Ayahs 20:80–85بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تمہارے لیے من وسلویٰ نازل فرمایا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور انہیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور احکام کی خلاف ورزی پر غضب الٰہی کے نازل ہونے کی وعید سے باخبر فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور پھر فرمایا کہ تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی تمہارے نبی کو کوہ طور پر بلایا اور اس کی داہنی جانب ان کو تو ریت شریف عطا کی۔ جب ان کو بلایا تھا تو توریت دینے کا وعدہ تھا اور چونکہ یہ توریت تمہارے نفع کے لیے تھی اس لیے یہ وعدہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی تھا اور تم سے بھی۔ قال صاحب الروح ای و واعدناکم بواسطۃ نبیکم فی ذلک الجانب اتیان موسیٰ (علیہ السلام) للمناجات وانزال التوراۃ علیہ الی آخر ماقال (ج 16 ص 239) طور کی اس جانب کو ایمن فرمایا جو موسیٰ کے داہنے ہاتھ کو پڑی تھی اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ایمن بابرکت کے معنی میں ہے لفظی اعتبار سے یہ معنی لینا بھی صحیح ہے اور بابرکت ہونا ظاہر ہے کیونکہ وہاں توریت شریف عطا کی گئی۔ تیسرے یہ فرمایا کہ ہم نے تمہیں من اور سلویٰ عطا فرمایا اس کی تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ (انوارا لبیان ص 110، ج 1)
مزید فرمایا کہ ہم نے جو کچھ تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ کھاؤ تو سہی لیکن حد سے نہ بڑھنا یعنی ناشکری نہ کرنا اور گناہ نہ کرنا اور ہماری دی ہوئی چیزوں کو گناہوں میں استعمال نہ کرنا۔ اور آپس میں ایک دوسرے پر ظلم زیادتی نہ کرنا، فضول خرچی نہ کرنا اور شیخی مت بگھارنا وغیرہ، قال صاحب الروح بالاخلال بشکرہ وتعدی حدود اللہ تعالیٰ فیہ بالسرف والبطر والاستعانۃ بہ علی معاصی اللہ تعالیٰ ومنع الحقوق الواجبۃ فیہ (فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْ ) (ورنہ تم پر میرا غصہ نازل ہوگا) (وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَقَدْ ھَوٰی) (اور جس پر میرا غصہ نازل ہوا سو وہ گرگیا ) یعنی وہ ہلاک ہوا اور دوزخ میں گرا۔ (وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی) (اور بلاشبہ میں اسے بخشنے والا ہوں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا۔ اور نیک عمل کئے پھر ہدایت پر قائم رہا) اس میں شرک اور کفر سے توبہ کرنا مراد ہے اس لیے امن سے پہلے ذکر فرمایا جو آدمی کفر و شرک سے توبہ کرے اور ایمان قبول کرے اور نیک اعمال میں لگا رہے اور ہدایت پر مستقیم رہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا وعدہ ہے۔ لفظ غفار مبالغہ کا صیغہ ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔
Ayahs 20:86–94حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں زیوروں سے سامری کا بچھڑا بنانا، اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا، واپس ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ناراض ہونا
جب بنی اسرائیل فرعون سے چھٹکارا پا کر دریا پار ہوگئے تو اب انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا۔ اور ایک صحراء کو عبور کرنا تھا اس سفر میں بہت سے امور پیش آئے انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر تو ریت شریف عطا فرمائی جس کا اوپر (وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) میں تذکرہ فرمایا اور من وسلویٰ نازل ہونے اور پتھر سے پانی کے چشمے نکلنے کے واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ معالم التنزل ج 3 ص 227 میں لکھا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) تورات شریف لینے کے لیے تشریف لے جارہے تھے تو انہوں نے ستر آدمی چن لئے تاکہ ان کو اپنے ساتھ پہاڑ تک لے چلیں، ساتھ ساتھ جارہے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) انہیں پیچھے چھوڑ کر جلدی سے آگے بڑھ گئے اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ پہاڑ کے پاس آجاؤ، اللہ تعالیٰ شانہ نے سوال فرمایا کہ تم اپنی قوم کو چھوڑ کر آگے کیوں بڑھے، موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ وہ لوگ میرے قریب ہی ہیں زیادہ آگے نہیں بڑھا ہوں آپ کی مزید رضامندی کے لیے میں نے ایسا کیا۔
ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پہاڑ پر پہنچے ادھر گؤ سالہ پرستی کا واقعہ پیش آگیا، واقعہ یوں ہوا کہ بنی اسرائیل جب مصر سے چلنے لگے تو ان کی عورتوں نے قوم فرعون کی عورتوں سے کہا کہ کل کو ہمیں عید منانا ہے اور میلے میں جانا ہے ذرازیب وزینت کے لیے ہمیں عاریتاً یعنی مانگے کے طور پر زیور دے دو ، ہم میلہ سے آکر واپس کردیں گے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ کل کو تو واپس ہی ہوجائیں گے اپنے زیور بنی اسرائیل کی عورتوں کے حوالے کردیئے یہ زیور ان کے ساتھ ہی تھے جب مصر سے نکلے اور دریا پار ہوئے اب وطن جانے کے لیے خشکی کا راستہ تھا وطن پہنچنے میں انہیں چالیس سال لگ گئے انہیں چاللیس سال میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تو ریت شریف عطا ہوئی جب وہ اپنے منتخب افراد کے ساتھ تو ریت شریف لینے کے لیے طور پر پہنچے تو یہاں پیچھے سامری نے جو سنار کا کام کرتا تھا ان زیوروں کو جمع کیا جو بنی اسرائیل کی عورتیں فرعون کی عورتوں سے مانگ کرلے آئی تھیں۔ سامری نے آگ جلائی اور بنی اسرائیل کے لوگوں سے کہا کہ تم یہ زیورات اس میں ڈال دوان لوگوں نے اس کے کہنے سے یہ زیورات آگ میں ڈال دیئے جب یہ پگھل گئے تو اس نے ان سے گائے کے بچھڑے کی صورت بنادی، اس میں سے بچھڑے کی آواز بھی آنے لگی یہ لوگ اس کی پرستش اور پوجا پاٹ میں لگ گئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ابھی طور پر ہی تھے کہ اللہ جل شانہ نے انہیں مطلع فرمایا کہ تمہاری قوم کو ہم نے فتنہ میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا، موسیٰ (علیہ السلام) جب واپس ہوئے تو بہت غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تھے انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے رب نے مجھے کتاب دینے کے لیے بلایا تھا اور اس کتاب میں تمہارے لیے احکام دینے کا وعدہ تھا، یہ تم نے کیا غضب کیا کہ میرے پیچھے بت پرستی میں لگ گئے تمہیں اللہ کے وعدے کا اور میرے آنے کا انتظار کرنا لازم تھا کچھ زیادہ زمانہ بھی نہیں گزرا کہ تم اللہ تعالیٰ طرف سے کتاب ملنے سے ناامید ہوگئے اور اس کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوگئے، کیا یہ بات تو نہیں ہے کہ تم نے اپنے رب کا غصہ نازل ہونے کا قصداً وارادتاً انتظام کرلیا اور مجھے سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔
تم نے جو یہ کھیل کھیلا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے غصہ کو دعوت دی ہے، بنی اسرائیل نے ایک عجیب جواب دیا جو بالکل ہی احمقانہ ہے وہ کہنے لگے کہ یہ جو کچھ ہم نے آپ سے وعدہ کر کے خلاف ورزی کی ہے یہ اپنے اختیار سے نہیں کی۔ واقعہ اس طرح ہوا کہ قوم فرعون کے زیوروں کا جو بوجھ ہم پر لدا ہوا تھا سامری کے کہنے سے ہم نے اسے ڈال دیا یعنی ایک جگہ جمع کردیا پھر سامری نے وہ زیور ڈالا جو اس کے پاس تھا۔ اور سامری نے اس زیور کے مجموعے سے ایک بچھڑا بنا دیا۔ یہ بچھڑا ایسا تھا کہ اس سے گائے کے بولنے کی سی آواز بھی آرہی تھی یہ بچھڑا بن کر تیار ہوا اور اس کی آوازسنی تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہ یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے موسیٰ بھول گئے اپنے اس معبود کو چھوڑ کر (العیاذ باللہ) طور پر چلے گئے تاکہ وہاں سے کتاب لیکر آئیں۔
بنی اسرائیل مصر میں مشرکین کو دیکھتے تھے اور شرک کے طریقے ان سے سیکھ لیے تھے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں گائے کی پرستش بھی ہوتی تھی، جب دریا پار کر کے خشکی میں آئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ بت برستی میں مشغول ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایسا ہی معبود بنا دو جیسا کہ ان کے لیے معبود ہیں (کما مرفی سورة الاعراف) ان کے ذہنوں میں شرک کی اہمیت بیٹھی ہوئی تھی اس لیے جب گائے کے بچھڑے کا بت سامنے آگیا اور وہ بھی ایسا کہ اس میں آواز آرہی تھی تو اچانک شرک کے جذبہ نے ان پر حملہ کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو اپنا معبود مان لیا بلکہ یہاں تک کہہ گئے کہ موسیٰ کا بھی یہی معبود ہے اور اپنی حماقت و جہالت میں یہاں تک آگے بڑھے کہ یوں بول اٹھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے معبود کو بھول گئے۔
صدیوں سے جو ان کے ذہنوں میں شرک نے جگہ پکڑ رکھی تھی وہ رنگ لے آئی اور اس کا اثر ظاہر ہوگیا اور اسی بچھڑے پر دھرنادے کر بیٹھ گئے جیسا کہ مشرکین کی عادت ہے کہ وہ اپنے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر پڑے رہتے ہیں اور ان کی عبادت سے چمٹے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی حماقت اور جہالت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْھِمْ قَوْلًا) (کیا وہ نہیں دیکھتے کہ یہ بچھڑا ان کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا) (وَّ لَا یَمْلِکُ لَھُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا) (اور وہ ان کے لیے کسی بھی طرح کے ضرر اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا) کچھ تو غور کرتے اور سمجھتے کیا ایسی چیز کو معبود بنایا جائے جس میں نہ بات کرنے کی قوت نہ جواب دینے کی طاقت اور نہ کسی قسم کی کوئی حرکت اور نہ کسی قسم کا نفع یا ضرر پہنچانے کی سکت، بنی اسرائیل نے یہ جو کہا (مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا) (ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی) اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ اقدام ہم نے اپنے اختیار سے نہیں کیا بلکہ سامری کے عمل کو دیکھ کر مجبور ہوگئے۔ ان کا یہ عذر، عذر لنگ ہے جو غلط بیانی پر مبنی ہے سامری نے مجبور نہیں کیا، تلوار اٹھا کر بت پرستی پر آمادہ نہیں کیا اس نے تو ایک بچھڑا بنا دیا تھا گو اس کی پرستش میں اس کی رائے بھی شامل تھی لیکن بنی اسرائیل نے جو کچھ کیا اپنے اختیار ہی سے کیا۔
ان زیورات کو جو اوزار یعنی بوجھ فرمایا یہ اس وجہ سے کہ وہ لوگ قوم فرعون سے مانگ کر لائے تھے اور واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا اور جب واپس نہیں دیئے اور ساتھ لے آئے تو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ زیور تمہارے اوپر بوجھ بنے ہوئے ہیں یعنی تم ان کی وجہ سے گنہگار ہو ان کو پھینک دو اور بعض حضرات نے یوں لکھا ہے کہ سامری نے بچھڑا بنانے کے لیے ان لوگوں کو یہ بات سمجھائی تھی کہ دوسروں کا مال ہے تمہارے لیے حلال نہیں ہے اسے ایک گڑھے میں ڈال دو لہٰذا انہوں نے ایسا ہی کیا۔
