20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 20:55–76

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

ہم نے تم کو اسی (زمین) میں پیدا فرمایا ہے اور اسی میں تمہیں (بعد موت) لوٹائیں گے اور اسی سے تم کو دوسری بار نکالیں گے

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے اس (فرعون) کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں سو وہ جھٹلاتا اور انکار ہی کرتا رہا

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو تاکہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم بھی ضرور تمہارے مقابلے میں ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک قوت مقرر کرلو کہ نہ تو ہم اسکے خلاف کریں اور نہ تم (یہ مقابلہ ہوگا ایک) ہموار میدان میں

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

انہوں (موسیٰ (علیہ السلام) ) نے فرمایا تمہارے (مقابلہ کے) وعدے کا وہ وقت ہے جس روز (تمہارا) میلہ (نوروز) ہوگا اور یہ کہ (اس دن) لوگ چاشت کے وقت جمع کیے جائیں گے

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

سو فرعون لوٹ گیا (دربار سے) پھر اپنا (جادو) سامان جمع کیا پھر آیا

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں) سے فرمایا کہ وائے تمہاری کم بختی اللہ پر جھوٹ مت باندھو پس وہ تمہیں عذاب سے فنا کریں گے اور جس نے جھوٹ باندھا اور یقینا نامراد رہا

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑنے لگے اور چپکے چپکے باتیں کرتے رہیں

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

(بالآخر متفق ہوکر) کہنے لگے یہ دونوں جادو گر ہیں یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال باہر کریں اور تمہارے عمدہ (مذہبی) طریقہ کو نابود کردیں

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

پس تم اپنی تدبیریں جمع کرلو اور صف باندھ کر (یک جان ہوکر) آؤ اور بیشک آج وہی کامیاب ہے جو غالب ہوا

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یا تو آپ (اپنی چیز) پہلے ڈال دیں اور یا ہم (اپنی چیزیں) پہلے ڈالنے والے بنیں

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا بلکہ تم ہی ڈالو پھر یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان (موسیٰ علیہ السلام) کے خیال میں ان کے جادو کی وجہ سے ایسے آنے لگیں (جیسے) کہ وہ (سانپوں کی طرح) دوڑتی ہوں

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

سو موسیٰ (علیہ السلام) دل ہی دل میں تھوڑے سے خوف زدہ ہوئے

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے فرمایا ڈریں نہیں بیشک آپ ہی غالب ہیں

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور آپ کے داہنے ہاتھ میں جو (عصا) ہے اس کو ڈال دیں ان لوگوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ (عصا) اس سب کو نلگ جائے گا بیشک جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے کامیابی نہیں پائے گا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

پس (یہ سب دیکھ کر) جادو گر سجدے میں گر پڑے کہنے لگے ہم ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے پروردگار پر ایمان لائے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے یقینا وہ تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو میں ضرور تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر تم کو سولی دے دوں گا اور تم کو پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے اس پر ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ پس تمہیں جو فیصلہ کرنا ہو کردو ، بیشک تم صرف اسی دنیا کی زندگی میں حکم دے سکتے ہو

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم یقینا اپنے پروردگار پر ایمان لائے ہیں تاکہو وہ ہمارے گناہ معاف فرمادیں اور (اسے بھی) جو تم نے ہم سے زبردستی جادو کرایا اور اللہ سے بہتر اور باقی رہنے والے ہیں

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بیشک جو شخص مجرم ہو کر اپنے پروردگار کے پاس آئے گا تو یقینا اس کے لئے جہنم ہے نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کی بارگاہ میں ایماندار ہو کر آئے گا یقینا اس نے نیک کام بھی کیے ہوں تو تو ایسے ہی لوگوں کے لئے بند درجات ہیں

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے تابع نہریں بہتی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور جو شخص پاک ہوا اس کا یہی انعام ہے

