20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 20:90–104

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور یقینا لوگوں سے ہارون (علیہ السلام) نے (موسیٰ (علیہ السلام) کے لوٹنے سے) پہلے بھی فرمایا تھا کہ اے میری قوم ! بیشک اس سے تمہیں صرف آزمایا گیا ہے اور بیشک (حقیقی) پروردگار رحمن (بڑے رحم والا) ہے۔ سو میری پیروی کرو اور میری بات مانو

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے جب تک موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس واپس نہ آجائیں ہم اسی (کی عبادت) پر برابر جمے رہیں گے

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

(پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی پر ہارون (علیہ السلام) سے) فرمایا اے ہارون ! جب آپ نے انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھاتو آپ کو کس چیز نے روکا تھا

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

کہ آپ میرے پیچھے نہ چلے آئے بھلا آپ نے میرے حکم کے خلاف (کیوں) کیا ؟

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

وہ فرمانے لگے اے میرے بھائی ! میری داڑھی اور میرے سر (کے بالوں) کو مت پکڑیئے یقینا میں تو اس بات سے ڈرا کہ آپ کہیں گے کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا پاس نہ کیا

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

(سامری سے) فرمانے لگے اے سامری ! پس تیرا کیا معاملہ ہے ؟

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا مجھے ایسی چیز نظر آئی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتے) کے نقش پا سے ایک مٹھی (بھر مٹی) اٹھالی پھر اس کو اس (بچھڑے کے قالب) میں ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بات اچھی لگی

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

فرمایا تو جا پس تجھ کو (دنیا کی) زندگی میں یہ سزا ہے کہ کہتا پھرے کہ (مجھے) کوئی ہاتھ نہ لگانا اور یقینا (اس کے علاوہ) تیرے لئے (عذاب کا) ایک (اور) وعدہ ہے جو تجھ سے ہرگز ٹل نہ سکے گا اور جس (معبود کی پوجا) پر تو قائم (معتکف) تھا اپنے اس معبود کی طرف دیکھ ہم اس کو ضرور جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

بیشک تمہارا (حقیقی) معبود تو اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اس طرح ہم آپ سے وہ حالات بیان فرماتے ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور یقینا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے ایک نصیحت نامہ (قرآن) عطا فرمایا ہے

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو شخص اس سے منہ پھیرے گا تو یقینا وہ قیامت کے روز (گناہ کا) بوجھ اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

(ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں مبتلا رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہوگا

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کردیں گے۔ اس دن (ان کی) نیلی آنکھیں (ہوں گی)

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوں گے کہ تم (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے ہو

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں جب ان میں سے سب سے اچھی راہ والا (عقلمند) کہے گا (نہیں بلکہ) تم صرف دن بھر ٹھہرے ہو

