3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 3:31–41

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کریں گے اور تمہارے گناہ معاف کردیں گے اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

کہہ دیجئے اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو پھر اگر وہ اعراض کریں تو بیشک اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتے

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

یقینا اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کو اور عمران کے خاندان کو جہانوں پر منتخب فرمایا

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ان کے بعض بعضوں کی اولاد تھے اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار ! جو میرے پیٹ میں ہے بیشک میں نے اسے آزاد کرکے آپ کو نذر کیا پس آپ مجھ سے قبول فرمالیں بیشک آپ ہی سننے والے جاننے والے ہیں

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب اس کو جنا تو کہا اے میرے پروردگار ! بیشک میں نے تو اس کو لڑکی جنا ہے اور جو کچھ جنا اسے اللہ بہتر جانتے ہیں اور لڑکا (جوان کے خیال میں تھا) لڑکی جیسا نہیں اور میں نے اس کا نام مریم (علیہا السلام) رکھا ہے اور یقینا میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو ان کے پروردگار نے اچھے طریقے سے ان کو قبول فرمایا اور انہیں (مریم (علیہ السلام) کو) اچھی طرح سے پرورش کیا اور زکریا (علیہ السلام) کو ان کا سرپرست بنایا جب کبھی زکریا (علیہ السلام) عبادت گاہ میں ان کے پاس جاتے تو ان کے پاس کھانا پاتے انہوں نے کہا اے مریم (علیہا السلام) ! یہ آپ کے پاس کہاں سے آیا وہ بولیں کہ یہ اللہ کے ہاں سے ہے یقینا اللہ جسے چاہتے ہیں بیشمار رزق دیتے ہیں

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا کی عرض کیا اے میرے پروردگار ! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرمائیے یقینا آپ دعا کو سننے والے ہیں

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

اور جب وہ عبادت گاہ میں نماز پڑھ رہے تھے تو فرشتوں نے انہیں پکار کر کہا کہ اللہ آپ کو یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت دیتے ہیں جو کلمۃ اللہ (اللہ کی بات) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے اور سردار ہوں گے اور اپنے نفس کو (لذات سے) روکنے والے اور نبی ہوں گے نیک لوگوں میں سے

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لڑکا کیوں کر ہوگا اور بیشک مجھے بڑھاپا آپہنچا اور میری بیوی بھی اولاد کے قابل نہیں فرمایا ایسا ہی ہے اللہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردیجئے فرمایا آپ کی نشانی یہ ہے کہ آپ تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکیں گے (ہاں) مگر اشاروں میں اور اپنے رب کا ذکر (دل سے) کثرت سے کریں اور تسبیح (زبان سے) کریں شام کو اور صبح