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے ساتھ وہ سب معجزات بھی فرعون کو دکھلا دیئے گئے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے تھے لیکن اس نے جھٹلایا اور ماننے سے صاف انکار کردیا مگر معجزات ایسے تھے کہ نہ تو انہیں نظر انداز کرنا ممکن تھا اور نہ ہی فرعون کو قید یا قتل کرانے کا حکم دینے کی جرات ہوئی تو کہنے لگا کہ واقعی تمہارا جادو بہت بڑا ہے اور اب آپ چاہتے ہو کہ اس جادو کے زور پر ہم سے ہمارا ملک ہی چھین لو ، (معجزہ اور جادو) یہ دوسری بات فرعون نے پھر حقائق کے خلاف اور محض اپنا بھرم رکھنے کے لیے کی جیسے پہلے کہا تھا کہ پہلے مرنے والوں کا کیا حال ہوا اب تمام معجزات دیکھ کر جو اسے اللہ جل جلالہ کی طرف دعوت دینے کے لیے پیش کیے گئے بات الجھانے لگا کہ یہ جادو ہے حالانکہ جادو محض دنیاوی فوائد اور شہرت وغیرہ کے لیے کیا جاتا ہے اور معجزہ احقاق حق کے لیے ۔ مصر میں بھی وہ جادو کا دور تھا اور فرعون کے پاس بڑے بڑے جادوگر تھے لہذا کہنے لگا کہ ہم آپ کا مقابلہ کریں گے اور ایسا ہی سب کچھ جادو کے زور پر ظاہر کردیں گے جس کو آپ معجزہ کہہ رہے ہیں لیکن اس کے لیے وقت اور مقام مقرر کر دیجئے تاکہ آپ پھر کوئی عذر نہ کرسکیں اور اس مقام اور وقت پر ضرور حاضر ہوں اور ہم تو ہوں گے ہی کہ ہمیں آپ سے مقابلہ کرنا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یوم الزنیہ جو ان کا ایک طرح کا میلہ یا عید کا روز ہوا کرتا تھا وہ مقرر کرلو کہ سب لوگ جمع ہو کر دیکھیں اور چاشت کا وقت رکھو کہ لوگ تیار ہو کر پہنچ سکیں ، فرعون نے یہ بات قبول کرلی اور جادوگروں کو جمع کرنے کا اہتمام کرنے لگا اور پوری تیاری کے بعد مقررہ مقام پر سب کو لے کر آگیا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے بھی بات کی کہ جادوگری کا مقابلہ نہیں نہ کسی فن کا اظہار مقصود ہے بلکہ اللہ جل جلالہ کی طرف دعوت دینے کا کام ہے اور تم اس میں رکاوٹ نہ بنو کہ اسے جادو کہنا اللہ جل جلالہ پر جھوٹ ہے یہ تو اس کے عطا کردہ معجزات ہیں جو اس کے کامل بندوں کو عطا ہوتے ہیں اور جادو محض ایک فن ہے جسے بدکار اور کافر بھی سیکھ سکتا ہے لہذا ایسا کرنے سے ڈر یہ ہے کہ تم پر کوئی آفت ٹوٹ پڑے اور تم عذاب میں مبتلا ہو کر تباہ ہوجاؤ کہ پہلے بھی جس نے اللہ جل جلالہ پر بہتان باندھا وہ تباہ وبرباد ہوا تاریخ ایسے حقائق بتاتی ہے ۔ (وعظ حقائق کو دلائل سے پیش کرنا) اور واقعی آپ کے اس ارشاد نے جادوگروں کو بھی ہلا دیا کہ وعظ تو تھا ہی مگر اس کے ساتھ ایسے دلائل اور تاریخی شواہد کا حوالہ بھی ارشاد ہوا جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا تھا لہذا وہ آپس میں الگ ہو کر خفیہ مشورے کرنے لگے کہ مقابلہ کیا جائے یا نہ ؟ آخر وہ بھی اسی نتیجہ پر پہنچے کہ یہ دونوں بھی جادوگر ہیں مگر ہیں بہت اعلی پائے کے اور اب یہ اپنے جادو سے ایک تو پورے ملک پر قابض ہونا چاہتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ ہمارے قدیم مذہب کو بھی ختم کردینا چاہتے ہیں ، لہذا اب ایسا کرو کہ جس قدر ممکن ہو اپنا جادو جمع کرو اور سب مل کر مقابلجے میں آؤ کہ یہ ذاتی مقابلہ نہیں بلکہ بات قومی ہو چلی ہے اور یہ بھی دیکھ لو کہ آج جو غالب رہا اور جیت گیا وہ غلبہ واقتدار بھی حاصل کرلے گا پھر کوئی اسے روک نہ سکے گا چناچہ اپنے تمام علوم اور تجربات کا حاصل لے کر اور ایک مقصد پہ متفق ہو کر میدان میں اترے مگر ان کے دلوں میں موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کی عظمت پیدا ہوچکی تھی وہ نبوت اور معجزہ کو تو نہ جان سکے ۔ (عظمت انبیاء کرام (علیہ السلام) باعث ہدایت بن جاتی ہے) مگر یہ ضرور جان لیا کہ یہ بھی بہت عظیم ہیں خواہ جادوگر ہی جانا لہذا احترام سے کہنے لگے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ پہلے اپنے کمال کا اظہار کریں گے یا ہمیں اجازت ہے کہ ہم اپنے کمالات دکھائیں تو حضرت نے اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا کرو بھئی تم ہی اپنا کمال ظاہر کرو تو وہ بہت بڑے بڑے رسے اور بڑی بڑی لکڑیاں ساتھ لائے تھے جو انہیں نے میدان میں ڈال دیں ۔ (جادو سے قلب ماہیت نہیں ہوتی) تو ان کے جادو کا کمال یہ تھا کہ دیکھنے والے کے خیال میں وہ سب اژدھے بن کر دوڑنے لگے اور میدان ان سے بھر گیا یعنی وہ اصل میں تو لکڑیاں اور رسیاں ہی تھیں مگر جادو کے اثر سے اژدھے نظر آتی تھیں ، ان کی ماہیت تبدیل نہیں ہوئی تھی یہ اتنا بڑا مظاہرہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی لرز گئے ، انہوں نے مقابل پر ظاہر نہ ہونے دیا ۔ (انبیاء کرام (علیہ السلام) میں بھی فطری تقاضے موجود ہوتے ہیں) مگر بتقاضائے بشریت یہ سب کچھ انہیں بھی بہت ہی بڑا محسوس ہوا ، فورا اللہ جل جلالہ کی طرف سے وحی فرمایا گیا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں نہ آپ پر غالب آسکتے ہیں اور نہ اللہ جل جلالہ کے دین کا راستہ روک سکتے ہیں لہذا فتح آپ کی ہوگی بس آپ اپنا عصا پھینک دیجئے آپ نے عصا پھینکا تو وہ اتنا بڑا اژدھا بن گیا کہ نہ صرف سب پر چھا گیا بلکہ اس نے ان سانپوں اور اژدھوں کو نگلنا شروع کردیا اور پلک جھپکنے میں میدان صاف ہوگیا اس لیے کہ جادوگر کا کھیل تو فریب محض ہوتا ہے اور معجزہ قدرت الہی کا اظہار ، اسی طرح کرامت بھی معجزے ہی کی فرع ہوتی ہے ۔ (عامل اور کامل کا فرق) اور عامل بڑے بڑے عملیات کرکے جو فریب بنتا ہے کامل کی اک نگاہ سے سب زائل اور تباہ ہوجاتے ہیں کہ جادوگر عامل یا آج کی مروجہ زبان میں پروفیسر کہلوانے والے کسی بھی صورت بھلائی حاصل نہیں کر پاتے ، خود ہی بھلائی سے محروم ہوتے ہیں تو دوسرے کو کیا دیں گے۔ (معجزے کا اثر انسانی مزاج اور قلب پہ اس کی اپنی باطنی کیفیت کے مطابق ہوتا ہے ، کوئی ہدایت پاتا ہے اور کوئی مزید گمراہی میں چلا جاتا ہے) جب یہ عجیب و غریب معجزہ ظاہر ہوا تو جادوگر جان گئے کہ یہ جادو نہیں ، اگر یہ جادو ہوتا تو ہمارا جادو ختم کردیتا اور اژدھے پھر سے رسیاں اور لاٹھیاں تو بن جاتے مگر یہاں تو سرے سے ہر شے کا وجود ہی ختم ہوگیا ، پھر سب چیزوں کو نگل لینے کے بعد جب موسیٰ (علیہ السلام) نے پکڑا تو وہی عصا تھا اس کا حجم بھی نہ بڑھا تھا لیکن حق بات یہ ہے کہ یہی دلیل فرعون کے سامنے بھی تھی مگر وہ بھی بھڑک اٹھا جبکہ جادوگر سجدے میں گر گئے وجہ صرف ایک نظر آتی ہے کہ ان کے دل میں احترام ضرور تھا خواہ بنی جان کر نہ سہی مگر صاحب کمال ضرور جانتے تھے جبکہ فرعون کا سیاہ دل نفرت سے اور تاریک ہو رہا تھا لہذا اہل اللہ سے اگر استفادہ نہ بھی کرسکے تو ان کی عقیدت سے دل کو خالی نہ رکھے ، وہ لوگ نہ صرف سربسجود ہوگئے بلکہ انہوں نے اعلان کردیا کہ ہم اسی رب کو مان گئے جو موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کا رب ہے جس کی دعوت لے کر یہ مبعوث ہوئے ہیں اب ایمان کا کمال یہ ہے جو اکثر مفسرین نے نقل فرمایا ہے اور احادیث میں وارد ہے ۔ ّ (کمال ایمان اور توجہ کا اثر) انھیں سجدے میں ہی آخرت اور جنت و دوزخ تک کا مشاہدہ نصیب ہوگیا نیز آئندہ آیات میں ان کا فرعون کے سامنے آخرت کو بیان کرنا ظاہر کرتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی توجہ سے نبی کے علوم ان کے قلوب میں براہ راست داخل ہوگئے ، آخرت کے مشاہدے نے جرات عطا کی اور یوں وہ علوم فرعون پر بھی بیان فرمائے ، یہی وہ کمال ہے جو شیخ یا پیر میں تلاش کیا جانا چاہئے کہ آخرت کا مشاہدہ اور یقین نصیب ہوا اور سینہ دینی علوم کے لیے کھل جائے ، فرعون بھڑک اٹھا اور کہنے لگا اچھا تو میری اجازت کے بغیر تم نے اتنا بڑا اعلان کردیا ، اگر حق ہوتا تو میں خود بھی مانتا تمہیں بھی اجازت دیتا مگر اب سمجھا یہ تو تمہارا استاد رہا ہوگا اور تم نے اسی سے جادو سیکھا اور ساتھ دھوکا کیا اور دراصل وہ خود اس مخلوق کو دھوکا دے رہا تھا جنہوں نے خود یہ سب کچھ دیکھا اب اس کے ساتھ ڈرانا بھی چاہا تو ان کی سزا اسی مجمع میں سنا دی کہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کٹوا کر تمہیں کھجور کے بلند تنوں پر لٹکا دوں گا اور تم سسک سسک کر مرو گے تب تمہیں خبر ہوگی کہ کس کے غصے سے بچنا ضروری ہے اور کون سخت سزا دیتا ہے نیز تمہیں یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ کون بااختیار ہے اور اقتدار کے ساتھ باقی ہے ، وہ فرمانے لگے کہ جو مشاہدہ ہمیں نصیب ہوا اور جن علوم سے ہمارا دل روشن ہوا ان کے مقابل تیری باتوں کی رائی برابر حیثیت نہیں اور تو خود کو رب منواتا ہے اس کے مقابلے میں جو ہم سب کا پیدا کرنے والا ہے ، اب تو ہمیں اس کی معرفت نصیب ہوگئی ہم نے اسے جان لیا تیری کیا مجال ہاں تو جو چاہتا ہے کر گزر کہ وقتی طور پر اور دار دنیا میں اس نے تجھے اختیار بخشا ہے مگر یاد رکھ تیرا فیصلہ صرف دنیا کی زندگی کو متاثر کرے گا اور ہمارے نزدیک اس کا خاتمہ اس کی بارگاہ میں حاضری کا ذریعہ ہوگا ، وہ عظیم رب جسے ہم نے مان لیا اور اب صرف ایک تمنا ہے کہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور یہ آخری گناہ کہ تیرے کہنے پر تیرے شاہی دبدبے سے مرعوب ہو کر اس کے محبوب کے مقابل جادو کرنے کے لیے آئے اور یاد رکھ اللہ جل جلالہ ہی کی طرف سب خیر ہے اور وہی ہمیشہ رہنے والا ہے تو فانی بھی ہے اور خیر سے محروم بھی اور یہ بھی سن رکھ کہ اس کی بارگاہ میں جو نافرمانی کرتا ہوا پہنچے گا وہ اسے جہنم میں پھینکے گا جہاں نہ تو اس کو موت آئے گی اور نہ زندگی کا کوئی تصور ہوگا ، اب بھی وقت ہے سوچ لے جو بھی ایمان قبول کرے گا اس کے نبیوں کی اطاعت اختیار کرے گا اللہ جل جلالہ اسے بہت بلند مقامات عطا فرمائے گا اور ایسے ہمیشہ کے شاداب اور خوبصورت باغوں میں رہے گا جن میں نہریں جاری ہوں گی اور اسے کبھی وہاں سے نکالا نہ جائے گا جس نے بھی دل کا تزکیہ کرلیا اور نور ایمان سے دل منور کرلیا اسے ایسے ہی انعامات نصیب ہوں گے اور یوں وہ حق کے نقیب جو طلوع ہونے والے سورج نے فرعون کے جادوگروں کی صورت دیکھے تھے وقت غروب اسے موسیٰ (علیہ السلام) کے شہدا کی صورت میں نظر آرہے تھے ۔
Ayahs 20:77–89

