Ayahs 23:31–43حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم سخت چیخ کے ذریعہ ہلاک ہوئی (کمافی سورة ھود) اور یہاں جس رسول کی امت کی ہلاکت کا ذکر ہے ان کی ہلاکت بھی سخت چیخ کے ذریعہ بتائی ہے تو اس سے قول ثانی کو ترجیح معلول ہوتی ہے والعلم عند اللہ الکریم۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد ایک اور جماعت کو پیدا کیا ان میں بھی رسول بھیجا، یہ رسول انہیں میں سے تھا اس نے بھی ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارے کوئی معبود نہیں ہے تم وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو تمہیں ڈرنا چاہئے کہ اس کی وجہ سے تم پر کوئی عذاب نہ آجائے، ان کی قوم کے چودھری اور سردار جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا تھا اور آخرت کے منکر تھے اور دنیا کے عیش و عشرت میں مگن تھے کہنے لگے جی یہ کیسے رسول ہوسکتا ہے یہ تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہے جس سے تم کھاتے ہو یہ بھی اسی سے کھاتا ہے جس سے تم پیتے ہو یہ بھی اسی سے پیتا ہے، اگر یہ رسول ہوتا تو اس میں کوئی امتیازی بات ہوتی، اگر تم نے ایسے شخص کی بات مانی جو تمہارے ہی جیسا شخص ہے تو تم نقصان اور گھاٹے والے ہوجاؤ گے، اس شخص کی بات پر وہی ایمان لاسکتا ہے جس کی عقل کا دیوالیہ ہوچکا ہو، کیا اس کی باتیں سمجھ میں آنے والی ہیں ؟ یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور بالکل مٹی اور ہڈیاں رہ جاؤ گے، تو قبروں سے زندہ کر کے نکالے جاؤ گے یہ جو بات تمہیں بتارہا ہے عقل و فہم سے دور ہے۔ (یعنی ایسا ہونے والا نہیں ہے)
ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ یہی دنیا والی زندگی ہے اس میں موت وحیات کا سلسلہ جاری ہے ہم مرتے بھی ہیں اور جیتے بھی ہیں یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ یہ بات کہ مرنے کے بعد قبروں سے اٹھائے جائیں گے پھر حساب کتاب کے لیے پیشی ہوگی یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے جو مرگیا سو مرگیا اب کہاں کا زندہ ہونا اور قبروں سے اٹھنا ؟
یہ شخص جو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے اس کے بارے میں ہماری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ جب ان کی قوم نے ان کی بات ماننے سے انکار کیا تو انھوں نے بار گاہ خداوندی میں وہی دعا کی جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی کہ اے میرے رب اس سبب سے کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا میری مدد فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان سے مدد کا وعدہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ وہ وقت قریب ہے کہ یہ لوگ نادم پشیمان ہونگے جب عذاب آئے گا تو پچھتائیں گے اللہ تعالیٰ نے جو اپنے رسول سے وعدہ فرمایا تھا حق تھا اس نے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جھٹلانے والوں کے لیے ایک زبردست چیخ بھیج دی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے ان کا وجود خس و خاشاک اور کوڑا کرکٹ کی طرح ہو کر رہ گیا، سو ظالم قوم کے لیے اللہ کی رحمت سے دوری ہے ان پر اللہ کی مار ہے اور پھٹکار ہے۔
Ayah 23:44حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرعون اور اس کے درباریوں کا تکبر اور تکذیب اور ہلاکت
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمانے کے بعد ایک اور رسول کی تشریف آوری کا اور ان کی امت کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا پھر فرمایا کہ ہم نے ان کے بعد اور بہت سی جماعتیں پیدا کیں، ان سے حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی قومیں اور ان کے علاوہ جو قومیں تھیں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کے باعث ہلاک کردی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر میں جس امت کے ہلاک ہونے کا جو وقت مقرر تھا ہر امت ٹھیک اسی وقت میں ہلاک کی گئی۔ نہ وہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہلاک ہوئی اور نہ اس وقت سے موخر ہوئی۔