آیات 31- 41 اسرارو معارف قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔ رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔ محبت ، محب اور محبوب : اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں رہتی جو محبوب کی پسند ہو ، وہ طبعاً پسند ہوجاتی ہے اور جو شے محبوب کو پسند نہ ہو وہ طبعاً ناپسند ہوجاتی ہے بلکہ انتہا یہ ہوتی ہے کہ نہ ثواب کا لالچ رہتا ہے اور نہ عذاب کا خوف۔ اگرچہ طبعاً اس کی طلب میں طمع اور خوف کی آمیزش ہوتی ہے مگر آسائش نہیں ہوتی یہ محبت ذاتیہ ہے۔ اور رہی محبت صفاتیہ ، وہ کسی کا کوئی کمال دیکھ کر پیدا ہوتی ہے مگر اس کی بنیاد ذات پر نہیں ، اس وصف پہ پیدا ہوتی ہے کہ اگر وہ وصف موجودنہ ہو تو محبت بھی نہ ہو۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ طالب الدنیا کلب دنیا مردار اور فناء کا مقام ہے اس کا طالب کتا ہے اور طالب العقبیٰ مونث آخرت اور جنت کا طالب مونث ہے کہ حصول جنت کے لئے عبادت کرتا ہے اگر حصول جنت عبادت کے سوا ممکن ہو تو عبادت چھوڑ بیٹھے گا مگر طالب المولیٰ ھذکر اللہ کا طالب مرد ہے کہ جس طرح شفیع الامم آقائے نامدار ﷺ کے پائوں مبارک عبادت میں کھڑے کھڑے متورم ہوجاتے ہیں اور اگر یہ سے ریش مبارک اور سینہ اقدس تر۔ تو عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! آپ بھی ؟ حالانکہ دنیا آپ کی شفاعت کی امیدوار ہے تو ارشاد ہوا افلا اکون عبداً شکورا کہ میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ کیوں نہ بنوں۔ گویا ذات باری کی طلب ہے اور مکالمہ باری مقصود۔ ارشاد ہو کہ جو بھی اللہ سے محبت کا مدعی ہے اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو اسے محبوب کی رضا پہ چلنا چاہیے اور وہ کام کرے جو محبوب کو پسند ہو اور محبوب کی پسند ہے اطاعت محمدرسول اللہ ﷺ ۔ اے لوگو ! اگر اللہ کے طالب ہو تو میری غلامی کرلو ، میری پیروی کرو ، جب تم میری اطاعت کرو گے تو پھر اللہ تم سے محبت کرے گا۔ تم کو پسند فرمالے گا۔ ایسے الفاظ جب ذات باری کی طرف منسوب ہوں تو معنی بعید مراد ہوا کرتا ہے یعنی جو کچھ نتیجتاً صادر ہو تو محبت کا معنی بعید پہ ہوگا کہ محبوب کی پسند اس کے ہر طرح کے آرام اور خوشی کا خیال رکھا جائے اور اہل جنت سے اللہ کا یہی وعدہ ہے کہ تم پر رحم کروں گا۔ اپنی رضا اور دائمی خوشنودی عطا کروں گا جو ہر طرح کے ابدی آرام کا باعث ہوگی ورنہ اللہ کسی کی یاد میں آہیں بھرنے سے بہت بلند ہے۔ اللہ کی محبت یہ ہے کہ اپنی رضا اور اپنے رحم سے نوازے اور یہی ارشاد ہے کہ تمہاری خطائیں بخش دے گا وہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ پس یہ قاعدہ ارشاد ہوا کو جو مدعی بھی محبت الٰہی کا دعویٰ کرے اگر اتباع سنت میں ثابت قدم ہے اور پوری طرح کوشاں ہے تو درست بحیثیت انسان جو کوتاہیاں اس سے سرزد ہوجاتی ہیں اللہ وہ بخش دینے والا ہے لیکن اگر سنت رسول ﷺ کا تارک ہے تو اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ ارشاد ہوا کہ اللہ کی اطاعت کرو اس طرح کہ اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔ مرضیات باری کو پانے کا واحد راستہ ہے آقائے نامدار ﷺ کی اطاعت۔ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی ، اس نے اللہ کی نافرمانی کی ، محمد ﷺ نے ہی اللہ کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں میں امتیاز قائم کردیا۔ (مظہری) فنانی الرسول ﷺ اور منازل سلوک : صوفیاء اسی کو فناء فی الرسول ﷺ کہتے ہیں کہ روحانی طور پر ان کی ارواح بارگاہ رسالت پناہ میں حاضری سے مشرف ہوتی ہیں اور ظاہراً ہر موئے جسم اتباع رسالت کے لئے کوشاں ہوتا ہے اور یہ فناء فی الرسول ہی فنا فی اللہ اور بقاباللہ کا راستہ ہے اگر کسی نے بقاباللہ کو پالیا تو سلوک کے ابجد سے واقف ہوگیا۔ گویا اس میں سالک بننے کی استعداد اللہ نے مہیا فرمادی اب ہمت مردانہ سے آگے بڑھے اور کسی مرد خدا کو پاسکے تو ان عظمتوں کے لئے کوشاں ہوجائے کہ مکاں رہے اور نہ لا مکاں باقی۔ بلکہ یہ دونوں عالم اس کے راستے کے نشاں ہوں کہ کوئی عاشق یہاں سے بھی دامن کشاں گزرا ہے۔ آپ ﷺ کی صداقت پہ عقلی ونقلی دلائل اور معجزات قاہرہ اور دلائل باہر جمع ہوچکے۔ اگر کسی کو اب اتباع رسالت میں اعتراض ہے اور وہ رو گردانی کرتا ہے تو اللہ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ گویا فیصلہ ہوگیا کہ اللہ کی محبت مومنوں کے لئے مخصوص ہے اور مومن وہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کا غلام ہو۔ یہاں ایک بات سمجھ لیں کہ بعض نادان محبت کرنے کے لئے اپنی طرف سے کئی اعمال ایجاد کرلیتے ہیں اور بدعات میں مبتلا ہو کر نگاہ رسالت پناہ میں گر جاتے ہیں۔ یادرکھیں ! اس بارگاہ میں عشق و محبت بھی آداب سے آزاد نہیں ہیں۔ بلکہ محبت کے لئے بھی وہی کچھ کرنا ہوگا جو محبوب کا ارشاد ہو۔ ورنہ کسی بھی کام کا اگر اپنی طرف سے کوئی طریقہ ایجاد کرو گے تو وہ اس کام کے کرنے کے اس طریقے کو مٹانے والا ہوگا جو محبوب نے ارشاد فرمایا ہے اور اس طرح حضور پر نور ﷺ فداہ ابی وامی کی ناپسندیدگی کا سبب بن جائے گا۔ ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آیند جنید (رح) وبایزید (رح) اینجا نیز اللہ کی رضا کے لئے نبی ﷺ کے اتباع کا ضروری قرار دیا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں کہ نبی ہی تو وہ ہستی ہے جو اللہ کی بات اس کے بندوں تک پہنچاتا ہے اور اللہ کی پسند وناپسند سے بندوں کو آگاہ کرتا ہے نیز نبی کا ہر فعل اللہ کی اطاعت ہوتا ہے اور یہ تاریخ مذاہب میں موجود ہے۔ ان اللہ اصطفیٰ ادم……………واللہ سمیع علیم۔ اللہ نے آدم (علیہ السلام) ک ومنتخب فرمایا ، یعنی نبوت سے سرفراز فرمایا اور ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت قرار پائی۔ ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اور ان کی اولاد کو جیسے حضرت اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب اور انبیائے بنی اسرائیل (علیہم السلام) یا آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور عمران کی اولاد یعنی عیسیٰ علیٰ بنیاد (علیہ السلام) صاحب مظہری فرماتے ہیں کہ عمران بن ماثان تھے اور ماثان حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد تھے۔ یہاں حضرت عمران اور حضرت مریم ، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیدائش سے رفع سماوی تک مفصل ذکر فرمادیا کہ کسی کو کوئی غلط فہمی نہ رہے اور نصاریٰ اپنے غلط عقائد کو نہ پھیلاتے پھریں۔ نیز آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی تو آنے کا نہیں جو امت کو تعلیم فرمائے اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے آسمانوں سے نزول فرمانا ہے۔ ان مفصل حالات سے اس آخری امت کو مطلع کردیا جائے کہ گمراہی کا اندیشہ نہ رہے۔ نہ مرزا قادیانی جیسے نقال گمراہ کرسکیں۔ نہ نزول عیسیٰ کا انکار ہو اور نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پہچان میں کوئی مشکل۔ فرمایا ان تمام حضرات کو تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی کہ آدمی (علیہ السلام) کو فرشتوں سے سجدہ کروایا اور آپ کا دشمن ابلیس مردود ہوا۔ اسی طرح نوح (علیہ السلام) کے دشمن تباہ ہوئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی ہجرت کرنا پڑی مگر پھر غلبہ عطا ہوا یہی حال تقریباً سب انبیاء کا ہے کہ یا تو ان کے دشمن عذاب الٰہی کی زد میں آکر تباہ ہوئے جیسے قوم نوح (علیہ السلام) یا قوم ہود عادوثمود اور یا پھر انبیا نے ہجرت فرمائی اور کچھ عرصہ بعد سای ملک پر غلبہ نصیب ہوا ، جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، گویا اس بات کی طرف بھی اشارہ یہاں موجود ہے کہ ایسے ہی حضور ﷺ کو بھی غلبہ نصیب ہوگا۔ اور وہ سب کی سنتا ہے کہ اس کے انتخاب پہ کافرکس طرح سے اعتراض کرتے ہیں اور علیم ہے جانتا ہے کہ کس کو کس کام کے لئے مامور کیا جانا ہے۔ یہاں سے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر بالتفصیل شروع فرمایا۔ اذقالت امراۃ عمران……………بغیر حساب۔ کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی نانی اور عمران کی بیوی نے یہ نذر مانی کہ اللہ جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں نے تیری نذر کیا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بوڑھی ہوچکی تھی مگر اولاد نہ تھی۔ ایک روز کسی پرندے کو دیکھا ، بچے کو چوگا دے رہا تھا۔ تو دل سے ہوک سی اٹھی اور بچے کے لئے دعا کی جب حاملہ ہوگئیں تو بطور تشکر یہ نذر مانی کہ میں نومولود کو بیت الٰہی کی خدمت کے لئے وقف کردوں گی اور دنیا کے جھمیلوں میں نہ ڈالوں گی۔ یہ نذر اس امت میں جائز تھی۔ عرض کیا کہ اللہ ! تو باتوں کو سنتا ہے اور دلوں کے بھید سے آگاہ ہے میری یہ نذر قبول فرما۔ لیکن جب بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ لڑکی تھی ، پریشان ہوگئی کہ اللہ ! یہ تو بچی پیدا ہوئی ہے لڑکا اور لڑکی ایک سے تو نہیں ہوتے۔ کہ وہ مضبوط بھی ہوتا ہے اور نسوانی عوارض سے دور بھی۔ لڑی یہ خدمت کیسے کرسکے گی ؟ مگر اللہ نے فرمایا کہ میری ذات خوب جانتی ہے کہ کیا پیدا ہوا۔ میں تو خود پیدا کرنے والا ہوں۔ اس موقعہ پر اگر لڑکا ہوتا تو یہ رتبہ نہ ہوتا جو اس لڑکی کا ہے کہ اس سے ایک عظیم الشان رسول کو پیدا کرنا اور ایسے طریقے سے پیدا کرنا مقصود ہے کہ مخلوق پر اللہ کی حجت ہو۔ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ ! میں نے اس کا نام مریم رکھا جس کا معنی عابدہ ہے اور آپ کی خاص رحمت کی امیدوار ہے۔ کہ حضرت عمران (علیہ السلام) دوران حمل فوت ہوچکے تھے۔ حضرت مریم (علیہا السلام) یتیمہ پیدا ہوئیں۔ میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ ایک ولیہ کی دعا کا اثر : حدیث شریف میں وارد ہے کہ ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان ضرور مس کرتا ہے مگر حضرت مریم اور اس کا بچہ اس سے محفوظ رہے۔ یہ ایک ولیہ کی دعا کا اثر تھا۔ اللہ نے اس بچی کو حسن قبول بخشا۔ پیدا ہوتے ہی قبول فرمایا اور بہت اعلیٰ پرورش فرمائی کہ براہ راست اپنی قدرت سے غذا عطافرماتا تھا اور حضرت زکریا (علیہ السلام) جیسی پاکباز ہستی کو ان کا کفیل مقرر فرمایا۔ جب حضرت مریم (علیہا السلام) کو بیت المقدس لایا تو ہر شخص ان کو لینے کے لئے دوڑ پڑا۔ مگر حضرت زکریا (علیہ السلام) نے فرمایا۔ میرے گھر ان کی خالہ ہے وہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے مگر لوگوں نے نہ مانا اور قرعہ اندازی ہوئی جس کا ذکر آگے ہے تو اس میں بھی حضرت ذکریا (علیہ السلام) ہی حقدار ٹھہرے۔ انہوں نے حجرہ حضرت مریم کے لئے خاص کردیا۔ اللہ نے ایسی پرورش فرمائی کہ انہیں دایہ یا دودھ پلانے والی کی حاجت ہی نہ رہی اور وہ بہت جلد چلنے پھرنے لگیں ۔ عیب سے رزق عطا ہوتا تھا۔ حضرت مریم علیھا السلام کی کرامت : حضرت زکریا (علیہ السلام) کہیں جاتے تو کمرہ مقفل کرجاتے مگر جب آتے تو دیکھتے کہ وہاں پھلوں کے ڈھیر ہیں اور موسم کی بھی قید نہیں جس پھل کا موسم نہیں وہ بھی وہاں رکھا ہے تو فرمانے لگے اے مریم ! یہ پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ فرمانے لگیں ، ” اللہ کے پاس سے ! “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ملتا ہے کہ ان کا رزق جنت سے آتا تھا۔ فرمایا اللہ جسے چاہتا ہے اس قدر رزق عطا فرمادیتا ہے کہ وہ اس کا حساب بھی نہیں جان پاتا۔ یا یہ مطلب کہ اپنی عطا اور مہربانی سے بغیر کسی استحقاق کے عطا فرمادیتا ہے نہ وہ موسموں کا محتاج ہے نہ ذرائع کا۔ یہاں کرامت ولی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ ھنالک دعا ذکریا……………وسبح بالعشی والابکار۔ جب رحمت باری کو یوں ٹھاٹھیں مارتا ہوا دیکھا تو حضرت ذکریا (علیہ السلام) سے نہ رہا گیا جو خود بےاولاد تھے اور بہت بوڑھے ہوچکے تھے۔ پکار اٹھے اللہ ! مجھے صالح اور نیک اولاد نصیب فرما کہ تو ہی دعائوں کو سننے والا ہے۔ صالح اور نیک اولاد کے لئے دعا کر صالحین کی سنت ہے یعنی ایک طرف تو خاندان ختم ہورہا ہے اور کوئی نبوت اور علم کا وارث نہیں اور دوسری طرف لوگوں کی گمراہی کا اندیشہ۔ بے موسم کے پھل ، بند حجرے میں حضرت مریم علیھا اسلام کے پاس دیکھ کر ایسی تحریک پیدا ہوئی کہ کمرہ بند کرکے اللہ کے حضور التجا کی ، اللہ ! مجھے نیک اور پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ ابھی محراب میں کھڑے تھے کہ ملائکہ نے پکارا ، آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ فرشتے نے صدا دی جو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے چونکہ وہ سیدالملائ کہ ہیں عموماً ان کے ساتھ فرشتوں کی جماعت ہوتی ہے اس لئے یہاں فنادتہ الملائکہ فرمادیا کہ اللہ نے آپ کو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی بشارت دی ہے جو کلمۃ اللہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے صرف اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے اس لئے انہیں کلمۃ اللہ کہا گیا ہے اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق فرمائی۔ سید کون ؟ : سیدا ، اور سردارہوں گے۔ یعنی علم ، عبادت اور تمام خصائل خیر میں سب کے سردار ہوں گے اسی لئے خانوادہ نبوی ﷺ کو سید کہا جاتا ہے مگر وہ لوگ جو اتباع رسالت چھوڑ چکے اور حضور ﷺ کی غلامی سے نکل گئے ، سید کہلانے کے ہرگز مستحق نہیں رہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد انا سیدولہ ادم موجود ہے مگر رشتہ اطاعت سے ثابت ہوگا۔ عورت کا قرب کا اثر : وحصورا ، یعنی عورتوں کے پاس نہ جائیں گے۔ یہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ نکاح سنت انبیاء ہے اور یہاں نکاح نہ کرنا باعث فضیلت بیان ہوا ہے۔ تو حقیقت اس طرح ہے کہ ان پر عشق الٰہی ایسا غالب تھا کہ انہیں ان امور کا قطعاً خیال نہ تھا۔ جہاں حدیث شریف میں نکاح کی ترغیب ہے وہاں من استطاع کے الفاظ ہیں کہ استطاعت بھی رکھتا ہو ، اگر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی طرح ہو تو پھر نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے اور تجربہ ہے کہ عورت کا قرب بیشک جائز ہو مگر ساری توجہ جذب کرلیتا ہے جو سالک کے لئے چند لمحے ٹھہرائو کے ضرور پیدا کردیتی ہے کہ دنیا کا کوئی کام اس طرح ساری توجہ سلب نہیں کرتا۔ اپنی مرضی سے شہوات کو روک لینا اور مباح اور جائز خواہشات سے بھی بچ جانا بہت بڑا کمال ہے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ پیدائشی نامرد تھے ، مگر یہ درست نہیں کہ نامرد کے لئے عورت سے مباشرت نہ کرنا کون سی مدح کی بات ہے اور پھر نبی نامرد نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ انبیاء میں دوسرے لوگوں کی نسبت بہت زیادہ قوت ہوتی ہے وہ تو صالحین میں سے ، نیک خاندان میں سے انبیاء کی اولاد میں سے ، اللہ کے نبی تھے۔ تو عرض کیا اللہ ! میرے لڑکا کس طرح ہوگا ؟ کہ میں تو بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی صرف بوڑھی ہی نہیں کہ اولاد کے قابل نہ ہو بلکہ ساتھ بانجھ بھی ہے۔ یہ سب تبقاضائے بشریت صادر ہوا اور بعض دفعہ طبیعت بشری علم اور عقل پر غالب آجاتی ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کہ وعدہ کرنے کے بعد پھر حضرت خضر (علیہ السلام) پہ اعتراض فرمایا۔ ارشا د ہوا کہ اللہ قادر ہے ۔ تمہارے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ پن کے باوجود لڑکا ہوگا کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے پھر عرض کرنے لگے کہ اللہ ! استقرار حمل کی نشانی مقرر فرمادے کہ جیسے حمل ٹھہرئے ، مجھے اطلاع ہوجائے اور تیرا شکر ادا کرسکوں فرمایا نشانی یہ ہے کہ تو باوجود ذکر الٰہی کے تین روز تک لوگوں سے کوئی بات نہ کرسکے گا اور اشارہ سے اپنی بات سمجھا سکے گا۔ جب ایسا ہو تو کثرت سے اللہ کا ذکر کر اور صبح وشام ۔ یعنی مسلسل اللہ کی تسبیح بیان کرتارہ۔ ان کا مقصد تھا کہ شکر ادا کروں۔ اللہ نے نشانی ایسی مقرر فرمادی کہ وارے نیارے ہوگئے۔ یعنی ذکر پہ ایسا لگا دیا کہ اور کوئی کلام ہی نہ کر پائیں کہ کثرت سے شکر ادا کریں۔ یادرکھیں کہ کلام کرنا بھی دل کو متاثر کرتا ہے اگرچہ کلام نیک ہی ہو۔ دل ز پر گفتن بمیرد در بدن گرچہ گفتارش بود در عدن بات کا اثر : اگر کلام ہی نیک نہ ہو تو اس کا اثر ظاہر ہے لیکن نیکی کی بات بھی کسی انسان ہی سے کرے گا۔ مخاطب کی ظلمت خواہ مخواہ اس کی طبیعت کو متاثر کرے گی جیسے جھاڑو دینے والے کا لباس خاک آلود ہوجاتا ہے اس سے منازل میں کمی نہیں آتی کہ یہ کار ثواب ہے اور ثواب سے منازل میں ترقی ہوتی لیکن مشاہدات بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان حضرات سے جو گزشتہ نشین رہتے ہیں مشاہدات بکثرت روایت ہوئے ہیں اور جنہوں نے مخلوق خدا کو بات پہنچائی عموماً انہیں کشف کم ہی ہوا اگرچہ مقامات علیا تک رسائی ہوگئی۔ یہاں ان حضرات کی بات نہیں کررہا جو سلوک سے ہی ناآشنا ہیں۔ یہ بات مردان خدا کی ہے۔ ہر نعمت پہ شکر اور کثرت ذکر واجب ہے۔
Ayahs 3:42–54

