3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 3:130–143

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! دگنا اور چوگنا سود مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرسکو

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے (جو) پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو لوگ خوشی کے حال میں (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں (بھی) اور غصے کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔ اور اللہ احسان کرنے والوں سے پیار کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان سے کوئی بےحیائی کا کام ہوجائے یا اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھیں تو وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں پس اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخش سکتا ہے اور جو غلطی وہ کرچکے ہیں اسے جان بوجھ کر دہراتے نہیں

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ان ہی کا بدلہ ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے اور باغات (جنت) جن کے تابع نہریں بہتی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

بیشک تم سے پہلے (بھی) بہت سے واقعات گزر چکے ہیں سو زمین میں اور پھرو پس دیکھ لو تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوا

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ بیان (کافی) ہے لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے نصیحت ہے

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور سستی نہ کرو اور (کسی طرح کا) غم نہ کرو اور تم ہی کامیاب ہوگے اگر تم مومن (صادق) ہو

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تم کو کچھ زخم (صدمہ) لگا تو بیشک اس قوم کو بھی ایسا ہی زخم (صدمہ) لگ چکا ہے اور ہم یہ دن لوگوں میں پھیرتے ہیں اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو متمیز کردیں (جان لیں) اور تم میں سے (بعض کو) گواہ (شہید) بنائیں اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتے

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو خالص کردیں اور کافروں کو مٹادیں

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تمہارا خیال ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو (بظاہر) جانا ہی نہیں اور نہ صبر کرنے والوں کو جانا

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور یقینا تم موت (شہادت) کی آرزو کیا کرتے تھے اس کے آنے سے پہلے پس یقینا تم نے اس کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا

آیات 130- 143 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔ توکل : نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔ زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز کفار سودی رق میں جنگ کی تیاری پر بھی لگاتے تھے تو مسلمان یہ نہ سوچے کہ اس طرح زیادہ سامان حرب حاصل کیا جاسکے گا بلکہ حقیقی فلاح اور کامیابی کو نگاہ میں رکھے جو اطاعت الٰہی اور تقویٰ پر مرتب ہوتی ہے۔ اس طرح یہ ایک خالص معاشی مسئلہ جنگ اور صلح کے انداز بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومن نہ صرف میدان جنگ میں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں اللہ پر بھروسہ کرے اور کبھی اطاعت کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دے اگر کبائر میں مبتلا ہوا تو آگ سے عذاب دیئے جانے کا اندیشہ ہے جو بنیادی طور پر کفار کے لئے تیار ہوئی ہے کہ ممکن ہے کبائر پر اصرار ایمان کے ضیاع کا باعث بن جائے اور خاتمہ کفر پر ہو یا کبائر کی سزا میں جہنم میں جانا پڑے جو حقیقتاً کفار کی جگہ ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ ہر حال میں اور ہر کام میں مومن کی نگاہ اخروی نتائج پہ ہونی چاہیے اور دنیا سے مرعوب ہو کر لالچ میں آکر کبھی ایسے ذرائع اختیار نہ کرے جو اللہ کی اطاعت کے خلاف ہوں اور توکل کے منافی ہوں۔ واطیعوا اللہ والرسول……………اعدت للمتقین۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کو شعار بنائو تاکہ تم اللہ کی رحمت کو حاصل کرسکو کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک منصب اور مقام یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ کا کلام اس کے بندوں تک پہنچایا۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ ہمارے لئے تو یہ بہت کافی ہے تو اس طرح درست ہوگا کہ وہ اس کلام کی شرح اور مفہوم کو اللہ کے رسول ﷺ سے حاصل کرے کیونکہ یہ بھی منصب نبوت و رسالت ہے کہ کتاب کا مفہوم اور تبین ارشاد فرمائے لتبین للناس مانزل الیھم آپ ﷺ بیان فرمائیں کہ نازل شدہ آیات کا مفہوم کیا ہے۔ اطاعت رسول ﷺ کا مفہوم : اطاعت رسول ﷺ کے لئے بطور خاص ارشاد فرمایا کہ کوئی بھی شخص اپنی پسند کے معانی نہ پہنا سکے ورنہ حضور ﷺ کے مخاطب تو فصحائے عرب تھے اور اپنی تمام عملی قوت اور فصاحت وبلاغت کے باوجود کتاب اللہ کو سمجھنے میں آپ ﷺ کے محتاج تھے اکثر حکام مجمل ارشاد ہوئے اور پھر ان کی تشریح اور تفصیل آپ ﷺ نے لوگوں تک پہنچائی ، جیسے ارشاد ہے اقیموالصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ۔ اب نماز میں رکوع ، سجود ، تسبیحات ، قیام یا تعداد رکعت نیز اوقات۔ یہ جملہ امور آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے اور یہ بھی وحی الٰہی سے ہی تھا کہ آپ ﷺ کا منصب تھا۔ ایسے ہی زکوٰۃ کے مختلف نصاب یا دیگر امور بیع وشرایا حلال و حرام سب کی تفصیل آقائے نامدار ﷺ کے ارشادات عالیہ میں ہی مل سکتی ہے نیز آپ ﷺ نے ایک پورا معاشرہ تیار فرمایا جس میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے شہری ، بدوی ، عالم ، جاہل بوڑھے ، بچے ، مرد ، عورتیں ، کاشت کار ، مزدور اور تاجر ، ان لاکھوں نفوس قدسیہ کی تربیت کتاب اللہ کے منشاء کے مطابق فرمائی۔ آیات نازل ہوئیں آپ ﷺ نے ان کا مفہوم ارشاد فرمایا۔ اور ان ہی لوگوں نے آپ ﷺ سے وہ آیات سنیں ، مفہوم بھی سمجھا پھر آپ ﷺ کے سامنے اس کے مطابق عمل کرکے حضور ﷺ سے اس کی تائید اور تصدیق حاصل کی۔ اور اس امانت کو آنے والی نسلوں کے سپرد فرمایا۔ اللہ کریم ان سب پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین۔ یہ کسی طرح درست نہیں کہ کوئی شخص قرآن کے الفاظ تو ان سے حاصل کرے اور معانی ومفہوم خود متعین کرے یا ذخیرہ حدیث کو قرآن سے الگ سمجھ کر انکار کر بیٹھے۔ یہ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ حفاظت الٰہیہ کا وعدہ صرف الفاظ قرآنی تک محدود نہیں بلکہ مفاہیم کو بھی شامل ہے اور اللہ کریم نے جس طرح حفاظت حدیث کی سعادت اہل حق کو نصیب فرمائی ہے یہ انہیں کا حصہ ہے۔ ارشاد ہے کہ اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف دوڑو یعنی اللہ کی اطاعت حضور ﷺ کی تعلیمات و ارشادات کی روشنی میں اپنی پوری ہمت سے کرو اور اپنی ساری توانائیاں اس پر صرف کردو۔ جس طرح مقابلے کی دوڑ لگانے والا اپنی پوری قوت صرف کردیتا ہے اس طرح حصول مغفرت کے لئے اور دخول جنت کے لئے جو کہ رضائے باری کا مظہر ہے پوری کوشش کرو۔ یہاں مغفرت کے ساتھ صفاتی نام ” رب “ ارشاد ہوا ہے۔ ربوبیت جس طرح ہر شے کی پرورش کرتی ہے وہاں یہ اہتمام بھی کرتی ہے کہ جو شے جہاں مناسب یا ضروری ہو وہ وہیں رکھی جائے اور حسن ترتیب بھی ربوبیت کا ہی کرشمہ ہے کبھی کیکر پر آم نہ آئیں گے اور کیلے کے درخت کو بیری کا پھل نہ لگے گا۔ مغفرت بھی یقینا اسباب مغفرت پہ مرتب ہوگی یعنی اعمال صالحہ اور اتباع سنت پر ، نیز جنت کا داخلہ بغیر مغفرت کے ناممکن ہے ایک ایسی عالیشان جگہ جو اس اعتبار سے بھی بہت ہی اعلیٰ ہے کہ ارض وسما مل کر بھی اس کی قیمت نہیں ہوسکتے یا اس کی وسعت کا حال یہ ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کو بچھا کر جوڑا جائے تو اس کے عرض کا مقابلہ نہیں طول خدا جانے ۔ گویا انسان کے علم میں کوئی ایسی وسیع ترشے نہیں جس کی مثال سے وہ جنت کی وسعت کا اندازہ کرسکے اور یہ وسیع مملکت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو متقی ہیں۔ الذین ینفقون………………وموعظۃ للمتقین۔ محبوبان حق : ایسے لوگ تنگی وفراخی ہر حال میں اپنی تمام صلاحیتیں اللہ کے لئے صرف کرتے ہیں۔ مال و دولت ہو یا قوت و طاقت ، حکومت واختیار ہو یا علم و حکمت دین و دانش ہو یا آرام و راحت ہر حال میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے قربان کرتے رہتے ہیں اور بندگان خدا کو ہمیشہ حق و انصاف کی طرف بلاتے ہیں اگر کوئی ان کے حقوق ضائع بھی کرے تو انہیں بھی دکھ ہوتا ہے خواص بشری سے وہ بالاتر نہیں ہوتے۔ مگر اس دکھ یا غصے کا اظہار نہیں کرتے یعنی کسی سے بگڑ کر نیکی کرنے کی عادت ترک نہیں کرتے بلکہ لوگوں سے درگزر کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کے صرف حقوق ادا کرنے پر بس نہیں کرتے بلکہ اپنے حقوق ان پر نچھاور کرتے ہیں اور اس سے کوئی اور غرض نہیں رکھتے صرف اللہ کی رضا کے طالب ہوتے ہیں ، اور یہ سب کچھ نہایت خلوص کے ساتھ اور دل کی گہرائیوں سے کرتے ہیں یقینا ایسے لوگ اللہ کے محبوب ہوتے ہیں۔ اللہ ان سے محبت کرتے ہیں جو انسانیت کے لئے منتہائے کمال ہے۔ گویا کسی ایسے شخص کو جو نہ اللہ کے حقوق ادا کرے اور نہ بندوں کے ولی گمان کرنا ہرگز درست نہیں۔ یہ تو ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنا دل روشن رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کے قلوب کو روشن کرنے کی فکر کرتے ہیں اس کے باوجود انسان ہوتے ہیں اور بشری تقاضے اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ان سے بھی خطا ہوسکتی ہے یہ بھی غلطی کرسکتے ہیں کہ عصمت خاصہ نبوت ہے انبیاء (علیہ السلام) معصوم ہوتے ہیں۔ اولیاء محفوظ ضرور ہوتے ہیں مگر معصوم نہیں۔ ہاں ! ان کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی گناہ یا برائی کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس سے بخش طلب کرتے ہیں۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ ، ” ذکر نسیان کے مقابل ہے “۔ ذکر قلبی : اور یہ جان لیں کہ کلام باری کا مخاطب قلب ہے ، ذہن نہیں تو لازماً نسیان یا ذکر بھی قلب ہی کا مراد ہونا چاہیے اسی طرح ” بحر محیط “ میں ہے کہ زبانی استغفار جس کے ساتھ دل شامل نہ ہو لائق اعتبار نہیں۔ گویا ان لوگوں کے قلب زندہ ہوتے ہیں اور یہی زندگی کا حاصل ہے اسی لئے قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ قلبی ذکر کا حصول ہر مرد عورت پر واجب ہے۔ اللہ ہی خطائوں کو بخشنے والا ہے نیز یہ لوگ گناہ اور برائی کو وطیرہ نہیں بنا لیتے یعنی چھوڑ دیتے ہیں ۔ گویا صدور ذنب منافی ولایت نہیں مگر اصرار علی الذنب منافی ولایت ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے ان کی جزا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور جنت جس کے تحت نہریں رواں ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کہ جنت میں داخل ہونے والوں کو کبھی وہاں سے نکلنا نہیں ہوگا۔ یہ اطاعت کرنے والوں کے لئے کتنا بہترین اجر ہے کہ کام تو ایک نہایت قلیل مدت تک کیا مگر انعام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نصیب ہوا۔ پھر اطاعت انسانی طاقت کے مطابق کی بلکہ اس میں بھی متعدد کمزوریاں باقی رہیں مگر بدلہ اور اجرت عطائے باری کے شایان شان نصیب ہوئی۔ نیز ان جملہ ارشادات باری کی تصدیق زمین کے چپے چپے پر موجود ہے تم لوگ سے پہلے زمین آباد تھی ، جس میں ہر طرح کے لوگ تھے نیک بھی اور بدکار بھی۔ ان کے حالات کا مطالعہ کرو تو تم جان لو گے کہ ہمیشہ آرام و سکون اور عزت و عظمت دینداروں کے حصے میں رہی۔ کفار ہمیشہ بےچین وبے کل بھی رہے اور انجام کار تباہ وبرباد بھی ہوئے۔ ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اب تک ان کی فانی شوکت پہ نوحہ کناں نظر آتی ہیں۔ یہ سارا بیان انسانیت کے لئے سرمایہ عبرت ہے اور اپنے اندر سامان ہدایت رکھتا ہے اس کی روشنی میں تمام انسان اخلاق فاضلہ اور حسن عقیدہ کو حاصل کرسکتے ہیں مگر یہ دولت صرف وہ لوگ حاصل کر پاتے ہیں جن کے دلوں کا تعلق یادالٰہی سے ہو اور جنہیں اللہ کی عظمت کا اپنی حیثیت کے مطابق کچھ احساس ہو۔ (تقویٰ اس نسبت کا نام ہے جو دل کو اللہ کی بارگاہ میں حضوری سے نصیب ہوتی ہے) ولاتھنوا………………وانتم تنظرون۔ تمہیں اس جنگ کی شدت سے بددل ہونا زیب نہیں دیتا اور نہ اس کی ضرورت ہے کہ فتح بہرحال تمہی کو نصیب ہوگی اور ہمیشہ تم ہی غالب رہو گے شرط صرف یہ ہے کہ خلوص دل کے ساتھ آپ ﷺ کا اتباع اختیار کرو۔ ایمان مضبوط اور عمل صالح ، یعنی حضور اکرم ﷺ سے نسبت کاملہ حاصل ہو کہ یہی حق ہے اور حق کسی حال میں باطل سے مغلوب نہیں ہوتا۔ تمہیں ہمیشہ دین کے احیاء کے لئے اور ظلم وجور کو مٹانے کے لئے میدان عمل میں رہنا ہوگا ، یعنی مسلمان کبھی بھی بددل ہو کر جہاد سے دست بردار نہ ہوں ، نیز ذاتی زندگی ہو یا ملکی وقومی تمام امور میں کامیابی کی شرط ایمان کی مضبوطی ہے اگر تمہارا عقیدہ درست رہا اور اتباع سنت پہ کاربند رہے تو کبھی ناکام نہیں رہو گے۔ یہ عارضی تنگی یا شدت کوئی معنی نہیں رکھتی کہ اگر موجودہ جنگ میں (یعنی احد میں) تمہیں دکھ پہنچا تو اس سے پہلے بدر میں تمہارے مقابل کو بھی بہت زخم کھانے پڑے تھے۔ آج اگر مسلمان شہید اور زخمی ہیں تو کل وہ بھی اپنے سرداروں کی سر بریدہ نعشیں چھوڑ گئے تھے قید ہوئے اور زخموں سے چور۔ تو یہ معاملات دنیا الٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔ تنگی وفراخی آتی جاتی رہتی ہے کہ اگر ہمیشہ کافر پہ تنگی اور مومن پر فراخی رہے تو بہت لوگ اضطراراً ایمان کی طرف لپکیں۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوگا بلکہ حالات بدلتے رہیں گے اور انسان ہمیشہ اپنے عقل و شعور کے ساتھ اور حقانیت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے کا مکلف رہے گا۔ ہاں ! قابل غور امر یہ ہے کہ کفار لڑے بھی تو باطل کے لئے ، قتل ہوئے تو باطل کے لئے اور مر کر دوزخ میں جھونکے گئے کہ وہ ظالم تھے اور ظالموں کو کبھی اللہ کی محبت نصیب نہیں ہوتی۔ مگر تم لڑے تو حق کے لئے جس کا عند اللہ بہت بڑا اجر ہے ، زخمی ہوئے تو عنداللہ منازل قرب میں ترقی پائی قتل ہوئے تو شہادت پائی اور اللہ نے تمہیں اپنی عظمت کا گواہ چن لیا اور تماری عظمت کو چاردانگ عالم پہ روشن کردیا فلیعم اللہ سے یہی اظہار ہے ورنہ اللہ کا علم تو ازلی ہے وہ قبل وقوع بھی جانتا ہے اور بعد وقوع بھی۔ مومنوں پر مصائب کا فلسفہ : امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف عدم علم شے کے عدم وجود کو لازم ہے ایسے ہی علم شے ، وجود شے کو۔ گویا یہاں مراد ہے کہ تمہیں یہ نعمتیں نصیب ہوں اور اللہ مومنین کو پاک صاف کردے اور کفار کو ملیامیٹ کردے۔ کہ دنیا کی تکالیف جب مومن پہ آتی ہیں تو تلافی مافات کا سبب بنتی ہیں اور ترقی درجات کا باعث۔ عنداللہ کچھ منازل ومقامات ایسے ہیں جو بغیر مصائب کے حاصل ہو ہی نہیں سکتے جیسے مثال کے طور پر شہادت ہی کو لے لیں کہ اس منزل کو پانے کے لئے راہ حق میں نقد جاں لٹانا پڑتا ہے۔ نیز طاعات و عبادات میں بھی کمی رہ جاتی ہے ۔ اکثر اوقات بھول چوک بھی ہوتی رہتی ہے تو شاید ان کا مداوا بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کفار کی بےنصیبی کہ ان پر شدائد بھی بطور عقوبات کے وارد ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے انہیں دنیا میں ذلیل ورسوا کیا جاتا ہے اگر بدستور اسی ہٹ پر قائم رہیں تو بالآخر تباہ ہوجاتے ہیں اور ابدی ذلت سے دو چار ہوتے ہیں۔ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ وہ بغیر عمل کے جنت میں داخل ہوجائے گا اس کے لئے دواوصاف بنیادی ہیں ، جہاد اور صبر۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں ، ان المراد ان دخول الجنۃ وترک المصابرۃ علی الجھاد لا یجتمعان۔ کہ دخول جنت اور جہاد پر ترک صبر جمع نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے نام پر خلاف اسلام اٹھنے والی تحریکوں کے بانیوں نے جہاد کو حرام قرار دیا ۔ مقصد مسلمانوں کو کفر کی طرف دھکینا تھا۔ نیز تفسیر کبیر میں ہی اسی بحث کو یوں آگے بڑھاتے ہیں کہ حاصل کلام یہ ہے کہ حب دنیا اخروی سعادت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی جس قدر ایک زیادہ ہوگی دوسری صفت گھٹتی جائے گی کیونکہ حصول دنیا بھی تب ہی ممکن ہے جب دل دنیا کی طلب میں لگ جائے اور اخروی سعادت کا مدار بھی اس بات پر ہے کہ دل ماسوا کی طلب سے فارغ ہو اور اللہ کی محبت سے لبریز۔ یہ دو باتیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں۔ مزید فرماتے ہیں ، اللہ کی محبت نرا دعویٰ کرنے سے ثابت نہیں ہوتی اور نہ ہر مدعی سچا ہے بلکہ صداقت کی دلیل یہ ہے کہ جو کام اللہ کو ناپسند ہیں انہیں چھوڑ دے اور اپنی پسند کو قربان کرے کہ ، فان الحب ھوالذی لا تنقص بالجفاء ولا یزاد بالوفاء فان بقی عند تسلیط اسباب البلاء ظھران ذالک الحب کان حقیقتاً ۔ محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے جو محبوب کی سختی سے گھٹتا نہیں اور اس کے وفا کرنے سے بڑھتا نہیں بلکہ حقیقی محبت وہ ہے جو مصائب وشدائد میں بھی برقرار رہے۔ اسی لئے ارشاد ہوا کہ بغیر مجاہدہ اور صبر کے اور اطاعت الٰہی میں خلوص قلب کے ساتھ کوشش کرنے کے دخول جنت کی امید فضول ہے۔ اسباب رحمت کو ترک کرنا غضب کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ اور تم لوگ شہادت کی تمنا رکھتے تھے ، اللہ نے وہ مبارک موقع مہیا کردیا اور تم نے موت کو کھلی آنکھوں دیکھ لیا اب اس سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں یعنی اگر کبھی کفار کو عارضی غلبہ بھی نصیب ہو تو اس میں مومنین کے لئے شہادت اور قرب الٰہی کے اسباب موجود ہوں گے ۔ نیز بددل ہونے کی بجائے ان کمزوریوں کا پتہ لگانا چاہیے کہ کہاں سے سنت خیرالانام ﷺ کا دامن چھوٹا کہ اتباع سنت کے ساتھ کامیابی یقینی ہے۔
Ayahs 3:144–148

