Ayah 20:81(20:81) لا تطغوا فیہ۔ اس میں حد سے تجاوز نہ کرو طغی یطغی (سمع) طغی طغیان ظلم و نافرمانی میں حد سے گذر جانا۔ باب نصر سے طغی یطغوا۔ فیحل۔ اس میں فاء سببیہ ہے یحل مضارع منصوب (بوجہ جواب نہیں) واحد مذکر غائب ۔ حلولمصدر (باب ضرب) نازل ہوگا۔ اترے گا۔
ھوی۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب ضرب) ھوی مصدر جس کے معنی اوپر سے نیچے گرنے کے ہیں۔ ھوی۔ وہ گرپڑا (یعنی دوزخ میں) صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ اس کے اصل معنی پہاڑ سے نیچے گرنے اور ہلاک ہوجانے کے ہیں۔ یہاں اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔
Ayah 20:82(20:82) اھتدی۔ ماضی واحد مذکر غائب اھتداء (افتعال) مصدر وہ راہ راست پر آیا ۔ اس نے ہدایت اختیار کی۔
Ayah 20:83(20:83) اعجلک اعجل اس نے جلد کرائی۔ اعجال (افعال) مصدر۔ عجلت جلدی۔
جیسا کہ اوپر آیت نمبر 80 میں گذر چکا ہے کہ وعدنکم جانب الطور الایمن اور یہ وہ وعدہ تھا کہ پیغمبر (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے اکابر آئیں اور اپنے لئے احکام و ہدایت لے جائیں اس کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر سر برآورہ آدمی ہمراہ لئے اور کوہ طور کی طرف چل پڑے اور جاتی دفعہ اپنی قوم کو تاکید فرمائی کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں کوئی ناشائستہ حرکت نہ کریں۔ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب بنا کر ان کے پاس چھوڑ گئے۔
جب وہ اپنے ستر آدمیوں کو لے کر کوہ طور کے نزدیک پہنچے تو شوق ملاقات الٰہی سے بیتاب ہو کر ساتھیوں کو پیچھے چھوڑا اور خود مقام مقررہ پر پہنچ گئے ارشاد الٰہی ہوا کہ اپنے ساتھیوں کو پیچھے کیوں چھوڑ آئے۔ عرض کہ کہ شوق ملاقات اور تجھے راضی کرنے کی تمنا کشاں کشاں دوڑا لائی ہے ساتھی بھی پیچھے آہی رہے ہیں۔ ارشاد ہوا فانا قد فتنا قومک۔۔ الخ ہم نے تیری قوم کو (تیرے پیچھے) ایک آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ما اعجلک عن قومک۔ کونسی بات تجھے اپنی قوم سے پہلے کھینچ لائی ہے۔
Ayah 20:84(20:84) ہم اولاء علی اثری۔ ہم مبتدا اولاء خبر علی اثری خبر ثانی وہ لوگ (میری قوم) تو یہ رہے (اشارہ) میرے پیچھے پیچھے (چلے آرہے ہیں) علی اثری میرے نشان قدم پر ۔ میرے (فورا) پیچھے مزید ملاحظہ ہو 20:72
رب۔ اے میرے رب۔ لترضی۔ لام تعلیل کی ہے ترضی مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تاکہ تو راضی ہوجائے۔
Ayah 20:85(20:85) فانا۔ میں الفاء تعقیب کے لئے ہے ای فتنا ہم بعد ان جئت کہ تیرے آنے کے بعد ہم نے ان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ فتناماضی جمع متکلم فتنۃ مصدر (باب ضرب) فتنااصل میں فتننا تھا نون کو نون میں مدغم کیا گیا ہے۔ ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا
Ayah 20:86(20:86) غضبان۔ صیغہ مبالغہ۔ سخت غضبناک۔
اسفا۔ خشمناک ہر دو غضبان واسفا منصوب ہیں بوجہ حال ہونے کے رجع موسیٰ سے۔ غضبان غیر منصرف ہے کیونکہ اس میں منجملہ اسباب منع صرف کے دو سبب (صفت اور الف نون زائدہ) پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا ا اس پر تنوین نہیں آسکتی۔
الاسف حزن اور غضب کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔ کبھی اسف کا لفظ حزن اور غضب میں سے ہر ایک پر انفرادً بھی بولا جاتا ہے۔ اصل میں اس کے معنی جذبہ انتقام سے خون قلب کے جوش مارنے کے ہیں اگر یہ کیفیت اپنے سے کمزور آدمی پر پیش آئے تو پھیل کر غضب کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور اگر اپنے سے طاقت ور آدمی پر پیش آئے تو منقبض ہو کر حزن بن جاتی ہے۔ غضب کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے۔ فلما اسفونا انتقمنا منہم (43:55) جب ان لوگوں نے ہمیں غضب ناک کیا (غصہ دلا دیا) تو ہم نے ان سے انتقام لیا۔ آیت ہذا میں بھی اسف کے معنی غضبناک کے ہی ہیں۔
الم یعدکم۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے لم یعد نفی حجد بلم فعل مضارع صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ کیا اس نے تم سے وعدہ نہیں کیا تھا ؟ افطال علیکم العھد۔ الف استفہامیہ۔ طال یطول طولا لمبا ہونا طول علی تاخیر کر کے کسی کو تھکا دینا۔ افطال۔۔ الخ کیا (اس) وعدہ کی (طوالت نے) تم کو تھکا دیا تھا۔ یعنی کیا وعدہ کی مدت اتنی طویل تھی کہ تم (ایفائے وعدہ کی) تاخیر سے تنگ آگئے تھے۔ یا ۔ کیا عہد کی مدت تم پر طویل ہوگئی تھی۔
فاخلفتم موعدی۔ اخلفتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر اخلاف (افعال) مصدر تم نے کلاف کیا۔ اخلاف وعدہ کے معنی وعدہ خلافی کرنا۔ موعدی مضاف مضاف الیہ میرا وعدہ۔ (یہ کہ میرے بعد وہ اس کے دین پر قائم رہیں گے اور کوئی ناشائستہ حرکت نہیں کریں گے)
