Ayahs 20:116–122سجدہ نہ کرنے پر جب شیطان ملعون اور مردود ہوگیا تھا تو اس نے پہلے ٹھان لی تھی کہ ان کو جنت سے نکلوانا ہے اور ان کی ذریت کو گمراہ کرنا ہے۔ وہ تو وہاں سے نکال دیا گیا اور یہ دونوں حضرات رہتے رہے دونوں کو حکم ہوا تھا کہ جنت میں رہو سہو خوب کھاؤ پیو لیکن فلاں درخت کے پاس نہ جانا اگر اس میں سے کھالیا تو یہ تمہارا اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا۔ اب شیطان ان کے پیچھے لگا اور اس نے کہا کہ دیکھو اس درخت کے کھانے سے جو تمہیں منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اسے کھالے گا وہ یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا۔ اور اس کے کھانے سے تم دونوں فرشتے ہوجاؤ گے (کما فی سورة الاعراف) اور یہاں جو تمہیں عیش و آرام حاصل ہے اور ایک طرح کی بادشاہی حاصل ہے اس میں کبھی بھی کوئی ضعف نہ آئے گا۔ کمافی سورة طٰہٰ (وَ مُلْکٍ لاَّ یَبْلٰی) اس نے یہ بات قسم کھا کر کہی اور یہ بھی کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ دونوں حضرات شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور اس درخت سے کھالیا جس سے منع کیا گیا تھا اس درخت کا کھانا تھا کہ ان کے کپڑے جسموں سے علیحدہ ہوگئے۔ دونوں مارے شرم کے جنت کے پتے لے لے کر اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ دشمن کے پھسلانے میں آکر اپنے رب کی نافرمانی کر بیٹھے اور غلطی میں پڑگئے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہوا (اَلَمْ اَنْھَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَ اَقُلْ لَّکُمَآ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبیْنٌ) (کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہ کیا تھا اور کیا میں نے یہ نہ کہا تھا کہ شیطان واقعی تمہارا کھلا دشمن ہے) چونکہ ان کی نافرمانی سر کش نافرمانوں کی طرح نہیں تھی بلکہ جنت میں ہمیشہ رہنے کی بات سن کر دشمن کے بہکانے میں آگئے تھے اس لیے فوراً اپنے قصور کا اقرار کرلیا اور توبہ کی جس کو سورة اعراف میں یوں بیان فرمایا (قَالَ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا سکتہ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو واقعی ہم خسارہ میں پڑنے والے ہوجائیں گے) شیطان نے بغاوت کی۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور حکم الٰہی کو خلاف حکمت بھی بتایا۔ یہ تو اس کا حال تھا اور ان دونوں نے جلدی سے قصور کا اقرار کرلیا اور توبہ کرلی۔ جیسا کہ مخلصین اور منیبین کا طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں چن لیا یعنی اور زیادہ مقبول بنا لیا اور ان کو ہدایت پر قائم رکھا کما قال تعالیٰ (ثُمَّ اجْتَبَاہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَیْہِ وَھَدٰی) چونکہ حضرت آدم اور حوا ( علیہ السلام) کو تکوینی طور پر دنیا میں آنا ہی تھا اور حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا ہی اس لیے ہوئے تھے کہ ان کی اولاد زمین میں خلافت کی ذمہ داری اٹھائے اس لیے ان کا گناہ تو معاف فرما دیا لیکن دنیا میں ان کو بھیج دیا گیا۔ اسی کو فرمایا (قَالَ اھْبطَا مِنْھَا جَمِیْعًا) ارشاد فرمایا (کہ تم دونوں یہاں سے اکٹھے اتر جاؤ) (بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ) (تمہاری ذریت میں جو لوگ ہوں گے وہ ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے) (ان دشمنیوں کو مٹانا اور فیصلے کرنا خلافت کے کام میں داخل ہے)
Ayah 20:123مزید فرمایا (فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًا فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰی) (سو اگر تم میں سے کسی کے پاس میری ہدایت آئے سو جس نے میری ہدایت کا اتباع کیا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ شقی ہوگا) اس کے زمین میں آنے سے پہلے ہی اللہ جل شانہٗ نے بتادیا تھا کہ تمہارے پاس میری ہدایت آئے گی اس پر چلنے میں کامیابی ہے جو اسے قبول کرے گا نہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں بد بخت ہوگا، اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور پیغمبروں کے ذریعہ ہدایات پہنچتی رہی ہیں۔ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ اب نیا نبی کوئی نہیں آئے گا۔ خاتم المرسلین کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی کار نبوت یعنی دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام جاری ہے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سب باقی ہیں جو ہدایت پر عمل کرے گا اسے وہی بلند مقام مل جائے گا جہاں سے اس کے ماں باپ آدم اور حوا ( علیہ السلام) اس دنیا میں آئے تھے، جنت اپنے باپ کی جگہ ہے جہاں وہ تھے اور جہاں واپس گئے وہیں ان کی وفادار اولاد پہنچ جائے گی اور جنہوں نے اللہ کی ہدایت کو نہ مانا کفر پر رہے اور اسی پر مرے وہ جنت میں نہ جائیں گے کیونکہ اختلاف دین کی وجہ سے میراث کا استحقاق نہیں رہتا، جو اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت پر رہے اس کے لیے ضمانت ہے کہ وہ دنیا میں گمراہ نہیں اور آخرت میں بد نصیب نہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا اتباع کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں ہدایت پر رکھیں گے اور قیامت کے دن اسے برے حساب سے بچائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰی) (کذافی درالمنثور، ج 4، ص 311)
