23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsانوار البیان

Ayahs 23:78–81

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزاری کرتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب جمع ہو کر جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بات یہ ہے جو اگلے (کافر) کہتے تھے، اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں۔

(23:78) انشا۔ اس نے پیدا کیا۔ انشاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔
Ayahs 23:82–87

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہی تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کس کا مال ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

جھٹ بول اٹھیں گے کہ خدا کا کہو پھر سوچتے کیوں نہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا مالک کون ہے ؟ اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

بےساختہ کہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

(23:82) لمبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ قبروں سے اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ مرنے کے بعد اٹھا کر کھڑا کئے جانے والے۔ ان۔ نافیہ ہے۔ اساطیر۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ سطور کہلاتی ہے۔ اساطیر الاولین۔ پہلے لوگون کی من گھڑت کہانیاں۔ (23:75) افلا تذکرون۔ پھر کیوں تم غور نہیں کرتے۔
Ayah 23:88

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟

(23:88) یجیر۔ مضارع واحد مذکر غائب اجارۃ مصدر (باب افعال) ۔ جور مادہ۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ لا یجار علیہ۔ مضارع مجہول منفی اجارۃ سے۔ اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔ استجارۃ پناہ طلب کرنا۔ پناہ چاہنا۔ الجار۔ پڑوسی۔ ہمسایہ۔ جو پڑوس میں رہے ہمسایہ کہلاتا ہے یہ اسمائے متضائفہ سے ہے۔ یعنی ان الفاظ سے ہے جو ایک دوسرے کے تقابل سے اپنے معنی دیتے ہیں ۔ جیسا کہ اخ۔ صدیق۔ کہ اخوت و صداقت دونوں جانب سے ہوتی ہے کیونکہ کسی کا پڑوسی ہونا اسی وقت متصور ہوسکتا ہے جب دوسرا بھی اس کا پڑوسی ہو۔ چونکہ شرعا وعقلا ہمسائے کا حق بہت بڑا ہوتا ہے اس رعائت سے اس کو بمعنی حامی و مددگار بھی لیا جاتا ہے۔ مثلاً وانی جار لکم (8: 48) میں تمہارا حامی و مددگار ہوں۔ جار عن الطریق۔ وہ راستہ سے ہٹ گیا۔ جار علیہ اس نے ظلم کیا۔ اسی سے جور ظلم کو کہتے ہیں۔
Ayah 23:89

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑجاتا ہے

(23:89) فانی۔ انی استفہام اور شرط کے درمیان ایک مشترک اسم ہے۔ انی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا۔ (2:223) سو اپنے کھیت میں جیسے چاہو آئو۔ تسحرون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم سحر زدہ ہو رہے ہو۔ تم فریب کھا رہے ہو۔ سحر سے۔ انی تسحرون۔ تم کیسے فریب کھا رہے ہو۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں

(23:90) بل اتینہم بالحق۔ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ ) ہم نے حق ان تک پہنچا دیا ہے۔
Ayah 23:91

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چلتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا یہ لوگ جو کچھ (خدا کے بارے میں) بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

(23:91) اذا۔ حرف جواب اور جزا ہے۔ اصل میں یہ اذن ہے۔ وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔ بمعنی تب۔ اس وقت۔ فراء کا قول ہے کہ جس جگہ اذا کے بعد لام آئے گا۔ تو ضرور ہے کہ اس کے بعد لو مقدر ہو اگرچہ ظاہر اس کا کوئی پتہ نہ ہو۔ مثلاً قولہ تعالی۔ اذا لذھب کل الہ بما خلق (آیہ ہذا) ای لو کان معہ الھۃ کما تزعمون لذھب کل الہ بما خلق۔۔ لعلا۔ لام تاکید کے لئے ہے علا یعلو علو (باب نصر) یا علی یعلی (فتح) علاء سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ وہ چڑھ گیا۔ اس نے چڑھائی کی ۔ وہ غالب آیا۔ لعلا بعضہم علی بعض۔ تو ضرور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا۔ لذھب کل الہ بما خلق۔ تو وہ اپنی مخلوق کو لے کر جدا کرلیتا۔
Ayah 23:92

