Ayah 17:8آخر میں فرمایا (وَ جَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا) (اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے حصیر بنا دیا) حصیر کا ترجمہ بعض حضرات نے سجن یعنی جیل خانہ کیا ہے کیونکہ یہ حصر یحصر سے ماخوذ ہے جو روکنے کے معنی میں آتا ہے اور حضرت حسن نے فرمایا کہ اس سے فراش یعنی بچھونا مراد ہے حصیر چٹائی کو کہتے ہیں اسی نسبت سے انہوں نے اس کا یہ معنی لیا ہے آیت کریمہ (لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ ) سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
Ayahs 17:9–10قرآن سیدھے راستہ کی ہدایت دیتا ہے، اہل ایمان کو بشارت اور اہل کفر کو عذاب الیم کی خبر دیتا ہے
ان دونوں آیتوں میں اول تو یہ بتایا کہ قرآن جو راستہ بتاتا ہے وہ بالکل سیدھا راستہ ہے اس میں کوئی کجی نہیں، خیر ہی خیر ہے، دنیا میں اور آخرت میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کے انعامات ملتے ہیں، اہل ایمان جو اعمال صالحہ کرتے ہیں قرآن مجید انہیں خوشخبری دیتا ہے کہ موت کے بعد تمہارے لیے خیر ہی خیر ہے بہت بڑا اجر ہے نیز قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے درد ناک عذاب تیار فرمایا ہے، جو لوگ توحید اور رسالت کے قائل ہیں آخرت کو بھی مانتے ہیں آخرت کا منکر بھی مومن نہیں ہے جیسا کہ توحید اور رسالت کے منکر بھی مومن نہیں ہیں، ہر وہ شخص جو تینوں چیزوں میں سے کسی بھی چیز کا منکر ہو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے جس کی جگہ جگہ قرآن کریم نے خبر دی ہے۔
Ayah 17:11انسان اپنے لیے برائی کی بددعا کرتا ہے، اس کے مزاج میں جلد بازی ہے
اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ انسان اپنے لیے برائی کی دعا کی ہے اور جس طرح خیر کی دعا کرتا ہے اسی انداز میں شر کی دعا کر بیٹھتا ہے۔
تفسیر درمنثور (ص 166 ج 4) میں حضرت حسن سے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ جب انسان کو غصہ آتا ہے تو اپنی جان کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے مال کو اور اپنی اولاد کو برے الفاظ میں یاد کرتا ہے پھر اگر اس کی بددعا کے مطابق اللہ تعالیٰ اس پر تکلیف بھیج دے تو ناگوار معلوم ہوتا ہے پھر خیر کی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے خیر عطا فرما دیتا ہے، حضرت مجاہد سے بھی یہی بات نقل کی ہے، حقیقت میں انسان ذرا سی ناگواری کی وجہ سے بددعا کر بیٹھتا ہے حالانکہ دعا ہمیشہ خیر ہی کی مانگنی چاہیے اور عافیت ہی کا سوال کرنا چاہیے حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جانوں اور اپنی اولاد اور اپنے مالوں کے لیے بددعا نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی مقبولیت کی گھڑی میں اللہ جل شانہ سے سوال کر بیٹھو اور وہ تمہاری بد دعا قبول فرمالے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 194 از مسلم)
اس کے بعد انسان کا مزاج بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ کَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا) (اور انسان جلد باز ہے) دوسری آیت میں فرمایا ہے (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) (انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے) انسان کا یہ مزاج ہے کہ اس کے اعمال اور اشغال میں عجلت ظاہر ہوتی رہتی ہے اور یہ عجلت بہت سی مصیبتوں کا سبب بن جاتی ہے بہت سے ایکسیڈنٹ جلد بازی کی وجہ سے ہوتے ہیں اور بہت سے فیصلہ کرنے میں جلدی کرتے ہیں طلاق دے بیٹھتے ہیں اور ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے بعد میں پچھتاتے ہیں اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الاناۃ من اللّٰہ والعجلۃ من الشیطان کہ بردباری اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 429 از ترمذی)
ہر کام سوچ سمجھ کر اطمینان سے ہونا چاہیے البتہ آخرت کے کاموں میں جلدی کرے یعنی ان کی طرف آگے بڑھنے میں دیر نہ لگائے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ جلد بازی میں آخرت کا کام خراب کرلے، آخرت کے کام میں دیر نہ لگائے جیسے ہی موقع لگے انجام دیدے اور مشغول ہوجائے اسی کو (سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) میں فرمایا ہے۔
آخرت کے اعمال میں جلدی کا یہ مطلب نہیں کہ ناقص اعمال ادا کرے، عمل تو پورا ہو لیکن اس کی طرف متوجہ ہونے میں جلدی کرے جب شروع کرے تو اچھی طرح انجام دے، بہت سے لوگ نماز شروع کرتے ہیں تو کھٹاکھٹ تو چل میں آیا کے مطابق رکوع سجدہ ادا کرتے چلے جاتے ہیں ہر چیز ناقص ادا ہوتی ہے، جو شخص امام کے ساتھ نیت باندھے اور پھر امام سے پہلے سر اٹھائے اس کی جلد بازی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے، چونکہ گدھا بےوقوفی میں مشہور ہے اس لیے یہ بات فرمائی جب امام کے سلام کے ساتھ ہی نماز سے نکلنا ہے تو اس سے پہلے رکوع اور سجدہ کرنا بےوقوفی نہیں ہے تو کیا ہے ؟
Ayah 17:12اس آیت کریمہ میں رات اور دن کو دو نشانیاں بتایا ہے رات بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہے اور دن بھی ان دونوں کا آگے پیچھے آنا کم اور زیادہ ہونا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے جاننے کے لیے بہت بڑی نشانیاں ہیں۔ انسان عقل سے کام لے غور و فکر کرے تو ان دونوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتا ہے سورة فرقان میں ارشاد ہے (وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا) (اور وہ وہی ہے جس نے بنا دیا رات و دن کو آگے پیچھے آنے والا اس شخص کے لیے جو نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ کرے یا شکر گزار ہونے کا ارادہ کرے۔ )
رات اور دن کا وجود میں آنا کم و بیش ہونا کسی علاقہ میں کسی زمانہ میں رات کا زیادہ ہونا اور کسی علاقہ میں کسی زمانہ میں دن کا زیادہ ہونا سب اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے تحت ہے کسی کو اس میں ذرا بھی دخل نہیں ہے سب اہل عقل اس کو جانتے اور مانتے ہیں رات کی نشانی کے بارے میں فرمایا (فَمَحَوْنَآ اٰیَۃَ الَّیْلِ ) (ہم نے رات کی نشانی کو محو کردیا) یعنی اس کو روشنی والی چیز نہیں بنایا بلکہ تاریک رکھا تاکہ دنیا والے اس میں آرام کریں اسے سورة قصص میں (لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ ) فرما کر بیان فرمایا اور دن کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کی نشانی کو روشن بنا دیا، لوگ اس میں چلتے پھرتے ہیں روزی کماتے ہیں صنعت و حرفت کرتے ہیں، اور تجارت کے مشاغل میں لگتے ہیں اس کو (لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ ) فرما کر بیان فرما دیا، رات کی تاریکی اور دن کی روشنی دونوں میں حکمت ہے۔
رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے کا ایک اور فائدہ بھی بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے ذریعہ تم برسوں کی گنتی اور شمار سمجھ لو گے ان دونوں کے گزرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنے ہفتے گزرے اور کتنے مہینے ختم ہوئے اور کتنے سال گزر چکے ہیں ان کے گزرنے سے اپنی یا اپنے بچوں کی عمریں بھی معلوم ہوتی ہیں اور جو آپس میں معاہدے ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی معلوم ہوتا رہتا ہے کہ اتنی مدت گزر گئی اور اتنی مدت باقی رہ گئی، جب مدت معینہ ختم ہوجاتی ہے تو معاہدے بھی ختم ہوجاتے ہیں اور قرضوں کی ادائیگی کے اوقات بھی معلوم ہوجاتے ہیں، دینی امور جو اوقات سے متعلق ہیں مثلاً صبح شام اور رمضان ان کا علم بھی مہینوں کے گزرنے سے ہوجاتا ہے جو رات دن کے گزرنے آتے جاتے ہیں۔ تین سو پچپن دن گزرنے پر قمری سال پورا ہوجاتا ہے اور تین سو پینسٹھ دن گزرنے پر شمسی سال پورا ہوجاتا ہے، اگر رات ہی رات ہوتی یا دن ہی دن ہوتا تو مہینوں کا اور برسوں کا حساب نہ لگا پاتے۔
Ayah 17:13ان آیات میں بتایا ہے کہ انسان کا عمل ہی اسے نفع نقصان دے گا جیسے عمل کرے گا قیامت کے دن سامنے آجائیں گے فرشتے جو دنیا میں انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں انسان ان اعمال کو کتابی صورت میں دیکھ لے گا۔ اچھے عمل والوں کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا اور برے اعمال والوں کا اعمال نامہ پشت کے پیچھے سے اور بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، چونکہ ہر ایک کے اعمال کا بدلہ ملے گا اور انکار بھی کوئی فائدہ نہ دے گا اور ہر ایک کے اعمال کا نتیجہ لازمی طور پر سامنے آہی جائے گا اس لیے اسے (اَلْزَمْنٰہُ طٰٓءِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ ) سے تعبیر فرمایا۔ جس کا ترجمہ بعض اکابر نے یوں کیا ہے کہ ہم نے ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار بنا دیا ہے عمل کو طائر یعنی پرندہ سے کیوں تعبیر فرمایا ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اہل عرب جب کسی کام کے لیے جانا چاہتے تھے تو درخت کی ٹہنی ہلا دیتے تھے۔ داہنی طرف کو پرندہ اڑ جاتا تھا تو سمجھتے تھے کہ کام ہوجائے گا اسے فال نیک کہتے تھے اگر پرندہ بائیں طرف کو اڑ جاتا تو کہتے تھے کہ کام نہیں ہوگا اس کو بدفالی کہتے تھے اور اس کی وجہ سے سفر میں جانے سے رک جاتے تھے۔ اپنے کام کے لیے جانے نہ جانے کا مدار انہوں نے پرندہ کے اڑنے کو بنا رکھا تھا اور گویا پرندہ اڑنا ہی باعث عمل تھا اس لیے انسان کے اعمال کو آیت بالا میں طائر سے تعبیر فرمایا۔ پھر فرمایا (وَ نُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقٰہُ مَنْشُوْرًا) (اور اس کے لیے ہم کتاب نکال دیں گے وہ اس کتاب کو کھلی ہوئی دیکھ لے گا۔ )
Ayah 17:14انسان سے کہا جائے گا (اِقْرَاْ کِتٰبَکَ ) (تو اپنی کتاب پڑھ لے) (کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا) (آج تو ہی اپنا حساب جانچنے کے لیے کافی ہے) انسان کی ہوشمندی یہی ہے کہ اپنی جان کے لیے فکر مند ہو اور اپنا حساب کرتا رہے یوم آخرت میں حساب کرنے کے بعد اپنے حق میں نتیجہ اچھا نہ نکلا تو اس وقت حساب کرنے سے فائدہ نہ ہوگا اسی دنیا میں حساب کرتے رہیں تو نفس کو برائیوں سے بچا کرلے جانا آسان ہوگا نفس کا محاسبہ کرتے رہیں اور اسے تنبیہ کرتے رہیں کہ دیکھ گناہ کرے گا تو عذاب بھگتے گا اسی کو فرمایا حاسبوا قبل ان تحاسبوا کہ حساب کیے جانے سے پہلے اپنا حساب کرلو، جو شخص یہاں اپنا حساب کرتا رہا اس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ وہاں کامیاب ہوگا اور خوشی کے ساتھ یوں کہے گا (ھآاؤُمُ اقْرَءُ وْاکِتَابِیَہْ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اِنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَہٗ ) (آجاؤ میری کتاب پڑھ لو بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ میرا حساب سامنے آنے والا ہے) اور جس کے بائیں ہاتھ میں کتاب دی گئی وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا۔ (یَالَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتَابِیَہٗ وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَہٗ ) (ہائے کاش مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ )
Ayah 17:15اس کے بعد (مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ) (جس نے ہدایت پائی تو اس نے اپنی ہی جان کے لیے راہ ہدایت اختیار کی) کیونکہ اس کا نفع اسی کو پہنچے گا (وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا) (اور جس نے گمراہی اختیار کی اس کی گمراہی کا ضرر اسی کو پہنچے گا) یعنی آخرت میں تباہ کار ہوگا اور عذاب میں ڈالا جائے گا پھر فرمایا (وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی) (اور کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والی نہیں) یعنی دنیا میں بہت سے لوگ دوسروں کے کہنے سے کافر ہوجاتے ہیں اور گناہ کرلیتے ہیں اور بعض جاہل یوں بھی کہہ دیتے ہیں کہ تو میرے کہنے سے یہ گناہ کرلے تیرے گناہ کا بوجھ مجھ پر رہا اگر عذاب ہونے لگا تو میں تیری طرف سے بھگت لوں گا یہ سب باتیں اسی دنیا میں کہہ دی جاتی ہیں وہاں کوئی کسی کی طرف سے عذاب بھگتنے کو تیار نہ ہوگا اور نہ اللہ کی طرف سے یہ منظور ہوگا کہ ایک کے بدلے دوسرے کو عذاب دیا جائے۔
یہاں یہ ایک سوال ذہن میں آسکتا ہے کہ جو لوگ کفر و شرک و بدعات کے داعی ہیں ان کے کہنے پر جن لوگوں نے برائیاں اختیار کیں ان لوگوں کے اعمال بھی تو ان دعوت دینے والوں اور برائیاں جاری کرنے والوں کے حساب میں لکھے جائیں گے جیسا کہ آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے پھر (وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی) کا مصداق کیا ہے ؟
جواب یہ ہے کہ جن لوگوں نے گمراہی کی دعوت دی اور بدعتیں جاری کیں ان کے عمل ہی کی وجہ سے لوگ گمراہ ہوئے اور بدعتوں میں پڑے، برائی کا سبب بننے کی وجہ سے دوسرے کے اعمال کا وبال بھی پڑگیا۔ یہ سبب بننا اپنا ہی عمل ہے ان کی دعوت پر عمل کرنے والے جو ماخوذ ہوں گے وہ اپنے عمل کی وجہ سے پکڑے جائیں گے اور یہ اپنے گمراہ کرنے والے عمل کی وجہ سے ماخوذ ہوں گے۔ کما ورد فی الحدیث من غیر ان ینقص من اوزادھم شیئاً ۔
