Ayah 20:121(20:121) فبدت۔تعقیب کے لئے ہے۔ بدت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ ظاہر ہوئی۔ بدو وبدائ۔ مصدر (باب نصر) اور جگہ قرآن مجید میں ہے وبدالہم سیئات ما کسبوا (39:47) اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی۔ البدو حضر۔ کی ضد ہے۔ اور بادیہ (صحرائ) کو بدو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہاں ہر چیز ظاہر نظر آتی ہے۔ سواتہما۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان دونوں کی شرمگاہیں۔ سوات سوء ۃ کی جمع ہے۔ سوء ۃ کے معنی فضیحت۔ عیب ۔ برا فعل۔ لاش۔ امام راغب لکھتے ہیں کہ :۔
کنایۃ سوء ۃ کا لفظ عورت یا مرد کی شرم گاہ پر بھی بولا جاتا ہے۔ علامہ ابن اثیر کا بیان ہے کہ :۔
اصل میں سوء ۃ کے معنی فرج (شرمگاہ ) کے ہیں۔ بعد میں اس کو ہر اس شے کے معنی میں نقل کرلیا گیا کہ جب وہ ظاہر ہو تو اس سے حیا آنے لگے۔ خواہ وہ قول ہو یا فعل۔ فبدت لہما سواتھما۔ سو بےپردہ ہوگئیں ان دونوں پر ان دونوں کی شرمگاہیں۔
طفقا۔ وہ دونوں کرنے لگے (وہ کام جو آگے مذکور ہے) ان دونوں نے شروع کیا۔ طفق یطفق (سمع) اور طفق یطفق (ضرب) طفق وطفوق مصدرطفق کی خبر مضارع بغیر ان کے آتی ہے جس طرح کاد کی۔ لیکن یہ کاد کی طرح افعال مقاربہ میں سے نہیں ہے اور طفق کے دیگر مرادفات جعل کرب اخذ بھی افعال مقاربہ میں سے نہیں۔ بعض نے اس سے اختلاف کیا ہے اور طفق کو افعال مقاربہ ہی میں شمار کیا ہے۔
یخصفن۔ مضارع تثنیہ مذکر غائب۔ خصف مصدر (باب ضرب) وہ دونوں چپکانے لگے۔ خصفۃ چمڑے کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جس کے اوپر اس جیسا دوسرا ٹکڑا رکھ کر جوتا بنایا جائے۔
عصی۔ ماضی صیغہ واحد مذکر غائب۔ عصیان ومعصیۃ مصدر۔ اس نے حکم ٹالا۔ اس نے نافرمانی کی۔ اس نے کہا نہ مانا۔ اس نے اطاعت نہ کی۔ عصی اصل میں عصی تھا۔ ی بعد فتح کے واقع تھی اس لئے الف ہوگئی۔ صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدم (علیہ السلام) نے بھول کر یہ کام کیا تھا تو پھر عصی ادم (آدم نے نافرمانی کی) کے الفاظ ان کے متعلق کیوں کہے گئے ؟
تو اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ حسنات الابرار سیئات المقربین (نیک لوگوں کی نیکیاں بسا اوقات مقربین بارگاہ الٰہی کی سیئات شمار ہوتی ہیں (جیسا کہ سورة الفتح کی آیت نمبر 2 لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر (48:2) کی تفسیر میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں :۔
والمراد بالذنب ما فرط من خلاف الاولی بالنسبۃ الی مقامہ (علیہ الصلوۃ والسلام) فھو من قبیل حسنات الابرار سیئات المقربین) خطا اور نسیان پر اگرچہ انسان پر مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ اور انسان عذاب کا مستحق قرار نہیں پائے گا۔ لیکن خواص کا معاملہ اور ہے۔ ان سے ترک اولیٰ پر بھی مؤاخذہ ہونا ہے۔
بود آدم ویدہ نور قدیم موئے دردیدہ بود کوہ عظیم
رومی فرماتے ہیں کہ :۔ آدم (علیہ السلام) نور قدیم کی آنکھ تھے اور آنکھ میں ایک بال بھی پڑجائے تو وہ کوہ عظیم کی طرح ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ ربہ۔ رب مفعول ہضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع آدم ہے۔
غوی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ غی وغوایۃ مصدر۔ باب ضرب۔ غوایۃ کے معنی ہیں گمراہ ہونا۔ بہک جانا۔ بےراہ رد ہونا۔ ہلاک ہونا۔ نادان ہونا۔ ناکام ہونا۔ غوی وہ بہک گیا۔ وہ ناکام ہوگیا۔ وہ بےراہ ہوا۔ روح المعانی میں اس کے کئی معانی آئے ہیں :۔
