Ayah 17:64اللہ جل شانہ نے مزید فرمایا (وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَ رَجِلِکَ ) کہ تجھ سے جو کچھ ہوسکے اپنی کوشش کرلینا ان کے بہکانے اور ورغلانے کے لیے آواز لگانا ان پر سوار اور پیادے چڑھا کرلے آنا (اور عرب کا محاورہ تھا جب کسی پر پوری قوت کے ساتھ کوئی شخص حملہ آور ہوتا تو کہا جاتا تھا کہ اس نے اپنے سوار اور پیادے لیکر چڑھائی کردی) تفسیر قرطبی میں اول تو یہ معنی لکھا ہے اجمع علیھم کلما تقدر علیھم من مکائدک یعنی جتنے بھی فریب اور مکر تجھ سے ہوسکیں سب کو اختیار کرلینا اور پھر ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جو بھی گھوڑے اللہ کی معصیت میں چلیں اور جو بھی قدم اللہ کی نافرمانی میں اٹھے اور جو بھی حرام مال مل جائے اور جو بھی حرام کی اولاد ہو سب شیطانی چیزیں ہیں۔
قال الراغب فی مفرداتہ قولہ تعالیٰ (لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلًا) یجوزان یکون من قولھم حنکت الدابۃ اصبت حنکھا باللجام والرسن فیکون نحو قولک لالجمن فلانا ولارسننہ ویجوز ان یکون من قولھم احتنک الجراد الارض ای استولی بحن کہ علیھا فاکلھا واستاصلھا فیکون معناہ علیھم استیلاۂ علی ذلک۔ فی روح المعانی واستفززای واستخف یقال استفزہ اذا استخفہ فخدعہ واوقعہ فیما ارادہ منہ 1 ھ۔ وفی تفسیر القرطبی واستفززای استزل واستخف واصلہ القطع والمعنی استزلہ بقطعک ایاہ عن الحق۔
علامہ قرطبی اپنی تفسیر (ج 1/ 288) (وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ ) کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ وہ آواز جو اللہ کی نافرمانی کی طرف بلائے وہ سب شیطان کی آواز ہے۔ اور حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد ؓ سے نقل کیا ہے کہ گانا بجانا اور گانے بجانے کی آوازیں یہ سب شیطان کی آوازیں ہیں لوگوں کو بہکانے اور ورغلانے اور راہ حق سے ہٹانے اور نماز و ذکر سے غافل کرنے کے طریقے جو شیطان اختیار کرتا ہے ان میں گانا بجانا بھی ہے جن لوگوں کو شیطانی کام پسند ہوتے ہیں ان کو گانے بجانے سے بہت محبت ہوتی ہے اور شیطانی کاموں میں ایسی چیزوں کی بہتات ہوتی ہے ہندوؤں کے مندروں اور عیسائیوں کے گرجوں میں گانا بجانے کی چیزوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جب کوئی مداری تماشا دکھاتا ہے تو گانے بجانے سے شروع کرتا ہے سینماؤں میں اور ٹیوی پر اور ریڈیو پر گانے بجانے کے پروگرام آتے رہتے ہیں لوگ ان سے بہت خوش ہیں بچے بوڑھے جوان سب ہی گانے بجانے کے دلدادہ بن جاتے ہیں۔
بہت سے لوگ راتوں رات جاگتے ہیں اور قوالی سنتے ہیں جس میں ہارمونیم وغیرہ استعمال ہوتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ یوں کہتے ہیں کہ قوالی کی محفل میں شریک ہونا ثواب ہے کیونکہ اس میں نعتیہ اشعار پڑھے جاتے ہیں خدارا انصاف کریں کہ یہ راتوں کا جاگنا (پھر صبح کو فجر کی نماز ضائع کردینا) نعت نبی ﷺ سننے کے لیے ہے یا نفس کو ساز اور ہارمونیم کے ذریعے حرام غذا دینے کے لیے اور شیطان کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا امرنی ربی بمحق المغازف والمزامیر والاوثان والصلب وامر الجاھلیہ (مشکوٰۃ المصابیح ص 318) یعنی میرے رب نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ گانے بجانے کے آلات کو اور بتوں کو اور صلیب کو (جسے عیسائی پوجتے ہیں) اور جاہلیت کے کاموں کو مٹا دوں۔
