23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 23:51–77

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبرو ! (آپ اور آپ کی امتیں) پاکیزہ چیزیں کھائیں اور نیک کام کریں جو عمل آپ لوگ کرتے ہیں یقینا ہم ان سے خوب واقف ہیں

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یقینا یہ آپ (پیغمبروں) کی جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں آپ کا پروردگار ہوں ، سو مجھ سے ڈرتے رہیں

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر ان لوگوں (کافروں) نے آپس میں (اپنے دین میں) اپنا طریقہ الگ الگ کرکے اختلاف پیدا کرلیا۔ ہر گروہ کے پاس جو (دین) ہے وہ اسی پر خوش ہے

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

سو آپ ان کو اسی جہالت (غفلت) میں ایک وقت (موت) تک رہنے دیجئے

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ سوچتے ہیں کہ ہم ان کو (دنیا میں) جو مال اور بیٹوں سے نوازتے ہیں

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

(تو اس سے) ہم ان کی بہتری میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں) بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار کی ہیبت سے ڈرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو لوگ (اس ایمان میں) اپنے پروردگار کے ساتھ شرک نہیں کرتے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو دے سکتے ہیں وہ (اللہ کی راہ میں) دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانا ہے

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان (نیک کاموں) کے لئے دوڑ رہے ہیں

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کرنے کا حکم نہیں فرماتے اور ہمارے پاس ایک کتاب (دفتر اعمال) ہے جو سچ سچ بتادیتی ہے اور ان کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے گی

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

بلکہ ان (کافروں) کے قلوب اس بات سے جہالت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ ان لوگوں کے اور (برے برے) اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے دولت مند لوگوں کو (بعد موت) عذاب میں پکڑ لیں گے تو وہ تلملا اٹھیں گے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

(کہا جائے گا) آج مت چلاؤ ہماری طرف سے تمہاری ہرگز مدد نہ ہوگی

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

ہماری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر (رسول کی زبانی) سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

تکبر کرتے ہوئے اس (قرآن) کا مشغلہ بناتے ہوئے (اور) بیہودہ باتیں بناتے ہوئے

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

سو کیا انہوں نے اس کلام (قرآن) میں غور نہیں کیا یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ لوگ اپنے پیغمبر (کی صفت دیانت وامانت) سے واقف نہ تھے پس (اس وجہ سے) وہ ان کے منکر ہوگئے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا یہ لوگ آپ کی نسبت جنون کے قائل ہیں (حالانکہ آپ کا صاحب الرائے ہونا مسلم ہے) بلکہ (یہ رسول) ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور ان (منکرین) کے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور (بفرض محال) اگر دین حق ان کے خیالات کے تابع ہوجاتا تو تمام آسمان اور زمین اور جو ان میں (آباد) ہیں ، سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت کی بات بھیجی سو یہ لوگ اپنی نصیحت سے بھی روگردانی کرتے ہیں

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا آپ ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال طلب فرماتے ہیں پس دولت تو آپ کے پروردگار کی سب سے بہتر ہے اور وہ سب دینے والوں سے بہت اچھا ہے

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور یقینا آپ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (سیدھے) راستے سے ہٹتے جاتے ہیں

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم فرمائیں گے اور جو ان پر تکلیف ہے اس کو ہم دور بھی کردیں تو (بھی) اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے پھریں

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو انہوں نے اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی (ظاہر) نہ کی اور نہ وہ عاجزی کرتے (ہی) ہیں

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت ترین عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو اس وقت وہ اس میں بالکل ناامید ہوجائیں گے