Ayah 20:87(20:87) بملکنا۔ باء حرف جار۔ ملک مجرورو مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ملک بمعنی اختیار ملکیا ای اختیارنا۔ (الحازن) المفردات میں ہے ایک محاورہ ہے مالاحد فی ھذا ملک غیری کہ میرے سوا اس پر کسی کا اختیار یا قبضہ نہیں ہے۔ آیت ہذا ما اخلفنا موعدک بملکنا۔ کا معنی۔ ہم نے اپنے اختیار سے وعدہ خلافی نہیں کی۔
حملنا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ ہم پر لادا گیا۔ ہم لادے گئے ۔ ہم سے اٹھوایا گیا۔ تحمیل (تفعیل) مصدر۔
اوزارا۔ جمع وزرۃ کی ۔ بمعنی وز ن۔ بوجھ۔ زینۃ۔ زیور۔ سجاوت۔ چمک دمک۔ یہاں زیور مراد ہے۔ ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم۔ (بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ) قوم کے زیورات کا بوجھ ہم پر بھاری ہو رہا تھا۔
یہ زیور آیا قوم موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنا ملکیتی تھا۔ یا جیسا کہ بائبل میں مذکور ہے کہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطیوں سے مستعار لیا ہوا تھا۔ یا فرعون کی فوج کے غرق شدہ فوجیوں کے جسموں سے حاصل کیا تھا۔ کچھ بھی ہو اس کا صرف بوجھ سمجھ کر پھینک دینا قابل تسلیم بات نہیں۔ زیورات سے کم قیمتی سامان تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے پاس تھا اس کو کیوں نہ پھینک کر بوجھ ہلکا کرلیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے جب کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو یہ عذر لنگ پیش کردیا ۔ ہوسکتا ہے کہ حقیقت یہ ہو کہ سامری کے دھوکے میں آکر انہوں نے بلا کسی اور وجہ کے محض سامری کے حکم کی تعمیل میں زیورات اکٹھے کر کے دے دئیے ہوں۔
فقذفنھا۔ قذفنا۔ ماضی جمع متکلم فاء حرف تعقیب۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جس کا مرجع زیورات قوم ہے۔ قذف یقذف (ضرب) قذف مصدر۔ پھر ہم نے ان (زیورات ) کو ڈال دیا۔ ای القیناھا۔
فکذلک القی السامری۔ پس اس طرح (جب سونا فراہم ہوگیا تو) سامری نے اسے (آگ میں) ڈھالا۔ یہاں فقذفناھا پر قوم کا جواب ختم ہوا۔ اس کے بعد کی تفصیل اللہ تعالیٰ خود بیان فرما رہے ہیں۔
Ayah 20:88(20:88) عجلا۔ مفعول ہے اور موصوف۔ بچھڑا ۔ گوسالہ۔ گائے کا بچہ۔ جسدا۔ دھڑ۔ بدن۔ جسد کے معنی جسم کے ہیں ۔ مگر یہ اس سے اخص (خاص تر) ہے کیونکہ جسد وہ ہے جس میں رنگ ہو جسم کا استعمال اس کے لئے بھی ہوتا ہے جس کا رنگ ظاہر نہ ہو۔ جسدا صف ہے عجل کی۔ عجلا جسدا (ایک سنہری) جسم والا بچھڑا۔
خوار۔ گائے کی آواز۔ فقالوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ ضمیر فاعل کا مرجع سامری اور اس کے تابعین۔ فنسی۔ نسی ینسی (سمع) نسیان مصدر۔ وہ بھول گیا۔ (کہ اسے چھوڑ کر خواہ مخواہ طور پر تورات لینے چلے گئے) ۔
Ayahs 20:89–90(20:89) فتنتم بہ۔ فتنتم۔ ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم آزمائش میں ڈالے گئے ہو اس (بچھڑے) سے۔ یعنی اس بچھڑے کے ذریعہ تمہاری آزمائش ہو رہی ہے) ۔
Ayah 20:91(20:91) لن نبرح علیہ عکفین۔ ای لا نزال مقیمین علی الحجل وعبادتہ ہم بچھڑے کی عبادت پر ڈٹے رہیں گے ہم ہرگز نہیں ہٹیں گے۔ لن نبرح افعال ناقصہ میں سے ہے مضارع منفی کا صیغہ جمع متکلم مؤکد بہ لن۔ عاکفین اسم فاعل بحالت نصب۔ اعتکاف کرنے والے۔ مجاور ۔ گرد جمع ہونے والے۔ ایسے جمنے والے کہ ٹلیں ہی نہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ما ھذہ التماثیل التی انتم لھا عاکفون (21:52) یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی پوجا پاٹ پر تم جمے بیٹھے ہو۔
Ayahs 20:92–93(20:92:93) ما منعک الا تتبعن۔ کس بات نے تجھے منع کئے رکھا کہ تو میری پیروی نہ کرے۔ یعنی میری پیروی کرنے سے تجھے کس امر نے روکے رکھا۔ اس اسلوب بیان کی قرآن مجید میں اور بھی مثالیں ہیں۔ مثلاً ما منعک الا تسجد (7:12) تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکے رکھا۔ بعض کے نزدیک لا زائدہ ہے۔
اذ رایتہم ضلوا۔ بموضع ظرف زمان۔ جب تم نے انہیں دیکھ لیا تھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ افعصیت امری۔ کیا تو نے بھی میری نافرمانی کی۔ میرے حکم کو نہ مانا۔ معصیۃ وعصیان سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاض رہے۔
Ayah 20:94(20:94) یا بنؤم اصل میں یا بنؤمی تھا (یائے متکلم کی طرف اضافت کے ساتھ یاء کو حذف کیا اور الف سے بدلا یا بنؤما ہوگیا۔ پھر الف مبدلہ کو حذف کردیا گیا یا بنؤم بن گیا۔ بعض نے اس مشکل کا آسان ترین حل یہ بیان کیا ہے کہ یا بنؤم یا بنعم کی طرح کلام میں بکثرت استعمال کی وجہ سے تحریر میں بھی اسیے ہی استعمال ہونے لگا۔