کیسی نادانی کی بات ہے کہ حضور اقدس ﷺ جن چیزوں کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ان ہی چیزوں کو حضور اقدس ﷺ کی نعت سننے کے لیے استعمال کرتے ہیں پھر اوپر سے ثواب کی امید بھی رکھتے ہیں نفس و شیطان نے ایسا غلبہ پایا ہے کہ قرآن و حدیث بتانے والوں کی بات ناگوار معلوم ہوتی ہیں۔
مزید فرمایا (وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ ) (اور ان کے اموال میں شریک ہوجا) اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تو بنی آدم کو اس پر ابھارنا کہ وہ حرام مال کمائیں اور حرام مواقع میں یعنی اللہ کی نافرمانیوں میں مال خرچ کریں اور اگر حلال مال کمالیں تو اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ کردیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ایسی باتیں سمجھانا کہ وہ تیرے کہنے کے مطابق اپنے اموال میں تحریم اور تحلیل اختیار کریں جیسے مشرکین عرب نے مویشیوں میں بعض کو حلال اور بعض کو حرام قرار دے رکھا تھا اور بعض جانوروں کو اپنے باطل معبودوں کے نام پر ذبح کرتے تھے چونکہ شیطان کی تلقین اور تعلیم سے ایسا کرتے تھے اس لیے یہ سب مال شیطان کے حساب میں لگ گیا اور وہ ان مالوں میں ساجھی ہوگا۔
(وَالْاَوْلَادِ ) (یعنی تو ان کی اولاد میں شریک ہوجانا) اولاد میں شریک ہونے کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے دو باتیں منقول ہیں ایک تو یہ کہ وہ تیرے کہنے سے اپنی اولاد کو قتل کریں گے اور اولاد کے بارے میں ایسے ایسے اعمال کریں گے جو اللہ کی شریعت میں معاصی میں شمار ہونگے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے عبد الحارث عبد العزیٰ عبد اللات اور عبد الشمس وغیرہ نام رکھنا مراد ہے۔
حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ تو بنی آدم کی اولاد کو شرک اور کفر پر ڈال دینا یعنی ماں باپ کو ایسی باتیں سمجھانا کہ وہ اپنی اولاد کو کفر سمجھائیں اور پڑھائیں اور اس پر جمائیں۔ اور حضرت مجاہد ؓ نے یوں فرمایا کہ جب کوئی شخص عورت سے جماع کرنے لگے اور بسم اللہ نہ پڑھے تو جن اس کے عضو خاص کے ساتھ لپٹ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اجماع کرتا ہے (اس سے جو اولاد پیدا ہوگی اس میں شیطان کی شرکت ہوجائے گی کیونکہ انسانی مرد کے نطفے کے ساتھ اس کا نطفہ بھی رحم میں چلا گیا) یہ اقوال علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں نقل کیے ہیں۔ (ج 2/ 89)
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے سوال فرمایا کیا تمہارے اندر مغربون دیکھے گئے ہیں میں نے عرض کیا مغربون کون ہیں ؟ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن میں جنات شریک ہوجاتے ہیں شریک ہونے کا ایک مطلب تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا اور ملا علی قاری ؓ نے مرقات شرح مشکوٰۃ میں ایک اور مطلب بھی لکھا ہے کہ شیاطین انسانوں کو زنا کرنے کا حکم دیتے ہیں پھر اس زنا سے جو اولاد ہوتی ہے وہ چونکہ حرامی ہوتی ہے اس کا وجود اسباب ظاہرہ کے اعتبار سے یوں ہی ہوتا ہے کہ وہ زنا پر ابھارتا ہے اس لیے اس اولاد میں اس کی شرکت ہوگی۔ (مرقاۃ ج 8/ 367)
