Ayahs 20:25–54(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض حضرات پر رب جلیل کا خصوصی کرم ہوتا ہے تو وہ ہر موضوع پہ تکان بولے چلے جاتے ہیں حالانکہ بظاہر انہوں نے کہیں سے وہ تعلیم حاصل نہیں کی ہوتی ، دوسری دعا کی کہ میرا کام آسان کردیجئے کہ معاملات کو آسان کرنا آپ ہی کو زیبا ہے ، انسان کتنا کامل اور بااختیار بھی ہو جو اسباب بھی اختیار کرے گا ان میں اثر تو آپ ہی پیدا فرمائیں گے ، نیز میری زبان کی گرہ کھول دیجئے یعنی مجھے صرف یہ نہ ہو کہ علوم سے سینہ بھرا ہو مگر فقیر کا اتفاق ان سے نہیں اس کہ جب فرعون سے باتیں ہوئیں تو اس نے کہا (آیت) ” ولا یکاد یبین “۔ یہ کھل کر بات تو کر نہیں سکتا نیز آپ نے ہارون (علیہ السلام) کے بارے میں خود عرض کیا (آیت) ” ھو افصح منی لسانا “۔ کہ وہ بات کرنے میں مجھ سے فصیح تر ہے تو خوبصورت بات یہ ہے کہ آپ نے یہ دعا کی کہ جو علوم میرے سینے میں ہوں وہ بیان بھی کرسکوں اور میری زبان ان کی ترجمان بھی ہو ، ورنہ دیکھا گیا ہے کہ بعض حضرات کا سینہ تو علوم سے پر ہوتا ہے اور عمر بھر پڑھتے پڑھاتے رہتے ہیں مگر سٹیج پر بیان نہیں کرسکتے یا اہل اللہ میں سے بعض حضرات کو وافر علوم نصیب ہوتے ہیں مگر دوسروں تک پہنچا نہیں سکتے اور بہت ہی خوش نصیب وہ معدود حضرات ہیں جنہیں علوم بھی عطا ہوئے ہیں اور قوت بیان بھی کہ نوع انسانی ان علوم سے سیراب ہوتی ہے اس کے بعد دعا فرمائی کہ میری بات میں وہ اثر پیدا فرما کہ سننے والے کہ دل میں اتر جائے ۔
(وزیر)
نیز میرا ایک بوجھ بانٹنے والا میرا نائب بھی بنا دے اور میرے خاندان سے بنا ، بارالہا کہ میں اپنے لوگوں سے تو واقف ہوں یعنی کسی بھی بڑے کام کے لیے انسان اپنے نائبین اور معاونین کا محتاج ہوتا ہے اور وزیر نام بھی یہیں سے پڑا کہ وہ امیر کا بوجھ بانٹتا ہے وزیر چننے کے لیے ضروری ہوا کہ امیر اس سے ذاتی طور پر واقف ہو کہ یہ بندہ اس کام کا اہل بھی ہے اور میرا وفا دار ساتھی بھی ہوگا نیز امور سلطنت ہیں سلطنت میں میری قوت ثابت ہوگا ورنہ محض تائید حاصل کرنے کے لیے کہ میری حکومت قائم رہے کسی بھی آدمی کو وزیر بنا دینا ایسا ہی ہے جیسے آدمی بعض اوقات اپنا بوجھ گدھے پر لاد دیتا ہے گدھا بوجھ تو اٹھا سکتا ہے مگر امور دنیا میں رفیق نہیں بن سکتا ایسے ہی برے وزیروں کا گدھا پن امور مملکت کو چلانے میں دست وبازو نہیں بن سکتا ، چناچہ فرمایا میرے خاندان میں بھی میرا بھائی ہارون یہ کام بخوبی نباہ سکے گا آپ اسی کو میری قوت بنا دیجئے اور میرے منصب نبوت و رسالت کی ذمہ داریوں میں شریک فرمائیے کہ ہم مل کر کثرت سے آپ کی تسبیح کرسکیں اور کثرت سے ذکر کرسکیں کہ تو تو ہمارے ہر حال سے واقف ہے ۔
ّ (اجتماعی ذکر)