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم (علیہا السلام) ! یقینا اللہ نے آپ کو چن لیا ہے اور آپ کو پاک بنایا ہے اور آپ کو تمام جہانوں کی بیبیوں پر برگزیدہ بنایا ہے

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم (علیہا السلام) اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کریں اور سجدہ کریں اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کریں

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ پر وحی کرتے ہیں اور آپ انے کے پاس نہیں تھے جب وہ اپنے قلموں کو (پانی میں) ڈالتے تھے کہ ان میں سے مریم (علیہا السلام) کو کون پالے گا اور نہ آپ ان کے پاس تھے جب وہ (آپس میں) جھگڑ رہے تھے

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

جب فرشتوں نے کہا اے مریم (علیہا السلام) ! بیشک اللہ آپ کو اپنی طرف سے ایک کلمہ کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) بیٹا مریم (علیہا السلام) کا ہوگا دنیاوآخرت میں باآبرو ہوں گے اور مقربین میں سے ہوں گے

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور لوگوں سے گہوارہ میں اور ادھیڑ عمر میں بات کریں گے اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے بچہ کیسے ہوگا اور مجھے تو کسی آدمی نے چھوا تک نہیں فرمایا اسی طرح اللہ جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں جب کسی کام کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو اس کو صرف کہتے ہیں ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور ان کو کتاب اور حکمت (دانائی) کی تعلیم فرمائیں گے اور تورات اور انجیل کی

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور وہ پیغمبر ہوں گے بنی اسرائیل کی طرف (وہ کہیں گے) بیشک میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (کافی) دلیل لایا ہوں (وہ یہ) کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے (جاندار) پرندہ بن جاتا ہے اور مادرزاد اندھے کو اچھا کردیتا ہوں اور کوڑھی کو اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں اور تم کو بتا دیتا ہوں جو کچھ تم نے کھایا اور جو کچھ گھروں میں ذخیرہ کررکھا ہے یقینا اس میں تمہارے لئے بہت بڑی دلیل ہے اگر تم صاحب ایمان ہو

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور تصدیق کرتا ہوں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی اور بعض چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں تمہارے لئے حلال کرتا ہوں اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس (بہت بڑی) دلیل لایا ہوں سو اللہ سے ڈرو اور میری بات مان لو

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ میرے بھی پروردگار ہیں اور تمہارے بھی پروردگار ہیں پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

پھر جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے انکار دیکھا تو فرمایا کون ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے معاون ہیں ؟ (تو) حواریوں نے کہا ہم اللہ کے لئے مدد دینے والے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیے کہ ہم فرمانبردار ہیں

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! جو (کتاب) آپ نے نازل فرمائی ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے پیغمبر کی پیروی کی سو ہم کو تصدیق کرنے والوں میں لکھئے

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

انہوں نے تدبیر کی اور اللہ نے تدبیر کی اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والے ہیں