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے کی پوجا تو کرنے لگا مگر اس شرط پر کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) نے منع فرمایا تو یہ کام چھوڑ دیں گے اور تیسرے گروہ کا خیال تھا کہ ہم تو نہ چھوڑیں گے بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی یہی کرنا ہوگا اور ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں گے ۔ دریں اثنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آگئے ، جب قوم کا حال دیکھا تو ہارون (علیہ السلام) پر بہت ناراض ہوئے کہ جب یہ اس قدر گمراہی میں مبتلا ہوگئے تو تم نے میری طرح مقابلہ کیوں نہ کیا جیسا کہ میں نے فرعون جیسے جابر سے ٹکڑ لی تھی آپ نے ان کو کیوں چھوڑ دیا کیا میری بات کی آپ نے بھی پروا نہ کی کہ میں نے آپ کو ان کی اصلاح پر مامور کیا تھا اور غصے میں ان کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے تو انہوں نے عرض کیا میرے ماں جائے اس قدر غصہ نہ کریں میری گذارش بھی سن لیں کہ یہ تو مرنے مارنے پر تیار تھے اور میرے ساتھ اول تو لوگ کم تھے اور انہوں نے ہمیں کمزور سمجھ رکھا تھا ، دوسری بات یہ ہے کہ آپ کی واپسی پر ان کی اصلاح کی امید تھی لیکن اگر میں مقابلہ کرچکا ہوتا تو بنی اسرائیل ہمیشہ کے لیے دو پارٹیوں میں تقسیم ہوجاتے اور یہ بات آپ بھی پسند نہ فرماتے اور الٹا ناراض ہوتے کہ تم نے میری بات کا پاس نہ رکھا ۔ (اجتہاد) یہ دونوں رائے اجتہادی تھیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی رائے میں ان سے مقابلہ کرکے انھیں روکنا چاہیے تھا اور ہارون (علیہ السلام) کی رائے میں چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی پر ان کی اصلاح کی امید تھی لہذا تب تک برداشت کرنا بہتر تھا اور دونوں میں خلوص اللہ جل جلالہ کی رضا کی طلب اور اللہ جل جلالہ کے بندوں کی بھلائی مقصود تھی لہذا کسی کو بھی غلط قرار نہیں دیا جاسکتا ، یہی اختلاف مجتہدین میں ہوتا ہے نہ یہ کہ آج کل کی طرح ایک نیا دین گھڑ لینے کو اجتہاد کہا جائے ، ” العیاذا باللہ ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے کہ تو نے یہ کیا گل کھلایا تو کہنے لگا میں نے ایک عجیب بات دیکھی جو دوسرے نہ دیکھ سکے کہ ” فرعون کے غرق کے وقت جبرائیل امین (علیہ السلام) گھوڑے پر سوار ہو کر آئے تھے اور جہاں وہ گھوڑا قدم رکھتا وہاں سبزہ پیدا ہوجاتا تھا یا بعض مفسرین کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر لے جانے کے لیے وہ گھوڑے پر آئے تھے سامری نے وہ مٹی جس پر گھوڑے کا قدم پڑا تھا اٹھالی اور ایک بچھڑا بنا کر اس میں ڈال دی جس میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے اور وہ عجیب طرح کی آواز نکالنے لگا کہنے لگا یہی میرے نفس نے مجھے سکھایا اور میں نے کردیا ، آپ نے فرمایا اب زندگی بھر کی رسوائی اور تنہائی تیری سزا ہے کہ تو نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے ہٹا کر اپنے پیچھے لگانے اور اپنی شہرت کی کوشش کی اب تیری سزا یہ ہے کہ تو دنیا میں لوگوں سے بھاگتا اور چھپتا پھرے اور کہتا پھرے کہ مجھے ہاتھ مت لگانا ، موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا سے اسے یہ مصیبت چمٹ گئی کہ کسی سے چھو جاتا تو اسے بخار ہوجاتا اور چھونے والے کو بھی لہذا وہ لوگوں سے دور بھاگتا اور کسی کو دیکھ لیتا تو چلاتا کہ مجھے ہاتھ مت لگانا پھر اس کے بعد اللہ جل جلالہ کا عذاب کا وعدہ ہے جس کے خلاف کبھی نہ ہوگا اور تجھے ضرور عذاب دیا جائے گا یعنی تجھے اب توبہ کی توفیق بھی نصیب نہ ہوگی اور یقینا آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگا اور جس معبود پر تو معتکف تھا اور اپنی پیری چمکانا چاہتا تھا ۔ (بعض گناہوں کی وجہ سے توبہ کی توفیق بھی سلب ہوجاتی ہے) ذرا اس کا حال بھی دیکھ کہ ہم اسے جلا کر اس کی راکھ بھی دریا میں اڑا دیں گے اور یہ ثابت ہوجائے گا کہ جو خود اپنی حفاظت نہیں کرسکا وہ عبادت کے لائق کیسے ہو سکتا ہے تم سب کا معبود اور حقیقتا عبادت کا مستحق تو وہی ایک ذات ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور اپنے بندے کے ہر حال سے باخبر ہے ۔ اس طرح ہم آپ کو گذشتہ امتوں کے احوال سے آگاہ کرتے ہیں کہ یہ حقائق آپ کی نبوت کی دلیل بھی ہوں کہ نہ آپ نے کوئی کتاب پڑھی نہ مدرسہ دیکھا نہ کسی کی شاگردی کی تو یہ حقائق محض اللہ کریم ہی کی عطا ہیں اور خاصہ نبوت ہیں نیز ہم نے آپ کو ایسی کتاب بھی دی جو انسانی زندگی کی ہر حال میں رہنمائی کرتی ہے اور بہترین نعمت ہے ، چناچہ گذشتہ واقعات بھی آئندہ کا طرز عمل اپنانے میں معاون ہوا کرتے ہیں ۔ (قرآن سے روگردانی کی صورتیں) جو کوئی اس کتاب سے روگردانی کرے گا اسے اس روگردانی کا بوجھ یوم حشر اٹھانا پڑے گا جو ہمیشہ کے لیے اس کے گلے پڑجائے گا ، روگردانی کو علماء نے دو معنی میں لیا ہے ، اول انکار ، ظاہر ہے اس کا نتیجہ کفر اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے ، دوسرا معنی اعراض کا یہ ہے کہ اسے پڑھنے یا سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرے یا اگر پڑھے تو محض دنیا کی اغراض کے لیے وظیفہ بنا لے یا غلط پڑھتا رہے اور اصلاح کی فکر نہ کرے یا بعض لوگ عمر بھر پڑھنے کا تکلف ہی نہیں کرتے اور اس پر عمل کی فکر نہ کرنا تو بہت ہی سخت اعراض ہے اللہ کریم اس سے پناہ میں رکھے ۔ اور اللہ کی کتاب سے روگردانی کا یہ بوجھ یوم حشر بہت ہی برا بوجھ ہوگا بلکہ جب صور پھونکا جائے گا تو کفار یا اس کا انکار کرنے والے تو ایسی حالت میں اٹھیں گے کہ ان کی آنکھیں کرنجی ہوں گی یعنی بہت ناپسندیدہ رنگ کی ، انھوں نے ان سے کتاب اللہ کی صداقت بھی نہ دیکھی اور ڈرتے ڈرتے آپس میں سرگوشیاں کریں گے کہ یہ تو زیادہ سے زیادہ دس روز ہی گذرے ہوں گے کہ قیامت قائم ہوگئی یعنی بہت جلدی حساب دینا پڑگیا ، اب کیا ہوگا ، جبکہ ان میں سے بہتر رائے والا تو کہے گا دن بھر ہی گذرا ہوگا دس روز بھی کہاں گذرے اور اسے ان سے بہتر رائے والے اس لیے فرمایا کہ یوم حشر اور آخرت کے مقابل تو دنیا کی زندگی اور برزخ کا عرصہ ایسے ہی لگے گا یعنی بہت کم ہوگا ۔
Ayahs 20:105–115

