Ayah 17:84پانچویں آیت میں فرمایا (قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ) (آپ فرما دیجیے کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر کام میں لگا ہوا ہے) لفظ شاکلۃ کا ترجمہ کئی طرح سے کیا گیا ہے۔ علامہ قرطبی نے متعدد اقوال نقل کرکے اخیر میں لکھا ہے۔ والمعنی ان کل احد یعمل علی ما یشاکل اصلہ واخلاقہ التی الفھا (یعنی ہر شخص اپنی اپنی طبیعت کے موافق اور ان اخلاق کے مطابق عمل کرتا ہے جن سے وہ مالوف ہے) پھر لکھتے ہیں۔ وھذا ذم للکافر و مدح للمومن یعنی اس میں کافروں کی برائی ہے (جو برے اخلاق اور برے دین سے مالوف ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں) اور مومن بندوں کی تعریف ہے وہ سچے دین سے مالوف ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں، دنیا میں خیر کا طریقہ اختیار کرنے والے بھی ہیں۔ اور شر سے الفت رکھنے والے بھی، آخرت میں اپنا اپنا عمل ہر ایک کے سامنے آجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو سب کا علم ہے جو ہدایت پر ہیں وہ انہیں بھی خوب جانتا ہے اور جو گمراہی اختیار کیے ہوئے ہیں انہیں بھی جانتا ہے وہ سب کو اپنے علم کے مطابق جز ادے گا۔
Ayahs 17:85–87روح کے بارے میں یہودیوں کا سوال اور رسول اکرم ﷺ کا جواب
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھیتوں کے درمیان سے گزر رہا تھا اس وقت آپ کھجور کی ٹہنی پر ٹیک لگا کر تشریف لے جا رہے تھے وہاں سے یہودیوں کا گزر ہوا۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے بارے میں دریافت کرو۔ پھر آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ دریافت کریں یا نہ کریں۔ ممکن ہے کہ ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو۔ پھر کہنے لگے اچھا دریافت کرلو۔ چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے روح کے بارے میں دریافت کیا آپ ٹھہر گئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔ اس وقت جب وحی نازل ہوچکی تو آپ نے آیت پڑھ کر سنائی جو اوپر مذکور ہے۔ (صحیح بخاری ص 44 ص 686)
سنن ترمذی میں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان یوں نقل کیا کہ قریش نے یہودیوں سے کہا کہ ہمیں کوئی بات بتادو جو ہم ان سے پوچھیں (جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں) یہودیوں نے کہا کہ روح کے بارے میں دریافت کرو۔ لہٰذا انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں سوال کرلیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (وَ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ) (آخر تک) نازل فرمائی۔ دونوں روایتوں سے معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں نے اور ان کے سمجھانے سے مکہ معظمہ میں قریش نے آنحضرت ﷺ سے روح کے بارے میں سوال کیا تھا کہ روح کیا چیز ہے جس سے انسان کی زندگی برقرار رہتی ہے اور جس کے نکل جانے سے انسان پر موت طاری ہوجاتی ہے۔
قال القرطبی وذھب اکثر اھل التاویل الی انھم سالوہ عن الروح الذی یکون بہ حیاۃ الجسد وقال اھل النظر منھم انما سالوہ عن کیفیۃ الروح و مسل کہ فی بدن الانسان وکیفیۃ امتزاجہ بالجسم اتصال الحیاۃ بہ وھذا الشیء لا یعلمہ الا اللّٰہ عزوجل۔
آیات کریمہ اور احادیث شریفہ میں روح انسانی کے بارے میں بہت سی باتیں مذکور ہیں عالم ارواح میں روحوں کا مجتمع ہونا وہاں تعارف ہونا (کما رواہ البخاری) حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار ہوجانے کے بعد اس میں روح پھونکا جانا (فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ ) پھر بطن مادر میں ہر انسان میں روح پھونکا جانا (کما رواہ الشیخان) اور اسی روح کے ذریعہ زندہ رہنا پھر موت کے وقت اس روح کا نکل جانا حضرت ملک الموت کا روح کو قبض کرنا پھر ان کے ہاتھ سے لیکر فرشتوں کا آسمان کی طرف جانا پھر قبر میں روح کا لوٹایا جانا اور سوال و جواب ہونا اور دنیا سے جانے والی روح کا پہلے سے برزخ میں پہنچی ہوئی روحوں کے پاس جمع ہونا (مشکوٰۃ المصابیح ص 141 تا 143) اور قبر میں آرام یا عذاب میں رہنا پھر صور پھونکے جانے پر روحوں کا جسموں میں داخل ہونا یہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں اہل ایمان جانتے ہیں اور مانتے ہیں، یہودیوں نے اور مشرکین نے روح کے بارے میں سوال کیا کہ یہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کے حکم سے ہے اس کی حقیقت ظاہر نہیں فرمائی اور یہ بتادیا کہ یہ بھی اللہ کی ایک مخلوق ہے، اس سے فلاسفہ کے اس خیال کی تردید ہوگئی جو روح کو قدیم کہتے ہیں، چونکہ احکام شرعیہ میں سے بندوں سے متعلق کوئی ایسا حکم نہیں ہے جو روح کی حقیقت جاننے پر موقوف ہو اس لیے اس کی حقیقت جاننے کے درپے ہونے کی شرعاً کوئی ضرورت بھی نہیں۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ روح کی حقیقت اس لیے نہیں بتائی گئی کہ انسان کو یہ پتہ چل جائے کہ وہ تو اپنی ذات کی حقیقت جاننے سے بھی عاجز ہے خالق کائنات تبارک و تعالیٰ کی پوری معرفت سے بطریق اولیٰ عاجز ہوگا۔ علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں روح کے بارے میں مختلف اقوال لکھے ہیں۔ پھر اخیر میں لکھا ہے۔ واولی الاقاویل ان یوکل علمہ الی اللّٰہ عزوجل وھو قول اھل السنۃ (سب سے بہتر بات یہ ہے کہ اس کا علم اللہ کے ہی سپرد کیا جائے اہل سنت کا یہی قول ہے) (وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا) (اور تمہیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے) یہ خطاب سارے انسانوں کو ہے جن کے عموم میں سوال کرنے والے یعنی یہود بھی آگئے۔ (در منثور ص 200 ج 4) میں حضرت ابن جریج سے (وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا) کے بارے میں نقل کیا ہے کہ محمد والناس اجمعین یعنی اے محمد آپ اور آپ کے علاوہ جو لوگ ہیں سب کو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا علم تو بہت زیادہ ہے اور ساری مخلوق سے زیادہ ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں تھوڑا سا ہی ہے۔ تفسیر در منثور میں یہ بھی ہے کہ جب یہودیوں نے آیت شریفہ کا یہ حصہ (وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا) سنا تو کہنے لگے کہ ہم تو تورات پڑھے ہوئے ہیں اس میں ہر چیز کا بیان ہے، آپ نے فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں قلیل ہی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے سورة لقمان کی آیت (وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلاَمٌ) (آخر تک) نازل فرمائی۔
