Ayah 23:41(23:41) الصیحۃ۔ دراصل صحیح کے معنی آواز پھاڑنا کے ہیں۔ لکڑی چرنے یا کپڑے پھٹنے سے جو زور کے جھراٹے کی آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کے نکلنے کو الصیاح کہتے ہیں۔ اس سے صیحۃ ہے بلند آواز، چیخ۔ پھر چیخ چونکہ گھبراہٹ کا باعث ہوتی ہے اس لئے صیحۃ بمعنی گھبراہٹ یا عذاب بھی استعمال ہوتا ہے۔
الصیحۃ بمعنی چیخ۔ کڑک۔ ہولناک آواز۔ چنگھاڑ ہے۔ یہ صاح یصیح (ضرب) کا مصدر ہے اور حاصل مصدر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ صیحۃ صور (نرسنگھے) میں پھونکنے کی آواز کو بھی کہتے ہیں۔ صحیح مادہ۔ بالحق۔ یہ اخذتہم سے متعلق ہے یعنی وعدہ برحق کے موافق (چنگھاڑنے انہیں آلیا) ۔
غثائ۔ ہانڈی کی جھاگ اور اس کوڑا کرکٹ کو کہتے ہیں جسے سیلاب بہا کر لاتا ہے اور یہ اس چیز کے لئے ضرب المثل ہے جسے (بوجہ بیکارہونے کے ) ضائع ہونے دیا جائے اور اس کی کچھ بھی پرواہ نہ کی جائے۔ غثا یغثوا غثو وغصو (نصر) الوادی۔ نالے میں غثائ۔ یعنی کوڑا کرکٹ کا زیادہ ہونا۔ غثو مادہ۔ غثا یغثی غثیان (باب ضرب) سے بمعنی خبث نفس کے لئے آتا ہے۔ غثت نفسہ اس کی طبیعت خراب ہوگئی یا محاورہ کے طور پر اس کی نیت بد ہوگئی۔
بعدا۔ فعل مقدر کا مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای بعد وابعدا من رحمۃ اللہ تعالی۔ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے۔ بعدا عربی محاورہ میں اسی موقع پر آتا ہے۔ جسے اردو میں ” خدا کی مار “ کہتے ہیں۔
Ayah 23:42(23:42) انشانا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے پیدا کیا۔ انشاء (افعال) سے۔
Ayah 23:43(23:43) ما تسبق من امۃ اجلھا۔ ای ما تسبق امۃ من الامم اجلھا۔ کوئی قوم اپنی میعاد سے آگے نہیں بڑھ سکتی (پیش دستی نہیں کرسکتی) سبقت آگے بڑھنا۔
ما یستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال) وہ دیر نہیں کرسکتے ضمیر جمع کا مرجع امۃ ہے جو باعتبار معنی جمع ہے۔
Ayah 23:44(23:44) تترا۔ ای یتبع بعضہم بعضا۔ یکے بعد دیگرے ۔ پے درپے۔ متواتر تتر سے جس کے معنی کسی شے کے پے در پے آنے کے ہیں۔ الف تانیث کا ہے فرا کے نزدیک یہ تنوین کے عوض آیا ہے۔ جاء القوم تتری لوگ پے در پے آئے۔ اس کی اصل وتری ہے ایک ایک کر کے آنا۔
کلما۔ جب کبھی۔ یہ لفظ کل اور ما سے مرکب ہے۔ اس ترکیب میں لفظ کل ظرفیت کی وجہ سے ہمیشہ منصوب ہوتا ہے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے آیۃ ہذا یا کلما دعوتہم (71:7) جب کبھی میں نے ان کو دعوت دی (بلایا) ۔
امۃ۔ ای الی امۃ رسولھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب امت کے لئے ہے ! کذبوہ میں ضمیر جمع مذکر غائب امۃ (بمعنی جمع افراد امت) کے لئے ہے ہ کا مرجع رسول ہے۔ جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول (تبلیغ حق کے لئے ) آیا۔ اس امت (کے افراد نے اس کی تکذیب کی۔ احادیث۔ احدوثۃ کی جمع۔ اس کے معنی ہیں قصے کہانیاں۔ وجعلنہم احادیث۔ ہم نے ان کو کہانیاں بنادیا۔ یعنی وہ قصہ ماضی بن کر رہ گئے۔
Ayah 23:45(23:45) سلطن۔ واضح دلیل۔ حجۃ واضحۃ۔
Ayahs 23:46–49(23:46) ملائہ۔ اس کے سردار۔ عالین۔ علو سے اسم فاعل جمع مذکر۔ عالی واحد۔ سرکشی کرنے والے۔ متکبر زبردستی کرنے والے
