Ayahs 20:41–48حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ فرعون کے پاس جاؤ، میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے اس سے پہلے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) میں یہ بات گزر چکی ہے۔ انتخاب کا تذکرہ فرمانے میں بھی امتنان ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ کے ایک ہی شخص کو چن لینا اور نبوت سے سر فراز فرمانا یہ انعام خاص ہے۔
اللہ تعالیٰ کا انتخاب فرما لینا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی تکلیف کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی۔ مزید ارشاد ہوا کہ تم دونوں بھائی میری نشانیاں لیکر جاؤ فرعون کے پاس پہنچو اور میرے ذکر میں برابر لگے رہنا اس میں سستی نہ کرنا، فرعون سرکش بنا ہوا ہے اس سے جا کر نرمی سے بات کرنا ہوسکتا ہے کہ تمہاری یہ نرمی اس کے لیے نصیحت قبول کرنے کا ذریعہ بن جائے یا وہ اپنے رب سے ڈر جائے اور اپنی سرکشی سے توبہ کرلے اور رب حقیقی کا فرما نبردار ہوجائے۔
معلوم ہوا کہ دعوت کے کام میں ذکر اور صبر اور نرم گفتگو کی بڑی اہمیت ہے یہ چیزیں قبول حق کے لیے مفید اور معاون ہوتی ہیں کوئی ضدی معاند اور سرکش نہ مانے تو وہ دوسری بات ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے بار گاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم کار مفوضہ کے لیے فرعون کے پاس جا تو رہے ہیں لیکن ہمیں یہ ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے اور زیادتی میں آگے بڑھتا چلا جائے اس پر اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ تم ڈرومت میں تمہارے ساتھ ہوں میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں تم اس کے پاس پہنچ جاؤ اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے اور ان کو جو طرح طرح سے تکلیفیں دیتا ہے اس سے باز آ، نبوت اور رسالت ثابت کرنے کے لیے یہ بھی کہہ دینا کہ ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں (یہ نشانی عصاء اور ید بیضاء دو چیزیں تھیں) سورة اعراف اور سورة شعراء میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے ہی دو نشانیاں ظاہر کیں اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ بات کرتے کرتے (وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی) بھی کہہ دینا۔ (یعنی اس پر سلام ہے جو ہدایت کا اتباع کرے) اس میں فرعون کو یہ بتادیا کہ ہم وہ ہدایت لائے ہیں کہ جو شخص اس کا اتباع کرے گا دنیا اور آخرت میں سلامتی کے ساتھ رہے گا پھر وعید اور انذار کے طور پر فرمایا (انا قد اوحی الینآ ان العذاب علی من کذب وتولی) (کہ بلاشبہ ہماری طرف اس بات کی وحی کی گئی ہے کہ جو شخص جھٹلائے گا اور رو گردانی کرے گا اس پر عذاب ہوگا) معلوم ہوا کہ مبلغ اور داعی کو تبشیر اور انذار دونوں چیزیں اختیار کرنی چاہئیں اور یہ جو فرمایا (وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی) یہ اس لیے کہ کافروں کو سلام کرنا جائز نہیں۔ کافروں سے خطاب کرے یا خط لکھے تو السلام علیکم نہ کہے بلکہ السَّلاَمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی کہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ہرقل شاہ روم کو خط لکھا تھا تو اس خط میں سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی کہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ہرقل شاہ روم کو خط لکھا تھا تو اس خط میں سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی لکھ کر اسلام کی دعوت پیش کی تھی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 5)
حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کو جو اللہ تعالیٰ شانہ نے فرعون کی طرف بھیجا تھا اس میں فرعون اور اس کی قوم کو ہدایت کرنا اور توحید کی دعوت دینا مقصود تھا اور ساتھ ہی یہ مقصد بھی تھا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کرلے جائیں۔ سورة والنازعات میں فرمایا (اِذْھَبْ اِِلٰی فِرْعَوْنَ اِِنَّہٗ طَغٰی فَقُلْ ھَلْ لَّکَ اِِلٰی اَنْ تَزَکّٰی وَاَھْدِیَکَ اِِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی) (تم فرعون کے پاس چلے جاؤ بیشک اس نے سرکشی کی ہے پھر اس سے کہو کیا تجھے اس کی خواہش ہے کہ تو پاکیزہ ہوجائے اور میں تجھے تیرے رب کی طرف رہنمائی کروں تاکہ تو ڈرنے لگے) ۔