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اسکی شان اس سے بلند ہے۔

(23:92) علم الغیب۔ مضاف مضاف الیہ۔ غیب کا جاننے والا۔ دونوں مل کر اللہ (سبحان اللہ میں) کی صفت ہے اور یہی جر کی وجہ ہے۔
Ayahs 23:93–94

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

(23:93) اما ترینی۔ ای ان ما ترینی۔ ترین اراء ۃ سے مضارع کا صیغہ زائد ہیں۔ صرف تاکید کے لئے لائے گئے ہیں۔ عبارت یوں بھی ہوسکتی تھی۔ ان کان لا بد من ان ترینی۔ اگر یہ ضروری ہی تھا۔ کہ تو مجھے یہ (عذاب) دکھائے۔ ما یوعدون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب، جس (عذاب) کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔
Ayah 23:95

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

(23:95) ان نریک۔ نریک۔ مضارع جمع متکلم۔ اراء ۃ (افعال) سے مصدر ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ کہ ہم دکھائیں تجھے۔ یعنی ہم تجھے دکھانے پر قادر ہیں۔ نعدہم۔ وعد یعد وعد (ضرب) مصدر سے۔ مضارع جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر گا ئب۔ (جس عذاب کا) ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے

(23:96) ادفع۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو دور کر۔ دفع یدفع (فتح) دفع مصدر سے۔ دفع کا تعدیہ جب الیٰ سے ہو تو دینے کے معنی ہوتے ہیں اور جب عن سے ہو تو اس کے معنی حفاظت کرنے اور حمایت کے ہوتے ہیں۔ مثلاً فادفعوا الیہم اموالہم (4:6) تو ان کا مال ان کے حوالہ کر دو ۔ اور ان اللہ یدافع عن الذین امنوا (22:38) خدا تو مومنوں کی (ان کے دشمنوں سے) حفاظت کرتا رہتا ہے۔ احسن۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت اچھا۔ السیئۃ برائی۔ گناہ۔ فعل بد۔ یہ حسنۃ کی ضد ہے۔ س و ء حروف مادہ یہ فیعلۃ کے وزن پر سیوأۃ تھا۔ عین کلمہ کے وائو کو ی سے بدلا۔ ی کو ی میں مدغم کیا۔ سیئۃ ہوگیا۔ السیئۃ ادفع کا مفعول ہے۔ عبارت کچھ یوں تھی۔ ادفع بالحسنۃ التیھی احسن الحسنات التی یدفع بھا السیئۃ۔ (ان (کافروں) کی برائی کا دفعیہ ایسی نیکی سے کرو جو بہترین ہو۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد فرمایا۔ خذ العفو وامر بالعرف واعرج عن الجاھلین (7:199) در گذر اختیار کیجئے۔ اور نیک کام کا حکم دیجئے۔ اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجایا کیجئے۔ یصفون۔ مضارع جمع مذکر غائب وصف مصدر (باب ضرب) (جو) وہ بیان کرتے ہیں۔
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

(23: 97) ھمزات الشیاطین۔ جمع مجرور مضاف الشیطن مضاف الیہ۔ ھمز واحد۔ شیطانی وسوسے ۔ خطرات نفسانی۔ وہ برے خیالات جو شیطان دل کے اندر چبھوتا ہے۔ ھمز بمعنی چبھونا۔ ھمز (نصر۔ ضرب) اس کے اصل معنی کسی چیز کو دبا کر نچوڑنے کے ہیں۔ چناچہ محاورہ ہے کہ ھمزت الشیء فی کفی۔ میں نے فلاں چیز کو اپنی ہتھیلی میں دبا کر نچوڑا۔ اور اس کے معنی غیبت کرنے کے بھی آتے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے ھماز مشاء بنمیم۔ (68:11) طعن آمیز اشارتیں کرنے والا۔ چغلیاں لئے پھرنے والا۔ ھماز مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا عیب گو۔ بہت طعن کرنے والا۔ سوار کے جوتے کی ایڑھی پر جو لوہا نکلا ہوتا ہے اور اس سے گھوڑے کے پہلو پر مارتا ہے اسے مہماز۔ مھمز۔ مھمیزکہتے ہیں۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

(23:98) یحضرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حضور مصدر (باب نصر) اصل میں یحضرونی تھا۔ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔ میرے پاس (بھی ) پھٹکیں۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا اے پروردگار ! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