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور حضرت محمد ﷺ تو اللہ کے پیغمبر ہیں یقینا ان سے پہلے (بہت سے) پیغمبر گزر چکے پس اگر ان کو موت آجائے یا شہید کردیئے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور جو الٹے پاؤں پھرجائے گا تو وہ ہرگز اللہ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو جزا عطا فرمائیں گے

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور اللہ کے حکم کے بغیر کسی شخص کو موت نہیں آسکتی (اس کا) مقرر وقت لکھا ہوا ہے اور جسے دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہیے اسے ہم وہیں دے دیں گے اور جسے آخرت میں بدلہ چاہیے اس کو وہاں دے دیں گے اور ہم جلد شکرگزاروں کو (بہت اچھا) صلہ عطا کریں گے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی ہوئے جن کے ساتھ بہت سے اہل اللہ نے مل کر جنگیں کیں اللہ کی راہ میں انہیں جو کچھ پیش آیا پس اس کے باعث نہ سست ہوئے اور نہ کمزوری دکھائی اور نہ (کافروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے پیار کرتے ہیں

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور ان کی زبان سے اس کے سوا کچھ نہ نکلا کہ انہوں نے کہا (دعا کی) اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لئے ہمارے گناہ بخش دیجئے اور ہمارے کاموں میں ہم سے جو زیادتی ہوی (بخش دیجئے) اور ہمیں ثابت قدم رکھیئے اور ہمیں کافر لوگوں پر غلبہ دیجئے

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

پس اللہ نے ان کو دنیا کا بدلہ بھی دیا اور آخرت کا عمدہ بدلہ بھی اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں

آیات 144- 148 اسرارو معارف وما محمد الارسول………………وسنجزی الشکرین۔ نیز محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہی تو ہیں اللہ کے کسی بھی وصف ہیں شریک نہیں کہ صفات الوہیت کے حامل ہوں بلکہ ان سے قبل بھی بہت سے اللہ کے رسول گزر چکے ہیں کہ رسول دنیا میں اللہ کا پیغام بندوں تک لاتے ہیں اور اپنا فریضہ ادا فرما کر قانون قدرت کے مطابق اس دارفانی سے گزر جاتے ہیں۔ اگر آپ ﷺ کا انتقال ہوجائے یا آپ ﷺ شہید ہوجائیں تو آپ کا پیغام اور آپ کا لایا ہوا دین تو چھوڑ نہ دیا جائے گا۔ بلکہ اس پر عمل بدستور جاری رہے گا اور فیوضات وبرکات مرتب ہوتے رہیں گے یہ تو درست نہیں کہ پیغمبر کی موت کے بعد اس کا اتباع ترک کردیا جائے تو کیا تم صرف حضور ﷺ کی دنیاوی زندگی کے عرصے میں ہی اتباع کرو گے اور آپ کی وفات اگر واقع ہوجائے جیسا کہ آپ ﷺ سے پہلے ہوتا آیا ہے اور آپ ﷺ پر بھی یقینا موت وارد ہوگی تو تم الٹے پھر جائو گے ؟ کیا آپ ﷺ کا دنیا سے چلا جانا آپ کی برکات کو ختم کردے گا اور آپ ﷺ کا اتباع چھوڑ دو گے ؟ جب حضور ﷺ کا رخ انور رخمی ہوا اور مسلمانوں کا لشکر نہایت ابتری کی حالت میں لڑرہا تھا کسی نے آواز لگائی ، ” محمد قتل ہوگئے ! “ ﷺ مفسرین لکھتے ہیں کہ آواز لگانے والا ابلیس تھا۔ اکثر اکابر صحابہ ؓ شہید ہوچکے تھے۔ باقی میں سے بیشتر زخموں سے چور تھے میدان میں افراتفری کا عالم تھا کہ یہ آواز بجلی بن کر گری جس کے مختلف حضرات پر مختلف اثرات مرتب ہوئے بعض نے تو یہ سن کر کہا اب زندگی کس کام کی بےجگری سے لڑو اور جس مقصد پہ حضور ﷺ نے جان دی اسی پر جان دے دو ! کچھ لوگ کا رد عمل یہ تھا کہ جب حضور ﷺ شہید ہوگئے تو اب ہم کس کے لئے لڑیں ؟ بعض دوسرے لوگ مبہوت ہو کر رہ گئے اور کوئی فیصلہ نہ کر پا رہے تھے۔ کہ ایک صحابی ؓ نے آپ ﷺ کو پہچان لیا۔ اور نعرہ لگایا کہ مسلمانو ! بشارت ہو آپ ﷺ یہاں ہیں۔ اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ پندرہ سولہ کے قریب جاں نثار تھے تو سب اس طرف لپکے آپ ﷺ کو محفوظ مقام پر پہنچایا اور مشرکین میدان چھوڑ گئے۔ اگرچہ محبت رسول ﷺ ہی عین ایمان ہے اور آپ ﷺ کا ادب تمام نیکیوں کی بنیاد۔ مگر اس کا یہ مفہوم کہ صرف محبت کی جائے اور اطاعت ترک کردی جائے بالکل صحیح نہیں۔ یہ سخت غلطی ہے ۔ محب کا تقاضا بھی محبوب کی اطاعت ہے فان المحب لمن یحب مطیع کہ محب محبوب کے تابع ہوتا ہے اور ادب کا تقاضا بھی خلوص دل کے ساتھ اطاعت ہے۔ اگر آپ ﷺ واقعیہ شہید ہوجائیں تو بھی تم جہاد کے ویسے ہی مکلف ہو اور جہاد اتنا اہم رکن ہے کہ اسے ترک کرنا ترک اسلام کے مترادف قرار دیا۔ اور فرمایا ، تم الٹے پھر جائو گے یعنی معاذ اللہ ! مرتدہوجائو گے۔ اصحاب کشف کے لئے : نیز یہاں اصحاب کشف کے لئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ شیطان صحابہ کرام ؓ کو بہکانے کے لئے میدان احد میں آپ ﷺ کے موجود ہوتے ہوئے نعرہ لگانے سے نہیں چوکا تو موجودہ دور کے لوگوں کو دھوکا دینا اس کے لئے کیا مشکل ہوگا ؟ تمام مشاہدات کی سند قول رسول ﷺ ہی ہے جو بات بھی اس سے ٹکرائے گی وہ خود پاس پاش ہوجائے گی۔ آپ ﷺ کی اطاعت بہرحال ضروری ہے اور یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ موت شے عدمی نہیں ہے کہ مرنے والا معدوم ہوجائے اگر ایسا ہو تو پھر اس کی برکات بھی ختم ہوجانا چاہئیں۔ لیکن یہاں عارضی سراسیمگی پر جو اس خبر وحشت اثر کا فطری اثر تھا کس قدر سخت عتاب ہوا کہ جہاد میں ذرا سے تساہل کو دین سے پھرجانا کہا گیا۔ ایک تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت اس اعلیٰ پائے کی کرنا مقصود تھی کہ وہ دنیا کی قیادت کا حق ادا کرسکیں۔ دوسرے اتباع رسالت اور خصوصاً جہاد کی اہمیت بھی اجاگر فرمادی گئی اور ارشاد ہوا کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا یعنی خود اپنی ذات کو تباہی میں گراد دے گا۔ اللہ تو شکر گزاروں کو اجر عطا فرمائیں گے۔ یہاں بھی متبعین کا شکرین کے لقب سے یاد فرمایا گیا ہے یعنی اطاعت ہی حقیقی شکر ہے اور جو لوگ جہاد میں ثابت قدم رہے پریشان ہو کر چھوڑ نہیں بیٹھے وہی شکر گزار تھے۔ امین الشا کرین : یہاں مفسرین کرام نے حضرت علی ؓ کی روایت نقل فرمائی ہے بحر محیط میں ہے کہ آپ نے فرمایا ، ابوبکر ؓ امین الشاکرین ہیں کہ آپ کا قدم ذرا سا نہ ڈگمگایا۔ ایسے ہی تفسیر قرطبی اور روح المعانی میں امیر الشاکرین اور تفسیر کبیر میں سید الشاکرین لکھا ہے۔ امام رازی (رح) نے یہاں بڑی مزیدار بحث فرمائی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول کس قدر صادق ہے کہ احد میں مثالی اثبات ابوبکرصدیق ؓ کا ہے تو واقعتا جب آپ ﷺ کا وصال ہوا تو بھی یہی ذات واحد تھی جو ثابت قدم رہی اور سب کو سنبھالا پھر فوراً بعد مرتدین اور مدعیان نبوت کی شورش اٹھی تو اس نے بھی صحابہ کرام ؓ کو سوچنے پہ مجبور کردیا مگر صدیق اکبر سید الشاکرین ؓ ہی وہ ہستی ہے جس نے ثابت قدم رہ کر واضح اور دو ٹوک فیصلہ فرمایا اور جہاد کرکے ان فتنوں کو نابود کردیا۔ نیز ارشاد ہوا کہ موت کا ایک معین وقت ہے اور اللہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے نہیں آسکتی ۔ اسی طرح جب وقت مقررہ آجائے تو ٹالی بھی نہیں جاسکتی۔ ایسے حالات میں گھبرانا یا موت کے ڈر سے جہاد میں شرکت نہ کرنا وغیرہ ہرگز مفید نہیں اور نہ ان کی ضرورت۔ بات صرف اس قدر ہے کہ اس زندگی کو جس نے حصول دنیا پہ صرف کردیا وہ صرف دنیا ہی کو پاسکا جس کا پالینا نہ پانے سے بھی زیادہ ایذارساں ہے کہ آخر چھوڑنا پڑتا ہے اور جس نے یہاں رہ کر آخرت بنانا چاہی اسے آخرت سے خطہ وافر نصیب ہوا کہ ہم ایسے ہی حق شناسوں کو ان کا اجر عطا فرمائیں گے۔ وکای من نبی قاتل معہ ربیون کثیر…………واللہ بحی المحسنین۔ قبل ازیں بھی متعدد انبیاء (علیہ السلام) نے جہاد فرمایا اور اللہ کے بندوں نے ان کی اطاعت میں جانیں قربان کیں بڑے بڑے مشکل وقت بھی ان پر پڑے مگر انہوں نے نہ ہمتیں ہاریں نہ کاہلی دکھائی اور نہ ہی لشکر کفار سے مرعوب ہوئے بلکہ ایسی شاندار قربانی کے ساتھ اور اتنے عظیم صبر کے باوجود کہ جس پر وہ اللہ کے محبوب قرار پائے وہ یہی دعا کرتے رہے کہ اے اللہ ! ہماری خطائوں سے درگزر فرما ۔ اور جو غلطیاں ہم سے سرزد ہوئی ہیں معاف کردے ہمیں ثابت قدم رکھ اور کفار کے مقابل ہماری مدد فرما اور ہمیں فتح یاب کر !۔ یعنی باجود ساری محنت کے بھی عبادات اتنی عظمت نہیں حاصل کر پاتیں جتنی عظیم اس کی بارگاہ ہے ۔ پھر بتقاضائے بشریت کئی طرح کی کمی رہ جاتی ہے۔ ساری محنت کے باوجود اللہ کے بندے اپنی عبادت پہ نازاں نہیں ہوتے۔ بلکہ اپنی کوتاہیوں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور نصرت الٰہیہ کے خواستگار ہوتے ہیں۔ تو تم خیرالامم ہو تمہیں ان امور میں ان پر بہت سبقت حاصل ہونی چاہیے۔ اللہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی سر بلند رکھتا ہے اور آخرت کا بہترین اجر عطا فرماتا ہے کہ ایسے ہی صدق دل اور کامل اخلاص کے ساتھ اطاعت کرنے والوں سے اللہ کریم محبت رکھتے ہیں۔
Ayahs 3:149–155