انی خشیت ان تقول فرقت بینی وبین بنی اسرائیل۔ الخ۔ ای انی خشیت لو انکرت علیہم لصارو حزبین یقتل بعضہم بعضا فتقول فرقت۔۔ الخ یعنی مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے سختی سے ان کی مخالفت کی یا ان کے فعل میں چون وچرا کی تو وہ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے اور ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوجائیں گے پھر آپ کہیں گے کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا ہے۔
لم ترقب۔ مضارع نفی حجد بلم۔ بمعنی ماضی منفی صیغہ واحد مذکر حاضر۔ رقب یرقب (نصر) رقوبتو نے انتظار نہ کی۔ تو نے نگاہ نہ رکھی۔ یعنی تو نے میری بات یا میرے حکم کا انتظار نہ کیا لم ترقب قولیکا عطف جملہ سابقہ فرقت بینی وبین بنی اسرائیل پر ہے۔
Ayah 20:95(20:95) ما خطبک۔ الخطب والمخاطبۃ باہم گفتگو کرنا۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا۔ الخطب اہم معاملہ جس کے بارہ میں کثرت سے تخاطب (باہم گفتگو ) ہوماخطبکتیرا کیا حال ہے تیرا کیا معاملہ ہے ۔ تیری کیا حقیقت ہے (تو نے یہ کیا حرکت کر ڈالی)
Ayah 20:96(20:96) بصرت۔ ماضی واحد متکلم۔ میں نے دیکھا۔ مجھے نظر آیا۔ بصر یبصر (کرم) بصر مصدر ۔ جس کے معنی دیکھنے اور معلوم کرنے ہیں۔ البصر آنکھ کو کہتے ہیں اس کی جمع ابصار ہے قوت بینائی کو بصر کہتے ہیں۔
قبضۃ۔ مٹھی بھر۔ تھوڑا سا لے لینا۔ القبض کے معنی ہیں کسی چیز کو پورے پنچے کے ساتھ پکڑنا۔ جیسے قبض السیف اس نے تلوار کو پکڑا۔ قبض علی۔ مٹھی میں لے لینا۔ قبضہ میں لے لیناقبض عن۔ لینے سے ہاتھ کھینچ لینا۔ مال خرچ کرنے سے ہاتھ روک لینا۔ جیسے یقبضون ایدیہم (9:67) اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ قبض الی اپنی طرف سمیٹ لینا۔ جیسے ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا (25:46) پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔
اثر۔ اس کے حقیقی معنی تو نشان و علامت کے ہیں مگر مجازا نشان قدم کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ فنبذتھا۔ پس میں نے اسے ڈال دیا۔ ماضی کا صیغہ متکلم ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔
فائدہ :۔ آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ :۔ اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو لوگوں کو نظر نہ آئی پس میں نے رسول کے نشان قدم سے ایک مٹھی بھر (مٹی) لے لی پھر میں نے اسے ڈال دیا۔
لیکن آیت کے مفہوم میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ جس میں قدیم مفسرین کی اکثریت شامل ہے۔ بیان کرتا ہے کہ سامری نے ایک دفعہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو گھوڑی پر سوار دیکھا تھا اور گھوڑی کے نقش پاء سے ایک مٹھی بھر مٹی لے لی تھی اس گھوڑی کا جہاں قدم پڑتا خشک گھاس سرسبز ہوجاتی اور یہ اس مٹی کی کرامت تھی کہ جب اسے بچھڑے کے بت پر ڈالا گیا تو اس میں زندگی پیدا ہوگئی اور وہ جیتے جاگتے بچھڑے کی سی آواز نکلنے لگی۔
دوسرا گروہ جس میں ابو مسلم اصفہانی، فخری الدین رازی۔ علامہ ابی حیان اندلسی ۔ ابوالکلام آزاد۔ وغیرہ شامل ہیں ان کا بیان ہے کہ مجھے رسول یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یا ان کے دین میں وہ کمزور نظر آئی جو دوسروں کو نظر نہ آئی اس لئے ایک حد تک میں نے ان کے نقش قدم کی پیروی کی مگر بعد میں اسے چھوڑ دیا۔
ایک تیسرا گروہ جس میں مولانا مودودی، عبداللہ یوسف علی وغیرہ شامل ہیں اس امر کا قائل ہے کہ سامری کا یہ بیان ایک جھوٹی اور من گھڑت کہانی تھی۔ چناچہ مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ :۔
سامری ایک فتنہ پرداز شخص تھا جس نے خوب سوچ سمجھ کر ایک زبردست مکروفریب کی سکیم تیار کی تھی اس نے صرف یہی نہی کیا کہ سونے کا بچھڑا بنا کر اس میں کسی تدبیر سے بچھڑے کی سی آواز پیدا کردی تھی۔ اور ساری قوم کے جاہل اور نادان لوگوں کو دھوکے میں ڈال دیا۔ اور مزید اس پر یہ جسارت بھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ایک پر فریب داستان گھڑ کر رکھ دی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مجھے وہ کچھ نظر آیا جو دوسروں کو نظر نہ آتا تھا اور ساتھ ساتھ یہ افسانہ بھی گھڑ دیا کہ رسول کے نقش قدم کی ایک مٹھی بھر مٹی سے یہ کرامت صادر ہوئی۔
علامہ عبداللہ یوسف علی رقمطراز ہیں کہ :۔
This answer of the Samiri is a fine example of unblushing effrontery, careful evasion of issues, and invented falsehood.