پھر فرمایا (وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) (اور جب تک ہم کوئی رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے) اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا جنہوں نے خوب واضح طریقے پر ہدایت کا راستہ بیان فرمایا جنہوں نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا یہ لوگ دنیا میں بھی اچھے حال میں رہیں گے اور آخرت میں بھی ان کا اچھا انجام ہوگا اور جن لوگوں نے ان حضرات کی ہدایت کو قبول نہیں کیا وہ دنیا میں بےراہ ہوئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب ہے، یہ جو دنیا میں عذاب آجاتا ہے اور آخرت میں جو عذاب ہوگا اس میں اللہ شانہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں اور راہ حق واضح فرما دی جن لوگوں نے عناد سے کام لیا حق کو ٹھکرایا نبیوں کی باتوں کو نہ مانا وہ اپنے اعمال کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں مستحق عذاب ہوں گے ایسا نہیں ہے کہ اللہ کی طرف سے ہدایت نہ آئے اور لوگوں کی گرفت کرلی جائے اور ان پر عذاب بھیج دیا جائے، اتمام حجت کے بعد اللہ کی طرف سے عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوتا ہے، سورة فاطر میں فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ) (کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گذرا ہو) پچھلی امتوں میں یکے بعد دیگرے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لاتے رہتے تھے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد کوئی رسول اور نبی آنے والا نہیں ہے آپ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان اور تمام جنات کے نبی ہیں آپ کی دعوت ہر گھر میں دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ چکی ہے جسے ہر صاحب ہوش جانتا ہے۔ گھر گھر قرآن مجید پہنچ رہا ہے دنیا کی مشہور زبانوں میں اس کے تراجم ہیں کوئی شخص یہ حجت نہیں نکال سکتا کہ ہمیں نبی کی دعوت نہیں پہنچی، خوب سمجھ لیا جائے، ہاں اگر کوئی شخص پہاڑوں اور غاروں میں پیدا ہوا وہیں پلا پڑھا اسے اسلام کی دعوت نہیں پہنچی وہ شخص صرف اس بات کا مکلف ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانے اس کا اتنا ہی ایمان باعث نجات ہوجائے گا اس کی عقل ہی اس کے لیے نذیر ہے۔
Ayahs 17:16–17گزشتہ آیت میں یہ قانون بتایا کہ جب تک کوئی رسول نہ آجائے اور جن کے پاس رسول آئے وہ اس کی نافرمانی نہ کرلیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب میں مبتلا نہیں کیے جاتے اور ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت میں یہ بتایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر کے موافق کسی بات کی ہلاکت اور بربادی کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو یہ بھی اس طرح نہیں ہوتا کہ بندے مومن ہوں اور اعمال صالحہ میں لگے ہوئے ہوں پھر بھی ہلاک کردئیے جائیں، بلکہ وہی بات ہے جو گزشتہ آیت میں بتائی کہ بستی کے لوگوں کو اور خاص کر ان کے امراء اور روساء کو ایمان اور فرمانبرداری کا حکم دیا جاتا ہے یہ حکم حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) یا ان کے نائبوں اور نمائندوں کے ذریعے دیا جاتا ہے اب ان کے بڑے لوگ جو خوشحال ہوتے ہیں سرکشی پر تل جاتے ہیں نافرمانی کرتے ہیں (ان کا حال دیکھ کر ان کے عوام بھی نافرمانی کی راہ پر چلتے رہتے ہیں) لہٰذا وہ اپنے کفر و شرک اور اعمال بد کی وجہ سے مستحق عذاب ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ ہوجاتا ہے اور وہ بستی اپنے رہنے والوں کے ساتھ ہلاک کردی جاتی ہے، نافرمان تو سبھی ہوتے ہیں لیکن امراء اور روساء کا تذکرہ خاص طور سے اس لیے فرمایا کہ یہ لوگ اپنی دنیا کی عیش و عشرت کی وجہ سے خود بھی بغاوت پر کمر باندھ لیتے ہیں اور اپنے عوام کو بھی راہ حق پر نہیں آنے دیتے۔ کما قال تعالیٰ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَافِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجْرِمِیْھَا لِیَمْکُرُوْا فِیْھَا) عوام چونکہ خود بھی عقل والے ہوتے ہیں اور دین کے اعتبار سے خود مختار ہوتے ہیں اور ایمان ایک قلبی چیز ہے مجبور کرکے کوئی بھی بادشاہ یا رئیس اس سے کسی کو نہیں روک سکتا اس لیے عوام بھی اپنے کفر کی وجہ سے ماخوذ ہوتے ہیں۔
دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی امتیں گذری ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہلاک فرما دیا یہ لوگ بھی اپنے کفر و شرک اور اعمال بد کی وجہ سے ہلاک کیے گئے آخر میں فرمایا (وَ کَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا بَصِیْرًا) اس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ شانہ دانا اور بینا ہے اسے اپنے بندوں کے گناہوں کا علم ہے کسی کے بتانے کی ضرورت نہیں وہ سب کچھ جانتا ہے گنہگار قوموں کا اور فرمانبردار قوموں کا اسے علم ہے اپنے علم کے مطابق جزا سزا دیتا ہے۔
Ayah 17:18طالب دنیا کو تھوڑی سی دنیا دے دی جاتی ہے اور آخرت میں اس کے لیے جہنم ہے اہل ایمان کے اعمال کی قدردانی ہوگی
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی دادو دہش اور عطاء و نوازش کا تذکرہ فرمایا ہے جو دنیا اور آخرت میں بندوں پر ہوتی ہے اور اس بارے میں جو تکوینی قانون ہے اس کا تذکرہ فرمایا ہے، اول دنیا کے طلب گاروں کا تذکرہ فرمایا کہ جو شخص اپنے اعمال کے ذریعے دنیا ہی کو چاہتا ہے اس کو دنیا کا کچھ حصہ دے دیا جاتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر طالب دنیا کو اس کی مراد مل جائے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو چاہے وہ سب مل جائے اسی کو فرمایا ہے (عَجَّلْنَالَہٗ فِیْھَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ) کہ ہم ایسے شخص کے لیے اسی دنیا میں جس کے لیے چاہیں گے جتنا چاہیں گے دیدیں گے۔
اور چونکہ یہ شخص محض طالب دنیا تھا آخرت کا طالب نہ تھا اس لیے ایمان سے بھی غافل رہا۔ لہٰذا آخرت میں اسے کوئی نعمت نہ ملے گی وہاں دوزخ میں داخل ہوگا۔ اسی کو فرمایا (ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَھَنَّمَ ) (پھر ہم اس کے لیے جہنم کو مقرر کردیں گے) (یَصْلٰھَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا) (وہ اس میں اس حال میں داخل ہوگا کہ بدحال ہوگا اور اللہ کی رحمت سے ہٹایا ہوا ہوگا) مذموم کا اصل معنی ہے مذمت کیا ہوا اور مدحور کا معنی ہے دور کیا ہوا مطلب یہ ہے کہ ذلیل بھی ہوگا، اللہ کی رحمت سے دور بھی ہوگا دوزخ میں داخل ہوگا، سورة شوریٰ میں فرمایا (مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ ) (جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو ہم اس کو اس کی کھیتی پر ترقی دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ )
Ayah 17:19اس کے بعد آخرت کے طلبگاروں کا تذکرہ فرمایا (وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓءِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا) (اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لیے کوشش کرے جیسے کوشش کرنی چاہیے، اور وہ مومن ہو سو یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدردانی ہوگی۔ )
