Ayah 20:41(20:41) اصطنعتک۔ ماضی واحد متکلم۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر (باب افتعال) میں نے تم کو بنایا۔ اصطناع مصدر جس کے معنی کسی شے کی درستی اور بنانے میں مبالغہ کرنے کے ہیں۔ اصطنعتک لنفسی۔ ای اخترتک واصطنیتک لنفسی میں نے تجھے خاص طور پر اپنے لئے بنایا ہے۔ میں نے تجھے اپنا بنا لیا ہے۔ میں نے تجھے منتخب کرلیا ہے اپنے لئے۔
Ayah 20:42(20:42) ولا تنیا۔ فعل نہی۔ تثنیہ مذکر حاضر۔ تم دونوں سستی نہ کرنا۔ تم دونوں سست نہ ہودنی مصدر (باب ضرب)
Ayah 20:43(20:43) طغی۔ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 20:924)
Ayah 20:44(20:44) قولا۔ فعل امر، تثنیہ مذکر حاضر۔ قول مصدر۔ تم دونوں کہو۔ تو تم دونوں گفتگو کرو۔
قولا لینا۔ موصوف صفت۔ نرم گفتگو۔ نرم کلام۔ لین کی جمع لینون اور الیناء ہے لان یلین لین (باب ضرب) نرمی کرنا۔ نرم ہونا۔ لعلہ یتذکر۔ شاید وہ نصیحت قبول کرلے۔ یہاں لعل تعلیل کے لئے ہے اور کی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اویخشی۔ یا (میرے غضب سے) ڈرجائے۔ یا اپنے کفر و انکار کے مال کو جان کر ڈر جائے۔
Ayah 20:45(20:45) یفرط علینا۔ ہم پر زیادتی کرے۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب فرطمصدر (باب نصر) افراط حد سے بہت زیادہ بڑھ جانا۔ زیادتی (کمی کی ضد) ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وکان امرہ فرطا۔ (18:28) اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا۔ اس کی ضد تفریط ہے۔ یعنی تقدم میں کوتاہی کرنا۔ کمی ۔ قرآن مجید میں ہے ما فرطنا فی الکتب (6:38) ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے ) میں کوتاہی نہیں کی۔ نخاف ان یفرط علینا۔ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا۔
او ان یطغی۔ یا زیادہ سرکشی کرنے لگے۔ زیادہ سرکش ہوجائے۔
Ayah 20:46(20:46) اسمع واری۔ میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں یہ معکما کی تفسیر ہے یعنی ڈرومت میں تمہارے ساتھ ہوں اور جو تمہارے اور اس کے درمیان قولاً وفعلاً گذرے گا میں اسے اچھی طرح سننے اور دیکھنے والا ہوں۔
Ayah 20:47(20:47) فاتیہپس تم دونوں اس کے پاس جائو۔ فعل امر تثنیہ مذکر حاضر۔ اتیانمصدر۔ ہُ ضمیر واحد مذکر غائب (اس کا مرجع فرعون ہے)
Ayahs 20:48–49(20:48) تولی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تولی مصدر (تفعیل) اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ وہ پھر گیا۔
Ayah 20:50(20:50) ربنا۔ ای ربی ورب اخی ھرون۔ ہمارا رب یعنی میرا اور میرے بھائی ہارون۔ ہم دونوں کا رب۔ اعطی کل شیء خلقہ۔ کل شیء اور خلقہ دونوں اعطی کے مفعول ہیں۔ خلقہمصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ اور ہُ ضمیر شیء کے لئے ہے۔
(1) اگر کل شیء کو مفعول اول لیا جائے اور خلقہ کو مفعول ثانی۔ تو خلقہ کے معنی ہوں گے ایسی شکل و صورت جو ان فوائد اور منافع کے لئے موزوں اور مناسب ہے جن کے لئے ہر شے کی تخلیق کی گئی۔ مثلاً کان۔ ناک، آنکھ۔ زبان ۔ ہاتھ۔ پائوں وغیرہ کی ساخت اور جسم میں ان کی مناسب وموزوں ترکیب و ترتیب ۔ اس صورت میں جملہ کے معنی ہوں گے : ہر شے کو ایسی شکل و صورت بمعہ جملہ لوازمات بخشی جو اس کے مقصد تخلیق کی تحصیل کے لئے ضروری تھی۔
(2) اگر خلقہ کو مفعول اول لیا جائے اور کل شیء کو مفعول ثانی تو اس صورت میں خلقہ کے معنی ہوں گے۔ اس کی مخلوق اور ہٗ ضمیر کا مرجع ذات الٰہی ہوگی اور جملہ کے معنی ہوں گے اپنی مخلوق کو ہر وہ شیٔ عطا کی جس کی اس کو اس زمین پر زندگی بسر کرنے کے لئے ضرورت تھی