Ayahs 20:49–50حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے مکالمہ
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے ہدایت دی اور خالق کائنات جل مجدہ پر ایمان لانے کے لیے فرمایا تو اس نے بےتکی باتیں شروع کردیں اور طرح طرح کے سوال کرتا رہا ان میں سے بعض سوال یہاں سورة طہ اور بعض سورة شعراء کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں فرعون تو اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا اور اس نے (اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی) کا اعلان کیا تھا اب جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف ہدایت دیتا ہوں تجھے اس کی رغبت ہے تو قبول کرلے اس پر فرعون کو ناگواری ہونی ہی تھی بھرے مجمع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بتادیا کہ جو تیرا رب ہے اسے مان اور اس کی ہدایت قبول کر، اس پر اس نے سوال کیا کہ تم دونوں (موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) جو میرے علاوہ کوئی دوسرا رب بتا رہے ہو وہ کون ہے ؟ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا (رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ) کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا کی یعنی ساری مخلوق اسی کی ہے اور ہر مخلوق کو اس نے جس صورت میں اور جس حالت میں پیدا فرمایا ہے وہ اس کی حکمت کے موافق ہے ساری تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس نے جس کو جس طرح چاہا پیدا فرمایا۔ ہر چیز کو اس کے اعضاء اور جو ارح اس کے لائق عطا فرمائے اور اسی کے حال کے مطابق سمجھ بھی دی اور مخلوقات کو ان کے خوارص اور منافع بتائے۔ کسی مخلوق کو اس میں کوئی دخل نہیں (ثُمَّ ھَدٰی) اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا بھی فرمایا پھر ہر چیز کو راہ بھی بتائی۔ یعنی ہر مخلوق کو اس کی ضروریات کے مطابق سمجھ دی، ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے مطابق جیتی ہے اور اپنے منافع اور مضار کو سمجھتی ہے۔ صاحب روح المعانی نے یہ تفسیر ارشاد العقل السلیم سے نقل کی ہے۔ وقال ثم ھدی الی طریق الانتفاع والارتفاق بما اعطاء و عرفہ کیف یتوصل الی بقاۂ و کمالہ اما اختیار کما فی الحیوانات اوطبعا کما فی الجمادات والقوی الطبیعیۃ النباتیۃ والحیوانیۃ۔ (ج 16 ص 202)
یہ مضمون بہت بڑا بھی ہے اور عجیب بھی، جتنا جتنا غور کیا جائے اور مخلوق میں نظر کی جائے اسی قدر ذہن میں اس کا پھیلاؤ بڑھتا چلا جائے گا۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو منہ میں پستان دیا جاتا ہے فورا ہونٹ ہلاتا ہے مرغی کا بچہ پیدا ہوا دانہ ڈالا اس پر دوڑا۔ آدمی کے بچہ نے ذراسا ہوش سنبھالا ہاتھ سے کھانا شروع کیا چوپاؤں نے بچہ جنا اس کی دیکھ بھال اور حفاظت میں اس کی ماں مشغول ہوگئی بچہ ماں کے تھنوں کے پاس گیا اور تھنوں کو چوسنا شروع کردیا چونکہ جانوروں کا کھانے پینے کا سارا کام منہ سے ہی ہوتا ہے اس لیے ہاتھ کے واسطہ کی ضرورت نہیں ہے اس لیے انہیں ایسے ہاتھ نہیں دیئے گئے جو منہ تک پہنچیں انہیں استنجے کی بھی ضرورت نہیں اس لئے بھی ہاتھ کی ضرورت نہیں انسان کو بہت سے کام ہیں بڑے بڑے کام ہیں لہٰذا اسے ہاتھ دے دیئے گئے مکڑی جالا بنا کر مکھی کو مار کر کھاتی ہے۔ اور چھپکلی روشنی کے پاس آکر پتنگوں کا شکار کرتی ہے۔ اور دیوار پر بلکہ چھت میں الٹی لٹک کر دوڑ جاتی ہے۔ بکری کا بچہ ہوتا ہے وہ اسے چاٹ چاٹ کر اس کے بدن کی اصلاح کرتی ہے۔ مرغی انڈوں پر بیٹھتی ہے اور بچے نکلنے تک بیٹھی رہتی ہے، بلی چوہا کھاتی ہے بچھو پر منہ نہیں ڈالتی اور اسی طرح ہزاروں مثالیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا اور اسے جینے کے طریقے بتائے۔ اور اس کی ذات کے متعلق نفع اور ضرر سمجھا دیا۔ (ثُمَّ ھَدٰی) کی جو تفسیر اوپر ذکر کی گئی اس کے علاوہ دوسری تفسیر بھی کی گئی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا پھر انہیں ہدایت دی یعنی حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے اور کتابیں نازل فرمائیں اور مخلوق ہی کو مخلوق کے ذریعہ خالق تعالیٰ شانہ کی معرفت حاصل ہونے کا ذریعہ بنایا۔
