Ayah 17:44پھر فرمایا (تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْھِنَّ ) (الآیۃ) اس میں یہ بتایا کہ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے یہ سب اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں یعنی وہ اس بات کے اقراری ہیں کہ ان کا خالق ومالک ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے وہ اس سے بھی پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک ہو آسمان اور زمین اور ان کے اندر جو کچھ ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے سب اللہ کی مخلوق ہے ان کی تسبیح بتانے کے لیے ارشاد فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ ) (یعنی کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ پاک کی تسبیح بیان نہ کرتی ہو) اور ساتھ میں یوں بھی فرمایا کہ (وَ لٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ) (اور لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔ )
اللہ تعالیٰ کی مخلوق کچھ تو ایسی ہے جو ذی حیات ہے جسے زندہ کیا جاتا ہے ان میں فرشتے اور انسان و جنات ہیں یہ اصحاب فہم ہیں اللہ پاک نے ان کو سمجھ عطا فرمائی ہے، اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو زندہ بھی ہیں اور ان میں فہم بھی ہے۔ لیکن فہم زیادہ نہیں ہے جیسے حیوانات اور چرند پرند ان میں اتنی سمجھ ہے کہ ضرورت کے لیے کھائیں پئیں بچوں کی پرورش کریں حملہ آور سے بچاؤ کریں اپنے مجازی مالک کی ہدایت پر چلیں، درخت بھی زندہ چیزوں میں شمار کیا جاتا ہے ان میں زندگی تو ہے اور اندازے سے معلوم ہوتا ہے کہ سمجھ بھی ہے لیکن حیونات کی بنسبت ان میں کم سمجھ ہے۔
اس تفصیل کو ذہن نشین کرنے کے بعد اب سمجھنا چاہیے کہ ہر مخلوق کی زبانیں ہیں خود انسانوں کی سینکڑوں زبانیں ہیں ایک علاقہ کے لوگ دوسرے علاقہ کی زبان نہیں سمجھتے فرشتوں کی بھی زبان ہے جس سے آپس میں ہم کلام ہوتے ہیں اور انسانوں کی زبانوں میں سے جو زبانیں انہیں بتائی گئی ہوں لا محالہ وہ اسے بھی جانتے ہیں بظاہر جنات کی بھی کوئی زبان ہوگی اگرچہ وہ انسانوں کی بھی زبانیں سمجھتے ہیں۔
اسی طرح حیوانات کی زبانیں ہیں بیل اپنی زبان میں بولتا ہے اور اونٹ اپنی زبان میں شیر گدھا، کتا، طوطا، چڑیا، کوا، دریائی جانور ان کی اپنی اپنی زبانیں ہیں۔
فرشتے، انسان، جنات اپنی اپنی زبانوں میں اور دوسرے حیوانات اپنی اپنی زبانوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں گو انسانوں کی سمجھ میں نہ آئے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبیوں میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹی کی پوری بستی کو جلانے کا حکم دیا اللہ جل شانہ نے وحی بھیجی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا اور تم نے ایک ایسی امت کو جلایا جو تسبیح پڑھتی تھی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 361)
تفسیر روح المعانی میں حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مینڈک کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرما دیا ہے کہ ان کا بولنا اللہ کی تسبیح ہے اور حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب صبح ہوتی ہے تو پرندے اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اللہ سے اس دن کی روزی کا سوال کرتے ہیں۔ (روح المعانی ص 84 ج 15)
اور بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں بظاہر ہمارے دیکھنے میں حیات نہیں ہے لیکن حقیقت میں ان میں ادراک ہے زمین اور پہاڑ اور وہ سب چیزیں جنہیں جمادات کہا جاتا ہے ان کے شعور و ادراک کو ہم نہیں سمجھتے کیونکہ وہ ہم سے بات نہیں کرتے لیکن ان کا اپنے خالق سے مخلوق اور مملوک ہونے کا تعلق ہے وہ اپنے رب کی تسبیح خواں ہیں سورة بقرہ میں فرمایا (وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ) (اور بلاشبہ پتھر ایسے ہیں جو اللہ کے ڈر سے گرپڑتے ہیں۔ )
فرشتے اور مومن انسان اور مومن جنات تو اللہ کی تسبیح پڑھتے ہی ہیں اس میں کوئی شک نہیں اس کو سب جانتے اور مانتے ہیں اور انسان اور جنات میں جو کافر ہیں ان میں جو کسی بھی دین کے ماننے والے ہیں (یہودی، نصرانی، بدھسٹ، ہندو، آتش پرست وغیرہم) یہ سب بھی خالق جل مجدہ کی خالقیت کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے کو اس کا بندہ مانتے ہیں اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ان کو بھی اللہ کی مخلوق مانتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے سامنے عاجز محض ہیں اور اسی لیے جب مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو سب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے لو لگاتے ہیں اور صرف اسی سے مانگنے لگتے ہیں اس بات کو سورة لقمان میں یوں بیان فرمایا (وَ اِذَا غَشِیَھُمْ مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ) یہ اللہ تعالیٰ کو واحد خالق ماننا اور ساری مخلوق پر اس کی قدرت کو تسلیم کرنا یہ اللہ کی تسبیح بھی ہے تحمید بھی ہے مسلمان ہونا نہ ہونا اور بات ہے اور اللہ کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہونا یہ دوسری بات ہے ابلیس لعین جو سارے کافروں کا سردار ہے اس نے مردود ہونے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کیا ہے اور (رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ ) کہا ہے۔ اب وہ لوگ رہ جاتے ہیں جو دہری اور مادہ پرست ہیں جو بظاہر خالق کائنات جل مجدہ کے وجود کو نہیں مانتے لیکن یہ ضرور مانتے ہیں کہ یہ عالم کے تصرفات اور چیزوں کا موجود اور معدوم ہونا اور متغیر ہونا کسی صاحب قدرت ذات کی وجہ سے ہے خواہ زبان سے اقرار نہ کریں۔
جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ زمین نرم کیوں ہے پہاڑ سخت کیوں ہے اور فلاں پہاڑ فلاں جگہ ہی کیوں پیدا ہوا اور فلاں عورت کے لڑکے ہی لڑکے پیدا کیوں ہوتے ہیں فلاں عورت کے نرینہ اولاد کیوں نہیں ہوتی اور فلاں عورت بانجھ کیوں ہے اور مقناطیس صرف لوہے کو کیوں کھینچتا ہے پیتل کو کیوں نہیں کھینچتا اور فلاں درخت کا پھل فلاں شکل و صورت کا کیوں ہے یہ اپنی مذکورہ صورت سے مختلف کیوں نہ ہوا لمبا کیوں نہ ہوا بھاری کیوں نہ ہوا اس کا رنگ ہرا کیوں ہوا کالا کیوں نہ ہوا پھر ان سب چیزوں کے مزے الگ الگ کیوں ہیں گاڑی پٹرول سے کیوں چلتی ہے اور دوسرے سیال مادہ سے کیوں نہیں چلتی انسان کی صورتیں مختلف کیوں ہیں بکری چھوٹی اور اونٹنی بڑے قد کی کیوں ہے دودھ اور خون اندر آپس میں کیوں نہیں مل جاتے تھنوں سے دودھ ہی کیوں نکلتا ہے بال مونڈنے کے بعد دوبارہ کہاں سے آجاتے ہیں پانی سے بھی معدہ پر ہوجاتا ہے لیکن یہ روٹی چاول کا کام کیوں نہیں دیتا اور اس طرح کے ہزاروں سوالات ہیں جن کا جواب دینے سے مادہ پرست دہریے اور ملحد عاجز ہیں ان کا یہ عاجز ہونا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ وہ خالق اور مالک جل مجدہ کی قدرت کو مانتے ہیں گو زبان سے نہیں مانتے اور اس عنوان سے نہیں مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے یہ عاجز ہونا ہی ماننا ہے اور یہ خالق ومالک کی تسبیح وتحمید ہے۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ تسبیح کی دو صورتیں ہیں ایک تسبیح حالی دوسری تسبیح مقالی تسبیح حالی کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کا اپنا مستقل وجود ہے اور اس کے اپنے ذاتی احوال ہیں جو اس پر گزرتے ہیں یہ اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ وہ اپنے وجود میں اپنے باقی رہنے میں اور اپنے احوال کے مقلب ہونے میں کسی صاحب قدرت ذات پاک کے تابع ہے وجود اور احوال کی شہادت خالق کائنات جل مجدہ کی تسبیح ہے ‘ اس عموم کے اعتبار سے کائنات کا ہر ذرہ ذرہ ذی روح ہو یا جماد ہو ‘ شجر ہو یا حجر ہو ‘ مومن ہو یا منکر سب کے وجود سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید ظاہر ہو رہی ہے، دوسری قسم یعنی تسبیح مقالی وہ ہے جو الفاظ و حروف و کلمات کے ذریعہ ہو یہ وہ تسبیح ہے جس میں یہ ضروری نہیں کہ انسان بھی انہیں سمجھ جائے اور سن لے آپس کی زبانیں نہیں سمجھ پاتے تو جانوروں کی زبانیں کیا سمجھیں گے اور جمادات کی تسبیح کیا سنیں اور سمجھیں گے۔
سورة ص میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بالْعَشِیِّ وَالْاِِشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً کُلٌّ لَّہٗٓ اَوَّابٌ) ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی جو کہ جمع ہوجاتے تھے جن کی وجہ سے مشغول ذکر رہتے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ اور پرندے تسبیح کرتے تھے صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے، اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
(مشکوٰۃ المصابیح ص 124 از بخاری و مسلم ج 2 ص 245)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ مکہ مکرمہ میں ایک پتھر ہے میں اسے پہچانتا ہوں میری بعثت سے پہلے وہ مجھے سلام کیا کرتا تھا مجمع الزوائد میں بحوالہ طبرانی حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کا نام لیکر آواز دیتا ہے اور دریافت کرتا ہے کہ اے فلاں کیا تجھ پر کوئی ایسا شخص گزرا ہے جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ دوسرا پہاڑ جواب دیتا ہے کہ ہاں ایک شخص اللہ کا ذکر کرنے والا میرے اوپر گزرا ہے اس پر وہ سوال کرنے والا پہاڑ خوش ہوتا ہے۔ قال الھیثمی روی الطبرانی ورجالہ رجال الصحیح اہ وھو فی حکم المرفوع کما فی حاشیۃ الحصن الحصین لانہ لا یدرک بالرائی۔
سورة نور میں فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاَتَہٗ وَتَسْبِیحَہٗ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِمَا یَفْعَلُوْنَ ) (کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں وہ جو سب آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے جو پر پھیلائے ہوئے ہیں سب کو اپنی اپنی دعا اور اپنی اپنی تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے۔ )
اس آیت سے معلوم ہوا کہ آسمان اور زمین کے درمیان جو چیزیں ہیں وہ نہ صرف یہ کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں بلکہ دعا بھی کرتی ہیں اور ہر ایک کو اپنی اپنی تسبیح اور اپنی اپنی دعا کا طریقہ معلوم ہے۔
حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک عالم کے لیے آسمانوں والے اور زمین والے استغفار کرتے ہیں اور مچھلیاں بھی پانی میں اس کے لیے استغفار کرتی ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 34)
صحیح بخاری (ص 507) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ تم یہودیوں سے جنگ کرو گے اور تمہیں ان پر غلبہ دے دیا جائے گا پتھر بھی یوں کہیں گے کہ اے مسلمان یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے تو اسے قتل کردے البتہ غرقد کا درخت ایسا نہ کرے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔
اور استوانہ حنانہ کا قصہ تو معروف ہی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ منبر پر خطبہ دینے کے لیے تشریف لے گئے تو وہ کھجور کا تنا جس کے پاس کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیا کرتے تھے بچے کی طرح رونے لگا آپ منبر سے اترے اور اسے چمٹایا تو وہ بچہ کی طرح روں روں کرنے لگا جیسے بچہ چپکایا کیا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اس وجہ سے رویا کہ اس کے پاس جو اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا اسے سنتا تھا (صحیح بخاری ص 506) ان آیات اور روایات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ ہم جن چیزوں کو غیر ذی روح سمجھتے ہیں اللہ کی تسبیح میں اور دعا میں ان کی مشغولیت رہتی ہے، یہ چیزیں ذکر اللہ سے مانوس ہوتی ہیں اہل علم کے لیے استغفار کرتی ہیں اور دشمنان اسلام کے کسی جگہ چھپ جانے کی خبر دینا بھی ان کے اعمال میں شامل ہے۔
قال القرطبی فی تفسیرہ (ج 10 ص 268) فالصحیح ان الکل یسبح للاخبار الدالۃ علی ذلک ولو کان ذلک التسبیح تسبیح دلالۃ فای تخصیص لداود وانما ذلک تسبیح المقال بخلق الحیاۃ والانطاق بالتسبیح کما ذکرنا وقد نصت السنۃ علی ما دل علیہ ظاھر القرآن من تسبیح کل شی فالقول بہ اولی واللّٰہ اعلم۔
قلت لکن بقی الاشکال ان الملحدین لا یسبحون باللسان فلایوجد منھم التسبیح المقالی ووجہ الجواب اما بعد ذکرنا من قبل واما تخصیصھم من العموم او تعمیم التسبیح فلیثمل الحالی والمقالی۔
ولعل الاولی فیہ ان یلتزم حمل التسبیح علی ما ھو الاعم من الحالی والمقالی واجیب بان استثنا اولٰءِک معلوم بقرینۃ السباق واللحاق۔