کافر حربی کا مال اگر جنگ کر کے حاصل کیا جائے تو غنیمت کے حکم میں ہوتا ہے لیکن سابق امتوں کے لیے مال غنیمت حلال نہیں تھا اور یہ زیور جنگ کے ذریعہ حاصل کئے گئے تھے اس لیے ہارون (علیہ السلام) نے انہیں مشورہ دیا کہ انہیں ڈال دو ، نیز یہ بات بھی ہے کہ جو چیز مانگی ہوئی ہو خواہ کافرہی سے مانگی ہو وہ امانت ہے اور امانت کا حکم یہ ہے کہ جس کے پاس امانت ہو اس کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ رسول اللہ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمانے کا ارادہ کیا تو لوگوں کی جتنی بھی امانتیں تھیں ان کے ادا کرنے کا یہ انتظام فرمایا کہ حضرت علی ؓ کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا کہ جس کی جو امانت ہے اس کو واپس کردینا اور تم اس کام سے فارغ ہو کر ہجرت کرنا۔ اگر ان زیورات کو مال غنیمت تسلیم کرلیا جائے تب بھی بنی اسرائیل کی ملکیت تامہ مستقلہ من کل الوجوہ لکل فرد ثابت نہیں ہوتی کیونکہ تقسیم نہیں کی گئی تھی پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے وہی کیا جو پرانی امتوں کے لیے اموال غنیمت کا قانون تھا یعنی آخر میں اسے جلا دیا اس میں اتنا فرق ہے کہ اس کے جلانے کے لیے آسمان سے آگ نہیں آئی چونکہ عبرت دلانا مقصود تھا کہ دیکھو جسے تم نے معبود بنایا تھا وہ جل رہا ہے اور جل چکا ہے یہی جلانا آسمانی آگ کے قائم مقام ہوگیا۔ اسی سے یہ اشکال بھی رفع ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر بنی اسرائیل کی املاک ضائع کردینے پر ضمان کیوں لازم نہیں آیا (املاک ہوتی تو ضمان ہوتا) پھر یہ بات بھی ہے کہ امام المسلمین کو آلات معصیت کے تلف کا حکم ہے پھر وجوب ضمان کیسا ؟ بچھڑا تو سب سے بڑی معصیت یعنی شرک کا آلہ تھا اس کے اتلاف پر ضمان لازم ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر تشریف لے گئے تھے تو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے اور ان کے ذمہ بنی اسرائیل کی نگرانی سپرد فرما گئے تھے جب ان لوگوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی تو ہارون (علیہ السلام) نے انہیں متنبہ فرما دیا اور فرمایا (اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِہٖ ) (تم اس کی وجہ سے فتنہ میں ڈالے گئے ہو) (اِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْٓا اَمْرِیْ ) (اور اس میں شک نہیں کہ تمہارا رب رحمان ہے اسے چھوڑ کر دوسری چیز کی پرستش میں لگنا فتنہ میں پڑنا ہے میں جو بات کہہ رہا ہوں اس کا اتباع کرو اور اسے مانو) ۔
لیکن بنی اسرائیل تو اس بچھڑے کے دل دادہ ہوچکے تھے ہارون (علیہ السلام) کی نصیحت کچھ بھی کار گرنہ ہوئی۔ بلکہ انہوں نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ جواب دیا اور کہنے لگے کہ ہم تو برابر اسی پر جمے ہوئے بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ (u) واپس آجائیں، جب اللہ تعالیٰ شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دی کہ تمہاری قوم فتنہ میں پڑگئی تو واپس تشریف لائے اور انہوں نے اپنی قوم سے بھی خطاب کیا اور ہارون (علیہ السلام) پر بھی خفگی کا اظہار کیا اور یہ اظہار بھی معمولی نہ تھا بلکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بال کھینچنے لگے اور توریت شریف کی جو تختیاں لیکر آئے تھے ان کو بھی ڈال دیا جس کی وجہ سے ٹوٹ گئیں، ہارون (علیہ السلام) سے سوال فرمایا کہ اے ہارون جب تم نے دیکھ لیا کہ یہ لوگ گمراہ ہوگئے تو اس سے کیا چیز مانع تھی کہ تم مجھے خبر دیتے۔ تم نے میرا اتباع کیوں نہ کیا اور میری نافرمانی کیوں کی۔ جب شرک کا ماجرا دیکھا تو تم میرے پاس چلے آتے ہارون (علیہ السلام) نے جواب میں کہا کہ اے میرے ماں جائے میری داڑھی اور میرے بال نہ پکڑو، مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ آپ یوں فرمائیں گے کہ تم نے بنی سرائیل میں تفریق کردی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔ یہاں سورة طہ میں ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نے انہیں روکا تو تھا اور بتادیا تھا کہ تم فتنہ میں پڑگئے ہو لیکن سختی فرمانا مناسب نہ جانا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کا انتظار فرمایا، اور سورة اعراف میں یوں ہے کہ (قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ کَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ) (ہارون نے کہا کہ میرے ماں جائے بات یہ ہے کہ قوم نے مجھے ضعیف سمجھ لیا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے لہٰذا آپ میرے ذریعہ دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع نہ دیجئے اور مجھے ظالموں کے ساتھ نہ کیجئے) جب ہارون (علیہ السلام) نے یہ بات کہی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو احساس ہوا اور اللہ تعالیٰ شانہ سے یوں دعا کی (قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ) (اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو بخش دیجئے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرمائیے اور آپ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لیس الخبر کالمعاینۃ یعنی خبر دیکھنے کی طرح نہیں ہے پھر آپ نے بطور مثال یوں فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے سے خبر دے دی تھی کہ انہوں نے بچھڑے کے ساتھ ایسا ایسا معاملہ کیا ہے لیکن توریت شریف کی تختیوں کو نہیں ڈالا پھر جب اپنی آنکھوں سے ان کی حرکت دیکھ لی تو (توریت شریف کی) تختیوں کو ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ ٹوٹ گئیں۔ (مسند احمد ج 1 ص 271) جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو توریت شریف کی تختیاں اٹھالیں کمافی سورة الاعراف (وَ لَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسَی الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ) مفسرین نے لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل میں بچھڑے کی پرستش کا فتنہ ظاہر ہوا تو اس وقت ان میں تین فرقے ہوگئے ایک فرقہ ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ رہا ان کی اطاعت کی اور گؤ سالہ پرستی سے دور رہے۔ اس جماعت کی تعداد بارہ ہزار بتائی جاتی ہے۔ دوسرا فرقہ وہ تھا جس نے گؤ سالہ پرستی کو اپنا لیا لیکن یوں بھی کہتے تھے کہ موسیٰ واپس تشریف لا کر منع فرمائیں گے تو ہم چھوڑ دیں گے، تیسرا فرقہ وہ تھا جو یوں کہتا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی واپس آکر اسی کو معبود بنالیں گے یہی ہمارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا معبود ہے۔ جب ان آخری دو فرقوں کا جواب حضرت ہارون (علیہ السلام) نے سنا تو اپنے ساتھ بارہ ہزار ساتھیوں کو لیکر علیحدہ ہوگئے لیکن وہیں رہتے سہتے رہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے تو انہوں نے ہارون (علیہ السلام) کو عتاب کیا اور گرفت فرمائی تو انہوں نے اپنا عذر بتادیا کہ میں بارہ ہزار ساتھیوں کو لیکر باقی بنی اسرائیل کو چھوڑ کر کہیں دور چلا جاتا یا ان سے مقابلہ کرتا تو اس سے بنی اسرائیل میں تفرقہ پڑجانے کا اندیشہ تھا۔ میں نے جتنا مناسب جانا اسی قدر کام کردیا ان کو بتا بھی دیا اور ان سے عقیدتاً علیحدہ بھی ہوگیا اپنے موحد ساتھیوں کو الگ کرلیا اس سے آگے مقاتلہ اور مقابلہ کرنا میرے نزدیک مصلحت کے خلاف تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی رائے کو خطائے اجتہادی سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور اپنے بھائی کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا میں مشغول ہوگئے۔
Ayahs 20:95–98حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری سے خطاب، اس کے لیے بددعا کرنا اور اس کے بنائے ہوئے معبود کو جلا کر سمندر میں بکھیر دینا
حضرت ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے خطاب اور عتاب سے فارغ ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تیرا کیا حال ہے یہ حرکت تو نے کیوں کی کس طرح سے کی ؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسرے لوگوں کو نظر نہ آئی، میں نے اس میں سے ایک مٹھی اٹھالی اور جو مٹھی بھری تھی وہ اس مجسمہ میں ڈال دی جو میں نے چاندی سونے سے بنایا تھا علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ سامری بھی بنی اسرائیل میں سے تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان میں سے نہیں تھا بلکہ قوم قبط (فرعون کی قوم) میں سے تھا بنی اسرائیل جب دریا پار ہوئے تو منافق بن کر یہ ان کے ساتھ آگیا عبور دریا کے وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی مدد کے لیے تشریف لائے تھے وہ اس وقت گھوڑے پر سوار تھے خشکی میں پہنچے تو سامری نے دیکھا کہ ان کا گھوڑا جہاں پاؤں رکھتا ہے وہ جگہ سر سبز ہوجاتی ہے اس نے سمجھ لیا کہ اس مٹی میں ایسا اثر پیدا ہوجاتا ہے جو دوسری مٹیوں میں نہیں اس وقت اس نے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے ایک مٹھی مٹی اٹھالی سامری نے جو یوں کہا (فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ ) اس میں الرسول سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں جس کا ترجمہ فرستادہ کیا گیا ہے یعنی اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے تھے۔ بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سامری نے یہ کیسے سمجھا کہ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اس کا سیدھا سادھا جواب تو یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ابتلاء کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی رؤیت کرادی اور ان کے گھوڑے کے نیچے کی زمین کو اس کی نظروں کے سامنے سر سبز دکھا دیا جبکہ کسی اسرائیلی کو یہ بات حاصل نہیں ہوئی تو اسی طرح اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہی ہوسکتے ہیں جو اس وقت بنی اسرائیل کی مدد کے لیے تشریف لائے ہیں۔ بعض حضرات نے یہ بات بھی فرمائی ہے جسے صاحب درمنثور نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب فرعون اسرائیل بچوں کو قتل کرتا تھا تو سامری کی ماں اسے کسی غار میں چھپا کر آگئی تھی تاکہ ذبح ہونے سے محفوظ رہے اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے اس کی پرورش کرائی وہ اس کے پاس جاتے تھے اور اسے اپنی انگلیاں چٹاتے تھے ایک انگلی میں شہد اور دوسری میں دودھ ہوتا تھا۔ لہٰذا وہ ان کی اس صورت کو پہچانتا تھا جس میں وہ انسانی صورت اختیار کر کے تشریف لایا کرتے تھے اسی صورت میں اس نے اس موقع پر بھی پہچان لیا۔ واللہ اعلم۔
جب سامری نے زیورات کا بچھڑا بنایا تو اس میں حیات کا اتنا اثر آگیا کہ اس بچھڑے کی آواز آنے لگی یہ آواز کا پیدا ہوجانا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے پاؤں کی مٹی کے اثر سے تھا۔