Ayahs 20:51–52اس کے بعد فرعون نے کہا (فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی) اچھا یہ بتاؤ کہ قرون اولیٰ یعنی پرانی امتیں اور گزری ہوئی جماعتیں جو دنیا سے جا چکی ہیں ان کا کیا حال ہے ؟ یعنی ہلاکت اور موت کے بعد ان کا کیا ہوا وہ کس حال میں ہیں ؟ (قَالَ عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍ ) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ کس حال میں ہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کتاب میں یعنی لوح محفوظ میں سب کے حالات محفوظ ہیں (لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسٰی) میرا رب نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ سب کے احوال اور اعمال کا اسے علم ہے وہ اپنے علم کے مطابق سب کو جزادے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی صفات بتاتے ہوئے یوں بھی فرمایا (الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا وَّ سَلَکَ لَکُمْ فِیْھَا سُبُلًا) کہ میرے رب کی وہ ذات ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش یعنی بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے نکال دیئے۔ (وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ) (اور اس نے آسمان سے پانی اتارا) اس سارے بیان میں توحید کی تلقین بھی ہے اور فرعون پر تعریض بھی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ (اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی) (کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں) اسے بتادیا کہ تو رب نہیں ہوسکتا تیرے بس کا کچھ نہیں۔ یہ زمین جو پھیلی ہوئی ہے اور اس میں جو راستے نکلے ہوئے ہیں اور جو آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے تیرا اس میں کچھ بھی دخل نہیں یہ مالک حقیقی جل مجدہ کی تخلیق ہے جب تو پیدا بھی نہیں ہوا تھا اس وقت سے زمین ہے اور زمین میں راستے ہیں اور آسمان سے پانی اترتا ہے پہلے بھی نازل ہوتا تھا اور اب بھی تیرا اس میں کوئی بھی دخل نہیں۔ تیرا مخلوق ہونا تو اسی سے ظاہر ہے رب ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔
Ayah 20:53(فَاَخْرَجْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰی) موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان ختم ہوا ان کی بات وہیں تک تھی کہ میرے رب نے آسمان سے پانی اتارا پھر اللہ تعالیٰ نے مزید اپنا انعام بیان فرمایا کہ اس پانی کے ذریعہ ہم نے مختلف قسم کے نباتات پیدا کردیئے جن کے رنگ اور مزے اور منافع مختلف ہیں۔
Ayah 20:54(کُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ ) ان نباتات میں سے کھاؤ اور اپنے جانوروں کو چراؤ۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّھٰی) بلاشبہ ان میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے۔ نھی نھیۃ کی جمع ہے جو عقل کے معنی میں آتا ہے عقل کو نھی اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ برائیوں سے روکتی ہے معلوم ہوا کہ جو عقل برائیوں سے نہ روکے وہ عقل نہیں ہے اگرچہ لوگ اسے عقل سمجھتے ہوں۔ خود لفظ عقل بھی اس معنی پر دلالت ہے عقل لغت میں باندھنے کو کہا جاتا ہے اور عقل صاحب عقل کو باندھ کر رکھتی ہے۔ برائیوں سے باز رکھتی ہے۔
Ayahs 20:55–57اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا (مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ ) (اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری بار نکالیں گے) زمین سے انسان کو جو اصل تعلق ہے اس آیت میں اس کو بیان فرما دیا انسان کی تخلیق بھی مٹی سے ہے اور موت کے بعد بھی ہر شخص اسی میں چلا جاتا ہے سورة المرسلات میں فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا اَحْیَآءً وَّاَمْوَاتًا) (کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو جمع کرنے والی نہیں بنایا) پھر جب قیامت قائم ہوگی تو ہر شخص اسی میں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوجائے گا۔