آیت کے ختم پر فرمایا (اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا) (بلاشبہ وہ حلیم ہے غفور ہے) اس میں مشرکین کے اس سوال کا جواب ہے کہ ہم غلط راہ پر ہیں تو ہم کو سزا کیوں نہیں مل جاتی، اللہ تعالیٰ حلیم بردباد ہے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا حکمت کے مطابق جب چاہے گا دنیا میں بھی سزا دے گا اور آخرت کی سزا تو مشرکین کے لیے لازم ہی ہے، وہ غفور بھی ہے اگر شرک سے توبہ کرکے اس کا بھیجا ہوا دین قبول کرلو گے تو وہ سب معاف فرما دے گا۔
Ayahs 17:45–46جو لوگ آخرت کے منکر ہیں ان کے دلوں پر پردہ اور کانوں میں ڈاٹ ہے قرآن کو بدنیتی سے سنتے ہیں اور آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان پر جادو کردیا گیا
مشرکین مکہ جو توحید و رسالت اور آخرت کے منکر تھے اور قرآن کو سن کر نہ تدبر کرتے تھے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیتے ہیں اس پردہ کی وجہ سے وہ آپ کی باتوں کو اور آپ کے مرتبہ کو سمجھ نہیں پاتے اور ہم ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتے ہیں (جب کوئی شخص بہرے پن کی وجہ سے بات نہیں سن پاتا تو کہتے ہیں کہ یہ ثقل سماعت کا مریض ہے اور اس کا بامحاورہ ترجمہ یہ لکھا گیا کہ ہم ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دیتے ہیں۔ )
جب انسان بار بار کی یاد دہانی پر توجہ نہیں دیتا کھلی کھلی بات اور واضح معجزات سامنے ہوتے ہوئے حق قبول نہیں کرتا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق سننے، سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس کو سورة صف میں فرمایا (فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ) (سو جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو اور ٹیڑھا ہی کردیا) دنیا میں جو شخص اپنے لیے ہدایت کو اختیار کرے گا اس کو اسی پر مدد کی جائے گی اور اسی کے مطابق اس کے لیے اسی کی طرف سے آسانی فراہم ہوتی رہے گی اور جو شخص اپنے لیے گمراہی کو اختیار کرے گا اس کے لیے گمراہی کے راستے کھلتے رہیں گے اور آخرت میں ہر شخص اپنے عقائد و اعمال کے اعتبار سے جنت یا دوزخ میں چلا جائے گا۔
قال صاحب الروح قولہ تعالیٰ مَسْتُوْرًا ای ذا ستر وعن الاخفش انہ بمعنی ساتر او مستورا عن الحس علی ظاھرہ ویکون بیانا لانہ حجاب معنوی لا حسی وقولہ تعالیٰ ان یَّفْقَھُوْہُ ھو مفعول لہ ای کراھۃ ان یقفوا علی کنھہ ویعرفوا انہ من عبد اللّٰہ تعالیٰ انتھی بحذف۔
(وَ اِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ وَلَّوْا عَلآی اَدْبَارِھِمْ نُفُوْرًا) (اور جب آپ قرآن میں صرف اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں تو وہ پشت پھیر کر نفرت کرتے ہوئے چل دیتے ہیں) مشرکین کا طریقہ تھا کہ جب قسم کھاتے تھے تو اللہ تعالیٰ کی قسم کے ساتھ بتوں کی قسم بھی کھالیتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے لیکن ساتھ ہی ان کے دل بتوں کی عظمت سے بھی لبریز تھے اور زیادہ تر بتوں ہی کا تذکرہ کرتے تھے۔ کبھی بڑی مصیبت میں گھر گئے تو اللہ تعالیٰ کو بھی یاد کرلیتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے سامنے توحید کی دعوت رکھی تو انہیں یہ بہت ناگوار ہوا آپ جب قرآن مجید تلاوت فرماتے اور یہ لوگ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات وحدہ لا شریک کا ذکر سنتے تو نفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے تھے۔
Ayah 17:47(نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِہٖ ) (الآیۃ) اور جب قرآن سننے لگتے تھے تو اس کو سمجھنے اور اس کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے اور قبول کرنے کے لیے نہیں سنتے تھے۔ بلکہ قرآن کی آواز کو دبانے کے لیے بیہودہ باتیں کرتے تھے اور قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کا مذاق بناتے تھے اور آپس میں چپکے چپکے تکذیب کرتے جاتے تھے یعنی قرآن کو جھٹلاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ تم تو بس ایسے آدمی کا اتباع کرتے ہو، جس پر جادو کیا ہوا ہے یعنی اگر تم نے ان کا اتباع کرلیا تو مسحور آدمی کا اتباع کرو گے۔
Ayah 17:48قال صاحب الروح ای ما تتبعون ان وجد منکم الاتباع فرضا ان لوگوں کی یہ بات نقل کرکے کہ وہ آپ کو مسحور بتاتے ہیں ارشاد فرمایا (اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ ) آپ دیکھ لیجیے کہ آپ کے لیے کیسے کیسے القاب تجویز کرتے ہیں کبھی ساحر کبھی شاعر کبھی مسحور کہتے ہیں اور کبھی مجنون بتاتے ہیں۔ (فَضَلُّوْا) (لہٰذا وہ گمراہ ہوگئے راہ حق سے بھٹک گئے) (فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا) (سو یہ لوگ راہ یاب نہیں ہونگے) کیونکہ قبولیت کی استعداد ضائع کرچکے ہیں۔
Ayahs 17:49–52منکرین بعث کا تعجب کہ ریزہ ریزہ ہو کر کیسے زندہ ہوں گے، ان کے تعجب کا جواب کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا
گزشتہ آیات میں مشرکین کے انکار وحی کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کے انکار بعث کا تذکرہ ہے۔ جب کفار کے سامنے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے اور قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونے اور پیشی اور حساب قائم ہونے کی بات سامنے آئی تو اس کی تکذیب کرنے لگے اور طرح طرح سے حجتیں نکالنے لگے انہوں نے کٹ حجتی کرتے ہوئے یوں بھی کہا کہ جب قبروں میں صرف ہڈیاں ہی رہ جائیں گے اور چورا چورا ہوچکی ہونگی تو کیا ہم دوبارہ نئے سرے سے زندہ ہونگے اور قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی، ان کی یہ بات اوپر (وَ قَالُوْٓا ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا) میں ذکر فرمائی اور اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تم پتھر ہوجاؤ یا لوہا بن جاؤ یا کوئی بھی ایسی چیز بن جاؤ جس میں تمہارے نزدیک زندگی آجانا بہت ہی بعید ہو کچھ بھی بن جاؤ موت کے بعد ضرور اٹھائے جاؤ گے ہڈیاں تو پھر بھی پہلے باحیات تھیں جسے تسلیم کرتے ہو پتھر اور لوہے میں تو تمہارے نزدیک حیات بالکل ہی نہیں اور نہ انہیں قابل حیات سمجھتے ہیں تم یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان سب چیزوں میں زندگی آسکتی ہے۔ (فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا) مذکورہ چیزوں کے زندہ ہونے کی قابلیت کی بات سن کر وہ کہیں گے کہ ہمیں دوبارہ کون زندہ کرے گا اس کے جواب میں فرما دیا۔ (قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا تھا ہی دوبارہ زندہ فرما دے گا) اس نے تمہیں منی کے نطفہ سے پیدا فرمایا تھا جسے تم مانتے ہو تو اب اس کی قدرت کا کیوں انکار کرتے ہو جس نے پہلی دفعہ پیدا فرمایا وہ دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی قادر ہے بلکہ انسانوں کی سمجھ کے اعتبار سے سوچا جائے تو دوبارہ پیدا فرمانا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے آسان ہونا چاہیے یہ کیسی بھونڈی سمجھ کی بات کرتے ہو کہ جس نے پہلے پیدا فرمایا اور وہ دوبارہ پیدا نہ کرسکے۔ قال تعالیٰ (وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَءُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ) (سورۃ الروم)