آکام المرجان ج 1/ 77 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مخنث (پیدائشی ہیجڑے) جنات کی اولاد ہوتے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کیا گیا کہ یہ کس طرح ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حالت حیض میں جماع کرنے سے منع فرمایا ہے سو اگر کوئی شخص حالت حیض میں جماع کرلے تو اس سے پہلے شیطان جماع کرلیتا ہے پھر اس سے جو حمل ہوجاتا ہے اس سے مخنث پیدا ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے (یعنی جماع کرنا چاہے) اور اس سے پہلے یہ پڑھے۔ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا (میں اللہ کا نام لے کر یہ کام کرتا ہوں اے اللہ ہمیں شیطان سے بچا اور جو اولاد تو ہم کو دے اس سے (بھی) شیطان کو دور رکھ) تو اس دعا کے پڑھ لینے کے بعد اس وقت ہمبستری سے جو اولاد پیدا ہوگی شیطان اسے کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ (بخاری و مسلم)
یہ جو فرمایا کہ اگر مذکورہ بالا دعا پڑھ لی جائے اور اس وقت کا جماع حمل قرار ہونے کا ذریعہ بن جائے تو اس سے جو اولاد پیدا ہوگی اسے شیطان کبھی ضرر نہ دے سکے گا۔ حدیث کی شرح لکھنے والوں نے اس کے کئی معنی لکھے ہیں ان میں سے ایک مطلب یہ ہے کہ بچہ مرگی سے اور دیوانگی سے محفوظ رہے گا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ شیطان اس نومولود کے دین پر حملہ نہ کرسکے گا اس کی زندگی مسلمانوں والی ہوگی اور اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح)
پھر فرمایا (وَعِدْھُمْ ) یہ بھی ابلیس کو خطاب ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو بنی آدم سے وعدے کرنا مثلاً یہ بتانا کہ باطل معبود سفارش کردیں گے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کیے بغیر نسب سے کام چل جائے گا اور یہ کہ کافر مشرک کا داخلہ دوزخ ہمیشہ کے لیے نہ ہوگا اور یہ کہ دنیا کی زندگی بہت بڑی ہے اس میں لگے رہو بڑھاپے میں اعمال صالحہ کو دیکھا جائے گا اور یہ کہ مرنے کے بعد جی اٹھنا نہیں ہے (وغیرہ وغیرہ) ۔ ضروری نہیں کہ شیطان سب سے ایک ہی قسم کے وعدے کرتا ہو جس طرح موقعہ دیکھتا ہے الگ الگ وعدے کرتا ہے امیدیں دلاتا ہے اور راہ حق سے ہٹاتا ہے کافروں کے بہکانے اور کفر پر جمائے رکھنے کے طریقے اور ہیں اور اہل ایمان کو ایمان سے ہٹانے اور فرائض و واجبات سے غافل رکھنے اور اعمال صالحہ سے دور رکھنے کے طریقے دوسرے ہیں۔
(وَ مَا یَعِدُھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) ابھی سلسلہ خطاب جاری ہے یہ جملہ معترضہ ہے مطلب یہ کہ بنی آدم سے شیطان جو بھی وعدے کرتا ہے اس کے یہ سب وعدے صرف دھوکے کے وعدے ہیں بنی آدم اس کی طرف سے چوکنے رہیں۔
Ayah 17:65پھر فرمایا کہ (اِنَّ عَبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ) یہ بھی ابلیس کو خطاب ہے مطلب یہ ہے کہ تو بنی آدم کو بہکانے، ورغلانے اور راہ حق سے ہٹانے کی وہ سب تدبیریں کرلینا جو تو کرسکتا ہے لیکن تجھے ایسا کوئی اختیار نہیں دیا جا رہا ہے کہ تو انسانوں کو اپنی قوت سے مجبور کرکے کوئی کام کرالے تیری ساری تدبیروں اور شرارتوں کے باوجود سب اپنے عمل میں مختار رہیں گے (اور اسی اختیار کی وجہ سے ان کا مواخذہ ہوگا) سورة حجر میں فرمایا کہ (اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ) (بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا تسلط نہیں ہوگا سوائے ان گمراہوں کے جو تیرا اتباع کریں) اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ شیطان کے پیچھے لگیں اور اپنے اختیار کو استعمال نہ کریں تو پھر ان پر شیطان کا تسلط ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ایسا حال بن جاتا ہے کہ شیطان کے پھندے سے نہ نکلتے ہیں اور نہ نکلنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو سمجھ اور اختیار دیا تھا اسے اپنے نقصان ہی میں استعمال کرتے ہیں۔ (وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً ) (اور تیرا رب کافی ہے کارساز) جو لوگ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں اخلاص کے ساتھ اعمال کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں شیطان کے کی دو مکر سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان کے لیے کافی ہے قال القرطبی ای عاصما من القبول من ابلیس و حافظا من کیدہ وسوء مکرہ۔
فائدہ : مفسرین نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ابلیس سے یہ فرمایا کہ جا تو ایسا ایسا کرلینا یہ ان چیزوں کی اباحت اور اجازت کے طور پر نہیں ہے جن کا یہاں ذکر ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہ منکرات اور فواحش اور کفر و شرک کی اجازت نہیں دیتا ابلیس سے جو کچھ خطاب فرمایا ہے یہ تہدید کے طور پر ہے، مطلب یہ ہے کہ تو جو کہتا ہے کہ میں اس نئی مخلوق کی ذریت پر قابو پالوں گا تو اپنی شقاوت میں ترقی کرتے ہوئے جو چاہے کرلینا تو ان سب کا مزہ چکھ لے گا جیسا کہ سورة ص میں فرمایا (لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (تو اور تیرا اتباع کرنے والے سب سے جہنم کو بھردوں گا)
Ayah 17:66اللہ تعالیٰ تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں جاری فرماتا ہے، وہ چاہے تو تمہیں زمین میں دھنسا دے یا سخت ہوا بھیج دے، بنی آدم کو ہم نے عزت دی، بحر و بر میں سفر کرایا، پاکیزہ کھانے کے لیے چیزیں دیں، اور ان کو بہت سی مخلوق پر فضیلت دی
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنے بعض ان انعامات کا تذکرہ فرمایا جو بنی آدم پر ہیں اور انسانوں کی ناشکری کا بھی تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ہے۔
اول تو کشتیوں کا ذکر فرمایا کہ تمہارا رب دریا میں کشتیوں کو چلاتا ہے یعنی ایسی ہوائیں چلاتا ہے جو کشتیوں کو لے کر چلتی ہیں۔ اور ہوا نہ ہو تو تم خود بھی کشتیوں کو اپنی تدبیروں سے چلا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے الہام فرمائی ہیں کشتیوں کے ذریعے سمندروں میں سفر کرکے اور سمندروں کو عبور کرکے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرتے ہو اور سمندر کے اندر بھی ایسی چیزیں ہیں جو بنی آدم کے کام آتی ہیں۔
سمندر میں کھانے کی چیزیں بھی ہیں۔ اور ایسی چیزیں بھی ہیں جو دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کو سمندروں سے نکال کر فروخت کرتے ہیں جو تحصیل مال کا ذریعہ ہیں نیز سمندر میں ایسی چیزیں بھی ہیں جن سے زیور بناتے ہیں۔ (لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ ) کے عموم میں یہ سب چیزیں آجاتی ہیں نیز سمندروں کو پار کرکے ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ پر پہنچتے ہیں مال تجارت لے جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کا ذریعہ ہے۔ (اِنَّہٗ کَانَ بِکُمْ رَحِیْماً ) (بلاشبہ وہ تم پر مہربان ہے) اس نے خشکی میں اور سمندر میں تمہارے لیے رزق پیدا فرما دیا پھر تمہیں اس کے حاصل کرنے پر قدرت دی۔