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو قبول نہیں ہوتا ، صاحب نظر لوگوں کا ارشاد ہے کہ اسی فیصد تعمیر غذا سے پندرہ فیصد ماحول سے اور پانچ فیصد تربیت سے ہوتی ہے اور غذا کے حلال ہونے کی بنیادی شرط اس کا طریق حصول ہے کہ معروف ذرائع سے حاصل کی جائے اور پھر شریعت کے حکم کے مطابق استعمال میں لائی جائے ۔ نیز تمام ادیان میں ایک متفقہ لائحہ عمل دیا گیا جس کے اصول ہمیشہ ایک تھے ہاں فروعات کا مدار فہم انسانی پر ہے لہذا مجتہدین کا فروعی اختلاف محض کہنے کو اختلاف ہوتا ہے حقیقی اختلاف وہ ہے جو اصولوں کو تقسیم کر دے یا نقصان پہنچائے جیسے توحید و رسالت یا کتاب وآخرت کے بارے عقیدوں میں اختلاف اور ایسے اختلافات ہر امت میں دین کو نقصان پہنچانے والوں اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے طلب گاروں نے پیدا کیے اور دین وملت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور جو کچھ جس کے ہاتھ لگا اسی پر خوش ہوگیا کہ کچھ پیروکار تو مل گئے اور عیش کرنے کا موقع ملا ساتھ میں دین پر چلنے کی شہرت بھی مگر ایسے لوگوں کا انجام بڑا خراب ہوتا ہے کہ دین حق ہی باقی رہتا ہے باطل اپنے ماننے والوں سمیت تباہ ہوجاتا ہے اگرچہ وقتی طور پر انہیں کچھ دنیاوی فائدے بھی حاصل ہوں تو انہیں اس وقت تک ان کے حال میں مست رہنے دیجئے اور اسی غلط فہمی کا اسیر رہنے دیں کہ انہیں مال و دولت اور اولاد وپیروکار مل رہے ہیں ، شاید ان پر بڑا انعام ہو رہا ہے اور اللہ جل جلالہ ان سے بہت خوش ہے ہرگز نہیں یہ تو شعور ہی سے عاری ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی خوشنودی سے اللہ جل جلالہ کا قرب اور اطاعت نصیب ہوتی ہے ، مال و دولت تو کافر کے پاس بھی ہوتا ہے مگر ایسے لوگ جن پر اللہ کریم راضی ہوتے ہیں اور جنہیں اس کا قرب نصیب ہوتا ہے وہ تو اس کی محبت کے اس قدر اسیر ہوجاتے ہیں معمولی ناراضگی کے خوف سے بھی لرز جاتے ہیں ۔ ّ (اللہ جل جلالہ کی رضا مندی اور قرب الہی کی نشانی) اور اس کی نازل کردہ باتوں پر دل کی گہرائیوں سے یقین حاصل کرلیتے ہیں اور کبھی سوال نہیں پیدا ہوتا کہ اس کی صفات میں کسی کو اس جیسا سمجھیں اور اس کے علاوہ کسی سے امید وابستہ کریں اور اللہ نے انہیں جو دیا ہے وہ اسی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، مال ، اولاد ، جان اقتدار عقل وخرد غرض ہر نعمت کو اللہ جل جلالہ ہی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان کے قلوب تک لرزاں وترساں رہتے ہیں کہ میرے اعمال حقیر اور بےحیثیت اس کی ذات بہت عظیم اور بلند بھلا میں کیسے اس کی بارگاہ میں حاضری دے سکوں گا جبکہ مجھے ہر حال واپس اسی کے حضور جانا ہے اور وہ نیکی کی طرف لپکتے ہیں اور انہیں کوئی خدشہ اور وسوسہ نیک کام کرنے ہیں متامل نہیں کرتا بلکہ دوسروں سے پہلے پہنچتے ہیں اور ہاں یہ بھی سن لیجئے کہ جو کام بندے کے بس کا نہ ہو ہم اسے وہ کرنے کا حکم ہی نہیں دیتے نہ اس کے بارے میں اس سے باز پرس ہوگی اور نامہ اعمال تو ہمارے پاس ہے جو بندے کی استعداد کار بھی اور عمل بھی سامنے رکھ دے گا ، سچ سچ اور کھرا کھرا لہذا کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہرگز نہ ہوگی ۔ (قلب کی مدہوشی) اور منکرین کے دل ہی مدہوش ہوگئے اور جب کیفیات قلبی سے محروم ہوئے تو الٹے کاموں میں پڑگئے ، یہاں تک کہ برائی اور غلط کاری ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخر ایک روز یہ سب بڑے بڑے بھی پکڑے جائیں گے اور جب اللہ جل جلالہ کا عذاب انہیں اپنی گرفت میں لے گا تب چلائیں گے تو ارشاد ہوگا کہ مت چلاؤ اب تمہیں عذاب الہی سے کوئی نہیں چھڑا سکتا کہ جب تم کو اللہ جل جلالہ کے احکام اور اس کے ارشادات سنائے جاتے تھے تو تم الٹے بھاگتے تھے اور اکڑتے تھے کہ ہم اس کی پرواہ نہیں رکھتے اور یہ محض قصے کہانیاں ہیں نیز بیہودہ بکواس اور یا وہ گوئی اختیار کرتے تھے ، ۔ (توہین آمیز کلمات ہمیشہ کی محرومی کا باعث) یہ حال مشرکین مکہ نے دنیا میں بدر ہی میں دیکھ لیا اور برزخ میں بھی بھگت رہے ہیں اور قیامت کو بھگتیں گے یہاں قابل غور بات یہ ہے اہل مکہ بلکہ بدر میں مخالف لڑنے والوں میں بھی ایسے خوش نصیب تھے جنہیں بعد میں اسلام نصیب ہوا اور شرف صحابیت سے نوازے گئے مگر یہ وہ لوگ تھے جو اگرچہ ایمان نہ لائے تھے مگر بدکلامی نہ کرتے تھے جن لوگوں نے آپ ﷺ کی شان میں بدکلامی کی انہیں کبھی توبہ نصیب نہ ہوئی اور یہی بدکلامی انہیں عذاب الہی میں پھنسانے کا سبب بن گئی لہذا اہل اللہ سے اگر اتفاق نہ بھی ہو تو انہیں برا بھلا نہ کہا جائے گا اور بات شرافت سے اور ایک حد میں رہتے ہوئے کی جائے ورنہ ہمیشہ کی محرومی کا ڈر ہوتا ہے ۔ کیا ان بدبختوں نے دعوت پر غور ہی نہیں کیا کہ اس میں کس قدر دلائل عقلیہ بھی اور نقلیہ بھی موجود تھے یا آپ ﷺ کی بعثت کوئی ایسا انوکھا واقعہ تھا جس سے واقف نہ ہوں اور انہیں یہ پتہ نہ ہو کہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے جاتے رہے ہیں یعنی یہ خوب جانتے ہیں یا ان کا خیال ہے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ کی ذہنی حالت صحیح نہیں تو کیا ایسے لوگوں کی باتیں اتنی قیمتی اور بےمثال ہوتی ہیں بھلا ، بلکہ آپ تو ان کے پاس حق لائے ہیں ، ہاں ان کے مزاج اتنے بگڑ چکے ہیں کہ حق کو قبول ہی نہیں کر پاتے ورنہ کیا یہ اپنے رسول ﷺ کو جانتے نہیں کیا یہ ان کے حسب ونسب اور حیات عالی سے بیخبر ہیں ۔ یہ خوب جانتے ہیں مگر ماننے میں ان کے دل کی تباہ شدہ حالت دیوار بنی ہوئی ہے اور مانیں گے کیا یہ تو چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور دین ان کی خواہشات کو مانیں انہیں یہ بھی شعور نہیں کہ اگر اللہ جل جلالہ بھی ان کے مشورے ماننے لگے تو نظام کو چلا رہا ہے انہیں تو چاہیے تھا کہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے بھیجے جانے والی نعمت کی قدر کرتے اور اسے دل وجان سے قبول کرتے مگر یہ بدنصیب تو اس کا نام تک لینے سے بیزار ہیں کیا آپ ﷺ ان سے بدلہ میں مال و دولت مانگ رہے ہیں یا دین پر انہیں کچھ خرچ کرنا پڑ رہا ہے ، ہرگز نہیں مال و دولت تو پروردگار ہی کا بہتر ہے جو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے ۔ (تبلیغ دین اور چندے) یہاں ثابت ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کبھی دین کو چندوں پہ نہیں پھیلاتے بلکہ حصول رزق کی امید اپنے رب سے وابستہ رکھتے ہیں اور جائز و حلال ذرائع سے رزق حاصل کرتے ہیں لہذا علماء حق کو بھی معروف ذرائع اختیار کرکے رزق پیدا کرنا چاہیے نہ کہ محض چندوں پہ عمر بسر کردی جائے ۔ آپ تو نہایت پیارا اور خوبصورتی سے بہت ہی سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہیں اور جن کی سمجھ میں بات نہیں آتی وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں خود انہی کی عقل الٹ ہوگئی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہوگئے ہیں جب کبھی مصیبت میں پھنستے ہیں اور اللہ جل جلالہ ان پر رحم کردے ۔ انہیں دنیا کی مصیبت سے نجات دے تو پھر اپنی شرارت ہی میں لگ جاتے ہیں بلکہ برائی ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں جیسے اہل مکہ کو بدر میں سزا ملی پھر ان پر قحط مسلط ہوگیا تو خدمت عالی میں حاضر ہو کر دعا کے طالب ہوئے ، آپ ﷺ کی دعا سے قحط رفع ہوئے تو پھر جنگ کی تیاری میں لگ گئے مگر کب تک آخر بہت سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے جو اس قدر شدید ہوگا کہ انہیں منت سماجت کرنے اور گڑگڑانے کا ہوش میں نہ رہے گا گویا آسمان سے بلاؤں کا دروازہ کھل جائے گا جو انہیں ہر طرح اپنی لپیٹ میں لے لیں گی اور یہ تباہ وبرباد ہوجائیں گے ۔