23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 23:93–118

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

آپ دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار ! جس (عذاب) کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے اگر آپ (میری زندگی میں نازل کرکے) مجھے دکھادیں۔

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! پس مجھ کو ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور بیشک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے جو وعدہ کر رہے ہیں آپ کو بھی دکھادیں

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

آپ (ان کی) بدی کا جواب ایسے برتاؤ سے دیجئے جو بہت اچھا ہو۔ ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ (آپ کی نسبت ( کہا کرتے ہیں)

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور آپ یوں دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے میرے پروردگار ! میں اس بات سے بھی آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آکھڑی ہوتی ہے (اس وقت) کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں جس (دنیا) کو چھوڑ آیا ہوں اس میں پھر جاکرنیک کام ہرگز نہیں (ایسا نہیں ہوگا) یقینا یہ (اس کی) ایک بات ہے جو وہ کہے جارہا ہے اور ان کے آگے ایک پردہ (برزخ) ہے (جس میں یہ) اس دن تک (رہیں گے) کہ دوبارہ اٹھائے جائیں

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس روز ان میں باہمی رشتے نہ رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پس جس شخص کا (نیکی کا) پلڑا بھاری ہوگا تو ایسے لوگ ہی کامیاب ہوں گے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جس شخص کا (نیکی یا ایمان کا) پلڑاہلکا ہوگا سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا (اور) جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

ان کے چہروں کو آگ جھلسادے گی اور اس میں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو (دنیا میں) میری آیات پڑھ کر سنائی نہ جایا کرتی تھیں پھر تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہماری بدبختی نے ہم کو گھیر لیا تھا اور (بےشک) ہم گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! اس (جہنم) سے (ایک بار) ہم کو نکال دیجئے تو اگر ہم پھر ایسا ہی کریں تو یقینا ہم غلط کار ہوں گے

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

ارشاد ہوگا اسی میں اوندھے پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

بیشک میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو (مجھ سے) عرض کیا کرتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے تو ہم کو بخش دیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے اور آپ رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں (یعنی آپ جیسا کوئی نہیں)

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان کا مذاق اڑاتے تھے یہاں تک کہ تم میری یاد (ذکر) بھی بھول گئے اور تم ان سے ہنسی مذاق کرتے رہے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

بیشک آج میں نے ان لوگوں کو ان کے صبر کا بدلہ دیا ہے کہ وہی کامیاب ہوئے ہیں

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(اللہ) پوچھیں گے کہ تم زمین میں کتنے برس رہے

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ہم ایک دن یا ان سے بھی کم رہے ہیں سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ تم بہت ہی تھوڑا (عرصہ) رہے کاش کہ تم جانتے ہوتے

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

سو کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےمقصدپیدا فرمایا ہے اور یہ کہ تم پلٹ کر ہمارے پاس نہیں آؤ گے ؟

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

پس اللہ بہت ہی عالی شان والا ہے جو حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں (اور وہ) بزرگ عرش کا مالک ہے