Ayah 17:67اس کے بعد انسانوں کے شرک اختیار کرنے اور آڑے وقت میں باطل معبودوں کو چھوڑ کر معبود حقیقی ہی کی طرف متوجہ ہونے کا تذکرہ فرمایا۔ یہ انسان کا عجیب طریقہ کار ہے کہ اچھی حالت میں باطل معبودوں کی عبادت کرتا رہتا ہے اور پھر جب کسی بڑی مصیبت میں گھر گیا مثلاً دریا کے سفر میں گیا وہ کشتی ڈگمگانے لگی تو سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اللہ ہی سے مانگنے لگتا ہے اور اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے سمندر کی مصیبت سے نجات دے دیتا ہے اور عافیت کے ساتھ باسلامت خشکی میں پہنچا دیتا ہے تو پھر وہی پرانی حرکت کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روگردانی کرتا ہے اور شرک کرنے لگتا ہے۔ (وَکَانَ الْاِنْسَانُ کَفُوْرًا) (اور انسان بڑا ناشکرا ہے) یہ کتنی بڑی ناشکری ہے کہ جس ذات پاک نے انعام فرمایا کشتی کو بھنور سے نکالا۔ ہواؤں کے بھونچال سے نجات دی۔ انسان اسی نجات دینے والے کو بھول جاتا ہے۔ اور نجات پاکر پھر شرک کرنے لگتا ہے۔ کما قال تعالیٰ فی سورة الزمر (ثُمَّ اِِذَا خَوَّلَہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدْعُوْآ اِِلَیْہِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) سورة عنکبوت میں فرمایا (نَجّٰھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَاھُمْ یُشْرِکُوْنَ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ )
Ayahs 17:68–69اس کے بعد انسانوں کو تنبیہ فرمائی کہ سمندر کی مصیبت سے نکل کر جو تم مطمئن ہوگئے اور باطل معبودوں کے پھر سے پجاری بن گئے ہو تو کیا تم یہ سمجھ کر مطمئن ہوگئے ہو کہ خشکی میں اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک نہیں کرسکتا۔ سمندر سے باسلامت نکل کر پھر شرکیہ کاموں میں لگ جانے سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ اب تم بالکل بےخوف ہوگئے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ یہ تمہاری بیوقوفی ہے اللہ تعالیٰ کو جیسے سمندر میں غرق کردینے کی قدرت ہے۔ ایسے ہی یہ بھی قدرت ہے کہ وہ تمہیں خشکی میں لاکر زمین میں دھنسا دے۔ اور یہ بھی قدرت ہے کہ تم پر ایسی سخت ہوا بھیجے جو پتھر برسانے والی ہو اور اسے یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں دوبارہ سمندر میں واپس کردے پھر وہ وہاں تمہارے اوپر ہوا کا سخت طوفان بھیج کر تمہارے کفر کی وجہ سے تمہیں غرق کردے۔ وہ تمہیں ہلاک کرے تو تم اس کے سوا کوئی کارساز نہیں پاسکتے۔ (ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَکُمْ وَکِیْلًا) اور وہ ہلاک کردے تو کوئی بھی ایسا نہیں جو اس کا پیچھا کرے یعنی اس کی گرفت کرسکے اور اس سے بدلہ لے سکے (ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَکُمْ عَلَیْنَا بِہٖ تَبِیْعًا) لہٰذا ہمیشہ کے لیے شرک کو چھوڑ دو اور اپنے خالق سے ڈرتے رہو اور دین توحید کو اختیار کرلو۔
قولہ تعالیٰ (ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَکُمْ عَلَیْنَا بِہٖ تَبِیْعًا۔ ای نصیرا کما روی عن ابن عباس او ثائراً یطلبنا بما فعلنا انتصار امنا أو درکا اوللثأر من جھتنا فھو کقولہ تعالیٰ فَسَوَّاھَا وَلاَ یَخَافُ عُقْبَاھَا کما روی عن مجاھد) (روح المعانی)