Ayahs 17:88–89اگر تمام انسان اور جنات بھی جمع ہوجائیں تو قرآن جیسی کوئی چیز بنا کر نہیں لاسکتے
پہلی آیت میں اللہ جل شانہ نے اپنے نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر اپنے کرم و انعام کا اظہار فرمایا ہے کہ یہ جو وحی ہم نے آپ کے پاس بھیجی ہے اپنی قدرت اور اختیار سے بھیجی ہے۔ اور آپ کے پاس اس کا باقی رکھنا بھی ہماری قدرت سے ہے ہم اگر چاہیں تو اسے سلب کرلیں یعنی آپ کو بھلا دیں۔ جیسے ہمیں وحی بھیجنے پر قدرت ہے ایسے ہی بھلا دینے پر بھی قدرت ہے اگر ہم آپ کو بھلا دیں تو اس کے واپس لانے کے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی آپ کو حمایت کرنے والا نہ ملے گا۔ ہاں اگر اللہ اپنی رحمت سے پھر واپس فرما دے یا سرے سے واپس ہی نہ لے تو یہ اس کا فضل و انعام ہے۔ (قال البغوی ص 135 ج 3) استثناء منقطع معناہ ولکن لانشاء ذٰلِکَ (اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ اِنَّ فَضْلَہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا) (بلاشبہ آپ پر اس کا بڑا فضل ہے) آپ کو سید الخلائق بنایا مقام محمود بھی عطا کیا۔ کتاب کا معجزہ بھی عطا فرمایا جو کلام اللہ بھی ہے اور کتاب اللہ بھی آپ کو آخر الانبیاء بنایا رہتی دنیا تک آپ کی شریعت باقی رکھی ہے، بیشمار علوم عطا فرمائے اور بہت بڑی امت عطا فرمائی، آپ کی اتنی زیادہ فضیلتیں ہیں جو مخلوق کے شمار سے باہر ہیں۔ سورة نساء میں فرمایا (وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَ کَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا) (اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ علوم عطا فرمائے جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ )
اس کے بعد فرمایا (قُلْ لَّءِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ ) اس میں قرآن مجید کا اعجاز بیان فرمایا ہے اور فرمایا کہ سارے انسان اور سارے جنات آپس میں مل کر ایک دوسرے کے مددگار بن کر اگر یہ کوشش کریں کہ قرآن جیسی کوئی چیز بنا کرلے آئیں تو ہرگز نہیں لاسکیں گے، قرآن مجید معجزہ ہے اور سراپا معجزہ ہے اس کی تالیف و نظم میں بلاغت کا وہ کام ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا قرآن کے عہد اول سے تمام فصحاء و بلغاء کو یہ چیلنج ہے کہ اس جیسی ایک سورت بنا کرلے آؤ مگر آج تک عاجز ہیں اور عاجز رہیں گے۔ یہ بلاغت وجوہ اعجاز میں سے ایک وجہ ہے اس کے علاوہ اور بھی وجوہ اعجاز ہیں۔ چونکہ نبی اکرم ﷺ آخر الانبیاء ہیں اور آپ کی امت آخر الامم ہے اور قیامت تک آپ کی دعوت سارے انسانوں کے لیے ہے اس لیے آپ کو بہت سے معجزات جو آپ کی حیات طیبہ میں کثیر تعداد میں دئیے گئے ان کے علاوہ ایک ایسا معجزہ بھی دے دیا جو ہمیشہ کے لیے معجزہ ہے اور وہ قرآن کریم ہے۔ (اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا) قرآن حکیم کے طرز بیان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضامین مختلف طریقوں سے بیان کیے ہیں۔
اس میں عبرتیں بھی ہیں مواعظ بھی ہیں۔ احکام بھی ہیں۔ وعدے بھی ہیں وعیدیں بھی ہیں۔ قصص بھی ہیں۔ ترغیب و ترہیب بھی ہے اور اوامرو نواہی بھی ہیں، معاشرت کا طریقہ بھی بتایا ہے اور اخلاق و آداب کا بیان بھی ہے ما بعد الموت کی خبریں بھی ہیں، حشر نشر کی تفصیلات بھی، اور مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اکثر لوگ اس کے انکار پر بھی تلے ہوئے ہیں۔ قولہ تعالیٰ من کل مثل قال صاحب الروح من کل معنی بدیع ھو فی الحسن والغربۃ واستجلاب النفوس کالمثل۔
Ayahs 17:90–92قریش مکہ کی ہٹ دھرمی اور فرمائشی معجزت کا مطالبہ
جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت کا کام شروع کیا اور مشرکین مکہ کو توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کے لیے فرمایا تو وہ دشمن ہوگئے، حق قبول کرنے سے دور بھاگتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو طرح طرح سے ستاتے تھے کٹ حجتی پر تلے ہوئے تھے۔ الٹے الٹے سوال کرتے اور بےتکی فرمائشیں کرتے تھے، جن میں سے چند فرمائشیں آیت بالا میں مذکور ہیں صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ قریش مکہ کے چند افراد جمع ہوئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یہ جو آپ نے نئی باتیں شروع کی ہیں اگر ان کے ذریعہ آپ کو مال طلب کرنا مقصود ہے تو بتا دیجیے ہم آپ کو مال دیدیں گے آپ ہم میں سب سے بڑے مالدار ہوجائیں گے اور اگر بڑا بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو بادشاہ بنالیتے ہیں اور اگر بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو بادشاہ بنالیتے ہیں اور اگر آپ کو کوئی جنون ہوگیا ہے تو وہ بتا دیجیے ہم اپنے اموال خرچ کرکے آپ کا علاج کرا دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے۔ مجھے اللہ نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کے قبول کرنے پر بشارتیں سناؤں، اور مخالفت کے انجام سے ڈراؤں، میں نے تمہیں پہنچا دیا اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھا دیا اگر تم اس کو قبول کرتے ہو تو یہ دنیا و آخرت میں تمہارا نصیب ہوگا اور اگر اس کو نہیں مانتے تو میں صبر کرتا ہوں یہاں تک کہ اللہ پاک میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائیں۔