قولہ تعالیٰ ” تَتْرَا “ من المتو اترۃ وھو التتابع مع فصل و مھلۃ و التاء الاولی بدل من الواو کمافی تراث و جمھور القراء و العرب علی عدم تنوینہ فالفہ للتانیث کالف دعوی و ذکری و معناہ ثم ارسلنا رسلنا متواترین و قرأ ابن کثیر و ابو عمر و تَتْرًا بالتنوین وھو لغۃ کنانۃ۔ (راجع روح المعانی ج 18 صفحہ 34)
(فَاَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا) (سو ہم بعض کو بعض کے بعد وجود لاتے رہے) یعنی ایک قوم گئی اور اس کے بعد دوسری قوم آگئی برابر ایسا ہی ہوتا رہا جیسے وجود میں آنا آگے پیچھے تھا اسی طرح ہلاک ہونے میں بھی آگے پیچھے تھے، ایک قوم آئی رسول کو جھٹلایا وہ ہلاک ہوئی دوسری قوم آئی اس نے بھی اپنے رسول کو جھٹلایا وہ بھی ہلاک ہوگئی اسی طرح سلسلہ جاری رہا،
(وَجَعَلْنَاھُمْ اَحَادِیْثَ ) (اور ہم نے انہیں کہانیاں بنا دیا) یعنی وہ لوگ رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ایسے برباد ہوئے اور ایسے گئے کہ بعد کے آنے والے صرف کہانیوں کے طور پر ان کا ذکر کرتے ہیں کہ اس نام کی بھی کوئی قوم تھی اور فلاں علاقے میں بھی کبھی لوگ آباد تھے، کیا تو ان کے بڑے بڑے دعوے تھے اور کیا ان کا انجام ہوا کہ بس کہانیوں کی طرح لوگ ان کا تذکرہ کرتے ہیں (فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) (سو دوری ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں لاتے) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہیں کیونکہ غیر مومن کو اللہ کی رحمت شامل نہ ہوگی وہ ہمیشہ لعنت میں رہیں گے۔
Ayahs 23:45–48(ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ) یعنی مذکورہ اقوام کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور سلطان مبین دے کر بھیجا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو سورة انفال کی آیت (وَ لَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ) اور اس کی بعد آیت میں مذکور ہیں اور سلطان مبین (حجۃ واضحہ) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا مراد ہے۔ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا ان لوگوں نے تکبر اختیار کیا انہیں دنیا میں جو برتری حاصل تھی اس کی وجہ سے اپنے کو بڑا سمجھتے تھے اور تکبر انہیں لے ڈوبا کہنے لگے یہ دونوں آدمی جو کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا ہم ان پر ایمان لے آئیں حالانکہ دونوں جس قوم کے فرد ہیں یعنی بنی اسرائیل وہ تو ہمارے فرماں بردار ہیں، یہ ان کی پوری قوم جن میں یہ بھی شامل ہیں ہم سے بہت زیادہ کمتر ہیں ہم مخدوم ہیں یہ خادم ہیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اس قوم کے دو آدمیوں کو پیغمبر مان لیں جو ہمارے ماتحت ہیں جو لوگ ہم سے دب کے رہتے ہیں ان کو اپنے سے برتر کیسے سمجھ لیں ؟ وہ لوگ ایسی ہی باتیں کرتے رہے، اللہ تعالیٰ کے دونوں پیغمبروں کو جھٹلایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہلاک کردیئے گئے یعنی سمندر میں ڈبو دیئے گئے۔
Ayah 23:49اس کے بعد فرمایا (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتٰبَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ ) (اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تاکہ وہ لوگ ہدایت پاجائیں) جب فرعون اور اس کی قوم غرق ہو کر ہلاک ہوگئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے قوم بنی اسرائیل کو کے کر دریا پار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توراۃ شریف عطا فرمائی۔ جب تک بنی اسرائیل فرعون کی غلامی میں تھے احکام شرعیہ پر عمل کرنے سے عاجز تھے اس لیے انہیں تفصیلی احکام اس وقت دیئے جب فرعون کی گرفت سے نکل گئے یہ احکام توراۃ شریف کے ذریعہ دیئے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی توراۃ شریف کے بارے میں سورة انعام میں فرمایا ہے (وَ تَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ ) بنی اسرائیل نے کیا کیا حرکتیں کیں ان کا ذکر سورة بقرہ میں اور سورة انعام میں گزر چکا ہے۔