تو یہاں ثابت ہوا کہ عبادت وتسبیح یا ذکر آدمی اکیلا بھی کرسکتا ہے مگر ساتھی ہوں اور ماحول ایسا مل جائے تو بہت بہتر طور پر کرسکتا ہے نیز اجتماعی ذکر کا فائدہ یہ ہے کہ ہر آدمی کا اپنا ایک تعلق ہے اور اس کی خاص نوعیت ہے جب وہ ذکر کرتا ہے تو اسی طرح کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور ویسے انوارات آتے ہیں دوسرے کے الگ تیسرے کے الگ تو جب کئی لوگ مل کر ذکر کرتے ہیں تو رنگا رنگ انوارات کی بارش ہوتی ہے جن سب سے ہر ایک مستفید ہوتا ہے اور دین کی تبلیغ بھی ضروری ہے ، نبی مبعوث ہی فرعون کو تبلیغ کرنے کے لیے ہوئے مگر ذکر تو خود نبی ولی اور ہر مسلمان کی حیات ہے تبلیغ کے لیے کیا وہ خود زندہ نہ ہوگا اگر خود ذاکر نہ ہوگا تو مردہ تصور ہوگا اور مردے کیا تبلیغ کرسکیں گے ، لہذا یہاں زندگی صحت اور قوت کی تمنا کی ہے جو سب صرف اور صرف اللہ کے ذکر سے نصیب ہوتی ہیں تو ارشاد ہوا موسیٰ ہم نے تیری ساری بات مان لی اور سب دعائیں قبول کرلیں ، سبحان اللہ ! کیا شان کریمی ہے کہ جو مانگا مل گیا حتی کہ اسی آن ہارون (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی ۔
(دعا بھی تقدیر ہوتی ہے)
اور وحی الہی سے سرفراز ہوئے ، سب ذمہ داری کا پتہ چل گیا اور جب موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو وہ کمر ہمت باندھے شہر سے باہر ان کا انتظار فرما رہے تھے ، نبوت تو ازل کو عطا ہوگئی اور نبی چن لیے گئے پھر یہاں دعا کے سبب مبعوث ہوئے ایسے ہی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا جواب نبی رحمت ﷺ کی بعثت ہوئی تو ثابت ہوا کہ دعا بھی تقدیر ہے اور سب فیصلے ہوچکے اگر کسی کام کا سبب دعا نے بننا ہے تو وہ بھی مقدر کردی جاتی ہے اور اب تو آپ دعا کر رہے ہیں مگر ہم نے پہلے بھی آپ پر کس قدر احسان عظیم فرمایا تھا جب آپ درخواست کرنے یا دعا کرنے کے قابل بھی نہ تھے کہ آپ ابھی پیدا ہی ہوئے تھے تو فرعونی سپاہیوں سے قتل کا خطرہ لاحق ہوا جب کہ ہم نے آپ کی والدہ کو الھام فرمایا ۔
(الھام والقائ)
یہ بات پہلے بھی گذر چکی کہ الہام والقاء اولیاء اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور لغت کے اعتبار سے اسے وحی کہا جاتا ہے نہ صرف اہل اللہ کو درختوں پتھروں آگ اور سمندر کو غرض ہر شے کو جیسے فرمایا (آیت) ” واوحینا الی النحل “۔ ہم نے شہد کی مکھی کو الہام کیا ، یہ قسم فطری ہے کہ ہر جاندار جس کام کے لیے پیدا ہوا ہے وہ فطرت میں لے کر آتا ہے دوسرا ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں (آیت) ” وقلنا یا نار کونی بردا “۔ ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈی ہوجا تیسرا ہے ولی کو الہام ہونا ، یہ کمال اتباع نبوت سے عطا ہوتا ہے یا پھر اللہ سے قرب کی کیفیت کا ایک بہت بلند مقام حاصل ہو اور یہ دل میں القا بھی ہوتا ہے ، جیسے ام موسیٰ کو یا فرشتہ آکر بات کرے جیسے حضرت مریم (علیہا السلام) سے ہوئی ، یہ جب سے انسان دنیا میں آیا تب سے ہے اور جب تک رہے گا تب تک اللہ کے بندوں کو نصیب رہے گا ، اس کی شرط اتباع نبوت ہے اور جو بات الہام سے معلوم ہو وہ حدود شرعی کے اندر ہو ورنہ باطل ہوگی نیز جیسے الہام ہو وہ خود اس کا مکلف ہے دوسرے نہیں اور وحی کی دوسری قسم اصطلاحی ہے یہ صرف انبیاء کرام ﷺ کو نصیب ہوتی ہے اور جن کی طرف نبی مبعوث ہو وہ سب ماننے کے مکلف ہوتے ہیں ۔
آپ کی والدہ سے فرمایا گیا کہ بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا کے سپرد کر دو کہ وہ اسے اس کنارے آپ تک پہنچا دے جہاں سے اسے وہ شخص اٹھا لے جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی ۔
(دریا کے لیے بھی حکم موجود ہے)
اس آیہ مبارکہ میں دریا کے لیے بھی بالواسطہ حکم موجود ہے کہ صندوق کو اس خاص مقام پر کنارے لگا دے جہاں شاہی جوڑا غسل کرتا ہے اور دریا کا نظارہ کرتا ہے چناچہ دریا نے واقعی ایسا کیا ، دراصل تمام مخلوق میں ایک قسم کا شعور موجود ہے کہ اپنے رب کا ذکر بھی کرتی ہے ، بات بھی کرتی ہے ، واقعات کو دیکھتی اور جانتی ہے ، روز حشر گواہ بھی ہوگی ، زمین ، پتھر ، درخت ہر شے گواہی دے گی ، اس طرح اللہ جل جلالہ سے حکم پا کر اطاعت بھی کرتی ہے معجزہ کے طور پر نبی اکرم ﷺ پر پتھروں اور درختوں کا سلام پڑھنا ثابت ہے ، پہاڑوں کا آپ کے بارے بات کرنا اور جانوروں کا باتیں کرنا ثابت ہے اور کرامت کے طور پر حضرت عمر ؓ کا نیل دریا کو چٹھی لکھنا اور اس کا بات ماننا بھی ثابت ہے ، چناچہ دریا کی ایک شاخ فرعون کے محلات سے ہو کر گذرتی تھی جہاں بادشاہ اور بیگمات کے غسل وغیرہ کی جگہ بھی تھی دریا نے صندوق ایس جگہ کنارے لگا دیا ، دوسرا بہت بڑا احسان یہ فرمایا کہ خود اپنی طرف سے ایک شان محبوبی ڈال دی یعنی جو بھی آپ کو دیکھتا آپ سے محبت کرنے لگتا اور یہ کمال اہل اللہ میں سے بھی اللہ کریم اپنے خاص بندوں کو عطا فرما دیتا ہے ۔
(اللہ جل جلالہ کے خاص بندوں کو شان محبوبی عطا ہوتی ہے)
انبیاء کرام ﷺ کی عظمت تو جداگانہ ہے اولیاء اللہ میں بھی ایسے بندے ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر دشمن کا دل بھی ہل جاتا ہے اور لوگ ان پر پروانہ وار نثار ہوتے ہیں اور آپ کی تربیت وپرورش محض اللہ جل جلالہ کی ذاتی نگہداشت میں ہوئی ، سبحان اللہ اس کے لیے دشمن سے کام لیا پھر ایک اور احسان فرمایا کہ کسی کا دودھ پینے کو نہ دیا بلکہ اپنی ہی والدہ کو لوٹا دیا اور وہ یوں ہوا کہ جب آپ کا صندوق کنارے پہ لگا تو شاہی کنیزوں نے اٹھا لیا اور فرعون کو اس کے کاہنوں نے