23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 23:33–50

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور ان کی قوم کے سرداروں نے جو کافر تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹ سمجھتے تھے اور ہم نے ان کو دنیا کی زندگی میں دولت بخشی تھی ، کہا یہ تو تمہاری ہی طرح ایک آدمی ہے جیسا تم کھاتے ہو ویسا یہ بھی کھاتا ہے اور جیسا (پانی) تم پیتے ہو ویسا یہ بھی پیتا ہے

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم گھاٹے میں پڑگئے

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا یہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم (دوبارہ زندہ کرکے زمین میں سے) نکالے جاؤ گے

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

بہت ہی بعید ہے ، بہت ہی بعید ہے جو بات تم سے کی جاتی ہے

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

صرف یہی ہماری دنای کی زندگی ہے (اسی میں) ہم مرتے ہیں اور جیتی ہیں اور ہم اٹھائے نہ جائیں گے

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ ایک ایسا شخص ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اور ہم اس کو ہرگز نہ مانیں گے

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

انہوں نے دعا کی اے میرے پروردگار ! انہوں نے مجھے جھوٹا کہا تو آپ میری مدد فرمائیے

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

فرمایا یہ تھوڑے ہی وقت میں پریشان ہو کر رہ جائیں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

سو ان کو ایک سخت آواز نے وعدہ برحق کے مطابق آپکڑا۔ پس ہم نے ان کو کوڑا کرکٹ (کی طرح پامال) کرڈالا ، سو (اللہ کی) مار ہو غلط کار لوگوں پر

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان (عاد وثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا فرمایا

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی امت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے بھیجا جب کسی امت کے پاس اس کا پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا تو ہم بھی بعض کو (ہلاک کرنے میں) بعض کے پیچھے لاتے رہے اور ہم نے ان کی کہانیاں بنادیں سو (اللہ کی) مار ہو ان پر جو (انبیاء کے سمجھانے پر بھی) ایمان نہ لاتے تھے

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون (علیہما السلام) کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم کے لوگ تو ہمارے خدمت گار ہیں

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

غرض وہ لوگ ان دونوں کی تکذیب ہی کرتے رہے سو ہلاک ہونے میں سے ہوگئے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور (ان کی ہلاکت کے بعد) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ (بنی اسرائیل) ہدایت پائیں