وہ لوگ کہنے لگے تو پھر ایسا کرو کہ اپنے رب سے سوال کرو کہ یہ پہاڑ مکہ کی سرزمین سے ہٹ جائیں جن کی وجہ سے ہماری جگہ تنگ ہو رہی ہے اور ہمارے شہروں میں وسعت ہوجائے۔ جیسے شام و عراق میں نہریں ہیں اس طرح کی نہریں ہمارے شہر میں جاری ہوجائیں۔ اور ہمارے مردہ باپ دادوں کو قبروں سے اٹھاؤ جن میں سے قصی بن کلاب بھی ہو۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھ کر آپ کی تصدیق کردیں تو ہم مان لیں گے آپ نے فرمایا کہ یہ میرا کام نہیں، میں ایسا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا، مانتے ہو تو مان لو اور نہیں مانتے تو میں صبر کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کا جو فیصلہ ہوگا ہوجائے گا۔
وہ کہنے لگے کہ ایسا نہیں کرتے تو اپنے رب سے یہ سوال کیجیے کہ آپ کی تصدیق کے لیے ایک فرشتہ بھیج دے۔ اور یہ سوال کرو کہ آپ کو باغات اور محلات دیدے اور سونے چاندی کے خزانے دیدے جن کی وجہ سے آپ غنی ہوجائیں اور یہ آپ کی ظاہری حالت (جو مال کی کمی کی وجہ سے ہے) نہ رہے آپ تو ہماری طرح بازاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور ہماری طرح معاش تلاش کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میرا یہ کام نہیں مجھے تو اللہ تعالیٰ نے نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ کہنے لگے اچھا تم ایسا کرو کہ ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دو ۔ آپ کہتے ہیں کہ اللہ کو اس پر قدرت ہے اگر قدرت ہے تو اس کا مظاہرہ ہوجائے۔ آپ نے فرمایا اللہ چاہے تو وہ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرسکتا ہے، اس پر ان میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ ہم آپ پر اس وقت ایمان لائیں گے جب آپ اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو ہمارے سامنے لائیں۔ ان باتوں کے بعد آپ وہاں سے کھڑے ہوگئے، انہیں میں آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبد المطلب کا بیٹا عبد اللہ بن ابی امیہ بھی تھا۔ وہ بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا اے محمد ﷺ آپ کی قوم نے کئی باتیں پیش کیں آپ نے کسی کو قبول نہ کیا اب آپ ایسا کریں کہ ایک سیڑھی لیں اور میرے سامنے آسمان پر چڑھ جائیں اور ایک نوشتہ لکھی ہوئی کتاب بھی لائیں اور آپ کے ساتھ فرشتے بھی آئیں جو آپ کی تصدیق کریں۔ آپ نے ایسا کردیا تو میں آپ کی تصدیق کرلوں گا۔
یہ باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ غمگین ہوئے اور اسی حالت میں تھے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیات بالا نازل فرمائیں اور آپ کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو جواب میں فرما دیں (سُبْحَانَ رَبِّیْ ) (کہ میرا رب پاک ہے تمہارے طلب کردہ معجزات سے عاجز نہیں ہے) اللہ چاہے تو فرمائشی معجزات ظاہر فرما دے لیکن وہ کسی کا پابند نہیں ہے جو لوگوں کے لیے فرمائشی معجزات ظاہر فرمائے۔
Ayah 17:93(ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) (میں تو ایک بشر ہی ہوں ایک انسان ہوں ہاں یہ بات ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے) اگر میں دوسرے انسانوں کی طرح کھاتا پیتا ہوں اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہوں تو یہ بشریت کے تقاضوں کے موافق ہے اور جو توحید و رسالت کی باتیں کرتا ہوں یہ رسول ہونے کی حیثیت سے ہیں اور رسول ہونے کے لوازم میں یہ باتیں نہیں ہے جن کا تم نے مطالبہ کیا ہے، جو مجھ پر ایمان لائے گا اس کا یہ ایمان اسے نفع دے گا اور جو منکر ہوگا اپنا برا کرے گا رسول کے ذمہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ واضح طور پر حق بیان کردے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دے۔
فائدہ : ایک ایسی جماعت بھی پائی جاتی ہے جسے سید الاولین ﷺ کی محبت کا بہت بڑا دعویٰ ہے اور اپنے اس دعویٰ کی وجہ سے حضرت رسول اکرم ﷺ کے بارے میں ایسے ایسے عقائد اختیار کرلیے ہیں جو قرآن و حدیث کی تصریحات کے سراسر خلاف ہیں انہیں میں سے ان کا ایک یہ عقیدہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بشر نہیں تھے۔ اور ان میں سے بعض مدعیان علم نے تو غضب کردیا سورة کہف کے آخر میں جو فرمایا ہے۔ (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ) اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ مانا فیہ ہے ان جاہلوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ ان حرف تحقیق ہے جملہ منفیہ پر داخل نہیں ہوتا۔ پھر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کی بشریت ثابت کرنے کے لیے صرف یہی تو ایک آیت نہیں ہے جس میں اِنَّمَا آیا ہے۔ مذکورہ بالا آیت بھی تو ہے جس میں (قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) فرمایا ہے اس میں تو مانا فیہ نہیں ہے۔
Ayahs 17:94–96لوگ اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ نبوت اور بشریت میں تضاد سمجھتے ہیں اگر زمین میں فرشتے رہتے ہوتے تو ان کے لیے فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا
لوگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) جب دین حق کی دعوت دیتے اور بتاتے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو یوں کہہ دیتے کہ انسان کا رسول ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔ سورة ابراہیم میں ہے کہ انبیاء سابقین کی امتوں نے اپنے رسولوں کی رسالت کا انکار کرنے کے لیے یوں کہا (مَا اَنْتُمْ الاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا) کہ تم تو ہماری طرح کے آدمی ہو، رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی مشرکین نے اسی طرح کی بات کہی تھی۔ نبیوں اور رسولوں کا انسان ہونا جو حکمت کے بالکل موافق ہے لوگوں کے لیے ہدایت سے گریز کرنے اور ایمان قبول نہ کرنے کا سبب بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے جواب میں فرمایا کہ زمین میں انسان بستے ہیں لہٰذا ان کے لیے انسان کو مبعوث کیا گیا اگر زمین میں فرشتے بسے ہوئے ہوتے اور سکون و اطمینان کے ساتھ یہیں رہتے اور اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم آسمان سے فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے۔ زمین میں بسنے والے انسان ہیں ان کی طرف جو رسول بھیجے گئے وہ بھی انسان ہیں کیونکہ ہم جنس سے استفادہ کرنا آسمان ہوتا ہے۔ انسانوں کی طرف انسانوں کا مبعوث ہونا یہ تو عین حکمت ہے اور سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن لوگوں نے اسی کو ایمان سے دور رہنے کا ذریعہ بنالیا۔