Ayah 23:50حضرت مریم اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ :
آخر میں فرمایا (وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ اٰیَۃً ) (اور ہم نے ابن مریم اور ان کی والدہ کو نشانی بنا دیا) ابن مریم یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کے بطن سے پیدا ہونا جبکہ کسی بشر نے ان کی والدہ کو چھوا تک نہ تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک عظیم نشانی ہے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے (جو سورة آل عمران اور سورة مائدہ میں بیان ہوچکے ہیں) ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یاد رہے قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ کسی نبی کا ابن فلاں کہہ کر تذکرہ نہیں فرمایا اور سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ جگہ جگہ ابن مریم فرمایا ہے اور سورة مریم میں واضح طور پر فرما دیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن اب بعض ملحد اور زندیق یوں کہتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے باپ کا نام یوسف تھا اس طرح سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلاتے ہیں اور حضرت مریم علیھا السلام پر بھی بد کرداری کی تہمت دھرتے ہیں۔ لعنھم اللہ تعالیٰ ۔
مزید فرمایا (وَّآوَیْنَاھُمَا اِِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ ) (اور ہم نے ان دونوں کو اونچی جگہ پر ٹھکانہ دیا جو ٹھہرنے کی جگہ تھی اور جس میں پانی جاری تھا) مطلب یہ ہے کہ ہم نے انہیں رہنے کے لیے بلند جگہ عطا کی (جہاں اچھی طرح رہ سکتے تھے وہاں کھیتیاں تھیں پھل پھول تھے) نیز پانی بھی جاری تھا پانی جو کھیتوں کو اور باغات کو سیراب کرتا تھا اور اس کے دیکھنے سے دل خوش ہوتا۔ اس بلند جگہ سے کون سی جگہ مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں حضرت عبداللہ بن سلام صحابی (جو پہلے یہود میں سے تھے) انہوں نے فرمایا کہ اس سے دمشق مراد ہے، حضرت سعید بن المسیب تابعی کا بھی یہ قول ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اس سے رملہ مراد ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے بیت المقدس مراد ہے۔ (معالم التنزیل ج 3 صفحہ 31)
یہ تو اکابر کے اقوال ہیں جن میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بھی ہیں، اب دور حاضر کے بعض زندیقوں کی بات سنو وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی قبر کشمیر میں ہے یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات کے قائل نہیں اور سورة نساء میں جو (وَ مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ) فرمایا ہے اس کے منکر ہیں۔ فلعنۃ اللہ علی الکاذبین۔
بیان القرآن میں لکھا ہے کہ ایک ظالم بادشاہ بیر دوس تھا جو نجومیوں سے یہ سن کر کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی سرداری ہوگی صغر سن ہی میں ان کا دشمن ہوگیا تھا الہام ربانی سے حضرت مریم (علیہا السلام) ان کو لے کر مصر میں چلی گئیں اور اس ظالم کے مرنے کے بعد پھر شام میں چلی آئیں (کذافی الروح و فتح المنان عن انجیل متی وروی فی الدر المثور تفسیر الربوۃ عن ابن عباس و وھب و ابن ذید بمصرو عن ذید بن اسلم بالا سکندریہ ایضابمصر) اور مصر کا اونچا ہونا باعتبار رودنیل کے ہے ورنہ غرق ہوجاتا اور ماء معین رودنیل ہے۔ واللہ اعلم انتھی۔
Ayahs 23:51–56طیبات کھانے کا حکم، متفرق ادیان بنا کر مختلف جماعتیں بنانے والوں کا تذکرہ، مال اور اولاد کا خیر ہونا ضروری نہیں
یہ چھ آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی کو قبول فرماتا ہے (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جو حکم دیا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے رسولوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) (اے رسولو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو) اور مومنین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ) (اے ایمان والو تمہیں جو پاکیزہ چیزیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ) ۔ (الحدیث رواہ مسلم ج 1 صفحہ 326)