(1) ضل عن مطلوبہ الذی ھو الخلود۔ یعنی اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ مقصد تھا دائمی زندگی اور لازوال بادشاہی۔
(2) ضلی عن الرشد حیث اغتر بقول العدو۔ راہ مستقیم سے بھٹک گیا دشمن کی بات میں دھوکہ کھا کر۔
(3) فسد علیہ العیشۃ۔ اس کی زندگی تباہ ہوگئی۔ یعنی زندگی کا آرام چھن گیا۔
اسماعیل بن حماد الجوہری صاحب الصحاح نے اس کے معنی کئے ہیں :۔
(1) گمراہ ہونا۔ (2) حصول مقصد میں ناکام ہونا۔
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں اکثر مفسرین نے یہی معنی لئے ہیں کہ وہ حصول مقصد میں ناکام رہے۔
Ayah 20:122(20:122) اجتبہ۔ ماضی واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ مادہ جبی سے مشتق ہے ۔ جبی یجبی (ضرب) جبایۃ مصدر جبی الماء فی الحوض۔ اس نے حوض میں پانی جمع کیا۔ بڑے حوض کو جلبینہ کہتے ہیں اور اس کی جمع جواب ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے وجفان کالجواب (35:13) اور لگن جیسے بڑے بڑے حوض۔
باب افتعال سے الاجتباء کے معنی ہیں انتخاب کے طور پر کسی چیز کو جمع کرنا۔ اور اسی سے ہے ۔ اجتباہ اس نے اس کا انتخاب کیا۔ یہاں اجتباہ ای اصطفاہ۔ اس نے اس کو اپنے لئے منتخب کرلیا۔ یعنی فیض و کرم اور تقرب کے لئے چن لیا۔
فتاب علیہ۔ پاس اس کی توبہ قبول کرلی۔ یہاں اس کا پس منظر بیان کئے بغیر تو بہ کی قبولیت مذکور ہوئی ہے۔ وہ پس منظر یہ ہے :۔
فتلقی ادم من ربہ کلمات فتاب علیہ (2:37) پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ الفاظ سیکھ لئے (اور جب اس نے ان الفاظ میں دعا کی تو ) اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ اور وہ الفاظ کیا تھے ؟ وہ یہ ہیں :
ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین (7:23) اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہیں کرے گا۔ تو یقینا ہم گھاٹا پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
ھدی۔ ماضی واحد مذکر غائب ھدی یھدی (باب ضرب) اس نے راہ ہدایت دکھا دی۔
Ayah 20:123(20:123) اھبطا۔ تم دونوں اترجائو۔ ھبط یھبط (ضرب) ھبوط سے فعل امر تثنیہ مذکر حاضر۔ یعنی جنت سے (جو ایک اعلیٰ مقام ہے ) زمین کی طرف (جو ایک ادنیٰ جگہ ہے) اترو ! منھا ۔ ای من الجنۃ۔ جمیعا۔ یعنی تم دونوں اور شیطان لعین بھی۔
بعضکم لبعض عدو۔ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ یعنی جہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ تمہاری اولاد میں بھی یہ کیفیت ہوگی۔ یہ جملہ موضع حال میں ہے اھبطا سے۔ فاما۔ فان ما۔ اگر۔
فلا یضل ولا یشقی۔ ای فلا یضل فی الدنیا ولا یشقی فی الاخرۃ نہ وہ اس دنیا میں بھٹکے گا اور نہ آخرت میں بدنصیب و محروم ہوگا۔ یعنی یہاں دنیا میں بھی اس کو راہ مستقیم نصیب ہوگی۔ اور آخرت میں اپنے نیک اعمال کی جزاوثواب سے بھی محروم نہ ہوگا۔ (نیز ملاحظہ ہو 20:117) ۔
Ayah 20:124(20:124) اعرض۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ اعراض (افعال) مصدر۔ ذکری۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرا ذکر۔ میری یاد۔ میری نصیحت۔ میرے احکام کی بجا آوری ۔ میری کتاب یعنی قرآن بمعہ اس کے اوامرونواہی کے۔