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ ہمارے ان بندوں (بنی اسرائیل) کو راتوں رات لے جائیے پھر ان کے لئے سمندر میں (عصا) مار کر خشک راستہ بنادیں تاکہ آپ کو کسی قسم کے تعاقت کا اندیشہ نہ رہے اور (پکڑے جانے) کا ڈر

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پس فرعون اپنے لشکروں کو لے کر ان کے پیچھے گیا تو سمندر (کی موجوں) نے انہیں ڈھانپ لیا (غرق کردیا) جیسا کہ ان کو ڈھانپنا تھا

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ نہ دکھائی

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! بےشکہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور ہم نے تم سے (تمہارے پیغمبر سے) طور کی داہنی جانب (آنے) کا وعدہ فرمایا اور (وادی تیہ میں) ہم نے تم پر من اور سلویٰ نازل فرمایا

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

ہم نے جو پاکیزہ چیزیں تم کو دی ہیں ان سے کھاؤ اور اس (کھانے) میں حد سے مت گزرو کہیں پھر ایسا نہ ہو کہ تم پر میرا غضب نازل ہوجائے اور جس پر میرا غضب نازل ہوا پس یقینا وہ ہلاک (گیا گزرا) ہوگیا

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور یقینا میں ایسے لوگوں کو بخشنے والا (بھی) ہوں جو توبہ کرلیں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں پھر (اسی) راہ پر (قائم بھی) رہیں

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی ؟

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

عرضٗ کیا وہ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور اے میرے پروردگار ! میں نے آپ کی طرف (آنے میں) جلدی اس لئے کی تاکہ آپ راضی ہوں

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

ارشاد ہوا تو ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈالا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

پس موسیٰ (علیہ السلام) غصہ (اور) غم میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے فرمانے لگے الے میری قوم ! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے ایک اچھاوعدہ نہ فرمایا تھا تو کیا تم پر (میعاد مقررہ سے کچھ) زیادہ زمانہ گزر گیا تھا یا تم نے چاہا کہ تم رپ تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو پس اس لئے تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا ؟

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم نے آپ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف اپنے اختیار سے نہیں کیا و لیکن قوم (قبط) کے زیور سے ہم بوجھ اٹھائے ہوئے تھے سو اس کو ہم نے (سامری کے کہنے پر آگ میں) ڈال دیا پھر ایسے ہی سامری نے بھی ڈال دیا