بنی اسرائیل میں شرک کا جو مزاج تھا وہ اپنا کام کر گیا اور یہ لوگ بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے ان کے پست دماغ میں یہ بات تھی کہ اگر یہ واقع میں بچھڑا نہ بن گیا ہوتا تو اس میں سے آواز کیوں آتی لیکن انہوں نے یہ نہ سوچا کہ جب اصل بچھڑا ہی معبود اور نفع و ضرر کا مالک نہیں ہوسکتا تو یہ نقلی بچھڑا کیسے معبود ہوسکتا ہے مشرک کا مزاج ہے کہ جس کسی خلاف عادت چیز کا صادر ہونا دیکھتے ہیں اس کے بہت زیادہ معتقد ہوجاتے ہیں۔ جعلی پیروں اور فقیروں کا تو یہ مستقل دھندہ ہے کہ کچھ شعبدہ کے طریقے پر اور کچھ کیمیائی طریقوں سے بعض چیزوں کی مشق کرلیتے ہیں اور خلاف عادت چیزیں دکھا کر عوام کو معتقد بنالیتے ہیں جبکہ اس کا قرب الٰہی سے کچھ بھی تعلق نہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اچھا جا دفع ہو یہ کام تو نے ایسا کیا ہے کہ لوگ تیری طرف متوجہ ہوگئے اور تجھے شرک میں اپنا رہنما بنا لیا اور اس طرح سے تو مقتدا بن گیا اب اس کی سزا میں تیرے لیے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ زندگی بھر تو جہاں کہیں بھی جائے گا لامساس کہتا پھرے گا جس کا معنی یہ ہے کہ مجھ سے دور رہو مجھے مت چھوؤ۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے اس کے لیے ایسی صور تحال پیدا فرما دی کہ جو بھی کوئی شخص اسے چھوتا تھا یا وہ کسی کو چھوتا تھا تو دونوں کو تیز بخار چڑھ جاتا تھا۔ لہٰذا لوگ اس سے دور دور رہتے تھے اور وہ بھی خوب زور زور سے کہتا تھا کہ مت چھوؤ۔ مت چھوؤ۔ دنیا میں تو اس کی یہ سزا ملی اور آخرت میں جو سزا ہے وہ اس کے علاوہ ہے اسی کو فرمایا ہے۔ (وَ اِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَہٗ ) (اور بلاشبہ تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ٹلنے والا نہیں ہے) ۔
ہندوستان کے ہندوؤں میں گائے کی پرستش بھی ہے اور چھوت چھات بھی ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ گائے کی پرستش ان میں بنی اسرائیل سے آئی ہو۔ جنہوں نے اہل مصر سے سیکھی تھی اور چھوت چھات سامری کی تقلید میں اختیار کرلی ہو وہ تو اس لیے چھوت چھات کرتا تھا کہ اس اور چھونے والے کو بخار نہ چڑھ جائے لیکن بعد کے آنے والے مشرکین نے اسے مذہبی حیثیت دے دی۔ والعلم عند اللہ الخبیر العلیم۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے مزید فرمایا کہ اب تو دیکھ جس چیز کو تو معبود بنا کر دھرنا دیئے بیٹھا تھا ہم اس کا کیا حال بناتے ہیں ہم اسے جلادیں گے پھر اسے دریا میں بکھیر کر بہادیں گے تاکہ تو اور تیرا اتباع کرنے والے آنکھوں سے دیکھ لیں اور پوری ہوش مندی کے ساتھ یہ سمجھ لیں کہ اگر یہ معبود ہوتا تو جلانے سے کیوں جلتا، بھلاوہ کیا معبود ہے کہ کسی مخلوق کے جلانے سے جل جائے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی کردیا کہ اسے جلا کر سمندر میں بکھیر دیا کچھ بعید نہیں کہ ہندوستان کے ہندو جو اپنے مردوں کو جلا کر اس کی راکھ پانی میں بہادیتے ہیں یہ بھی اسی کا بقیہ ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے معبود باطل کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے تو عبرت کے لیے ایسا کیا تھا اور انہوں نے اسے اپنا مذہب بنالیا، آگ میں جہاں اس کا صنم گیا وہیں خود چلے جاتے ہیں بعض مفسرین نے یہ اشکال کیا ہے کہ بچھڑا تو زیورات سے بنایا گیا تھا اور چاندی سونا جلتا نہیں ہے جس کی راکھ ہوجائے بلکہ وہ تو پگھل جاتا ہے لہٰذا اس کی راکھ کیسے بنی۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ بچھڑا جب بولنے لگا تو اس کا قالب بھی بدل گیا اور گوشت پوست والا بچھڑا بن گیا تھا حضرت موسیٰ نے اسے پہلے ذبح فرمایا پھر آگ میں جلا دیا اور راکھ کو سمندر میں بہا دیا۔ اور بعض حضرات نے یوں کہا ہے کہ اسے ریتی سے ریت کر ذرہ ذرہ کردیا پھر سمندر میں ڈال دیا۔ صاحب معالم التنزیل نے ج 3 ص 63 میں یہ دونوں باتیں لکھی ہیں لیکن دوسری بات کے سمجھنے میں اشکال رہ جاتا ہے کیونکہ چاندی سونے کے ذرات کو ریزہ ریزہ کر کے آگ میں ڈالا جائے تو تب بھی پگھلتے ہیں راکھ نہیں بنتے اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالنے پر بطور معجزہ اللہ تعالیٰ نے پگھلانے کے بجائے اسے راکھ بنا دیا۔ ولا اشکال فی ذلک۔ آخر میں فرمایا (اِنَّمَآ اِلٰھُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) تمہارا معبود اللہ ہی ہے جس کے علاوہ کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت کی جائے۔ (وَسِعَ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا) (وہ اپنے علم سے تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے) اس میں مشرکین کی تردید ہے کہ وہ جن کی عبادت کرتے ہیں انہیں اپنی ذات ہی کا علم نہیں دوسری مخلوق کا کیا علم ہوگا۔
Ayahs 20:99–104جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرے گا قیامت کے دن گناہوں کا بوجھ لاد کر آئے گا، مجرمین کا اس حالت میں حشر ہوگا کہ ان کی آنکھی نیلی ہونگی، آپس میں گفتگو کرتے ہوں گے کہ دنیا میں کتنے دن رہے ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح ہم نے موسیٰ اور فرعون کا واقعہ اور بنی اسرائیل کے بچھڑا پوجنے کا قصہ بیان کیا اسی طرح ہم آپ سے گزشتہ واقعات کی خبریں بیان کرتے ہیں (یہ خبریں آپ کی نبوت کی دلیلیں ہیں آپ انہیں نہیں جانتے تھے صرف وحی کے ذریعہ آپ کو معلوم ہوئیں) اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا۔ اس سے قرآن مجید مراد ہے جو سارے عالم کے انسانوں کے لیے وعظ اور نصیحت ہے جو اس پر عمل کرے گا کامیاب ہوگا اور جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اپنے اوپر کفر کا بوجھ لادے ہوئے ہوگا اس طرح کے لوگ ہمیشہ اسی بوجھ میں رہیں گے یعنی اس بوجھ کے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انہیں ہمیشہ عذاب کی جگہ میں رہنا ہوگا۔ اور یہ بوجھ قیامت کے دن ان کے لیے برا بوجھ ہوگا۔ جس کی وجہ سے ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں صور پھونکا جائے گا۔
پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو آسمان والے اور زمین والے سب بیہوش ہوجائیں گے اور زندہ انسان سب مرجائیں گے۔ اور دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب قبروں سے نکل کر کھڑے ہوجائیں گے اور میدان حشر میں جمع ہوں گے ان محشورین یعنی قیامت کے دن حاضرین میں جو کفار ہوں گے ان کی آنکھیں نیلی ہونگی یہ اس بات کی نشانی ہوگی کہ یہ لوگ مجرم ہیں یہ لوگ خوف زدہ بھی ہوں گے اور خوف کی وجہ سے چپکے چپکے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہونگے کہ قبروں میں کتنے دن رہے ؟ ان میں سے بعض لوگ کہیں گے کہ دس دن رہے ہوں گے مطلب یہ ہے کہ ہم تو حشر نشر ہی کے منکر تھے ہمارا گمان تھا کہ مر مرا گئے خاک میں مل گئے اب کیسا زندہ ہونا اور قبروں سے نکلنا ؟ ہمارا خیال تو غلط نکلا یہ تو بتاؤ قبروں میں کتنے دن رہنا ہوا۔ ان میں سے بعض جواب دیں گے کہ صرف دس دن رہے ہیں۔ اس دن کی پریشانی اور سخت گھبراہٹ کی وجہ سے ان کی سمجھ میں ایسا ہی آئے گا جو مدت دراز انہوں نے برزخ میں گزاری اسے دس دن کی مدت بتائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جس مدت کے بارے میں وہ بات کریں گے ہمیں اس کا خوب علم ہے کہ وہ کتنی تھی، ان میں سے ایک شخص یوں کہے گا کہ تم تو قبروں میں ایک دن رہے ہو۔ جو شخص یہ بات کہے گا اسے (امثلھم طریقۃ) فرمایا۔ یعنی اس کی رائے سب لوگوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ صحیح ہوگی کیونکہ اس یوم کی درازی اور پریشانی کے اعتبار سے گزشتہ جو وقت گزرا اس کی مدت ایک دن بیان کرنا ہی زیادہ اقرب ہے اس شخص کو شدت کا زیادہ ادراک ہوگا اس لیے اس کی رائے بہ نسبت پہلی رائے کے اصح اور اصوب ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ واقعی قبر میں ایک ہی دن رہے۔
یہاں یوں فرمایا کہ مجرمین اس حالت میں محشور ہوں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور سورة الاسراء میں فرمایا کہ (وَ نَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ عُمْیًا وَّ بُکْمًا وَّ صُمًّا) (کہ ہم انہیں قیامت کے دن اس حال میں جمع کریں گے کہ اندھے اور بہرے اور گونگے ہوں گے) یہ مختلف حالات کے اعتبار سے ہے، عرصہ قیامت بہت طویل ہوگا اس میں مجرمین پر مختلف حالات گزریں گے، لہٰذا کوئی تعارض نہیں۔ اسی طرح یہاں مجرمین کی یہ بات نقل کی کہ کوئی کہے گا کہ قبروں میں دس دن رہے اور کوئی کہے گا کہ ایک دن رہے اور سورة روم میں ہے (وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ ) (اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرمین اس دن قسم کھائیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے) اور سورة والنازعات میں فرمایا (کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوْآ اِِلَّا عَشِیَّۃً اَوْ ضُحٰہَا) (جس روز یہ قیامت کو دیکھیں گے تو انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ گویا صرف ایک دن کے آخری حصہ میں یا اس کے اول حصہ میں رہے ہیں) یہ احساس اور وجدان مختلف اشخاص کو مختلف احوال میں ہوگا لہٰذا اس میں بھی کوئی تعارض نہیں ہے۔
Ayah 20:105قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو اڑادے گا زمین ہموار میدان ہوگی آوازیں پست ہوں گی، شفاعت اسی کے لیے نافع ہوگی جس کے لیے رحمن اجازت دے، سارے چہرے حی وقیوم کے لیے جھکے ہوئے ہوں گے
ان آیات میں روز قیامت کے احوال اور اعمال صالحہ پر پورا پورا اجرو ثواب ملنے کا تذکرہ ہے۔ صاحب معالم التنزیل ج 3 ص 231 نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ بنی ثقیف میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت شریفہ (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ ) (الایۃ) نازل ہوئی۔ جس میں بتادیا کہ پہاڑوں کی بڑائی اور بلندی اور سختی اور پھیلاؤ کی کچھ حیثیت بھی نہ رہے گی وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پر اگندہ غبار کی طرح ہوں گے) سورة واقعہ میں فرمایا۔ (اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بُسًّا فَکَانَتْ ھَبَآءً مُّنْبَثًّا) (جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوں گے) اور سورة القارعۃ میں فرمایا ہے (وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ ) (اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنی ہوئی رنگین اون ہو)
Ayahs 20:106–108ان سب آیات میں پہاڑوں کی حالت بتائی ہے، پھر زمین کے بارے فرمایا (فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرٰی فِیْھَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (اور اللہ تعالیٰ زمین کو اس حال میں کر دے گا کہ وہ ہموار میدان ہوگی اس میں ناہمواری اور پستی اور بلندی نہیں ہوگی، یعنی اس میں نہ گہرائی ہوگی اور نہ کوئی اٹھی ہوئی جگہ۔ اس کے بعد فرمایا (یَوْمَءِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ ) (جس دن پہاڑوں کی یہ حالت ہوگی جس کا ذکر اوپر ہوا، اس دن لوگ بلانے والے آواز کے پیچھے چل دیں گے) لَاعِوَجَ لَہٗ اس کے سامنے کوئی ٹیڑھاپن نہیں رہے گا۔ اس کی آواز کے خلاف کوئی بھی شخص دوسری راہ اختیار نہ کرسکے گا) پکارنے والے کی آواز کے پیچھے چلنا ہی ہوگا اور میدان حشر میں جمع ہونا ہی پڑے گا۔