(23:99) حتی۔ ابتدائیہ ہے جیسا کہ ابن عطیہ کا قول ہے صاحب جلالین نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے لیکن بیضاوی اور الکشاف میں اسے حرف غایت (حد) لیا گیا ہے اس صورت میں اس کا تعلق یصفون (آیت 96) سے ہے اور آیات 97، 98 ۔ بطور جملہ معترضہ کے ہیں۔ معنی۔ حتی کہ۔ یہاں تک۔ جب تک۔ ارجعون۔ الرجوع باب ضرب سے مصدر امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ یہ خطاب اللہ تعالیٰ سے ہے اور جمع کا صیغہ اللہ تعالیٰ کے لئے تعظیما لایا گیا ہے۔ اور سائل کی ندامت اور عجز کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ حسان بن ثابت کا شعر ہے :۔ الا فارحمو فی یا الہ محمد ۔ فان لم اکن اھلا فانت لہ اھل ارجعون اصل میں ارجعونی تھا۔ مجھے پھر بھیج دیجئے۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا اور (اسکے ساتھ) عمل نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے (رہیں گے )

(23:100) لعلی۔ لعل حرف مشبہ بالفعل ہے اس کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے یہاں پر یہ تعلیل کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ای ارجعون لاجل ان اعمل صالحا (ای رب) مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں نیک عمل کمائوں۔ بعض کے نزدیک ترجی (امید) و توقع کے لئے آیا ہے۔ توقع ہے کہ میں اچھے کام کروں۔ اول الذکر زیادہ موزوں ہے۔ فیما۔ میں فی بمعنی الذی ہے ای الذی ترکت (فی الدنیا) ۔ کلا۔ حرف ردع وزجر ہے (ردع یردع ردع۔ روکنا۔ ہٹانا) بمعنی ہرگز نہیں یعنی یہ اس کی استدعا کہ اسے واپس بھیج دیا جائے دنیا میں ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ انھا کلمۃ ھو قائلھا۔ یہ ایک رٹ ہے جو وہ لگائے جا رہا ہے۔ ورائ۔ مصدر ہے من کی وجہ سے مجرور ہے۔ اس کے معنی آڑ۔ حدفاصل۔ آگے۔ ہونا۔ پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ یہ فصل اور حد بندی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔ من ورائہم۔ ان کے آگے۔ ان کے سامنے۔ برزخ۔ دو چیزوں کے درمیان جو آڑ اور رکاوٹ ہو اسے برزخ کہتے ہیں یہاں مراد برزخ سے موت اور قیامت کا درمیانی وقفہ ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قبر ہے۔ تفسیر ماجدی میں ہے کہ موت کے بعد روح انسانی ایک درمیانی عالم میں رہتی ہے اور حشر تک رہے گی۔ اس کا اصطلاحی نام عالم برزخ ہے ۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ بینھما برزخ لا یبغین (55:20) دونوں ہی کے درمیان ایک آڑ ہے کہ اس سے وہ دونوں تجاوز نہیں کرسکتے۔ یبعثون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب بعث مصدر۔ وہ اٹھائے جائیں گے البعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے۔ اٹھا کھڑا کرنے اور کسی طرف بھیجنے کے ہیں قرآن مجید میں ارشاد ہے ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا۔ (16:36) اور ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر بھیجا۔ یوم یبعثون سے مراد روز قیامت ہے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

(23:101) نفخ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ نفخ مصدر (باب نصر) پھونکا جائے گا۔ نفخ۔ ینفخ پھونکنا۔ نفخۃ ونفخۃ ایک بار پھونکنا۔ پیٹ پھولنا۔ انساب۔ نسب کی جمع۔ قرابتیں۔ رشتہ داریاں۔ رشتے ناطے۔ بوجہ عمل لا منصوب ہے۔ یتساء لون۔ مضارع جمع مذکر غائب تسائل (تفاعل) سے مصدر۔ باہم پر ساں حال نہ ہوں گے۔
Ayah 23:102