کہا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو آپ کی سلطنت الٹ دے گا ، اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا پھر سوال پیدا ہوا کہ اس طرح تو خدمت کرنے کو کوئی نہ بچے گا جبکہ بنی اسرائیل سے اس کی ساری قوم خدمت لیتی تھی تو تجویز ہوا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑ دیے جائیں اور بچیاں سب زندہ رکھی جائیں ، ہارون (علیہ السلام) تو اس سال پیدا ہوئے جس سال بچے قتل نہ ہوتے تھے مگر موسیٰ (علیہ السلام) جس سال پیدا ہوئے وہ بچوں کے قتل کا سال تھا چناچہ اللہ کریم نے ان کی والدہ کو حکم دیا اور یوں فرعون کی تدبیر خاک میں مل گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت ہی اس کے محل میں ہونا قرار پائی کہ سلطنت فرعون کے راز دار بھی ہوں اور شاہانہ تربیت سے آراستہ بھی چناچہ جب کنزیں لے کر گئیں تو فرعون نے تو دیکھتے ہی کہا یہ کسی اسرائیلی نے پھینکا ہوگا ، اسے قتل کیا جائے مگر اس کی اہلیہ جو خود بےاولاد تھی لہذا فطری جذبے سے مجبور ہو کر کہنے لگی کیا خوبصورت بچہ ہے اسے ہم خود پال لیتے ہیں پھر بھلا کیوں دشمن ہوگا فرعون نے اجازت دے دی ، اس نے اگرچہ فطرت سے مجبور ہو کر کی مگر محبت تو نبی سے کی لہذا س کی ہدایت کا سبب بن گئی ۔
(اہل اللہ کی محبت ہدایت کا سبب بن جاتی ہے)
یعنی اہل اللہ سے محبت ہدایت کا سبب بن جاتی ہے اور ان سے عداوت ابدی گمراہی کا باعث جیسے فرعون نے نفرت کی تو اسے کبھی ہدایت نصیب نہ ہوئی ، اب ضرورت پیش آئی کہ آیا کا اہتمام کیا جائے تو موسیٰ (علیہ السلام) کسی خاتون کا دودھ نہ پیتے تھے ، چناچہ تلاش شروع ہوئی تو ان کی بہن جو اسی کھوج میں پھرتی تھی کہ ماں نے بھائی کی خبر رکھنے کو کہا تھا ان کنیزوں سے ملی کہ میں تمہیں ایک خاتون کا پتہ دے سکتی ہوں جو بہت اچھی ہے اور امید ہے اس کی بہتر پرورش کرے گی ، چناچہ اپنی ماں کا پتہ دیا ، جب وہ بلائی گئیں تو آپ نے دودھ پی لیا اور یوں پرورش کے لیے بادشاہ کی طرف سے والدہ کو لوٹائے گئے ، لہذا ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے آپ کو آپ کی ماں کی گود میں لوٹا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہی اور اسے آپ کی جدائی کا دکھ نہ سہنا پڑے ، چناچہ آپ کی پرورش بھی کرتیں اور شاہی خزانے سے تنخواہ بھی پاتیں ، یوں بڑے ہو کرمحل میں پہنچے مگر ایک تو فطری اور خونی رشتہ تھا نیز پرورش بھی بنی اسرائیل میں ہوئی تو آپ کی طبیعت تو ان کی طرف مائل رہتی کہ ایک روز بازار میں ایک فرعونی کو دیکھا جو ایک اسرائیلی کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا آپ نے اس کمزور اور مظلوم کی مدد کرنا چاہی تو جھگڑا ہوگیا آپ نے فرعونی کو مکہ مار دیا وہ مرگیا چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ جب آپ نے ایک قتل کردیا تو ہم نے آپ کو اس مصیبت سے بھی بچایا مگر اب تھوڑی سی آزمائش بھی کی گئی ، ہوا یہ کہ پھر ایک روز اسی اسرائیل کا جھگڑا ہوگیا تو موسیٰ (علیہ السلام) دیکھ کر خفا ہوئے کہ تم ہو ہی فسادی نیز فرعونی کو ہٹانا چاہا وہ ڈر گیا کہ شاید مجھے ماریں گے ، کہنے لگا آپ اس روز والے فرعونی کی طرح مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات سن کر اس فرعونی نے شکایت کردی ، چناچہ فرعون نے آپ کو گرفتار کرکے قتل کرنے کا حکم دے دیا ، جبکہ کسی نے آکر آپ کو خبر دی اور آپ فرعون کی سلطنت ہی سے نکل گئے یہاں اسی آزمائش کا ذکر ہے کہ آپ کو تن تنہا بغیر تیاری کے بھوکا پیاسا اور جان کا خوف لے کر ایک طویل سفر کرنا پڑا جس کی منزل کا بھی پتہ نہ تھا ، یہ سارا واقعہ اپنی جگہ پر الگ سے بیان ہوگا ، یہاں اس کا ذکر مختصرا فرمایا جا رہا ہے مگر احسان فرماتے ہوئے پھر اہل مدین میں پہنچا دیا جہاں آپ دس برس حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ رہے ان کی صاحبزادی سے شادی بھی ہوئی اور یوں پردیس میں اپنا گھر مل گیا اور پھر جب وہ مقرر وقت آیا یعنی آپ کے مبعوث ہونے ، شرف ہم کلامی سے سرفراز ہونے کا ، تو آپ از خود مقام مقررہ پر آپہنچے ۔
(اتقاقات)
گویا ہم محض اس لیے کہتے ہیں کہ پس منظر سے لاعلم ہوتے ہیں اور طے شدہ نظام حیات کا حصہ ہیں یہ بات پہلے بھی گزر چکی ۔
اور میں نے تمہیں اپنی ذات کے لیے منتخب فرما لیا لہذا میرا مقبول اور میرا نبی ہونے کے معجزاتی دلائل لے کر آپ دونوں بھائی جائیں مگر یہ بات یاد رکھیں کہ میری یاد اور میرے ذکر میں پوری طرح متوجہ رہیں ، اس میں سستی نہ آئے ، اللہ جل جلالہ کا بندہ اور اس کا مقبول ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہی ہے کہ ہمہ تن اپنے قول وفعل سے نہ صرف اس کی اطاعت کرتا ہو بلکہ اس کی طرف مجسم دعوت بن جائے ، ۔
(اللہ جل جلالہ کا بندہ ہونے کی دلیل)
نیز جو کمال بھی حاصل ہو اسے اللہ جل جلالہ کی طرف دعوت کا ذریعہ بنائے ، لہذا ولی کی کرامت بھی وہی فعل شمار ہوگا جو دین کی سربلندی کے لیے صادر ہو اور دوسری بڑی دلیل ہے کہ ایسے بندے کو ذکر دوام نصیب ہوجاتا ہے جیسے یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ دونوں بھائی میرے ذکر میں توجہ کم نہ ہونے دیں کہ نبی کا سارا وجود ذاکر ہوتا ہے بلکہ لباس تک حتی کہ جس زمین پر قدم رکھتا ہے اس کے ذرات کو ذاکر بنا دیتا ہے لہذا ذکر چھوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، ہاں یہ ممکن ہے کہ فرعون جیسے ظالم اور متکبر پھر مطلق العنان بادشاہ کے سامنے جائیں جہاں جان کا خطرہ تو پہلے سے ہے پھر اسے اللہ جل جلالہ کی طرف