Ayah 17:70اس کے بعد تکریم بنی آدم کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے (وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ ) (اور ہم نے انسان کو عزت دی) (وَحَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) (اور ہم نے انہیں خشکی میں اور سمندر میں سوار کیا) (وَ رَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ) (اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں) (وَ فَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا) (اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔ )
اس آیت میں اول تو اجمالی طور پر بنی آدم کی تکریم بیان فرمائی کہ وہ ان صفات سے متصف ہے جو اس کے ساتھ خاص ہیں۔ قوت گویائی کا عطا کیا جانا فصیح وبلیغ ہونا مختلف اسالیب سے بیان کرنا کتابت کے ذریعہ مفہوم ادا کرنا احسن تقویم سے زینت پانا خوبصورت ہونا قد کا مستقیم ہونا قوت مدرکہ سے متصف ہونا اس کے ذریعہ چیزوں کو پہچاننا خبیث اور طیب میں امتیاز کرنا، بہت سی مخلوقات کا اس کے لیے مسخر ہونا عقل و فہم کے ذریعہ ممتاز ہونا زمین اور زمین کے اوپر جو کچھ ہے اسے آباد کرنا زمین کو باغ و بہار بنانا طرح طرح کی عمارات بنانا اور نئی نئی مصنوعات ایجاد کرنا اور ان سے متنفع ہونا سیارات میں سفر کرنا طیارات میں اڑنا بلندیوں میں جانے کے لیے راکٹ بنانا یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو انسان ہی کے ساتھ خاص ہیں اور ان سے انسان کا مکرم اور مشرف ہونا ظاہر ہے۔
اجمال کے بعد کچھ تفصیل بتائی اور ارشاد فرمایا (وَ حَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) اور ہم نے انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا خشکی میں سواری کے جانور ہیں انسان ہاتھی جیسی مخلوق پر بھی سواری کرتا ہے اور اب تو طرح طرح کی سواریاں وجود میں آگئی ہیں اور سمندر میں بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں۔ جن میں انسان سفر بھی کرتے ہیں اور بار برداری میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایک براعظم کی چیزیں دوسرے براعظم میں پہنچنے کا ذریعہ ہیں ان سب چیزوں میں بھی انسان کی تکریم اور تشریف ہے اور یہ منافع اور فوائد انسان ہی کے ساتھ خاص ہیں۔
(وَ رَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ) اور ہم نے بنی آدم کو عمدہ چیزیں عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح بھی مشرف و مکرم فرمایا کہ اسے پاکیزہ عمدہ اور نفیس چیزیں عطا فرمائیں۔ ان میں اچھے اچھے کھانے اور نفیس لباس اور عمدہ مفروشات (بچھانے کی چیزیں) اور طرح طرح کی استعمالی چیزیں ہیں۔ لفظ الطیبات جمع ہے طیب کی اس کے معنی میں حلال ہونا، عمدہ ہونا، اچھا ہونا، نفیس ہونا، سب کچھ آجاتا ہے۔ اور یہاں چونکہ خاص کر ما کو لات کا ذکر نہیں ہے اس لیے دیگر نعمتوں کو بھی یہ لفظ الطیبات شامل ہے۔
(وَ فَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا) (اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی) تکریم کے بعد تفضیل کا مستقل تذکرہ فرمایا۔ اس میں فضیلت جسمانی اور روحانی اخروی و دنیاوی اشتغال بعبادۃ اللّٰہ والتقرب الیہ اور ہر خیر داخل ہے اور ایک بہت بڑی بات یہ ہے کہ انسانوں ہی میں سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن میں افضل الانبیاء بھی ہیں ﷺ اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) ساری مخلوق سے افضل ہیں۔ اور یہ انسان کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ اس کی جنس میں افضل الخلائق وجود میں آئے۔