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر اس نے ان لوگوں کے لئے ایک بچھڑا (بناکر) نکالا (وہ) ایک قالب (تھا) جس میں ایک (بےمعنی) آواز تھی تو لوگ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے یہی تمہارا معبود ہے اور یہی موسیٰ (علیہ السلام) کا (بھی) معبود ہے پس وہ بھول گئے ہیں۔

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

پھر کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے تھے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ اس کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔ (اہل اللہ سے نسبت کی برکت) گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے پیدا ہوجائیں گے ، پانی اس طرح راستے چھوڑ دے گا کہ راستے میں نمی اور پانی کا اثر بھی نہ ہوگا نیز یہ خبر بھی دے دی کہ فرعون سے پکڑے جانے کا خطرہ بھی نہ جانیں وہ آپ کو پکڑ نہیں سکے گا اور نہ کوئی اور اندیشہ غرق وغیرہ کا کریں ، بس آپ اللہ جل جلالہ کے بھروسے پہ نکل کھڑے ہوں ، چناچہ آپ بنی اسرائیل کو لے کر رات کو نکل پڑے علی الصبح فرعون کو خبر ہوئی تو فورا بہت بڑا لشکر لے کر پیچھے لپکا تب تک یہ لوگ سمندر کے کنارے پہنچ چکے تھے دوسری جگہ ارشاد ہے کہ لوگ پکار اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے حوصلہ دیا اور فرمایا رب کریم میرے ساتھ ہے نیز سمندر پہ عصا مارا تو بارہ راستے پیدا ہوگئے ، درمیان میں پانی کی دیواریں کھڑی تھیں چناچہ ہر قبیلہ ایک راستے پر ہو لیا کہ ایک دوسرے کو دیکھتے اور بات بھی کرتے جاتے تھے فرعون جب پہنچا تو یہ لوگ سمندر کے اندر تھے ، اس نے بھی لشکر پیچھے ڈال دیا ، جب وہ لوگ درمیان میں پہنچے تو بنی اسرائیل پار اتر چکے تھے چناچہ پانی آپس میں مل گیا اور ان کو یوں ڈبویا کہ کوئی بھی نہ بچ سکا اور خود فرعون مع لشکر کے تباہ ہوگیا نیز صرف دنیا کی تباہی نہ تھی بلکہ اس نامراد نے تو پوری قوم کو گمراہ کرکے تباہی سے دوچار کردیا اور انھیں کوئی راستہ نہ دکھا سکا ، ان کی آخرت بھی برباد کردی ۔ اور ارشاد ہوا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہارے بہت ظالم دشمن کو تباہ کرکے تمہیں اس کے ستم سے نجات دے دی ، پھر مزید انعام یہ ہوا کہ ارشاد ہوا طور پہاڑ کی دائیں وادی میں پہنچو کہ تمہیں کتاب عطا ہو اور پھر جب تم اس کے بعد وادی تیہ میں سرگرداں تھے تم پر آسمان سے پکے پکائے کھانے من وسلوی نازل فرمایا اور ارشاد فرمایا یہ یہ لذیذ کھانے ضرور کھاؤ مگر حد سے نہ بڑھو یعنی کھا کر نافرمانی نہ کرو یا ایک دوسرے سے چھپانا شروع نہ کر دو یا چھینا چھپٹی نہ کرو ورنہ پھر میرا غضب تمہیں آلے گا اور جس پر اللہ جل جلالہ کا غضب نازل ہو وہ تباہ ہوجاتا ہے لیکن جو توبہ کرے عقیدہ صحیح کرے اور عمل بھی درست کرلے تو اللہ کریم بہت بڑا بخشنے بھی والا ہے ۔ (مجاہدہ ضروری ہے) اب موسیٰ (علیہ السلام) شوق میں آگے نکل گئے اور ہارون (علیہ السلام) کو اپنے پیچھے امیر مقرر فرمایا کہ قافلہ تو اپنی رفتار سے چلے گا کہ انھیں حکم تھا طور پر پہنچ کر تیس روزے رکھیں پھر دس اور بڑھا کر چالیس کردیئے گئے تب کتاب عطا ہوئی یعنی حصول برکات کے لیے مجاہدہ ضروری ہے مگر بنی اسرائیل اس وادی تک نہ پہنچے کہ مفسرین کرام کے مطابق وہ پیچھے اختلاف میں مبتلا ہو کر رک گئے اور نہ جانے کا فیصلہ کرلیا تو اس جرم میں مصیبت میں گرفتار ہوئے کہ سامری نامی ایک جادوگر بھی ساتھ ساتھ جو بظاہر مسلمان بنا ہوا تھا اس نے ایک بچھڑا بنا کر انھیں اس کی پوجا کی دعوت دی تو کچھ لوگوں نے اسے پوجنا شروع کردیا ۔ (اللہ اور اس کے رسول کا حکم توڑنے سے دین اور دنیا دونوں میں مصیبت آتی ہے) ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا کہ آپ قوم سے آگے چلے آئے آخر وجہ کیا تھی عرض کیا اے اللہ وہ بھی پہنچنے والے ہوں گے میرے پیچھے ہی تھے اور مجھے تو ذوق حضوری بھگا کرلے آیا تو اللہ کریم نے اطلاع دی کہ انہوں نے آنے کا فیصلہ ترک کردیا تھا لہذا ہم نے انھیں امتحان میں ڈال دیا اور یوں سامری نے انھیں گمراہ کردیا اور اب ان میں سے کچھ لوگ بچھڑے کی پوجا کر رہے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت دکھ بھی ہوا اور بہت خفا بھی ہوئے اور غصے میں بھرے ہوئے پلٹے قوم کے پاس پہنچے تو وہی حال یہاں دیکھا تو فرمایا اللہ جل جلالہ نے تم سے کتنا خوبصورت وعدہ فرمایا تھا کہ وادی میں پہنچو تو تم وہ بھول ہی گئے ، کیا اس پہ کوئی لمبا زمانہ بیت گیا تھا یا بدبختی کے باعث تم نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اللہ جل جلالہ کا غضب حاصل کیا جائے اور وعدہ توڑ دیا اور سفر ختم کر کے بیٹھ رہے ، تب انھوں نے کہا ہم نے بخوشی تو ایسا نہیں کیا واقعہ ہی عجیب رونما ہوگیا کہ ہمارے پاس فرعون کی قوم کے بہت سے زیورات تھے ہم نے وہ ضائع کرنے کے لیے آگ میں ڈال دیئے ہمیں ہارون (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ اس طرح تو کافر کا مال لینا بھی گناہ ہے ۔ لہذا اسے ایک جگہ گلا کر اکٹھا کر رکھو پھر جیسے ارشاد ہوگا موسیٰ (علیہ السلام) آلیں تو ویسا عمل کیا جائے گا ، مگر اس میں سامری نے بھی کچھ ڈالا ، دوسری جگہ ارشاد ہے کہ اس نے جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدموں سے مٹی اٹھا لی تھی کہ اس نے اس میں حیات کا ہونا مشاہدہ کیا تھا جہاں گھوڑے کا قدم پڑتا روئیدگی ہوجاتی ، چناچہ ایک جسم بچھڑے کا بنا کر نکالا جس میں سے آواز نکلتی تھی ، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ محض بت تھا اور اس میں سوراخ تھے ، ان سے جب ہوا گذرتی تو آواز پیدا ہوتی مگر یہ بات ہو تو پھر سامری کے کچھ ڈالنے کا کیا معنی ، لہذا اکثر مفسرین کے مطابق اس بت میں زندگی کے آثار تھے جن میں سے ایک اثر یہ تھا کہ وہ آواز نکالتا تھا تو اس نے کہہ دیا کہ یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی جو بچھڑے سے بول رہا ہے موسیٰ (علیہ السلام) بھول کر کہیں اور چلے گئے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے اگر آواز نکلتی بھی تھی تو کون ان کی آواز سن کر جواب دے رہا تھا یا ان کے کسی نفع ونقصان کا مالک ہو چلا تھا محض ایک عجیب شے دیکھ کر یا ایک عجیب بات کا مشاہدہ کرکے انہوں نے معبود مان لیا ۔