آیات 42- 54 اسرارومعارف واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔ بعض منازل سلوک : صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے ساتھ کے خاص خادم بھی رہا کرتے ہیں ، کمالات نبوت و کمالات رسالت عالم امر کے دوائر میں سے تیرھواں اور چودھواں دائرہ ہے۔ اور آپ کو یا مریم پاک کردیا ہے عوارض نسوانی سے بھی اور گناہوں کی آلودگی سے بھی۔ اور جہان کی عورتوں پر آپ کو فضیلت بخشی ہے یعنی اپنے دور میں روئے زمین کی عورتوں پر۔ حدیث شریف میں ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ اور بنات رسول ﷺ کے بھی بیشمار فضائل اور محاسن وارد ہیں۔ ایک متفق علیہ حدیث میں ارشاد ہے کہ مردوں میں تو کامل بہت ہوئے ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون تھیں اور عائشہ ؓ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسی ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر۔ اے مریم ! اپنے رب کے حضور کھڑی رہا کریں۔ یعنی طویل قیام کیا کریں اور نماز ادا کیا کریں باجماعت یعنی سجدہ شکر کریں اور رکوع کریں ، رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔ یہاں والیوں ارشاد نہیں ہوا کہ عورتوں کی جماعت مردوں کے تابع ہے۔ نیز سالک کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ نماز باجماعت اور کثرت نوافل ، طویل قیام اور رکوع و سجود کی پوری پابندی حصول منازل کے لئے اکسیر ہے۔ ذالک ھن انباء الغیب……………اذیختصمون صاف ظاہر ہے کہ جملہ مضامین وحی الٰہی ہیں اور آپ ﷺ کی نبوت کا روشن ثبوت کہ نہ تو آپ ﷺ ان کے پاس اس وقت تک موجود تھے جب وہ قلم دریا میں ڈال رہے تھے کہ کون مریم کا کفیل ہوگا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لوہے کے قلم تھے اور دریا میں ڈالے گئے جس کا قلم بحکم الٰہی ڈوبے بھی نہیں اور بہائو کے الٹے رخ تیرے۔ وہ کفالت کرے گا۔ حضرت ذکریا (علیہ السلام) کو یہ سعادت بخشی گئی۔ قرعہ اندازی : اہل سنت کے نزدیک متعین حقوق میں قرعہ ناجائز ہے اور داخل قمار کہ ایک مشترکہ شے پر قرعہ ڈالا جائے جس کا نام نکلے وہ لے لے باقی محروم رہ جائیں۔ یہ درست نہیں۔ ہاں جن حقوق کے اسباب رائے سے طلب کرنے ہوں وہاں جائز ہے مثلاً شے مشترک کے حصے ہوگئے۔ اب کون سا حصہ ایک حصہ دار لے اور کون سا ڈھیر دوسرے کو ملے تو یہاں جائز ہوگا۔ اور نہ ہی آپ ﷺ اس وقت تشریف رکھتے تھے جب وہ باہم جھگڑ رہے تھے علم کے ذرائع تو یہی ہیں کہ یا انسان خود ذدیکھے اور سنے تو یہ ممکن نہیں کہ آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان پانچ صدیاں حائل ہیں۔ دوسرا ذریعہ ہے کسی تاریخ سے یا کتاب سے پڑھ کر معلوم کرے تو حضور ﷺ امی تھے۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ کسی عالم سے معلوم کرے تو حضور ﷺ نے کسی عالم کی شاگردی اور نہ صحبت اختیار فرمائی بلکہ ہر وہ شخص عالم کہ لایا اور تاقیامت کہلائے گا جو انور محمدی ﷺ سے اپنا دامن بھرسکے گا تو پھر بجز وحی کے اور اللہ کی ذات کے مطلع کردینے کے اور تو کوئی راستہ نہیں ، اور نزول وحی ہی آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔ اب یہی قصہ اپنی پوری صحت اور پوری وضاحت کے ساتھ آگے سنیں۔ واذقالت الملئکۃ……………من الصلحین۔ فرمایا وہ وقت یاد کریں جب فرشتوں نے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ اے مریم ! اللہ آپ کو ایک کلمہ کی بشارت دیتے ہیں جو اللہ کی طرف سے ہوگا یعنی ایسا بچہ جو اللہ کے حکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوگا اور اللہ کا کلمہ کہلائے گا جس کا نام اور لقب مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ ولی اللہ کا فرشتہ سے ہمکلام ہونا : یہاں ثابت ہے کہ ملائکہ اولیاء اللہ سے کلام کرتے ہیں ، اور بڑی عجیب بات ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک معزز ومقرب ولیہ سے تو فرشتہ کلام کرے ، اور امت محمدیہ ﷺ کے اولیاء اس کے اہل نہ سمجھے جائیں بلکہ جو لوگ ایسے واقعات کا رد کرتے ہیں ، اصل میں سلوک سے واقفیت ہی نہیں رکھتے ، انہیں رد کرنے کا حق ہی حاصل نہیں ہے۔ یہ شخص دنیا وآخرت میں باعزت اور عالی مرتبت ہوگا۔ دنیا میں نبوت و رسالت سے سرفراز ہوگا اور آخرت میں جنت کے عالی منازل پر فائز ہوگا اور اللہ کا مقرب ہوگا یعنی اس کو قرب ذاتی میں دوام حاصل ہوگا اور تجلیات ذاتیہ اس کو ہمیشہ حاصل ہوں گی اور اس کے معجزات میں سے یہ ہوگا کہ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرے گا اور پختہ کلام جسے اللہ کریم کلام فرما رہے ہیں اور پھر بڑی عمر میں لوگوں سے کلام فرمائے گا۔ بچپن میں کلام تو خرق عادت ہو کر معجزہ ہوا مگر کہولت میں کلام کیسے معجزہ ہے ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ : مفسرین کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب آپ کو آسمانوں پر اٹھایا گیا تو آپ کی عمر مبارک تیس پینتیس سال کے درمیان تھی جو جوانی کا زمانہ ہے اور کہولت عموماً چالیس سال کے بعد کی عمر پر بولا جاتا ہے آسمانوں سے نزول کے بعد پھر لوگوں سے کلام کرنا اور انہیں ہدایت کی طرف بلانا اس سے بھی بڑا معجزہ ہے جو آپ نے گہوارے میں اعلان فرمایا تھا۔ انی عبداللہ اتانی الکتاب وجعلنی نبیا۔ قالت رب ان یکون لی……………ھذا صراط مستقیم۔ حضرت مریم علیھا اسلام نے عرض کی اے میرے پروردگار ! میرے بچہ کس طرح پیدا ہوگا ؟ کہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں اور بچہ تو ہمیشہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ بس ایسے ہی بچہ پیدا ہوگا کہ اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور جب کسی چیز کے ہونے کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس شے کے ہونے کا حکم دیتا ہے تو وہ فوراً ہوجاتی ہے وہ جیسے مادہ سے اور ترتیب سے پیدا کرنے پر قادر ہے اس کے خلاف پہ بھی اس طرح قادر ہے۔ اللہ سے بچنے کو لکھنا سکھائے گا اور دانش عطا فرمائے گا نیز تورات اور انجیل کے علوم عطا فرمائے گا ، اور بنی اسرائیل کے پاس عظیم الشان رسول بنا کر بھیجے گا۔ یہاں ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) جملہ علوم براہ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں۔ دانش اور دانشور : دانش اس علم کا نام ہے جسے انبیاء اللہ سے لے کر مخلوق میں تقسیم فرماتے ہیں اسی طرح دانشور وہ لوگ ہیں جن کے سینے علوم انبیاء سے لبریز ہوتے ہیں نہ کہ دور حاضرہ کے بےدین مفکر ، جن کی فکریں بھی الجھی ہوئی ہیں۔ فرمایا وہ اعلان فرمائیں گے کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزات لے کر مبعوث ہوا ہوں جن میں سے ایک یہ ہے کہ تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت بنائوں گا پھر اس پر پھونک ماروں گا تو اللہ کی اجازت سے وہ پرندہ بن جائے گی زندہ سلامت۔ یعنی یہ پھونک مارنا معجزہ ہے۔ اظہار کرامت : انبیاء کرام (علیہ السلام) کا معجزہ بطور کرامت اولیاء اللہ میں پایا جانا برحق ہے مگر اثبات دین کے لئے اور نہ پیسہ بٹورنے کے لئے ، اور چونکہ اللہ کے حکم سے صادر ہوتا ہے تو ایسے کلمات جو ناجائز ہوں یعنی جن کا پڑھنا فساد عقیدہ اور فساد عمل میں مبتلا کرنے والا ہو ، ہرگز نہ پڑھنے چاہئیں نیز ان پر اللہ کی طرف اثر مرتب نہیں ہوتا۔ یہ اور بات ہے کہ اتفاقاً اللہ کی طرف سے ہو اور لوگ منسوب بےدین جھاڑ پھونک والوں سے کردیں۔ نیز میں مادر زاد اندھوں اور کوڑھ کے ہیبت ناک مرض میں مبتلا لوگوں کو تندرست کردوں گا ، اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردوں گا۔ چونکہ مردوں کو زندہ کرنا تو ہم الوہیت پیدا کرنے والا تھا ، مکرر فرمایا اللہ کے اذن سے ، اس کے حکم سے یعنی فعل اللہ کا ہوگا صادر میرے ہاتھ پہ ہوگا۔ صاحب تفسیر مظہری نے تین ایسے نام گنوائے ہیں جو بعد مرگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے زندہ ہو کر پھر صاحب اولاد ہوئے اور کافی دیر زندہ رہ کر مرے۔ حالانکہ برزخ کے منکشف ہونے کے بعد انسان کا دنیا میں دوبارہ جینا بسنا اور مکلف زندگی گزارنا ممکن نہیں ، کہ ایمان بالغیب تو رہا نہیں سب کچھ تو وہ دیکھ چکا ، بھلا وہ کیوں نہ عذاب وثواب ، قبر یا جنت و دوزخ کو مانے گا ؟ مگر ہر کام اور ہر بات میں مستثنیات ملتی ہیں جن سے قدرت الٰہی کا ظہور ہوتا ہے کہ اللہ جس طرح چاہے کرسکتا ہے۔ مستثینات : خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش انسان کے عمومی طریقہ پیدائش میں ایک استثنائی صورت ہے ایسے ہی ان کے معجزات اندھوں ، کو ڑھوں کا تندرست ہونا ، مُردوں کا زندہ ہونا یا پھر دنیا میں نظر کریں تو دیکھیں کہ پرندوں میں چمگاڈر ، جس کے پر گوشت منہ میں دانت ، سینے پہ چھاتیاں اور پھر اس کو حیض ہوتا ہے اور وہ بیٹھنے میں الٹی لٹکتی ہے۔ ایک جانور میں کس قدر استثنائی صورتیں ہیں ایسے ہی دیکھ لیں جس ذی روح کی ناک میں پانی گھسے وہ بلبلا اٹھتا ہے مگر ہاتھی پہلے بھرتا ہی سونڈ ہے پھر منہ میں انڈیلتا ہے۔ ہر جانور کا نیچے کا جبڑا حرکت کرتا ہے مگرمچھ کا اوپر کا جبڑا حرکت کرتا ہے۔ سب جانور کے دو پھیھپڑے مگر سانپ کا ایک ہوتا ہے۔ سب جانور بچے دے کر بقائے نسل کا سبب بنتے ہیں مگر خچر کا نر بھی بانجھ ، مادہ بھی بانجھ ، اس کے باوجود نسل قائم ہے۔ ایسی ہی بیشمار جانور اور واقعات ملتے ہیں جو عام قاعدہ سے ہٹ کر صادر ہوتے ہیں اور اللہ کی قدرت پر شہادت دیتے ہیں نیز جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو گھروں میں بچا کر رکھتے ہو ، میں اس کے بارے تمہیں بتادوں گا۔ جو کچھ لوگ کھاتے اور دوسرے وقت کے لئے بچا کر رکھتے ، حضرت اس کے بارے بتادیا کرتے۔ ان تمام خوارق میں آپ کے دعویٰ نبوت کی بہت بڑی دلیل ہے اگر تمہیں ایمان لانے کی توفیق ہے تو ایمان لائو ، نیز میں کوئی انوکھا رسول مبعوث نہیں ہوا ہوں پہلے تو رات موجود ہے اللہ کا رسول لایا تھا میں بھی اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ یعنی میری دعوت بھی وہی ہے۔ انبیاء کرام (علیہم السلام) اصول دعوت میں آدم (علیہ السلام) سے لے کر آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ تک متفق ہیں سب کی دعوت ایک ہے اور ہر نبی نے دوسرے انبیاء کی تصدیق بھی کی ہے ہاں ! طریقہ عبادات یعنی بعض ارکان عبادت میں یا بعض ان چیزوں میں فرق ہے جو پہلے تم پر تورات نے حرام کردی تھیں ، میں حلال کرتا ہوں۔ یہ بھی میری وجہ سے تم پر اللہ کا انعام ہے کہ تمہاری عادتوں کے باعث تم پر سختی کی گئی مثلاً گوشت حلال اور چربی حرام یا جسم کے دوسرے حصے حلال اور جانور کی پیٹھ کا گوشت حرام۔ تو ایسے امور میں تبدیلی کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ احکام الٰہی میں نسخ ہوتا رہتا ہے کہ ایک حکم ایک وقت کے لئے تھا جب اس کا وقت پورا ہوگیا تو اس کی جگہ دوسرا حکم آگیا اپنے وقت پر دونوں صحیح اور درست ثابت ہوتے ہیں خود قرآن مجید میں نسخ موجود ہے۔ نیز میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے ایک بڑی نشانی یعنی انجیل لایا ہوں۔ یہاں کتاب کے ساتھ صفت ربوبیت کا اظہار اس بات پہ دلیل ہے کہ جس طرح ستھری اغذیہ جسم کی صحت اور بقا کے لئے ربوبیت باری کا مظہر اور ضروری ہیں۔ اسی طرح خلوص نیت سے اللہ کی کتاب کی تلاوت ، اس کا سمجھنا اور اس پر عمل روح کی صحت اور ابدی زندی کی ضرورت ہے۔ اللہ کی گرفت سے ڈرتے رہو کہ میری مخالفت تو عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ میری بات تسلیم کرو ، اللہ ہی میرا بھی اور تمہارا بھی رب ہے خالق ، مالک ، رازق حتیٰ کہ جملہ ضروریات کا کفیل وہی ہے۔ یہاں اس عقیدہ کا بطلان بھی واضح ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں ، نہیں ! بلکہ اس کے بندے اور نبی ہیں باعبدوہ میں عمل کا حکم ہے کہ صحت عقیدہ کی دلیل مامورات ومنہیات کی پابندی ہے اور یہی سیدھا راستہ ہے جیسے حدیث پاک میں ارشاد ہے قل امنت ثم استقم۔ یعنی اقرار توحید اور تعمیل اوامرو نواہی ، دونوں کو جمع رکھنا ہی راہ ہدایت ہے۔ فلما احسن عیسیٰ……………واللہ خیر المنکرین۔ جب تمام معجزات اور دلائل دیکھنے کے بعد بھی ان کی عادات میں تبدیلی نہ آئی۔ ان کی باتوں اور حرکات سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کفر کی بو آئی تو فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا معاون ہو یعنی اس ساری محنت کا پھل کیا کچھ لوگ تم میں ایسے بھی ہیں جو معیت باری کے طلب گار ہوں اور اس کی راہ پر میرے ساتھ چلیں۔ تو کچھ برگزیدہ اشخاص جنہیں حواری کہا گیا ہے ، جیسے نبی کریم ﷺ کے جاں نثاروں کو صحابی ؓ کہا جاتا ہے ، انہوں نے عرض کی ہم ہیں ! ہم اللہ کے دین کی خدمت کے لئے موجود ہیں اور اللہ کی ذات اور جملہ صفات پر ایمان رکھتے ہیں جب انبیاء کی شہادت کا وقت آئے تو آپ بھی ہمارے فرمانبردار ہونے کے گواہ رہیے گا ، اور اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری توحید ، تیرے انبیاء کی صداقت پہ ایمان لائے۔ تیرے رسول یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت کی۔ تو ہمیں مومنین کاملین کی فہرست میں شامل فرمالے ! شاھدین سے مراد جملہ عقائد کی صداقت پہ گواہی بھی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے ، کہ انہوں نے یہ تمنا کی تھی کہ ہمیں امت محمد ﷺ میں شمار فرما کہ روز حشر تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تبلیغ رسالت کی شاہد ہوگی۔ پس کافروں نے خفیہ چال چلی۔ لفظ مکر اردو میں صرف سازش کے معنوں میں آتا ہے مگر عربی میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اگر تدبیر بھلائی کے لئے ہوگی تو اچھے معنوں میں آئے گا۔ اگر برائی کے لئے ہوگی تو اس کے معنوں میں استعمال ہوگا۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نقصان پہنچانے کی سازش کی۔ بادشاہ کے کان بھرے کہ یہ شخص ملحد ہوگیا ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نقصان پہنچانے کی سازش کی۔ بادشاہ کے کان بھرے کہ یہ شخص ملحد ہوگیا ہے تورات کو بدل کر دین کو برباد کرنا چاہتا ہے اور اس کی گرفتاری اور قتل کا حکم حاصل کیا۔ ادھر اللہ کی حکمت اپنا کام کررہی تھی جسے وہ قتل کرنا چاہتے تھے اللہ کو اسے بچانا منظور تھا اور اللہ ہی سب سے بہترین تدبیریں کرنے والے ہیں۔
Ayahs 3:55–63