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں

(23:102) موازینہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اسم مفعول جمع۔ موزون میزان واحد۔ وزن کئے جانے والے اعمال ۔ ترازوئیں۔ موازین جمع کا صیغہ لائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ موزونات مختلف ہوں گے۔ ہر ایک شخص کے الگ الگ اعمال تو لے جائیں گے تو گویا ہر ایک شخص کے اعمال کی ترازو بھی الگ الگ ہوں گی یا وزن میں تعدد ہوگا۔ لا تعداد آدمی ہوں گے اس لئے وزن کی بھی شمار نہیں۔ جتنے آدمی اتنی ہی مرتبہ وزن کشی۔ میزان کو بصورت تعدد لانے سے وزن کے تعدد کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 23:103

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تیئیں خسارے میں ڈالا ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

(23:103) خسروا۔ انہوں نے گھاٹا پایا۔ انہوں نے نقصان اٹھایا۔ انہوں نے گنوایا۔ انہوں نے نقصان کیا۔ انہوں نے نقصان پہنچایا۔ خسر۔ خسار۔ خسران مصدر (باب سمع) ماضی جمع مذکر غائب۔ انفسہم۔ ان کی جانیں۔ خسروا انفسہم۔ انہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اپنا نقصان کرلیا۔ فی جہنم خلدون۔ یہ یا تو خسروا انفسہم سے بدل ہے یا اولئک کی خبر ثانی ہے۔ یا مبتدا محذوف (ہم) کی خبر ہے اور جملہ مستانفہ ہے یعنی ہم خلدون فی جہنم۔
Ayahs 23:104–105

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

(23:104) تلفح۔ مضارع واحد مؤنث غائب لفح مصدر (باب فتح) لفح فلانا بالسیف اس نے فلاں کو تلوار سے مارا۔ یا تلوار سے سرقلم کیا۔ یا لفحت النار والسموم بحرھا۔ آگ یا باد سموم نے چہرے کو اپنی تپش سے جھلس دیا۔ تلفح وہ جھلس دے گی یہ جملہ حالیہ ہے یا جملہ مستانفہ ہے۔ کالحون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ کالح واحد کلح یکلح (فتح) سے کلوح وکلاح مصدر ۔ منہ بنا کر دانت نکالنا۔ تیوری چڑھانا۔ کلح وجھہ تیوری چڑھا ہوا ہونا کالح منہ بنا کر دانت نکالنے والا۔ کلحۃ منہ کے گول حلقہ کو کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کسی نے کالح کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا۔ الم تر الی الرأس المشیط۔ (کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی ؟ )
Ayah 23:106

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور راستے سے بھٹک گئے

(23:106) شقوتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہماری کم بختی ۔ شقوۃ۔ شقی یشقی (سمع) کا مصدر ہے۔ شقی صفت بدبخت ۔ اشقیاء جمع۔ شقوتنا۔ ہماری بدبختی۔ ہماری بدنصیبی۔
Ayah 23:107

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

(23:107) منہا۔ ای من النار۔ عدنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم پھر آئے۔ ہم نے پھر کیا۔ ہم نے دوبارہ کیا۔ یعنی اگر ہم نے دوبارہ نافرمانی کی۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

(23:108) اخسؤا۔ خسأ یخسأ خسأ (فتح) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر خسأ الکلب۔ کتے کو دھتکارنا۔ خسات الکلب فخسأ۔ میں نے کتے کو دھتکارا تو وہ دور ہوگیا۔ اخسئوا فیھا۔ دھتکارے پھٹکارے ذلت کے ساتھ اس (جہنم) میں پڑے رہو اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ کونوا قردۃ خسئین 2:65) ذلیل و خوار بندر ہوجائو۔
Ayahs 23:109–110

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو تو ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