Ayah 23:50(23:50) اوینھما۔ اوینا ماضی جمع متکلم۔ اوی یؤوی ایواء (افعال) کسی کو جگہ دینا۔ ٹھکانہ دینا۔ رہنے کا مقام دینا۔
اوی یاوی (ضرب) اوی واوائ۔ البیت والی البیت۔ گھر میں اترنا۔ گھر میں پناہ لینا۔ ماوی ٹھکانہ۔ جائے پناہ۔ اوی مادہ۔ ھما ضمیر مفعول تثنیہ مؤنث غائب۔ اوینہما ہم نے ان دونوں کو پناہ دی۔
ربوۃ۔ بلند جگہ۔ ٹیلہ۔ بلندی۔ اسم ہے۔ ربو۔ ربا سے مشتق ہے اس کی جمع ربی وربی ہے اس بلند مقام سے کون سی جگہ مراد ہے اس میں مختلف قول میں۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد دمشق ہے۔ بعض کے الرملۃ (فلسطین میں) اور بعض کے نزدیک اس سے مراد بیت المقدس یا مصر ہے !
ذات قرار۔ رہائش کے قابل۔ ٹھہرنے کے قابل ۔ سرسبز و شاداب جگہ۔ وذات معین۔ جس میں پانی کے چشمے تھے۔ معین ای ماء معین جاری پانی۔ ذات قرار ومعین۔ صفت ہے ربوہ کی۔ معین العین (آنکھ ) سے مشتق ہے۔ عین کا لفظ استعارۃ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ جو کہ مختلف اعتبارات سے آنکھ میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً :۔
(1) مشکیزہ کے سوراخ کو بھی عین کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ہیئت اور اس سے پانی بہنے کے اعتبار سے آنکھ کے مشابہ ہوتا ہے۔
(2) جاسوس کو بھی عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دشمن پر آنکھ لگائے رہتا ہے۔
(3) پانی کے چشمہ کو بھی عین کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے پانی ابلتا ہے جس طرح کہ آنکھ سے آنسو کا پانی جاری ہوتا ہے اور عین الماء سے ماء معین کا محاورہ لیا گیا ہے۔ جس کے معنی جاری پانی کے ہیں جو صاف طور چلتا ہوا دکھائی دے۔ اور عین کے معنی جاری چشمہ کے ہیں۔ علامہ بغوی (رح) نے لکھا ہے :۔
المعین : الماء الجاری الظاہر الذی تراہ العیون مفعولی من عانہ یعینہ اذا ار کہ البصر۔ یعنی معین سے سے مراد ہے وہ جاری پانی جو ظاہر ہو جس کو آنکھیں دیکھ رہی ہوں۔ عان یعون (آنکھ سے دیکھنا) سے بروزن مفعول ہے اصل میں معیون تھا۔
بعض کے نزدیک یہ معن یمعن (فتح) سے صفت کا صیغہ ہے بروزن فعیل۔ نرم رفتار سے بہنے والا پانی۔
Ayah 23:51(23:51) یایھا الرسل۔ اے (میرے ) پیغمبر و۔ اے (میرے ) رسولو۔ یہ خطاب کس سے ہے۔ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) یہ خطاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہے۔ کیونکہ آیت متصلہ (نمبر 50) میں ان کا ذکر ہے۔
(2) یہ خطاب نبی کریم حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ اور جمع کا صیغہ تعظیماً لایا گیا ہے۔
(3) یہ خطاب نبی کریم ﷺ کے بعد آنے والے نبیوں سے ہے۔
(4) یہ خطاب تمام انبیاء کی طرف ہے۔
اس ضمن میں علامہ مودودی کا وضاحتی نوٹ ملاحظہ ہو :۔
پچھلے دورکوعوں میں متعدد انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب یایھا الرسل کہہ کر تمام پیغمبروں کو خطاب کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سارے پیغمبر یکجا موجود تھے۔ اور ان سب کو خطاب کر کے یہ مضمون ارشاد فرمایا گیا ۔ بلکہ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر زمانے میں مختلف قوموں اور مختلف ملکوں میں آنے والے انبیاء کو یہی تعلیم و ہدایت کی گئی تھی اور سب کے سب اختلاف زمانہ ومقام کے باوجود ایک ہی حکم کے مخاطب تھے۔