دعوت دے کر بہت بڑا خطرہ بڑھانے والی بات ہے تو ایسا نہ ہو کہ زیادہ توجہ اس بات کی طرف ہوجائے اور ذکر کی طرف توجہ کم ہو بلکہ زیادہ توجہ میرے ذکر کی طرف ہو اور دوسرے درجے میں فرعون کی طرف ، اب جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ صرف عبادت کرنا یا تسبیحات اور تبلیغ ہی ذکر ہے کیا وہ یہ سوچنا پسند فرمائیں گے کہ نبی کبھی عبادت میں کوتاہی نہیں کرتا اور فرعون کے دربار میں اللہ جل جلالہ کا کلام پڑھنے سے بڑی تسبیح کونسی ہے نیز اس سے بڑا تبلیغ کا کیا تصور ہے تو یہ سارا کچھ کیوں کافی نہیں اور پھر وہ کون سا ذکر اتنا اہم ہے کہ اس سارے کام کے ساتھ اس کی طرف پوری طرح متوجہ رہنا ضروری ٹھہرا یقینا یہ ذکر قلبی ہے جو ہمیشہ اللہ جل جلالہ کی معیت کا سبب ہوتا ہے ۔
اب فرعون کے پاس جائیے گویا تبلیغ کے لیے بھی قلب کا ذاکر ہونا ہی بنیادی بات ہے جس کا اپنا دل عامل ہے دوسرے کے دل پہ کیا اثر پیدا کرے گا نیز ارشاد ہوا کہ اب آپ دونوں فرعون کے پاس جائیں کہ وہ گمراہی کی حدیں بھی پھلانگ چکا ہے اور بہت زیادہ بگڑ چکا ہے مگر آپ اس سے بہت شفقت سے بات کیجئے گا اس لیے کہ وہ اگرچہ حد سے گزر چکا ہے مگر آپ اسے نیچے دکھانے یا شکست دے کر شرمندہ کرنے نہیں جا رہے ، بنیادی طور پر آپ کے منصب کا تقاضا اسے ہدایت کی طرف بلانا ہے جس میں اسی کی بہتری ہے ۔
ّ (تبلیغ کے لیے بنیاد)
لہذا آپ محبت ، شفقت اور نرمی سے بات کیجئے گا کہ نفرت اور حقارت تو کسی کو اپنی طرف مائل نہیں کرسکتی ، ہاں محبت و شفقت میں یہ پہلو ہے کہ کبھی دوسرے کے دل میں بھی چنگاری پیدا کر دے اور اس پیار کے سبب ممکن ہے وہ اپنا بھلا سمجھ جائے اور نصیحت حاصل کرے یا اللہ کی نارضامندی سے خوف کھانے لگے ۔
(معیت باری کی برکات)
عرض کی بارالہا ہم تو حاضر ہیں مگر اس بات کا اندیشہ ضرور ہے کہ وہ ظالم بات ہی نہ سنے اور اپنی بک بک شروع کر دے یا بات سننے سے پہلے ہی گرفتاری کا حکم دے کر دربار سے جیل بھیج دے یا قتل کا حکم دے تو ایسے متکبر سے بات کیسے ہوگی کہ اس تک آپ کا حکم اور پیغام پہنچایا جائے فرمایا فکر کی بات نہیں اس لیے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ، سب دیکھتا بھی ہوں اور سنتا بھی ہوں یعنی میری معیت صفاتی تمہیں نصیب ہے کہ دونوں نبی ہو اور ذاکر دل رکھتے ہو لہذا وہ نہ چاہنے کے باوجود بھی بات سنے گا ، چناچہ آپ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچے اور اپنی نبوت کا اعلان فرمایا کہ ہم کسی فائدے کے لیے آئے ہیں نہ ہمیں دو بار سے کوئی غرض ہم تو اس اللہ جل جلالہ کے بھیجے ہوئے نبی ہیں جو تیرا بھی پروردگار ہے یعنی جس نے تجھے پیدا کیا وجود بخشا ، جان دی ، قوت دی ، سلطنت دی اور جس کے پاس تجھے پلٹ کر جانا ہے کہ یہ سب ربوبیت کا تقاضا ہے ، لہذا تجھے ہمارے ساتھ ایمان لانا چاہئے اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل پر تو بہت ظلم ڈھا رہا ہے انہیں آزاد کر دے کہ وہ جہاں چاہیں رہیں انہیں ہمارے ساتھ جانے دے اور اب ان پر ظلم کرنا بند کر دے ۔