ثم ھدی۔ پھر رہنمائی کی۔ یعنی ہر ہستی کو مقصد حیات کی تکمیل کے لئے اس کو اسی طرف لگا دیا۔ اور جملہ قوی واعضاء کا مناسب طریقہ استعمال بھی سمجھا دیا۔
Ayah 20:51(20:51) بال۔ حال ۔ خبر ۔ خیال ۔ بول مادہ مابالک کیا بات ہے ؟ تمہیں کیا ہوا ؟ امر ذوبال۔ اہم معاملہ۔ القرون۔ جمع قرن کی بمعنی قومیں۔ الگ الگ زمانے والی قومیں بال مضاف۔ القرون الاولی موصوف صفت ہو کر مضاف الیہ۔ فما بال القرون الاولی تو پہلی قوموں کی کیا حالت ہے یعنی ان کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ اپنے اعتقادات اور نظریات کے نتیجہ میں کس حال میں ہوں گی یا ان کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ سب گمراہ تھیں لہٰذا عذاب کی مستحق۔
Ayah 20:52(20:52) فی کتب۔ ای فی اللوح۔ یعنی لوح محفوظ میں۔
Ayah 20:53(20:53) مھدا۔ فرش۔ بچھونا۔ سلک (باب نصر) سلک و سلوک۔ مصدر۔ ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ۔ یہ لازم ومتعدی ہر دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ وہ راستہ پر چلا۔ اس نے راستہ پر چلایا، پہلے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے لتسلکوا منھا سبلا فجاجا (71:20) تا کہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں پر چلوپھرو۔ اور دوسرے معنی میں یعنی متعدی کے متعلق ارشاد الٰہی ہے :۔
ما سلککم فی سقر (74:42) تمہیں کون سی بات دوزخ میں لے آئی۔ آیت ہذا۔ سلک لکم فیھا سبلا۔ ای ادخل فی الارض لاجلکم طرقا۔ اور تمہارے لئے زمین میں راستے جاری کر دئیے۔
فاخرجنا بہ۔ پھر ہم نے اس کے (پانی کے) ذریعے (شکم زمین سے) پیدا کئے ۔ اس میں فاء سببیہ نہیں ہے بلکہ تعقیب کا ہے کیونکہ سبب اخراج لفظ بہ سے معلوم ہے۔تعقیب کی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ پھر ہم نے۔۔ الخ۔
اخرجنا میں التفات ضمائر ہے صیغہ غائب سے یک لخت صیغہ متکلم استعمال کیا گیا ہے۔ یہ عظمت شان کے لئے ہے کہ اس کے حکم سے کسی کو انکار کی جرأت نہیں۔ جس کو جو حکم دیتا ہے وہ بجا لاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی کئی مثالیں ہیں۔ مثلاً الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فاخرجنا بہ ثمرات مختلفا الوانھا (35:27) ۔
شتی بعض کے نزدیک یہ لفظ مفرد ہے اور بعض نے اس کو شتیت کی جمع لکھا ہے جیسے مریض کی جمع مرضی ہے شتیت طرح طرح۔ جدا جدا۔ مختلف ۔ متفرق پراگندہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وتحسبہم جمیعا وقلوبہم شتی (59:14) تو انہیں متفق خیال کرتا ہے حالانکہ ان کے دل متفرق وغیرہ متفق ہیں۔
ازواجا۔ جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ اقران ۔ زوج کی جمع ہے حیوانات کے جوڑے میں سے نر یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں اسی طرح غیر حیوانات میں ہر اس شے کو جو دوسری شی کے قرین ہو خواہ مماثل ہو یا متضاد۔ زوج کہتے ہیں۔ ازواجا من نبات شتی۔ ای ازواجا شتی من نبات۔ نباتات میں سے مختلف النوع۔ مماثل یا مقابل جوڑے (پیدا گئے) شتی ازواجا کی صفت ہے :۔
فائدہ۔ آیت ہذا کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ماء پر ختم ہوجاتا ہے اور فاخرجنا سے اللہ تعالیٰ خود اپنی قدرت کا ذکر فرماتے ہیں (ضیاء القرآن) ۔ (2) انداز کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب ولا تنسی پر ختم ہوجاتا ہے اور یہاں سے آخر پیراگراف تک پوری عبارت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور شرح و تذکیر ارشاد ہوئی ہے۔ مؤخر الذکر زیادہ قریب صحت ہے۔