(کَفٰی باللّٰہِ شَھِیْدًام بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے) تمہارے نہ ماننے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے وہ گواہ ہے کہ میں اس کا رسول ہوں تم مانو یا نہ مانو۔ نہ مانو گے تو سزا بھگتو گے۔ (اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًام بَصِیْرًا) اللہ تعالیٰ کو سب بندوں کے احوال و افعال کا علم ہے وہ باخبر ہے دانا بینا ہے اپنے علم و حکمت کے موافق سزا دے گا۔
Ayah 17:97قیامت کے دن گمراہ لوگ گونگے اور بہرے اٹھائے جائیں گے، پھر دوزخ کی آگ میں داخل کیے جائیں گے یہ سزا اس لیے دی جائے گی کہ انہوں نے حشر نشر کی تکذیب کی
گزشتہ آیات میں منکرین کے عناد اور کٹ حجتی کا تذکرہ تھا ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور منکرین کے لیے وعید بھی، جو لوگ رسالت کے منکر تھے وہ بعث بعد الموت اور حشر نشر کے بھی منکر تھے، ان کا ایک اعتراض نقل فرمایا ہے اور اس کا جواب بھی دیا ہے۔
ارشاد فرمایا اللہ جسے ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہوسکتا ہے اور جسے گمراہ کردے تو وہ گمراہ ہی رہے گا۔ اللہ کی طرف سے جب تک ہدایت نہ ہو تو کوئی ہدایت یاب نہیں ہوسکتا اور اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہیں ہوسکتا۔ پھر فرمایا کہ ان منکروں کو قیامت کے دن ہم چہروں کے بل چلائیں گے۔ اس وقت اندھے بھی ہونگے اور بہرے بھی اور گونگے بھی۔ یعنی عین حشر کے وقت ان کی یہ حالت ہوگی گو بعد میں دیکھنے اور بولنے اور سننے کی قوتیں دیدی جائیں گی۔ دوسری آیات سے ان کا دیکھنا اور سننا اور بولنا ثابت ہے ان لوگوں کے حق میں دوزخ میں داخل ہونے کا فیصلہ ہوگا اس فیصلہ کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے اور وہی ان کا ٹھکانہ ہوگا۔ وہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا۔ اور عذاب دائمی کا یہ حال ہوگا کہ جب دوزخ کی آگ بجھنے لگے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو اور زیادہ بھڑکا دے گا۔
Ayahs 17:98–99پھر فرمایا (ذٰلِکَ جَزَآءُ ھُمْ ) (الآیۃ) ان لوگوں کی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ انہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور حشر نشر کی بات سن کر اعتراض اور تکذیب کے پیرائے میں یوں کہا کہ ہم قبروں میں گل جائیں گے صرف ہڈیاں رہ جائیں گی اور ان کا بھی چورا بن جائے گا تو اس وقت کیا پھر نئے سرے سے پیدا ہوں گے یہ تو سمجھ میں آنے والی بات نہیں ! ان کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کا انکار اور استہزاء بےمحل ہے اس بات کا تو انہیں اقرار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا جس نے اتنی بڑی مخلوق پیدا کردی وہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ارواح تو باقی رہتی ہیں اجسام کا دوبارہ پیدا فرما دینا اس میں کوئی بات نہیں جو عقل یا فہم کے خلاف ہو ہاں اتنی بات ہے کہ قیامت کے دن کے لیے ایک میعاد مقرر فرما رکھی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے جب وقت موعود آجائے گا تو قیامت آجائے گی، مردے زندہ ہوجائیں گے اور قبروں سے اٹھ کر محشر کی طرف جمع ہوں گے۔ لوگوں کی تکذیب اور اعتراض و انکار کی وجہ سے مقررہ اجل سے پہلے قیامت واقع نہیں ہوگی اس بات کو نہ دیکھیں کہ عرصہ دراز ہوگیا قیامت نہیں آئی جو دلائل پیش کیے جا رہے ہیں ان میں غور کریں، دلائل میں تو غور کرتے نہیں حق کو مانتے نہیں کفر ہی پر اڑے ہوئے اور اسی کو اپنے لیے پسند کرتے ہیں (فَاَبَی الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا کُفُوْرًا) (سو ظالموں نے بس انکار ہی کیا۔ )
Ayah 17:100اگر تمہارے پاس میرے رب کی رحمت کے خزانے ہوتے تو خرچ ہوجانے کے ڈر سے ہاتھ روک لیتے، انسان بڑا تنگ دل ہے
مطلب یہ ہے کہ اگر تم میرے رب کے خزانوں کے مالک ہوتے اور تمہیں اختیار ہوتا کہ جسے چاہو دو اور جسے چاہو نہ دو ۔ تو تم ہاتھ روک لیتے کسی کو نہ دیتے۔ اللہ تعالیٰ رازق ہے اور خالق ہے۔ اپنی مخلوق کو رزق عطا فرماتا ہے جس کا جتنا رزق مقرر اور مقسوم فرمایا ہے پورا کیے بغیر موت نہ آئے گی۔ جب سے مخلوق کو پیدا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ شانہ رزق دیتا ہے اور جس قدر اس کی مخلوق بڑھتی چلی جائے اس کی نعمتوں اور رحمتوں میں کوئی کمی نہیں، مخلوق بھی بڑھ رہی ہے اور رزق بھی بڑھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو عطا فرماتا ہے اور حاجتیں پوری فرماتا ہے دوست اور دشمن سب کو دیتا ہے ایک حدیث میں ہے ارائیتم ما انفق منذ خلق السموات والارض فانہ لم یغض ما فی یدہ (تم ہی بتاؤ اس نے جب سے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے کتنا خرچ فرما دیا اس سب کے باوجود اس کے قبضہ قدرت سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 21)
یہ جو اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت ہے بھرپور انفاق ہے حاجت روائی ہے یہ سب اس کی رحمت کے خزانوں میں سے ہے اگر اس کے خزانے مخلوق کے اختیار میں ہوتے اور وہ خرچ کرنے والے ہوتے تو وہ اس ڈر سے کہ یہ سب خرچ ہوگیا تو تنگ دستی آجائے گی خرچ کرنے سے ہاتھ روک لیتے (وَکَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا) اور انسان طبعی طور پر قتور واقع ہوا ہے جو خرچ کرنا چاہتا ہے۔ کنجوس ہے تنگ دل ہے، علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ اس آیت میں مشرکین کی اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے کہا ہے کہ ہماری سرزمین میں چشمے جاری کروا دیجیے تاکہ ہماری تنگ دستی جاتی رہے اور معیشت میں وسعت ہوجائے۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تمہیں وسعت نصیب ہوجائے تب بھی کنجوسی کرو گے کیونکہ انسان مزاج اور طبیعت کے طور پر بخیل، کم دلا اور نخر چا واقع ہوا ہے۔