ضروری فوائد
فائدہ (1): حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں یہ جو فرمایا کہ وہ بھول گئے اس کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں فنسی العھد ولم یھتم بہ ولم یشتغل بحفظہ حتی غفل عنہ۔ (کہ حضرت آدم (علیہ السلام) عہد بھول گئے اللہ تعالیٰ شانہ نے انہیں جو حکم دیا تھا کہ فلاں درخت میں سے نہ کھانا) یہ ان کے ذہن سے اتر گیا اور انہوں نے اسے یاد رکھنے کا اہتمام نہ کیا جس کی وجہ سے غفلت ہوگئی، اور (وَ لَمْ نَجِدْلَہٗ عَزْمًا) کی تفسیر میں لکھتے ہیں تصمیم ورای و ثبات قدم فی الامور یعنی ہم نے ان کے لیے رائے کی مضبوطی اور پختگی نہیں پائی گویا کہ یہ نسیان کی تفسیر ہے۔ یعنی اگر وہ یاد رکھنے کا اہتمام کرتے تو ثابت قدم اور پختہ عزم والے رہتے لیکن بےدھیانی کی وجہ سے بھول گئے جس کی وجہ سے شجر ممنوعہ میں سے کھا بیٹھے۔ اور حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ سے (لَمْ نَجِدْلَہٗ عَزْمًا) کا یہ معنی مروی ہے کہ وہ درخت کے کھانے سے بچ نہ سکے اور اس کے ترک پر صبر نہ کرسکے۔ اور صاحب روح المعانی نے ایک جماعت سے ان کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ انہوں نے گناہ کا ارادہ نہیں کیا تھا خلاف ورزی تو ہوئی خطا بھی ہوگئی لیکن جانتے بوجھتے جو گناہ ہوتا ہے اس کے ذیل میں نہیں آتا۔ عن ابن زید و جماعۃ ان المعنی لم نجدلہ عزما علی الذنب فانہ (علیہ السلام) اخطاولم یتعمد (ج 16 ص 270) جہاں تک نسیان کا تعلق ہے وہ تو انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان میں ممتنع الو قوع یعنی محال نہیں ہے۔ سید الانبیاء ﷺ نے فرمایا انما انا بشر مثلکم انسی کما تنسون (مشکوٰۃ المصابیح، ص 92) (میں تمہاری طرح کا آدمی ہوں تم جیسے بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں) سوال یہ رہ جاتا ہے کہ بھول تو معاف ہے جب وہ بھول گئے تھے تو اس پر مواخذہ کیوں ہوا اور اس کو معصیت کیوں قرار دیا گیا۔
اس کا ایک جواب تو مذکورہ بیان میں گزر چکا ہے کہ نسیان پر مواخذہ نہیں جن وجوہ سے نسیان ہوا ان پر مواخذہ ہوا یعنی انہوں نے یاد رکھنے کا اہتمام نہیں کیا جبکہ وہ یاد رکھ سکتے تھے۔ مثلاً ایک دوسرے کو آپس میں وصیت کرتے کہ ہم میں سے کوئی کھانے لگے تو یاد دلائے یا کوئی ایسی صورت حال اختیار کرلیتے جو یاد دلانے والی ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ ایک دن سفر میں رات کے آخری حصے میں سونے لگے تو حضرت بلال ؓ کو بھی آنکھ لگ گئی وہ بھی سو گئے۔ حتیٰ کہ سورج نکلنے پر سب کی آنکھ کھلی۔ صحابہ جو گھبرائے تو آپ نے فرمایا فاذا رقد احدکم عن الصلاۃ اونسیھا ثم فزع الیھا فلیصلھا کما کان یصلیھا فی وقتھا۔ (سو جب تم میں سے کوئی شخص سوتا رہ جائے جس کی وجہ سے نماز جاتی رہے یا نماز کو بھول جائے پھر گھبرا کر اٹھے تو اسی طرح پڑھ لے جیسا کہ اس کے وقت میں پڑھتا تھا) ۔ (ص 27، مشکوٰۃ المصابیح) آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال کو جگانے پر لگایا پھر آپ نے سونا منظور فرمایا۔ چونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے یاد رکھنے کی کوتاہی ہوئی اس لیے ان کا مواخذہ ہوا۔ علامہ قرطبی نے ایک اور بات لکھی ہے اور وہ یہ کہ اس وقت آدم (علیہ السلام) بھولنے پر بھی ماخوذ تھے اگرچہ ہم سے بھول پر مواخذہ نہیں ہوتا۔ (ج 11، ص 251) اور تیسری بات یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے جس عمل کا صدور ہوا، گو وہ سہو اور خطا ہی تھا مگر ان کے بلند مرتبہ کے خلاف تھا جن اعمال پر عامۃ الناس سے مواخذہ نہیں ہوتا بلند مرتبہ والوں سے ان پر بھی مواخذہ ہوجاتا ہے۔ جملہ حسنات الابرار سیئات المقر بین میں اسی مضمون کو واضح کیا گیا ہے۔
بعض لوگوں نے یہاں عصمت انبیاء کا سوال بھی اٹھایا ہے لیکن جب یہ معصیت حسنات الابرار سیئات المقربین کے قبیل سے ہو خصوصاً جبکہ وہ بھول کر تھی اور اس کا صدور بھی نبوت سے سر فراز ہونے سے پہلے تھا اور وہ بھی عالم بالا میں دنیا کے دارالتکلیف میں آنے سے پہلے ہو۔ لہٰذا عصمت انبیاء کے عقیدہ میں اس سے کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ خصوصاً جبکہ اسے سورة الاعراف میں زلت یعنی لغزش قرار دیا ہے۔ کما قال تعالیٰ شانہٗ (فَاَزَ لَّھُمَا الشَّیْطَانُ عَنْھَا)
