23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 23:109–111

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

بلاشبہ بات یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے ایک جماعت تھی، جو یوں دعا کرتے تھے کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے سو آپ ہمیں بخش دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے اور آپ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں۔

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

سو تم نے ان کو مذاق بنا لیا یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنستے تھے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

بلاشبہ آج میں نے انہیں ان کے صبر کرنے کی وجہ سے یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا مزید فرمان ہوگا (اِِنَّہٗ کَانَ فَرِیقٌ مِّنْ عِبٰدِیْ ) (بلاشبہ میرے بندوں میں سے ایک گروہ تھا جو یوں دعا کرتے تھے) کہ اے ہمارے اللہ ہم ایمان لائے سو ہماری مغفرت فرما دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے اور آپ رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم فرمانے والے ہیں اس جماعت کو تم نے مذاق اور ٹھٹہ اور مسخرہ پن کا نشانہ بنا لیا تھا اور تم اس درجہ ان کے پیچھے پڑے کہ انھوں نے تمہیں میری یاد بھلا دی یعنی تم ان کو مذاق بنانے میں ایسے لگے کہ میری یاد کی تمہیں فرصت ہی نہیں رہی۔ تم ان کا مذاق بھی بناتے تھے اور ان سے ہنستے بھی تھے تم نے اپنے کیے کا نتیجہ بھگت لیا اور ہمیشہ کے لیے دوزخ میں چلے گئے اور انہوں نے اپنے ایمان اور عمل صالحہ کا پھل پا لیا آج میں نے انہیں ان کے صبر کر نیکی وجہ سے یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں (وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں چلے گئے) سورة آل عمران میں فرمایا (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ) (سو جو شخص دوزخ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ ہی کامیاب ہوا) ۔
Ayahs 23:112–117

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ تم برسوں کی گنتی کے اعتبار سے زمین میں کتنے دن رہے،

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ایک یا ایک دن سے بھی کم رہے سو آپ گننے والوں سے سوال فرما لیجیے،

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم تھوڑی ہی مدت رہے اگر تم جانتے ہو،

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم نے یہ خیال کیا کہ ہم نے تمہیں بطور عبث پیدا کیا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے۔

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

سو برتر ہے اللہ جو بادشاہ ہے حق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے،

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو کوئی شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے سو ان کا حساب اس کے رب کے پاس ہے، بلاشبہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ کامیاب نہیں ہو نگے،

اللہ تعالیٰ برتر ہے مالک ہے حق ہے وحدہ لا شریک ہے، کافر کامیاب نہیں ہونگے کافروں سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا یہ بھی سوال ہوگا کہ تم زمین میں برسوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنے دن رہے ؟ وہ وہاں ہیبت اور ہول کی وجہ سے ہوش و حواس گم کرچکے ہونگے اس لیے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ ایسا خیال آتا ہے کہ ایک دن یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے ہونگے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں ہے شمار کرنے والوں سے یعنی فرشتوں سے سوال فرما لیجیے ہماری عمروں کا صحیح حساب ان کو معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے وہاں جتنے دن بھی زندگی گزاری وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہی ہے، وہ دارالفنا تھا اب دارلقرار میں آئے ہو۔ یہاں موت نہیں ہے اگر تم دنیا میں ہی حقیقیت کو سمجھ لیتے۔ اور موت کے بعد زندہ ہو کر حساب کتاب کی پیشی کا یقین کرلیتے تو تمہارے حق میں اچھا ہوتا۔ مزید ارشاد ہوگا کہ تم نے دنیا میں جو زندگی گزاری اس میں تم یہ جانتے تھے کہ ہمارے خالق نے ہمیں پیدا کیا ہے کیا یہ بات جاننے کے باو جود تم نے یہ سمجھا کہ ہمارے خالق کا ہم پر حق ہے وہ حکیم مطلق ہے اس نے ہمیں حکمت کے موافق پیدا کیا ہے تم نے اس حقیقت کو نہ سمجھا اور الٹے یوں سمجھے کہ ہماری پیدائش بطور عبث ہے اس میں خالق جل مجدہ کی نہ کوئی حکمت ہے اور نہ ہمیں مر کر اپنے خالق کی طرف واپس لوٹنا ہے، تمہاری اس ناسمجھی اور غلط بیانی نے تمہیں برباد کردیا اور آج تمہیں دوزخ میں جانا پڑا۔ سورة حم سجدہ میں ہے (وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمْ الَّذِیْ ظَنَنتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدَاکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (اور تمہارا یہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اس نے تمہیں ہلاک کردیا سو تم خسارہ والوں میں ہوگئے) (فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ) (سو برتر ہے اللہ بادشاہ ہے حق ہے) (لَا اِِلٰہَ اِِلَّا ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ ) (اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے) سب سے بڑا بادشاہ ہے ملک الملوک ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی معبود ماننا یہ بہت بڑی بغاوت ہے یہ باغی یوں نہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی مواخذہ اور محاسبہ نہ ہوگا۔ محاسبہ ضرور ہوگا اور کافر لوگ وہاں میدان آخرت میں نا کام ہونگے۔ یعنی دوزخ میں جائیں گے مشرکین جو شرک کرتے ہیں ان کے پاس اس کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اسی کو فرمایا کہ (وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ لاَ بُرْھَانَ لَہٗ بِہٖ فَاِِنَّمَا حِسَابُہُ عِنْدَ رَبِّہٖ اِِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ ) (جو شخص اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہوگا بلاشبہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ کامیاب نہ ہونگے) ۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے رب بخش دیجیے اور رحم فرمائیے بلاشبہ آپ رحم کرنے والوں میں سے سب سے بہتر رحم فرمانے والے ہیں۔

آخر میں دعا کی تلقین فرمائی (وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ ) (اور آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے رب بخش دیجیے اور رحم فرمائیے اور آپ رحم فرمانے والوں میں سب سے بہتر رحم فرمانے والے ہیں) اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے امت آپ کی تابع ہے ساری امت اس فرمان پر عمل کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت طلب کیا کریں۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ ولقد حصل الفراغ من تفسیر سورة المومنون فی الیلۃ الحادیۃ عشر من ربیع الاخر سنۃ 1415 ھ الحمد للہ اولاً و آخراً و ظاھراً و باطنا