Ayahs 17:101–104موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں دیں فرعون اپنے ساتھیوں کے ساتھ غرق کردیا گیا اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ زمین میں رہو سہو
ابتدائے سورت میں واقعہ معراج کے بعد بنی اسرائیل کے بعض واقعات بیان فرمائے اور ان سے فرمایا (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا) اس کے بعد مشرکین کے اعمال و اقوال اور عقیدہ شرک کی تردید فرمائی اور درمیان میں بعض مامورات اور منہیات بھی ذکر فرما دئیے پھر مشرکین کے عناد اور تکذیب کا تذکرہ فرمایا اب سورت کے ختم ہونے کے قریب بھی بنی اسرائیل اور ان کے دشمن فرعون کا تذکرہ فرمایا جس میں بنی اسرائیل یعنی یہود کے لیے اور تمام ہی منکرین اور معاندین کے لیے عبرت ہے، اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلی کھلی واضح نو نشانیاں عطا کیں، ان نشانیوں سے کیا مراد ہے یہ بات ہم عنقریب ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ فرعون کو نصیحت کرو اسے اور اس کی قوم کو توحید کی دعوت دو اور رب کائنات جل مجدہ کی عبادت کی طرف بلاؤ اور بنی اسرائیل کو اس کے چنگل سے چھڑا کر مصر سے لے جاؤ، فرعون بہت بڑا جابر تھا اپنے آپ کو معبود کہلواتا اور منواتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اس سے بات کی اور راہ حق کی دعوت دی اور بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا کہ انہیں چھوڑ دے میں ساتھ لے جاتا ہوں تو فرعون نے بڑی جاہلانہ باتیں کیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر بتایا پھر جادو گر بلائے اور مقابلہ کرایا جادو گر ہار گئے اور مسلمان ہوگئے جس کا تفصیلی واقعہ سورة انعام کے رکوع 12 اور سورة طٰہ کے دوسرے تیسرے رکوع میں مذکور ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون نے ساحر یعنی جادو گر تو بتایا ہی تھا مسحور بھی بتایا اور کہنے لگا کہ اے موسیٰ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تجھ پر جادو کردیا گیا ہے اسی جادو کی وجہ سے تو ایسی باتیں کررہا ہے معالم التنزیل میں محمد بن جریر سے مسحور کا ایک ترجمہ معطی علم السحر نقل کیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ تجھے جادو کا فن دیدیا گیا ہے اس کے ذریعے یہ عجائب تیرے ہاتھوں سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑی جرأت سے جواب دیا کہ تیرا دل جانتا ہے کہ یہ جو چیزیں سامنے آرہی ہیں اور میرے ہاتھوں ظاہر ہورہی ہیں۔ صرف اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں اور یہ بصیرت کی چیزیں ہیں تو عناد کرتا ہے حق سے بھاگتا ہے اس کا برا انجام تیرے سامنے آنے والا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اب تیری شامت ہی آگئی اب تو ہلاک ہی ہو کر رہے گا، فرعون نے ساری سنی ان سنی کردی اور سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ فرمایا تھا وہ صحیح ثابت ہوا۔ بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ فرعون پہلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تقاضے پر ہی بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا لیکن جب اس نے یہ دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طاقت بڑھ رہی ہے اور بنی اسرائیل ان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں تو اندیشہ محسوس کیا کہ ان کی جماعت زور پکڑ کر کہیں مصری قوم کی بربادی کا سبب نہ بن جائے لہٰذا اس نے بنی اسرائیل کو مصر کی سرزمین سے نکال دینے کا پروگرام بنایا اس بات کو (فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّھُمْ ) میں بیان فرمایا ہے اور روح المعانی میں مِنَ الْاَرْضِ کی تفسیر میں ایک قول یہ نقل کیا کہ ان سب کو ایک ایک کرکے قتل کردیا جائے یہ بھی زمین میں ہٹا دینے کی ایک صورت ہے۔ سورة اعراف میں فرمایا کہ فرعون نے کہا (سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَ ھُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَ ھُمْ وَ اِنَّا فَوْقَھُمْ قٰھِرُوْنَ ) (کہ ہم ان کے مردوں کو خوب کثرت کے ساتھ قتل کردیں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیں گے اور ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہے) اس کے پیش نظر یہ دوسرا معنی اظہر ہے، فرعون اگر بنی اسرائیل کو جلاوطن کرنے پر راضی ہوتا تو بنی اسرائیل کو راتوں رات مصر سے راہ فرار اختیار کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، علامہ قرطبی نے بھی (اَنْ یَّسْتَفِزَّھُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ) کے دو معنی لکھے ہیں دونوں میں سے جو معنی بھی لیا جائے بہرحال فرعون کے ارادہ اور مکر وہ تدبیر سب کا الٹ ہوا اللہ جل شانہ نے فرعون کو اور اس کے ساتھیوں کو سمندر میں ڈبو دیا اور بنی اسرائیل پار ہو کر دوسرے کنارہ پر پہنچ گئے جس کا واقعہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔
فرعون مصر سے بھی نکلا حکومت بھی ہاتھ سے گئی اور زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اور غرق ہونے کی ذلت میں مبتلا ہوا۔ اس کو فرمایا (فَاَغْرَقْنَاہُ وَمَنْ مَّعَہٗ جَمِیْعًا) (سو ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کردیا) (وَّ قُلْنَا مِنْ بَعْدِہٖ لِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ ) (اور ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اس کے بعد زمین میں رہو سہو۔ ) علامہ قرطبی لکھتے ہیں ای ارض الشام و مصر یعنی مصر اور شام کی زمین میں رہو جس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کی بربادی کے بعد بنی اسرائیل کو اختیار دے دیا گیا خواہ مصر میں رہو اور خواہ اپنے آبائی وطن یعنی شام (فلسطین) میں جاکر آباد ہوجاؤ لیکن انہوں نے شام میں رہنا پسند کیا، پسند تو کرلیا لیکن اپنی حرکتوں کی وجہ سے میدان تیہہ میں گھومتے رہے اور چالیس سال کے بعد فلسطین میں داخل ہوسکے (مرفی سورة المائدہ) (فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ جِءْنَابِکُمْ لَفِیْفًا) (پھر جب آخرت یعنی قیامت کا وعدہ آپہنچے گا اور قیامت قائم ہوگی تو ہم تم کو اس حالت میں اٹھا لیں گے کہ سب لفیف ہوں گے) یعنی قبور سے اس حالت میں اٹھیں گے کہ سب ملے جلے ہوں گے اور مختلف جہات سے اٹھ کر آئیں گے اور میدان میں جمع کرلیے جائیں گے۔ بعض حضرات نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ کافر قبروں سے اٹھ کر جب بدحالی دیکھیں گے تو مومنوں کی جماعتوں میں گھس جائیں گے تاکہ ان کی لپیٹ میں بچ جائیں جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا (وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ) (کہ اے مجرمو آج کے دن علیحدہ ہوجاؤ) پھر کافروں کی جماعتیں بن بن کر دوزخ میں جائیں گی اور مومنین کی جماعتیں جنت میں چلی جائیں گی۔
فائدہ : اس رکوع کے شروع میں جو یہ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو کھلی ہوئی نو نشانیاں عطا کیں، ان نشانیوں سے کون سی نشانیاں مراد ہیں۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے یہ معجزات مراد ہیں (1) عصا (2) یدبیضاء (3) سمندر سے بنی اسرائیل کو لے کر پار ہوجانا (4) فرعون اور اس کی قوم کا قحط میں مبتلا ہوجانا (5) اور پھلوں کا کم ہوجانا، (6، 7) اور قوم فرعون پر ٹڈیوں کا اور جوؤں کا عذاب آجانا (8) اور مینڈکوں کے عذاب میں مبتلا ہونا (9) اور ان کے برتنوں اور پینے کے پانی میں خون کا موجود ہوجانا۔
چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور بھی ہیں اس لیے بعض حضرات نے ان کو بھی اس ذیل میں ذکر فرمایا ہے مثلاً پتھر سے چشموں کا جاری ہوجانا اور من وسلویٰ نازل ہونا جو حضرات دوسرے معجزات کو ان نو معجزات میں شمار کرتے ہیں جن کا ذکر آیت بالا میں ہے وہ مذکورہ معجزات میں بعض کو نو معجزات والی گنتی میں نہیں لاتے ان کی جگہ دوسرے معجزات کو شمار میں لے لیتے ہیں۔
Ayah 17:105ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں سابقین اہل علم اس کو سنتے ہیں تو سجدہ میں گرپڑتے ہیں
ان آیات میں کتاب اللہ کی اور رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان فرمائی ہیں اور قرآن کی تلاوت سے متاثر ہونے والوں کی تعریف فرمائی ہے اور یہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا ہے بھیجنے والے نے حق کے ساتھ بھیجا جس کے پاس آیا حق ہی کے ساتھ پہنچا درمیان میں کسی طرح کا تغیر اور تبدل نہیں ہوا، پھر نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم نے آپ کو صرف مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اہل ایمان کو جنت کی بشارت دینا اور اہل کفر کو دوزخ کی وعید سنانا آپ کا اتنا ہی کام ہے جو نہ مانے گا وہ اپنا ہی برا کرے گا آپ کو غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 17:106پھر فرمایا (وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ ) (یعنی ہم نے قرآن کو اس طرح نازل کیا کہ اس میں جابجا فصل ہے) ایک آیت ختم ہونے کے بعد دوسری آیت شروع ہوتی ہے اور ایک سورت کے بعد دوسری سورت شروع ہوجاتی ہے اس میں آیات، اوقاف، فواصل اور سورتوں اور مضامین کا تنوع رکھا گیا ہے تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں تاکہ سننے والے سمجھ سکیں اور حفظ کرنے والے یاد کرسکیں، مسلسل بیان کرنے میں جو بعض مرتبہ سننے والوں سے بعض باتیں رہ جاتی ہیں ان کے سمجھنے اور یاد کرنے میں جو دقت ہوتی ہے اس کا سامنا نہ ہو۔ (عَلٰی مُکْثٍ ) کا یہ معنی لیا جائے تو اس میں ترتیل اور تجوید کے ساتھ اس طرح پڑھنا بھی آجاتا ہے کہ تلاوت میں قرآن مجید کے حروف نہ کٹیں اور کسی طرح کی کمی بیشی نہ ہو۔
(فَرَقْنٰہُ ) کا یہ وہ معنی ہے جو بعض مفسرین نے اختیار کیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا معنی یوں نقل کیا ہے کہ بینا حلالہ وحرامہ کہ ہم نے اس میں واضح طور پر حلال اور حرام بیان کردیا ہے، اور بعض حضرات نے اس کا یہ معنی لیا ہے کہ فرقنا فیہ بین الحق والباطل (یعنی ہم نے اس میں حق اور باطل کو جدا جدا کرکے علیحدہ علیحدہ بیان کردیا اور اوامر اور نواہی اور احکام اور مواعظ اور امثال اور قصص کو واضح کردیا ہے۔ ھذا یرجع الی ماذکرناہ اوّلا۔
(وَّ نَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلًا) اور ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا، روح المعانی ص 188 ج 15 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ قرآن مجید لوح محفوظ سے ماہ رمضان میں شب قدر میں آسمان دنیا پر پورا نازل کردیا گیا اور وہاں بیت العزت میں رکھ دیا گیا پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا کرکے حسب مصالح العباد بواسطہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تیئس (23) سال میں تھوڑا تھوڑا کرکے سید الاولین والآخرین ﷺ پر نازل ہوا، لفظ تنزیل تفعیل کا وزن ہے اور یہ وزن اپنی بعض خاصیات کے اعتبار سے کسی کام کے تھوڑا تھوڑا کرنے پر دلالت کرتا ہے اس لیے مفسرین کرام نَزَّلْنٰہُ کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا۔ قال فی الجلالین ونزلنا تنزیلاً شیئا بعد شیءٍ علی حسب المصالح۔
Ayahs 17:107–109اس کے بعد فرمایا (قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖٓ اَوْ لَاتُؤْمِنُوْا) (الآیۃ) اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ مخاطبین سے فرما دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، ایمان کا فائدہ تمہیں پہنچے گا اور انکار کا نقصان بھی تمہیں پہنچے گا اور تمہارے ایمان نہ لانے سے میرا کوئی ضرر نہیں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ قرآن کا بقاء اور اس کا دنیا جہان میں آگے بڑھنا اور پھیلنا کوئی تم پر موقوف نہیں، جن لوگوں کو نزول قرآن سے پہلے علم دے دیا گیا تھا انہوں نے اسلام قبول کرلیا جب قرآن مجید ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے وہ وعدہ خلافی نہیں کرسکتا اس نے جو وعدہ فرمایا ضرور پورا ہو کر رہے گا۔