(23:109) انہ۔ ضمیر شان ہے انہ کان فریق من عبادی۔ شان یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا تھا جو۔۔ فاتخذتموہم۔ اتخذتموا۔ اصل میں اتخذتم تھا۔ ضمیر ہم کے اتصال کی بنا پر وائو جمع لایا گیا ہے۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تم نے ان کو ٹھہرایا۔ ہم ضمیر فریق کے لئے ہے جس سے مراد عام مؤمنین یا اصحاب رسول اللہ علیہ وسلم یا اصحاب الصفہ ہیں۔ سخریا۔ سخر یسخر (سمع۔ فتح) سخر وسخر وسخر وسخر وسخرۃ مصدر۔ سخر یسخر ٹھٹھا کرنا۔ مذاق اڑانا۔ حقارت کے ساتھ کسی سے مخول کرنا۔ استہزا کرنا۔ قرآن مجید میں ہے : قال ان تسخروا منا فانا نسخر منکم کما تسخرون (11:38) اس نے (حضرت نوح (علیہ السلام) نے) جواب دیا اگر آج تم ہم پر ہنستے ہو تو جس طرح تم (ہم پر) ہنستے ہو (اسی طرح) ہم (ایک دن ) تم پر ہنسیں گے۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں رجل سخرۃ ہنسی اڑانے والا۔ اور سخرۃ وہ ہے جس کی لوگ ہنسی اڑائیں۔ اور ہنسی اڑانے والے کے اس فعل کو سخریۃ وسخریۃ کہا جاتا ہے۔ سخریا۔ بمعنی ٹھٹھا ۔ ہنسی۔ دل لگی۔ سخر سے اسم بھی ہے اور مصدر بھی۔ مؤخر الذکر کی صورت میں یا نسبت مبالغہ کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔ سخر یسخر (باب فتح) بمعنی تابع بنانا۔ مغلوب کرنا۔ ذلیل کرنا۔ بیگار لینا بھی ہے باب تفعیل سے بمعنی تسخیر کرنا۔ بمعنی تسخیر کرنا۔ مطیع کرنا۔ تابع بنانا کے معنی میں اکثر استعمال ہوا ہے مثلاً سخرلکم الشمس والقمر (14:33) اس نے سورج اور چاند کو تمہارے اختیار میں کردیا۔ اور سخر لکم الفلک (14:32) کشتیوں کو تمہارے اختیار میں کردیا۔ یا سبحان الذی سخر لنا ھذا (43:13) پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا۔ سخریا۔ اتخذتم کا مفعول ثانی ہے اور مفعول اول ہم ضمیر جمع مذکر غائب ہے۔ انسوکم۔ انسوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انسی ینسنی انساء (افعال) سے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ انہوں نے تم کو بھلا دیا۔ نسی مادہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانسہم انفسہم (59:19) اور ان لوگون کی طرح نہ ہوجائو جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا سو اللہ نے خود ان کی جانوں کو ان سے بھلا دیا۔ باب افعال سے انسی ینسی متعدی بدومفعول ہے انسوکم ذکری۔ انہوں نے تم سے میری یاد بھلادی۔ یعنی ان کے ساتھ ٹھٹھا مخول کا جو مشغلہ تم نے اختیار کر رکھا تھا اس مشغلے کی وجہ سے تم ہماری یاد سے غافل ہوگئے ۔ وکنتم منہم تضحکون۔ اور تم ان کی ہنسی اڑاتے رہتے تھے (کنتم تضحکون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے) یہ جملہ فاتخذتموہم سخریا کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے

(23:111) اس آیت شریف میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہی فریق (اللہ تعالیٰ کے بندوں کا) ہے جن کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یقولون ربنا امنا۔۔ خیر الراحمین۔ بما صبروا میں باء سببیہ ہے۔ ای بسبب صبرہم علی اذیتکم تمہاری تکلیف دہی پر صبر کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

(23:112) قال ای قال اللہ تعالیٰ شانہ۔ کم۔ اگر استفہامیہ ہو تو سوال کے لئے آتا ہے۔ کتنی مقدار ۔ کتنی تعداد ۔ کتنی مدت۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے ۔ جیسے کم درھما عند تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ کبھی تمیز محذوف ہوتی ہے جیسے آیۃ ہذا میں۔ کم لبثتم ای کم زمانا لبثتم۔ تم کتنی مدت ٹھہرے۔ یا اس کی تمیز عدد سنین ہے۔ ای کم عدد سنین لبثتم۔ (2) اگر خبر یہ ہو تو تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اور تمیز مجرور ہوتی ہے ۔ جیسے کم قریۃ اھلکناھا۔ ہم نے کتنی ہی بستیوں کو برباد کردیا۔ تمیز سے پہلے اکثر من آتا ہے جیسے کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ (2:249) کتنی ہی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں اللہ کے حکم سے۔ عدد سنین۔ بحساب سالوں کے۔ سالوں کی تعداد کے حساب سے۔ یہ کم کی تمیز ہے یا کم ظرف زمان ہے لبثتم کا۔ ای کم زمانا لبثتم اور عدد بدل ہے کم سے اور سنین بدل ہے عدد سے یعنی سالوں کے حساب سے تم (دنیا میں) کتنی مدت رہے۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