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور وہ آپ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں سو فرمادیجئے کہ میرا پروردگار ان کو بالکل اڑا دے گا

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

پھر اس (زمین) کو ہموار میدان کردیں گے

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

جس میں تو (اے مخاطب ! ) نہ ہی ناہمواری دیکھے گا اور نہ کوئی بلندی

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز (سب کے سب) ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اس (کی پیروی) سے انحراف نہ کرسکیں گے اور تمام آوازیں رحمن (اللہ) کے سامنے (مارے ہیبت کے) دف جائیں گی پھر (اے مخاطب ! ) تم کھسر پھسر کے علاوہ کوئی آواز نہ سنوگے

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز (کسی کی) سفارش کوئی فائدہ نہ دے گی سوائے ایسے شخص کے جس کے لئے رحمن (اللہ) نے اجازت بخش دی ہو اور اس کی بات کو پسند فرمائیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اللہ سب جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے اس (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور زندہ قائم رہنے والے کے سامنے منہ نیچے ہوجائیں گے اور جس نے (شرک کے) ظلم کا بوجھ اٹھایا بیشک وہ نامراد رہا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا اور (اس حال میں کہ) وہ ایمان بھی رکھتا ہوگا تو اس کو نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح قرآن عربی نازل فرمایا ہے اور اس میں طرح طرح کے (عذاب سے) ڈرانے والے واقعات بیان فرمادیئے ہیں تاکہ وہ لوگ پرہیزگار بنیں یا (یہ قرآن) ان کے لئے کسی قدر شعور پیدا کردے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس اللہ جو حقیقی بادشاہ ہیں بڑے عالیشان ہیں اور آپ قرآن (پڑھنے) میں جلدی نہ کیجئے اس سے پہلے کہ آپ پر اس کی پوری وحی نازل ہوچکے اور یہ دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار ! میرا علم بڑھا دیجئے