الذی جعل لکم الارض۔۔ الخ جملہ مستانفہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ لا یضل ربی ولا ینسی سے متعلق نہیں ہے۔ یہ خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے ای ھو الذی جعل لکم الارض الخ (اضواء البیان)
Ayah 20:54(20:54) ارعوا۔ تم چرائو۔ رعی مصدر (باب فتح) سے افعل امر جمع مذکر حاضر۔ کا صیغہ ہے رعی کے اصل معنی ہیں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کرنے کے ہیں خواہ غذا کے ذریعہ سے ہو جو اس کی زندگی کی حفاظت ہے۔ خواہ اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعہ ہو۔ رعیتہ میں نے اس کی نگرانی کی اور ارعیتہ میں نے اس کے سامنے چارہ ڈالا۔ رعی چارہ یا گھاس۔ راعی۔ چرانے والا۔ نگہبان۔ ارعوا۔ (اپنے چارپائوں کو) چرائو۔
انعامکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنے مویشی ۔ نعم کی جمع۔ جس کے اصل معنی تو اونٹ کے ہیں۔ مگر بھیڑ بکری۔ گائے، بھینس پر بھی بولا جاتا ہے لیکن ان کو انعام اس وقت تک نہیں کہیں گے جب تک ان میں اونٹ شامل نہ ہوں۔ النھی۔ جمع ہے اس کی واحد النھیۃ ہے۔ بری باتوں سے روکنے والی عقلیں۔ اولی النھی۔ اصحاب عقل۔ دانشور۔ ذوی العقول۔
Ayah 20:55(20:55) منھا۔ میں ضمیر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الارض (آیۃ 53 ہے) ۔ نعیدکم۔ نعید مضارع جمع متکلم۔ اعادۃ (افعال) مصدر بمعنی لوٹانا۔ (اور اسی میں) ہم پھر تم کو لوٹا دیں گے۔ تارۃ۔ کرۃ۔ باری۔ مرتبہ۔ دفعہ۔ یہ اصل میں تارۃ تھا۔ ہمزہ کثرت استعمال سے متروک ہوگیا۔ اس کی جمع تارات ہے اور تیر اور تئر بھی۔ ت ا۔ ر مادہ۔
Ayahs 20:56–57(20:56) ارینہ۔ ہم نے اس کو دکھلائیں ہٗ ضمیر کا مرجع فرعون ہے۔ ابی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ اباء مصدر (باب فتح ضرب) ابی یابی۔ وتابی قلوبہم (9:8) اور ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے ۔
Ayah 20:58(20:58) فلناتینک۔ الفاء ترتیب کے لئے لام موضع جواب قسم محذوف ای اذا کان کذلک فو اللہ لناتینک اگر ایسے ہے تو خدا کی قسم ہم بھی لے آئیں گے ناتین مضارع جمع متکلم بانون ثقیلہ۔
موعدا۔ اسم ظرف زمان۔ یا اسم ظرف مکان۔ وعدہ کا وقت یا وعدہ کی جگہ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ نہ اسم ظرف زمان ہے۔ بلکہ یہ مصدر میمی ہے اور بمعنی وعدا ہے اور لا نخلفہ سے مراد ہے کہ ہم وعدہ خلافی نہ کریں۔
مکان سوی۔ کھلا اور ہموار میدان جس میں نشیب و فراز نہ ہوتا کہ ہر چیز صاف نظر آئے اگر موعدا کو اسم ظرف مکان لیا جاوے تو مکانا سوی اس کی تعریف ہوگی اور اگر اسم ظرف زمان ہو تو معنی ہوں گے کہ وقت مقرر کرو جس سے ہم میں سے کوئی نہ پھرے اور اکٹھا ہونے کی جگہ کھلا میدان ہو۔
موعدا کو وعدہ کے معنی میں لینے کی صورت میں معنی ہوں گے کہ : ہمارے تمہارے درمیان ایک پختہ وعدہ ہو جس کے نہ ہم خلاف جائیں نہ تم۔ سوی۔ (صاف ۔ ہموار۔ درمیانی) کے متعلق امام راغب لکھتے ہیں جس کی دونوں طرفیں برابر ہوں وہ سوی ہے۔ یہ وصف ہو کر بھی مستعمل ہے اور ظرف ہو کر بھی۔ اور اصل میں یہ مصدر ہے۔
Ayah 20:59(20:59) یوم الزینۃ۔ جشن کا دن ۔ عید کا دن۔ یحشر۔ مضارع واحد مذکر غائب حشر مصدر (باب نصر) اکٹھے کئے جاویں ۔ جمع کئے جاویں۔ ضحی۔ وقت چاشت دن چڑھے۔ وہ وقت جبکہ دھوپ چڑھ جائے۔ ضحی کے معنی دھوپ کے پھیلنے اور دن کے چڑھنے کے ہیں۔ نیز اس وقت کو بھی ضحی کہتے ہیں یعنی سارے لوگ اکٹھے کئے جاویں۔
Ayah 20:60(20:60) فتولی۔ پھر (فرعون) واپس مڑا۔ (یعنی دربار سے محل کو واپس چلا گیا) ۔
کیدہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا مکروہ فریب۔ دائو۔ اپنے دائو فریب کا سامان جیسا کہ آگے (20:64) میں آیا ہے۔ فاجمعوا کیدکم تو تم اپنے سامان فن کو اکٹھا کرلو۔ جمع کیدہ اس نے اپنے جادو (دائوں۔ فریب وغیرہ) کا سامان اکٹھا کیا۔ ثم اتی۔ پھر آیا۔ (یعنی یوم مقررہ پر میدان مقررہ میں حسب وعدہ تیاری کے بعد واپس آیا)
Ayah 20:61(20:61) ویلکم۔ اے کم بختو۔ تمہاری کم بختی۔ لا تفتروا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم افترا نہ کرو۔ تم جھوٹ مت باندھو۔ افتراء (افتعال) مصدر۔ فری مادہ۔ یسحتکم۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اسحات مصدر۔ (افعال) سے وہ تم کو ہلاک کردے گا۔ وہ تم کو تباہ کر دے گا۔
السحت اصل میں اس چھلکے کو کہتے ہیں جو اچھی طرح اتار لیا جاوے۔ اور اس لئے ہلاک ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ۔ اکلون للسحت بڑے حرام کھانے والے (کیونکہ حرام بھی دین کو تباہ کرنے والا ہے) ۔ خاب۔ ماضی واحد مذکر غائب خیبۃ مصدر (باب ضرب) وہ نامراد ہوا۔ وہ خراب ہوا اس کا مطلب فوت ہوا۔
Ayah 20:62(20:62) تنازعوا۔ تنازع (تفاعل) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ آپس میں نزاع کرنے لگے۔ باہم جھگڑے۔ ایک دوسرے سے اختلاف کیا تنازعوا امرہم بینہم اپنے (اس) کام کے متعلق باہم جھگڑنے لگے ضمیر فاعل فرعون کے جملہ جادوگروں کے لئے ہے
اسروا۔ اسرار (افعال) سے ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے چھپایا۔ انہوں نے پوشیدہ کیا۔ النجوی۔ سرگوشی مصدر بھی ہے بمعنی سرگوشی کرنا۔ اسروا النجوی خفیہ مشورے کرنے لگے۔
Ayah 20:63(20:63) قالوا۔ آیت 63 سے لے کر من استعلی تک جادوگروں کا باہمی کلام ہے جو وہ خفیہ سرگوشیوں میں کر رہے تھے۔
ان ھذان۔ میں ان ان سے مخفف ہے بلاشبہ یہ دونوں ۔ الخ۔ بعض کے نزدیک ان نافیہ ہے اور لام بمعنی الا ہے ای ما ہذان الا ساحران۔ یہ دونوں نہیں ہیں مگر جادوگر۔ ان مخففہ کی صورت میں ان ناصب اسم ہے اور اس صورت میں ہذین چاہیے تھا۔ اس عدم عمل کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے بعض قبائل تثنیہ کو رفعی اور نصبی اور جری حالت میں الف کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ اس توجیہہ کو اکثر علماء (قرطبی، ابن حیان ، آلوسی) نے پسند کیا ہے۔
یذھبا بطریقتکم المثلی۔ المثلی اسم تفضیل واحد مؤنث۔ اس کا واحد مذکر الامثل ہے۔ اور ہر دو کی جمع المثل ہے۔ برگزیدہ بہتر و افضل دین کو ہی لے جائیں۔ یعنی مٹا دیں۔
Ayah 20:64(20:64) فاجمعوا کیدکم۔ اجمعوا اجماع (افعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ کیدکم۔ تمہاری دائوں۔ تمہاری چالیں۔ تمہارا سامان فریب۔ سامان فن و فریب۔ پس اب مل کر سب اپنے فن کا سامان اکٹھا کرلو۔
ائتوا صفا۔ تم آجائو صف در صف۔ یرے کے یرے۔ پرے باندھ کر۔ افلح۔ وہ جیت گیا۔ وہ مراد کو پہنچا۔ افلاح افعال سے جس کے معنی کامیابی اور مقصد وری کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ۔
قد افلح الیوم من استعلی۔ آج وہی (گروہ) کامیاب ہوگا جو (اس مقابلہ میں) غالب رہے گا۔ یہاں باب استفعال بمعنی فعل استعمال ہوا ہے۔ علا یعلوا علو۔ بلند ہونا۔ غالب ہونا۔ استعلی۔ اس نے غلبہ چاہا۔ اس نے بلندی چاہی۔ استعلاء استفعال سے ماضی واحد مذکر غائب علو مادہ۔
Ayah 20:65(20:65) اما۔ یا ۔ اگر۔ کئی معنوں میں آتا ہے (1) ابہام کے لئے مثلاً واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبہم۔ واما یتوب علیہم (9:106) اور بعضے اور لوگ ہیں کہ ان کا کام اللہ کے حکم پر ڈھیل میں ہے یا ان کو عذاب کرے یا ان کو معاف کرے۔
(2) تخییر۔ (اختیار دینا) کے لئے مثلاً اما ان تعذب واما ان تتخذ فیہم حسنا (18:86) خواہ تم انہیں سزادو خواہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