سامری کا یہ جواب اس کی بےباک جرات ۔ اصل الامر سے پہلو تہی اور من گھڑت کذب وافترا کی ایک لاجواب مثال ہے۔
سولت۔ تسویل (تفعیل) مصدر سے۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس نے بات بنائی۔ اس نے اچھا کر کے دکھایا۔ تسویل کے معنی نفس کے اس چیز کو مزین کرنے کے ہیں جس پر اسے حرص بھی ہو۔ اور اس کے قبح کو خوشنما بناکر پیش کرنے کے ہیں۔
مثلاً الشیطن سول لہم (47:25) شیطان نے (یہ کام) انہیں مزین کر کے دکھایا یا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تھا۔ بل سولت لکم انفسکم امرا (12:18) بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔
Ayahs 20:97–98(20:97) لا مساس۔ مصدر منصوب بوجہ عمل لا۔ باب مفاعلہ۔ نہ کوئی مجھے چھوئے نہ میں کسی کو چھوئوں ۔ یعنی باہم چھونا ہی نہ ہو۔ المس کے معنی چھونا کے ہیں اور یہ لمس کے ہم معنی ہے۔ لیکن گاہے لمس کے معنی کسی چیز کو تلاش کرنے کے بھی آتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل بھی جاوے۔ لیکن مس کا لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے مثلاً وان طلقتموھن من قبل ان تمسوہن (2: 237) اور اگر تم عورتوں کو ان سے مجامعت سے پہلے طلاق دے دو ۔ مس بمعنی چھونا۔ پہنچانا۔ اور حق ہونا کے معنی میں بھی آتا ہے۔
لن تخلفہ۔ مضارع منفی مجہول مؤکد بلن۔ واحد مذکر حاضر۔ ہُ ضمیر واحد مذکر غائب اس کا مرجع موعدا ہے۔ ترجمہ۔ تم سے اس کی بابت خلاف ورزی نہیں کی جائے گی یعنی وہ ضرور تجھ کو مل کر ہی رہے گا۔
ظلت علیہ عاکفا۔ ای ظلت عاکفا علیہجس پر تو جم کر بیٹھا ہوا ہے۔ ظلت افعال ناقصہ میں سے ہے اور ظل وظلول مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر یہاں دوام کے معنی مراد ہیں۔ ظلت اصل میں ظللت تھا۔ چونکہ دو لام کا ایک ساتھ جمع ہونا ثقیل تھا اور پھر کسرہ میں اور بھی ثقل تھا۔ تو پہلا لام حذف کردیا گیا۔ اور ظ اپنے فتح کے ساتھ باقی رہا۔
عاکفا ای مقیما۔ جم کر بیٹھنے والا۔ عکوف مصدر جس کے معنی ہیں تعظیم کے طور پر کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا اور اس کو لازم پکڑ لینا۔ عکوف فی المسجد۔ مسجد میں اعتکاف کرنا۔
شرع میں اعتکاف سے مراد عبادت کی نیت سے مسجد میں جم کر بیٹھ جانا یا اپنے آپ کو روکے رکھنا انہی معنوں میں ارشاد ہے ولا تباشروہن وانتم عکفون فی المسجد (2:187) اور بیویوں سے صحبت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف کئے ہوئے ہو۔ اور ما ھذہ التماثیل التی انتم لھا عکفون (21:52) یہ کیا (واہیات) مورتیاں ہیں جن پر تم جمے بیٹھے ہو۔
لنحرقنہ۔ لام تاکید۔ نحرقن مضارع معروف بانون ثقیلہ برائے تاکید صیغہ جمع متکلم۔ ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الہ (الھک) ہے یعنی وہ بچھڑا جس پر بطور الہ کے جمے بیٹھے تھے۔ حرق یحرق تحریق (تفعیل) ہم اس کو خوب جلائیں گے۔
لننسفنہ۔ لام تاکید۔ ننسفن مضارع بانون ثقیلہ صیغہ جمع متکلم ہُ ضمیر واحد مذکر غائب برائے الہ۔ ہم ضرورہی اسے بکھیر کر بہا دیں گے۔ نسفت الریح الشیء کے معنی ہیں ہوا کا کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا۔ نسافۃ کے معنی اڑتی ہوئی غبار کے ہیں۔
ثم لننسفنہ فی الیم نسفا۔ پھر ہم نسافہ کی طرح اسے پھینک دیں گے سمندر میں۔ یعنی اس کی راکھ کو اڑا کر دریا بکھیر دیں گے۔ نسفا مصدر کو اخیر میں مزید تاکید کے لئے لایا گیا ہے ملاحظہ ہو (20:105) ۔ علما۔ بوجہ تمیز کے منصوب لایا گیا ہے۔
وسع۔ وسعت کے معنی کشادگی کے ہیں وسمع یسع (سمع) کسی چیز کو اپنے اندر سمو لینے کی وسعت رکھنا۔ مثلاً : ھذا الاناء یسع عشرین کیلا۔ یہ برتن اپنے اندر بیس کیل لے سکتا ہے یعنی اس برتن کے اندر بیس کیل سما سکتے ہیں۔ پس وسع کل شیء علما۔ علم کے لحاظ سے وہ ہر شے کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے یعنی ہر شے اس کے احاطہ علم میں ہے یا اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ اور جگہ انہی معنوں میں ارشاد ہے۔ احاط بکل شیء علما۔ (65:12) وہ اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔
Ayah 20:99(20:99) کذلک نقص علیک الخ کلام مستانفہ ہے اور خطاب حضرت نبی کریم ﷺ سے ہے کہ جس طرح ہم نے ابھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور سامری کا قصہ بیان کیا ہے اسی طرح ہم ماضی کے اور واقعات و حالات بھی تمہیں سناتے ہیں۔
انبائ۔ نبأ کی جمع۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ سچی خبریں۔ ما قد سبق جو پہلے ہوچکا ہے۔ جو پہلے گذر چکا ہے۔ اتینک۔ ماضی بمعنی حال۔ ہم تجھ کو دیتے ہیں۔ من لدنا۔ ہماری طرف سے۔ لدنا مضاف مضاف الیہ۔ ہماری طرف۔ ذکرا۔ بمعنی کتاب، قرآن۔ ذکر کو تعظیم وتفخیم کے لئے نکرہ لایا گیا ہے۔ یعنی ذکر عظیم۔ قرآن کریم۔
Ayah 20:100(20:100) وزرا۔ بوجھ (گناہوں کا بھاری) بوجھ اس کی جمع اوزار ہے۔ الوزر کے معنی بار گراں کے ہیں اور یہ معنی وزر بمعنی گناہ بھی آتا ہے۔
Ayah 20:101(20:101) خلدین فیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع وزر ہے۔ ای فی الوزر المراد منہ العقوبۃ۔ یعنی وہ اس عقوبت میں ہمیشہ کے لئے مبتلا رہیں گے۔ حملا۔ بوجھ ۔ اس کی جمع احمال ہے بروزن فعل و افعال۔ منصوب بوجہ ساء کی تمیز کے ہے۔ اور قیامت کے دن ان کے لئے یہ بہت برا بوجھ ہوگا۔
Ayah 20:102(20:102) زرقا۔ ازرق (مذکر) زرقاء (مؤنث) کی جمع ہے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کی آنکھ کی سیاہی نیلاہٹ یا سبزی یا زردی کی طرف مائل ہو۔ زرق کے متعلق دو قول ہیں۔
(1) ایک یہ کہ رومی جو اہل عرب کے سخت دشمن تھے وہ گریہ چشم تھے۔ اس لئے انہوں نے دشمن کی یہ صفت بیان کی ہے اسود الکبد (سیاہ جگر) اصھب السیال (بھوری مونچھوں والا ازرق العین (کبود چشم) ۔
(2) دوسرے یہ کہ جیسا کہ الفراء کا قول ہے زرقا بمعنی عمیا ہے یعنی اندھے۔ کیونکہ جس کی آنکھ کی روشنی جاتی رہتی ہے اس کی پتلی نیلی ہوجاتی ہے۔ یہاں مجرموں کو نفرت کے اظہار کے طور پر کبود چشم کھڑا کیا جانا بیان ہے۔ زرقابوجہ حال ہونے کے منصوب ہے۔
Ayah 20:103(20:103) یتخافتون۔ مضارع جمع مذکر غائب ہے۔ تخافت (تفاعل) مصدر چپکے چپکے آپس میں کہیں گے۔ چپکے چپکے آپس میں باتیں کریں گے۔ خفت مادہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فانطلقوا وہم یتخافتون (68:23) آخر وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے۔ عشرا۔ دس دن۔ عشرا کے مطلق عدد سے مراد دنوں کی تعداد لی گئی ہے۔ ای عشرۃ ایام ۔ یعنی دس دن۔
Ayah 20:104(20:104) املثہم۔ ان میں سے زیادہ اچھا۔ بہتر ۔ امثل کے اصلی معنی تو زیادہ مشابہ کے ہیں لیکن اس کا استعمال اس شخص کے لئے ہوتا ہے جو اچھے لوگوں کے مشابہ ہو اور اس اعتبار سے اس کے معنی زیادہ بہتر اور زیادہ نیک کے ہیں۔
طریقۃ۔ ای رایا وعقلا۔ عقل اور رائے میں۔ امثلہم طریقۃ۔ جو ان میں کا سب سے زیادہ صائب الرائے۔ محتاط ۔ اندازہ لگانے والا۔ زیادہ زیرک۔
Ayah 20:105(20:105) ینسفھا۔ نسف ینسف (ضرب) وہ ان کو اڑا کر بکھیر دے گا۔ نسف ونسوف (نصر) کاٹنا۔ نسف (ضرب) بنیاد اکھڑانا۔ پہاڑ کھودنا۔ کھود کر برابر کردینا۔ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دینا۔ واذا الجبال نسفت (77:10) اور جب پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دئیے جائیں گے۔ نیز ملاحظہ ہو
Ayah 20:106(20:106) فیذرھا۔ الفاء للتعقیب۔ تعقیب کے لئے ہے۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب یا جبال کے لئے ہے یا ارض کے لئے ہے۔ یذر مضارع واحد مذکر غائب وذرمصدر یذراصل میں (باب ضرب سے) یوذر تھا۔ لیکن عمومی تلفظ مضارع کا باب سمع سے کیا جاتا ہے فیذرھا۔ پس وہ اسے چھوڑ دے گا۔
قاعا۔ نرم۔ ہموار۔ نشیبی میدان جو پہاڑوں اور ٹیلوں سے دور واقع ہو۔ اس کی جمع قیع قیعۃ اقواع ہے۔ قیامت کے دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دئیے جائیں گے۔ اور سب چٹیل میدان کی شکل اختیار کرلیں گے۔ القیعۃ ہموار میدان ۔ قرآن مجید میں ہے کسراب بقیعۃ (24:39) جیسے چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت۔ قیع مادہ۔
صفصفا۔ صفصف مادہ الصف (نصر) کے اصل معنی کسی چیز کو خط مستوی پر کھڑا کرنا کے ہیں۔ جیسے انسانوں کو ایک صف میں کھڑا کرنا ہے۔ یا ایک لائن میں درخت لگانا۔ کبھی صف بمعنی صاف بھی آجا تا ہے جیسے ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا (61:4) جو لوگ خدا کی راہ مین پرے باندھ کر لڑتے ہیں وہ بیشک محبوب خدا ہیں الصفصف ہموار میدان۔ گویا وہ ایک صف کی طرح ہے۔