معیشۃ ضنکا۔ موصوف وصفت معیشۃ اسم مصدر منصوب۔ سامان زندگی۔ ضنکا۔ تنگ ہونا۔ الضنک کے معنی ہیں کسی مقام یا معیشت کی تنگی۔ ضنک یضنک (کرم) کا مصدر ہے۔ چونکہ یہ مصدر ہے اس لئے جب بطور صفت استعمال ہوتا ہے تو مذکر، مؤنث، مفرد تثنیہ وجمع سب کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے چناچہ یہاں یہ باعتبار اصل مؤنث ہی کی صفت واقع ہے۔ معیشۃ ضنکا۔ تنگ زندگی۔ لیکن یہاں تنگی محض مادی مال و دولت کا نہ ہونا مراد نہیں ۔ بلکہ تنگی کا تعلق قلب سے ہے ۔ ذکر الٰہی سے اعراض سے مراد حکومت الٰہیہ سے انکار۔ ذات الٰہی پر توکل اور اس کے دئیے پر قنات کا فقدان۔ اور اس کا لازمی نتیجہ انسان کا مادیات میں فکر وہوس۔ اندیشہ نفع و نقصان کا شکار ہوجانا ہے اور یہ کیفیت اس کے سکون قلب اور جمیعت خاطر کو تباہ کردیتی ہے اور زندگی باوجود جاہ و حشمت مال و دولت کے اس پر تنگ ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آئے دن بڑے بڑے دولت مند اور خوشحال لوگ خود کشی کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔
نحشرہ۔ مضارع جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع اسم موصول من ہے۔ ہم اٹھا کھڑا کریں گے۔
Ayah 20:125(20:125) لم حشرتنی۔ لم یہ مرکب ہے لام تعلیل اور ما استفہامیہ سے۔ ما کے الف کو تخفیف کے لئے ساقط کردیا گیا ہے۔ کیوں ۔ کس لئے ۔ کس وجہ سے۔
Ayah 20:126(20:126) کذلک۔ ای مثل ذلک فعلت انت۔ تو نے بھی تو اسی طرح کیا تھا۔ اتتک ایتنا فنسیتھا۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے جیسا کہ وہ کہے یا رب ما فعلت نا ؟ اے میرے پروردگار میں نے کیا کیا ؟ جواب ملے گا : اتتک ایتنا فنسیتھا۔ تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں اور تو نے عمدا ان کو ترک کئے رکھا۔ جان بوجھ کر اندھا بنا رہا اور ان کو بھلائے رکھا۔ نسی کا معنی بھلانا بھی ہے اور نظر انداز کرنا بھی۔ وکذلک الیوم تنسی اور آج تو بھی اسی طرح نظر انداز کردیا جائے گا۔
Ayah 20:127(20:127) نجزی۔ مضارع جمع متکلم جزاء مصدر واسم (باب ضرب) ہم بدلہ دیں گے ہم بدلہ دیتے ہیں۔ جزا ہر بدلہ کہتے ہیں اچھا ہو یا برا۔ اسرف۔ ماضی واحد مذکر غائب اسراف (افعال) مصدر ، وہ حد سے تجاوز کر گیا اس نے حد سے تجاوز کیا۔ وہ حد سے بڑھ گیا۔
عذاب الاخرۃ۔ ای عذاب النار اشد (شدید تر) وابقی (زیادہ دیرپا) من عذاب الدنیا ومن المعیشۃ الضنک یعنی آخرت کا عذاب جو دوزخ میں ملے گا وہ عذاب دنیا سے زندگی کی عقوبتوں سے اور عذاب قبر سے کہیں زیادہ شدید اور دیرپا ہوگا۔ یا المعیشۃ الضنک والحشر علی العمی سے شدید تر و زیادہ دیرپا ہوگا ۔
Ayah 20:128(20:128) اولم یھدلہم۔ میں لم یھد کا فاعل اگلا جملہ ہے یعنی کم اھلکنا قبلہم من القرون یمشون فی مسکنہم کہ ان سے قبل ہم کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے (اجڑے ہوئے) مکانوں میں یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں۔
اس کی مثال صاحب کشاف نے سورة صافات (37) کی آیات 78:79 دی ہیں وترکنا علیہ فی الاخرین۔ سلم علی نوح فی العلمین۔ اور ہم نے ان کے پیچھے آنے والوں میں (یہ بات ) رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں۔ اس میں ترکنا کا مفعول اگلا جملہ سلام علی نوح فی العلمین ہے۔
آیت ہذا سے نیا کلام شروع ہوتا ہے اس میں لہم کی ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین زمانہ نبی کریم ﷺ کے لئے ہے۔ اسی طرح قبلہم کی ضمیر جمع مذکر غائب بھی۔ اور یمشون کی ضمیر فاعل بھی انہی مشرکین کے لئے ہے مسکنہم کی ضمیر ہم جمع مذکر غائب ان قوموں کے لئے ہے جن کو ماضی میں اللہ تعالیٰ نے ہلاک و برباد کردیا۔ اولی النھی۔ صاحب عقل۔ دانشور۔ دیکھو (20:54) ۔