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے پہلے آدم (علیہ السلام) سے عہد لیا تھا پھر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں (نافرمانی کا) ارادہ نہ پایا

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی پھر سے زندہ ہو کر اس طرف چل پڑے گا اور آج کے بڑھ چڑھ کر بولنے والے ایسے دب کر چلیں گے کہ ہیبت الہی سے ان کی بولتی بند ہوگی اور قدم بھی احتیاط سے رکھیں گے حتی کہ سوائے ہلکی سی چاپ کے کوئی آواز سنائی نہ دے گی اور وہ ایسا سخت دن ہوگا کہ شفاعت کرنے والے مقربین بھی صرف اس کی شفاعت کرسکیں گے جس کی شفاعت کی اللہ کریم نے اجازت دی ہے یعنی مومن کی ، بغیر ایمان کے مرنے والا تو شفاعت سے بھی محروم ہوگا کہ شفاعت بھی ایسے ہی لوگوں کو نصیب ہوگی جن کی بابت اللہ کریم کو بات سننا پسند ہوگا ، اللہ تو ان سب کے سب اگلے پچھلے حالات سے پوری طرح باخبر ہے مگر یہ اس کی اس عظیم صفت کو بھی سمجھ نہیں سکتے ، اس روز تو اس ہمیشہ ہمیشہ اور بالذات قائم رہنے والے کے روبرو سب مخلوقات سرنگوں دم سادھے کھڑی ہوگی اور جو بھی ظلم کا بوجھ اٹھائے حاضر ہوگا اور سخت نقصان میں رہے گا ، یاد رہے سب سے بڑا ظلم شرک ہے ۔ (عمل اور ایمان کا رشتہ) جس میں عموما کفار مبتلا ہوتے ہیں اس روز عافیت صرف اچھے عمل کرنے والے ایماندار بندوں کو ہوگی کہ نہ ان کے ساتھ بےانصافی ہوگی نہ کوئی عمل ضائع ہوگا یہاں اعمال صالح کو ایمان سے پہلے بیان فرمایا ہے یعنی ایمان کی بقا اور ترقی کا مدار اعمال صالح پر ہے اگر اعمال میں کوتاہی ہوگی تو ایمان کو ضرور متاثر کرے گی اور کمزور پڑتا جائے گا ۔ قرآن کریم کو ہم نے عربی میں نازل فرمایا اور اس میں سب حالات اور پیش آنے والی مشکلات کو بہت وضاحت سے بیان کردیا کہ بنی آدم ان سے بچنے اور اللہ کا قرب تلاش کرنے میں لگیں اگر کوئی ایسا نہ کرسکے تو ان حالات کو سن کر سوچنے کا موقع تو پالے گا جو کبھی اس کی توبہ اور اصلاح کا باعث بن سکتا ہے اللہ جل جلالہ کی شان بہت بلند ہے اور وہ سچا اور حقیقی بادشاہ ہے کہ مخلوق پر اس قدر مہربان ہے اور اسے بار بار پیش آنے والے حالات سے آگاہ فرماتا ہے ۔ آپ قرآن حکیم کو دہرانے میں جلدی نہ کریں اور جب تک وحی پوری ہوجائے صرف سنتے جائیں آپ ﷺ جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ دہراتے جاتے تھے کہ یاد رہ جائے مگر یہاں ارشاد ہوا کہ آپ محنت نہ اٹھائیں اور اطمینان سے سنیں اسے آپ کے قلب اطہر میں نقش کرنا اور یاد کرانا ہمارا کام ہے ، ہاں آپ دعا کیا کیجئے کہ اے پروردگار میرے علم میں زیادتی فرما سبحان اللہ اگرچہ سب سے زیادہ علوم آپ ﷺ کو عطا ہوئے مگر پھر بھی علوم الہی کی کوئی انتہا نہیں آپ مانگتے جائیے مزید عطا ہوتے جائیں گے ۔ (ولایت کی انتہا نہیں) معرفت الہی ہی علوم کا حاصل ہے اور اسی کو ولایت بھی کہا جاتا ہے لہذا ولایت کی بھی کوئی انتہا نہ ہوگی اگرچہ مراقبات ومقامات کی حد ہے مگر کیفیات کی انتہا نہیں اللہ جسے چاہے دیتا اور عطا فرماتا چلا جاتا ہے ۔ جب گذشتہ حالات بیان ہو رہے ہیں تو سب سے بنیادی واقعہ تو آدم (علیہ السلام) کا ہے جس سے شیطان کی انسان دشمنی بھی واضح ہوجاتی ہے کہ تب سے اس نے دشمنی کا عہد کر رکھا ہے اور سب سے پہلے آدم (علیہ السلام) کو دھوکا دیا جب ہم نے انہیں جنت میں رکھا اور ایک خاص درخت کے پھل کو نہ کھانے کا عہد لیا تو وہ بھول گئے اور اپنی بات یا عہد پر مضبوطی سے قائم نہ رہ سکے بھول کر عمل کرنا گناہ نہیں ہوتا اور انبیاء کرام (علیہ السلام) معصوم ہوتے ہٰں مگر مقربین کی بھول بہت سختی سے نوٹس لیا گیا نیز اس وقت نبی مبعوث نہ ہوئے تھے ورنہ وحی میں بھول بھی نہیں ہوتی ۔
Ayahs 20:116–128