یہ لوگ جو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرتے ہیں روتے ہوئے گرتے ہیں اور قرآن کا سننا ان کے خشوع کو اور زیادہ کردیتا ہے، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ (اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖٓ) سے مومنین اہل کتاب مراد ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے دین حق کی تلاش میں تھے اور آپ کی بعثت کے منتظر تھے جب آپ کی بعثت کا علم ہوگیا تو آپ پر ایمان لے آئے اور قرآن کو سنا اور پڑھا اس قرآن کو سنتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گرپڑتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان سے اور قرآن سے نوازا ہے وہ روتے ہوئے سجدہ کرتے ہیں اور یہ قرآن ان کے اندر اور زیادہ خشوع بڑھنے کا سبب بن جاتا ہے، بطور مثال علامہ بغوی نے زید بن عمرو بن نفیل اور سلمان فارسی اور حضرت ابوذر ؓ کا نام لکھا ہے اور علامہ قرطبی نے حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو پہلے یہودی تھے پھر مسلمان ہوگئے، احقر کے نزدیک اس سے نجاشی اور اس کے حاضرین بھی مراد ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں (وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ ) فرمایا ہے، لفظ اذقان ذقن کی جمع ہے جس کا ترجمہ ٹھوڑی لیا گیا ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے چہرے مراد ہیں سجدہ صحیح طریقے پر کیا جائے تو ٹھوڑی زمین سے لگنے کے قریب ہوجاتی ہے اس لیے ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرنے سے تعبیر فرمایا۔
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو صفت علم سے متصف ہو اسے اس مرتبے تک پہنچنا چاہیے کہ قرآن کریم سننے کے وقت اس کے دل میں خشوع ہو اور متواضع ہو کر بیٹھے اور عاجزانہ ہیئت اختیار کرے، مسند دارمی میں ابو محمد تیمی کا قول نقل کیا ہے کہ جسے علم دیا گیا لیکن اس علم نے اسے رلایا نہیں تو وہ اس لائق ہے کہ اسے علم نہ دیا جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے علماء کی یہ صفت بیان فرمائی کہ چہروں کے بل روتے ہوئے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اس کے بعد انہوں نے آیت بالا تلاوت فرمائی۔
اس کے بعد علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ آیت بالا سے معلوم ہوا کہ اللہ کے خوف سے اگر نماز میں روئے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔ سنن ابو داؤد ص 130 ج 1 میں ہے کہ مطرف بن عبد اللہ نے اپنے والد عبد اللہ بن شیخ کا بیان نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ کے سینہ مبارک سے ایسی آواز آرہی تھی جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے، یہ حدیث سنن نسائی میں بھی ہے اس میں یوں ہے کہ آپ کے اندر سے ایسی آواز آرہی تھی جیسے ہانڈی پکنے کی آواز ہوتی ہے۔ (ص 179 ج 1)
اللہ کے خوف سے رونا اہل ایمان کی خاص صفات میں سے ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی بھی مومن بندہ کی آنکھوں سے آنسو نکل جائیں اگرچہ مکھی کے سر کے برابر ہوں اور یہ آنسوؤں کا نکلنا اللہ کے خوف سے ہو پھر یہ آنسو اس کے چہرہ پر گرجائیں تو اللہ اس کو آگ پر حرام فرما دے گا۔ (رواہ ابن ماجہ)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو آنکھیں ایسی ہیں کہ ان کو آگ نہیں چھوئے گی ایک تو وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روئی اور دوسری وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں نگرانی کی یعنی جہاد کے موقع پر رات کو جاگتا رہا کہ کوئی دشمن تو نہیں آ رہا ہے (رواہ الترمذی) حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ نجات کس چیز میں ہے آپ نے فرمایا کہ اپنی زبان کو (بری باتوں سے) روکے رکھ اور اپنے گھر میں اپنی جگہ بنائے رکھ (یعنی گھر ہی میں رہ بلا ضرورت باہر نہ نکل) اور اپنے گناہوں پر رویا کر۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 413 از احمد و ترمذی)
Ayah 17:110اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر جس نام سے بھی پکارو اس کے اچھے اچھے نام ہیں، آپ نماز میں قرأت کرتے وقت درمیانی آواز سے پڑھیے
در منثور ص 606 ج 4 میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں یا اللہ اور یا رحمن کہا تو مشرکین مکہ نے کہا کہ اس نئے دین والے کو دیکھو ہمیں دو معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے اور خود دو معبودوں کو پکار رہا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ) نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رحمن کہہ کر پکارنا دو معبودوں کا پکارنا نہیں ہے معبود تو ایک ہے جو وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ ہے یہ دونوں اس کے نام ہیں اس کے جس نام سے بھی پکار لیا تو کوئی شرک لازم نہیں آیا اور تم تو کئی معبودوں کو مانتے ہو تمہارے معبود ایسے نہیں ہیں کہ ذات ایک ہو اور نام کئی ہوں تمہارے عقیدہ میں معبودوں کی ذاتیں متعدد ہیں اور میرا جو معبود ہے ایک ہی ہے وہ معبود حقیقی ہے جس کا نام اللہ بھی ہے رحمن بھی ہے ان دونوں ناموں کے علاوہ اور بھی اس کے بہت سے اچھے اچھے نام ہیں ان ناموں میں سے جو نام لے کر بھی اسے پکارا جائے گا صحیح ہوگا شرک نہ ہوگا کیونکہ یہ سب ایک ذات پاک کے نام ہیں۔ سنن ترمذی میں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام مروی ہیں جو مشکوٰۃ المصابیح میں ص 119 پر منقول ہیں۔
