23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsانوار البیان

Ayahs 23:117–118

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

(23:117) یدع۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب دعاء ودعوۃ مصدر (باب نصر) مجزوم بوجہ جملہ شرطیہ کے ہے اصل میں یدعوا تھا۔ من یدع جو پکارے گا (مدد کے لئے یا عبادت کے لئے) لا برھان لہ بہ۔ میں لہ یعنی پکارنے والے نزدیک۔ بہ جس کو پکارا گیا ہو اس کے حق میں۔ یعنی اس (غیر اللہ کو معبود) پکارنے والے کے پاس (اس غیر اللہ کی بابت معبود پکارنے کی) کوئی دلیل نہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہیولا تقف ما لیس لک بہ علم (17:36) اور اس چیز کے پیچھے مت ہو لیا کر جس کی بابت تجھے (صحیح) علم نہ ہو۔ لا برھان لہ بہ۔ جملہ معترضہ ہے۔ جملہ شرطیہ اور جملہ جزا کے درمیان ۔ یا جملہ اول کی تاکید میں لایا گیا ہے۔ فانما حسابہ عند ربہ۔ جملہ جزائیہ ہے۔ انہ۔ ضمیر شان ہے ای ان الشان لا یفلح الکافرون۔ شان یہ ہے کہ کافروں کو فلاح نہیں ہونے کی۔ بیشک (حقیقت یہ ہے ۔ یقینا) حق کا انکار کرنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