بعد کی آیت میں چونکہ تمام انبیاء کو ایک امت ایک جماعت ایک گروہ قرار دیا گیا اس لئے طرز بیان یہاں ایسا اختیار کیا گیا کہ نگاہوں کے سامنے ان سب کے ایک گروہ ہونے کا نقشہ کھینچ جائے گویا وہ سارے کے سارے ایک جگہ جمع ہیں اور سب کو ایک ہی ہدایت دی جارہی ہے ۔
مگر اس طرز کلام کی لطافت اس دور کے بعض کند ذہن لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی اور وہ اس سے یہ نتیجہ نکال بیٹھے کہ یہ خطاب حضرت نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد آنے والے انبیاء کی طرف ہے اور اس سے حضور ﷺ کے بعد بھی سلسلہ نبوت کے جاری ہونے کا ثبوت ملتا ہے تعجب ہے کہ جو لوگ زبان وادب کے ذوق لطیف سے اس قدر کو رہے ہیں وہ قرآن کی تفسیر کرنے کی جرات کرتے ہیں ۔ یعنی مرزائی قادیانی گروہ اس آیت سے غلط استدلال کرتے ہیں۔
Ayah 23:52(23:52) امتکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری جماعت۔ تمہارا گروہ۔
امت کا لفظ اس مجموعہ افراد پر بولاجاتا ہے جو کسی اصل مشترک پر جمع ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) چونکہ اختلاف زمانہ ومقام کے باوجود ایک عقیدے اور ایک دین اور ایک دعوت پر جمع تھے اس لئے فرمایا گیا کہ ان سب کی ایک امت ہے اور بعد کا فقرہ خود بتارہا ہے کہ وہ اصل مشترک کیا تھی جس پر سب انبیاء جمع تھے۔ (تفہیم القرآن) ۔
بعض کے نزدیک امت سے یہاں مراد دین یا مسلک ہے۔ امتکم۔ ای ملتکم وشریعتکم (روح المعانی) امتکم مضاف مضاف الیہ مل کر ان کی خبر ہے جب کہ ھذہ ان کا اسم ہے۔ امۃ واحدۃ موصوف وصفت دونوں مل کر امتکم سے حال ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ جملہ مستانفہ ہے۔
فاتقون۔عاطفہ مع ترتیب ہے اتقوا فعل امر جمع مذکر حاضر ن وقایہ اور ی متکلم کی محذوف ہے۔ سو تم مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔
فائدہ :۔ آیت 51 اور آیت 52 میں کلوا من الطیبت اور اعملوا صلحا اور فاتقون میں امر کے مخاطبین الرسل ہیں مگر ساتھ ساتھ یہ حکم ان کے پیروئوں کے لئے بھی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے قال رسول اللہ ﷺ یایھا الناس ان اللہ تعالیٰ امر المؤمنین بما امر بہ المرسلین فقال (یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صلحا) وقال یایھا الذین امنواکلوا من طیبت ما رزقنکم۔۔ الخ رواہ ابوہریرہ۔
Ayah 23:53(23:53) فتقطعوا :ترتیب کا ہے تقطعوا ماضی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ تقطع (تفعل) سے اور تقطع بمعنی قطع ہے جیسے تقدم بمعنی قدم۔ یعنی انہوں نے کاٹ دیا ۔ انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ انہوں نے توڑ دیا۔
امرہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ امر بمعنی معاملہ۔ کام۔ حکم۔ امرہم ای امر دینہم۔ زبرا۔ الزبرۃ لوہے کی بڑی سل کو کہتے ہیں اور اس کی جمع زبرآتی ہے جیسے اتونی زبر الحدید (18:96) لوہے کی سلیں مجھے لادو !