سورة یٰسٓ شریف میں فرمایا (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ) (اور انسان نے ہماری شان میں مثال بیان کردی اور اپنی شان مخلوقیت کو بھول گیا وہ کہنے لگا کہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب کہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہونگی) اس کے جواب میں فرمایا (قُلْ یُحْیْیْہَا الَّذِیْ اَنْشَاَھَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ) (آپ فرما دیجیے کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار زندہ فرمایا تھا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ابتداً پیدا کرنے پر بھی ہے اور دوبارہ پیدا کرنے پر بھی ہے جب یہ بات سامنے آئی تو امکان وقوع کے انکار کی کوئی وجہ نہ رہی تو اب دوسری طرح انکار کرنے لگے اس کو فرمایا (فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُءُوْسَھُمْ ) عنقریب وہ انکار کرتے ہوئے اپنے سروں کو ہلائیں گے اور تکذیب اور استہزاء کے طور پر کہیں گے کہ اس کا وقوع کب ہوگا یعنی قیامت کب آئے گی ؟ مطلب یہ ہے کہ ہماری سمجھ میں تو یہ بات آتی نہیں کہ دوبارہ زندہ ہونگے اور حشر نشر ہوگا اگر ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا، یہ بھی انسان کی جاہلانہ باتوں میں سے ہے کہ اگر سچی خبر کے وقوع میں دیر لگ جائے تو اس دیر لگنے کو امتناع پر محمول کرلیتا ہے اور یوں سمجھتا ہے کہ اب تک اس کا وقوع نہیں ہوا تو آئندہ کبھی بھی نہیں ہوگا، قرآن مجید میں کئی جگہ منکرین کا انکار نقل کیا ہے اور فرمایا ہے (وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو) سورة سبا میں ان کا جواب دیتے ہوئے فرمایا (قُلْ لَّکُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ تمہارے لیے خاص دن کا وعدہ ہے کہ اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو) یعنی قیامت اپنے وقت پر آجائے گی۔ دیر لگنا دلیل اس بات کی نہیں کہ آنی ہی نہیں۔
یہاں سورة اسراء میں فرمایا (قُلْ عَسآی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا) (آپ فرما دیجیے کہ وہ عنقریب ہوجانے ہی والا ہے) یعنی وقوع قیامت میں گو بظاہر دیر لگ رہی ہے لیکن چونکہ اس کو آنا ہے اس کا آنا یقینی ہے اس لیے وہ قریب ہی ہے جو گزر گیا وہ دور ہوگیا اور جو آنے والا ہے وہ قریب ہے، سورة انعام میں فرمایا (اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ) (بلاشبہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آنے والی ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ )
آخر میں فرمایا (یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہٖ ) یعنی قیامت کا وقوع اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ تمہیں بلائے الحمد للہ کہتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرو گے (یعنی زندہ بھی ہوگے اور میدان حشر میں بھی حاضر ہوگے اور حاضر ہونا ہی پڑے گا اور اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کا اقرار کرتے ہوئے اللہ کی تعریف بھی بیان کرو گے) صاحب روح المعانی نے عبد بن حمید سے نقل کیا ہے کہ جب قبروں سے نکلیں گے تو سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ پڑھتے ہوئے نکلیں گے اور کافروں کے منہ سے بھی یہی کلمات نکلیں گے اس وقت ان کے پڑھنے سے ان کو کوئی نفع نہ ہوگا۔
(وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا) (اور یوں خیال کرو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ہو) یعنی تم خیال کرو گے کہ قبر میں اور دنیا میں زیادہ دن نہیں رہے قیامت کا دن ہولناک ہوگا اور سابق زندگی کو بھلا دے گا اور یوں سمجھیں گے کہ بس اس سے پہلے تھوڑی سی زندگی گزاری ہے۔
Ayah 17:53بندوں کو اچھی باتیں کرنے کا حکم، بعض انبیاء بعض انبیاء سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی
ان آیات میں اول تو نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے یہ حکم دیا کہ آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو، بہتر کے عموم میں نرمی سے بات کرنا اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرنا اور حکمت و موعظت کی وہ سب صورتیں داخل ہیں جن سے مخاطب متاثر ہوسکے اور حق قبول کرسکے چونکہ زمانہ نزول قرآن میں مشرکین اور کفار سے باتیں ہوتی رہتی تھیں اور ان لوگوں کی طرف سے بےت کے سوال و جواب بھی ہوتے تھے، جن میں سے اوپر کی آیتوں میں بعض باتوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور اس سے مسلمانوں کو غصہ آجانے اور اس کی وجہ سے نامناسب صورت حال پیش آجانے کا احتمال تھا اس لیے حکم دیا کہ تبلیغ کرنے میں اچھا طریقہ اختیار کریں سختی بھی نہ ہو بدکلامی بھی نہ ہو جسے (وَ جَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) سے تعبیر فرمایا ہے جو سورة نحل کے آخری رکوع میں ہے وہاں ہم نے حکمت و موعظت کے طریقے بیان کردئیے ہیں۔
پھر فرمایا (اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَھُمْ ) (بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈال دیتا ہے) یعنی وہ منتظر رہتا ہے کہ کب کسی بات کا بہانہ ملے اور اسے مومنین اور کافرین کے درمیان ایسے بگاڑ کا ذریعہ بنا دے جس سے کافر اور زیادہ بد دل ہوجائیں اور ایمان سے مزید دور ہوتے جائیں۔ قال صاحب الروح ای یفسد ویھیج الشربین المومنین والمشرکین بالمخاشنۃ فلعل ذلک یودی الی تاکد العناد و تمادی الفساد
(اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا) (بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے) جب اس کا یہ حال ہے تو فساد ڈالنے سے کب چوکے گا۔