(معجزات انبیاء اس زمانے کے صاحب کمال لوگوں سے مقابلے کے لیے ویسے ہی ہوا کرتے ہیں)
رہی یہ بات کہ بھلا ہم اللہ کے نبی ہیں تو اس کا ثبوت کیا ہے ، تو ہمیں اللہ جل جلالہ نے معجزات سے نوازا ہے اور تیری تسلی کے لیے ایسے عجیب امور عطا فرمائے ہیں جو اس کی ذاتی معیت ، عطا اور نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں ، چونکہ اس دور میں جادوگری کا زور تھا تو ایسے معجزات عطا ہوئے جن سے جادوگر بھی عاجز آجائیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طب و حکمت کا عروج تھا تو اندھوں کی بینائی بحال کرنا یا کوڑھی کو تندرست کرنا یا مٹی کے جانور میں پھونک مارنا کہ زندہ ہوجائے حتی کہ مردہ کو زندہ کردینا انکے مقابلے میں تھے اور نبی اکرم ﷺ کا عہد مبارک اپنے اندر بیشمار ایجادات لایا جن کے اثرات انسانی تہذیب پر پڑے اور مختلف اقوام خود کو مہذب کہنے کی مدعی ہیں مگر آپ ﷺ کا عظیم معجزہ اسلامی تہذیب بھی ہے کہ کسی انداز میں کوئی تہذیب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور کسی بھی تہذیب میں اگر کوئی خوبی ہے تو وہ اسلامی تہذیب کو خوشہ چینی ہے کہ جب مسلمانوں کو یہ تہذیب نصیب ہوئی اس وقت ان کے علاوہ ساری انسانیت ان کمالات سے محروم تھی سب نے اسلام کے دامن سے خوشہ چینی کی کاش مسلمان اس بات کو سمجھ پاتا ، لہذا ان معجزات کے اظہار سے ہم تجھ تک یہ بات پہنچانے آئے ہیں کہ سلامتی کا راستہ ہدایت کا راستہ ہے اور گمراہی بالآخر تباہی سے ہمکنار ہوتی ہے تیسری بھلائی بھی اسی چیز میں ہے کہ تو ہدایت کا راستہ اپنا لے ورنہ یہ بات اللہ کریم نے ہمیں بتا دی ہے کہ منہ موڑنے والے اور انکار کرنے والے پر اللہ جل جلالہ کا عذاب ہوگا جس سے وہ ہرگز نہیں بچ سکتا ۔
(انبیاء کرام (علیہ السلام) قوم کو صرف اللہ جل جلالہ کی طرف ہی نہیں بلاتے بلکہ ان کے تمام دنیاوی معاملات کو درست کرنے کی بھر پور سعی فرماتے ہیں)
یہ بھی ثابت ہے کہ نبی صرف تبلیغ کے لیے مبعوث نہیں ہوتے اور نری تبلیغ کا کوئی معنی نہیں جب تک عملی زندگی اور معاملات کا درست حل اور صحیح انداز پیش نہ کیا جائے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہاں صرف دعوت الی اللہ ہی نہیں پہنچائی بلکہ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ بھی کیا اور انہیں عملا اسلامی زندگی اپنانے کا بار اپنے ذمے لیا اور جب فرعون نہ مانا تو اس کی اجازت کے بغیر بھی انہیں لے گئے ، مقابلہ میں فرعون غرق دریا ہوا اور پھر انہیں ملکی معاملات ، سیاسیات کاروبار اور عملی زندگی کے ہر پہلو میں بھی راہنمائی دی صرف عقائد ہی کی تبلیغ پر بس نہیں فرمایا یہی انداز نبی اکرم ﷺ کا تھا لہذا نری تبلیغ پورا کام نہیں ہے ہاں دینی کام کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ضرور ہے ۔