صاحب روح المعانی ج 16 ص 264 میں لکھتے ہیں کہ الداعی (بلانے والا) اس سے حضرت اسرافیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ وہ دوسری بار صور پھونکیں گے تو صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر یوں آواز دیں گے ایتھا العظام البالیۃ والجلود المتمزقۃ واللحوم المتفرقۃ ھلموا الی الرحمن فیقبلون من کل صوب الی صوتہ (اے گلی ہوئی ہڈیو اور ٹکڑے بنے ہوئے چمڑو اور الگ الگ ہوئے ہوئے گوشتو چلے آؤ رحمن کی طرف تمہاری پیشی ہوگی) یہ اعلان سن کر ہر طرف سے سب لوگ اس آواز کی طرف چل دیں گے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں۔ لا یزیغون عنہ یمینا ولا شمالا ولا یقدرون علیہ بل یتبعونہ سراعا یعنی پکارنے والے کی آواز سے ہٹ کر دائیں بائیں کسی طرف نہ جائیں گے اور نہ جاسکیں گے بلکہ جلدی جلدی اس کی آواز کا اتباع کریں گے۔ (وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَات للرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّاھَمْسًا) (اور رحمن کے لیے آوازیں پست ہوجائیں گی سو اے مخاطب تو ہمس کے سوا کچھ نہ سنے گا) ہمس بہت ہلکی آواز کو کہتے ہیں اور اونٹوں کے چلنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اسے بھی ہمس کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میدان قیامت میں حاضر ہونے والے بہت ہی ہلکی آواز میں بات کریں گے جیسا کہ اوپر (یَتَخَافَتُوْنَ بَیْنَھُمْ ) میں بتایا جا چکا ہے۔ دنیا میں جو یہ بلند آوازیں ہیں کسی کا وہاں کوئی اثر نہ ہوگا سب دب جائیں گی خوف کا یہ عالم ہوگا کہ آواز نکالنے کی ہمت ہی نہ ہوگی۔
Ayah 20:109پھر فرمایا (یَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوْلًا) (جس دن شفاعت نفع نہ دے گی مگر اس کو جس کے لیے رحمن نے اجازت دی اور جس کے لیے بولنا پسند فرمایا) مطلب یہ ہے کہ اس ہولناک دن میں مصیبت سے چھٹکارہ کا کوئی راستہ نہ ہوگا اور شفاعت کام نہ دے گی۔ ہاں جس کے لیے شفاعت کرنے کی اجازت ہوگی اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ بولنا پسند فرمائے گا اس کے حق میں شفاعت نافع ہوگی۔ اول تو ہر ایک شفاعت کر نہیں سکے گا جسے شفاعت کرنے کی اجازت ہوگی وہی شفاعت کی جرأت کرے گا جیسا آیۃ الکرسی میں فرمایا (مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ الاَّ باذْنِہٖ ) (کون ہے جو اس کی بار گاہ میں سفارش کرے مگر اس کی اجازت سے) اور سفارش کرنے کی اجازت بھی نہ ہر ایک کو ہوگی اور نہ ہر ایک کے لیے ہوگی۔ جنہیں شفاعت کرنے کی اجازت ہوگی وہ اسی کی شفاعت کرسکیں گے جس کے لیے شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ سفارش صرف مومن بندوں کے لیے ہوگی غیر مومن کے لیے وہاں شفاعت کا کوئی مقام نہ ہوگا۔ اور مومنین کے لیے بھی یہ شفاعت حسب مواقع ہو سکے گی جس کی تفصیلات احادیث شریفہ میں وارد ہوئی ہیں۔ اس توضیح سے یہ معلوم ہوگیا کہ جہاں کہیں شفاعت کے نفع دینے کی نفی فرمائی ہے اس سے یہ مراد ہے کہ کافروں کو کوئی شفاعت نفع نہ دے گی۔ کمافی سورة المومن (مَا للظَّالِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لاَ شَفِیْعٍ یُّطَاعُ ) (ظالموں کے لیے نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی سفارش کرنے والا) (یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ ) (وہ ان سب کے اگلے پچھلے احوال جانتا ہے) ۔
Ayah 20:110(وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عَلْمًا) (اور ان لوگوں کا علم اس کا احاطہ نہیں کرسکتا) صاحب روح المعانی ج 16 ص 225 نے اس کا ایک مطلب تو یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معلومات کو مخلوق کا علم احاطہ نہیں کرسکتا۔ اور دوسرا مطلب یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس کی صفات کمال کے ساتھ بندے پوری طرح نہیں جان سکتے۔
Ayah 20:111(وَ عَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ ) (اور تمام چہرے حی وقیوم کے لیے جھک جائیں گے) یعنی میدان قیامت میں سبھی عاجزی کی حالت میں ہوں گے دلوں میں اور نفسوں میں اور اعضاء میں سب میں جھکاؤ ہوگا جو متکبر تھے ان کا سب تکبر دنیا میں ہی دھرا رہ گیا اب تو الجبار المتکبر کی بار گاہ میں کھڑے ہیں وہاں جھکاؤ بھی ہے عاجزی بھی ہے (وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا) (اور جو شخص ظلم اٹھا کرلے گیا وہ نا کام ہوگیا) سب سے بڑا ظلم کفر اور شرک ہے اور بندوں پر جو مظالم کیے ان کی فہرست بھی وہاں موجود ہوگی، ظلم کرنے والے وہاں نا کام ہوں گے نامراد ہوں گے اور عذاب میں جائیں گے۔
Ayah 20:112(وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا ھَضْمًا) (اور جس شخص نے مومن ہونے کی حالت میں اچھے عمل کیے سو اسے کسی طرح کے ظلم کا اور کسی طرح کی کمی کا اندیشہ نہ ہوگا) جیسے ظالم نا کام ہوں گے ایسے ہی اہل ایمان کامیاب اور بامراد ہوں گے، ان لوگوں نے جو بھی کوئی نیکی کی تھی اس سب کا پورا پورا بدلہ ملے گا نہ کوئی نیکی ماری جائے گی اور نہ ثواب میں کچھ کمی ہوگی۔ جہاں ایک نیکی کا ثواب کئی گنا دیا جائے گا وہاں اصل ثواب میں کمی ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ سورة نساء میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم نہ فرمائے گا اور اگر ایک نیکی ہوگی تو اس کو چند در چند کر دے گا۔ اور اپنے پاس سے بڑا ثواب عطا فرمائے گا) سورة جن میں فرمایا (فَمَنْ یُّؤْمِنْ بِرَبِّہٖ فَلاَ یَخَافُ بَخْسًا وَّلاَ رَھَقًا) (سو جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آیا سو اسے کسی کمی کا اور کسی طرح کے ظلم کا اندیشہ نہ ہوگا) وھو مومن کی قید سامنے رہنی چاہئے۔ غیر مومن کو وہاں کسی نیکی کا کچھ بھی بدلہ نہ ملے گا۔
Ayah 20:113رسول اللہ ﷺ سے خطاب کہ ہم نے آپ کی طرف عربی میں قرآن نازل کیا، اس میں طرح طرح سے وعیدیں بیان کیں، آپ وحی ختم ہونے سے پہلے یاد کرنے میں جلدی نہ کریں اور علم کی زیادتی کے لیے دعا کرتے رہیں