Ayah 20:107(20:107) عوجا۔ کجی۔ ٹیڑھا پن یہ عوج یعوج سے اسم ہے عوج مصدر اعوج صفت عوج العود لکڑی ٹیڑھی ہوگئی۔ عوج الانسان آدمی بدخلق ہوگیا۔ اعوجاج ٹیڑھا پن (لکڑی کا) ۔ امتا۔ ٹیلا۔ اونچان۔ نشیب و فراز۔
Ayah 20:108(20:108) یتبعون مضارع جمع مذکر غائب۔ پیچھے چلیں گے۔ اتباع کریں گے۔ پیروی کریں گے۔ ضمیر یتبعون الناس کے لئے ہے تمام خلقت ۔ الداعی۔ بلانے والا۔ پکارنے والا۔ دعاء سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ یہاں پکارنے والے سے مراد فرشتہ اسرافیل ہے جو صور پھونکنے پر مامور ہے۔
لا عوج لہ۔ اس سے کوئی کجی نہیں برتے گا۔ یعنی اس کے حکم کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ کوئی حکم عدولی نہیں کرے گا۔ جن کو وہ پکارے گا وہ بالکل سیدھے اس کے پیچھے ہو لیں گے ۔ کوئی ادھر ادھر نہیں ہوگا۔
خشعت۔ دب گئی۔ نیچی ہوگئی۔ پست ہوگئی۔ عاجز ہوگئی۔ خشوع مصدر۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل مستعمل ہے۔ الخشوع کے معنی ضراعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعۃ کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے۔ چناچہ ایک روایت میں ہے اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح۔ جب دل میں فروتنی ہو تو اس کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے اور قرآن مجید میں آیا ہے ویزیدہم خشوعا (17:109) اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے اور خاشعۃ ابصارہم (68:109) اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے اور خاشعۃ ابصارہم (68:43) ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ اور آیت ہذا میں وخشعت الاصوات آوازیں پست ہوجائیں گی۔
للرحمن۔ رحمن کے سامنے۔ اس کے خوف وہیبت کی وجہ سے۔ ھمسا۔ اسم مصدر منصوب (باب ضرب) قدم کی چاپ۔ آہٹ۔ مدہم آواز۔
Ayah 20:109(20:109) لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) ای لا تنفع شفاعۃ شافع الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا۔ یعنی کسی سفارش کرنے والے کی سفارش سود مند نہ ہوگی سوائے اس شفاعت کنندہ کے جسے رحمن اجازت بخشے اور (پھر اس سفارش کنندہ کی) بات پر وہ (رحمن) راضی ہو۔
اس کی تائید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ (2:255) کون ہے جو اس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے۔
اور یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا۔ (78:37) اس دن جب کہ روح اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے کوئی نہ بول سکے گا بجز اس کے جس کو رحمن اجازت بخشے اور وہ کہے بھی ٹھیک بات ۔
(2) ای لا تنفع شفاعۃ شافع لاحد الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا یعنی کسی سفارش کنندہ کی سفارش کسی کے حق میں بھی سود مند نہ ہوگی سوائے اس کے حق میں جس کے لئے رحمن اجازت بخشے اور جس کے قول پر وہ (رحمن) راضی بھی ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک قول سے مراد لا الہ الا اللہ کا کلمہ ہے یعنی مشفوع مومن بھی ہو ان معنی میں قرآن مجید میں ہے ولا یشفعون الا لمن ارتضی (21:28) اور وہ کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے بجز اس کے کہ جس کے لئے سفارش سننے پر رحمن بھی راضی ہو۔
یا کم من ملک فی السموت لا تغنی شفاعتہم شیئا الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء ویرضی (53:26) اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں کہ ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی بجز اس صورت کے کہ اللہ اجازت دے دے جس کے لئے وہ چاہے اور جس کے لئے وہ رضامند ہو۔
Ayah 20:110(20:110) یعلم ما بین ایدیہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہ تمام لوگ ہیں جو کہ حشر کے دن الداعی کی آواز پر اکٹھے ہوجاویں گے (آیت 108 مذکور بالا) یا بلا قید حشر جمیع الناس مراد ہیں۔
لا یحیطون بہ علما۔ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ علما تمیز ہے لا یحیطون سے یعنی ازروئے علم وہ اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ یا یوں کہ ان کا علم اس کی ذات وصفات کا کما حقہ ادراک نہیں کرسکتا۔