(وَ لَا تَجْھَرْ بِصَلَاتِکَ ) (الآیۃ) صحیح بخاری ص 686 ج 2 میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں (ابتدائے اسلام میں) چھپ کر اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تھے جس میں قرآن زور سے پڑھتے تھے۔ جب مشرکین قرآن سنتے تھے تو قرآن کو اور قرآن کے نازل کرنے والے کو اور قرآن کے لانے والے کو برے الفاظ میں یاد کرتے تھے اللہ جل شانہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ نماز میں زور سے قرأت نہ پڑھیں جسے سن کر مشرکین برے الفاظ میں ذکر کرنے کا موقع پالیں اور آپ نماز میں قرأت کو آہستہ بھی نہ پڑھیں جس کی وجہ سے آپ کے صحابہ نہ سن سکیں آپ دونوں کے درمیان راستہ اختیار کرلیں، اس سے معلوم ہوا کہ جن نمازوں میں قرأت جہر سے پڑھی جاتی ہے ان میں اتنا جہر کافی ہے کہ اپنے مقتدی سن سکیں اتنے زور سے جہر نہ کیا جائے کہ کافروں تک بھی آواز پہنچے اور وہ متاثر ہونے کے بجائے قرآن مجید کو اور اس کے اتارنے والے اور لانے والے کو برے لفظوں میں یاد کریں، اور یوں بھی جہر مفرط کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ سفر میں رسول اللہ ﷺ ایک پہاڑ کی گھاٹی میں چڑھ رہے تھے اس وقت ایک شخص نے بلند آواز سے لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ دیا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ بہرے کو اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو پھر آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے فرمایا لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ جنت کے خزنوں میں سے ہے۔ (صحیح بخاری ص 949)
رسول اللہ ﷺ ایک دن رات کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ پر گزرے پھر صبح کو فرمایا کہ ابوبکر میں تمہارے قریب سے گزرا تو معلوم ہوا کہ تم پست آواز میں قرآن شریف پڑھ رہے ہو انہوں نے عرض کیا کہ جس ذات پاک سے مناجات کر رہا تھا اس کو میں نے سنا دیا آپ نے فرمایا کہ تھوڑی سی آواز اونچی کرکے پڑھا کرو، پھر حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ میں تمہارے قریب سے گزرا تم اونچی آواز سے قرأت پڑھ رہے تھے انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنی بلند آواز سے اونگھنے والے کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں آپ نے فرمایا کہ تم اپنی آواز کو تھوڑا سا پست کرو۔ (رواہ الترمذی باب ما جاء فی القراۃ باللیل)
اس کو فرمایا (وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا) (اور آپ اس کے درمیان راستہ اختیار کیجیے۔ )
Ayah 17:111اللہ کی حمد بیان کیجیے جس کا کوئی شریک اور معاون نہیں ہے اور اس کی بڑائی بیان کیجیے
در منثور ص 208 ج 4 میں حضرت محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے کہ یہود و نصاریٰ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور مشرکین عرب اللہ کے لیے یوں شریک تجویز کرتے تھے کہ حج میں جو تلبیہ پڑھا جاتا ہے اس میں لا شریک لک کے ساتھ الا شریک ھو لک تملکہ وما ملک بھی جوڑ دیتے تھے اور صابئین اور مجوس یوں کہتے تھے کہ اگر اللہ کی مدد کرنے والے نہ ہوتے تو وہ عاجز ہو کر رہ جاتا ان سب کی تردید میں اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت بالا (وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا) آخر تک نازل فرمائی (رواہ البخاری) جس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا نہ اس کی اولاد ہے نہ اولاد ہوسکتی ہے کیونکہ اولاد ہونا اس بےعیب کے لیے عیب ہے حدیث قدسی میں ہے۔ (وَسُبْحَانِیْ اَنْ صَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا) (اور میں اس سے پاک ہوں کہ میرے کوئی بیوی ہو یا اولاد ہو)
نہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے سارا ملک اسی کا ہے وہ ملک الملوک ہے اس کی سلطنت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ اسے کسی شریک کی ضرورت ہے اور نہ کسی مددگار کی جسے امور مملکت پر پوری قدرت نہیں ہوتی اسے ولی یعنی مددگار کی ضرورت پڑتی ہے اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے قوی و عزیز ہے وہ کسی چیز سے عاجز نہیں لہٰذا اسے کسی ولی یعنی مددگار کی ضرورت نہیں نہ کوئی اس کا مددگار ہے اور نہ ہوگا اور نہ ہوسکتا ہے سورة سباء میں فرمایا (قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْھِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّ مَا لَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ ان لوگوں کو بلالو جن کو تم خدا کے سوا نافع اور معبود سمجھ رہے ہو، وہ ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے، اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ )
اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ شانہ کی حمد بیان کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں تکبر یعنی اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان فرمانے کا بھی حکم دیا۔ تفسیر ابن کثیر میں مرسلاً روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ آیت اپنے گھر کے ہر چھوٹے بڑے فرد کو سکھایا کرتے تھے نیز بعض آثار سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ جس کسی رات کو گھر میں یہ آیت پڑھ لی جائے تو چوری کا یا دوسری کسی مصیبت کا حادثہ پیش نہ آئے گا۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اَفْضَلُ الذِّکْرِ لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سب سے زیادہ افضل ذکر لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ ہے اور سب سے افضل دعا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ہے۔ (رواہ الترمذی)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کی طرف وہ لوگ بلائے جائیں گے جو خوشی میں اور دکھ تکلیف میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے تھے اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حمد اصل شکر ہے اس بندہ نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا جو اس کی حمد بیان نہیں کرتا۔ (رواھما البیہقی فی شعب الایمان)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں ایک مرتبہ سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُکہہ دوں تو یہ مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے۔ (رواہ مسلم)
وھذا اخر سورة الاسراء بفضل اللّٰہ ذی المجد والکبریاء والحمد للّٰہ خالق الارض والسماء والصلوۃ علی صفوۃ الانبیاء وعلی الہ وصحبہ البررۃ الاتقیاء