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو سو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ، اس نے انکار کیا

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

تو ہم نے فرمایا اے آدم (علیہ السلام) ! یقینا یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے سو کہیں تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے پھر تم مصیبت میں پڑ جاؤ

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

بیشک یہاں آپ (کو یہ آسائش ہوگی) نہ بھوکے رہیں گے اور نہ ننگے

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ آپ کو یہاں نہ پیاس لگے اور نہ دھوپ

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر ان کو شیطان نے بہکایا (اور) کہنے لگا اے آدم (علیہ السلام) ! کیا میں آپ کو ایسا درخت بتاؤں جو ہمیشہ کی زندگی (دینے) کی خاصیت رکھتا ہو اور ایسی بادشاہی کہ جس میں کبھی کمزوری نہ آئے

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

تو دونوں نے اس میں سے (درخت کا پھل) کھالیا تو ان پر ان کے ستر کھل گئے اور (اپنا بدن ڈھانپنے کے لئے) دونوں اپنے اوپر جنت کے (درختوں کے) پتے چپکانے لگے اور آدم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو غلطی میں پڑگئے

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر ان کو (جب انہوں نے معذرت کی) ان کے پروردگار نے (زیادہ) مقبول بنا لیا تو ان پر توجہ فرمائی اور راہ (راست) پر قائم رکھا

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

ارشاد ہوا تم دونوں کے دونوں اس (جنت) سے اترو (دنیا میں) تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کا اتباع کرے تو وہ نہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا اور نہ (آخرت میں) دکھ اٹھائے گا

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میرے ذکر (ہدایت) سے منہ پھیرے گا تو یقینا اس کے لئے (دنیا میں) تنگی کی زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اس کو (قبر سے) اندھا کرکے اٹھائیں گے

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا اے میرے پروردگار ! آپ نے مجھ کو اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو (دنیا میں) دیکھتا تھا

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

ارشاد ہوگا ایسا ہی (چاہیے تھا) تیرے پاس ہماری آیتیں آتی تھیں تو تو نے ان کا کچھ خیال نہ کیا اور اسی طرح آج تیرا کچھ خیال نہ کیا جائے گا

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم (ہر) اس شخص کو سزا دیں گے جو حد سے نکل گیا اور اپنے پروردگار کی آیات پر ایمان نہ لایا اور آخرت کا عذاب بڑا سخت ہے اور بڑا دیرپا ہے