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ (علیہ السلام) بیشک میں آپ کو لے لوں گا اور آپ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور کافروں سے آپ کو پاک کردوں گا اور جو لوگ آپ کی پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا پھر تم سب میری طرف لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے میں تمہارے درمیان کا فیصلہ کردوں گا

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

پس جو لوگ کافر ہوئے سو ان کو دنیا اور آخرت میں سخت عذاب کروں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے تو ان کو ان کا پورا پورا صلہ دیا جائے گا۔ اور اللہ غلط کاروں کو دوست نہیں رکھتے

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ ہم آپ کو آیات (دلائل) اور حکمت والے مضامین پڑھ کر سناتے ہیں

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بیشک اللہ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم (علیہ السلام) کی مثال کی طرح ہے ان کو مٹی سے بنایا پھر ان کو فرمایا (جاندار) ہوجا پس وہ ہوگئے

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

(یہ بات) آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو آپ شبہ کرنے والوں میں نہ ہوجائیے گا

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

آپ کے پاس (قطعی) علم آجانے کے بعد پھر کوئی اس بات میں آپ سے حجت کرے تو فرما دیجئے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی بیبیوں کو اور تمہاری بیبیوں کو اور ہم خود بھی (آئیں) اور تم خودبھی (آؤ) پھر التجا کریں (اس طرح) کہ جو (اس بحث میں) جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت بھجیں

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

یقینا یہی سچا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور یقینا اللہ غالب ہیں حکمت والے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پھر بھی اگر وہ سرتابی کریں تو اللہ فساد کرنے والوں کو جانتے ہیں