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر دیں گے (مرتد کردیں گے) پس تم بہت نقصان میں رہو گے

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ اللہ تمہارے کارساز اور وہ بہتر مدد کرنے والے ہیں

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

عنقریب ہم کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب بٹھا دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے شرک کیا جس کی کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ ظالموں کے لئے بری جگہ ہے

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور یقینا اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کردیا جب تم ان کے حکم سے ان (کافروں) کو قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم خود ہی کمزور ہوگئے اور تم باہم حکم میں اختلاف کرنے لگے اور تم نے بات نہ مانی بعد اس کے کہ جو تم چاہتے تھے اس (اللہ) نے تمہیں دکھایا تم میں سے کچھ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے اور کچھ وہ تھے جو آخرت کے طلب گار تھے پھر اللہ نے تمہیں ان (کے مقابلے) سے پھیر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کریں اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا اور اللہ ایمان والوں کے لئے بڑے فضل والے ہیں

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(اور وہ قت یاد کرو) جب تم چڑھے جاتے تھے اور کسی کو پلٹ کر نہ دیکھتے تھے اور تمہارے پیچھے سے پیغمبر تم کو پکار رہے تھے سو (اللہ نے) تم کو (اس کی پاداش میں) غم پہ غم دیا تاکہ تم جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اس کا غم نہ کرو اور نہ اس پر جو تم پر (مصیبت) پڑی اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہیں

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر اس غم کے بعد اللہ نے تم پر چین نازل فرمایا اونگھ (جو ایک طرح کی نیند تھی) کہ تم میں سے ایک جماعت پر اس کا غلبہ ہوا اور کچھ لوگ وہ تھے جن کو اپنی جان کی فکر تھی وہ اللہ کے ساتھ خلاف واقعہ گمان کر رہے تھے (جو محض) جاہلیت کا گمان (تھا) کہتے تھے کہ کیا کچھ فیصلہ ہمارے بس میں بھی ہے آپ فرما دیجئے بیشک سارا کام اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنے دلوں میں چھپائے رکھتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ اگر فیصلہ میں کچھ ہمارا بس چلتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔ فرما دیجئے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کے لئے قتل کا فیصلہ ہوچکا البتہ وہ اپنے قت کی جگہ کی طرف نکل کھڑے ہوتے اور تاکہ اللہ تمہارے دلوں (سینوں) کی باتوں کو آزمائیں اور جو تمہارے دلوں میں ہے اسے معاف (صاف) کردیں اور اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

بیشک جو لوگ تم میں سے ، جس دن دو جماعتوں نے آپس میں جنگ کی ، منہ موڑ گئے یقینا ان کے بعض اعمال کی وجہ سے شیطان نے ان کو ڈگمگا دیا اور یقینا اللہ نے انہیں معاف فرمادیا بیشک اللہ بخشنے والے ، تحمل والے ہیں