(3) تفصیل کے لئے۔ اما شاکرا و اما کفورا (76:3) ہم نے اس (انسان ) کو راستہ دکھلایا۔ اس کے بعد وہ شکر گذار بندہ بنے یا ناشکرا بن کر جئے۔ یہاں تخییر کے لئے استعمال ہوا ہے (تمہیں اختیار ہے کہ) پہلے آپ پھینکیں یا ہم ہی ہوجائیں پہلے پھینکنے والے۔
القی یلقی القاء (افعال) ڈالنا۔ القی اس نے ڈالا۔ یا پھینکا۔ تلقی تو پھینکتا ہے یا تو پھینکے گا۔ القوا تم پھینکو۔ صیغہ امر۔
Ayah 20:66(20:66) فاذا۔ الخ۔ تقدیر کلام یوں ہے قال بل القوا فالقوا حبالہم و عصیہم۔ فاذا حبالہم وعصیہم یخیل الیہ من سحرہم انھا تسعی۔ اس طرح فاء عطف کے لئے ہے اور اذا یہاں حرف فجائیہ آیا ہے جو کسی امر کے اچانک وغیر متوقع ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
حبال حبل کی جمع ہے بمعنی رسیاں۔ عصی جمع عصا کی۔ عصا کا الف دراصل وائو تھا ۔ جیسا کہ اس کے تثنیہ سے ظاہر ہے کیونکہ تثنیہ میں وائو اپنے اصل کی طرف مڑ آتا ہے عصوان عصی۔ عصا کی جمع بروزن فعول ہے لام کلمہ کی وائو کو یاء سے بدلا تو عصوی ہوا پھر وائو ما قبل یا کو یاء سے بدلا۔ یاء کو یاء میں مدغم کیا عصی ہوا۔ عین کلمہ کی کسرہ یاء کی رعایت سے ہے اور اسی طرح فاء کلمہ کی ۔ عصا کی جمع اعص اعصاء اور عصی بھی آئی ہے عصا اس لاٹھی کو کہتے ہیں جو ذرا لمبی ہو اور جسے چرواہے۔ لنگڑے۔ بوڑھے۔ ضعیف لوگ استعمال کرتے ہیں۔ اور وہ لکڑی جو بطور مشغلہ آدمی اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اسے محرضہ (چھڑی) کہتے ہیں۔
یخیل۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب تخیل (تفعیل) مصدر۔ اس کو خیال ہوتا تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھا۔ الیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام ) ہے۔ تسعی سعی سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ دوڑتی ہے۔
اب آیت کا ترجمہ یوں ہوگا۔ (حضرت موسیٰ نے) کہا بلکہ (پہلے ) تمہیں ڈالو۔ پس انہوں نے اپنی رسیاں اور سوٹے ڈالے) اور یکایک ان کی رسیاں اور سوٹے ان کے جادو سے حضرت موسیٰ کو یوں محسوس ہونے لگے جیسے وہ دوڑ رہے ہوں۔
Ayahs 20:67–68(20:67) اوجس۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ الوجس کے معنی صورت خفی کے ہیں وجس وہ حالت جو کسی خطرہ کے بعد دل میں پیدا ہوتی ہے لہٰذا اوجسکے معنی ہوئے اس نے دل میں خوف محسوس کیا۔ ایح اس (افعال) مصدر۔ خیفۃ۔ خوف۔ ڈر۔ خاف یخاف کا مصدر ہے۔
Ayah 20:69(20:69) تلقف۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ واحد مؤنث غائب۔ لقف مصدر سے (باب سمع) وہ نگل جاتی ہے۔ یا وہ نگل جائے گی۔ لقف کے معنی کسی چیز کو پھرتی سے لے لینا۔ خواہ ہاتھ سے یا منہ سے۔
ما صنعوا۔ اس کے لفظی معنی ہیں جو انہوں نے بنایا ہے۔ مراد اس سے ان کی وہ شعبدہ بازی اور جادوگری ہے جس سے رسیاں اور لاٹھیاں دوڑتی معلوم دیتی تھیں۔ رسیاں اور لاٹھیاں بذات خود اللہ تعالیٰ کی صنعت ہیں نہ کہ کسی غیر اللہ کی۔
انما صنعوا کید ساحر۔ ما موصول ہے اور ان کا اسم ہے صنعوا اس کی صفت۔ کید ساحر۔ مضاف مضاف الیہ مل کر خبر۔ یعنی جو جادوگری انہوں نے کی ہے محض جادوگری کا قریب۔ ساحر یہاں بطور اسم جنس کے آیا ہے عدد کے لئے نہیں ۔ اسی لئے قصداً صیغہ واحد میں لایا گیا ہے اسی طرح الساحر بھی اسم جنس ہے۔
Ayah 20:70(20:70) فالقی السحرۃ سجدا۔ لفظی ترجمہ ہوگا۔ پس گرا دئیے گئے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے ۔ یعنی وہ اس معجزہ کی حقیقت کو پاکر بےبس ہوگئے اور سجدہ میں گرگئے۔ نیز ملاحظہ ہو (7:120) ۔