Ayah 20:129(20:129) ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل تسمی۔ ای ولو لا سبقت من ربک کلمۃ (ولولا) اجل مسی لکان لزاما۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا اور اگر (تیرے رب کی طرف سے) ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر (عذاب) ابھی آگیا ہوتا۔
سبقت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس کا مرجع کلمۃ ہے کلمۃ کا معنی تاخیر عذاب کا وعدہ (یعنی یہ کہ اس امت کو اس دنیا میں عذاب نہ ہوگا اور دوسری اقوام کی طرح اپنے اعمال بد کے نتیجہ میں اس زندگی میں ان پر ہلاکت نہ آئے گی بلکہ نبی کریم رحمۃ اللعالمین کی وجہ سے ان کے اعمال کی سزا قیامت کے روز کے لئے اٹھا رکھی جائے گی۔
اجل مسمی۔ صفت موصوف۔ ایک مقرر شدہ وقت۔ یعنی روز قیامت۔ اجل مسمی کا عطف کلمۃ پر ہے لکان لزاما ای لکان عذاب جنایاتہم لازما لھؤلاء الکفرۃ تو ان کے بد اعمال کا عذاب لازمی طور پر ان کفار پر آگیا ہوتا (جس طرح امم سابقہ کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ لزاما یا تو مصدر ہے اور بصیغہ صفت مبالغہ کے لئے استعمال ہوا ہے یا اسم آلہ ہے رکاب کی طرح اور مبالغہ کے لئے بصیغہ صفت استعمال ہوا ہے۔ لزاما ہمیشہ ساتھ رہنے والا۔ چمٹ جانے والا۔ انصاف کرنے والا حاکم۔ لازم اسم فاعل چمٹا رہنے والا۔ واجب ۔ الزام باب افعال۔ چمٹا دینا۔ جیسے انلزمکموھا کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں۔ (11:28) اور فقد کذبتم فسوف یکون لزاما (25:77) تم نے اس کو جھٹلایا اور عنقریب یہ تکذیب تم کو چمٹ جائے گی۔ الگ نہ ہوگی ، وبال جان بن جائے گی اس کی (سزا) تمہارے لئے لازم ہوجائے گی۔
Ayah 20:130(20:130) فاصبر علی ما یقولون۔ پس جو وہ کہتے ہیں اس پر آپ صبر کریں ان کی (دل دکھانے والی) باتوں پر صبر کریں۔ کیونکہ ان کے عذاب میں تاخیر بوجہ امھال ہے اھمال نہیں ہے یعنی یہ صرف ان کو مہلت ہی دی جارہی ہے انہیں نظر انداز نہیں کیا جا رہا بلکہ وہ تو ان کے لئے لازم ہوچکی ہے ۔
انایٔ۔ ان ی۔ مادہ انی یان (ضرب) الشیٔ اس کا وقت قریب آگیا۔ مثلاً الم یان للذین امنوا۔ (57:16) کیا ابھی تک مومنوں کے لئے وقت نہیں آیا۔ انی الحمیم پانی حرارت میں انتہا کو پہنچ گیا۔ حمیم ان (55:44) گرم کھولتے ہوئے چشمے۔ انی (بہ تثلیت المزہ) وقت کا کچھ حصہ اس کی جمع اناء ہے مثلاً یتلون ایت اللہ اناء الیل (3:113) جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے ہیں۔ اور آیۃ ہذا (20:130) ومن اناء الیل فسبح اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح اس کی پڑھا کرو۔ انی وقت اس کی جمع اناء اوقات۔ الاناء برتن۔ جمع انیۃ وجمع الجمع اوان۔
فائدہ ! قبل طلوع الشمس۔ میں فجر کی نماز آگئی قبل غروبھا میں ظہر اور عصر کی نمازیں آگئیں اور انایٔ الیل میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اور اطراف النھار میں فجر ومغرب کی مکرر تاکید ہوگئی۔
لعلک ترضی۔ تاکہ آپ خوش رہیں کہ دنیا کے آلام و افکار سے بچنے کا راستہ یہی عبادت میں مشغولیت ہے۔
Ayah 20:131(20:131) لا تمدن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر بانون تاکید ثقیلہ مد یمد مدا (باب نصر) المد کے اصل معنی (لمبائی میں) کھینچنے اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدت کہتے ہیں مددت عینی الی کذا۔ کسی کی طرف حریصانہ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا۔ لا تمدن عینیک الی (دنیا کا سازوسامان جو کفار کو دیا گیا ہے) تو اس کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھ ۔ مددت فی۔ مہلت دینا