اس آیت کریمہ میں یہ بتایا کہ جو شخص آخرت کا طالب ہو اور اس کے لیے کوشش کرے تو اس کی یہ سعی مقبول ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی محنت اور کوشش کی قدر کی جائے گی یعنی اس کی محنت اور سعی کا ثواب دیا جائے گا اس میں تین شرطیں بیان فرمائیں اول یہ کہ آخرت کا طلبگار ہو یعنی نیت صحیح ہو خالص آخرت کے ثواب کا ارادہ ہو اور دوسری شرط یہ بتائی کہ آخرت کے لیے کوشش کرے اور یہ ایسی کوشش ہو جسے آخرت کی کوشش کہا جاسکے۔ یعنی اس کے اعمال اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کے موافق ہوں (اگر طالب آخرت ہو لیکن اعمال غیر شرعی ہوں جیسا اہل بدعت کے اعمال ہیں تو ایسے اعمال مقبول نہیں) اور تیسری شرط یہ ہے کہ وہ مومن بھی ہو اگر مومن نہ ہوگا تو آخرت میں کوئی عمل فائدہ مند نہ ہوگا خواہ کیسا ہی طلب آخرت کا مدعی ہو اور اپنے خیال میں آخرت کے لیے محنت اور ریاضت کرتا ہو جیسا کہ سادھو اور راہب محنتیں کرتے ہیں۔ (فَاُولٰٓءِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا) (اہل ایمان کی سعی کی قدردانی کی جائے گی) یعنی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور انہیں جنت عطا فرمائے گا اور جتنا جتنا عمل کیا اس سے بہت زیادہ بڑھا کر عمل کو کئی گنا کرکے اجر عطا فرمائے گا۔ کما قال تعالیٰ (مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ و قَال تعالیٰ مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) دنیا میں جو کافروں، فاجروں کو نعمتیں دی جاتی ہیں اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ لوگ مقبولان بارگاہ ہیں کیونکہ دنیا کی نعمتیں اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ جسے نعمت و دولت مل گئی اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے، یہ نعمتیں مومن اور کافر صالح اور طالح سب کو مل جاتی ہیں دنیا کی نعمتیں اہل ایمان کے لیے مخصوص نہیں،
Ayah 17:20اسی کو فرمایا (کُلًّانُّمِدُّ ھآؤُلَآءِ وَ ھٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّکَ وَ مَا کَانَ عَطَآءُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًا) (اور ہم آپ کے رب کی بخشش سے ہر ایک کو دیتے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی، اور آپ کے رب کی بخشش روکی نہیں ہے) مقبولین کو بھی نعمتیں دی جاتی ہیں اور غیر مقبولین کو بھی، اور دنیا میں اللہ کی رحمت کسی سے روکی ہوئی نہیں ہے۔
Ayah 17:21پھر فرمایا (اُنْظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ) (آپ دیکھ لیجیے ہم نے بعض کو بعض پر کیسی فضیلت دی) یہ دنیاوی فضیلت ہے اس میں مومن اور کافر کی کوئی قید نہیں ہے، بہت سے کافروں کے پاس مال زیادہ ہے اور بہت سے مومنین کے پاس کم ہے۔ (وَ لَلْاٰخِرَۃُاَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکْبَرُ تَفْضِیْلًا) (اور بلاشبہ آخرت درجات کے اعتبار سے بڑی چیز ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی) اس میں یہ بتایا ہے کہ آخرت کے لیے فکر مند ہونا چاہیے اور وہاں کے درجات حاصل ہونے کے لیے ایمان سے اور اعمال صالحہ سے متصف ہوں اہل دنیا کی دنیا پر نظر نہ کریں۔
Ayah 17:22آخر میں شرک اور اصحاب شرک کی مذمت فرمائی اور توحید اختیار کرنے اور توحید پر جمنے کا حکم فرمایا، ارشاد ہے (لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ ) (اے مخاطب تو اللہ کے ساتھ کسی کو بھی معبود مت بنا) (فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا) (ورنہ تو اس حال میں بیٹھ رہے گا کہ تو مذموم ہوگا اور مخذول ہوگا) یعنی قیامت کے دن بدحال لوگوں میں شمار ہوگا اور وہاں کوئی یار و مددگار نہ ہوگا توحید کو چھوڑنے کی وجہ سے وہاں کی عاجزی، بےبسی اور بےکسی اور بدحالی سامنے آجائے گی۔
Ayah 17:23والدین کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم
اس آیت کریمہ میں حق سبحانہ و تعالیٰ نے اول تو یہ حکم فرمایا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، انبیاء ( علیہ السلام) کی تمام شرائع کا سب سے بڑا یہی حکم ہے اور اس حکم کی تعمیل کرانے کے لیے اللہ جل شانہ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو بھیجا، اور کتابیں نازل فرمائیں اور صحیفے اتارے اللہ جل شانہ کو عقیدہ سے ایک ماننا اور صرف اسی کی عبادت کرنا اور کسی بھی چیز کو اس کی ذات وصفات اور تعظیم و عبادت میں شریک نہ کرنا خداوند قدوس کا سب سے بڑا حکم ہے۔
دوم : یہ فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اللہ جل شانہ خالق ہے، اسی نے سب کو وجود بخشا ہے اس کی عبادت اور شکر گزاری بہرحال فرض اور لازم ہے اور اس نے چونکہ انسانوں کو وجود بخشنے کا ذریعہ ان کے ماں باپ کو بنایا اور ماں باپ اولاد کی پرورش میں بہت کچھ دکھ تکلیف اٹھاتے ہیں اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا بھی حکم فرمایا جو قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ لفظ ” حسن سلوک “ میں سب باتیں آجاتی ہیں جس کو سورة بقرہ میں اور سورة انعام اور یہاں سورة الاسراء میں (وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا) سے تعبیر فرمایا ہے، ماں باپ کی فرمانبرداری، دلداری، راحت رسانی، نرم گفتاری اور ہر طرح کی خدمت گزاری ان لفظوں کے عموم میں آجاتی ہے البتہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں۔
سوم : یہ کہ ماں باپ دونوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک بوڑھا ہوجائے تو ان کو اف بھی نہ کہو، مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا کلمہ ان کی شان میں زبان سے نہ نکالو جس سے ان کی تعظیم میں فرق آتا ہو یا جس کلمہ سے ان کے دل کو رنج پہنچتا ہو۔
لفظ اف بطور مثال کے فرمایا ہے، بیان القرآن میں اردو کے محاورہ کے مطابق اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ” ان کو ہوں بھی مت کہو “ دوسری زبان میں ان کے مطابق ترجمہ ہوگا۔
حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ کے علم میں کلمہ اف سے نیچے بھی کوئی درجہ ماں باپ کے تکلیف دینے کا ہوتا تو اللہ جل شانہ اس کو بھی ضرور حرام قرار دے دیتا۔ (درمنثور)
ماں باپ کی تعظیم و تکریم اور فرمانبرداری ہمیشہ واجب ہے بوڑھے ہوں یا جوان ہوں، جیسا کہ آیات اور احادیث کے عموم سے معلوم ہوتا ہے لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور ان کو بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں اولاد کو ان کا اگالدان صاف کرنا پڑتا ہے، میلے اور ناپاک کپڑے دھونے پڑتے ہیں جس سے طبیعت بور ہونے لگتی ہے اور بعض مرتبہ تنگ دل ہو کر زبان سے الٹے سیدھے الفاظ بھی نکلنے لگتے ہیں اس موقع پر صبر اور برداشت سے کام لینا اور ماں باپ کا دل خوش رکھنا اور رنج دینے والے ذرا سے لفظ سے بھی پرہیز کرنا بہت بڑی سعادت ہوتی ہے۔
حضرت مجاہد نے فرمایا کہ تو جو ان کے کپڑے وغیرہ سے گندگی اور پیشاب پاخانہ صاف کرتا ہے، تو اس موقع پر اف بھی نہ کہہ، جیسا کہ وہ بھی اف نہ کہتے تھے جب تیرے بچپن میں تیرا پیشاب پاخانہ وغیرہ دھوتے تھے۔ (درمنثور)