اس میں اختلاف ہے کہ نبوت سے سر فراز ہونے سے پہلے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے کبیرہ کا صدور ہوسکتا ہے یا نہیں۔ بہت سے حضرات فرماتے ہیں کہ کفر و کذب کے علاوہ باقی معاصی کا صدور ہوسکتا ہے۔ قال صاحب الروح (ج 16، ص 274) فقد قال عضد الملۃ فی المواقف ان الاکثرین جو زوا صدور الکبیرۃ یعنی ماعدا الکفر والکذب فیما دلت المعجزۃ علی صدقھم علیھم السلام فیہ سھوا وعلی سبیل الخطا منھم اھ۔ اب رہا لفظ فغویٰ اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے جو درخت کھالیا اس میں وہ اپنے مطلوب کے بارے میں غلطی میں پڑگئے۔ ان کو جو دشمن نے یہ سمجھایا کہ تم اس درخت کو کھالو گے تو ہمیشہ یہیں رہو گے اس کی باتوں میں آگئے۔ اس کے کہنے سے یہ سمجھ لیا کہ یہاں ہمیشہ رہیں گے لیکن اس کی بات ماننے سے وہاں سے نکلنا پڑا۔ قال صاحب الروح ضل عن مطلوبہ الذی ھو الخلود او عن المطلوب منہ و ھو ترک الا کل من الشجرۃ او عن الرشد حیث اغتر بقول العدو۔ (ج 16، ص 974)
فائدہ (2): یہ جو فرمایا (فَلاَ یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰی) ۔ اس میں بظاہر صیغہ تثنیہ فتشقیان ہونا چاہیے تھا مفر دلانے میں ایک نکتہ تو وہ ہے جو علماء بلاغت نے لکھا ہے کہ فواصل کی رعایت کی وجہ سے مفرد کا صیغہ لایا گیا، اور بعض علماء نے اس سے ایک فقہی نکتہ مستنبط کیا ہے اور وہ یہ کہ کمائی کرنا اور بیوی کے کھانے پینے پہننے کی ضروریات پوری کرنا شوہر ہی کے ذمہ ہے عورت اس کسب میں شریک نہیں، اس لیے صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کو خطاب کیا گیا اور آئندہ بنی نوع انسان کو یہ سبق دے دیا گیا کہ کسب مال کی مشقت اٹھانا اور اس کے لیے محنت کرنا صرف مرد کی ذمہ داری ہے۔
فائدہ (3): حضرت آدم اور حوا ( علیہ السلام) ابھی جنت ہی میں تھے کہ ان سے فرما دیا تھا کہ تم اس میں رہو اس میں بھوکے ننگے نہ رہو گے اور نہ پیاس لگے گی اور نہ دھوپ۔ جنت میں تو بہت زیادہ نعمتوں اور لذتوں کا سامان ہے پھر بھی انہیں چیزوں کا تذکرہ فرمایا اس سے بعض علماء نے یہ استنباط کیا ہے کہ انسان کی اصل ضرورت کھانا پینا، پہننا اور رہنے کی جگہ میسر ہونا ہی ہے۔ جس میں سردی گرمی سے بچ سکے۔ اس کے علاوہ اور جو کچھ ہے التذاذ اور زیب وزینت کے لیے ہے اور جو اصل ضرورت سے زائد ہے۔ حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ابن آدم کو تین چیزوں کے سوا اور کسی چیز میں حق نہیں ہے۔ ایک تو رہنے کا گھر ہو اور دوسری شرم کی جگہ چھپانے کے لیے کپڑا ہو تیسرے روٹی کا ٹکڑا اور پانی ہو۔ (رواہ الترمذی) ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کو اس حال میں صبح ہوئی کہ وہ اپنے نزدیک امن سے ہے اور اس کے جسم میں عافیت ہے اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے تو گویا اس کو ساری دنیا مل گئی۔ (رواہ الترمذی)
نکاح بھی انسان کی ضرورت کی چیز ہے نفس و نظر پاک رکھنے اور تکثیر نسل کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ آیت کریمہ میں اس کا تذکرہ نہیں فرمایا کیونکہ وہ دونوں پہلے سے میاں بیوی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندے نے نکاح کرلیا تو آدھا ایمان محفوظ کرلیا۔ اب باقی آدھے میں اللہ سے ڈرے۔ (مشکوٰۃ ص 268) کچھ اشخاص حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آئے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو فقراء سمجھتے تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟ فرمایا کیا تیرے پاس بیوی ہے جس کی طرف ٹھکانہ پکڑتا ہے۔ (یعنی کام کاج کرکے اس کے پاس جا کے آرام کرتا ہے) اس نے کہا ہاں بیوی تو ہے، فرمایا کیا تیرے پاس رہنے کے لیے گھر ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے۔ فرمایا بس تو مالداروں میں سے ہے۔ وہ کہنے لگا کہ میرا ایک خادم بھی ہے۔ فرمایا پھر تو بادشاہوں میں سے ہے۔ (رواہ مسلم)
فائدہ (4): اللہ تعالیٰ کی سب مخلوق ہیں۔ اسی نے مرتبے دئیے ہیں اور اسی نے جسے چاہا نبوت سے سر فراز فرمایا اور جس کسی سے کوئی لغزش ہوئی اس کا مواخذہ فرمایا۔ پھر توبہ کرنے پر معاف بھی فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ معاملہ ہے لیکن ہمارے لیے یہ جائز نہیں کہ ابو البشر سیدنا آدم (علیہ السلام) کو یوں کہیں کہ وہ گنہگار تھے یا یوں کہیں کہ انہوں نے گناہ کا کام کیا یا کسی بھی نبی کی لغزش کا ہم خود سے تذکرہ کریں، ہاں آیت کا مضمون بیان کردیں تو یہ دوسری بات ہے۔ خواہ مخواہ ان واقعات کو لے کر ان حضرات کی طرف گناہ یا عیب منسوب نہ کریں۔ خصوصاً جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف بھی فرما دیا۔ سورة طہٰ میں یہاں بالتصریح (ثُمَّ اجْتَبٰہُ رَ بُّہٗ فَتَابَ عَلَیْہِ وَ ھَدٰی) فرمایا ہے اور سورة نون میں یونس (علیہ السلام) کے بارے میں (فَاجْتَبَاہُ رَبُّہٗ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) فرمایا ہے اب کس کا منہ ہے کہ کوئی شخص ان حضرات کی لغزشوں کو اچھالے اور ان کی غیبت کر کے لذت حاصل کرے۔ اگر کوئی شخص ہمارے قریب ترین باپ دادا کو کہہ دے کہ وہ گنہگار تھا گناہگار ہے تو کتنا برا لگے گا۔ پھر ابو البشر سیدنا آدم (علیہ السلام) جو نبی تھے اور سارے انبیاء کے باپ تھے ان کے حق میں یہ کہنا اور اچھالنا کہ انہوں نے گناہ کیا کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 20:124–126اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والوں کی سزا، عذاب کی وعید، ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈروں سے عبرت حاصل نہ کرنے پر تنبیہ