Ayah 20:71(20:71) امنتم لہ۔ میں ضمیر کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ تم اس کی صداقت پر ایمان لے آئے کہ وہ مرسل من اللہ ہے۔
قبل ان۔ پیشتر اس کے کہ۔ یہاں قبل سے یہ مفہوم نہیں نکلتا کہ اجازت مانگنے کے بعد وہ ان کو ایمان لانے کی اجازت دے دیتا۔ معنی صرف ” بدون “ یا ” بغیر “ کے ہیں۔ جیسے سورة الکہف کی آیت قبل ان تنفد کلمات ربی۔ (18:109) کا یہ مفہوم نہیں کہ کلمات ربی کبھی بھی ختم ہو چکیں گے بلکہ وہاں بھی قبل کے معنی ” بدوں “ یا ” بغیر “ کے ہیں۔
انہ۔ میں بھی ضمیر واحد مذکر غائب حضرت موسیٰ کے لئے ہے۔ انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر۔ وہ (یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام) یقینا تمہارا بڑا (گرو) ہے جس نے تم کو بھی جادو سکھایا ہے (یعنی وہ تو تمہارا بھی استاد نکلا)
فلا قطعن۔ فاء سببیہ ہے۔ یعنی یہ سبب اس کے کہ امنتم لہ قبل ان اذن لکم میں یہ کروں گا۔ لام قسم کے جواب میں آیا ہے ای اقسم لاقطعن میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اقطعن۔
اقطعن۔ مضارع بانون تاکید ثقیلہ کا صیغہ واحد متکلم ہے میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ فلا قطعن۔ پس (یہ سبب تمہاری اس گستاخی کے کہ تم بغیر میرے حکم کے حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے) میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ضرور (تمہارے ہاتھ پائوں) کاٹ ڈالوں گا۔
من خلاف۔ الٹی طرف سے ۔ یعنی ایک طرف کا ہاتھ دوسری طرف کا پائوں۔ ولا صلبنکم۔ اور قسم ہے کہ میں ضرور تمہیں سولی پر چڑھائوں گا۔ صلب یصلب تصلیب (تفعیل) سے مضارع تاکید بانون ثقیلہ واحد متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ الصلب کے معنی سخت کے ہیں۔ اور پشت کو بھی اسی صلابت اور سختی کی وجہ سے صلب کہتے ہیں کسی کو قتل کرنے کے لئے لٹکانے کو صلب اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں اس شخص کی پیٹھ لکڑی کے ساتھ باندھ دی جاتی ہے۔
فی جذوع النخل۔ یہاں فی بمعنی علی آیا ہے ای علی جذوع النخل جذوع۔ تنا۔ ٹہنا۔ جذع کی جمع ہے فی جذوع النخلکھجور کے تنوں پر ۔ اینا۔ ہم میں سے۔ یعنی رب موسیٰ اور فرعون میں سے یا حضرت موسیٰ اور فرعون میں سے۔
اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ سخت۔ قوی تر۔ اسی طرح ابقی ہے بمعنی زیادہ دیر تک رہنے والا۔ عذابا۔ منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔ اینا اشد عذابا وابقی ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔
(20: 72) لن نؤثرک۔ مضارع بانون خفیفہ تاکید جمع متکلم ۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر ایثار مصدر (باب افعال) ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے۔ ہم ہرگز (تری اطاعت کو) مقدم نہ سمجھیں گے۔
الاثر کے اصل معنی ہیں علامت۔ نشان۔ اثر الشیء کسی شے کا نشان جو اس کے بعد باقی رہ گیا ہو اور جو اصل شے کے وجود پر دال ہو۔ قرآن مجید ہے فانظر الی اثار رحمۃ اللہ۔ (30:50) تم رحمت الٰہی کے نشانات پر غور کرو اسی سے اس طریق کو بھی آثار کہا جاتا ہے جس سے گذشتہ لوگوں کے اطوار وخصائل وعلم و حکمت واعتقادات وغیرہ پر استدلال ہوسکے جیسے ارشاد الٰہی ہے۔ ایتونی بکتاب من قبل ہذا او اثرۃ من علم ان کنتم صدقین (64:4) میرے پاس کوئی کتاب لائو جو اس سے پہلے کی ہو یا علم کے وہ معتبر بقیہ جات جو ان کے مبلغ علم کی نشاندہی کرسکیں۔
یا جیسے کہ ارشاد باری ہے فہم علی اثارہم یھرون (37:70) وہ انہی کے نقش قدم پر دوڑتے چلے جاتے ہیں۔ اس سے الماثر ہے۔ یعنی وہ انسانی مکارم جو نسلاً بعد نسل روایت ہوتے چلے آتے ہیں۔