چہارم : (اف کہنے کی ممانعت کے بعد) یہ بھی فرمایا کہ ان کو مت جھڑکو، جھڑکنا اف کہنے سے بھی زیادہ برا ہے، جب اف کہنا منع ہے تو جھڑکنا کیسے درست ہوسکتا ہے ؟ پھر بھی واضح فرمانے کے لیے خاص طور پر جھڑکنے کی صاف اور صریح لفظوں میں ممانعت فرما دی۔
پنجم : حکم فرمایا (وَ قُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا) (ماں باپ سے خوب ادب سے بات کرنا) اچھی باتیں کرنا، لب و لہجہ میں نرمی اور الفاظ میں توقیر و تکریم کا خیال رکھنا یہ سب (قَوْلًا کَرِیْمًا) میں داخل ہے۔
حضرت سعید بن المسیب نے فرمایا کہ خطاکار زر خرید غلام جس کا آقا بہت سخت مزاج ہو یہ غلام جس طرح اپنے آقا سے بات کرتا ہے اسی طرح ماں باپ سے بات کی جائے تو (قَوْلًا کَرِیْمًا) پر عمل ہوسکتا ہے۔
حضرت زہیر بن محمد نے قولا کریما کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا اذا دعواک فقل لبیکما وسعدیکما (یعنی جب تجھے ماں باپ بلائیں تو کہنا کہ میں حاضر ہوں اور تعمیل ارشاد کے لیے موجود ہوں) ان اکابر کے یہ اقوال تفسیر (درمنثور ص 171 ج 4) میں مذکور ہیں۔
Ayah 17:24ششم : ارشاد فرمایا (وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ ) (یعنی ماں باپ کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا) اس کی تفسیر میں حضرت عروہ نے فرمایا کہ تو ان کے سامنے ایسی روش اختیار کر کہ ان کی جو دلی رغبت ہو اس کو پورا ہونے میں تیری وجہ سے فرق نہ آئے، اور حضرت عطاء بن ابی رباح نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ماں باپ سے بات کرتے وقت نیچے اوپر ہاتھ مت اٹھانا (جیسے برابر والوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے اٹھاتے ہیں) اور حضرت زہیر بن محمد نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ ماں باپ اگر تجھے گالیاں دیں اور برا بھلا کہیں تو تو جواب میں یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت فرمائے۔ (درمنثور)
ہفتم : یہ نصیحت فرمائی کہ ماں باپ کے لیے یہ دعا کرتے رہا کرو (رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا) (کہ اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے چھوٹے سے کو پالا اور پرورش کیا) بات یہ ہے کہ کبھی اولاد حاجت مند تھی جو بالکل ناسمجھ اور ناتواں تھی، اس وقت ماں باپ نے ہر طرح کی تکلیف سہی اور دکھ سکھ میں خدمت کرکے اولاد کی پرورش کی، اب پچاس ساٹھ سال کے بعد صورت حال الٹ گئی کہ ماں باپ خرچ اور خدمت کے محتاج ہیں اور اولاد کمانے والی ہے، روپیہ پیسہ، اور گھر بار اور کاروبار والی ہے، اولاد کو چاہیے کہ ماں باپ کی خدمت سے نہ گھبرائے اور ان پر خرچ کرنے سے تنگ دل نہ ہو، دل کھول کر جان و مال سے ان کی خدمت کرے اور اپنے چھوٹے پن کا وقت یاد کرے اس وقت انہوں نے جو تکلیفیں اٹھائیں، ان کو سامنے رکھے، اور بارگاہ خداوندی میں یوں عرض کرے کہ ” اے میرے رب ان پر رحم فرما “ جیسا کہ انہوں نے مجھے چھوٹے پن میں پالا اور پرورش کی۔
تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ ایک شخص اپنی والدہ کو کمر پر اٹھائے ہوئے طواف کرا رہا تھا اس نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا کہ کیا میں نے اس طرح خدمت کرکے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا ؟ آپ نے فرمایا ایک سانس کا حق بھی ادا نہیں ہوا (تفسیر ابن کثیر ص 35 ج 3) عن مسند البزار بسند فیہ ضعف، واخرجہ البخاری فی الادب المفرد موقوفا علی ابن عمر
Ayah 17:25یہ جو فرمایا کہ (رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ) (الایۃ) درمنثور میں اس کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت سعید بن جبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ اگر اولاد کی جانب سے ماں باپ کے حقوق میں غفلت سے کوتاہی ہوجائے اور دل سے فرمانبردار ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور توبہ کرے اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والوں کو معاف فرمانے والا ہے۔
ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ سب کاموں میں اللہ جل شانہ کو کون سا کام زیادہ پیارا ہے ؟ آپ نے فرمایا بروقت نماز پڑھنا (جو اس کا وقت مستحب ہے) میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب اعمال سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ نے فرمایا ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرنا، میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب اعمال سے زیادہ پیارا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 58 از بخاری و مسلم)
معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل بروقت نماز پڑھنا اور اس کے بعد سب سے زیادہ محبوب عمل یہ ہے کہ انسان اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ پھر تیسرے نمبر پر جہاد فی سبیل اللہ کو فرمایا معلوم ہوا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے بھی بڑھ کر ہے۔
ماں باپ ذریعہ جنت اور ذریعہ دوزخ ہیں
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ والدین کا ان کی اولاد پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ دونوں تیری جنت یا تیری جہنم ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 421 از ابن ماجہ)
مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرتے رہو، زندگی بھر ان کے آرام و راحت کا دھیان رکھو، جان و مال سے ان کی فرمانبرداری میں لگے رہو، تمہارا یہ عمل جنت میں جانے کا سبب بنے گا اور اگر تم نے ان کی نافرمانی کی ان کو ستایا دکھ دیا تو وہ تمہارے دوزخ کے داخلہ کا سبب بنیں گے۔
اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ماں باپ کی رضا مندی میں ہے
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی رضا مندی ماں باپ کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 419)
یعنی ماں باپ کو راضی رکھا تو اللہ پاک بھی راضی ہے اور ماں باپ کو ناراض کیا تو اللہ بھی ناراض ہوگا، کیونکہ اللہ جل شانہ نے ماں باپ کو راضی رکھنے کا حکم فرمایا ہے جب ماں باپ کو ناراض رکھا تو اللہ کے حکم کی نافرمانی ہوئی جو اللہ جل شانہ کی ناراضگی کا باعث ہوئی۔
واضح رہے کہ یہ اسی صورت میں ہے جبکہ ماں باپ کسی ایسے کام کے نہ کرنے سے ناراض ہوں جو خلاف شرع نہ ہو، اگر خلاف شرع کسی کام کا حکم دیں تو ان کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے۔ اس ناراضگی میں اللہ جل شانہ کی ناراضگی نہ ہوگی اس صورت میں اگر وہ ناراض بھی ہوجائیں تو ناراضگی کی پرواہ نہ کرے، کیونکہ اللہ جل شانہ کی رضا مندی اس کے احکام پر عمل کرنے میں ہے اس کے حکم کے خلاف کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے۔