حضرت آدم ( علیہ السلام) کے قصہ کے آخر میں یہ فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تمہارے پاس میری ہدایت آئے گی جو شخص اس کا اتباع کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بد بخت ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دنیا میں آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی اس کی نصیحت سے اعراض کیا۔ ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہے، ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ دونوں باتیں درست ہیں۔ کیونکہ ایک دوسرے کو لازم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ ارشاد فرمایا اور جو قرآن مجید میں بتایا یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ہدایت ہے اور اس سے اعراض کرنا معیشت ضنک یعنی تنگ زندگی کا سبب ہے۔ تنگ معیشت سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسر ابن کثیر ؓ نے مسند بزار سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے عذاب قبر مراد ہے۔ پھر اس کی اسناد کو جید بتایا ہے اور بعض دیگر روایات بھی اس سلسلہ میں نقل کی ہیں۔ (ج 3، ص 169) اگر تنگ معیشت سے دنیا کی معیشت بھی مراد لی جائے تو الفاظ کے عموم میں اس کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ بہت سے کافر منکر دنیا میں کھاتے پیتے حال میں ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے اور نعمتیں بھی ہیں۔ پھر معیشت تنگ کیسے ہوئی۔ اس کے جواب میں مفسرین نے فرمایا کہ جتنا بھی مال ہو اس سے کافر کو اطمینان نہیں ہوتا۔ زائد کی طلب میں سر گرداں رہتا ہے۔ مصائب اور مشکلات میں پھنسا رہتا ہے جس سے تنگ دلی کا شکار رہتا ہے۔ اس کی یہ سینہ کی تنگی اور دل کی مصیبت اس کے لیے تنگ معیشت ہے۔ اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والے کے لیے ایک تو تنگ معیشت کی سزا ہے اور دوسری سزا یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن اندھا ہو کر اٹھے گا۔ وہ کہے گا کہ اے میرے رب میں تو دنیا میں بینا اور دیکھنے والا تھا۔ آپ نے مجھے نابینا کر کے کیوں اٹھایا ؟ اللہ تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جس طرح تو نے دنیا میں ہماری آیات کو جھٹلایا تیرے پاس ہماری آیات آئیں ان سے تو نے منہ موڑا۔ میں نے انبیاء (علیہ السلام) کو بھیجا، اپنی کتابیں نازل کیں تو نے انکار کیا اور ان سے منحرف رہا۔ حق آیا اور تو اس کی جانب سے اندھا بنا رہا۔ لہٰذا تجھے آج اندھا کرکے اٹھایا گیا۔ تو ہماری آیات کو بھولا۔ آج تیرے ساتھ بھی بھول بھلیاں والا معاملہ کیا جائے گا۔ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اور پھر اس سے نجات نہ دی جائے گی۔
Ayah 20:127اس کے بعد مستقل طور پر قانون بیان فرمایا (وَ کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ ) (الآیۃ) اور اسی طرح ہم اس شخص کو بدلہ دیتے ہیں جو حد سے آگے نکلا اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لایا۔ اور البتہ آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور بہت دیرپا ہے۔ اس میں بتادیا کہ ہر وہ شخص جس نے کفر اختیار کیا اس کا یہی حال ہوگا جو اوپر بیان ہوا۔ اندھا کر کے بھی اٹھایا جائے گا اور ہمیشگی والے سخت عذاب میں بھی داخل ہوگا۔
Ayahs 20:128–129آخر میں فرمایا (اَفَلَمْ یَھْدِلَھُمْ ) (الایۃ) کیا انہیں اس چیز نے ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کردیا۔ یہ لوگ ان کے رہنے کی جگہوں میں چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے مخالف ہیں انہیں پرانی امتوں کے واقعات معلوم ہیں۔ تباہ شدہ آبادیاں ان کے سامنے ہیں۔ وہاں جاتے ہیں اور چلتے پھرتے ہیں۔ بربادوں کے نشان دیکھتے ہیں، ویران گھروں کے اینٹ پتھر ان کے سامنے ہیں۔ (اور اب تو تاریخ کی کتابیں بھی چھپ گئی ہیں جن کا مطالعہ کرتے ہیں) ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے بھی اثر نہیں لیتے۔ قرآن کی دعوت نہیں مانتے۔ اہل عقل اور اہل بصیرت کے لیے یہ برباد شدہ آبادیوں کی زمین اور نشانات کافی ہیں۔ ان کو دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے بجائے ان چیزوں کو تفریح گاہ بنا رکھا ہے۔ کیمرے ساتھ لے جاتے ہیں، فوٹو لیتے ہیں، وہاں وقت گزارتے ہیں، رات گزار کر کھانا کھا کر تفریح کر کے بغیر کسی عبرت کے واپس آجاتے ہیں۔
Ayah 20:130صبح شام اور رات کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیجیے، اہل دنیا کی طرف آپ کی نظریں نہ اٹھیں، اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے
رسول اللہ ﷺ جب اہل مکہ کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ایمان لانے کی تلقین فرماتے تھے تو وہ طرح طرح کی باتیں کرتے تھے اور آپ کی شان میں ناروا کلمات استعمال کرتے تھے۔ انہیں ایمان لانے سے بھی انکار تھا اور جب عذاب کی بات آتی تھی تو اس کا بھی مذاق بناتے تھے کہ اگر ہم غلط راہ پر ہیں تو عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اس کا جواب قرآن مجید میں کئی جگہ دے دیا گیا ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا کہ آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے ایک بات فرمائی ہوئی ہے اور عذاب کے لیے ایک اجل مقرر ہے۔ دنیا میں جو عذاب آنا ہے اس کے لیے بھی اور آخرت میں جو عذاب ہونا ہے اس کے لیے بھی وقت مقرر ہے۔ ان کے جلدی مچانے سے مقررہ وقت سے پہلے عذاب نہیں آئے گا۔ پہلی آیت میں یہی مضمون مذکور ہے اور رسول اللہ ﷺ کو جو ان کی باتوں سے تکلیف پہنچتی تھی اس کے بارے میں دو چیزوں کا حکم فرمایا۔ اول صبر، دوم اللہ کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہونا۔ دوسری آیت میں دونوں باتیں بیان فرمائی ہیں۔
ارشاد فرمایا (فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ ) کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان پر صبر کیجیے۔ (وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِھَا وَمِنْ اٰنَآء اللَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَاف النَّھَارِ ) (اور سورج نکلنے اور سورج چھپنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح میں مشغول رہیے اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح پڑھئے اور دن کے اطراف میں بھی) مطلب یہ ہے کہ آپ صبر بھی کیجیے اور اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح و تقدیس میں بھی مشغول رہئے۔ ان دونوں چیزوں کے اختیار کرنے سے منکرین کی طرف سے جو تکلیف پہنچے گی وہ ختم ہوجائے گی یا اس میں خفت ہوجائے گی۔ پھر فرمایا (لَعَلَّکَ تَرْضٰی) (تاکہ آپ خوش ہوجائیں) کیونکہ صبر سے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اللہ کی مدد بھی ہوتی ہے اور راحت اور اطمینان بھی نصیب ہوتا ہے اور لوگوں کی ایذاؤں کی طرف توجہ بھی نہیں رہتی۔ سورة حجر میں فرمایا (وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِّنَ السَّاجِدِیْنَ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنَ ) (اور بلاشبہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے سو آپ اپنے رب کی تسبیح پڑھئے اور سجدہ کرنے والوں میں شامل رہئے اور موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کیجیے) بعض علماء نے فرمایا کہ آیت بالا میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے۔ (قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ ) سے نماز فجر اور (قَبْلَ غُرُوْبِھَا) سے نماز ظہر اور عصر اور (مِنْ اٰنَآء اللَّیْلِ ) سے مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے اور لفظ (اَطْرَاف النَّھَارِ ) فرما کر نماز فجر اور نماز عصر کی تاکید فرمائی۔
Ayah 20:131رسول اللہ ﷺ کو دنیاوی حالات میں مالیات کی کمی رہتی تھی اور آپ کا یہ فقر اختیاری تھا۔ ایک شخص کو ہزار ہزار بکریاں دے دیتے تھے لیکن اپنے لیے فقر ہی کو اختیار فرمایا اور آپ کے ساتھ جو مومنین تھے جنہوں نے ابتدائے مکہ مکرمہ میں ایمان قبول کیا تھا وہ بھی تنگدستی میں مبتلا رہتے تھے اور ان کے مقابل کفار اس زمانہ کے اعتبار سے خوش عیش تھے۔ کھانے، پہننے اور رہنے کے مکانوں میں انہیں برتری حاصل تھی۔ دنیاوی رونق اور زینت انہیں میسر تھی اور ان کے پاس بیویاں بھی تھیں۔ اللہ جل شانہٗ نے اپنے نبی کو خطاب کرکے فرمایا (یہ خطاب گو بظاہر آپ کو ہے لیکن مقصود آپ کے ساتھیوں کو تلقین فرمانا ہے) کہ ان لوگوں کو جو ہم نے بیویاں دیں، زیب وزینت کا سامان دیا، ان کی طرف نظریں نہ اٹھائیں۔ یہ تو ہم نے اس لیے دیا ہے کہ انہیں فتنہ میں ڈالیں۔ لہٰذا یہ چیزیں اس لائق نہیں کہ ان کی طرف توجہ کی جائے اور ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا جائے۔ (وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی) اور آپ کے رب کا رزق جو دنیا میں اس کی رضا کے ساتھ ملے اور جو اس کی رضا کے کاموں میں لگے یہ بہتر ہے اور اس کی طرف سے جو آخرت میں رزق ملے گا وہ بہتر بھی ہے اور دیرپا بھی ہے۔ کیونکہ وہاں نعمتیں ہمیشہ رہیں گی اور اہل جنت ان سے ہمیشہ متمتع ہوں گے۔ اہل دنیا کی نعمتوں اور لذتوں اور احوال کو دیکھ کر رال ٹپکانا مومن کی شان نہیں۔ مومن آخرت کے لیے عمل کرتا ہے۔ وہاں کی دائمی نعمتوں کی امید رکھتا ہے۔ دنیا میں جو چیزیں اللہ کی رضا کے ساتھ مل جائیں وہ بھی خیر ہیں لیکن کفر اور فسق کے ساتھ جو ملیں اور معاصی میں خرچ ہوں وہ تو دنیا اور آخرت میں و بال ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لا تغبطن فاجر بنعمتہ فانک لا تدری ماھو لاق بعد موتہ ان لہ عنداللہ قاتلا لا یموت یعنی النار۔ ہرگز کسی بدکار کی نعمت پر رشک نہ کر، کیونکہ تجھے معلوم نہیں کہ موت کے بعد اسے کس مصیبت میں مبتلا ہونا ہے۔ موت کے بعد اس کے لیے اللہ کی طرف سے ایک قاتل ہوگا۔ اس قاتل کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ یہ قاتل آتش دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ جلے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 447) جسے دوزخ میں جانا ہو اس کی نعمت و دولت پر رشک کرنا سراپا ناسمجھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اس میں سے کسی کافر کو ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ، کمافی المشکوٰۃ، ص 441)
