Ayahs 23:71–77منکرین کی خواہشوں کا اتباع کیا جائے تو آسمان و زمین میں فساد آجائے، کافر راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں
یہ سات آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ حق لوگوں کے خلاف اور ان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے کیونکہ جب حق لوگوں کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو حق ہی نہیں رہے گا اگر لوگوں کو کھلی چھٹی دیدی جائے کہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں تو وہ اپنی طبیعتوں کے مطابق کفر و شرک کو اختیار کریں گے اور برے اعمال ہی کی طرف چلیں گے جب ایسا ہوگا تو سب قہر الہٰی کے مستحق ہوجائیں گے اور غضب الہٰی کا نزول ہوگا تو خود بھی ہلاک ہوں گے اور آسمان و زمین بھی اور ان میں جو کچھ ہے وہ بھی۔
کیونکہ سارے عالم کا بقا اہل ایمان کے بقا سے ہے اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک زمین پر اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا۔ (رواہ مسلم)
(بَلْ اَتَیْنَاھُمْ بِذِکْرِھِمْ فَہُمْ عَنْ ذِکْرِھِمْ مُعْرِضُوْنَ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت بھیجی ہے سو یہ لوگ اپنی نصیحت سے رو گردانی کرتے ہیں) نصیحت ربانی سے منہ موڑ کر اپنی جہالتوں اور ضلالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دوسری اور تیسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ ان سے کچھ آمدنی کا مطالبہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ایمان قبول نہیں کرتے، یہ استفہام انکاری ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ ان سے کوئی پیسہ کوڑی طلب نہیں کرتے تاکہ یہ یوں کہیں کہ یہ نبوت و رسالت والی بات اس لیے چلائی ہے کہ لوگ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کو کچھ دیا کریں جب آپ کی طرف سے دعوت ایمان کی ساری محنت بالکل للہ فی اللہ ذرا سا بھی شائبہ کسی طرح کی دنیا طلبی کا نہیں ہے تو پھر انہیں کفر پر جمے رہنے کے لیے اس بات کو بہانہ بنانے کا بھی موقع نہیں ہے کہ دنیا کے لالچ کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں اور آپ کو کسی مخلوق سے کچھ چاہنے کی ضرورت ہی کیا ہے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو دیا ہے اور جو کچھ عطا فرمائے گا وہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر عطا فرمانے والا ہے، پھر ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہیں آپ اپنے کام میں لگے رہیں۔ چوتھی آیت میں فرمایا کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں حق واضح ہوجانے پر بھی صراط مستقیم پر نہیں آتے، پانچویں آیت میں فرمایا کہ اگر ہم ان پر مہربانی کردیں اور وہ جن تکلیفوں میں مبتلا ہیں انہیں دور کردیں تو اس کی وجہ سے شکر گزار نہ ہوں گے اور ایمان کی راہ اختیار نہ کریں گے بلکہ برابر سر کشی کرتے رہیں گے، یہ انسان کا مزاج ہے کہ خوش حالی میں اور آرام و راحت میں صراط مستقیم سے ہٹ کر چلتا ہے اور مزید بغاوت پر کمر باندھ لیتا ہے جیسا کہ سورة زمر میں فرمایا (وَاِِذَا مَسَّ الْاِِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیبًا اِِلَیْہِ ثُمَّ اِِذَا خَوَّلَہُ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدْعُو اِِلَیْہِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) (اور آدمی کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اسی کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو جس کے لیے پکار رہا تھا اس کو بھول جاتا ہے اور خدا کے شریک بنانے لگتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے) ۔
چھٹی اور ساتویں آیت میں یہ فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں کو بعض اوقات عذاب میں گرفتار کیا لیکن اس وقت بھی ان لوگوں نے اپنے رب کے حضور میں فروتنی اور عاجزی اختیار نہ کی۔