Ayahs 20:58–64حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو فرعون کا جادو بتانا اور جادو گروں سے مقابلہ کے لیے وقت اور جگہ مقرر ہونا
فرعون ملعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کرادیا اور یہ بتادیا کہ ہمیں ہمارے رب نے تیری طرف بھیجا ہے اور رب جل شانہ کی صفت خالقیت بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ اس نے سب کو رہنمائی فرمائی ہے اور وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے اور یہ زمین کا فرش اسی نے بنایا اور آسمان سے وہی پانی اتارتا ہے اور فرعون کو چمکتا ہوا یدبیضاء بھی دکھا دیا نیز اس کے سامنے لاٹھی کو ڈالا۔ اور وہ اژدھا بن گئی تو خالق کائنات جل مجدہ کی خالقیت اور ربوبیت اور الوہیت کا اقرار کرنے اور حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لانے کے بجائے الٹی الٹی باتیں کرنے لگا، معجزات دیکھے پھر بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ان کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیا اور یوں کہا کہ تو جو یہ لکڑی کا سانپ بنا کر دکھاتا ہے یہ جادو ہے فرعون نے یہ بھی کہا کہ تیرا نبوت کا دعویٰ جھوٹا ہے اور تیرا اصل مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ ہم کو ہماری سر زمین سے نکال دے یہ تو فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اور پھر اپنی جماعت سے بھی کہا کہ یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ اس کے درباریوں نے کہا کہ اپنی قلمرو کے تمام شہروں میں آدمی بھیج دے جتنے بھی جادوگر ہیں سب کو بلا لائیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون نے کہہ دیا کہ تیرے مقابلہ کے لیے ہم بھی تیرے جیسا جادو لے کر آئیں گے۔ لہٰذا مقابلہ کا دن اور میدان مقرر کر دے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موقع کو مناسب جانا اور فرما دیا کہ ہمارا تمہارا مقابلہ زینت کے دن ہوگا۔ (اس سے ان لوگوں کا کوئی تہوار یا میلہ کا دن مراد تھا) اور ساتھ ہی وقت بھی مقرر فرما دیا اور وہ یہ کہ سورج چڑھے مقابلہ ہوگا اور یہ ایک ہموار میدان میں ہونا چاہئے۔ چونکہ میلہ کے دن لوگ یوں بھی جمع ہوتے ہیں اور شہر سے باہر نکلتے ہیں اور پھر جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ جادو گروں سے دو ایسے شخصوں کا مقابلہ ہوگا جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم پروردگار جل مجدہ کے فرستادہ ہیں۔ تو تاریخ مقررہ پر لوگ جمع ہوگئے اور مقابلہ ہوا جس میں جادو گروں نے اپنی ہار مان لی اور سجدہ میں گرپڑے اور ایمان لے آئے۔ (جیسا کہ ابھی دو صفحہ کے بعد آتا ہے اور سورة اعراف میں بھی گزر چکا ہے) ۔
ابھی مقابلہ کا دن نہیں آیا تھا لیکن فرعون اپنی تدبیروں میں لگ گیا وہ اور اس کے درباری آپس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف باتیں کرتے رہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی مکاریوں کا پتہ چل گیا اور ان سے فرمایا کہ تم پر ہلاکت ہو تم اللہ پر افتراء مت کرو اس کے نبیوں کو نہ جھٹلاؤ اور اس کے معجزات کو جادونہ بتاؤ یہ تمہارا عمل تمہاری بربادی کا پیش خیمہ ہوگا وہ تمہیں ایسا عذاب دے گا کہ صفحہ ہستی سے مٹادے گا اور تمہیں بالکل نیست ونابود کر دے گا۔ اور جب کبھی بھی جس کسی نے جھوٹا افتراء کیا ہے وہ ناکام ہی ہوا ہے جادو گر آئے ابھی مقابلہ کے میدان میں نہیں پہنچے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتیں سن کر مقابلہ میں آنے سے ڈھیلے پڑگئے اور آپس میں یوں کہنے لگے کہ اگر موسیٰ غالب آگئے تو ہم ضرور ان کا اتباع کرلیں گے۔ اور بعض حضرات نے یوں کہا ہے کہ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بات سنی کہ (لَا تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ ) تو آپس میں کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر کی بات معلوم نہیں ہوتی اور انہوں نے مقابلہ کرنے سے انکار کردیا لیکن فرعون نے زبردستی ان سے مقابلہ کرایا جس کا انشاء اللہ ابھی ذکر آئے گا۔ کچھ تو فرعون کا ڈر تھا اور کچھ فرعون کا مقرب بننے کا لالچ اس لیے جو فرعون اور اس کے درباری کہتے تھے کہ موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) ہمیں اس سر زمین سے نکالنے کے لئے آئے ہیں جادوگر بھی ظاہر میں یہ بات کہنے لگے اور انہوں نے کہا (اِنْ ھٰذٰینِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِھِمَا وَ یَذْھَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی) (یہ دونوں جادوگر یہی چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہاری سرزمین سے تمہیں نکال دیں اور تمہارا جو عمدہ طریقہ ہے یعنی تمہارا مذہب اور دین وہ تم سے چھڑا دیں) ۔ (فَاَجْمِعُوْا کَیْدَکُمْ ثُمَّ اءْتُوْا صَفًّا) (سو تم اپنی تدبیر کو اچھی طرح جمع کرلو پھر صف بنا کر آؤ) (وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی) (اور وہ کامیاب ہوا جس نے آج غلبہ پالیا) اللہ تعالیٰ نے انہیں کی زبان سے یہ نکلوا دیا کہ جس کا غلبہ ہوگا وہی کامیاب ہوگا۔
ھذا کلہ علی تقدیر رجوع الضمائر الی الحسرۃ کما فسر بذلک غیر واحد والذی یمیل الیہ القلب ان ھذا کلہ من کلام ملاء فرعون واللہ تعالیٰ اعلم فکر ہر کس بقدر ہمت اوست ہر شخص اپنی سمجھ ہی کے مطابق سوچتا ہے۔ چونکہ فرعون اور اس کے درباری اور اس کی قوم کے لوگ دنیا دار تھے اس لیے انہیں یہی فکر ہوا کہ کہیں ہم مصر کی سرزمین سے نہ نکال دئیے جائیں۔ جن لوگوں کو آخرت کا یقین نہیں ہوتا وہ سب کچھ دنیا ہی کو سمجھتے ہیں اور اسی کے چلے جانے کا واویلا کرتے ہیں۔ آج بھی دیکھا جاتا ہے کہ جس کسی کو جہاں کہیں کوئی اقتدار مل جائے اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ میرا اقتدار نہ چھن جائے اقتدار کو باقی رکھنے کے لیے لوگوں کو قتل بھی کراتے ہیں۔ جھوٹ بھی بولتے ہیں بیانات سے بھی منحرف ہوجاتے ہیں اور مسلمانی کا دعوی کرنے کے باوجود کفریہ کلمات بھی بول دیتے ہیں پارلیمنٹ میں حرام چیزوں کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام کو راضی رکھنے کا جذبہ ان سے سب کچھ کروا لیتا ہے۔
Ayahs 20:65–70حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں جادو گروں کا آنا، پھر ہار مان کر ایمان قبول کرلینا اور سجدہ میں گرپڑنا
فرعون نے اپنی حدود مملکت سے جادو گروں کو جمع کیا۔ دنیادار کے سامنے دنیاہی ہوتی ہے اسی کے لئے سو چتا ہے اسی کے لیے جیتا ہے اسی کے لیے مرتا ہے۔ جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ ہم غالب ہوگئے تو کیا ہمیں اس پر کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا بڑا صلہ بھی ملے گا اور تم میرے مقرب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور طور طریق کو سمجھا تو ان کی سچائی دل میں بیٹھ گئی اور چاہتے تھے کہ مقابلہ نہ کریں۔ لیکن فرعون نے زبردستی ان کو میدان میں اتارا اور مقابلہ کرایا۔ جب وہ میدان میں آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ آپ پہلے اپنا عصا ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ انہیں کو پہلے ڈالنے کے لیے کہا جائے اس لیے فرمایا کہ تم ڈال دو کیا ڈالتے ہو، انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور فرعون کی عزت کی قسم کھا کر کہا کہ ہم ضرور غالب ہوں گے۔ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور لوگوں کو خوف زدہ بنالیا اور بڑا جادو لیکر آئے ان کے جادو کی وجہ سے دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ انہوں نے جو لاٹھیاں اور رسیاں ڈالی ہیں وہ دوڑتے ہوئے سانپ ہیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ ماجرا دیکھا تو ذراسا اپنے دل میں خوف محسوس کرنے لگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ڈرو نہیں تم ہی غالب رہو گے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈالی وہ سانپ بن گئی اور اس نے جادو گروں کے بنائے ہوئے سارے دھندے کو نگلنا شروع کردیا۔ (وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی) جو فرما دیا تھا اس کا مظاہرہ ہوا جادوگر جب کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے عطا فرمودہ معجزہ کے مقابلہ میں آئے تو کامیاب نہیں ہوتا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے ہی یہ بھی فرما دیا تھا (مَا جِءْتُمْ بِہِ السِّحْرُ ) (تم جو کچھ لیکر آئے وہ جادو ہے) (اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے عنقریب باطل فرما دے گا) (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو کامیاب نہیں بننے دیتا) ۔
اب جو جادو گروں نے یہ دیکھا کہ اس شخص کا مقابلہ ہمارے بس کا نہیں ہے۔ اور یہ جادوگر نہیں ہے۔ (پہلے تو باتوں سے سمجھ لیا تھا اور اب عملی طور پر آزمالیا) تو اسی وقت سجدہ میں گرپڑے اور علی الاعلان انہوں نے مومن ہونے کا اقرار کرلیا۔ اور کہنے لگے کہ (اٰمَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَ مُوْسٰی) (ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے) اس میں (سُجَّدًا وَّبُکِیًّا) نہیں فرمایا بلکہ (اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا) فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ دیکھ کر ایسے بےبس ہوئے کہ ایمان لائے بغیر کوئی چارہ نہ رہا ان کے جذبہ حق نے انہیں سجدہ میں جانے پر مجبور کردیا ایسی فضاء بنی کہ انہیں اس بات کا بھی دھیان نہ رہا کہ فرعون ہمارا کیا بنائے گا اس نے سزادی تو ہمارا کیا ہوگا۔
جب حق دلوں میں اتر جاتا ہے تو پھر کوئی طاقت اس سے باز نہیں رکھ سکتی پرانی امتوں میں اور اس امت میں سینکڑوں ایسے واقعات پیش آچکے ہیں کہ بڑے بڑے ظالموں اور قاہروں کے تکلیفیں دینے کے باوجود اہل ایمان، ایمان سے نہ پھرے تکلیفیں جھیل گئے قتل ہوگئے لیکن ظالموں کے کہنے اور مجبور کرنے کے باوجود حق پر جمے رہے۔
Ayahs 20:71–75جادو گروں کو فرعون کا دھمکی دینا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کی ٹہنیوں پر لٹکادوں گا، جادو گروں کا جواب دینا کہ تو جو چاہے کرلے ہم تو ایمان لے آئے
جب جادو گروں نے ہار مان لی اور موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاکر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون کو بڑی خفت ہوئی اور بھرے مجمع میں اسے ذلت اٹھانی پڑی کھسیانی بلی کھمبا نوچے اور تو کچھ نہ بن سکا جادو گروں پر غصہ اتارا، گر جاچمکا اور کہنے لگا کہ تم کو ان پر ایمان لانے کے لیے مجھ سے اجازت لینا لازم تھا میری اجازت کے بغیر ہی تم ان پر ایمان لے آئے بس سمجھ میں آگیا کہ یہ تمہارا سردار ہے اسی نے تمہیں جادو سکھایا ہے تم سب نے ملکر آپس میں یہ ملی بھگت کی ہے کہ شہر کے رہنے والوں کو نکال دو (کمافی سورة الاعراف) تم چاہتے ہو کہ شہر والے چلے جائیں اور تمہیں لوگوں کا قبضہ ہوجائے یہ تو بہت بڑی بغاوت ہے میں تمہیں اس کا مزہ چکھا دونگا تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر (جن میں ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں ہوگا) کھجور کے تنوں کو سولی بنا کر لٹکا دونگا۔ اسی پر لٹکے رہو گے یہاں تک کہ مرجاؤ گے اور تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سب سے زیادہ سخت عذاب والا اور سب سے زیادہ دیر پا عذاب والا کون ہے (فرعون کو چونکہ پہلے بتادیا گیا تھا کہ (اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی) جس میں اس بات کی توضیح کردی گئی تھی کہ منکر اور رو گردانی کرنے والا مستحق عذاب ہوگا اور اس کے عموم میں فرعون بھی آتا تھا بلکہ تعریضاً اسی کو خطاب کیا گیا تھا اس لیے اس نے یہ بات کہی کہ تم کہتے ہو میں عذاب میں مبتلا ہوں گا دیکھو ایک تمہاری جماعت ہے ایک ہماری جماعت ہے سخت اور دیر پا عذاب میں کون مبتلا ہوتا ہے تمہیں اس کا پتہ چل جائے گا) بعض حضرات نے (اَیُّنَآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰی) کا مطلب یہ بتایا ہے کہ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ مجھ میں اور موسیٰ کے رب میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے۔
