٰ کہ جنگ وجدال۔ یہ ہرگز اجتہاد نہیں ، نیز اجتہاد کے لئے قرآن وحدیث کا مکمل علم ہونا تمام فنون کی مکمل مہارت ، عربی زبان پر کامل عبور ، صحابہ کرام ؓ ، تابعین یعنی سلف کے آثار واقوال سے مکمل واقفیت کے ساتھ عملی زندگی اور اتباع سنت کا کامل نمونہ ہو اور دلی خلوص وغیرہ ذالک نہ یہ کہ لوگ سن پائے ہیں کہ اجتہاد بھی ہوتا ہے اور ساون کے مینڈکوں کی طرح ہر ایک ان امور میں بھی رائے زنی کررہا ہے جن میں مجتہدین نے بھی لب کشائی نہیں کی اور نہ انہیں بولنے کا حق حاصل تھا۔ یوم تبیض وجہ وتسود وجوہ……………والی اللہ ترجع الامور۔ الجمہور علی ان ابیاض وجوہ واسوادھا علی حقیقۃ اللون وابیاض من النور والسواد ھن الظلمۃ ۔ (بحرمحیط) ایمان اور اس کے ثمرات : ایمان ایک نور ہے جو قلب میں پیدا ہوتا ہے اور کفر ظلمت ہے جو قلب پہ چھا جاتی ہے۔ ایمان کا مصدر سینہ اطہر رسول ﷺ ہے اور ہر مسلمان کے دل میں وہاں سے نور مترشخ ہوتا ہے جس میں اتباع اور اطاعت سے زیادتی ہوتی چلی جاتی ہے اور بعض دلوں میں نہریں اور دریا موجزن ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کفر ظلمت ہے اور کافر کا ہر فعل چونکہ اطاعت سے خالی ہوتا ہے اس لئے ظلمت لاتا ہے ، یوں ظلمت پہ ظلمت بڑھتی چلی جاتی ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے ، ظلمات بعضھا فوق بعض۔ اطاعت سے جو نور پیدا ہوتا ہے وہ قلب میں نور کی زیادتی کا باعث تو بنتا ہی ہے ماحول کو بھی اپنی قوت کے مطابق متاثر کرتا ہے اور پوری فضا منور ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ حدیث پاک میں ان لوگوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے جنہیں دیکھ کر خدا یادآجائے۔ اور اس کے برعکس کا فریا بدکار کی ظلمت اس کے دل کو بھی متاثر کرتی ہے اور ماحول اور فضا بھی مکدر ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اگر یہ ظلمت ایک خاص حد کو پہنچ جائے تو عذاب الٰہی کے نزول کا باعث بنتی ہے اور پھر اس کو لپیٹ میں صرف انسان نہیں آتے بلکہ پورا ماحول متاثر ہوتا ہے جس طرح کہ پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوئے تو ان کے نزول کا سبب انسانی اعمال تھے مگر پورے ماحول کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ روز حشر یہی دلوں کا نور یا ظلمت چہروں پر عیاں ہوگی چونکہ وہ دن ہی اعمال کے اظہار کا ہوگا اور پھر سوال ہوگا کہ کیا تم ایمان کے بعد پھر کفر میں جاگرے۔ صاحب ” بحرمحیط “ فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد ان کو توبیخ اور ان کے حال پر اظہار تعجب کے لئے ہوگا اور اگر اس سے مراد کفار لئے جائیں تو وہ اس تقدیر پر مراد ہوں گے کہ روز میثاق سب ایمان لا چکے تھے مگر دار تکلیف میں آکر کافر ہوگئے اور اگر مراد یہود و نصاریٰ ہوں گے تو اس تقدیر پر کہ تورات وانجیل پر بھی اور حضور اکرم ﷺ پر بھی ایمان رکھتے تھے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کی پیشگوئی اور آپ ﷺ کے اوصاف ان کی کتابوں میں مذکور تھے لیکن جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو انکار کر بیٹھے۔ اگر مراد اہل بدعت ہوں تو ایسے لوگ مراد ہوں گے جن کی بدعات نے انہیں ایمان سے خارج کردیا۔ جیسا کہ گزشتہ اوراق میں بیشتر فرقے شمار کئے گئے ہیں اور اگر منافق مراد ہوں تو ان کا ایمان ظاہری اور کفر قلبی مراد ہوگا۔ ان اعمال کی وجہ سے اپنے حاصل کردہ اجر بھگتو ! یعنی ذات باری کسی پر خواہ مخواہ عذاب مسلط نہیں فرماتی بلکہ لوگ عذاب کماتے اور کسب کرتے ہیں۔ اے کاش ! جو مشقت دخول نار کے لئے کی جاتی ہے وہ حصول قرب الٰہی کے لئے کی جاتی۔ یادرکھو ! جن کے چہرے منور ہوں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ اللہ کی رحمت یعنی جنت میں رہیں گے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد کسی کو نکالا نہ جائے گا۔ نیز جنت کو رحمت فرما کر یہ ظاہر فرمایا کہ انسانی عبادات بغیر رحمت باری کے جنت کو حاصل نہیں کرسکتیں کہ انسان اس قدر انعامات وصول کرچکا ہے جن کا وہ شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔ نیز توفیق عبادت اور خلوص فی العبادات خود رحمت باری ہی تو ہے اور کمال رحمت یہ ہے کہ یہاں تمام اہل جنت کے لئے خلود کی بشارت ہے مگر اس کے برعکس تمام دوزخیوں کے لئے نہیں کہ دوزخ میں خلود صرف کفار کے لئے ہے اگر کوئی مومن گناہوں کی پاداش میں گیا بھی تو بالآخر نجات نصیب ہوجائے گی۔ یہ اللہ کی آیات ہیں ، اللہ کی طرف سے دلائل ہیں جو آپ ﷺ پر اتارے جاتے ہیں کہ خلق خدا ان سے ہدایت حاصل کرے حق اور صداقت کے پیکر ہیں۔ اللہ کو یہ پسند نہیں کہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو۔ حتیٰ کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ مومن کو نیکی پر دنیا میں بھی اجر ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ اور اگر کافر کوئی اچھا کام کرے تو چونکہ اللہ کے لئے تو نہیں کرتا اس لئے آخرت کے اجر سے محروم رہتا ہے لیکن دنیا میں اپنی نیکی کا بدلہ ضرور پالیتا ہے کہ اللہ کریم کسی سے زیادتی نہیں کرتے ورنہ وہ تو جو چاہے کرلے کسی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں کہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے سب اسی کا تو ہے اور اپنی ملک میں تصرف پر کسی کا اعتراض کیسا ؟ مگر اس کی حکمت اور اس کا انصاف کہ کوئی محروم نہ رہے اور اس کی رحمت اس وقت تک پہنچتی ہے جب تک کوئی خود کو بالکل محروم نہ کرلے ۔ نیز تمام امور بھی اسی کی طرف پلٹتے ہیں۔ یعنی حقیقی فیصلہ بھی جملہ امور کا اسی کے دست قدرت میں ہے اور اس کے علاوہ کوئی صاحب اختیار نہیں۔