Ayah 20:111(20:111) عنت۔ ماضی واحد مؤنث غائب (لیکن یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے) ۔ عنت یعنت عنت (باب سمع) سے عنت کے معنی گناہ۔ بدکاری۔ مشقت، فساد ۔ ہلاکت غلطی ۔ خطا۔ زنا۔ جور۔ اذیت ۔ کئے گئے ہیں۔ لیکن بدنی یا دینی ضرر کے لئے عام استعمال میں آیا ہے۔ جیسے وذوا ما عنتم (3:118) وہ پسند کرتے ہیں جو چیز تمہیں ضرر پہنچائے۔ اور آیت ذلک لمن خشی العنت منکم (4: 25) یہ اس کے لئے ہے جو تم میں سے بدکاری کا اندیشہ رکھتا ہو۔ یہاں بھی بدکاری دینی وبدنی ضرر کے مترادف ہے اور آیت عزیز علیہ ما عنتم (9:128) جو چیز تمہیں ضرر پہنچاتی ہے وہ انہیں بہت گراں گذرتی ہے۔
آیت ہذا میں یہ باب نصر سے آیا ہے عنت یعنت عنو جس کے معنی جھکنا۔ ذلیل ہونا۔ عاجزی وفروتنی کرنا ہے وعنت الوجوہ اور چہرے عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ خاب۔ ماضی واحد مذکر غائب خیبۃ مصدر (ضرب) وہ نامراد ہوا۔ وہ ناکام رہا۔ ملاحظہ ہو (20:61) ۔
من حمل ظلما۔ جس نے اٹھار کھا ہو ظلم کا بوجھ۔ ” ظلم “ اپنے عام وسیع معنی میں بھی مراد ہوسکتا ہے لیکن یہاں عموما اس سے شرک مراد لیا گیا ہے ۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ان الشرک لظلم عظیم (31:13) بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔
ظلم کے اصل معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا۔ خواہ کمی یا زیادتی کر کے یا اسے اس کے صحیح وقت یا اصل جگہ سے ہٹا کر۔ اور اس سے زیادہ کیا ظلم ہوسکتا ہے کہ مخلوق کو خالق کا مقام دے کر شریک ٹھہرایا جائے۔ ظلما۔ یعنی زیادتی۔
Ayah 20:112(20:112) ھضما۔ مصدر باب ضرب۔ نقصان ۔ کم کرنا۔ توڑنا (یعنی شکست حق) نیکیوں کی کمی۔ ھضم کے اصل معنی ہیں کسی نرم چیز کو کچلنا۔ قرآن مجید میں ہے ونخل طلعھا ھضیم (26:178) اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہونے کی وجہ سے کچلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔
ھضم حقہ۔ کسی کے حق کو کم کرنا۔ ھضم لہ من حقہ اپنے حق میں سے کسی کو کچھ حصہ بخوشی دینا۔ ھضمت المعدۃ الطعام۔ معدے کا خوراک کو ہضم کرنا۔ الھاضم۔ ہضم کرنے والی دوا۔
Ayah 20:113ّ (20:113) کذالک۔ اس کا عطف کذلک نقص (آیۃ 99) پر ہے یعنی جس طرح اوپر کے مضامین، قیامت کے ہول۔ عذاب اور جہنم کے متعلق صاف صاف ارشاد ہوئے ہیں اسی طرح ہم نے قرآن کو عربی زبان میں وضاحت وفصاحت کے ساتھ نازل کیا ہے اور گناہوں کی سزائوں کو پھیر پھیر کر طرح طرح سے بیان کیا ہے کہ لوگ پرہیزگار بن جائیں۔
یحدث۔ احدث یحدث (افعال) احداث وہ پیدا کر دے۔ نیز ملاحظہ ہو (2:2) ۔ ذکرا۔ ذکر، پند۔ نصیحت۔ بیان۔ نفس کی وہ ہیئت جس کے ذریعہ انسان کے لئے جو کچھ معرفت حاصل کرے اس کا یاد رکھنا ممکن ہو۔ صاحب تفسیر ماجدی رقم طراز ہیں :۔
راہ حق قبول کرنے کے دو ہی واسطے ہیں۔ یا بواسطہ جذبات تعقل۔ دونوں آیت کے اس ٹکڑے میں جمع ہوگئے ہیں۔ یا یہ مراد ہو کہ بدیوں سے بچنے لگیں اور نیکیوں کی طرف بڑھنے لگیں۔ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ منکر تخویف وترہیب سے ایمان لائے اور جو مومن ہے اس کا مرتبہ فہم وتذکر قرآن سے اور دوبالا ہوجائے۔
Ayah 20:114(20:114) تعلی۔ تعلی یتعلی تعلی (تفاعل) سے ماضی واحد مذکر غائب وہ برتر ہے وہ بہت بلند ہے۔ یہاں باب تفاعل تکلف یا تخییل کے لئے استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ مبالغہ کے لئے ہے۔ تخییل کی مثال تمارض زید زید نے دکھاوے کے لئے اپنے تئیں بیمار بتایا۔
مدارک التنزیل میں تعالیٰ کے معنی لکھتے ہیں۔ ارتفع عن فنون الظنون واوھام الافہام وتنزہ عن مضاھاۃ الانام ومشابھۃ الاجسام۔ یعنی ہر وہم و گمان سے بالاتر۔ اور مخلوق کی مشابہت سے بلند وپاک، اس کا مادہ علو ہے۔
لا تعجل۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر تو جلدی نہ کر عجل وعجلۃ مصدر (باب سمع) تو جلدی نہ کر۔ لا تعجل بالقران قرآن (کے پڑھنے ) میں عجلت سے کام نہ لیں۔ یقضی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ وہ پورا کردیا گیا۔ من قبل ان یقضی الیک وحیہ قبل اس کہ آپ پر اس کی وحی پوری نازل ہوچکے۔