آیات 149- 155 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا………وھو خیر الناصرین۔ مومنین کو ہمیشہ ارشادات نبوی ﷺ کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر کفار کی بات پر کان دھریں گے تو وہ مومنوں کو بھی کھینچ کر کفر کی دلدل میں پھینک دیں گے جو ایک عظیم نقصان ہے اور جس کی عملی صورت احد میں ظاہر ہوئی کہ کفار نے علی الاعلان کہا کہ ہمیں واپس اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔ احد مدینہ منورہ سے کچھ دور نہیں تھا اور منافقین اگرچہ ابن ابی کی سرکردگی میں لوٹ کر چلے گئے تھے مگر پھر بھی دور نزدیک سے جنگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے جب مشرکین نے درہ سے حملہ کیا ، اور ان کی ساری فوج پلٹی تو وقتی طور پر ایک افراتفری کا عالم ضرور بپا ہوا اور ہونا بھی چاہیے تھا کہ مسلمان پہلے بھی تعداد میں کم تھے اور سخت جانفشانی سے لڑے تھے کہ مشرکین بھاگ نکلے اور اسی جوش تعاقب میں درہ پر متعین لوگ بھی تعاقب میں شامل ہوگئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو ایک طرف متوجہ تھے۔ کہ مشرکوں کے ایک رسالے نے درے سے نکل کر عقب پر حملہ کردیا ، ان کی طرف پلٹے تو بھاگئی ہوئی مشرک فوج پلٹ پڑی اور چکی کے دوپاٹوں میں آگئے اور اس پر آپ ﷺ کی شہادت کی گپ نے ، جو شیطان مردود نے اڑا دی تھی ، کسر ہی نکال دی۔ مگر تائید باری ہے ان خوش نصیبوں کو محروم نہ رکھا پھر فتحمند ہوئے اور بھاگتے ہوئے مشرکوں کا حمر الاسد کے مقام تک تعاقب بھی کیا اور منافقین کو شرمندگی نصیب ہوئی۔ تو جب مسلمان انتہائی مصیبت کی حالت میں دو طرفہ گھرے ہوئے لڑ رہے تھے۔ ان کی صفیں منتشر ہوچکی تھیں اور زخموں سے چور جس میدان میں تڑپ رہے تھے کہ بھاگ دوڑ کر لڑنے والوں کے زخموں پر مزید نمک پاشی منافقین کے قول نے کی ، ” ابن ابی کے پاس جائو ! تمہیں ابو سفیان سے امان حال کردے گا۔ یا آبائی مذہب کو پلٹ آئو کہ اب اس دین میں کیا رکھا ہے ؟ جب نبی ہی قتل ہوچکا “۔ (معاذ اللہ) تو اللہ کریم نے مومنوں کو ان کی خباثت سے مطلع فرما کر حکم دیا کر خبردار ! ان کی بات پر ہرگز کان نہ دھرنا تو پھر کفر کی ذلت اور تباہی میں گرانے کی کوشش کریں گے اور تمہارا مددگار تو اللہ ہے۔ ولی اللہ : اور یہی ولایت ہے کہ ولی اللہ محفوظ ہوتے ہیں۔ اللہ کریم گناہوں کے مقامات اور حالات سے ان کی حفاظت فرماتے ہیں۔ جیسے یہاں ارشاد ہوا کہ اللہ تمہارا مولیٰ اور ولی ہے کہ تمہیں منافقین کے ارادوں سے مطلع فرما کر حفاظت کا سامان کردیا اور وہی سب سے بہتر مددگار ہے۔ یہ بات واضح ہوگئی کہ بدکار اور تارک سنت والی اللہ نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کے پیچھے پھرنا نبوی جہالت ہے نیز شیطان کسی بڑے بڑے آدمی پر بھی وار کرنے سے نہیں چوکتا کہ عین میدان جہاد میں حضور ﷺ کے موجود ہوتے ہوئے نعرہ لگانے سے باز نہ آیا۔ مگر مخلصین کو رحمت باری تھام تھام لیتی ہے اور ابلیس کے یہ دائو صرف ان لوگوں کو متاثر کرتے ہیں جو لوگ اللہ سے کٹ جائیں جیسا کہ ارشاد ہے ، سنلقی فی قلوب الذین کفروا الدعب بما اشرکو باللہ…واللہ ذوافضل علی المومنین۔ کافروں کے قلوب کو مرعوب کردیا جائے گا کہ خود انہوں نے اللہ سے شرک کرکے جس کی کوئی دلیل نہیں اس حال کو دعوت دی ہے کہ شرک کا وبال ہمیشہ انسان کو متعدد دروازوں پر بھٹکاتا رہتا ہے اور ایک ایک شے کا خوف اس کے دل میں بٹھاتا رہتا ہے ۔ بخلاف اس کے توحید اللہ سے ڈرنے کی دعوت بھی ہے اور اعتمادی علی اللہ مخلوق کے ڈر سے فارغ بھی کردیتا ہے۔ یہ حال تو دنیا میں ہے۔ آخرت میں مشرک کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت برا ٹھکانہ ہے اور ایسے ظالموں کے لئے سزاوار بھی ہے۔ نیز تمہیں ان کی طرف متوجہ ہونے کی کیا ضرورت کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کئے ہوئے وعدے سچ ثابت فرمائے اور باوجود قلت تعداد کے اور سامان حرب کی کمی کے تم محض اللہ کی مدد سے انہیں قتل کر رہے تھے اور ان کے بڑے لشکر کو بھاگنے پر مجبور کردیا تھا کہ تمہاری رائے میں کمزور ی آگئی اور تم میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ جو غیر شعوری طور پر عین حصول فتح یا تکمیل فتح کے موقع سے چھوٹ گیا۔ یعنی درہ پر مقررہ پچاس تیر اندازوں میں سے بیشتر نے کفار کے بھاگتے ہوئے لشکر کا تعاقب کرنا چاہا کچھ لوگوں نے وہیں جمے رہنے پر اصرار کیا۔ تھوڑے لوگ وہاں رہ گئے۔ اکثر چلے گئے۔ ان کی رائے یہ تھی کہ آپ ﷺ کا حکم لڑائی تک تھا اب جنگ ختم ہوگئی مشرک بھاگ رہے ہیں ، یہاں کھڑا رہنے کی ضرورت نہیں مگر حقیقتا ً ایسا نہ تھا۔ انہیں وہاں پر پہرہ دینا چاہیے تھا۔ مگر وہ وہاں سے ہٹ گیا تو یہ غیرارادی طور پر سر زد ہونے والی نافرمانی بھی وجہ ابتلاء بن گئی کہ تمہارا فیصلہ بڑی حد تک دنیاوی عظمت کی طلب رکھتا تھا۔ حالانکہ وہاں کھڑے رہنے والے محض آخرت کی طلب میں کھڑے رہے۔ یہاں یہ بات ضرور دیکھ لی جائے کہ اکثر حضرات نے دنیا سے مراد غنیمت کو لیا ہے حالانکہ غنیمت لوٹنے سے نہیں ملتی بلکہ سارا مال ایک جگہ جمع ہو کر باقاعدہ تقسیم ہوتا ہے کوئی بہت لوٹے یا تھوڑا جو حصے میں آئے وہ مل جاتا ہے میری نظر میں یہاں دنیا سے مراد وہ جوش ہے جو تعاقب کرنے والوں میں شامل ہونے کا سبب بنا۔ اس میں کسی حد تک تفاخر کی جھلک بھی ہے جو عظمت صحابہ ؓ کے ساتھ نہیں جچتی ۔ فوراً امتحان میں ڈال دیا اور حالات کو الٹ دیا اب صحابہ ؓ کٹنے لگے ، شہید ہوئے اور زخموں سے چور ہوگئے تو پھر معافی کی اطلاع بھی کردی ، نہ صرف معاف فرمادیا بلکہ بذریعہ وحی آگاہ بھی فرمادیا اور فرمایا کہ اللہ تو مومنین کے حق میں بہت ہی مہربان ہے اسی لئے تم پر فضل کیا ہے۔ یہ آیہ کریمہ صحابہ کرام ؓ کے کمال ایمان پر نص ہے۔ اذتصعدون ولا تلون علی احد…………ان اللہ غفور حلیم۔ اس کے بعد اس وقت کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب تم جدھر کو منہ اٹھاتے ادھر کو بڑھنے لگتے تھے اور میدان میں تتر بتر ہوچکے تھے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کو آوازیں دینا پڑیں۔ یہاں بھی بعض حضرات نے لکھا ہے کہ کچھ لوگ بھاگ گئے تھے۔ مگر یہ بات قرین قیاس نہیں ہے کہ جو لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہوں انہیں پیچھے سے بلایا جائے اول تو یہ فرار اکبر الکبائر ہے۔ دوسرے شہر قریب تھا بھاگنے والے گھروں میں جارکتے۔ پھر وہ کس کی سنتے ؟ بات صرف اتنی تھی کہ دو طرفہ حملے میں مٹھی بھر صحابہ ؓ کوئی ترتیب قائم نہ رکھ سکے اور میدان میں بکھر گئے جس کے باعث بیشتر شہید اور زخمی ہوئے اور اس پر یہ اعلان سن کر کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے اور بھی حالت دگرگوں ہوگئی تھی۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ نے آواز دی اور اپنے جمع ہونے کے لئے فرمایا تو سب وہاں جمع ہوگئے بکھری ہوئی قوت سمٹ آئی اور مشرکین کو نہ صرف بھگایا بلکہ تعاقب بھی کیا۔ یہی ارشاد یہاں موجود ہے کہ تمہیں غم پہ غم دیکھنا پڑا۔ غرض اصلی تربیت تھی کہ کامل فنا حاصل ہوجائے اور کسی بھی کام کے ہوجانے پر تمہاری قلبی کیفیت میں فرق نہ آئے۔ یعنی جو واقعہ بھی سامنے آئے تم اس کے پیچھے اس ذات کو دیکھ سکو جو افعال کی خالق ہے اور تمہارے اعمال سے بہت ہی باخبر۔ اسی لئے تو اس تمام امر کے بعد تم پر اونگھ سی نازل کردی جس نے مخلصین کو ڈھانپ لیا۔ یہ استغراقی کیفیت مراد ہے جو نزول تجلیات پر پیش آتی ہے اور صوفی پر بھی جب انوار کی کثرت ہو تو یہ حالت ہوجاتی ہے کہ بیدار بھی ہوتا ہے اور جسم بےحس ہوجاتا ہے جیسے کہ حضرت ابوطلحہ ؓ کا ارشاد ہے کہ احد میں یہ حال ہوا کہ میں تلوار کو مضبوطی سے تھامنا چاہ رہا تھا اور وہ میرے ہاتھ سے گری جارہی تھی۔ رہے منافق ! تو یہ برکات ان کے نصیب کہاں ، بلکہ عین اس وقت جب یہ نزول رحمت ہورہا تھا اور وہ اسی جاہلیت کے دور میں اور وہموں میں مبتلا تھے اور ذات باری سے بدظن ہو رہے تھے کہ جب خزرج کے لوگوں کو شہید ہوتے دیکھا تو ابن ابی نے کہا کیا کسی بات کا فیصلہ ہمارے اختیار میں بھی یا محض دوسروں کے فیصلوں کی وجہ سے ہمارے بھائی کٹتے رہیں گے۔ مراد آپ ﷺ کے فیصلے سے تھی تو ارشاد ہوا کہ کہہ دیجئے ! سب کام اللہ کے دست قدرت میں ہے اور میرا فیصلہ اسی ذات عظیم کا فیصلہ ہے کہ یہی بات انہوں نے دلوں میں چھپا رکھی تھی جسے آپ ﷺ کے سامنے نہیں کہہ پاتے ورنہ ان کے دل میں ہے کہ اگر ہماری بات پر عمل ہوتا تو یہ ہمارے لوگ کٹ کر نہ مرتے۔ انہیں فرمادیں کہ اگر تم اندر چھپ جائو تو بھی جنہیں قتل ہونا تھا۔ انہیں تقدیر وہیں لے آتی۔ جہاں ان کے لئے قتل ہونا مقدر ہوچکا تھا۔ اور یہ جنگ جو تمہارے لئے وجہ امتحان بن گئی کہ منافقین کا بھید کھل گیا ، اور مخلصین کے دل مزید صاف ہوگئے۔ منافقین کے پیدا کردہ وس اس کی بنیاد ہل گی کہ اللہ دلوں کے بھیدوں سے آگاہ ہے اور وہی دلوں میں کیفیات کو پیدا فرماتا ہے اور یہ بات یادرکھو کہ میدان میں جن حضرات کے قدم ڈگمگائے انہیں شیطان نے لغزش دے دی تھی کہ بعض نے مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کی منشاء مبارک کے خلاف رائے دے کر اور کچھ لوگوں نے درہ سے ہٹ کر قصور کیا تھا اس غیر ارادی غلطی کی وجہ سے بھی ان کے دلوں سے انوار کی وہ کثرت جاتی رہی جو شیطان کے وساوس کو بےاثر کرتی تھی۔ اس نے لغزش صادر کر اہی دی۔ لیکن اللہ نے ان کو معاف فرمادیا۔ کہ یہ ارادۃً صادر نہ ہوا تھا۔ بلکہ دونوں مقامات پر غیرارادی قصور تھا۔ اللہ کریم نے معاف فرمادیا۔ مگر دنیوی مصائب و تکلیف اس پر بھی مرتب ہوئیں اور ان سے دامن نہ بچایا جاسکا۔ بیشک اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور تحمل والا ہے۔ یہاں ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو بدقسمتی سے عمداً ترک سنت میں مبتلا ہیں۔ کیا وہ ایسے افعال پر کسی اچھے نتیجے کی امید کرسکتے ہیں ؟ کہ ان کا شان صحابہ ؓ کا سا ہے ، نہ جذبہ اور نہ خطا اجتہادی۔