متعنا۔ متع یمتع تمتیع (تفعیل) ہم نے دنیاوی سامان دے کر بہر مند کیا۔ ما اسمیہ موصولہ اور بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما ہے۔ ما متعنا بہ۔ جو دنیاوی سامان ہم نے دیا۔
ازواجا منہم۔ ان میں کے چند گروہ۔ یہ متعنا کا مفعول ہے۔ لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منہم (کافروں کے) جن چند گروہوں کو ہم نے دنیاوی سامان دے کر متمتع کیا ہے تو اس کی طرف ہرگز آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ۔
زھرۃ الحیوۃ الدنیا۔ زھرۃ مضاف۔ جعلناہم کا مفعول ہے اسی لئے منصوب ہے یا یہ منصوب اس وجہ سے ہے کہ متعنا کا مفعول ثانی ہے۔ اور متعنا اس صورت میں اعطینا کے معنی کو متضمن ہے۔ لنفتنہم۔ لام برائے تعلیل نفتن مجارع منصوب جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تاکہ ہم ان کا امتحان لیں۔ فنتۃ وفتون مصدر۔
رزق ربک۔ تیرے پروردگار کا رزق۔ یعنی وہ اجرو ثواب جو آخرت میں آپ کے لئے ہوگا اور نبوت و ہدایت جو اس دنیا میں آپ کو عطا کر رکھی ہے۔ یا رزق سے مراد رزق حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی رزق کو اپنی طرف منسوب نہیں کرنا ماسوائے اس رزق کے جو طیب اور حلال ہو۔
Ayah 20:132(20:132) اصطبر علیھا۔ تو اس پر قائم رہ اصطبار (افتعال) سے مصدر جس کے معنی ہیں صبر کے ساتھ قائم رہنے کے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ للتقوی۔ ای للمتقین۔ جیسے اور جگہ آیا ہے والعاقبۃ للمتقین (7:128) اور فاصبر ان العاقبۃ للمتقین (11:49) وقی مادہ۔
Ayah 20:133(20:133) لولا یاتینا۔ کیوں نہیں لایا (یہ نبی) ہمارے پاس ۔ لایاتی مضارع منفی واحد مذکر غائب اتیان مصدر نا ضمیر مفعول جمع متکلم ایۃ معجزہ۔ اولم تاتہم۔ کیا ان کے پاس نہیں آئی۔ تات اتیان سے مجارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے اصل میں تاتی تھا۔ لم کے عمل سے یحذف ہوگئی اور مضارع ماضی کے معنی میں ہوگیا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔
بینۃ۔ ب ی ن مادہ سے۔ بان واستبان وتبین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں۔ بیان مصدر۔ بیان ۔ بولنا۔ کسی چیز کو واضح کرنے اور کھولنے کو بیان کہتے ہیں۔ یہاں بینۃ سے مراد القرآن ہے جو پہلے صحیفہ ہائے آسمانی کا نچوڑ ہے۔ اور جس میں ان اگلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات کا واضح بیان اور اس سے بڑھ کر کونسا وہ معجزہ چاہتے ہیں۔
Ayah 20:134(20:134) نذل۔ مضارع جمع متکلم ذل وذلۃ مصدر (باب ضرب) (پیشتر اس کے کہ) ہم ذلیل ہوں یا ذلیل ہوتے۔
نخزی۔ مضارع جمع متکلم خزی مصدر (باب سمع) پیشتر اس کے کہ ) رسوا ہوں یا رسوا ہوتے۔
Ayah 20:135(20:135) متربص۔ اسم فاعل واحد مذکر تربص (تفعل) مصدر منتظر۔ راہ دیکھنے والا۔ مراد نتائج اعمال کا انتظار کرنے والا۔
فتربصوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم انتظار کرو۔ فستعلمون۔ س مستقبل قریب کے لئے تعلمون جمع مذکر حاضر۔ پس تم عنقریب ہی جان لو گے یعنی موت کے وقت یا حشر میں۔ الصراط السوی۔ موصوف وصفت۔ راہ مستقیم۔
السوی اسے کہتے ہیں کہ جو کیفیت اور مقدار دونوں کے لحاظ سے افراط و تفریط سے محفوظ ہو۔ اصحاب الصراط السوی۔ اصحاب مضاف الصراط السوی موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ سیدھے راستہ پر چلنے والے لوگ۔
اھتدی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے ہدایت اختیار کی۔ اھتداء (افتعال) سے مصدر ۔