Ayah 17:54پھر فرمایا (رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِکُمْ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْکُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْکُمْ ) یعنی تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے اگر چاہے تم پر رحم فرمائے یا اگر چاہے تم کو عذاب دے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ مسلمان مشرکین سے یہ بات کہیں کہ ایمان کی توفیق دیکر رحم فرمانا یا کفر پر موت دیکر عذاب دینا یہ سب تمہارے رب کی مشیت کے تحت ہے یہ ایک عمومی بات کافروں اور مشرکوں سے کہی جائے تو وہ اس میں غور کریں گے اگر بالتصریح یوں کہو گے کہ تم دوزخی ہو تو ممکن ہے کہ وہ مزید دور کرنے کا ذریعہ بن جائے عام مضمون مومنین اور کافرین کے لیے ہو اس میں کوئی بعد نہیں۔
پھر فرمایا (وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ وَکِیْلًا) (اور ہم نے آپ کو ان پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا) صاحب روح المعانی اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ کا کام بات پہنچانا ہے زبردستی بات منوانا اور اسلام قبول کروانا آپ کے ذمہ نہیں آپ اور آپ کے ساتھی مدارات سے کام لیں اور ان سے جو تکلیفیں پہنچیں انہیں برداشت کریں۔ ثم قال صاحب الروح ھذا قبل نزول آیۃ السیف اہ وھذا لا یحتاج الیہ فی ھذا المقام لان اللین المداراۃ مرغوب فی مقام الدعوۃ والارشاد اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس میں اہل ایمان کو خطاب ہے کہ آپس میں میل محبت اخوت اور نرم مزاجی کے ساتھ رہیں اور شیطان کو اپنے درمیان شر و فساد داخل کرنے کا موقعہ نہ دیں۔ (ذکرہ القرطبی ج 10 ص 277)
Ayahs 17:55–56اس کے بعد فرمایا (وَ رَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (اور آپ کا رب ان سب کو خوب جانتا ہے جو آسمان میں ہیں اور زمین میں ہیں) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس میں مشرکین کی اس بات کا جواب ہے کہ ابی طالب کا یتیم تو نبی بن جائے جبکہ اس کے ساتھیوں کے بدن پر کپڑا بھی نہیں اور پیٹ میں روٹی نہیں اور رؤسا اور اکابر اور سردار (جن کے پاس دولت و ثروت ہے) وہ نبوت سے محروم رہ جائیں یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں سب ہماری مخلوق ہے ہمیں ان کے احوال ظاہرہ اور احوال باطنہ سب معلوم ہیں وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے نبوت سے سرفراز فرما دے اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ اس نے جسے چاہا نبی بنایا اور جسے نبی بنا دیا تم پر اس کی اطاعت فرض ہوگئی۔ وھذا لقولہ تعالیٰ فی سورة الانعام (اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ) (اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنا پیغام بھیجتا ہے) پھر فرمایا (وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعْضٍ ) نبوت بھی اللہ نے جس کو چاہی عطا فرمائی اور انبیاء کرام میں جس کو جس پر چاہی فضیلت دی، فضیلتوں کی کچھ تفصیل سورة بقرہ کی آیت کریمہ (تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ) کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ (وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا) (ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔ )
علامہ بغوی معالم التنزیل (ج 3/120) میں لکھتے ہیں کہ زبور ایک سو پچاس سورتوں پر مشتمل تھی جو دعا اور اللہ تعالیٰ کی ثناء اور تمجید پر مشتمل تھی اس میں فرائض و حدود اور حلال و حرام کے احکام نہیں تھے اصل زبور تو اب سامنے نہیں جس کا مطالعہ کرکے اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہا جاسکے ممکن ہے کہ اس میں کچھ احکام ہوں اور اکثر کتاب دعا وثناء پر مشتمل ہو حضرت داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے اور حضرت انبیاء بنی اسرائیل شریعت موسویہ کے پابند تھے حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے سب سے آخری نبی ہیں انہوں نے بھی بنی اسرائیل سے یوں فرمایا (وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰیۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ) اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ انہوں نے بعض احکام میں بحکم الٰہی تغیر کیا تھا اور عام احکام ان کی شریعت میں وہی تھے جو شریعت موسویہ میں تھے اس بات کو سامنے رکھا جائے تو اس بات کے سمجھنے میں کوئی بعد نہیں رہتا کہ زبور شریف میں احکام اور حدود و فرائض نہ ہوں۔
Ayah 17:57اللہ تعالیٰ کے سوا جو معبود بنا رکھے ہیں وہ کوئی ذرا سی تکلیف بھی دور نہیں کرسکتے کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہی ہلاک نہ کریں یا عذاب نہ دیں
مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی پرستش کرتے تھے اور کرتے ہیں ان میں سے بہت سے تو بتوں کے پرستار تھے انہوں نے شیاطین کی صورتیں دیکھ کر مجسمے بنالیے تھے اور بہت سے لوگ فرشتوں کو اور جنات کو اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کی والدہ کو معبود مانتے تھے جن کی عبادت کی جاتی ہے اسے نفع کے لیے اور دفع مضرت کے لیے پکارا جاتا ہے۔
آیت بالا میں فرمایا کہ تم جن کو اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو تمہاری کوئی تکلیف دکھ درد، قحط دور نہیں کرسکتے اور یہ بھی نہیں کرسکتے کہ تم سے ہٹا کر کسی دوسرے کو اس میں مبتلا کردیں اور یہ بھی نہیں کرسکتے کہ ایک تکلیف ہٹا کر دوسری تکلیف پہنچا دیں، جنات ہوں یا فرشتے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا ان کی والدہ یا کوئی بھی دیوی دیوتا ہو انہیں کسی ضرر اور شر کے دفع کرنے اور کوئی بھی نفع پہنچانے کی کچھ بھی قدرت نہیں ہے نفع و ضرر پہنچانے کی قدرت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
جن لوگوں کو اللہ کے سوا نفع و ضرر اور حصول منفعت کے لیے پکارتے ہو وہ تو خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں وہ اپنے رب کی طرف قریب ہونے کا ذریعہ تلاش کرتے ہیں طاعت و عبادت میں لگے رہتے ہیں اور انہیں یہ فکر رہی ہے کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ سے قریب تر ہوجائیں (اس سے قرب معنوی مراد ہے) وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں پھر جو لوگ خود ہی اپنے کو خالق جل مجدہ کا محتاج سمجھتے ہیں ان سے کیوں مانگتے ہو ؟ جس ذات پاک سے وہ مانگتے ہیں اسی سے تم بھی مانگو۔