کبھی زبرۃ کا لفظ بالوں کے گچھا پر بھی بولا جاتا ہے اور اس کی جمع زبر آتی ہے استعارہ کے طور پر پارہ پارہ کی ہوئی چیز کو بھی زبر کہا جاتا ہے (آیہ ہذا) ۔ زبر بمعنی کتب۔ اوراق بھی آیا ہے اس صورت میں یہ زبور کی جمع ہے جیسے وانہ لفی زبر الاولین (96: 196) اور اس کا ذکر پہلے لوگوں کی کتابوں میں ہے ! زبرا۔ امرہم سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ فتقطعوا امرہم بینہم زبرا۔ پھر انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا۔ ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع گذشتہ پیغمروں کی امتیں ہیں۔
بما لدیہم۔ میں ما بمعنی الذی ہے۔ فرحون۔ فرح کی جمع۔ خوش۔ اترانے والے۔ صفت مشبہ کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ کل حزب بما لدیہم فرحون۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی میں مگن ہے۔
Ayah 23:54(23:54) فذرہم۔ پس چھوڑ ان کو۔ پس رہنے دے ان کو۔ ذر۔ وزر سے (سمع فتح) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے اس کی ماضی نہیں آتی۔ یہاں خطاب حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب ہے جس کا مرجع اہل قریش یا جملہ کفار مکہ ہیں۔ غمرتہم۔ مضاف مضاف الیہ ای جھا لتہم او حیرتہم او غفلتہم او ضلالتہم۔ بقول صاحب مفردات غمرۃ اس پانی کثیر کو کہتے ہیں جس کی تہ نظر نہ آئے اور یہ اس جہالت کے لئے ضرب المثل ہے جو آدمی پر جھا جاتی ہے۔ اور قرآن نے فاغشینہم وغیرہ الفاظ سے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حتی حین۔ کچھ وقت تک۔ ای الی وقت موتہم۔ ان کی موت تک۔
Ayah 23:55(23:55) ایحسبون۔ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے یحسبون۔ مضارع صیغہ جمع مذکر غائب ہے حسبان مصدر سے (باب سمع ) کیا وہ خیال کرتے ہیں۔ کیا وہ گمان کرتے ہیں۔ نمدہم۔ نمد مضارع جمع متکلم امداد مصدر (باب افعال ) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان کو دیتے ہیں۔ ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔
Ayah 23:56(23:56) نسارع مضارع جمع متکلم مسارعۃ مصدر (باب مفاعلۃ) ہم جلدی کررہے ہیں سرعۃ جلدی۔
فائدہ :۔ آیۃ 55 ۔ 56 میں ایحسبون میں ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ انما میں ما موصولہ بمعنی الذی ہے اور ان کا اسم ہے من مال وبنین موصولہ کا بیان ہے۔ نسارع لہم فی الخیرات خبر ہے ان کی اور اس کا مرجع اسم محذوف ہے۔ گویا تقدیر کلام یوں ہے :۔
ایحسبون ان الذی نمدہم بہ من المال والبنین نسارع بہ لہم فیما فیہ خیرہم۔ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو مال واولاد سے ان کو مدد دئیے جا رہے ہیں ہم ان کو بھلائی پہنچانے کی خاطر جلدی کر رہے ہیں۔
Ayahs 23:57–59(23:57) خشیتہ۔ خشیتہ۔ خوف۔ اندیشہ۔ خشیۃ ان مبادا کہ۔ ایسانہ ہو کہ :۔