آیات 55- 63 اسرارومعارف اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔ اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔ قدرت باری کے مظاہر : اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت میں ہے کہ جب متوفیک کے معنی پورا پورا لے لیا جائے۔ لیکن اگر اس کا معنی موت ہی کیا جائے تو معنی یوں ہوگا کہ یہود آپ کو قتل نہیں کرسکتے بلکہ ہم تمہیں طبعی موت سے دوچار کردیں گے۔ فی الحال تمہیں اپنی طرف اٹھالیں گے ۔ کیونکہ کتاب اللہ کی دوسری آیات عدم قتل پہ شاہد ہیں۔ جیسے وماقتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ ، کہ یہودیوں نے یقینا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا بلکہ اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا۔ رفع عیسیٰ (علیہ السلام) : اور اگر رفع روحانی مراد لیا جائے تو پھر قتل سے موت ہی واقع ہوتی ہے ، انہوں نے نہ کیا خدا نے خود موت دے دی تو اٹھالے جانے میں کیا فضیلت مذکور ہے ہر نیک آدمی کی روح بعد مرگ اٹھائی جاتی ہے لیکن یہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھانے کا ذکر ہے اور عیسیٰ صرف روح کا نام نہیں بلکہ روح مع الجسد کا نام ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب معلم قرآن ﷺ نے اس کی معانی کی تعین فرمادی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) آسمانوں پہ اٹھائے گئے وہاں رہیں گے ، آخرزمانے میں نازل ہوں گے ، جہاد کریں گے ، شادی کریں گے اور اولاد ہوگی ، فوت ہو کر میرے روضہ میں دفن ہوں گے اور ابوبکر ؓ ، عمر ؓ میرے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اٹھیں گے۔ تو اب کسی مسلمان کو اس میں ایچ پیچ کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ رہے کذاب اور جھوٹے مدعیان نبوت تو انہیں قرآن کی شرح کا حق کس نے دیا ہے۔ جب حضور ﷺ کی ختم نبوت پر اجماع امت ہے۔ آپ ﷺ کی ختم نبوت پر اجماع امت ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے لا نبی بعدی جو روز روشن کی طرح واضح ہے اور احد ہے کہ آپ ﷺ نے دجال تک کی خبر دی اور اس کے فتنے سے بچنے کا حکم دیا۔ نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کی اطلاع تلقون دجالون کذابون۔ فرما کر نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے خبردار فرمایا۔ اگر کوئی ظلی یا بروزی قسم کا نبی باقی تھا تو بھلا آپ ﷺ نے اس کی اطلاع کیوں نہ دی۔ اور پھر خواہ مخواہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت کا اس قدر شوق ہے اگر وہ فوت بھی ہوچکے ہوں تو قادیانی تو شریف انسان ثابت نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ کوئی اسے نبی تسلیم کرکے۔ نبوت کا تعلق اس عقیدہ سے ہے جس کی تعلیم محمد رسول اللہ ﷺ نے دی نہ کہ وفات عیسیٰ سے بلکہ حیات عیسیٰ اور نزول عیسیٰ (علیہ السلام) پہ اس قدر ارشادات نبوی موجود ہیں کہ جن سے بجز کافر کوئی روگردانی نہیں کرسکتا۔ ارشاد ہوا کہ کافروں کی برائی سے آپ کو پاک کردوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے مبعوث ہو کر دونوں طرح کے کفار سے جو آپ پر تہمت لگائے ہوئے تھے ان سے بھی اور جو خدا کا بیٹا کہتے تھے ان سے بھی آپ کی برات ثابت فرمادی۔ نیز فرمایا آپ کے متبعین کو کافروں پر قیامت تک فوقیت عطا کروں گا۔ یہاں اگر صرف نبوت کا اقرار ہی مراد ہے تو نصاریٰ اور مسلمان دونوں شریک ہوگئے اور اگر کامل اتباع مراد ہے تو پھر صرف مسلمان مراد ہوں گے اور بعثت عیسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر آج تک عیسائی یہودیوں سے زیر نہیں ہوئے چہ جائیکہ مسلمان۔ رہی اسرائیل کی موجودہ حکومت ، تو یہ بھی سوشلسٹوں اور نصاریٰ کی مشترکہ چھائونی ہے اور کچھ نہیں ، یہود اس روز سے ذلیل آرہے ہیں اور انشاء اللہ قیامت تک ذلیل ہی رہیں گے اور پھر ان سب واقعات و معاملات کے بعد سب کو میری بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ۔ متبعین ومنکرین کے درمیان اختلاف کو میں سلجھا دوں گا۔ ان کا فیصلہ کردیا جائے گا جس کا اصول یہ ہوگا کہ منکرین کو یا کفار کو دنیا میں بھی سخت عذاب دوں گا اور آخرت میں بھی عذاب سے چھڑانے والا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔ دنیا میں کفار کی حالت قابل دید اور جائے عبرت ہے۔ آج کا نیم جان مسلمان اپنی عزت تو لے بیٹھا ہے ان کی جو ان بیٹیاں ہپی بنی پھرتی ہیں۔ گھریلو زندگی دوزخ کا نمونہ ہے ۔ قتل و غارت اور بدامنی انتہا کو چھو رہی ہے ان کی روزانہ زندگی کے واقعات دیکھے جائیں تو درندے بھی شرم سے سر جھکا لیں اور آخرت کی سخت ان کی منتظر ہے۔ ان کے مقابل جنہیں ایمان کی دولت نصیب ہوئی اور انہوں نے نیک کام کئے تو ان کی نیکیوں کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا کہ انعام تو پسندیہ لوگوں ہی کے لئے ہوتا ہے اور کفار بوجہ ظلم کے یعنی حق کو قبول نہ کرنے کے غضب الٰہی کے سزاوار ٹھہرے۔ ایسے ظالموں کو اللہ کبھی پسند نہیں فرماتا۔ یہ جملہ اخبار ہم آپ ک وبتاتے ہیں اور تحقیقی بیانات آپ ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل بھی ہیں۔ معجزات عموماً مروجہ کمالات کے مطابق عطا ہوتے ہیں : ہر دور میں انبیاء (علیہ السلام) کو اس دور کے مروجہ کمالات کے مطابق معجزات عطا ہوئے۔ عہد موسوی جادوگروں کا دور تھا۔ انہیں ایسا معجزہ بخشا کہ جادوگر عاجز آگئے۔ عہد عیسوی حکیموں اور طبیبوں کا دور تھا۔ ان کے معجزات اپنے اہل زمانہ کے مقابل تھے۔ اور عہد نبوی فصاحت وبلاغت کا دور تھا۔ آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور زندہ معجزہ قرآن حکیم تھا اور ہے اور رہے گا۔ جس کے سامنے فصحائے عرب کی فصاحت بھی نہ جم سکی۔ ان مثل عیسیٰ عنداللہ…………فان اللہ علیم بالمفسدین۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک (علیہ السلام) کی طرح ہیں۔ ان کی پیدائش بغیر ماں باپ کے ہیں۔ اللہ نے مٹی سے بنایا اور فرمایا ہوجا ! وہ فوراً ہوگیا۔ ایسے عیسیٰ (علیہ السلام) بحکم الٰہی بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ یہ مکالمہ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ ہوا جب انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت ثابت کرنا چاہی تو اس دلیل پر بڑا زور دیا گیا کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بیٹے نہیں تو پھر ان کا باپ کون تھا ؟ یہ تک نہ سوچا کہ کبھی آدمی کے ہاں بکری کا بچہ یا بھینس میں سے انسان کا بچہ پیدا نہیں ہوتا حالانکہ دونوں حیوان ہیں۔ صرف نوع علیحدہ ہے جنس کا اشتراک موجود۔ خدا اور انسان میں نہ جنسی اشتراک ہے نہ نوعی ۔ بلکہ اللہ ہر چیز سے بےنیاز اور قدیر ہے۔ انسان محتاج اور حادث۔ بھلا خدا سے انسان کیوں پیدا ہونے لگا جو کھاتا تھا ، پیتا تھا ، سوتا تھا اور اس کو موت بھی آئے گی تمام احتیاجات انسانی لئے ہوا تھا۔ اللہ تو اس سے وراء الورا ہے نہ کسی کا والد ہے نو مولود ، نہ کوئی اس کا ہمسر۔ ارشاد ہوا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا صرف بغیر باپ کے پیدا ہونا حیران کن ہے یا آدم (علیہ السلام) کا بغیر باپ اور بغیر ماں کے ، اللہ قادر ہے جیسے چاہے کرسکتا ہے۔ قیاس حجت شرعی ہے : یہاں سے علماء نے قیاس کو حجت شرعی قرار دیا ہے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق پر قیاس کرتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی بغیر باپ کے پیدائش کا جواز پیش کیا گیا ہے۔ فرمایا ، یہی حق ہے تو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس آچکا کہ علوم روح کی غذائیں خصوصاً کتاب اللہ۔ اس لئے یہاں اللہ کا صفائی نام ” رب “ ارشاد ہوا کہ تربیت کے لئے ضروری تھا کہ مادی غذا کے ساتھ روحانی غذا کا اہتمام بھی کیا جاتا اور اے مخاطب ! اس میں شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ یہاں سے پھر نبی اکرم ﷺ سے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے ، مباہلہ : اللہ کی شہادت اور واضح دلائل کے بعد بھی اگر کوئی آپ سے جھگڑا کرے اور آپ ﷺ کے ارشادات کو تسلیم نہ کرے حالانکہ دلائل عقلی اور نقلی دونوں طرح کے موجود ہیں۔ تو اس سے فرمادیجئے کہ آئو ! اپنے اپنے بچوں کو ، اپنی اپنی عورتوں کو اور اپنی اپنی جانوں کو جمع کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ جو گروہ جھوٹا ہے اللہ اس پر لعنت کرے یعنی اپنی رحمت سے محروم کردے اور اپنا غضب اس پر نازل کرے۔ یہاں شیعہ حضرات کی دسیسہ کاریوں سے مفسرین کرام نے عجیب ٹھوکریں کھائی ہیں فرماتے ہیں کہ جونہی یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو طلب فرمایا اور اس حالت میں کہ حضرت حسین آپ ﷺ کی گود میں تھے حضرت حسن کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور پیچھے حضرت فاطمہ اور حضرت علی تھے ؓ گھر سے میدان کو تشریف لے چلے۔ یہاں ذرا سا رکئے ، اور دیکھئے ! نجران کا وفد تین اشخاص پہ مشتمل تھا جن کے نام شرجیل ، عبداللہ بن شرجیل اور جبار بن فیض۔ یہ پوری قوم کے نمائندہ تھے ان کے بیوی بچے نجران میں تھے جو آج بھی مدینہ منورہ سے ہوائی جہاز کے ذریعے آٹھ سو کلومیٹر دور ہے۔ رہا زمینی راستہ وہ ممکن ہے بارہ سو بھی ہو۔ پھر اس پہ بھی سب متفق ہیں کہ انہوں نے مباہلہ سے انکار کردیا اور جذیہ دینا قبول کرلیا۔ پھر کیا وجہ تھی کہ حضور ﷺ مائی صاحبہ اور حسنین کریمین اور حضرت علی ؓ کو لے کر میدان کو چل کر گئے۔ ایسی حرکت تو کسی عام آدمی سے بھی متوقع نہیں کہ ایک شخص کے بیوی بچے ہزاروں میل دور ہوں اور وہ اسے کہہ رہا ہو کہ میں اپنے بچے میدان میں لے آیا ہوں تم بھی لے آئو ، چہ جائیکہ اس بات کی نسبت آقائے نامدار ﷺ کی طرف کی جائے اور پھر حضرت فاطمہ ؓ کو نساء نا کا مصداق گردانا گیا کہ ابناء ناونساء نا سے مراد تو بیوی بچے ہوئے۔ اب یہ جملہ حضرات بچوں کی فہرست میں تو آگئے کہ حضرت علی ؓ آپ ﷺ کے بچے ہی تھے بحیثیت داماد اور ویسے بھی آپ ﷺ کے پروردہ تھے۔ تو بیوی کی جگہ کون بلایا گیا نساء نا سے مراد کون ہیں ؟ اس سے بھی عجیب تر استدلال شیعہ کا یہ ہے کہ انفسنا سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں اور حضرت علی ؓ نفس نبی ہیں اس لئے خلافت وامارت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا حق تھا کہ امارت کا حق حضور نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ تھا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نفس نبی ہو کر فضائل میں برابر ہوگئے۔ لیکن یہاں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نبی پاک ﷺ کے داماد بھی تھے بھلا نفس نبی کا بنت نبی سے نکاح کیسے ہوگیا ؟ ؎ بریں عقل و دانش بباید گریست دراصل یہاں مراد جملہ مومنین ، متبعین ، ان کی ازدواج اور اولاد ہے کہ تم نصاریٰ کی طرف سے دعا کرو ، اور میں مسلمانوں کی طرف سے دعا کرتا ہوں۔ اس پر یہ حدیث پاک بھی شاہد ہے کہ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اہل نجران کے سروں پر عذاب آہی گیا تھا اگر وہ مباہلہ کرتے تو ان کی صورتیں مسخ ہو کر بندروں اور سوروں کی بن جاتیں ساری وادی بھڑکتی ہوئی آگ سے بھر جاتی۔ یہاں تک کہ درختوں پہ پرندے بھی بیخ وبن سے تباہ ہوجاتے اور سال پلٹنے نہ پاتا کہ سارے عیسائی ہلاک ہوجاتے۔ (مظہری) یہ سارے عیسائی کے ۔۔۔۔ ظاہر کرتے ہیں کہ ابناء نا ونساء نا وانفسنا سے مراد جملہ متبعین اور سب کے بیوی بچے ہیں کہ جو حق ہے باقی رہے اور جو غلط ہے مٹ جائے مگر عیسائی اس سے خوفزدہ ہوگئے وہ تو جانتے تھے کہ آپ ﷺ برحق رسول ہیں۔ صرف اپنی سرداری وامارت اور قوم پر تسلط قائم رکھنے کے لئے انکار کر رہے تھے۔ انہوں نے جزیہ دے کر امان حاصل کی اور صلح کرلی مباہلہ کی نوبت ہی نہ آئی۔ یہ جملہ واقعات جو اللہ کی کتاب میں ارشاد ہوئے سب حق ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، نہ ولی ، نہ نبی ، نہ کوئی فرشتہ اور نہ کوئی علاوہ ان کے۔ یعنی عقیدہ تثلیث کا ابطال دوبارہ ارشاد ہوا ہے ، اور اللہ ہی غالب ہے اور اسی کی حکمت سب کو محیط ہے۔ یعنی کمال قدرت احاطہ حکمت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر الوہیت بھی شرکت کی بات کیسے بن سکتی ہے مگر اس کے بعد بھی اعتراض ہی کریں تو آپ ﷺ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں کہ وہ فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے ، یعنی ایمان سے روکنا یا برائی کرنا صرف گناہ ہی نہیں بلکہ ایک عالم میں بگاڑ پیدا کرنا اور دنیا کو تباہی کی طرف لے جانے کے برابر ہے کہ عالم رنگ وبو ایمان و اطاعت سے قائم ہے برائی اس کا بگاڑ ہے اور جب کوئی اللہ ! اللہ ! کرنے والا نہ رہا سب کافر ہی رہ گئے تو کلی طور پر تباہ ہوجائے گا۔ کفار نہ صرف ناشکرے ہیں بلکہ اللہ کے بنائے ہوئے جہان کو تباہی سے دو چار کرنے کے ذمہ دار بھی ہیں اور اللہ چھپ نہیں سکتے اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے۔