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے مریم (علیہا السلام) کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو (اپنی) نشانی بنایا اور ایک اونچی جگہ پر لے جاکر رہنے کی جگہ دی جو رہنے کے قابل تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔ (بندہ اور اللہ کا بندہ) اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے عنایات سب پر ہیں ، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ بندے نے کس کی غلامی اپنا لی ہے اگر بندہ اللہ جل جلالہ کا بندہ ہے تو اس کی بات ماننا بھلا بندے کی بات کیسے ہوئی وہ تو بات ہی اللہ جل جلالہ کی ہے کہ وہ اپنی تو نہ کہے گا اللہ جل جلالہ کی بات ہی کہے گا اور انبیاء کرام ﷺ سے بڑھ کر کون اللہ جل جلالہ کا بندہ ہوگا چونکہ وہ خود تو آخرت کے یقین سے خالی تھے ہی دوسروں سے بھی کہنے لگے بھلا یہ تم سے عجیب بات نہیں کہتا کہ جب تم مرجاؤ گے اور تمہارے وجود گل سڑ جائیں گے ہڈیاں بکھر کر گوشت پوست مٹی ہوجائے گا تو تمہیں دوبارہ زندہ ہونا پڑے گا ، بھلا یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ، یہ ناممکن بات ہے بس میاں یہی دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے اور یہ مرنا جینا سب سامنے ہے جو مرکر خاک ہوئے وہ نہ جی سکیں گے اور یہ سب کچھ انہیں اپنی دانست میں ناممکن نظر آتا تھا ۔ (عذاب وثواب قبر اور حیات برزخ کا انکار بھی اسی انکار ہی کا ایک حصہ ہے) لطف یہ کہ اللہ جل جلالہ کو بھی اپنے انداز سے مانتے ضرور تھے جب ہی تو کہنے لگا یہ شخص جو نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے یہ تو اللہ جل جلالہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے ، بھلا ہم اس کی بات کیوں مانیں گے ہم ہرگز نہ مانیں گے حالانکہ اپنی پیدائش ان کے بھی تو سامنے تھی جو قدرت باری کی کس قدر مضبوط دلیل تھی ، یہی حال دور حاضر کے ان انکار کرنے والوں کا ہے کہ جو عذاب وثواب قبر اور حیات برزخ کا انکار کرتے ہیں اور اللہ پر ایمان بھی رکھتے ہیں مگر مشکل یہ نظر آتا ہے کہ کوئی جل گیا کوئی ڈوب مرا کسی کو درندے کھا گئے تو بندے کو برزخ میں عذاب وثواب تو ممکن نہیں لگتا اور جب عذاب وثواب برزخ اور قبر کا کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ ﷺ کے باعث ، ماننا ہی پڑا تو ایک اور ٹھوکر کھائی کہ برزخ میں ایک نیا وجود جسے وجود مثالی کہتے ہیں روح کو عطا ہو کر عذاب وثواب پائے گا ، واہ کیا بات ہے ، بھلا جو وجود نہ دنیا میں آیا نہ اسے حکم ملا نہ اس کی طرف رسول آیا نہ اس نے کفر کیا نہ اطاعت تو اسے عذاب وثواب کس بات کا حق یہ ہے بدن کتنی شکلیں تبدیل کرے مادی ذرات ہی کی صورت میں رہتا ہے اور روح انسانی کا تعلق حیات دنیا کا ختم ہونا ہے کلی طور پر ختم نہیں ہوتا لہذا جب برزخ میں روح کو عذاب یا ثواب پہنچے تو بدن اپنا حصہ پاتا ہے ، بدن کا ہر ذرہ جہاں بھی ہو جس حال میں بھی ہو کافر ہو یا مشرک ہر حال آگ سے حصہ پاتا ہے جیسے آل فرعون کہ ارشاد ہوتا ہے غرق ہوئے اور آگ میں داخل ہوگئے یا ان کو صبح وشام آگ پہ سینکا جاتا ہے تو یہ صرف روحیں غرق نہ ہوئی تھیں انسان روح اور بدن سمیت تھے ، مومن کی روح کا رشتہ بدن سے مضبوط اور شہید کا ایسا ہوتا ہے کہ جیسے وہ مرا ہی نہیں اور زندہ ہے اور اس پر کتاب وسنت کے دلائل کے ساتھ مشاہدات وتجربات بھی درجہ تواتر کو پہنچے ہیں اور پھر انبیاء (علیہ السلام) کی ارواح کا مسکن بھلا ان کے ابدان سے اعلی کہاں ہوگا ہاں حیات دنیا کا وقت ختم ہو کر برزخ میں پہنچے تمام احکام برزخ ہی کے ہوں گے مگر ان کی حیات متغیر نہیں ہوتی ویسی ہی رہتی ہے اور اسی حالت کو حیات النبی کہا جاتا ہے ۔ چناچہ انبیاء کرام (علیہ السلام) نے تھک کر اللہ کو پکارا کہ اے رب اے ضرورتوں کو پورا کرنے والے اب تیری ہی مدد کی ضرورت ہے ان کا انکار حد سے بڑھ چکا ہے تو ارشاد ہوا اب ان کے دن تھوڑے ہیں دیکھو گے کہ کسی رات کا کل انہیں دیکھنا نصیب نہ ہوگا اور انہیں سخت پچھتانا پڑے گا سو ان پر بہت سخت چنگھاڑتا ہوا عذاب مسلط ہوگیا اور اس نے انہیں خس و خاشاک کی طرح سے کچل دیا ، اللہ جل جلالہ کی مار ہو کافروں پر اور ہمیشہ اس کے کرم سے دور اور محروم ہوگئے ۔ پھر ان کے بعد نئی اقوام سے دنیا آباد ہوئی جو اپنے اپنے انجام کو پہنچیں اور کوئی قوم بھی اللہ کریم کے مقرر کردہ وقت کو ٹال سکی نہ تبدیل کرسکی ، سب کو دعوت دی گئی ہدایت کی طرف بلایا گیا اور پے بہ پے رسول بھیجے گئے جنھوں نے ایمان قبول کیا اپنی منزل پائی اور جن اقوام نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور اپنے جیسے بندوں کی اطاعت کرلی اور خود ہی بعض دوسروں کے راہنما بن گئے تو اللہ کریم نے بھی ان پر ایسی ایسی ہلاکت مسلط کی کہ زمانے میں صرف ان کے فسانے رہ گئے اور وہ اوراق ماضی کا قصہ پارینہ بن گئے جیسے مشہور واقعہ جو ان لوگوں کے علم میں بھی ہے کہ فرعون اور اس کے امراء ومتبعین کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں علمی وعقلی دلائل عطا کئے معجزات عطا فرمائے مگر آگے سے فرعونیوں نے اکر دکھائی کہ ان کے سروں میں اقتدار کا نشہ سمایا ہوا تھا تو کہنے لگے کیا اب ہم اپنے جیسے دو بندوں کے پیچھے چلیں گے جو حیثیت میں ہماری برابری کا بھی نہیں سوچ سکتے اور جن کی ساری قوم ہماری غلام ہے بھلا ان کی حیثیت کیا ہے چناچہ انکار پر ڈٹ گئے اور تباہ وبرباد ہوگئے ورنہ یقینا موسیٰ (علیہ السلام) تو ان کے پاس اللہ کی کتاب لائے تھے کہ انہیں ہدایت نصیب ہو اور ایمان لا کر اللہ جل جلالہ کی رضا حاصل کریں ، ان کی بعثت کا مقصد فرعونیوں کی ہلاکت تو نہ تھا ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو کس قدر بڑا معجزہ بخشا وہ بغیر والد کے پیدا ہوئے ، ان کی والدہ نے بغیر کسی مرد کو دیکھے اولاد حاصل کی جو نور نبوت سے مزین تھی پھر انہیں تمام مشکلات سے بچا کر ایک اونچی زمین پر جگہ دی جہاں بہترین رہائش اور صاف پانی تھا ، ان کا پیدا ہونا کلام کرنا ہی بہت بڑا معجزہ تھا مگر اس کے علاوہ بھی بہت معجزات عطا ہوئے ۔