مشفقون۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ اشفاق مصدر۔ ڈرنے والے۔ الشفق۔ غروب آفتاب کے وقت دن کی روشنی کا رات کی تاریکی میں مل جانے کو شفق کہتے ہیں۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے فلا اقسم بالشفق (64:16) مجھے شام کی سرخی کی قسم۔ جو محبت اور کوکے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں۔
الاشفاق ( افعال) ایسی محبت کرنا جس میں ڈر بھی لگا ہوا ہو۔ اگر من کے واسطہ سے متعدی ہو تو خوف کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔ اور اگر علی یا فی اس کے بعد میں مذکور ہو تو محبت کا معنی نمایاں ہوتا ہے۔ جیسے اشفق علی الصغیر۔ اس نے چھوٹے پر رحم کھایا۔
Ayah 23:60(23:60) یؤتون۔ مضارع جمع مذکر غائب وہ دیتے ہیں۔ ایتاء سے اتوا ماضی جمع مذکر غائب ایتاء مصدر۔ یؤتون ما اتوا۔ وہ جو کچھ بھی دیتے ہیں۔ جو عطیہ بھی وہ دیتے ہیں ۔ وجلۃ۔ صفت مشبہ واحد مؤنث وجل مذکر۔ وجل مصدر (باب سمع) خوف زدہ ڈرنے والے۔ ڈرتے رہتے ہیں۔
وقلوبہم وجلۃ (خائفۃ ان لا تقبل منہم لتقصیرہم) میں وائو حالیہ ہے اور جملہ قلوبہم وجلۃ اسم موصول الذین ضمیر سے موضع حال میں ہے اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں دیتے ہیں جو کچھ بھی وہ دیتے ہیں (حال ان کا یہ ہوتا ہے) کہ دل ان کے کانپ رہے ہوتے اس خوف سے کہ (ان کی یہ زکوٰۃ یا صدقہ ) کہیں عدم قبولیت کا شکار نہ ہوجائے۔
انہم الی ربہم راجعون۔ سے قبل لام تعلیلیہ مقدر ہے اور یہ جملہ وجلۃ سے متعلقہ ہے۔ یعنی دل ڈر رہے ہوتے ہیں اس کوسے کہ وہ (ایک دن) اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (اور اس دن حقیقت منکشف ہوگی کہ کونسا عمل قبول ہوا اور کونسا نہ ہوا۔
(2) یا انہم الی ربہم راجعون سے قبل من مقررہ لایا جائے۔ ای وجلۃ من ان رجوعہم الیہ عزوجل۔ کہ دل خوف زدہ ہیں کہ انہوں نے (ایک دن ) اللہ تعالیٰ کے حضور جانا ہے (تو اس وقت حقیقت آشکار ہوگی کہ کون سا عمل قبول ہوا ہے۔
Ayah 23:61(23:61) اولئک۔ وہ لوگ جن کا ذکر آیات 57 ۔ 60 مذکورہ بالا میں ہوا ہے۔ سبقون۔ سبقت لے جانے والے۔ آگے بڑھنے والے۔ سبق سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ لھا میں ضمیر ھا کا مرجع الخیرات ہے۔ وہم لھا سبقون۔ اور وہ بھلائیوں کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں۔ بعض کے نزدیک لام تعلیل کا ہے اور لھا بمعنی لاجلہا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں ہی کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں پر (قیامت کے روز) ثواب حاصل کرنے یا جنت پانے میں سبقت لے جانے والے ہیں۔
Ayah 23:62(23:62) کتب۔ سے مراد نامہ اعمال ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا (18:49) اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری کمبختی اس نوشتہ (نامہ اعمال) کو کیا ہوگیا ہے کہ اس نے (کوئی گناہ) چھوڑا ہی نہیں چھوٹا ہو یا بڑا۔ بعض نے اس سے مراد لوح محفوظ لیا ہے۔ ینطق۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ کتاب بولتی ہے۔