یہ حکم تین چیزوں پر مشتمل ہے کہ ایک یہ ہے کہ حرام اور خبیث چیزیں نہ کھائیں دوسرے یہ کہ جو پاکیزہ چیز نصیب ہو اسے کھا لیں تیسرے یہ کہ کھائیں بھی اور نیک عمل بھی کریں، پاکیزہ چیزیں کھانے سے جو صحت اور قوت حاصل ہو اسے اللہ کی فرماں برداری میں خرچ کریں، اس کے احکام پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے منتفع ہونا اور انہیں گناہوں میں لگانا یہ ناشکری ہے، سورة سبا میں فرمایا (کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ ) (کھاؤ اپنے رب کے رزق سے اور اس کا شکر ادا کرو) کوئی شخص بھی عمل کرے یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے سب اعمال کا علم ہے اعمال صالحہ باعث اجر ثواب اور برے اعمال آخرت میں مواخذہ کا سبب ہیں۔ دوسری اور تیسری آیت میں فرمایا کہ یہ جو دین ہم نے تمہیں دیا ہے یہی تمہارا طریقہ ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا یہی دین تھا اس دین کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واحد، احد اور صمد مانو اور اس کی ربوبیت کا اقرار کرو یعنی اسے رب مانو اور اس سے ڈرو اور موت سے ڈرو۔ اور موت کے بعد جی اٹھنے پر بھی ایمان لاؤ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں صحیح عقائد رکھنے کا حکم بھی آگیا اور قیامت پر ایمان لانے پر بھی اور فرائض و واجبات کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کا بھی، دین توحید کو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے ذریعہ بھیجا بہت سی اقوام نے اسے اختیار نہیں کیا اور اپنی طرف سے عقائد تجویز کرلیے اور اعمال بنا لیے، ان جماعتوں میں ہر ہر جماعت اپنے خود تراشیدہ دین پر ہے اور سب اپنے اپنے دین پر خوش ہیں اور مگن ہیں، جو لوگ دین سماوی کے مدعی ہیں ان کا بھی یہی حال ہے اور ان کے علاوہ جو دوسرے ادیان کے ماننے والے ہیں وہ بھی اسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، انہیں خود بھی اقرار ہے کہ ہم جس دین پر ہیں اس کے بارے میں ایسی کوئی سند حجت اور دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت کرسکیں کہ اپنے اس دین پر چلنے سے آخرت میں نجات ہوگی اور یہ کہ جس دین پر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے، مدعیان اسلام میں بھی بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جو اس دین پر نہیں ہیں جو سید الانبیاء ﷺ لے کر آئے تھے ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو قرآن مجید کی تحریف کے قائل ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے منکر ہیں اور سب اپنے اپنے خیال میں مست ہیں اپنے عقیدہ کے خلاف سوچنے کو تیار نہیں ہیں، جو قرآن کو اور قرآن کی تصریحات کو نہ مانیں بھلا وہ کیسے مسلمان ہوسکتے ہیں ؟ لیکن ان لوگوں کو زبردستی اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے۔ (قَاتَلَھُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ )
چوتھی آیت میں یہ فرمایا کہ اے رسول ﷺ آپ نے انہیں تبلیغ کردی ہے حق واضح کردیا بات سمجھا دی اب یہ آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہتے تو انہیں ایک خاص وقت تک ان کی جہالت پر چھوڑ دیجیے جب یہ لوگ مریں گے تو انہیں حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔
پانچوں اور چھٹی آیت میں یہ بتایا کہ یہ جو منکرین اور مکذبین آپ پر ایمان نہیں لاتے اور دنیاوی اعتبار سے ہم انہیں بڑھا رہے ہیں اور ترقی دے رہے ہیں اموال بھی بڑھ رہے ہیں اور بیٹوں کی بھی چہل پہل ہے کیا ان لوگوں کو یہ خیال ہے کہ ہم انہیں فائدے پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں ؟ ان کا یہ سمجھنا غلط ہے یہ تو ہماری طرف سے استدراج یعنی ڈھیل ہے یہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں انہیں معلوم نہیں کہ ہم کفر کے ساتھ جو اموال اولاد میں ترقی دیتے ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ لوگ ان چیزوں سے مغرور ہو کر اور زیادہ سر کشی اختیار کریں اور پھر بہت زیادہ عذاب میں مبتلا ہوں۔