Ayah 20:132آخر میں فرمایا (وَاْمُرْ اَھْلَکَ بالصَّلاَۃِ ) (آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجیے) (وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا) (اور خود بھی اس پر جمے رہئے) یعنی پابندی کے ساتھ ادا کیجیے، اس میں دو حکم دیئے ہیں۔ ایک اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینا دوسرے خود بھی اس کا اہتمام کرنا۔ چونکہ نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے یعنی کلمہ شہادت کا یقین کرنے کے بعد دوسرا درجہ نماز ہی کا ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا کہ نماز کا اہتمام فرمائیں اور گھر والوں سے بھی اس کا اہتمام کرائیں اور چونکہ ساری امت آپ کے تابع ہے اس لیے امت کو بھی خطاب ہوگیا۔ اہل ایمان کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ نمازوں کا اہتمام کریں اور اپنے گھر والوں سے نماز پڑھوائیں۔ گھر والوں کے عموم میں بیوی بچے سب داخل ہیں۔ جب انسان خود کسی امر شرعی کا اہتمام کرے گا تو اپنے ماتحتوں سے بھی کروا سکتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں بطور سرکاری فرمان اپنے گورنروں کو لکھ کر بھیجا تھا کہ بلاشبہ میرے نزدیک تمہارے کاموں میں سب سے زیادہ بڑھ کر نماز ہے۔ جس نے نماز کی حفاظت کی اور اس کی پابندی کی وہ اپنے باقی دین کی حفاظت کرے گا۔ اور جس نے نماز کو ضائع کیا وہ اس کے سوا باقی دین کو اس سے زیادہ ضائع کرلے گا۔ (رواہ مالک فی الموطا) وھو الحدیث الخامس من الموطا۔ عموماً لوگ سمجھتے ہیں خلافت راشدہ اور دور حاضر کی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ بھی اقتدار تھا اور یہ بھی اقتدار ہے۔ یہ خیال غلط ہے۔ خلافت راشدہ میں اولین مقصد لوگوں کو دین پر چلانا اور دین کی حفاظت کا اہتمام تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی عموام الناس کی جائز حاجات پورا کرنے کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ اب تو صرف کرسی کی حفاظت کا نام اقتدار ہے۔ نہ خود نماز پڑھیں نہ لوگوں کو نماز پڑھوائیں۔ بس عوام راضی ہیں چاہے جتنے بھی گناہ کرلیں۔ گناہوں کے کاموں کے لائسنس تک دیئے جاتے ہیں۔ یہ حکومتیں تو اپنی اور عوام الناس کی دنیا و آخرت تباہ کرنے والی ہیں۔
(لاَ نَسْءَلُکَ رِزْقًا) یعنی ہم یہ نہیں چاہتے کہ آپ معاش کمانے میں لگیں۔ (یہ خطاب امت کو بھی شامل ہیں) یعنی زندگی کا مقصد رزق کمانا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت مقصود حیات ہے اور گو کسب حلال کے لیے اسباب اختیار کرنا بھی مفید ہے لیکن اس درجہ میں نہیں کہ نماز اور فرائض برباد ہوجائیں اور کمانا ہی اصل رہ جائے۔ (نَحْنُ نَرْزُقُکَ ) (ہم آپ کو رزق دیں گے) جو رزق مقدر ہے وہ سبھی کو ملے گا۔ لہٰذا اسباب اختیار کرنے میں فرائض اور واحبات ترک نہ کریں اور محرمات کا ارتکاب نہ کریں۔ جو لوگ اسباب اختیار نہیں کرتے رزق انہیں بھی ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان رزاقیت ہے کہ ساری مخلوق رزق پاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں کھاتی ہے۔
قال صاحب الروح ج 16، ص 285، دفع انما عسی ان یخطر ببال احد من ان المداومۃ علی الصلوۃ ربما تضر بامر المعاش فکانہ قیل داوموا علی الصلاۃ غیر مشتغلین بامر المعاش عنھا اذ لا نکلفکم رزق انفسکم ازنحن نرزقکم۔
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب اپنے گھر میں کوئی سختی یا تنگی پیش آتی تھی تو انہیں نماز کا حکم دیتے تھے اور آیت کریمہ (وَاْمُرْ اَھْلَکَ بالصَّلٰوۃِ ) تلاوت فرماتے تھے۔ (روح المعانی عن البیہقی فی شعب الایمان بسند صحیح) اور حضرت عمر ؓ کا یہ طریقہ تھا کہ رات کو بمشیت الٰہی نماز پڑھتے رہتے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ رہ جاتا تھا تو اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے اور فرماتے تھے کہ نماز پڑھو، نماز پڑھو اور ساتھ ہی آیت بالا تلاوت کرتے تھے۔ (رواہ مالک فی الموطا فی صلاۃ اللیل)
(وَالْعَاقِبَۃُ للتَّقْوٰی) (اور بہتر انجام پرہیزگاری کا ہے) لہٰذا فرائض کا اہتمام رکھا جائے جن میں سے سب سے بڑھ کر نماز ہے اور ممنوعات اور محرمات سے پرہیز کیا جائے۔
Ayahs 20:133–135اللہ تعالیٰ اتمام حجت کے بعد ہلاک فرماتا ہے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں کہ رسول آتا تو پیروی کرلیتے