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

سو کیا ان لوگوں کو اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے بسنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں (آنا جانا ہوتا ہے) بیشک اس میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔ (دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے) تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس کے اسباب محنت سے حاصل کرنا ایک خاصیت ہے لہذا ہر آدمی کو رزق حلال حاصل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے اور بغیر مشقت اٹھائے دولت ملنے کی امید عبث ہے نیز مشقت میں پڑنے کی بات اکیلے آدم (علیہ السلام) کے لیے ارشاد ہوئی جبکہ جنت میں جانے یا وہاں سے نکالے جانے کی بات میں میاں بیوی دونوں کو خطاب ہے علماء نے اس سے استدلال فرمایا ہے کہ عورت کا نفقہ خاوند کے ذمہ ہے اور وہ محنت دونوں کو خطاب ہے ، علماء نے اس سے استدلال فرمایا ہے کہ عورت کا نفقہ خاوند کے ذمہ ہے اور وہ محنت ومشقت سے روزی کمانے کا مکلف ہے نیز نفقہ میں چار بنیادی ضروریات ہیں جن کا یہاں خاص طور پر ذکر ہوا ۔ (بیوی کا نفقہ خاوند کے ذمہ ہے اور نفقہ میں چار بنیادی ضروریات ہیں) کھانا ، پینا لباس اور رہنے کا گھر ، لہذا جس کے ذمہ بھی کسی کا نفقہ ہوگا اسے اس کی یہ چار بنیادی ضروریات پوری کرنا ہوگی کہ اس سے زائد کوئی بیوی کو دیتا ہے یا اولاد کو تو وہ اس کا احسان شمار ہوگا ۔ اس لیے یہاں انہیں چار باتوں کا ذکر ہے کہ جنت میں نہ تو بھوک ہے کہ ہر وقت بیشمار نعمتیں کھانے کو موجود نہ لباس کی محتاجی کہ جنت میں لباس ہے اور نہ پانی کی قلت کہ پیاسا رہنے کا اندیشہ ہو اور نہ گھروں کی کمی کی موسموں کی شدت کا خطرہ پیش آئے لیکن شیطان نے ان کو وسوسہ میں مبتلا کردیا کہ اے آدم (علیہ السلام) میں تجھے ایک ایسے درخت یا پودے کا پتہ دیتا ہوں کہ اگر تو اس کا پھل کھالے تو تجھے یہ جنت کی نعمتیں اور اللہ کا قرب ہمیشہ ہمیشہ حاصل رہے گا ۔ (انسانی فطرت) دوسری جگہ ارشاد ہے کہ اس نے اس پر اللہ جل جلالہ کی قسم کھائی جس سے آدم (علیہ السلام) کو دھوکا ہوا اور دونوں میاں بیوی نے اس کا پھل کھالیا جس کا فوری اثر تو یہ ہوا کہ جنت کا لباس اتر گیا اور دونوں برہنہ ہوگئے دونوں بڑے بڑے پتے لے کر اپنا ستر ڈھانپنے لگے گو ستر عورت انسان کی فطرت میں ہے اور زمین پر آنے سے قبل بھی برہنگی انسانی مزاج کے خلاف تھی ، مغرب کی برہنہ تہذیب انسانیت کے بنیادی اوصاف سے محرومی کا پتہ دیتی ہے نیز یہ تہذیب جس پہ آج کی اکثریت فدا ہے اہل مغرب نے جانوروں سے حاصل کی ہے ۔ آدم (علیہ السلام) سے اپنی پروردگار کی بات میں بھول ہوگئی اور وہ بہک گئے یہاں عصے اور غوی جیسے الفاظ اللہ جل جلالہ کی طرف سے ان کی عظمت شان کے مطابق معمولی بھول پر ارشاد ہوئے ہیں کہ مقربین کی لغزش بھی جرم شمار ہوتی ہے لیکن علماء کا اتفاق ہے کہ بجز قرآن حکیم کی آیت کے یا جہاں حدیث شریف میں لفظ آیا ہے کسی کے لیے آدم (علیہ السلام) پر یہ لفظ بولنا جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ ایسے الفاظ سے فاعل بنا کر نبی کی طرف منسوب کیا جائے جیسے کوئی عاصی کہے یا موسیٰ (علیہ السلام) کو اجیر یا یونس (علیہ السلام) کو ظالم تو یہ ہرگز جائز نہ ہوگا جبکہ ایسے الفاظ اپنے قریبی فوت شدہ مسلمان کے لیے بھی جائز نہیں تو انبیاء کرام (علیہ السلام) کا مرتبہ تو بہت بلند ہے چناچہ آپ زمین پر آئے اور جبرائیل امین (علیہ السلام) نے کھیتی باڑی کرنا اور کھانا کپڑا بنانا سکھایا ۔ ارشاد ہوا اب تم سب یہاں سے زمین پر جاؤ مگر یاد رکھو تمہاری آپس میں دشمنی چلتی رہے گی اور میرے طرف سے ہدایات بھی نصیب ہوں گی میرے نبی میری کتابیں لائیں گے تو جس کسی نے ان سے روگردانی کی اور میری یاد کو بھلا دیا وہ دو طرح کے عذابوں میں مبتلا ہوگا اول اس کی روزی تنگ کردی جائے گی یہاں مت بھولیے کہ اس تنگی سے مال کی تنگی یا مشکلات مراد ہیں وہ تو سب سے زیادہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اور اولیاء اللہ کو پیش آتی ہیں مگر ان کے قلوب کبھی پریشان نہیں ہوتے برخلاف بدکار کے کہ اس پر دولت کی بارش بھی ہو تو بھی دل نہیں بھرتا اور مزید لالچ اس کا سکون حرام کئے رکھتا ہے اور اکثر جمع کرتے کرتے مر جاتے ہیں مگر عجیب و غریب امراض انہیں کبھی چین کا سانس نہیں لینے دیتے جبکہ اہل اللہ کے قلوب ہر حال میں انوارات الہی سے منور اور پرسکون ہوتے ہیں اور دوسرا عذاب یہ ہوگا کہ روز حشر اٹھیں گے تو اندھے ہوں گے اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے پروردگار ہمیں اندھا کر کے کیوں اٹھایا ہم دنیا سے تو روشن آنکھیں لائے تھے ارشاد ہوگا دنیا میں تیرے پاس میری نشانیاں آئیں میرے نبی آئے اور میری کتابیں بھی لائے مگر تو انہیں دیکھنے سے الگ رہا بیشک آنکھ دنیا کے سب کاموں کے لیے بھی تھی مگر اس کی اصل افادیت تو میری عظمت کو دیکھنا تھا جسے تو بھول گیا تو آج ہم نے تجھے بھلا دیا اور آنکھوں سے محروم کردیا بھولنا اللہ جل جلالہ کی عظمت کے خلاف ہے لہذا جہاں بھی ایسے سلبی الفاظ ذات باری کی طرف منسوب ہوں گے ان سے معنی بعید مراد لیا جاتا ہے یعنی بھولنے کا نتیجہ مراد لیا جائے گا ۔ جو بھی حد سے بڑھے گا ایمان کی حدود سے باہر ہوگا اور اللہ جل جلالہ کی آیات پہ ایمان نہ لائے گا اسے ایسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور یہ تو برزخ یا میدان حشر کی بات ہے اس سے آگے ہمیشہ کی زندگی ہے جس کے عذاب اس سے بہت سخت بھی ہوں گے اور کبھی نہ ختم ہونے والے بھی ۔ اگر یہ اپنی دنیا کی دولت اور عیش پہ نازاں ہیں تو انھیں اپنے سے پہلی قوموں کا انجام نظر نہیں آتا جن کے کھنڈروں سے یہ گذرا کرتے ہیں اور تاریخ جن کے احوال سے بھری پڑی ہے ، ان کے وسائل بھی بہت زیادہ تھے مگر گمراہی کے نتیجہ میں انہیں تباہ کردیا گیا اور ایسے ہلاک ہوئے کہ کچھ باقی نہ بچا ان باتوں میں عقلمند لوگوں کے لیے بہت سامان عبرت ہے۔