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ کی سر کشی پر ان کے لیے بد دعا فرما دی کہ یا اللہ ان پر قحط کے ایسے سال بھیج دے جیسے یوسف (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے تھے جب قحط پڑا اور بہت ہی بد حالی کا سامنا ہوا تو ابو سفیان (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا، آپ یہ نہیں فرماتے کہ میں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں یہ بات ضرور کہتا ہوں، اس پر ابو سفیان نے کہا ہمارے بڑوں کو تو آپ نے (بدر میں) تہ تیغ کردیا اور اب ہمارے بیٹوں کو بھوک سے مار رہے ہیں، اللہ سے دعا کردیجیے کہ ہمارے قحط کی مصیبت کو دور فرما دے، آپ نے دعا فرما دی جس سے ان کی مصیبت دور ہوگئی اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (وَ لَقَدْ اَخَذْنَا ھُمْ ) (آخر تک) نازل فرمائی اس میں یہ بتایا کہ ان لوگوں پر مصیبت آچکی ہے پھر بھی اپنے رب کے سامنے نہ جھکے یعنی حسب سابق کفر پر قائم رہے جن لوگوں کا یہ حال ہے کہ عین عذاب کے وقت بھی اپنے رب کی طرف متوجہ نہ ہوں وہ آرام و راحت اور عافیت کے زمانے میں تو اور بھی زیادہ بغاوت اور سر کشی اختیار کریں گے۔ (حَتّٰی اِِذَا فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ ) یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں تو وہ اچانک حیرت زدہ ہو کر رہ جائیں گے (اور وہ اس وقت بھی توبہ نہ کرسکیں گے) اس میں تنبیہ ہے اور وعید بھی ہے کہ اچانک سخت عذاب میں گرفتار کیے جاسکتا ہیں لہٰذا اس سے بچنے کے لیے ہمارے بھیجے ہوئے بنی پر اور نازل کی ہوئی کتاب پر ایمان لائیں۔
معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ سخت عذاب سے مشرکین کا غزوہ بدر میں قتل ہونا مراد ہے اور بعض حضرات نے اس سے موت اور بعض حضرات نے قیامت قائم ہونا مراد لیا ہے اور مُبْلِسُونَ کا ترجمہ آئسون من کل خیر کیا ہے یعنی جب سخت عذاب کا دروازہ کھلے گا تو ہر خیر سے نامید ہوجائیں گے۔
Ayahs 23:78–90اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید
گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔
اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر ہے لیکن اللہ کے نبی اور اس کی کتاب پر ایمان نہیں لاتے، اس کی عبادت میں نہیں لگتے اس کے ساتھ شرک کرتے ہو، پھر فرمایا کہ ان سے فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے یعنی زمین میں رہتے سہتے ہو اس میں تمہاری نسلیں چل رہی ہیں اس سے فائدہ اٹھاتے ہو جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا وہی موت دیتا ہے اور رات دن کا مختلف ہونا یعنی ایک دوسرے کے بعد آنا جانا یہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے تم اس بات کو سمجھو اگر سمجھتے ہو تو اس کی توحید اور عبادات سے کیوں دور کھاگتے ہو۔
اس کے بعد فرمایا کہ مردہ ہو کر دو بارہ زندہ ہونے کے بارے منکرین بعث وہی بات کہہ رہے ہیں جو ان سے پہلے لوگوں نے کہی ان کا کہنا ہے کہ مرجانے کے بعد جب مٹی ہوجائیں گے اور گوشت پوست ختم ہو کر ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ جائیں گی تو کیا ہم پھر زندہ ہو کر اٹھائے جائیں گے یہ بات کہہ کر ان کا مقصد دو بارہ زندہ ہونے سے انکار کرنا ہے انہوں نے اپنی اسی بات پر بس نہیں کیا بلکہ یوں بھی کہا کہ اس طرح کی باتیں پہلے بھی کہی گئی ہیں ہمارے باپ دادوں سے بھی اس طرح کا وعدہ کیا گیا ہے سینکڑوں سال گزر گئے آج تک تو قیامت آئی نہیں آنی ہوتی تو اب تک آجاتی یہ پرانے لوگوں کی باتیں نقل درنقل چلی آرہی ہیں، ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔
بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق جو قیامت کا وقت مقرر ہے اس وقت قیامت آجائے گی اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے پورا ہو کر رہے گا لوگوں کے کہنے سے وقت سے پہلے قیامت نہیں آئے گی دیر میں آنا دلیل اس بات کی نہیں کہ آنی ہی نہیں ہے منکرین کا یہ کہنا ہے چونکہ اب تک نہیں آئی اس لیے آنی ہی نہیں محض جہالت کی بات ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے پوچھ لیجیے کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے وہ کس کی ملکیت ہے اس کے جواب میں وہ یوں ہی کہیں گے کہ اللہ ہی کے لیے ہے، ان کی طرف سے یہ جواب مل جانے پر سوال فرمایا پھر تم کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے پھر فرمایا آپ ان سے پوچھ لیجیے کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ وہ اس کا جواب بھی یہی دیں گے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے ان کے اس جواب پر ان سے سوال فرمائیے کہ تم اس سب کا اقرار کرتے ہو پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے، جاننے اور ماننے کے باو جود اس کی قدرت کا اور وقوع قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو۔
اس کے بعد فرمایا کہ آپ ان سے دریافت فرمائیے کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہی پناہ دیتا ہے۔ (جس کو چاہتا ہے) اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟ اس کے جواب میں بھی وہ یہی کہیں گے کہ یہ سب صفات اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں، ان کے اس جواب پر سوال فرمائیے کہ پھر تم کیوں منکر ہو رہے ہو یعنی تمہارا ایسا ڈھنگ ہے جیسے تم پر جادو کردیا گیا ہو حق اور حقیقت واضح ہوجانے کے باو جود کیوں مخبوط الحواس بنے ہوئے ہو۔
حق اور حقیقت واضح ہوتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کا اقرار کرتے ہوئے پھر بھی حق کے منکر ہیں اس لیے آخر میں فرمایا (بَلْ اَتَیْنَاھُمْ بالْحَقِّ وَاِِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا اور یقیناً وہ جھوٹے ہیں) ۔
Ayahs 23:91–92اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ کوئی اس کا شریک ہے، وہ مشرکوں کی شرکیہ باتوں سے پاک ہے
مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود بھی مانتے تھے آج بھی دنیا میں لاکھوں ایسے افراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور خاص کر نصاری تو اس میں بہت آگے ہیں، یہ لوگ حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان سب لوگوں کی تردید فرما دی جو قرآن کریم میں کئی جگہ مذکور ہے، یہاں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور یہ بھی فرمایا کہ صرف وہی معبود حقیقی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جو لوگ اس کے علاوہ معبود مانتے ہیں ان کو سمجھانے کے لیے فرمایا کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور اس لائق ہو تاکہ اس کی عبادت کی جائے تو خالق بھی ہوتا خود کسی کی مخلوق نہ ہوتا کیونکہ جس میں خالق ہونے کی اہلیت نہیں وہ معبود ہونے کا اہل نہیں سو بالفرض اگر کوئی دوسرا معبود ہوتا تو اپنی پیدا کردہ ہر چیز کو اپنے قبضہ میں رکھتا۔ اور اپنی مخلوق کو دوسرے خالق سے علیحدہ رکھتا اور اپنی مخلوق پر کسی کا اختیار نہ چلنے دیتا اور مزید براں یہ ہوتا کہ ہر معبود دوسرے معبود پر چڑھائی کرتا اور دوسرے کی مخلوق پر بھی قبضہ کرنے کا نظام بناتا، لیکن سب جانتے ہیں جو کچھ وجود میں ہے ساری اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے جس کا سب کو اقرار بھی ہے اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ پورے عالم کا نظام یکسانیت کے ساتھ چل رہا ہے اس میں نہ کوئی کھینچ کھا نچ ہے نہ کوئی معارضہ ہے نہ مقابلہ، اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت و ارادہ کے موافق ساری مخلوق کا نظام چل رہا ہے جس کو اس نے جس طرح مسخر فرمایا ہر ایک اپنے اپنے کام میں اسی طرح لگا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کے موافق ہے، اس کو دیکھتے ہیں پھر بھی شرک کرتے ہیں، یہ سراپا گمراہی ہے (سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ) (اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو وہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں) یعنی نہ اس کے اولاد ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہے (عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ) (ہر چھپی ہوئی اور ہر ظاہر چیز کو جانتا ہے) اس صفت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے (فَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (سو اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے جو لوگ شرک کرتے ہیں) یعنی لوگوں کی شرکیہ باتوں سے پاک ہے۔
Ayahs 23:93–94برائی کو اچھے طریقہ پر دفع کرنا اور شیاطین کے آنے اور وساوس ڈالنے سے اللہ کی پناہ لینا
قرآن مجید میں بہت سی جگہ کافروں پر عذاب آنے کی وعید مذکور ہے موت کے بعد تو ہر کافر کو عذاب میں داخل ہونا ہی ہے دنیا میں بھی کبھی کبھی کہیں کہیں عذاب آجاتا ہے عذاب آنے کی جو وعیدیں ہیں چونکہ کوئی تاریخ مقرر کرکے نہیں بتائی گئی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ عذاب آئے گا تو رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آئے گا یا آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد نازل ہوگا اس لیے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں اے میرے رب اگر آپ مجھے وہ عذاب دکھا دیں جس کا ان لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو مجھے ظالموں کے ساتھ نہ کیجیے یعنی مجھے عذاب میں مبتلا نہ فرمائیے دنیا میں جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو ان کے آس پاس جو لوگ ہوتے ہیں وہ بھی مبتلائے عذاب ہوجاتے ہیں یہ دنیاوی معاملہ ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو وہاں جو لوگ بھی موجود ہوں سب پر عذاب نازل ہوتا ہے پھر قیامت کے دن اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ (رواہ البخاری)
آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ اگر میری موجودگی میں ان لوگوں پر عذاب آجائے اور میرے دیکھتے ہوئے عذاب آنا ہی ہے تو مجھے ظالموں کے ساتھ نہ رکھئے آپ اللہ کے معصوم نبی تھے جب تکذیب کرنے والی امتوں پر عذاب آتا تھا تو حضرات انبیاء کرام علیھم الصلاۃ والسلام اور ان حضرات کے متبعین عذاب سے محفوظ رہتے تھے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مذکورہ بالا دعا کی تلقین فرمائی اس میں ایک تو آپ کو اس طرف متوجہ فرمایا کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت اور خوف و خشیت کی شان ہونی چاہئے اور ساتھ ہی دیگر مومنین کو بھی تلقین ہوگئی کہ یہ دعا کیا کریں، اس میں حضرات صحابہ کو بھی خطاب ہوگیا اور بعد میں آنے والے اہل ایمان کو بھی۔
Ayah 23:95پھر فرمایا (وَاِِنَّا عَلٰی اَنْ نُرِیَکَ مَا نَعِدُھُمْ لَقٰدِرُوْنَ ) (اور ہم اس بات پر ضرور قادر ہیں کہ ان سے جو وعدہ کر رہے ہیں وہ آپ کو دکھا دیں) اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ ہم آپ کی موجودگی میں انہیں عذاب میں مبتلا نہ کریں گے یعنی ایسا عذاب نہ بھیجیں گے جس سے یہ سب تباہ و برباد ہوجائیں اور بعض لوگوں پر خاص حالات میں دنیا میں عذاب کا آجانا اس کے منافی نہیں ہے آپ کے وجود گرامی کی وجہ سے عمومی عذاب نہ آئے یہ موعود تھا لیکن اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یہ قدرت حاصل ہے کہ جب چاہے جن لوگوں پر چاہے عذاب بھیج دے۔