صحیح بخاری (ج 2/685) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو جنات کی عبادت کرتے تھے وہ جنات تو مسلمان ہوگئے لیکن ان کی عبادت کرنے والے برابر ہی ان کی عبادت میں لگے رہے اور اپنا دین باطل نہیں چھوڑا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
بتوں کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ وہ غیر ذی روح ہیں وہ کسی کی کیا مدد کرسکتے ہیں جو بندے صاحب عقل و فہم ہیں اور جنہیں اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہے وہ بھی کوئی دفع مضرت نہیں کرسکتے۔ الا ماشاء اللہ
حتیٰ کہ وہ اپنی جانوں کو بھی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ کما قال اللّٰہ تعالٰ (قُلْ لَّآ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآء اللّٰہُ ) (آپ فرما دیجیے میں اپنی جان کے لیے کسی نفع اور ضرر کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے)
(اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا) (بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب ایسا ہے جس سے ڈرا جائے) کیونکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور فرشتے اور حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی راہ پر چلنے والے ان سب حضرات کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اس لیے وہ اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ایسا ہے جس سے ڈرنا چاہیے۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ ) سے معلوم ہوا کہ عبادت وطاعت میں مشغول ہوتے ہوئے امید اور خوف دونوں برابر ساتھ رہنے چاہئیں پھر لکھا ہے کہ علماء نے فرمایا ہے کہ یہ صورت حال موت کے وقت سے پہلے ہونی چاہیے اور جب موت آنے لگے تو اپنی امید کو خوف پر غالب کرلے، نیز یہ بھی لکھا کہ آیت بالا سے معلوم ہوا کہ عبادت کرتے ہوئے عذاب سے بچنے اور رحمت کی امید باندھنے کا جذبہ ہونا کمال عبادت کے خلاف نہیں ہے اور وہ جو بعض عابدین نے کہا ہے کہ میں جنت کی امید اور دوزخ کے خوف سے عبادت نہیں کرتا اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں مستحق عبادت ہے اگر جنت اور دوزخ نہ ہوتے تب بھی اس کی عبادت کرنا لازم ہوتا والحق التفصیل وھو ان من قالہ اظھار اللاستغناء عن فضل اللّٰہ تعالیٰ ورحمتہ فھو مخطئ کافر ومن قالہ لاعتقاد ان اللّٰہ عزوجل اھل للعبادۃ لذاتہ حتی لولم یکن ھناک جنۃ ولا نار لکان اھلا لان یعبد فھو محقق عارف کما لا یخفی۔ (روح المعانی ص 100 ج 15)
Ayah 17:58اس کے بعد فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَا عَذَابًا شَدِیْدًا) (اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کردیں یا اسے سخت عذاب نہ دیں) آیت کا مفہوم ظاہر ہے کہ قیامت سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک ہونگی یعنی ان بستیوں کے رہنے والے اپنی اپنی موت مرجائیں گے اور بہت سی بستیاں اسی طرح ہلاک ہوں گی کہ ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا چاہے قتل و خون سے ہلاک ہوں اور خواہ مختلف قسم کی مصیبتوں اور بلاؤں میں مبتلا ہوکر۔ قیامت کے دن صور پھونکے جانے سے جو ہلاک ہوں گی وہ بھی اسی ذیل میں آگئیں۔ لہٰذا یہ بات عمومی طور پر اور مجموعی حیثیت سے ثابت ہوگئی کہ کوئی بھی بستی ایسی نہیں ہے جو بلاعذاب کے یا عذاب کے ذریعے ہلاک نہ ہو (کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ ) میں بھی یہ مضمون ہے کہ ہر جان کو موت آجانا لازم ہے موت تو سب کو آنی ہی ہے البتہ اہل کفر و اہل معصیت کو بعض مرتبہ عذاب میں مبتلا کرکے ہلاک کردیا جاتا ہے۔
ہلاک تو ساری بستیاں ہوں گی البتہ بعض بستیوں کی ہلاکت کا خصوصی تذکرہ بھی احادیث شریفہ میں آیا ہے ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حبشہ والوں کو چھوڑے رکھو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں کیونکہ کعبہ کا خزانہ حبشہ ہی کا ایک شخص نکالے گا جس کی چھوٹی چھوٹی پنڈلیاں ہوں گی۔ (رواہ ابوداؤد باب ذکر الحبشۃ کتاب الملاحم)
اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا گویا میں اس کالے شخص کو دیکھ رہا ہوں جس کی ٹانگیں کجی کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہوں گے کہ وہ کعبہ شریف کا ایک ایک پتھر کرکے اکھاڑ رہا ہے نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ بستیوں میں جو سب سے آخری بستی ویران ہوگی وہ مدینہ منورہ ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 240)
حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ لوگ مدینہ منورہ کو بہت اچھی حالت میں چھوڑ دیں گے (اس میں کوئی بھی نہ رہے گا) اور اس میں صرف جانور اور درندے رہ جائیں گے جو رزق کی تلاش کرتے پھرتے ہونگے اور سب سے آخر میں بنی مزینہ کے دو چرواہے لائے جائیں گے وہ اپنی بکریاں لے کر چیخ رہے ہوں گے ان کا یہ سفر مدینہ کے ارادہ سے ہوگا۔ مدینہ میں آئیں گے تو اسے خالی میدان پائیں گے یہاں تک کہ جب ثنیۃ الوداع میں پہنچیں گے تو چہرے کے بل گرپڑیں گے اور ایک روایت میں یوں ہے کہ وہ اس میں درندوں کو پائیں گے۔ (صحیح بخاری ص 252)
شارح مسلم علامہ نووی ؓ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ آخری زمانہ میں قرب قیامت میں ہوگا پھر فرمایا (کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا) (یہ بات کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے) یعنی یہ امر طے شدہ امور میں سے ہے اس کا وقوع ہونا ہی ہونا ہے اس میں تخلف نہیں ہوسکتا۔
Ayah 17:59فرمائشی معجزات ہم صرف اس لیے نہیں بھیجتے کہ سابقہ امتوں نے ان کی تکذیب کی