فائدہ : (کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) میں اس طرف ارشاد ہے کہ حلال غذا کو عمل صالح میں بڑا دخل ہے، جب غذا حلال ہوتی ہے تو خود بخود اعمال صالحہ کی رغبت ہوتی ہے اور غذا حرام ہو تو اعمال صالحہ کی طرف طبیعت نہیں چلتی شیطان حرام کی طرف کھینچتا ہے اور گناہ کرواتا ہے عموماً اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔
Ayahs 23:57–62نیک بندوں کی صفات
ان آیات میں نیک بندوں کی مزید صفات بیان فرمائی ہیں۔ اولا تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں دوسرے یہ فرمایا کہ وہ اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ تیسرے یہ فرمایا کہ اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے چوتھے یہ فرمایا کہ وہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس خرچ کرنے پر انہیں کوئی سخاوت کا گھمنڈ اور غرور نہیں ہوتا بلکہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی بار گاہ میں جانا ہے وہاں یہ مال خرچ کرنا قبول ہوتا ہے یا نہیں وہاں پہنچ کر کیا صورت حال ہو یہاں کچھ نہیں کہہ سکتے، مال پوری طرح حلال تھا یا نہیں، نیت خالص اللہ کی رضا کے لیے تھی یا اس میں کچھ ریا کاری ملی ہوئی تھی وغیرہ وغیرہ۔ ان حضرات کی مذکورہ بالا صفات بیان فرما کر ان کی تعریف فرمائی کہ یہ لوگ خیرات یعنی نیک کاموں کی طرف جلدی جلدی بڑھتے ہیں اور نیک کاموں میں سبقت لے جاتے ہیں۔ اہل دنیا میں اموال کمانے میں مسابقت کرنے یعنی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے جذبات ہوتے ہیں اور ان لوگوں میں ایسے کاموں میں آگے بڑھنے کے جذبات ہیں جن کی وجہ اور ذریعہ سے آخرت میں زیادہ سے زیادہ نعمتیں ملیں۔
یہ جو فرمایا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کے پاس جانا ہے اس کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ جن لوگوں کے دل ڈر رہے ہیں کیا ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو شراب پیتے ہیں چوری کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس سے یہ لوگ مراد نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو روزے رکھتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ یہ (عبادات) ان سے قبول نہ ہوں یہ وہ لوگ ہیں جو خیرات یعنی اعمال صالحہ میں جلدی کرتے ہیں۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ کمافی المشکوۃ صفحہ 458) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سارے اعمال اپنے طور پر اخلاص نیت کے ساتھ ٹھیک طریقہ پر ادا کرنے کے باو جود بھی ڈرتے رہنا چاہئے کہ ہمارے اعمال قبول ہوتے ہیں یا نہیں، اول تو ضروری نہیں ہے کہ ہر کام پوری طرح درست ہی ہوگیا ہو۔ کمی کوتاہی کا نیت کی خرابی کا کچھ نہ کچھ احتمال ہر عمل کے ساتھ لگا ہوا ہے کوئی شخص کیسے یقین کرسکتا ہے کہ میرا سب کچھ درست ہے اور لائق قبول ہے، اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت سے بھی مالا مال فرمایا اور اعمال صالحہ کی بھی توفیق دی، اور اس کا مزید کرم یہ ہے کہ اعمال کو قبول فرما کر اجر وثواب بھی عطا فرماتا ہے، اگر وہ چاہتا تو اعمال کا حکم بھی دیتا اور عمل کرنے کے بعد کچھ بھی نہ دیتا، وہ مالک ہے حاکم ہے حقیقت میں اس کے ذمہ کسی کا کوئی حق نہیں، اجر وثواب عطا اور بخشش اور فضل ہی فضل ہے۔