(23:113) العادین۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ عادین اصل میں عاد دین تھا۔ دو حرف ایک جنس کے اکٹھے ہوئے لہٰذا ایک کو دوسرے میں مدغم کردیا گیا۔ حساب کرنے والے۔ گننے والے۔ شمار کرنے والے۔ عاد واحد۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے

(23:114) ان البثتم میں ان نافیہ ہے۔ ای ما لبثتم تم نہیں ٹھہرے۔ لو۔ اگر شرطیہ ہے تو اس کا جواب محذوف ہے۔ یعنی اگر تم دنیاوی زندگی کی مدت قلیل کو جانتے ہوتے اور اخروی زندگی کی نہ ختم ہونے والی مدت کو بھی جانتے ہوتے تو تم دنیاوی زندگی کو گناہ وعصیان میں نہ گذارتے اور آج ذلیل و خوار نہ ہوتے۔ اور جہنم کے عذاب میں بھی ہمیشہ کے لئے مبتلا نہ ہوتے۔ اور اگر لوحرف تمنا ہے تو جواب کی ضرورت نہیں صرف ان کے انجام پر حسرت کا اظہار ہے۔ یعنی کاش تم دنیاوی زندگی کی قلت زمانی کو جانتے ۔ اور برے کاموں سے بچے رہتے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے

(23:115) افحسبتم۔ میں ہمزہ استفہام کے لئے ہے حسبتم ماضی جمع مذکر حاضر حسبان مصدر۔ کیا تم نے گمان کیا۔ کیا تم نے جانا عبثا۔ خلقنکم سے حال ہے بمعنی عابثین۔ بےمقصد۔ بےفائدہ۔ یا یہ خلقنکم کا مفعول لہ ہے۔ فضول۔ لغو۔ عبث۔ انکم۔ معطوف ہے۔ اور انما معطوف علیہ۔ انما خلقنکم عبثا معطوف علیہ و حرف عطف انکم الینا لا ترجعون معطوف۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

(23:116) تعلی۔ تعالیٰ سے (باب تفاعل) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ برتر ہے وہ بلند ہے۔ باب تفاعل سے مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ العرش الکریم۔ موصوف وصفت ہوکر رب کا مضاف الیہ ہے۔ عرش سے مراد عام اصطلاح میں تخت شاہی ہے ۔ قرآن مجید میں بھی انہی معنوں میں آیا ہے۔ مثلاً ورفع ابویہ علی العرش (12:100) اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر۔ اور اھکذا عرشک (27:42) کیا تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد ایسا عرش ہے جو کہ بجز نام کے بشر کے فہم و ادراک سے بالاتر ہے۔ قرآن میں عرش کے وصف میں تین نام آئے ہیں۔ (1) العظیم۔ جیسے اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (27:26) اللہ وہ ہے کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں مالک نہیں ہے عرش عظیم کا۔ (2) المجید۔ جیسے وھو الغفور الودود ذوا العرش المجید (85:14 ۔ 15) اور وہ ہی بڑا بخشنے والا ہے بڑا محبت کرنے والا ہے۔ عظیم عرش کا مالک ہے یہ قرات حمزہ اور کسائی کی ہے جنہوں نے المجید کو جر سے پڑھا ہے۔ اس قرات کے لحاظ سے العرش المجید صفت موصوف ہیں۔ اور دونوں مل کر ذو کے مضاف الیہ۔ لیکن اکثریت مفسرین کی اس طرف ہے کہ المجید رفع کے ساتھ ہے ذو العرش اللہ تعالیٰ کی الگ صفت ہے صاحب عرش ۔ عرش کا مالک یا خالق اور المجید الگ صفت ہے۔ بڑی عظمت والا۔ (3) الکریم۔ جیسے آیت ہذا میں۔ رب العرش الکریم۔