والد جنت کے دروازوں میں سے بہتر دروازہ ہے
حضرت ابو الدرداء ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کے دروازوں میں سے سب سے اچھا دروازہ ہے اب تو (اس کی فرمانبرداری کرکے) اس دروازہ کی حفاظت کرلے یا (نافرمانی کرکے) اس کو ضائع کردے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 420)
باپ کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین دعائیں مقبول ہیں ان (کی مقبولیت) میں کوئی شک نہیں (1) والد کی دعا اولاد کے لیے (2) مسافر کی دعا (3) مظلوم کی دعا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 195، از ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ)
اس حدیث سے والد کی دعاء کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ملا علی قاری مرقات شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں، کہ گو اس میں والدہ کا ذکر نہیں، لیکن ظاہر ہے کہ جب والد کی دعا ضرور قبول ہوگی تو والدہ کی دعا بھی بطریق اولیٰ ضرور قبول ہوگی، اولاد کو چاہیے ماں باپ کی خدمت کرتی رہے اور دعا لیتی رہے، اور کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے ان کا دل دکھے اور ان میں سے کوئی دل سے یا زبان سے بددعا کر بیٹھے۔ کیونکہ جس طرح ان کی دعا قبول ہوتی ہے اسی طرح ان کے دکھے دل کی بددعا بھی لگ جاتی ہے، اگرچہ عموماً شفقت کی وجہ سے وہ بددعا سے بچتے ہیں، ان کی دعا سے دنیا و آخرت سدھر سکتی ہے اور بددعا سے دونوں جہانوں کی بربادی ہوسکتی ہے۔
ماں باپ کے اکرام و احترام کی چند مثالیں
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ ایک بڑے میاں تھے آپ نے دریافت فرمایا کہ تیرے ساتھ یہ کون ہیں ؟ عرض کیا کہ یہ میرے والد ہیں، آپ نے فرمایا کہ باپ کے اکرام و احترام کا خیال رکھ ہرگز اس کے آگے مت چلنا اور اس سے پہلے مت بیٹھنا اور اس کا نام لے کر مت بلانا اور اس کی وجہ سے (کسی کو) گالی مت دینا۔ (تفسیر درمنثور ص 171، ج 4)
ماں باپ کا احترام و اکرام دل سے بھی کرے اور زبان سے بھی، عمل سے بھی اور برتاؤ سے بھی، اس حدیث پاک میں اکرام و احترام کی چند جزئیات ارشاد فرمائی ہیں۔
اول تو یہ فرمایا کہ باپ کے آگے مت چلنا دوسرے یہ فرمایا کہ جب کسی جگہ بیٹھنا ہو تو باپ سے پہلے مت بیٹھنا تیسرے یہ فرمایا کہ باپ کا نام لے کر مت پکارنا، چوتھے یہ کہ باپ کی وجہ سے کسی کو گالی مت دینا مطلب یہ کہ اگر کوئی شخص تمہارے باپ کو ناگوار بات کہہ دے تو اس کو اور اس کے باپ کو گالی مت دینا۔ کیونکہ اس کے جواب میں وہ پھر تمہارے باپ کو گالی دے گا اور اس طرح سے تم اپنے باپ کو گالی دلانے کا سبب بن جاؤ گے واضح رہے کہ یہ نصیحتیں باپ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں والدہ کے حق میں بھی ان کا خیال رکھنا لازم ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ باپ کے آگے مت چلنا اس سے وہ صورت مستثنیٰ ہے جس میں باپ کی خدمت کی وجہ سے آگے چلنا پڑے مثلاً راستہ دکھانا ہو یا اور کوئی ضرورت درپیش ہو۔
ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے رزق اور عمر دونوں بڑھتے ہیں
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کا رزق بڑھائے اس کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ (درمنثور ص 173 ج 14 از بیہقی)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اور ان کی خدمت میں لگے رہنے سے عمر دراز ہوتی ہے اور رزق بڑھتا ہے بلکہ ماں باپ کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے بھی عمر دراز ہوتی ہے اور وسیع رزق نصیب ہوتا ہے نئی نسل کے بہت سے نوخیز نوجوان دوست احباب بیوی بچوں پر تو بڑھ چڑھ کر خرچ کرتے ہیں اور ماں باپ کے لیے پھوٹی کوڑی خرچ کرنے سے بھی ان کا دل دکھتا ہے یہ لوگ آخرت کے ثواب سے تو محروم ہوتے ہی ہیں دنیا میں بھی نقصان اٹھاتے ہیں ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے جو عمر میں درازی اور رزق میں وسعت ہوتی ہے اس سے محروم ہوتے ہیں۔
ماں باپ کے اخراجات کے لیے محنت کرنے کا ثواب
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک ایسے شخص کا (مسجد نبوی کے قریب) گذر ہوا جس کا جسم دبلا پتلا تھا اس کو دیکھ کر حاضرین نے کہا کہ کاش یہ جسم اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں) دبلا ہوا ہوتا یہ سن کر حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ شاید وہ اپنے بوڑھے ماں باپ پر محنت کرتا ہو (اور ان کی خدمت میں لگنے اور ان کے لیے روزی کمانے کی وجہ سے دبلا ہوگیا ہو) اگر ایسا ہے تو وہ فی سبیل اللہ ہے (پھر فرمایا کہ) شاید وہ چھوٹے بچوں پر محنت کرتا ہو ( یعنی ان کی خدمت اور پرورش اور ان کے لیے رزق مہیا کرنے میں دبلا ہوگیا ہو) اگر ایسا ہے تو فی سبیل اللہ ہے (پھر فرمایا کہ) شاید وہ اپنے نفس پر محنت کرتا ہو (اور اپنی جان کے لیے محنت کرکے روزی کماتا ہو) تاکہ اپنے نفس کو لوگوں سے بےنیاز کردے اور مخلوق سے سوال نہ کرنا پڑے) اگر ایسا ہے تو فی سبیل اللہ ہے۔ (درمنثور ص 170 ج 14 از بیہقی)
معلوم ہوا کہ ماں باپ اور آل اولاد بلکہ اپنے نفس کے لیے حلال روزی کمانا بھی فی سبیل اللہ میں شمار ہے۔
ماں باپ کی خدمت نفلی جہاد سے افضل ہے
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور جہاد میں شریک ہونے کی اجازت مانگی، آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں زندہ ہیں ! آپ نے فرمایا انہیں میں جہاد کر (یعنی ان کی خدمت میں جو تو محنت اور کوشش اور مال خرچ کرے گا یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہوگا) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ واپس جا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا رہ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 331 از بخاری و مسلم)
حضرت معاویہ بن جاہمہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میرے والد حضرت جاہمہ ؓ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے جہاد کرنے کا ارادہ کیا اور آپ سے مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوا آپ نے فرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں زندہ ہے آپ نے فرمایا بس تو اسی کی خدمت میں لگا رہ کیونکہ جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 431 از احمد، نسائی، بیہقی)
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں (جبکہ جہاد فرض عین نہ ہو) جہاد کی شرکت کے لیے جانے سے ماں باپ کی خدمت کرنا زیادہ افضل ہے اگر دوسرا بھائی بہن ان کی خدمت کے لیے موجود نہ ہو تو ان کی خدمت میں رہنے کی اہمیت اور زیادہ ہوجائے گی۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں ایک شخص یمن سے ہجرت کرکے آیا آپ نے اس سے فرمایا کہ تم نے سرزمین شرک سے تو ہجرت کرلی لیکن جہاد (باقی) ہے تو کیا یمن میں تمہارا کوئی (قریبی) عزیز ہے ؟ عرض کیا کہ والدین موجود ہیں، آپ نے سوال فرمایا کہ انہوں نے تم کو اجازت دی ہے ؟ عرض کیا نہیں فرمایا بس تم واپس جاؤ اور ان سے اجازت لو اگر اجازت دیں تو جہاد میں شرکت کرلینا ورنہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنا۔ (درمنثور ص 175، ج 4 عن احمد والحاکم، وقال صححہ الحاکم)