جو حضرات اس حقیقت کو جانتے ہیں وہ اچھے سے اچھا عمل بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ دیکھو قبول ہوتا ہے یا نہیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے نماز میں پڑھنے کے لیے کوئی دعا بتائیے آپ نے فرمایا کہ یوں دعا کیا کرو۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ الاّآ اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَ ارْحَمْنِیْٓ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور آپ کے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا سو آپ اپنے پاس سے میری مغفرت فرمائیے بلاشبہ آپ بخشنے والے اور رحم فرمانے والے ہیں) غور کرنے کی بات ہے پڑھی ہے نماز، وہ بھی ابوبکر صدیق نے اور جو دعا بتائی جا رہی ہے اس کی ابتداء یہاں سے ہے کہ اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا، اسی لیے عارفین نے فرمایا کہ ہر اچھے عمل کے آخر میں بھی استغفار کرلینا چاہئے استغفار جہاں گناہوں کے معاف ہونے کا ذریعہ ہے وہاں اعمال کی کمی اور کوتاہی کی تلافی کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی کو بھی اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کیا آپ کا عمل بھی آپ کو نجات نہیں دلائے گا آپ نے فرمایا ہاں میرا بھی یہ حال ہے الایہ کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ دے۔
آخر میں فرمایا (وَلاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا اِِلَّا وُسْعَہَا) (ہم کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے) جس شخص کو جو حکم دیا ہے وہ اس کی طاقت سے باہر نہیں ہے اور ہر شخص کا عمل محفوظ ہے کتاب میں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن وہ کتاب حق کے ساتھ بولے گی سب کو ظاہر کر دیگی۔ جب جزا سزا ملے گی تو کسی پر ذرا سا ظلم بھی نہ ہوگا اسی کو فرمایا (وَلَدَیْنَا کِتٰبٌ یَنطِقُ بالْحَقِّ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ) (اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بیان دیگی اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا) ۔
Ayahs 23:63–70کافروں کا حق سے منہ موڑنا، تکبر کرنا، اور تدبر سے دوررہنا
اوپر اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا اب ان آیات میں منکرین کے احوال اور اعمال بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں جہالت نے جگہ پکڑ رکھی ہے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ان کے دل جہالت سے بھرے ہوئے ہیں تکذیب و انکار کے علاوہ دیگر اعمال خبیثہ کا بھی ارتکاب کرتے ہیں یہ لوگ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو پکڑ لیں گے اور ان پر عذاب بھیج دیں گے تو فوراً چلا اٹھیں گے، جب پہلے حق کی دعوت دی گئی تبلیغ کی گئی تو حق کو ٹھکرایا اور بات نہ مانی اب جب عذاب آگیا تو چلانے لگے، ان سے کہا جائے گا اب چیخ پکار نہ کرو اب ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہ ہوگی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سے یہ بھی کہا جائے گا کہ تم پر میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو تم تکبر کرتے ہوئے الٹے پاؤں بھاگ جاتے تھے اور تم نے قرآن کو مشغلہ بنا رکھا تھا کہ اس کی شان میں بےہودہ بکواس کرتے تھے قرآن کے بارے میں باتیں بناتے تھے کوئی شخص اسے کہتا تھا کہ پرانے لوگوں کی باتیں سن لی ہیں انہیں سناتے رہتے ہیں کوئی شعر بتاتا تھا۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ بہ کی ضمیر حرم کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہیں کعبہ کا متولی ہونے پر ناز تھا مکہ مکرمہ میں امن کے ساتھ رہنے اور بےخوف زندگی گزارنے کی وجہ سے اپنے کو بڑا سمجھتے تھے اور حرم میں بیٹھ کر راتوں رات مجلسیں کرتے اور اول فول بکتے تھے اور اللہ کی ہدایت کی طرف کان نہیں دھرتے تھے۔
پھر فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے منکر ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور انکار کا کیا سبب ہے کیا انہوں نے اس میں غور نہیں کیا اگر غور کرتے تو اس کی فصاحت اور بلاغت کو دیکھ لیتے اور اس کے مضامین عالیہ سے متاثر ہوتے، غور و فکر کے بغیر ہی جھٹلانے کا سبب یہی عدم تدبر ہے یا یہ بات ہے کہ ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جو ان کے بڑوں کے پاس نہیں آئی تھی ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر انہیں پہلے سے رسولوں کی باتیں نہیں پہنچی ہوتیں اور سلسلہ نبوت و رسالت سے ناواقف ہوتے تب بھی ایک بہانہ ہوتا کہ یہ ایک نئی چیز ہے ہم اسے نہیں مانتے لیکن ان کے پاس یہ بہانہ بھی نہیں ہے کیونکہ انہیں اس کا علم ہے کہ اللہ کی طرف سے نبوت اور رسالت کا سلسلہ جاری رہا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جانتے مانتے تھے حج اسی لیے کرتے تھے کہ انہوں نے سکھایا اور بتایا تھا۔