یہ سورة طہٰ کی آخری تین آیات ہیں۔ پہلی آیت میں قریش مکہ کی ایک بیہودہ بات ذکر فرمائی ہے اور اس کا جواب دیا ہے ان لوگوں نے کہا کہ یہ صاحب نبوت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ہم جو ان سے کہتے ہیں کہ اپنے دعویٰ کی تصدیق کرانے کے لیے ہمارے سامنے فلاں معجزہ لاؤ تو وہ ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے، اگر ہمارا مطلوبہ معجزہ لے آئیں تو ہم مان لیں گے، یہ بات ان کی بطور عناد کے تھی بہت سے معجزات ان کے سامنے تھے لیکن ان کے ہوتے ہوئے ایمان نہیں لاتے تھے سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید تھا جو اب تک دنیا کے سامنے ہے سابقہ کتب توراۃ انجیل وغیرہ میں جو عقائد اور اصولی احکام تھے قرآن ان کو بیان کرتا ہے اور ان کے سچا ہونے کی تصدیق کرتا ہے اس قرآن کا سامنے ہونا ہی اہل عقل کے لیے کافی ہے۔ قال صاحب الروح فالمراد بالبینۃ القرآن الکریم والمراد بالصحف الاولی التوراۃ والانجیل و سائر الکتب السماویۃ و بما فیھا العقائد الحقۃ و اصول الاحکام التی اجتمعت علیھا کافۃ الرسل علیھم السلام و معنی کونہ بینۃ لذلک شاھدا بحقیقتہ۔
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ اگر ہم ان کو کوئی عذاب بھیج کر قرآن نازل کرنے سے پہلے ہلاک کردیتے تو یہ لوگ یوں کہتے کہ ہمارے پاس رسول بھیجا جاتا تو ہم اس کا اتباع کرتے، ایمان لاتے، احکام مانتے اور اب عذاب میں پڑ کر ذلیل اور رسوا نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ ہم نے رسول بھیج دیا، حجت پوری کردی اب یہ بات کہنے کا موقع نہیں رہا کہ کوئی رسول آتا تو ہم ایمان لے آتے اور عذاب میں داخل نہ ہوتے، اللہ جل شانہٗ نے بغیر اتمام حجت نہ کسی قوم کو ہلاک کیا اور نہ اس کے بغیر آخرت میں کسی کو عذاب ہوگا۔ (وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) (اور ہم جب تک کسی رسول کو نہ بھیج دیں عذاب دینے والے نہیں ہیں) اور سورة فاطر میں فرمایا (اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ) (بلاشبہ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں ہم نے ڈرانے والا نہ بھیجا ہو) تیسری آیت میں فرمایا کہ آپ ان منکرین سے فرما دیں کہ دیکھو اس دنیا میں کیا ہوتا ہے اور آخرت میں کیا ہوگا سب اس کے انتظار میں ہیں سو تم بھی انتظار کرلو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستہ پر چلنے والا کون ہے اور ہدایت یافتہ کون ہے، یہاں تو حق کی تکذیب کر رہے ہو تمہیں حق سے انحراف ہے موت کے وقت اور اس کے بعد کے حالات تمہیں بتادیں گے کہ صحیح راستہ پر کون ہے تمہیں اپنی غلطی کا اس وقت پتہ چلے گا جب اس کی تلافی نہ ہو سکے گی اور عذاب میں جانا ہی ہوگا۔ صحیح بات یہی ہے کہ آج ہی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی نازل کی ہوئی کتاب پر ایمان لے آؤ۔ دلائل کو دیکھو، حق کو پہچانو، صراط مستقیم پر چلو، حق سے منہ موڑ کر بربادی کے گڑھے میں نہ گرو۔
تذلیل
سورۂ طہٰ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے اسلام قبول کرنے کا سبب ہے۔ مکہ مکرمہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت دینا شروع کیا تو سرداران قریش دشمنی پر تل گئے لیکن جو ضعفاء اور مساکین، فقراء اور پر دیسی اور غلام تھے ان میں اسلام پھیلتا رہا۔ یہ لوگ پوشیدہ طور پر مسلمان ہوتے تھے کیونکہ قریش مکہ کی طرف سے ان کو مارا پیٹا جاتا تھا اور بری طرح سزائیں دی جاتی تھیں۔ حضرت عمر ؓ بھی اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلام کے سخت مخالف تھے اور اہل ایمان کو ایذائیں پہنچانے میں شریک رہتے تھے۔ ضعفاء اور فقراء کے علاوہ کچھ اونچے طبقہ کے لوگ بھی شدہ شدہ اسلام قبول کرنے لگے تھے لیکن وہ بھی خفیہ طور پر قبول کرتے تھے۔ انہیں حضرات میں سے حضرت عمر ؓ کی بہن فاطمہ بنت الخطاب اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید (جن کا عشرہ مبشرہ میں شمار ہے) ؓ بھی تھے جنہوں نے پوشیدہ طور پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کے پاس حضرت خباب بن ارت ؓ چھپ چھپ کر جاتے تھے اور دونوں کو قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت عمر ؓ تلوار لے کر نکلے۔ ان کا ارادہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب پر حملہ کریں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ بہت سے صحابہ قریش کی ایذاؤں سے محفوظ ہونے کے لیے حبشہ کو ہجرت کرچکے تھے، حضرت عمر ؓ تلوار لیے جا رہے تھے کہ نعیم بن عبداللہ ؓ سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے کہا اے عمر کہاں جا رہے ہو ؟ کہنے لگے کہ محمد ہیں جنہوں نے نیا دین نکالا ہے اور قریش میں تفریق ڈالی ہے اور قریش کو بیوقوف بنایا ہے۔ ان کے دین کو عیب لگایا ہے اور ان کے معبودوں کو برا کہا ہے۔ میں اس نئے دین لانے والے کو قتل کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ حضرت نعیم بن عبداللہ ؓ نے کہا اے عمر ! تم کس دھوکہ میں ہو۔ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ محمد کو قتل کر دو گے تو بنی عبد مناف تمہیں زمین پر چلتا ہوا چھوڑ دیں گے تم ذرا اپنے گھر والوں کی تو خبر لو۔ ان کو ٹھیک کرو، کہنے لگے کون سے میرے گھر والے ؟ حضرت نعیم ؓ نے جواب دیا کہ تمہاری بہن فاطمہ اور تمہارے بہنوئی سعید بن زید جو تمہارے چچا زاد بھائی ہیں، یہ دونوں اسلام قبول کرچکے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کے تابع ہوگئے ہیں۔ پہلے تم وہاں جاؤ۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ اپنی بہن فاطمہ کے گھر کی طرف چلے۔ وہاں پہنچے تو حضرت خباب بن ارت ؓ انہیں سورة طہٰ کا درس دے رہے تھے۔ جب انہوں نے حضرت عمر ؓ کی آہٹ سنی تو حضرت خباب ؓ پردہ کے پیچھے چلے گئے اور حضرت فاطمہ بنت الخطاب ؓ نے وہ ورقہ لے کر چھپا دیا جس میں سورة طہٰ لکھی ہوئی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے دروازہ کے قریب پہنچ کر حضرت خباب کی آواز سن لی تھی۔ دروازہ کھولا گیا تو اندر داخل ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا آواز تھی ؟ ان کی بہن اور بہنوئی نے کہا نہیں کوئی بات نہیں۔ کہنے لگے کیسے نہیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم دونوں نے محمد کا دین قبول کرلیا ہے۔ یہ کہا اور حضرت سعید بن زید کو مارنے کے لیے پکڑا۔ حضرت فاطمہ بنت خطاب اپنے شوہر کو بچانے کے لیے کھڑی ہوئیں تو ان کو ایسا مارا کہ ان کے چہرہ سے خون جاری ہوگیا۔ جب یہ بات یہاں تک پہنچی تو بہن اور بہنوئی دونوں نے کہا کہ ہاں ہم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ تم سے جو کچھ ہوسکتا ہے کرلو۔ اس کے بعد بہن کے چہرے پر نظر پڑی اور خون دیکھا تو شرمندہ ہوگئے اور اپنی بہن سے کہا کہ اچھا لاؤ مجھے دکھاؤ اس کاغذ میں کیا ہے جو تم ابھی پڑھ رہے تھے۔ محمد ﷺ جو کچھ لائے ہیں میں اسے دیکھوں، ان کی بہن نے کہا تمہارا کچھ بھروسہ نہیں تم اسے پھاڑ دو گے۔ کہنے لگے تم ڈرو نہیں۔ اپنے معبودوں کی قسم کھا کر کہا کہ میں پڑھ کر واپس کر دوں گا۔ حضرت فاطمہ نے موقع کو غنیمت جانا اور ان کے دل میں یہ بات آئی کہ انشاء اللہ یہ ابھی اسلام قبول کرلیں گے۔ کہنے لگیں کہ بھیا تم اپنے شرک پر ہو اور ناپاک ہو۔ یہ ایسی چیز ہے جس کو صرف پاک انسان ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور غسل کیا۔ ان کی بہن نے وہ کاغذ دے دیا جس میں سورة طہٰ لکھی ہوئی تھی۔ جب اس کا شروع والا حصہ پڑھا تو کہنے لگے کہ واہ واہ یہ تو بہت ہی اچھا کلام ہے اور بہت ہی عزت کی چیز ہے۔ جب حضرت خباب ؓ نے اندر سے یہ بات سنی تو فوراً نکلے اور کہنے لگے کہ اے عمر اللہ کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے نبی کی دعا کی وجہ سے قبول فرما لیا۔ میں نے کل آپ کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا تھا کہ اے اللہ ! ابو الحکم بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کو تقویت دے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی دعا تمہیں لگ گئی۔ حضرت عمر ؓ کہنے لگے کہ خباب مجھے بتاؤ محمد کہاں ہیں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کروں۔ حضرت خباب ؓ نے جواب دیا کہ وہ صفا کے قریب ایک گھر میں ہیں۔ وہاں اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت عمر وہاں پہنچے اور جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور چونکہ تلوار لیے ہوئے تھے اس لیے بعض صحابہ ان کو دروازہ کی درازوں سے دیکھ کر گھبرا گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو عمر بن خطاب ہیں جو تلوار لگائے ہوئے ہیں۔ اس پر حضرت حمزہ ؓ نے کہا (جو حضور اقدس ﷺ کے چچا تھے) کہ عمر کو اندر بلا لو، اگر کوئی خیر کا ارادہ لے کر آیا ہے تو ہم اس کے لیے حاضر ہیں اور اگر شر کا ارادہ ہے تو اسی کی تلوار سے اسے قتل کردیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عمر کو اندر آنے کی اجازت دے دو ۔ لہٰذا ان کو اجازت دے دی گئی۔ وہ اندر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی چادر پکڑ کر زور سے کھینچا اور فرمایا اے ابن الخطاب کیسے آئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تم اپنے کفر و شرک سے اس وقت باز آؤ گے جب تم پر کوئی مصیبت آئے گی، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ میں تو اللہ اور اس کے رسول پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے آیا ہے اس پر ایمان لانے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے زور سے اللہ اکبر کہا۔ جس سے گھر والوں نے پہچان لیا کہ عمر ؓ نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ جو حضرات وہاں موجود تھے (حبشہ نہیں گئے تھے) انہیں یہ تسلی ہوگئی کہ حضرت عمر ؓ اور حضرت حمزہ ؓ کے اسلام لانے سے دشمنوں کے حملوں سے حفاظت ہوگئی۔ (ذکرہ حافظ ابن کثیر فی البدایۃ والنہایہ عن ابن اسحاق، ج 3، ص 79۔ 80۔ 81)
ولقد تم تفسیر سورة طہٰ فی محرم الحرام 1415 ھ من ھجرۃ سید الانبیاء والمرسلین علیہ صلوات اللہ وسلامہ وعلی الہ و اصحابہ اجمعین والحمد للہ اولا و آخر اور باطنا و ظاھرا۔