Ayah 23:96پھر فرمایا (ادْفَعْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (آپ اس طریقے پر ان کی بد معا ملگی کو دفع کیجیے جو بہت ہی اچھا طریقہ ہے) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تلقین فرمائی ہے کہ آپ برائی کو یعنی کافروں کی ایذا رسانی کو دفع کرتے رہیں اور ان کے شر کا دفعیہ اچھے سے اچھے طریقہ پر کرتے رہیں، برائی کے مقابلہ میں خوش اخلاقی اختیار کرنا اور درگزر سے کام لینا اور اپنی طرف سے اچھا برتاؤ کرنا اس سے دشمنوں کی ایذا ختم یا کم ہوجاتی ہے پھر اخلاق عالیہ کا بھی یہی تقاضا ہے۔ سورة حم سجدہ میں فرمایا (وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلا السَّیّْءَۃُ اِدْفَعْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ) (اور اچھائی اور برائی برابر نہیں ہیں، ایسے طریقے پر دفعیہ کیجیے جو اچھے سے اچھا طریقہ ہو جب ایسا کرو گے تو وہ شخص جس کے اور آپ کے درمیان دشمنی ہے خالص دوست ہوجائے گا) بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ حکم آیت جہاد سے منسوخ ہوگیا حالانکہ منسوخ ماننے کی ضرورت نہیں کیونکہ مکارم اخلاق کا استعمال تو ہمیشہ ہی ضروری ہے۔
پھر فرمایا (نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ) (ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ آپ کی نسبت کہتے ہیں) ہم اپنے علم کے مطابق انہیں سزا دے دیں گے۔
Ayahs 23:97–99اس کے بعد ایک اور دعا تلقین فرمائی اور وہ یہ ہے (رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَات الشَّیٰطِینِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ) (اے میرے رب میں شیطان کے وسوسوں سے آپ کی پناہ لیتا ہوں اور اس بات سے آپ کی پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) یہ دعا بہت اہم اور ضروری ہے ہر مسلمان کو یاد کرنی چاہئے بارہا پڑھنی چاہئے شیاطین پیچھے لگے رہتے ہیں وسوسے ڈالتے ہیں ان سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا بہت اہم ہے جب رسول اللہ ﷺ کو شیاطین سے محفوظ رہنے کے لیے تلقین فرمائی تو اور کون شخص ہے جسے شیاطین کے وسوسوں سے محفوظ ہونے کی دعاء سے بےنیازی ہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی نیند میں گھبرا جائے تو یہ الفاظ پڑھے (اَعُوْذُ بِکَلِمَات اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ غَضَبِہٖ وَ شَرِّ عِبَادِہٖ وَ مِنْ ھَمَزَات الشَّیَاطِیْنِ وَ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ) ان کلمات کو پڑھ لے تو اسے (شیاطین) ضرر نہ پہنچا سکیں گے۔ (رواہ الترمذی)
(ترجمہ) میں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ اس کے غصہ سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ یہ شیاطین میرے پاس حاضر ہوں پناہ لیتا ہوں۔
Ayah 23:100برزخ اور محشر کے احوال و اھوال، کافروں کی دعا قبول نہ ہونا، کافروں کا دنیا میں مذاق بنانا
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو لوگ کفر پر جمے ہوئے ہیں ان کی کافرانہ زندگی اسی طرح گزرتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک کے سر پر موت آ کھڑی ہوتی ہے اور آخرت کے حالات کا معائنہ ہونے لگتا ہے اور روح قبض کرنے والے فرشتے نظر آنے لگتے ہیں (جو بری طرح کافر کی روح قبض کرتے ہیں اور اسے مارتے جاتے ہیں) تو اس وقت وہ اپنی زندگی پر نادم ہوتا ہے اور پشیمان ہو کر اللہ تعالیٰ شانہٗ سے یوں عرض کرتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے اسی دنیا میں لوٹا دیجیے اور موت کو ہٹا دیجیے امید ہے کہ اب میں واپس ہو کر نیک کام کروں گا یعنی آپ کے رسول کی تصدیق بھی کروں گا اور اعمال کے اعتبار سے بھی درست رہوں گا اچھے اعمال میں لگا رہوں گا، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کلاَّ (ہر گز نہیں) (یعنی اب تو مرنا ہی ہے واپسی نہیں ہوسکتی) واپسی کی کوئی صورت نہیں جب موت کا وقت آگیا تو اب اس میں تاخیر نہیں ہوسکتی (اِِنَّہَا کَلِمَۃٌ ھُوَ قَاءِلُہَا) (یہ بات ہے جسے وہ کہتا ہے) لیکن اس کی بات کے موافق فیصلہ ہونے والا نہیں ہے (وَمِنْ وَّرَآءِہِمْ بَرْزَخٌ اِِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ) (اور ان کے آگے اس دن تک برزخ ہے جس دن اٹھائے جائیں گے) برزخ حاجز یعنی آڑ کو کہتے ہیں جو دو حالتوں یا دو چیزوں کے درمیان حائل ہو، موت کے بعد قیامت قائم ہونے تک کا جو وقفہ ہے اسے برزخ کہا جاتا ہے جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو برزخ میں چلا جاتا ہے مومن صالح اچھی حالت میں ہیں اور کافر برابر عذاب میں رہتا ہے۔ جس کسی کے سر پر موت آ کھڑی ہو تو وہ ٹلنے والی نہیں روح صالح اچھی اور عالم برزخ میں پہنچ گئی، اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو شخص ماں کے پیٹ سے دنیا میں آگیا اب واپس وہاں نہ جائے گا اور جب موت آگئی تو دنیا میں واپس نہ آئے گا اور جب قیامت آئے گی تو قبروں میں واپس نہیں لوٹائے جائیں گے اور قیامت کے دن کے حساب کتاب سے فارغ ہو کر جو حضرات جنت میں بھیج دیئے جائیں گے وہاں سے واپس نہ ہونگے اور کافر دوزخ میں بھیج دیئے جائیں گے اور وہ وہاں سے واپس نہ ہونگے، حاصل یہ ہے کہ ہر بعد والی منزل میں پہنچ کر پہلی منزل کی طرف واپس نہ ہونگے، ہاں بعض مسلمان اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں چلے جائیں گے وہ عذاب بھگت کر وہاں سے نکال دیئے جائیں گے کہ اس میں ان کو مستقل طریقہ پر داخل نہیں کیا جائے گا (مستقل طور پر کافر ہی دوزخ میں داخل ہوں گے) ۔
برزخ :
اس وقفہ کا نام جو موت اور قیامت کے درمیان ہے جو لوگ دفن کیے جاتے ہیں اور جو لوگ جلا دیئے جاتے ہیں اور جنہیں جانور کھا جاتے ہیں ان سب پر برزخ کے احوال گزرتے ہیں اور ہر ایک کے اپنے اپنے دین اور اعمال کے اعتبار سے وہاں اچھی زندگی والے بھی ہیں اور بری زندگی والے بھی ہیں، جیسا کہ احادیث شریفہ میں تفصیل آئی ہے ہم نے ایک رسالہ میں ان احوال کو جمع کردیا ہے۔
Ayah 23:101پھر فرمایا (فَاِِذَا نُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَلاَ اَنسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَءِذٍ وَّلاَ یَتَسَاءَ لُوْنَ ) (سو جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن نسب باقی نہ رہیں گے اور نہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے) اس میں یہ بتایا کہ برزخ کا زمانہ گزرنے کے بعد جب قیامت قائم ہوگی تو لوگوں کے آپس کے جو انساب یعنی رشتہ داریوں کے تعلقات تھے وہ اسی وقت ختم ہوجائیں گے یعنی کوئی کسی کو نہیں پوچھے گا بلکہ آپس میں ایک دوسرے سے دور ہونے اور بھاگنے کی راہ اختیار کریں گے۔ سورة عبس میں فرمایا ہے (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہِ وَاَبِیہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ) (جس روز آدمی اپنے بھائی سے اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے بھاگے گا ان میں ہر شخص کو ایسا مشغلہ ہوگا جو اس کو اور کسی کی طرف متوجہ نہ ہونے دیگا) ۔
حضرت ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ جب دوسری بار صور پھونک دیا جائے گا تو مرد اور عورت جو بھی ہو اولین و آخرین سب کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اور ایک پکارنے والا پکارے گا کہ یہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے جس کسی کا اس پر حق ہو اپنا حق لینے کے لیے آجائے یہ اعلان سن کر انسان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اس بات سے خوش ہوگا کہ اچھا ہے کہ میرے باپ پر یا میری اولاد پر یا میری بیوی پر یا میرے بھائی پر میرا کچھ حق نکل آئے تو وصول کرلوں (وہاں نیکی برائیوں کے ذریعہ لین دین ہوگا) اس کے بعد حضرت ابن مسعود نے آیت کریم (فَلَاْ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ ) کی تلاوت فرمائی۔
اور حضرت ابن مسعود سے (فَلَاْ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ ) کی ایک تفسیر یوں نقل کی گئی ہے کہ اس دن آپس میں نسب پر فخر نہ کریں گے جیسا کہ دنیا میں کرتے ہیں اور نہ آپس میں یوں سوال کریں گے کہ تم ہمارے رشتہ دار تھے بحق رشتہ داری یا بحق اللہ کچھ مدد کرو۔