معالم التنزیل (ج 3/121) اور روح المعانی (ص 103 ج 15) بحوالہ حاکم و احمد و نسائی و طبرانی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ صفا پہاڑ کو سونا بنا دیجیے اور مکہ میں جو پہاڑ ہیں ان کو ہٹا دیجیے تاکہ ہمیں کھیتی کرنے کا موقع مل جائے (اگر ایسا ہوجائے تو ہم آپ کی رسالت پر ایمان لے آئیں گے) اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے رسول ﷺ پر وحی بھیجی کہ آپ چاہیں تو میں ان کو ڈھیل دے دوں اور اگر چاہیں تو ان کا سوال پورا کردوں پھر اگر ایمان نہ لائے تو انہیں ہلاک کردوں گا۔ جیسے ان سے پہلے (ایمان نہ لانے والوں پر) معجزات خاصہ طلب کرنے والوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عرض کیا کہ اے اللہ میں چاہتا ہوں کہ آپ انہیں ڈھیل دے دیں۔ (ممکن ہے ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں اور ہلاکت سے بچ جائیں) اس پر اللہ جل شانہ نے آیت بالا نازل فرمائی اور یہ بتادیا کہ یہ لوگ جو فرمائشی معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں ایسے معجزات ظاہر کرنے پر ہمیں قدرت ہے لیکن اس لیے ظاہر نہیں کرتے کہ جیسے پہلی امتوں نے فرمائشی معجزے طلب کیے پھر وہ ظہور میں آگئے تو اس پر بھی ایمان نہ لائے اور ہلاک کردئیے گئے اور اگر اس امت کے سامنے بھی فرمائشی معجزے ظاہر کردئیے جائیں پھر ایمان نہ لائیں تو تکوینی قانون کے مطابق یہ بھی ہلاک کردئیے جائیں گے جیسا کہ سابقہ امتوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے (جو معجزات اب تک ظاہر ہوچکے ہیں طالب حق کے لیے وہ کافی ہیں) اور یہ امت محمدیہ پر مہربانی ہے کہ ان کو ڈھیل دی جا رہی ہے فرمائشی معجزات ظاہر نہیں کیے جاتے تاکہ تکذیب کے جرم میں جلدی ہلاک نہ ہوجائیں۔
اس کے بعد بطور مثال قوم ثمود کی اونٹنی کا تذکرہ فرمایا (وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْا بِھَا) (اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی جو بصیرت کا ذریعہ تھی سو ان لوگوں نے اس کے ساتھ ظلم کا معاملہ کیا) قوم ثمود نے اپنے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ پہاڑ سے اونٹنی نکل آئے تو ہم ایمان لے آئیں گے جب ان کی فرمائش کے مطابق پہاڑ سے اونٹنی نکل آئی اور انہیں بتادیا گیا کہ ایک دن یہ پانی پیئے گی اور ایک دن تمہارے مویشی پانی پئیں گے تو ان لوگوں نے اس اونٹنی پر ظلم کیا اور اسے قتل کرڈالا لہٰذا ان پر عذاب آگیا اور ہلاک کردئیے گئے حالانکہ ان پر لازم تھا کہ جب ان کی فرمائش پوری کردی گئی اور پہاڑ سے اونٹنی نکل آئی تو فوراً ایمان لے آتے، چونکہ ثمود عرب ہی میں سے تھے اور ان کے مکانات (جو انہوں نے پہاڑوں میں بنا رکھے تھے) شام کو جاتے ہوئے قریش مکہ کی نظروں کے سامنے آتے رہتے تھے اس لیے فرمائشی معجزہ طلب کرکے ہلاک ہونے والوں کی مثال میں ان کا تذکرہ فرمایا۔
آخر میں فرمایا (وَ مَا نُرْسِلُ بالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا) (اور ہم آیات کو صرف ڈرانے کے لیے بھیجا کرتے ہیں) یعنی فرمائشی معجزات جو پہلی امتوں میں ظاہر ہوئے ہیں ان کا مقصد ڈرانا تھا کہ دیکھو معجزہ ظاہر ہوگا اور فرمائش کرنے والے ایمان نہ لائیں گے تو ہلاک کردئیے جائیں گے چناچہ وہ ایمان نہیں لاتے تھے اور ہلاک کردئیے جاتے تھے اور چونکہ اس امت کے ساتھ ایسا نہیں کرنا اس لیے ان کی فرمائش کے مطابق معجزات ظاہر نہیں کیے جاتے۔ قال صاحب الروح (ج 5/ 104) (والمراد بھا اما المقترحۃ فالتخویف بالاستیصال لانذارھا بہ من عادۃ اللّٰہ تعالیٰ ای ما نرسلھا الاتخویفا من العذاب المستاصل کالطیلعۃ لہ فان لم یخافوا فعل بھم ما فعل)
اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس آخری جملہ سے یہ عام چیزیں مراد ہیں جو کبھی کبھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں جیسے چاند اور سورج گرہن ہونا اور گرج اور بجلی کا ظاہر ہونا اور آندھیوں کا آنا اور زلزلوں کا پیش آجانا وغیرہ وغیرہ، ان حضرات کے قول کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ عام طور سے جو ہم نشانیاں بھیجتے ہیں ان کا مقصد ڈرانا ہی ہوتا ہے لوگ ان سے عبرت حاصل کریں اور حق قبول کریں اور حق پر جمے رہیں۔
Ayah 17:60آپ کے رب کا علم سب کو محیط ہے، آپ کی رؤیا اور شجرہ ملعونہ لوگوں کے لیے فتنہ میں پڑنے کا سبب ہیں
اس آیت میں اول تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خطاب کرکے یوں فرمایا کہ آپ وہ وقت یاد کریں جب ہم نے آپ کو یہ بتایا کہ آپ کا رب اپنے علم کے اعتبار سے سب لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اسے سب احوال ظاہرہ و باطنہ، گزشتہ موجودہ اور آئندہ سب کا علم ہے انہیں احوال میں سے یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ ایمان نہ لائیں گے اور بہت سے لوگ ایمان لاکر بعض آزمائشوں کی باتوں میں مبتلا ہو کر ایمان پر جمنے کی بجائے ایمان سے پھرجائیں گے۔
اس کے بعد یوں فرمایا کہ ہم نے جو کچھ آپ کو عجیب چیزیں دکھائیں اور قرآن میں جو ایک ملعون درخت کا ذکر کیا یہ دونوں چیزیں لوگوں کی آزمائش کے لیے ہیں کہ ان کو سن کر کون ایمان قبول کرتا ہے اور کون کفر ہی پر جما رہتا ہے اور کون ایمان قبول کرنے کے بعد کفر میں واپس چلا جاتا ہے۔
لفظ رؤیا عربی زبان میں رأی یریٰ سے فُعْلٰی کا وزن ہے یہ صیغہ عام طور سے خواب کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض مرتبہ بیداری میں دیکھنے کے لیے بھی مستعمل ہوا ہے۔ آیت بالا میں جو لفظ رؤیا آیا ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے اور (وَ الشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ ) سے زقوم کا درخت مراد ہے۔ (صحیح بخاری ج 2)
جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے رسول اللہ ﷺ کو بیداری میں معراج ہوئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک پہنچے وہاں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو نماز پڑھائی پھر آسمانوں پر تشریف لے گئے وہاں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ملاقاتیں ہوئیں البیت المعمور کو ملاحظہ فرمایا سدرۃ کو دیکھا وغیرہ وغیرہ پھر اسی رات میں واپس مکہ معظمہ تشریف لے آئے راستے میں قریش کا ایک قافلہ بھی ملا جب آپ نے صبح کو اپنے سفر کا تذکرہ فرمایا اور سفر کے مرئیات اور مشاہدات بیان فرمائے تو بعض وہ لوگ جو ایمان قبول کرچکے تھے مرتد ہوگئے اور قریش مکہ کو بڑا تحیر ہوا کہ ایک رات میں کوئی شخص اتنی دور جاکر کیسے واپس آسکتا ہے لہٰذا انہوں نے تکذیب کردی پھر بیت المقدس کی نشانیاں آپ سے معلوم کرنے اور شافی جواب ملنے اور تجارتی قافلہ کے واپس پہنچنے سے جس کے آنے کی آپ نے خبر دی تھی قریش کا منہ بند ہوگیا لیکن جن کی قسمت میں ایمان چھوڑنا تھا انہوں نے ایمان چھوڑ دیا معراج کی رات کی جو باتیں آپ نے بیان فرمائیں بلاشبہ وہ فتنہ تھیں یعنی ان میں آزمائش تھی جو بعض لوگوں کے گمراہ ہونے کا سبب بھی بن گئی (بعض افراد نے لفظ فتنہ کو یہاں گمراہی کے معنی میں لیا ہے)