قیامت کا ذکر فرمانے کے بعد اب قرآن مجید کے بارے میں چند باتیں ارشاد فرمائیں، اول تو یہ فرمایا کہ یہ قرآن ہم نے عربی بنا کر نازل کیا ہے جب یہ عربی ہے جس کا مخاطبین کو بھی انکار نہیں ہے اور عرب ہونے کی وجہ سے اس کے اولین مخاطبین اس کو سمجھتے بھی ہیں اور اس کی فصاحت اور بلاغت کو جانتے بھی ہیں تو ایمان لانے سے کیوں گریز کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ ہم نے اس میں طرح طرح سے وعید بیان کی ہے تاکہ وہ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں یا اگر پوری طرح نہ ڈریں تو قرآن کے ذریعہ ان میں کچھ سمجھ پیدا ہوجائے اور سمجھتے سمجھتے آگے بڑھ کر کسی وقت کفر کو چھوڑ دیں۔
Ayah 20:114(فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ) (سو اللہ برتر ہے بادشاہ ہے حق ہے) اس کے کلام پر ایمان لانا فرض ہے اگر کوئی شخص ایمان نہ لائے تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ وہ کسی کے ایمان کا محتاج نہیں، وہ حقیقی بادشاہ ہے وہ حق ہے اور اس کا کلام بھی حق ہے جو ایمان نہ لائے گا اپنا برا کرے گا۔
قال صاحب الروح و فیہ ایماء الی ان القرآن و ما تضمنہ من الوعد و الوعید حق کلہ لا یحوم حول حماہ الباطل بوجہ و ان المحق من اقبل علیہ بشرا شرہ و ان المبطل من اعرض من تدبر زواجرہ (ج 16، ص 28)
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ جب آپ پر قرآن نازل ہوا کرے تو آپ پہلے خوب اچھی طرح اخیر تک سن لیں۔ وحی پوری ہونے سے پہلے اس ڈر سے کہ کہیں بھول نہ جائیں، جلدی نہ کریں۔ آپ حضرت جبرائیل کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور بھولنے کے اندیشہ کی وجہ سے ایسا کرلینے میں آپ کو تعب ہوتا تھا اس لیے ارشاد فرمایا کہ آپ جلدی نہ کریں اور بھولنے کا اندیشہ نہ کریں ہم آپ کو ضرور یاد کرا دیں گے۔ سورة قیامہ میں اسی کو فرمایا (لاَ تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ فَاِِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ ثُمَّ اِِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ ) (اے پیغمبر آپ نزول قرآن کے ساتھ اپنی زبان نہ ہلایا کیجیے تاکہ آپ اس کو جلدی جلدی جمع لیں ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کردینا اور اس کا پڑھوا دینا، تو جب ہم اس کو پڑھنے لگا کریں تو آپ اس کے تابع ہوجایا کیجیے۔ پھر اس کا بیان کرا دینا ہمارے ذمہ ہے) مطلب یہ ہے کہ جب جبرائیل کے واسطہ سے ہماری طرف سے وحی آئے تو دھیان سے سنیں۔ اور دہرانے میں جلدی نہ کریں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی ہے کہ آپ مشقت نہ اٹھائیں پوری وحی سن لیں۔ پھر اس کو دہرائیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ چونکہ بعض مرتبہ کسی کلمہ کے تلفظ کی مشغولیت میں اس کے بعد والا کلمہ سننے سے رہ جانے کا احتمال ہوسکتا ہے اس لیے آپ کو جلدی کرنے سے منع فرمایا، (وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا) (اور آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے رب میرا علم اور بڑھا دیجیے) اس کے عموم میں آگے مزید وحی آنے کا بھی سوال آگیا اور قرآن مجید میں جو کچھ علوم و معارف اور اسرار و رموز ہیں ان کا اور ان کے علاوہ دیگر علوم جن سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو ان کا بھی سوال ہوگیا۔ علوم الٰہیہ کی انتہا نہیں ہے مومن بندے کو چاہیے کہ برابر زیادہ سے زیادہ علم حاصل ہونے کی دعا کرتے رہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی خیر کے سننے سے مومن کا پیٹ نہیں بھر سکتا یہاں تک کہ اس کا منتہی جنت ہی ہوگی۔ (مشکوٰۃ المصابیح، صفحہ 44)
Ayah 20:115حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو جنت میں مخصوص درخت کھانے سے منع فرمانا، پھر شیطان کے وسوسوں کی وجہ سے بھول کر اس میں سے کھا لینا، اور دنیا میں نازل کیا جانا
حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی حضرت حوا [ کا قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے دونوں جگہ ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں اور اجمالی طور پر سورة حجر اور سورة بنی اسرائیل میں بھی بیان کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ فلاں درخت کے پاس نہ جانا لیکن وہ اسے بھول گئے اور پختگی کے ساتھ حکم کی پابندی کا دھیان نہ رکھا لہٰذا غفلت ہوگئی۔ پہلی آیت میں بالاجمال اس کو بیان فرمایا، اس کے بعد واقعہ کی تفصیل بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو ان سب نے سجدہ کرلیا لیکن ابلیس نے سجدہ نہ کیا وہ حکم ماننے سے انکار کر بیٹھا اور کٹ حجتی بھی کی۔ کہنے لگا کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور یہ مٹی سے، لہٰذا میں افضل ہوا جو افضل ہے وہ اپنے کم درجہ والے کو کیوں سجدہ کرے ؟ اس نے حکم عدولی بھی کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو خلاف حکمت بھی بتایا اور اپنی افضلیت کا دعویٰ بھی کردیا۔ جب اس نے یہ حرکت کی تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ اے آدم یہ تمہارا دشمن ہے یہ تمہارے پیچھے لگے گا اور کوشش کرے گا کہ تمہیں یہاں سے نکلوا دے۔ تم ہرگز اس کے کہنے میں نہ آنا ورنہ مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ (دنیا میں جانا پڑے گا اور وہاں کی مشقتوں اور محنتوں میں پڑو گے۔ مشکلات اور مصائب سہو گے) یہاں تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ کھاؤ، پیو، پہنو نہ یہاں بھوکے رہو گے نہ پیاسے اور نہ ننگے، یہاں تمہیں دھوپ کی حرارت بھی نہیں پہنچے گی۔ و ھو من باب الاکتفاء کقولہ تعالیٰ سرابیل تقیکم الحر (ای والبرد فلا یمسھم الحر ولا البردُ ) اس میں یہ بتادیا کہ شیطان کے بہکاوے میں آنے سے یہاں سے نکلنا ہوگا اور دنیا میں جانا ہوگا اور وہاں ان مشکلات اور مصائب سے دو چار ہونا پڑے گا۔