مزید فرمایا کیا یہ لوگ قرآن کی اس لیے تکذیب کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا ؟ مطلب یہ ہے کہ یہ بات بھی نہیں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نہ پہچانا ہو، بچپن سے کے کر جوانی تک پھر جوانی سے لے کر نبوت سے سر فراز ہونے تک پھر نبوت سے سر فراز ہونے سے لے کر آج تک انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے آزمایا ہے آپ کی صفات کریمہ اور اخلاق عالیہ سے واقف ہیں آپ کو صادق اور امین جانتے ہوئے کیوں جھٹلا رہے ہیں ؟ آگر آپ کو نہ جانتے ہوتے تو یہ بھی ایک بہانہ بن سکتا تھا لیکن اس بہانہ کا بھی کوئی بہانہ نہیں ہے۔
پھر فرمایا کیا وہ یوں کہتے ہیں کہ رسول دیوانگی سے متاثر ہے حالانکہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ عقل و فہم کے اعتبار سے بلند مقام پر ہیں تو پھر آپ کی نبوت کے منکر کیوں ہیں ؟ بات یہ ہے کہ آپ کی ذات اور آپ کی دعوت کوئی تعجب کی چیز نہیں ہے نہ آپ کی بات نئی ہے نہ آپ کی سچائی اور امانت میں کلام ہے اور آپ کی طرف جو دیوانگی کی نسبت کرتے ہیں وہ بھی غلط ہے لہٰذا ان کا جھٹلانا کسی دلیل اور حجت کے باعث نہیں ہے (بَلْ جَاءَ ھُمْ بالْحَقِّ وَاَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کَارِھُوْنَ ) بلکہ بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ حق بات کے کر آئے اور ان میں سے اکثر لوگ حق سے نفرت کرتے ہیں اصل وجہ تکذیب کی یہ ہے کہ انہیں سے بغض اور عناد ہے اور اَکْثَرُھُمْ اس لیے فرمایا کہ ان میں سے بعض کا اسلام قبول کرنا مقدر تھا۔
لفظ غمرۃ ڈھانپنے کے معنی میں آتا ہے اور ایسے گہرے پانی کو بھی کہتے ہیں جس میں آدمی ڈوب جائے یہاں اس کا حاصل معنی یعنی جہالت کیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ ان دلوں پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ کسی طرف سے بھی علم و فہم کا گزر نہیں ہے اور مُتْرَفِیْھِمْ جمع ہے جو میم جمع کی طرف مضاف ہے، عربی میں خوش حال آدمی کو مترف کہا جاتا ہے جب عذاب آتا ہے تو پکڑے تو سبھی جاتے ہیں لیکن خوش حال افراد کا ذکر خاص کر اس لیے فرمایا کہ یہ لوگ نہ خود حق قبول کرتے ہیں نہ عوام کو قبول کرنے دیتے ہیں۔ دوسرے اس لیے کہ ان کے پاس مصائب سے بچنے کا انتظام ہوتا ہے اور چونکہ انہیں صبر تحمل کی عادت نہیں ہوتی سب سے پہلے یہی لوگ بلبلاتے ہیں، علامہ بغوی معالم التنزیل میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آیت بالا میں جس گرفت کا ذکر ہے اس سے مشرکین مکہ کا غزوہ بدر میں مقتول ہونا مراد ہے۔
قولہ تعالیٰ ” بہ سامرا تھجرون “ قال البغوی فی معالم التنزیل اختلفوا فی ھذہ الکنایۃ فاظھر الاقاویل انھا تعود الی البیت الحرام کنایۃ عن غیر مذکور، ای مستکبرین متعظمین بالبیت الحرام و تعظمھم بہ انھم کانوا یقولون نحن اھل حرم اللہ و جیران بیتہ فلا یظھر علینا احد و لا نخاف احد فیا منون فیہ و سائر الناس فی الخوف ھذا قول ابن عباس و مجاھد وجماعۃ و قیل مستکبرین بہ ای بالقرآن فلم یومنوا بہ والاول اظھر المراد منہ الحرم (سامرا) نصب علی الحال ای انھم یسمرون باللیل فی مجالسھم حول البیت و وحد سامرا و ھو بمعنی السمار لانہ و ضع موضع الوقت، اراد تھجرون لیلا و قیل وحد سامرا و معناہ الجمع کقولہ (ثم نخرجکم طفلا) (تھجرون) قرا نافع (تھجرون) بضم التاء و کسر الجیم من الاھجار وھو الا فحاش فی القول، ای تفحشون و تقولون الخنا و ذکر انھم کانوا یسبون النبی ﷺ و اصحابہ و قرأ الا خرون (تھجرون) بفتح التاء وضم الجیم ای تعرضون عن النبی ﷺ و عن الایمان والقرآن و ترفضونھا و قیل الھجر وھو القول القبیح یقال ھجر یھجر ھجرا اذا قال غیر الحق و قیل تھزؤن و تقولون مالا تعلمون من قولھم ھجر الر جل فی منامہ اذا ھذی۔