ہجرت کی بیعت کے لیے والدین کو روتا چھوڑنے والے کو نصیحت
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا اور عرض کیا کہ میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں اور میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ دونوں (میری جدائی کی وجہ سے) رو رہے تھے آپ نے فرمایا کہ ان کے پاس واپس جا اور ان کو ہنسا جیسا کہ تو نے ان کو رلایا۔ (مستدرک حاکم ص 153‘ ج 4 ابوداود وغیرہ)
یہ شخص حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں نیک نیتی سے حاضر ہوا یعنی ہجرت پر بیعت ہونے کے لیے سفر کرکے آیا تھا اول ہجرت کی نیت پھر حضور اقدس ﷺ سے اس عمل پر بیعت ہونا یہ سب مبارک اور نیک عمل ہے جس میں کوئی شک نہیں لیکن ماں باپ اس کے سفر کرنے پر راضی نہ تھے وہ اس شخص کے سفر میں جانے سے بہت بےچین ہوئے اور جدائی کے صدمہ سے رونے لگے۔ جب حضور اقدس ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ واپس جا اور والدین کو ہنسا جیسا کہ تو نے ان کو رلایا ہے۔
اس سے ماں باپ کی دلداری کی اہمیت اور فضیلت معلوم ہوئی یہ اس زمانہ کی بات ہے جب ہجرت کرنا فرض نہ تھا اسلام خطہ عرب میں پھیل چکا تھا مسلمان ہر جگہ امن وامان کے ساتھ اسلام کے مطابق زندگی گزار سکتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسا کام کرنا جس سے ماں باپ رنجیدہ ہوں اور صدمہ کی وجہ سے روئیں گناہ ہے، اور ایسا کام کرنا جس سے ماں باپ خوش ہوں اور جس سے ان کو ہنسی آئے ثواب کا کام ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ بکاء الوالدین من العقوق والکبائر (یعنی ماں باپ کا رونا عقوق اور کبائر میں سے ہے) جبکہ اولاد ایسا کام کرے جس سے ایذا پہنچنے کی وجہ سے رونے لگیں۔ (الادب المفرد للبخاری)
حضرت اویس قرنی ؓ یمن کے رہنے والے تھے ان کے بارے میں حضور اقدس ﷺ نے خیر التابعین فرمایا اور حضرت عمر ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ ان سے اپنے لیے دعائے مغفرت کرانا انہوں نے عہد نبوت میں اسلام قبول کرلیا تھا لیکن والدہ کی خدمت کی وجہ سے بارگاہ رسالت میں حاضر نہ ہوسکے اور شرف صحابیت سے محروم ہوگئے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ان کے اس عمل پر نکیر نہیں فرمائی بلکہ قدردانی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ان سے دعا کرانا، والدین کی خدمت کا جو مرتبہ ہے وہ اس سے ظاہر ہے، صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اویس قرنی کی والدہ ہے اس کے ساتھ انہوں نے حسن سلوک کیا اگر اویس (کسی بات میں) اللہ پر قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی قسم پوری فرمائے۔
ماں باپ کی خدمت نفلی حج اور عمرہ سے کم نہیں
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد کرنے کی خواہش رکھتا ہوں اور اس پر قادر نہیں (ممکن ہے کہ یہ صاحب بہت کمزور ہوں یا بعض اعضاء صحیح سالم نہ ہوں جس کی وجہ سے یہ کہا کہ جہاد پر قادر نہیں ہوں) ان کی بات سن کر آنحضرت سرور عالم ﷺ نے سوال فرمایا کیا تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے ؟ عرض کیا والدہ زندہ ہے، آپ نے فرمایا کہ بس تو اپنی والدہ (کی خدمت اور فرمانبرداری) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جب تو اس پر عمل کرے گا تو تو حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اور جہاد کرنے والا ہوگا جب تیری ماں تجھے بلائے تو (اس کی فرمانبرداری کے بارے میں) اللہ سے ڈرنا (یعنی نافرمانی مت کرنا) اور والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرنا۔ (درمنثور ص 173 ج 4 از بیہقی وغیرہ)
اس حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ والدہ تم کو بلائے تو اس کی اطاعت کرو، عام حالات میں جب بھی ماں باپ بلائیں ان کے پکارنے پر حاضر ہوجائے اور جو خدمت بتائیں انجام دیدے اگر نماز میں مشغول ہو اور اس وقت والدین میں سے کوئی آواز دے تو اس کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ ماں باپ اگر کسی مصیبت کی وجہ سے پکاریں مثلاً پاخانہ وغیرہ کی ضرورت سے آتے جاتے پاؤں پھسل جائے اور دونوں میں سے کوئی گرجائے یا گرجانے کا قوی اندیشہ ہے اور کوئی دوسرا اٹھانے والا اور سنبھالنے والا نہیں ہے تو ان کو اٹھانے اور سنبھالنے کے لیے فرض نماز کا توڑ دینا واجب ہے اور اگر انہوں نے کسی ایسی ضرورت کے لیے نہیں پکارا جس کا اوپر ذکر ہوا بلکہ یوں ہی پکار لیا تو فرض نماز توڑنا درست نہیں ہے اور اگر کسی نے سنت یا نفل نماز شروع کر رکھی ہے اور ماں باپ نے آواز دی لیکن ان کو معلوم نہیں ہے کہ فلاں لڑکا یا لڑکی نماز میں ہے تو اس صورت میں نماز توڑ کر جواب دینا واجب ہے خواہ کسی ضرورت سے پکاریں خواہ بلاضرورت یوں ہی پکار لیں اس صورت میں اگر نماز نہ توڑی اور ان کا جواب نہ دیا تو گناہ ہوگا البتہ اگر ان کو معلوم ہے کہ نماز میں ہے اور یوں ہی بلاضرورت پکارا ہے تو نماز نہ توڑے۔ (ذکرہ الشامی فی باب ادراک الفریضہ)
والدین کے ستانے کی سزا دنیا میں مل جاتی ہے
حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ چاہتا ہے تو انہیں معاف فرما دیتا ہے مگر والدین کے ستانے کا گناہ ایسا ہے جس کی سزا دنیا ہی میں موت سے پہلے دے دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 412 از شعب الایمان للبیہقی)
والدین کی نافرمانی بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بڑے بڑے گناہ یہ ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ (2) والدین کی نافرمانی کرنا۔ (3) کسی جان کو قتل کردینا (جس کا قتل کرنا قاتل کے لیے شرعاً حلال نہ ہو) ۔ (4) جھوٹی قسم کھانا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 17 از بخاری)
کبیرہ گناہوں کی فہرست طویل ہے اس حدیث میں ان گناہوں کا ذکر ہے جو بہت بڑے ہیں ان میں شرک کے بعد ہی عقوق الوالدین کو ذکر فرمایا ہے، لفظ عقوق میں بہت عموم ہے ماں باپ کو کسی بھی طرح ستانا، قول یا فعل سے ان کو ایذا دینا دل دکھانا نافرمانی کرنا حاجت ہوتے ہوئے ان پر خرچ نہ کرنا یہ سب عقوق میں شامل ہے پہلے حدیث ذکر کی جاچکی ہے جس میں محبوب ترین اعمال کا بیان ہے اس میں بروقت نماز پڑھنے کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا درجہ بتایا ہے بالکل اسی طرح بڑے بڑے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں شرک کے بعد ماں باپ کے ستانے اور ان کی نافرمانی کرنے کو شمار فرمایا ہے ماں باپ کی نافرمانی اور ایذا رسانی کس درجہ کا گناہ ہے اس سے صاف ظاہر ہے۔