اسی سے بطور استعارہ الایثار (افعال) کے معنی ہیں (ایک چیز کو اس کے افضل ہونے کی وجہ سے دوسری چیز پر) ترجیح دینا اور پسند کرنا۔ مثلاً آیۃ ہذا۔ لن تؤثرک علی ما جاء نا من البینت ان روشن دلائل کے سامنے جو ہم کو مل چکے ہیں ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔
Ayah 20:72(20:72) والذی فطرنا۔ فطرنا۔ ماضی واحد مذکر غائب نا ضمیر مفعول جمع متکلم فطر مصدر ۔ جس کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ عدم کے پردہ کو پھاڑ کر وجود میں لانا یعنی پیدا کرنا۔ اس نے ہمیں پیدا کیا۔ وہ ہمیں نیست سے ہست میں لایا۔ عدم سے وجود میں لایا۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) وائو عطف کی ہے اور اس کا عطف ماجاء نا من البینت پر ہے یعنی ان روشن دلائل کے سامنے جو ہم کو مل چکے ہیں اور اس ذات کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ہم تجھے ہرگز ترجیح نہیں دیں گے۔
(2) وائو قسم کے لئے ہے اس صورت میں دو وجہیں ہوں گی۔
(الف) جواب قسم محذوف سمجھا جائے اور عبارت یوں ہوگی والذی فطرنا لن نؤثرک قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ (ب) جواب قسم کو مقدم لا کر قسم کو مؤخر لایا گیا ہے۔
اقض۔ قضی یقضی (ضرب) قضاء فعل امر واحد مذکر حاضر تو فیصلہ دے دے تو کر گذر۔ قاض اسم فاعل واحد مذکر اصل میں قاضی تھا۔ یاء کو حذف کردیا گیا اور تنوین عوض یاء ض کو دی گئی۔ قضاء کے معنی ہیں آخری یا قطعی حکم فاقض ما انت قاض۔ تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کرلے۔
Ayah 20:73(20:73) اکرھتنا۔ الکرہ والکرہ سخت ناپسندیدگی۔ ہم معنی ہیں۔ بعض کے نزدیک کرہ (کاف کی فتحہ کے ساتھ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبردستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ (کاف کے ضمہ کے ساتھ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے ناخواستہ طور خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے اور یہ دو قسم پر ہے :۔
(1) ایک وہ جو طبعاً ناگوار ہو۔
(2) جو عقل یا شریعت کی رو سے مکروہ ہو۔ لہٰذا ایک ہی چیز کے متعلق انسان کہہ سکتا ہے کہ میں اسے پسند کرتا ہوں اور برا بھی سمجھتا ہوں یعنی مجھے طبعاً تو پسند ہے لیکن عقل و شریعت کی رو سے اسے برا سمجھتا ہوں۔
کرھت کا لفظ دونوں قسم کی کراہت کے متعلق استعمال ہونا ہے گو زیادہ تر ناگوار (کرہ) کے معنی ہی دیتا ہے۔ اکراہ (افعال) کے معنی ہی دیتا ہے۔ اکراہ (افعال) زبردستی کام پر مجبور کرنا۔ جیسے لا اکراہ فی الدین (2:256) دین میں کوئی زبردستی نہیں۔
یا ناپسندیدہ کام پر آمادہ کرنا۔ جیسے آیۂ ہذا ۔ وما اکرھتناعلیہ من السحر۔ جادو کے جس کام پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے۔ یہ جملہ معطوف ہے اس کا معطوف علیہ خطینا ہے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لئے ہماری خطائوں کو اور اس (قصور) کو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے۔ یعنی فن سحر۔
Ayah 20:74(20:74) انہ ضمیر شان (یہ ضمیر غائب بغیر مرجع کے واقع ہوئی ہے) تحقیق شان یہ ہے من یات۔۔ الخ) ۔
مجرما۔ ای کافرا ومشرکا۔ حال ہے۔ لا یحیی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب حیاۃ مصدر (باب سمع) نہ جئے گا۔ حیی یحیی۔
Ayah 20:75(20:75) اس آیت میں جن لوگوں کو الدرجت العلی عطا ہوں گے ان کی دو صفتیں بیان کی ہیں۔
ایک یہ کہ وہ مومن ہوں گے یعنی موت کے وقت ایمان کی دولت سے سرفراز ہوں گے اور دوسرے ایمان کے ساتھ انہوں نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے سو ایسوں کے لئے بڑے بلند درجے ہیں۔