اور (وَ الشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ ) سے زقوم کا درخت مراد ہے جو دوزخیوں کی غذا ہوگی جس کا ذکر سورة صف میں بھی ہے اور سورة واقعہ میں بھی سورة صٰفّٰت میں فرمایا ہے کہ (اِِنَّا جَعَلْنَاھَا فِتْنَۃً لِّلظّٰلِمِیْنَ ) (بےشک ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے سبب امتحان بنایا) یہ درخت دوزخیوں کو کھانے کو ملے گا اور بھوک کی وجہ سے باوجود ناگواری کے پیٹ بھر کر کھائیں گے پھر اوپر سے کھولتا ہوا گرم پانی پئیں گے جیسا کہ سورة واقعہ میں بیان فرمایا ہے۔ یہ درخت صورت میں سانپوں کے پھنوں کی طرح ہوگا اور دوزخ کی تہہ سے نکلے گا کما فی سورة الصّٰفّٰت اور بد مزہ اس قدر ہوگا کہ اگر اس کا ایک قطرہ دنیا میں ڈال دیا جائے تو تمام دنیا والوں کی روزی بگاڑ کر رکھ دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 503)
جب رسول اللہ ﷺ نے اس درخت کا تذکرہ فرمایا تو قریش مکہ مذاق اڑانے لگے ابو جہل نے کہا کہ ان کو دیکھو یہ کہتے ہیں کہ تم دوزخ میں ڈالے جاؤ گے اور کہتے ہیں کہ اس میں ایسی آگ ہوگی جو پتھروں کو جلا دے گی پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں سے درخت بھی نکلے گا درخت کو تو آگ جلا دیتی ہے وہاں درخت کیسے ہوگا ؟ وہاں عبد اللہ بن زبعری بھی تھا جو اس وقت مشرک تھا اس نے کہا کہ محمد ﷺ ہمیں زقوم سے ڈراتے ہیں ہمارے نزدیک تو زقوم یہی مکھن اور کھجور ہے، ابوجہل کہنے لگا کہ اے لونڈی ہمیں زقوم کھلا دے وہ مکھن اور کھجوریں لے آئی تو کہنے لگا آؤ لوگو ! زقوم کھالو جس سے محمد ﷺ تم کو ڈرا رہے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زقوم کی کیفیت سورة صافات میں بیان فرمائی۔ (ذکرہ البغوی فی معالم التنزیل ج 3/122)
زقوم کے درخت کو جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے دوزخیوں کے عذاب کے ذیل میں فرمایا تھا اسے مشرکین نے کھجور اور مکھن پر محمول کرلیا اور مذاق بنایا۔ جس سے مزید کفر میں ترقی کر گئے لہٰذا واقعہ معراج کی طرح زقوم کا تذکرہ بھی لوگوں کے لیے موجب فتنہ بن گیا۔
درخت زقوم کو جو ملعونہ فرمایا اس کے بارے میں علامہ بغوی لکھتے ہیں کہ اہل عرب کھانے کی ہر مکروہ چیز کو طعام ملعون کہتے تھے لہٰذا زقوم کو شجر ملعونہ فرما دیا۔
آخر میں فرمایا (وَ نُخَوِّفُھُمْ فَمَا یَزِیْدُھُمْ اِلَّا طُغْیَانًا کَبِیْرًا) (یعنی ہم ان کو ڈراتے ہیں آخرت کے عذاب کی خبریں سناتے ہیں لیکن وہ الٹا اثر لیتے ہیں اور ان کی سرکشی اور زیادہ بڑھتی چلتی جاتی ہے۔ )
Ayahs 17:61–63حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم سننے پر ابلیس کا جواب دینا کیا میں اسے سجدہ کروں جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ؟ پھر بنی آدم کو بہکانے کا عزم ظاہر کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جن پر تیرا قابو چل سکے ان پر قابو کرلینا
اللہ تعالیٰ نے جنات کو انسان سے پہلے پیدا فرمایا تھا جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی تھی اور آدم کو (جو سارے انسانوں کے باپ ہیں) مٹی سے پیدا فرمایا ابلیس جنات میں سے تھا یہ عالم بالا میں فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور عبادت الٰہی اس کا شغل تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے آدم (علیہ السلام) میں روح ڈالنے کے بعد تمام فرشتوں کو اور ابلیس کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں (یہ سجدہ تعظیمی تھا جو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت میں منسوخ ہے) حکم سن کر سارے فرشتوں نے تو آدم کو سجدہ کرلیا لیکن ابلیس نے سجدہ نہیں کیا جب اللہ تعالیٰ نے سوال فرمایا (مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ ) (کہ تجھے سجدہ سے کیا چیز مانع تھی جب میں نے تجھے سجدہ کا حکم دیا) اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی کو غلط بتادیا اور اعتراض کر بیٹھا، کہنے لگا کہ مجھے آپ نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا میں اس سے افضل ہوں آپ نے اسے مجھ پر فضیلت دیدی اسے مسجود بنا دیا اور مجھے حکم دیدیا کہ میں اسے سجدہ کروں افضل اپنے کمتر کو سجدہ کیوں کرے آپ کا یہ حکم دینا ہی حکمت کے خلاف ہے۔ ابلیس کی حکم عدولی بےادبی اور بدتمیزی کی وجہ سے اسے ملعون قرار دیدیا اور عالم بالا سے ذلت کے ساتھ نکالا گیا (جس کی تفصیل سورة اعراف رکوع 2 میں اور سورة ص رکوع 5 میں مذکور ہے۔ )
جب شیطان مردود ہوگیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے اول تو قیامت تک زندہ رہنے کی مہلت طلب کی اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے ایک وقت معلوم کے دن تک مہلت دیدی اب تو وہ اللہ کی عزت کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو منتخب کرلیے گئے ہوں (یہ تفصیل سورة ص میں ہے) یہاں سورة بنی اسرائیل میں یوں ہے کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کو حکمت کے خلاف بتانے کے بعد یوں کہا (لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلًا) (آپ نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دیدی تو میں اس کی ساری ذریت کو بجز تھوڑے سے افراد کے اپنے قابو میں کرلوں گا) یہ وہی تھوڑے سے افراد ہیں جن کا استثناء سورة حجر اور سورة ص میں مذکور ہے ابلیس نے (اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ) کہہ کر استثناء کردیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور منتخب بندوں کو گمراہ کرنے سے اسی وقت ہار مان لی تھی جب اس نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی تھی ابلیس کو یہ معلوم تھا کہ یہ نئی مخلوق جو پیدا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں خلافت دینے کے لیے وجود بخشا ہے لہٰذا ان میں ایسے افراد ضرور ہونگے جو کار خلافت سنبھالیں گے اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہونگے۔
جب شیطان نے بنی آدم کو بہکانے کی قسم کھالی تو اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ جا اپنی کوششیں کرلینا جو لوگ تیرے پیچھے لگیں گے وہ اور تو سب کو جہنم میں داخل کردوں گا سورة ص میں فرمایا (لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (یہ بات ضروری ہے کہ تو اور تیرے پیچھے چلنے والے سب کو دوزخ میں بھر دوں گا) اور یہاں سورة اسراء میں فرمایا (فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا) (تو اور جو لوگ تیرا اتباع کریں سب کی سزا جہنم ہے یہ جزا پوری اور بھرپور ہوگی)