فرعون کہنے لگا تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اور کسی میں اتنی جرات ہے کہ میری طرف قاصد بھیجے اور مجھے اپنی اطاعت کے لیے کہے کہ اس کے دعوے کے مطابق تو اگر کوئی اور رب تھا بھی تو اسکے مقابلے کا نہ ہو سکتا تھا ، کہ وہ خود رب اعلی کہلواتا تھا ۔
(فطری صلاحیت اور جذبہ اللہ جل جلالہ کی عظمت پہ دلیل ہے)
موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو پیدا فرمایا اور انہیں فطری طور پر ایک کام پر لگا دیا یعنی ہر ذرہ اپنی فطرت کے مطابق کام کرتا ہے ، شہد کی مکھی شہد بناتی ہے اور چھتے کا نظام چلاتی ہے ، ہر درخت خاص پھل پھول رس وغیرہ دیتا ہے ، ہر جانور زندگی کا سلیقہ سیکھ لیتا ہے یہ تو اس کی دین ہے لیکن اگر تو رب ہے تو پھر ان کو بدل دے اور آم پر انگور اگا دے یا شب وروز کا نظام بد دے یا کسی خشکی کے جانور کو پانی کا بنا دے ۔
ّ (لاجواب ہونے والا آدمی جھگڑتا ہے)
فرعون لاجواب ہوگیا تو اس نے جھگڑے کی بنیاد رکھی کہ اگر تم سچے ہو اور میرے علاوہ سچا رب دوسرا ہے تو جو لوگ میری خدائی کا عقیدہ رکھتے ہوئے فوت ہوچکے ان کا کیا حشر ہوگا ، اس کا خیال تھا کہ یہ انہیں دوزخی کہیں گے جس پر ان کی اولاد ان سے خفا ہو کر میرے ہی ساتھ رہے گی مگر اللہ جل جلالہ کے نبی بہت وسیع علوم کے حامل ہوا کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میرا معاملہ زندوں سے ہے کہ انھیں دعوت حق دوں اگر نہ مانیں تو انجام بد سے بروقت اطلاع دوں ۔
(مبلغ کو فضول بحث سے احتراز کرنا چاہیے)
مرنے والوں کا معاملہ اللہ سے ہے اور وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے نیز ہر شخص کے اعمال ایک کتاب میں بھی لکھے ہیں اور اللہ جل جلالہ کا علم کامل ہے نہ اسے غلطی لگتی ہے نہ کہیں بھول چوک سرزد ہوتی ہے ، اگر اس کے علم کی عظمت کی جھلک دیکھنا چاہو تو اپنے گرد دیکھو پاؤں کے نیچے زمین ہی کو دیکھ لو کہ ہر ذرے میں کتنی خصوصیات اور کس قدر ہم آہنگی پیدا کردی ، زمین میں رہنے اور جینے کے کتنے اسباب سجا دیے پانی کو بلندیوں سے برسا کر ذرے ذرے کو سیراب کرتا ہے اور پھر لاتعداد اقسام کی سبزیاں پھل اور پھول پیدا ہوتے ہیں لوگ روزی پاتے ہیں اور جانوروں کو پالتے ہیں ذرا اس سارے نظام کو اس کی ترتیب اور کمال کو دیکھو تو ہر صاحب عقل کے لیے اللہ جل جلالہ کی عظمت پہ ڈھیروں دلیلیں موجود ہیں ۔