Ayah 20:76(20:76) جنت عدن۔ ہمیشہ رہنے والے باغ یہ الدرجت کا بدل ہے۔ تزکی۔ تزکی سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے وہ پاک ہوا۔ سنور گیا۔
Ayah 20:77(20:77) اسر۔ اسراء سے فعل امر۔ واحد مذکر حاضر ۔ تو رات کو لے کر چل۔ اسراء رات کو لے کر چلنے یا رات کو سفر کرنے کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے سبحن الذی اسری بعبدہ (17:1) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت لے گیا۔
ان مفسرہ ہے اور اوحینا کی وضاحت کرتا ہے کہ ہم نے کیا وحی کی۔
فاجرب لہم طریقا فی البحر یبسا۔ اضرب فعل امر واحد مذکر حاضر طریقا فی البحر مفعول بہ اضرب کا یبسا صفت ہے طریقا کی۔ عبارت کچھ یوں ہے اضرب البحر (بعصاک لیسیر لہم طریقا یبسا۔ اپنے عصا کو سمندر کے پانی پر مارو کہ ان کے لئے (پانی میں) خشک راستہ بن جائے۔
قرآن کے جملہ کے لفظی معنی ہوں گے پھر ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنائو۔ یبسا مصدر بمعنی اسم فاعل (یابس) ہے یبس ییبس اور یابس یبس (باب سمع) یبوسۃ خشکی۔
لا تخاف۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر تو نہیں ڈرے گا۔ تجھے (کوئی) ڈر نہ ہوگا۔ ولا تخشی اور نہ تجھ کو خوف و خطرہ ہوگا۔
درکا۔ پالینا۔ آپکڑنا۔ درک کا استعمال دو معنی میں ہوتا ہے ۔ ایک تو اس رسی کے لئے جس کے ساتھ دوسری رسی اس غر ض سے ملا دی جاتی ہے کہ وہ پانی تک پہنچ جائے۔ دوسرے انسان کو جو کچھ خرابی کا نتیجہ پہنچے اس کو درک کہتے ہیں ۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔ لا تخاف درکا والا تخشی نہ تجھے پیچھے سے پکڑے جانے کا خوف ہوگا اور نہ کوئی اندیشہ۔
باب افعال سے ادرک یدرک ادراک (لڑکے کا) بالغ ہونا۔ (پھل کا) پک جانا۔ کسی شخص یا چیز کو) آلینا۔ (مسئلہ کو) سمجھ لینا۔ (کسی چیز کو آنکھ سے) دیکھنا۔ مثلاً لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار (6:103) (وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادرادک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ استدراک (استفعال) (کسی چیز سے کسی چیز کو) حاصل کرنے کی کوشش کرنا
Ayahs 20:78–79(20:78) فاتبعہم۔ اتبع ینبع اتباع (افعال) سے ، وہ پیچھے لگ گیا وہ پیچھے ہو لیا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم فغشیہم من الیم ما غشیہم۔ غشی (سمع) ماضی کا صیغہ واحد مذکرغائب اس کا مصدر غشیان وغشاوۃ ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس نے ان کو ڈھانک لیا ۔ وہ ان پر چھا گیا ۔ وہ ان کے اوپر آپڑا۔
دونوں جگہ ہم ضمیر فرعون و جنودہ کے لئے ہے غشی کا فاعل ما غشیہم ہے وہ چیز جس نے ان کو ڈھانک لیا۔ ترجمہ ہوگا۔ سمندر کی اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا۔ یعنی سمندر کے پانی نے ان کو ایسے ڈھانپا جیسا کہ ڈھانپنے کا حق تھا۔ یعنی مکمل طور پر۔ سمندر کے پانی یا سمندر کی موجوں کو نام لے کر بیان نہیں فرمایا بلکہ ما غشیہم فرمایا کیونکہ صریحا اس کے یہی معنی نکلتے ہیں جیسا کہ اور جگہ فرمایا فغشھا ما غشی (53:54) پھر ان بستیوں کو ڈھانپ لیا جس چیز نے کہ ڈھانپ لیا (یعنی عذاب الٰہی نے) اس طرز کلام کی عرب اشعار میں مثالیں موجود ہیں۔
Ayah 20:80(20:80) انجینکم۔ ہم نے تمہیں نجات دی۔ وعدنکم۔ ہم نے تم سے وعدہ کیا (اس بات کا کہ تمہارے پیغمبر اور تمہارے اکابر یہاں آئیں ۔ جانب الطور الایمن۔ جانب مضاف الطورمضاف الیہ الایمن صف ہے جانب کی۔ یعنی طور کی دائیں جانب۔ اور تمہارے لئے احکام و ہدایات یہاں سے لے جائیں۔