وہ شخص ذلیل ہو جس ماں باپ نے جنت میں داخل نہ کرایا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے (ایک مرتبہ) ارشاد فرمایا کہ وہ ذلیل ہو، وہ ذلیل ہو، وہ ذلیل ہو، عرض کیا گیا کون یا رسول اللہ ﷺ ؟ فرمایا جس نے اپنے ماں باپ کو یا دونوں میں کسی ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 418 از مسلم)
پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا جنت میں داخل ہونے کا بہترین ذریعہ ہے اور عقوق الوالدین یعنی ماں باپ کی نافرمانی اور ایذا رسانی دوزخ میں جانے کا ذریعہ ہے، زندگی میں خصوصاً نوجوانی میں انسان سے بہت سے صغیرہ، کبیرہ گناہ سرزد ہوجاتے ہیں اور ماں باپ کی نافرمانی بھی ہوجاتی ہے اگر کسی گنہگار بندہ کو بوڑھے ماں باپ میسر آجائیں یعنی اس کی موجودگی میں بوڑھے ہوجائیں تو گذشتہ گناہوں کے کفارہ کے لیے اور دوزخ سے آزاد ہو کر جنتی بننے کے لیے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کو ہاتھ سے نہ جانے دے جس شخص نے ماں باپ کو بوڑھا پایا لیکن ان کی خدمت نہ کی ان کی دعائیں نہ لیں ان کا دل دکھاتا رہا اور جوش جوانی میں ان کی طرف سے غفلت برتتا رہا جس کی وجہ سے دوزخ کا مستحق ہوگیا ایسے شخص کے بارے میں حضور اقدس ﷺ نے تین مرتبہ بددعا دی اور فرمایا کہ یہ شخص (دنیا آخرت میں ذلیل و خوار ہو) لا جعلنا اللّٰہ منھم جس کے ماں باپ زندہ ہیں ان کو زندگی کی قدر کرے اور ان کو راضی رکھ کر جنت کمالے۔
ماں باپ کی طرف گھور کر دیکھنا بھی عقوق میں شامل ہے
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص نے اپنے والد کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا جس نے والد کو تیز نظر سے دیکھا۔ (درمنثور ص 171 ج 14 از بیہقی فی شعب الایمان)
اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کو تیز نظروں سے دیکھنا بھی ان کے ستانے میں داخل ہے، حضرت حسن ؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ عقوق یعنی ماں باپ کے ستانے کی کیا حد ہے ؟ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ ان کو (خدمت اور مال سے) محروم کرنا اور ان سے ملنا جلنا چھوڑ دینا اور ان کے چہرے کی طرف تیز نظر سے دیکھنا یہ سب عقوق ہے۔ (درمنثور از ابن ابی شیبہ)
حضرت عروہ ؓ نے بیان فرمایا کہ اگر ماں باپ تجھے ناراض کردیں یعنی ایسی بات کہہ دیں جس سے تجھے ناگواری ہو تو ان کی طرف ترچھی نظر سے مت دیکھنا کیونکہ انسان جب کسی پر غصہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے تیز نظر سے ہی اس کا پتہ چلتا ہے۔ (درمنثور عن ابن ابی حاتم)
معلوم ہوا کہ ماں باپ کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے اعضاء وجوارح سے بھی فرمانبرداری انکساری ظاہر کرنا چاہیے۔ رفتار و گفتار اور نظر سے کوئی ایسا عمل نہ کرے جس سے ان کو تکلیف پہنچے۔
ماں باپ کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے، حاضرین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی شخص اپنے باپ کو گالی دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں (اس کی صورت یہ ہے کہ) کسی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ پلٹ کر گالی دینے والے کے باپ کو گالی دیدے۔ اور کسی دوسرے شخص کی ماں کو گالی دے تو پلٹ کر گالی دینے والے کی ماں کو گالی دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 419 از بخاری و مسلم)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گالی دینے والے نے اپنی ماں یا اپنے باپ کو تو گالی نہ دی لیکن چونکہ دوسرے سے گالی دلوانے کا ذریعہ بن گیا اس لیے خود گالی دینے والوں میں شمار ہوگیا۔ اس کو حضور انور ﷺ نے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا۔ اسی سے سمجھ لیا جائے کہ جو شخص اپنے ماں باپ کو خود اپنی زبان سے گالی دے گا ظاہر ہے کہ اس کا گناہ عام کبیرہ گناہوں سے بڑھ کر ہوگا۔ حضرات صحابہ کرام ؓ کو اپنے ماحول کے اعتبار سے یہ بات بڑے تعجب کی معلوم ہوئی کہ کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دے۔ ان کے تعجب پر حضور ﷺ نے گالی کا ذریعہ اور سبب بننے والی صورت بتائی جو اس زمانہ میں پیش آسکتی تھی، لیکن ہمارے اس دور میں تو ایسے لوگ موجود ہیں جو خود اپنی زبان سے ماں باپ کو گالی دیتے ہیں اور برے الفاظ اور برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
ماں باپ کے لیے دعا اور استغفار کرنے کی وجہ سے نافرمان اولاد کو فرمانبردار لکھ دیا جاتا ہے
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ (ایسا بھی ہوتا ہے) کہ بندہ کے ماں باپ وفات پاجاتے ہیں یا دونوں میں سے ایک اس حال میں فوت ہوجاتا ہے کہ یہ شخص ان کی زندگی میں ان کی نافرمانی کرتا رہا اور ستاتا رہا۔ اب موت کے بعد ان کے لیے دعا کرتا رہتا ہے اور ان کے لیے استغفار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ جل شانہ اس کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں میں لکھ دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 421)
ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے ان کے درجات بلند ہوتے ہیں
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بلاشبہ اللہ جل شانہ جنت میں نیک بندہ کا درجہ بلند فرما دیتا ہے وہ عرض کرتا ہے کہ اے رب یہ درجہ مجھے کہاں سے ملا ہے ؟ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے کہ تیری اولاد نے جو تیرے لیے مغفرت کی دعا کی یہ اس کی وجہ سے ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 205 از احمد)
معلوم ہوا کہ ماں باپ کے لیے دعا کرنا بہت بڑا حسن سلوک ہے، اور یہ حسن سلوک ایسا ہے کہ جو موت کے بعد بھی جاری رکھا جاسکتا ہے، کم سے کم ہر فرض نماز کے بعد ماں باپ کے لیے دعا کردیا کرے اس میں کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا۔ اور ان کو بڑا فائدہ پہنچ جاتا ہے۔
Ayah 17:26رشتہ داروں، مسکینوں، مسافروں پر خرچ کرنے اور میانہ روی اختیار کرنے کا حکم، فضول خرچی کی ممانعت
گزشتہ آیات میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا اس حسن سلوک میں مال خرچ کرنا بھی آتا ہے اب ان آیات میں والدین کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے اور مسکین اور مسافر کو دینے کا حکم فرمایا، ذوی القربیٰ یعنی رشتہ داروں کو صلہ رحمی کے طور پر تو دینا ہی چاہیے کبھی کبھی رشتہ داروں پر مال خرچ کرنا واجب بھی ہوجاتا ہے جس کی تفصیلات کتب فقہ میں مذکور ہیں رشتہ داروں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرنے کی فضیلت سورة بقرہ کی آیت کریمہ (لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ) کے ذیل میں گزر چکی ہے۔