Ayah 23:63(23:63) بل۔ بلکہ۔ لیکن۔ قلوبہم۔ مضاف مضاف الیہ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار ہیں جن کا ذکر اوپر آیات 53 تا 56 میں آیا ہے۔ غمرۃ۔ ملاحظہ ہو اوپر آیت 54 ۔ من ھذا۔ ای من القران۔ یا اس حقیقت سے کہ ان کے جملہ احوال و افعال واقوال درج کئے جا رہے ہیں۔ من ھذا۔ ای من ھذا الدین۔
من دون ذلک۔ دون۔ بمعنی ورے۔ سوائے۔ غیر۔ جو کسی کے نیچے ہوں وہ بھی دون کہلاتا ہے۔
علامہ سیوطی کے نزدیک دون ظرف ہو کر استعمال ہوتا ہے اور فوق کی تقیض ہے ذلک کا مشار الیہ کیا ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) اس کا اشارہ اوپر بیان کردہ مومنین کے اعمال صالحہ ہیں۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ ان کے اعمال مومنوں کے اعمال سے مختلف ہیں۔
(2) اس کا اشارہ ان کے دلوں کا پردہ غفلت میں پڑے رہنے کی طرف ہے (قلوبہم فی غمرۃ) اور ترجمہ یوں ہوگا : اس کے سوا (علاوہ) بھی ان کے (برے) عمل ہیں۔
(3) اس کا اشارہ من ھذا (ای القران) کی طرف ہے اور ترجمہ ہوگا :۔ اور ان کے اعمال قرآن کے معیار سے گرے ہوئے ہیں۔
ہم لھا عملون۔ جو (عمل) یہ کرتے رہیں گے۔ یعنی یہ اعمال خبیثہ یہ لوگ کرتے ہی رہیں گے (یہاں تک کہ ان کے عیاشون کو ہم عذاب میں پکڑ لیں گے) ۔
Ayah 23:64(23:64) مترفیہم۔ مترفی مضاف ہم مضاف الیہ۔ اصل میں مترفین تھا اضافت کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ ان کے عیش پرست۔ دولت مند اور خوش حال لوگ۔ الترفۃ۔ عیش و عشرت میں فراخی اور وسعت کو کہتے ہیں۔
کہا جاتا ہے اترف فلان فھو مترف۔ وہ آسودہ حال اور کثرت دولت کی وجہ سے بدمست ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے وارجعوا الی ما اترفتم فیہ (21:13) اور جن نعمتوں میں تم عیش و آسائش کرتے تھے ان کی طرف لوٹ جائو۔
اذاہم۔ اذا مفاجاتیہ ہے۔ یجئرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ جئر وجؤار مصدر (باب فتح) الجوار کے اصل معنی وحشت کے ہیں (جیسے ہرن ۔ بیل وغیرہ) کے گھبراہٹ کے وقت زور سے آواز نکالنے اور چیخنے کے ہیں۔ پھر تشبیہ کے طور پر دعا اور عاجزی میں مبالغہ کرنے پر بولا جاتا ہے۔ اذا ہم یجئرون۔ تو وہ چلانے لگیں گے۔
Ayah 23:65(23:65) لا تجئروا فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت چلائو۔ تم مت گڑ گڑائو۔ تم مت فریاوزاری کرو۔ الیوم۔ آج۔ لا تنصرون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم مدد نہیں کئے جائوگے۔ تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔
Ayah 23:66(23:66) تتلی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ تلاوۃ سے۔ تلو مادہ یہاں واحد بمعنی جمع آیا ہے۔ یعنی جب ہماری آیتیں تمہاری سامنے پڑھی جاتی تھیں۔
تنکصون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم بھاگتے ہو۔ تم پھرے جاتے ہو۔ نکوص ہے باب ضرب) النکوض (باب ضرب ونصر) کسی چیز سے پیچھے ہٹنا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے نکص علی عقبیہ (8 ۔ 48) تو پسپا ہو کر چل دیا۔