Ayah 20:115(20:155) عھدنا الی ادم۔ ہم نے آدم سے عہد کیا تھا۔ عہد الی۔ عہد کرنا۔ شرط لگانا۔ وصیت کرنا۔ یہ عہد شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانے کا تھا۔ فنسی۔ ای فنسی العہد۔ پس وہ اس عہد کو بھول گیا۔ صاحب ضیاء القرآن المفردات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :۔
نسیان کا معنی ہے انسان کا اس چیز کو محفوظ نہ رکھنا جو اسے ودیعت کی گئی ہے اور اس کی وجہ کبھی تو دل کی کمزوری کبھی غفلت ہوتی ہے اور کبھی قصداً بھی انسان کسی چیز کو اپنے دل سے محو کردیتا ہے ۔ اور یہی نسیان اللہ تعالیٰ کے نزدیک مذموم ہے۔
لم نجد لہ عزما۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) ہم نے (اس لغزش میں) ان کا کوئی قصد نہ پایا۔ یعنی آپ نے قصدا اس درخت کا پھل نہیں کھایا بلکہ بھول کر کھا بیٹھے۔ ای لم نجد لہ قصدا علی اکل الشجرۃ بل اکل ناسیا۔ (مظہری)
(2) ہم نے حکم الٰہی پر ثابت قدم رہنے کی آپ میں ہمت نہ پائی شیطان نے جب دل میں وسوسہ ڈالا تو آپ فریب میں آگئے۔
(3) ہم نے ان میں ارادہ ہی نہ پایا (کہ وہ ایک عہد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں) بلکہ محض بےخیالی اور بےاحتیاطی میں ان سے سرزد ہوگئی۔
العزم عقد القلب علی امضاء الامر۔ کسی کام کے کرنے کا تہیہ کرلینا۔
Ayah 20:116(20:116) ابی۔ اباء مصدر سے (باب فتح) یابی۔ انکار کرنا۔ ناپسند کرنا۔ اس نے سخت انکار کیا۔
Ayah 20:117(20:117) فتشقی۔ تشقی مضارع واحد مذکر حاضر۔ شقی یشقی (سمع) شقاوۃ شقوۃ۔ شقوۃ مصدر۔ بدبخت ہونا۔ شقاوۃ جملہ اعتبارات وحیثیات سے سعادۃ سعادت نفسی۔ سعادت بدنی۔ سعادت خارجی۔
اسی طرح شقاوت بھی ان ہی اقسام پر منقسم ہوتی ہے۔ چناچہ شقاوت اخروی کی مثال ہے فلا یضل ولا یشقی (20: 133) وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔
اور شقاوت دنیوی کے متعلق ہے فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (آیت ہذا) تو یہ تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے پھر تم تکلیف میں پڑ جائو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ (شیطان) تمہیں کوئی چکمہ دے اور تم پھنس جائو۔ ایسے یہ تم کو جنت کی راحتوں سے محروم کر دے گا۔ فتشقی اور تم مشقت میں مبتلا ہوجائو گے۔ کیونکہ یہاں (جنت میں) تو ہر چیز تیار ملتی ہے۔ اگر تم یہاں سے نکال دئیے گئے تو پھر ایک ایک لقمہ کے لئے محنت کرنا پڑے گی۔
المراد بالشقاء التعب فی طلب المعاش (مظہری) شقاوت سے یہاں مراد وہ کلفت اور تھکن ہے جو کسب معاش کے باعث انسان محسوس کرتا ہے۔ یہاں نشقی کا لفظ بدبختی کے معنی میں مستعمل نہیں۔
Ayahs 20:118–119(20:118) الا تجوع۔ ان لا تجوع کہ تو نہ بھوکا رہے گا۔ جوع سے (باب نصر) جس کا معنی بھوک لگنا ہے۔ مضارع منفی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ جس کا معنی بھوک لگنا ہے۔ مضارع منفی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ جوع بھوک۔ فیھا۔ ای فی الجنۃ۔
لا تعری۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ عری یعری۔ (سمع) عریۃ وعری سے ننگا ہونا۔ نہ تو ننگا ہوگا۔ نہ تو برہنہ ہوگا۔ اسی سے العراء ہے ایسی کھلی جگہ جہاں کوئی چیز آڑ کے لئے نہ ہو۔ فنبذنہ بالعراء وھو سقیم (37:145) پھر ہم نے اسے جبکہ وہ بیمار تھا ایک کھلے میدان میں ڈال دیا۔
Ayah 20:120(20:120) وسوس۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وسوسۃ فعللۃ مصدر۔ اس نے دل میں برا خیال پیدا کیا۔ اس نے وسوسہ دلایا۔
ھل ادلک۔ ھل برائے استفہام۔ ادل مضارع واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر ھاضر۔ کیا میں تمہیں بتائوں۔ کیا میں تمہاری راہنمائی کروں۔ دلالۃ مصدر سے (باب نصر) جس کے معنی رہنمائی کرنے کے ہیں۔
شجرۃ الخلد۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ہمیشگی کا درخت۔ ایسا درخت جس کا پھل کھانے سے دوامی زندگی مل جائے۔ ملک۔ بادشاہی۔ لا یبلی۔ مضارع منفی معروف ۔ واحد مذکر غائب۔ بلی وبلاء (باب سمع) بمعنی پرانا ہونا بوسیدہ ہونا۔ گھس جانا۔ فناء ہونا۔ لا یبلی۔ کبھی پرانا نہ ہو۔ جو فنا نہ ہو۔