جادو گروں کے دلوں میں ایمان بیٹھ چکا تھا جب فرعون نے انہیں ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی پر چڑھانے کی دھمکی دی تو انہوں نے نہایت صبر و استقامت کے ساتھ بلا تکلف یوں کہہ دیا (لاَ ضَیْرَ اِِنَّا اِِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ) (کچھ ضرر نہیں اس میں شک نہیں ہم اپنے رب کے پاس جا پہنچیں گے) یعنی قتل ہوجانے سے ہمارا کوئی نقصان نہ ہوگا اور ہمارا فائدہ ہی ہوگا جلد سے جلد اپنے رب کے پاس پہنچ جائیں گے۔ اور ہمارے پاس جو کھلی کھلی دلیلیں آگئیں ان دلیلوں کے مقابلہ میں اور اس ذات پاک کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہم ہرگز تجھے ترجیح نہیں دے سکتے تو ہمیں سزا دینا چاہتا ہے جو کچھ تو چا ہے ہمارے بارے میں فیصلہ کر دے ہم ہر تکلیف سہنے کے لیے اور ہر مصیبت جھیلنے کے لیے تیار ہیں تیرا جو کچھ فیصلہ ہوگا اور اس کے نتیجہ میں جو کچھ ہمیں تکلیف پہنچے گی وہ اسی تھوڑی سی دنیا والی تکلیف تک محدود رہے گی ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور تو نے جو کچھ زبردستی کی ہے ہم سے جادو کرایا ہے اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف فرما دے، اللہ کو چھوڑ کر ہم تجھے کیسے اختیار کرسکتے ہیں۔ اللہ بہتر ہے اور ہمیشہ کے لیے باقی ہے اس کی ذات وصفات کے لیے کبھی بھی فناء نہیں۔ ہم تو اب اسی کے ہوگئے۔ دنیا کی کوئی تکلیف اور تعذیب ہمارا رخ نہیں موڑ سکتی اللہ ہمارا رب ہے ہم اس کے بندے ہیں اسی سے ہر طرح کی امید رکھتے ہیں اور اسی سے ہر طرح کی لالچ رکھتے ہیں۔ سورة الشعراء میں ہے کہ جادو گروں نے کہا۔ (اِِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَایَانَا اَنْ کُنَّا اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) ۔ (بیشک ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرمادے اس وجہ سے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہوگئے) اب تو ہمیں جو کچھ لینا ہے اللہ ہی سے لینا ہے اور ڈرنا بھی صرف اسی سے ہے تو نے جو انعام کی امید دلائی تھی ہمیں اس کی کچھ حاجت نہیں۔
قرآن مجید میں اس کی تصریح نہیں ہے کہ فرعون ملعون کفر سے توبہ کرنے والے جادو گروں کو اپنی دھمکی کے مطابق سزادے سکا تھا یا نہیں۔ حافظ ابن کثیر کا رجحان یہ ہے کہ اس نے انہیں سولی پر لٹکایا اور عذاب دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ یہ لوگ دن کے اول حصہ میں جادو گر تھے اور اسی دن کے آخری حصہ میں شہید تھے۔ والظاھر من ھذہ السیاقات ان فرعون لعنہ اللہ صلبھم و عذبھم ؓ قال عبداللہ بن عباس وعبید بن عمیر کانوا من اول النھار سحرۃ فصاروا من آخرہ شھداء بررۃ ویؤید ھذا قولھم ربنآ افرغ علینا صبرا و توفنا مسلمین۔ (البدایۃ والنھایۃ ج 1 ص 258)
بعض حضرات نے فرمایا کہ (اِنَّہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ ) سے لیکر رکوع کے ختم تک جو کلام ہے یہ بھی جادو گروں ہی کا کلام ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے اس میں واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ رب جل شانہ کے پاس جو شخص مجرم ہو کر آئے گا یعنی کافر ہوگا اس کے لیے جہنم ہے وہ اس کے عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور وہاں نہ مرے گانہ جئے گا (نہ مرنا تو ظاہرہی ہے کیونکہ وہاں موت کبھی بھی نہیں آئے گی اور نہ جینا اس لیے فرمایا کہ وہاں کے عذاب شدید میں جینا کوئی جینا نہیں ہے جو سکھ اور آرام کا جینا ہو اسی کو جینا کہا جاتا ہے) اور جو شخص اپنے رب کے پاس مومن ہو کر حاضر ہوگا جس نے نیک کام کئے ہوں گے سو ایسے بندوں کے لیے بلنددر جات ہیں یعنی یہ حضرات ہمیشہ کے رہنے والے باغات میں رہیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور ان میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 20:76آخر میں فرمایا (وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَکّٰی) اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا یہ اعلان عام ہے کفر و شرک سے پاک ہونا اور معاصی سے پاک ہونا نفس کے رذائل سے پاک ہونا سب اس میں داخل ہے۔ فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پاک ہونے کی دعوت دی تھی اور ھل لک الی ان تزکی فرمایا تھا اس نے کفر نہ چھوڑا پاکیزہ نہ بنا جادوگر ایمان لے آئے پاکیزہ بن گئے مستحق جنت ہوگئے جو لوگ مومن ہوتے ہوئے گناہوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ کفر اور شرک سے پاک ہیں لیکن گناہوں سے پاک نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا گناہوں کو معاف فرما کر اور جس کو چاہے گا جہنم میں داخل فرما کر پاک وصاف کر کے جنت میں بھیج دے گا۔
Ayahs 20:77–79اللہ تعالیٰ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمانا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاؤ، سمندر پر پہنچ کر ان کے لیے خشک راستہ بنا دینا، پکڑے جانے کا خوف نہ کرنا، فرعون کا ان کے پیچھے سے سمندر میں داخل ہونا اور لشکروں سمیت ڈوب جانا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں فرعون نے زک اٹھائی ذلیل ہوا لیکن ابھی مصر میں اس کا ظاہر اقتدار باقی تھا اور وہ مسئلہ در پیش تھا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے جانے نہیں دیتا تھا، بنی اسرائیل کو اس کی تکلیفوں سے نجات پانے کے لیے ضروری تھا کہ مصر کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ تم بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکل جاؤ اور یہ روانگی رات کو ہو، موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لیکر مصر سے نکل کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ تم سمندر کی طرف نکل جانا جب سمندر پر پہنچو تو اپنی لاٹھی مار ہی دینا وہاں پر تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے خشک راستہ بن جائے گا اس میں سے گزر جانا نہ کسی کے تعاقب سے ڈرنا اور نہ کسی قسم کا دل میں خوف لانا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لیکر روانہ ہوگئے۔ فرعون کو سورج نکلنے کے وقت پتہ چلا لہٰذا وہ اپنے لشکروں کو لیکر ان کا تعاقب کرنے کے لیے روانہ ہوگیا جب فرعونی لشکروں کا بنی اسرائیل کے قبیلوں نے یہ منظر دیکھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم تو دھرلئے گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہرگز ایسا نہیں، بلاشبہ میرا رب میرے ساتھ ہے وہ ابھی مجھے راہ بتادے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ اپنی لاٹھی سمندر پر مارہی دو انہوں نے لاٹھی ماری تو سمندر پھٹ گیا اور اس میں مختلف حصے ہوگئے۔ اور وہ حصے اتنے چوڑے تھے جیسے کوئی بڑا پہاڑ ہو بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ہر قبیلہ کے لیے ایک ایک راستہ بن گیا، موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لیکر ان راستوں میں داخل ہوگئے پیچھے سے فرعون اپنے لشکر کو لے کر پہنچ ہی چکا تھا اس نے بھی اپنے لشکر دریا میں ڈال دیئے اور خود بھی ان کے ساتھ سمندر میں گھس گیا اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لیکر پار ہوگئے اور فرعون اور اس کے لشکرو ہیں غرق ہوگئے پانی کی بڑی بڑی موجوں نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ اسی کو فرمایا (فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَھُمْ ) (پھر دریا سے انہیں اس چیز نے ڈھانک دیا جس چیز نے بھی ڈھاپنا) (مَا غَشِیَھُمْ ) میں جو ابہام ہے وہ عربی میں کسی چیز کو بڑا بتانے کے لیے لایا جاتا ہے اسے اہل فصاحت پہچانتے ہیں (وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَ مَا ھَدٰی) (اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور ہدایت کا راستہ نہیں بتایا) وہ خود بھی ڈوبا اور اپنی قوم کو بھی لے ڈوبا دنیا میں بھی تباہ اور آخرت میں بھی۔
سورة قصص میں فرمایا (وَ اَتْبَعْنٰھُمْ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ھُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ) (اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے دن وہ بد حال لوگوں میں سے ہوں گے) ۔