Ayah 23:67(23:27) مستکبرین۔ تنکصون سے حال ہے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ باب استفعال ۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے۔ مغرور۔
بہ۔ میں ب سببیہ ہے اور ضمیر ہ بیت العتیق یا حرم کے لئے ہے۔ مستکبرین بہ۔ کعبہ شریف کی تولیت و خدمت کی وجہ سے فخرو تکبر کرنے والے (یہ اہل قریش تھے) ۔
سمرا۔ السمر۔ اصل میں رات کی تاریکی کو کہتے ہیں اور اسی سے محاورہ ہے لا اتیک السمر والقمر۔ کہ میں تیرے پاس کبھی نہیں آئوں گا (رات کی تاریکی ہو یا چاند کی چاندنی) پھر رات کو باتیں کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اور سمر فلان کے معنی ہیں اس نے رات کو باتیں کیں۔
سامرا۔ کہانی سنانے والا۔ افسانہ گو ! دستاں سرا۔ سمر مصدر۔ سمر یسمر (نصر) (رات کو باتوں میں گذارنا اور نہ سونا) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے یا الحاج۔ الحاضر، الجاہل ، الباقر کی طرف اسم جمع ہے۔
سمرا یہاں حال ہے ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سمرین ہوتا تاکہ ذوالحلال سے مطابقت ہوتی۔ لیکن یہ اسم مفرد ہے اور جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ تھجرون۔ ھجر یھجر (نصر) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ھجر کے معنی ہیں نامناسب کلام کرنا۔ بدگوئی کرنا۔ بکواس کرنا۔
مستکبرین بہ سمرا تھجرون۔ (خانہ کعبہ کی تولیت و خدمت پر) تکبرو فخر کرتے ہوئے ساری ساری رات (صحن حرم میں) ہزرہ سرائی میں گذار دیتے ہیں۔ یہ سارا جملہ تنکصون سے حال ہے۔
Ayahs 23:68–69(23:68) افلم یدبروا القول۔ میں ہمزہ استفہام انکاری کا وقت ہے۔کلام سابقہ پر عطف کے لئے ہے۔ ای افعلوا ما فعلوا من النکوص والاستکبار والھجر فلم یتدبروا القران لیعلموا بما فیہ۔
کیا ان کا آیات قرآنی سن کر پھرجانا اور تولیت کعبہ پر تکبر وفخر کرنا اور اپنی شبانہ مجلسوں میں قرآن اور فرمان رسول کے متعلق ہرزہ سرائی کرنا (محض جہالت اور ضد کی بنا پر تھا) اور انہوں نے قرآن اور فرمان رسول پر کچھ بھی تدبر نہ کیا۔ القول سے مراد القرآن اور ارشادات رسول کریم ﷺ ہیں۔
لم یدبروا۔ فعل مضارع نفی حجد بلم کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس کا مصدر تدبر (تفعل) ہے اصل میں یتدبروا تھا۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا۔
Ayah 23:70(23:70) جنۃ۔ جنون۔ دیوانگی۔ سودا۔ جن سے مشتق ہے کیونکہ دیوانگی عقل کو چھپا دیتی ہے اس لئے اسے جنۃ کہتے ہیں۔ بہ جنۃ اس کو دیوانگی ہے جنون کا لاحقہ ہے۔ اسے جنون ہے یا وہ سودا کا مریض ہے۔
یا جاء ہم بالحق۔ (ایسا نہیں جیسا کہ وہ خیال کرتے ہیں) بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آیا (حق سے مراد توحید اور دین اسلام ہے یا ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہی ہو۔
Ayah 23:71(23:71) لفسدت۔ لام تاکید کا ہے فسدت ماضی واحد مؤنث غائب۔ تو (آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے) درہم برہم ہوجاتے ۔ تباہ ہوجاتے ۔ اتینہم بذکرہم۔ ہم تو ان کے پاس ان ہی کی نصیحت کی بات لائے تھے۔ ذکر سے مراد القرآن ہے جو ان کے لئے باعث فخرو شرف ہے اور اس میں ان کے لئے موعظت حسنہ ہے۔
معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑنے والے، اجتناب کرنے والے۔ اعراض مصدر۔ باب افعال۔ اعرض لی۔ وہ میرے سامنے آیا۔ اعرض عن۔ اس نے رخ پھیرلیا۔ منہ موڑ لیا۔
Ayahs 23:72–73(23:72) خرجا۔ محصول۔ باج۔ مال۔ اجروجزا۔ اخراج جمع۔ یعنی کیا تم تبلیغ دین کی اجرت طلب کرتے ہو۔
خراج۔ مال۔ حاصل۔ مزدوری۔ خراج۔ مراد یہاں اجروثواب۔ اور اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ قرآن حکیم میں ہے ما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین (26:109 ۔ 127 ۔ 145 ۔ 164 ۔ 180) میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔
Ayah 23:74(23:74) لنکبون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ پھرجانے والے۔ مڑ جانے والے۔ ہٹ جانے والے۔ راہ راست سے منحرف ہونے والے۔ نکب ینکب۔ (نصر) نکب ینکب (سمع ) نکوب مصدر۔ پھرجانا۔ مڑ جانا۔
Ayahs 23:75–76(23:75) ولو رحمناہم۔ اور اگر ہم ان پر رحم (بھی) کریں۔ وکشفنا مابہم من ضر۔ اور (اگر ہم) ان کو جو تکلیف ہے وہ بھی دور کردیں۔ للجوا۔ لجاج ولجاجۃ سے (سمع۔ ضرب) سے ماضی بمعنی مضارع۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ لجاج کسی ممنوع فعل پر اڑ جانے کو کہتے ہیں۔ للجوا۔ وہ ضرور اڑے رہیں گے۔ جمے رہیں گے۔ مصر رہیں گے۔ للجوا فی طغیانہم۔ اپنی گمراہی پر جمے رہیں گے۔ یعمھون عمہ یعمہ (فتح) عمہ یعمہ (سمع) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عمہ عموہ۔ مصدر۔ گمراہی میں بھٹکنا۔
للجوا فی طغیانہم یعمھو۔ پھر بھی یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکنے میں اصرار کرتے رہیں گے۔ ما استکانوا۔ ما نفی کے لئے ہے۔ (استکانوا) ماضی جمیع مذکر غائب۔ باب افتعال۔ سکن مادہ۔ استکان یستکین استکان واستکانۃ عاجزو ذلیل ہونا مسکین عاجز۔
وما یتضرعون۔ اور نہ انہوں نے عاجزی کی۔ صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع معروف ۔ تضرع (تفعل) سے۔ استکانت اور تضرع مرادف نہیں اول کا تعلق ظاہر سے ہے اور ثانی کا قلب سے ہے۔
Ayah 23:77(23:77) مبلسون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مبلس واحد۔ مایوس۔ غمگین۔ پشیمان متحیر۔ خاموش۔ جن کو کوئی بات بن پڑنی ممکن نہیں۔ ابلاس (افعال) مادہ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ویوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون (30:12) اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار مایوس ومغموم ہوجائیں گے۔ بعض کا خیال ہے کہ ابلیس اسی سے مشتق ہے۔
یلس وابلاس، حیرت کی وجہ سے دنگ ہو کر رہ جانا۔ خوف و دہشت کے مارے دم بخود ہوجانا۔ رنج وغم کے مارے دل شکستہ ہوجانا۔ ہر طرف سے ناامید ہو کر ہمت توڑ کر بیٹھنا۔ نامرادی کی وجہ سے برا فروختہ ہوجانا۔ جس کی بنا پر شیطان کا نام ابلیس رکھا گیا۔