یہ اشکال ہوتا ہے کہ یہاں (وَ لاَ یَتَسَآءَ لُوْنَ ) فرمایا اور دوسری آیت میں (وَ اَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَتَسَآءَ لُوْنَ ) فرمایا ہے اس میں بظاہر تعارض سا ہے اگر (وَ لاَ یَتَسَآءَ لُوْنَ ) یہ تفسیر کی جائے کہ آپس میں ایک دوسرے سے مدد اور صلہ رحمی کا سوال نہیں کریں گے جو نسب کی بنیاد پر ہو اور مدد کے لیے کوئی کسی کا نہ پوچھے گا تو کوئی تعارض نہیں رہتا کیونکہ دوسری آیت میں جس سوال کا ذکر ہے وہ سوال رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے احوال مختلف ہونگے تو آپس میں کچھ پوچھ پاچھ کرلیں گے۔ (معالم التنزیل بذیادتہ ج 3 ص 318۔ 317)
Ayahs 23:102–103اس کے بعد قیامت کے دن کی تول کا تذکرہ فرمایا (فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (سو جن کی تولیں بھاری ہونگی یعنی نیکیاں وزن دار ہونگی سو یہ لوگ کامیاب ہونگے) (وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُوْلٰٓءِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنفُسَہُمْ فِیْ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ) (اور جس کی تولیں ہلکی ہوں گی سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی جانوں کا نقصان کرلیا وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے) وزن اعمال کے بارے میں ضروری تفصیل اور تحقیق سورة اعراف کے پہلے رکوع کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کو دیکھ لیا جائے۔ (انوار البیان جلد دوم)
Ayah 23:104اس کے بعد اہل جہنم کے عذاب اور ان کی بد صورتی کا تذکرہ فرمایا ارشاد ہے (تَلْفَحُ وُجُوْھَہُمْ النَّارُ وَھُمْ فِیْہَا کَالِحُوْنَ ) (دوزخ کی آگ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی اور ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے) ۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (وَ ھُمْ فِیْھَا کَالِحُوْنَ ) کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دوزخی کو آگ بھون ڈالے گی جس سے اس کا اوپر کا ہونٹ سکڑ کر سر کے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کر اس کی ناف پر پہنچ جائے گا۔ (رواہ الترمذی)
Ayahs 23:105–106اس کے بعد ایک سوال کے جواب کا تذکرہ فرمایا اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا (اَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ ) (کیا تمہارے پاس میری آیات نہیں آئی تھیں جو تم پر پڑھی جاتی تھیں سو تم انہیں جھٹلاتے تھے) (قَالُوْا رَبَّنَآ غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّینَ ) (وہ جواب دیں گے کہ اے ہمارے رب ہم پر بد بختی غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے) ۔
Ayah 23:107یہ لوگ اپنی بد بختی اور گمراہی کا اقرار کرتے ہوئے یوں بھی عرض کریں گے (رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْہَا فَاِِنْ عُدْنَا فَاِِنَّا ظَالِمُوْنَ ) (اے ہمارے رب ہمیں دوزخ سے نکال دیجیے سو اگر ہم پھر اسی طور طریقہ کو اختیار کریں تو بلاشبہ ہم ظلم کرنے والے ہونگے) ۔
Ayah 23:108(قَالَ اخْسَؤُا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنِ ) (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اسی میں پھٹکارے ہوئے دور ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو) سنن ترمذی میں ہے کہ اس کے بعد دوزخی ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے اور گدھوں کی طرح چیخنے چلانے اور حسرت اور واویلا کرنے میں لگ جائیں گے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ان کے چہرے بدل جائیں گے، صورتیں مسخ ہوجائیں گی حتی کہ بعض مومن شفاعت لے کر آئیں گے لیکن دوزخیوں میں سے کسی کو پہچانیں گے نہیں۔ دوزخی ان کو دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں مگر وہ کہیں گے کہ غلط کہتے ہو ہم تم کو نہیں پہنچانتے۔ (تفسیر ابن کثیر ص 258 ج 3)
(اخْسَؤُا فِیْہَا) کے جواب کے بعد دوزخ کے دروازے بند کردیئے جائیں گے وہ اسی میں جلتے رہیں گے (ایضاً )