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے پروردگار کے ہاں ہوگا یقینا کافر کامیاب نہ ہوں گے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور آپ یوں دعا کیجئے اے میرے پروردگار ! (مجھے) بخش دیجئے اور (مجھ پر) رحم فرمائیے اور آپ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔ (کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے) یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں بھی کفار سے الگ اپنی پہچان رکھتا ہے کہ عقیدے اور عمل میں اس کا راستہ جدا ہے پھر اس سے بھی خطا ہوسکتی ہے تو دعا کرے کہ اللہ جل جلالہ مجھے کفار کے ساتھ عذاب میں شامل نہ فرمانا بلکہ میرے قصور معاف فرما اور یہ اس قدر ضروری ہے کہ اس دعا کا حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا جو معصوم ہیں خطا کا امکان نہیں اور رحمت مجسم ہیں مگر دعا تعلیم فرما کر یہ بتا دیا گیا کہ سب مسلمانوں کو ہر حال میں کفار سے الگ اسلامی تشخص برقرار بھی رکھنا ہے اور ان سے الگ رہنے کی دعا بھی کرتا رہے اور جب تک نہٰں مہلت مل رہی ہے اور ان پر عمل عذاب واقع نہیں ہو رہا آپ ان کی برائی کا جواب اپنے خوبصورت اور نرم رویہ سے دیجیے کہ برائی کا جواب برائی سے دیا جائے تو وہ بڑھتی ہے جبکہ آپ کی شان اسے مٹانا ہے ، ہاں وہ کس قدر زیادتی کرتے ہیں اور آپ کی شان میں کس قدر گستاخ ہیں یہ ہمارے علم میں ہے یعنی اس کا بدلہ انہیں قدرت سے ملے گا ۔ (غصہ اور شیطان سے بچنے کی دعا) اور غصے میں جذبات بھڑک اٹھتے ہیں تو شیطان کے لیے اپنی بات ڈالنا آسان ہوجاتا ہے لہذا ایسی حالت میں اللہ جل جلالہ سے دعا کی جائے اے اللہ میں شیطان کی مداخلت سے تیری پناہ کا طالب ہوں بلکہ میری گذارش تو یہ ہے کہ شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور اسے میرے قریب بھی نہ آنے دے چہ جائیکہ وہ وسوسے ڈالنے لگے یہ دعا غصہ کی حالت میں پڑھی جائیے تو غصہ ٹھیک ہوجاتا ہے اور جن لوگوں کو وساوس آتے ہوں وہ پڑھا کریں تو نجات نصیب ہوتی ہے نیز بعض حضرات کے نزدیک یہ آیات جہاد کے حکم سے منسوخ ہوگئیں مگر ایسا نہیں یہ آیات حسن خلق کا حکم دے رہی ہیں جیسے اسلام نے عین حالت جن میں بھی باقی رکھا کہ عورت یا بچے کو قتل نہ کیا جائے معابد نہ اجاڑے جائیں فصلوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ مذہبی لوگ جو جنگ میں شامل نہیں ہوتے انہیں قتل نہ کیا جائے ، قیدیوں سے حسن سلوک مفتوح اقوام کے حقوق یہ سب اسلام کا حسن خلق ہی تو ہے جہاد جنگ نہیں بلکہ برائی کو مٹانے کی کوشش کا نام ہے جس کا اپنا حسن ہے ۔ اور کفار کا حال تو یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آتا ہے یعنی بزرخ نظر آنے لگتا ہے فرشتے دکھائی دیتے ہیں تب انہیں آخرت کا یقین آجاتا ہے پھر اللہ جل جلالہ سے دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمیں واپس جانے دے یعنی دنیا کی زندگی میں پلٹنے دے کہ ہم ایمان لائیں اور تیری اطاعت کے کام کریں ، یہ سب تو ہم نے چھوڑ رکھا تھا اب اس کی اہمیت کا اندازہ ہوا آپ مہربانی کیجئے اگر مرنے والے کو دیکھا جائے تو وہ موت سے کتنی دیر پہلے سب سے کٹ کر ایک طرف ہی متوجہ ہوجاتا ہے اور ظاہرا بھی سمجھ آتی ہے کہ اب اس کی توجہ صرف آخرت کی جانب لگی ہے اور کفار پر تو کئی روز پہلے یہ حال طاری ہوجاتا ہے اللہ معاف فرمائے بعض تو مہینوں موت کی دہلیز پہ لٹکے رہتے ہیں فرمایا جب آخرت منکشف ہوگئی تو اب واپسی کیسی یہ ہرگز نہیں ہو سکتا یہ تو محض ایک بات ہے جو وہ کہے جا رہے ہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں اب ان کو برزخ ہی میں داخل ہونا ہے جو ان کے روبرو ہے جہاں قیام قیامت تک سب کو رہنا ہے ، دنیا اور قیام قیامت کے درمیان عالم برزخ کہلاتا ہے جسے ایک انتظارگاہ کہا جاسکتا ہے مگر وہاں بھی ہر آدمی کی ایک حیثیت ہے ، نیک وبد کو اس کی حیثیت کے مطابق ہی رکھا جاتا ہے پھر جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوگی سب اٹھ کر میدان حشر میں جمع ہوں گے تو کفر کی نامرادی کا یہ عالم ہوگا کہ کوئی کسی رشتے اور نسب کی پرواہ کرے گا نہ حال پوچھے گا کہ سب اپنی اپنی مصیبت میں اس قدر پھنسے ہوئے ہوں گے کہ دوسروں کو بھول جائیں گے ہاں یہ حال کفار کا ہے مومنین کا آپس میں ملنا ایک دوسرے کی شفاعت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا یہ سب ثابت ہے اور جن کے اعمال کے وزن ہونے کے وقت نیکی کا پلڑا بھاری ہوا وہی کامیابی کو پہنچیں گے اور جن کا نیکی کا پڑا کم پڑگیا اور بدی کا پلڑا بھاری ہوگیا اور سخت نقصان میں رہے اس لیے کہ وہ دوزخ میں جائیں گے جہاں انہیں ہمیشہ رہنا ہوگا ۔ (مومن وکافر کے اعمال کا وزن) مفسرین کرام نے کتاب اللہ کی دوسری آیات سے استدلال فرما کر لکھا ہے کہ نیکی کا پلڑا بھاری ہونے کا معنی یہ ہے مومن کی برائی کا پلڑا سرے سے خالی ہوگا کہ اس سے گناہ بھی سرزد ہو تو توبہ کرتا ہے ایک نماز سے دوسری نماز کے گناہ نماز سے معاف ہوتے ہیں اور ہر حال میں اللہ جل جلالہ کو یاد کرکے معافی کا طلبگار رہتا ہے لہذا اس کا بدی کا پلڑا خالی ہوگا اور کافر کی کوئی نیکی قبول ہی نہیں ہوتی کہ اگر کوئی تک کام بھی کرے تو اپنی پسند سے کرتا ہے اور دنیا کے فائدے کے لیے کرتا ہے کہ نہ وہ اللہ جل جلالہ سے ایمان رکھتا ہے نہ آخرت سے لہذا اس کا نیکی کا پلڑا خالی ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا ، ہاں مومنین میں نماز کے تارک یا ذکر الہی سے غافل لوگ اگر گناہ لے جائیں گے تو ان کی مثال زنگ کی سی ہوگی اور انہیں جہنم میں وہ زنگ اتارنے کو داخل ہونا پڑے گا پھر بھی آخر نجات پائیں گے مگر کفار تو ہمیشہ رہیں گے جہاں آگ ان کے حلیے بگاڑ دے گی اور جل بھن کر شکلیں مسخ ہو کر ڈراؤنی ہوجائیں گی ، اوپر کے ہونٹ اوپر اور نیچے کے نیچے کو لٹک جائیں گے تب زور زور سے چلائیں گے تو ارشاد ہوگا کیا تمہارے سامنے میری آیات پیش نہ کی گئیں ، یقینا تمہیں حق کی دعوت پہنچی مگر تم تو اس کی تکذیب کرتے تھے اور ٹھکرا دی تم میں سے تو کہیں گے اے پروردگار یہ ہماری بدبختی اور شقاوت یعنی دل کی گناہوں کے باعث سختی کا نتیجہ تھا کہ ہم گمراہ ہوگئے اور حق کو نہ اپنایا ، اے ہمارے رب یعنی وہاں مانیں گے کہ رب صرف اللہ ہے دنیا میں بیشمار لوگوں سے امیدیں وابستہ تھیں اب سمجھے کہ حق کیا ہے ، سو اے ہمارے رب ہمیں اس جہنم سے نکال کر پھر سے دنیا میں بھیج دیکھ ہم کس طرح غلامی کرتے ہیں اگر ہم پھر اسی کے حقدار ٹھہرے تو پھر قصوروار ہم ہی ہوں گے تو ارشاد ہوگا جاؤ جہنم میں ذلیل ہوتے رہو اور آئندہ کبھی مجھے مت پکارو ، بات کرنے کی کوشش بھی نہ کرو ” العیاذ باللہ “ یہ بہت سخت عذاب کی حالت ہوگی کہ اس کے بعد اہل جہنم بات تک کرنے سے محروم ہوجائیں گے اور ایک دوسرے پر بھی صرف بھونکیں گے تب انہیں کہا جائے گا کہ دنیا میں میرے ایسے بندے بھی تو تھے جو مجھے وہاں اپنا رب مان کر دعا کرتے تھے ۔ (اہل اللہ کا احترام ضروری ہے) کہ ہمارے پروردگار ہم تیری ذات وصفات پر یقین رکھتے ہیں بندے ہیں خطا ہوجاتی ہے ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور ہم پر رحم فرما کہ تو ہی سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے تو تم ان کا مذاق اڑاتے تھے ان کی توہین کرتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ تمہیں میری یاد ہی بھول گئی تم کو میرا ذکر تک کرنے کی توفیق نصیب نہ ہوئی اور تمہاری ساری عمر کا حاصل صرف یہ رہا کہ میرے مقبول بندوں کا مذاق اڑایا کیا آج تمہارے سامنے میں ان کو عزت و عظمت دوں گا تمہاری ایذا اور مشکلات حیات میں انہوں نے جو صبر کیا اس کا انعام دوں گا اور انہیں اپنے کرم سے سرفراز کروں گا بھلا یہ تو سوچو کہ دنیا کی زندگی تھی ہی کتنی کہ تم پر اطاعت کرنا بھاری ہوگیا تھا تو کہہ اٹھیں گے دن بھر رہی ہوگی یا کم وبیش اے اللہ حساب جاننے والوں سے پوچھ ہمیں اس کا حساب بھی یاد نہیں آرہا تو ارشاد ہوگا واقعی تم بہت ہی تھوڑا عرصہ رہے کہ آخرت کی کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی کے مقابل اس کی کوئی حیثیت نہیں بنتی اگر تم جانتے اور جاننے کی کوشش کرتے تو بات ایسی ہی تھی مگر تم نے یہ سوچ لیا تھا کہ شاید تمہیں پیدا کرنے کا کوئی مقصد ہی نہیں اور یہ سارا نظام محض عبث ہے اس کا کوئی نتیجہ نہ ہوگا اور نہ تمہیں واپس ہماری بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا مگر یاد رکھو اللہ جل جلالہ اس بات سے بہت بلند ہے کہ وہ کوئی شے عبث پیدا فرمائے وہ حقیقی بادشاہ ہے اور اس کا ہر فعل حق ہے ہرگز عبث نہیں ہو سکتا اس کی ذات اتنی عظیم ہے کہ کوئی اس کی برابری کا دعوی نہیں کرسکتا وہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور عرش عظیم کا مالک ہے یعنی کاروبار حیات کا سب سے بڑا دفتر اس اکیلے کی قبضہ قدرت میں ہے لہذا جو لوگ بھی اس کے علاوہ کسی کی پوجا کرتے ہیں ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں اور نہیں پروردگار عالم کے حضور اس بات کا حساب بھی دینا ہوگا جہاں کافر کو کبھی کامیابی نہ مل سکے گی اور آپ یہ دعا کیا کیجئے کہ میرے رب مجھے معاف فرما اور میرے حال پر رحم فرما کہ تو ہی سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے ۔