چونکہ آیت شریفہ میں یہ نہیں ہے کہ بنی آدم کے ہر ہر فرد کو دوسری مخلوق پر فضیلت دی گئی اس لیے یہ اشکال پیدا نہیں ہوتا کہ انسانوں میں کافر بھی ہیں وہ تو دوزخ میں جائیں گے انہیں کون سی فضیلت حاصل ہوئی، پھر چونکہ تفضیل عام ہے دنیاوی نعمتوں کو بھی شامل ہے اس لیے ان نعمتوں کے اعتبار سے تو سبھی انسان دوسری مخلوق کے مقابلہ میں فضیلت پائے ہوئے ہیں۔
یہ نہیں فرمایا کہ بنی آدم ساری مخلوق سے افضل ہیں بلکہ یہ فرمایا کہ بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت دی ہے لہٰذا فرشتے جو عامتہ المسلمین سے افضل ہیں اس پر بھی اشکال وارد نہیں ہوتا۔
بنی آدم میں جو ایمان والے ہیں ان میں اور فرشتوں میں باہمی کیا تفاضل ہے اس تفضیل کی تفصیل عقائد کی کتابوں میں مذکور ہے۔
Ayahs 17:71–72قیامت کے دن جن کے داہنے ہاتھ میں اعمالنامے دئیے جائیں گے وہ اپنے اعمالنامے پڑھ لیں گے
جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے آخرت میں بھی اندھا ہوگا
اوپر دو آیتوں کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں اعمال ناموں کی تفصیل اور دوسری آیت میں راہ ہدایت سے منہ موڑنے والوں کا اور قصداً اندھا بننے والوں کا تذکرہ ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ قرآن مجید میں لفظ ” امام “ کئی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مفسر قرطبی نے حضرت ابن عباس اور حسن اور قتادہ ؓ سے یہاں بِاِمَامِھِمْ کی تفسیر ” بکتابھم “ نقل کی ہے۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ والکتاب یسمی اماما لانہ یرجع الیہ فی تعرف اعمالھم لفظ امام کا جو معنی اس جگہ حضرت ابن عباس ؓ نے مراد لیا ہے سیاق کلام کے موافق ہے کیونکہ بعد میں داہنے ہاتھ میں اعمال نامے دئیے جانے کا ذکر ہے۔ قال القرطبی قولہ تعالیٰ فَمَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ ھذا یقوی قول من قال امامھم بکتابھم
اسی سورت کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے کہ (وَ کُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓءِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ وَ نُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقہُ مَنْشُوْرًا) جس میں بتایا ہے کہ ہر انسان کو اس کا اعمال نامہ ملے گا، اور وہ کھلا ہوا دیکھ لے گا۔ اور یہاں فرمایا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دئیے جائیں گے وہ ان کو پڑھیں گے۔ چونکہ داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ مل جانا اس بات کی دلیل ہوگا کہ یہ لوگ نجات والے ہیں اور جنت والے ہیں۔ اس لیے خوشی خوشی اپنے اعمالنامہ کو پڑھیں گے۔ سورة حاقہ میں ہے کہ جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ لوگوں سے کہے گا (ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْاکِتَابِیَہْ ) (لو میرا اعمال نامہ پڑھ لو) یہ خوشی میں کہے گا۔ اپنا اعمال نامہ خود بھی پڑھے گا اور دوسروں کو بھی پڑھوائے گا اور وہ یوں بھی کہے گا۔ (اِنِّیْ ظَنَنْتُ اِنِّیْ مُلاَقٍ حِسَابِیَہْ ) (میں یقین رکھتا تھا کہ مجھے اپنے حساب سے ملاقات کرنا ہے) دنیا میں حساب کا یقین رکھا لہٰذا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا رہا آج اس کا یہ پھل مل رہا ہے کہ اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں ہے اور آئندہ میرے لیے خیر ہی خیر ہے۔
(وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ) اور ان پر ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا کھجور کی گٹھلی کے گڑھے میں جو تاگہ ہوتا ہے اہل عرب اسے فتیل کہتے تھے اور ذرا سی چیز بتانے کے لیے اسے بطور مثال پیش کیا کرتے تھے۔ اسی معنی کو بیان کرتے ہوئے (وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ) فرمایا۔
سورۂ حاقہ میں ہے کہ برے لوگوں کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے۔ اور سورة انشقاق میں ہے کہ ان لوگوں کے اعمال نامے پشت کے پیچھے سے دئیے جائیں گے۔ مشکیں بندھی ہوئی ہونے کی صورت میں ہاتھ پیچھے ہوتے ہیں لہٰذا بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنا اور پشت کے پیچھے سے دیا جانا اس میں کوئی تعارض کی بات نہیں ہے۔ جن کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دئیے جائیں گے یہ کافر ہوں گے اور کافروں کی کبھی نجات نہ ہوگی۔ ہمیشہ دائمی عذاب میں رہیں گے۔
لفظ (بِاِمَامِھِمْ ) کے بارے میں حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ اس سے ہر امت کا نبی مراد ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ ہم سب لوگوں کو ان کے انبیاء کے ساتھ بلائیں گے، ہر امت اپنے نبی کے ساتھ ہوگی سورة نساء کی آیت (فَکَیْفَ اِذَاجِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْدٍ ) سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔
اور (بِاِمَامِھِمْ ) کی تفسیر یہ ہے (ونقلہ القرطبی عن ابن زید) کہ اس سے ہر امت کی کتاب مراد ہے۔ اہل تورات تورات کے ساتھ بلائے جائیں گے۔ اور قرآن والے قرآن کے ساتھ بلائے جائیں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی کتاب پر کیا عمل کیا ؟ اس کے اوامر کو کتنا اپنایا اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا تھا اس سے کتنے بچے رہے ؟
فائدہ : بعض لوگوں نے بِاِمَامِھِمْ کا ترجمہ بامھاتھم سے کیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ قیامت کے دن لوگ ماؤں کے نام سے بلائے جائیں گے۔ یہ بات صحیح نہیں اول تو ام کی جمع امام نہیں آتی، دوسرے احادیث صحیحہ سے یہ بات ثابت ہے کہ باپوں کے نام سے بلائے جائیں گے۔ حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم قیامت کے روز اپنے ناموں کے ساتھ اور باپوں کے ناموں کے ساتھ بلائے جاؤ گے، لہٰذا تم اپنے نام اچھے رکھو۔ (رواہ ابو داؤد فی کتاب الادب)
امام بخاری ؓ نے اپنی جامع صحیح میں باب باب ما یدعی الناس یوم القیامۃ باباءھم قائم کرکے صحیح حدیث سے ثابت کیا ہے کہ قیامت کے روز باپوں کے نام سے بلاوا ہوگا۔ معالم التنزیل میں ماؤں کے ناموں کے ساتھ پکارنے کے تین سبب بتائے گئے ہیں۔ لیکن یہ سب خود ساختہ ہیں جو محض روایت کی شہرت کی وجہ سے تجویز کیے گئے ہیں۔ چناچہ صاحب معالم التنزیل نے تینوں اسباب ذکر کرکے فرمایا ہے کہ والاحادیث الصحیحۃ بخلافہ یعنی صحیح احادیث اس مشہور قول کے خلاف ہیں۔
دوسری آیت میں فرمایا جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور زیادہ راہ گم کردہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ شانہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا جس میں آسمان بھی ہیں اور زمین بھی ہے چاند سورج بھی ہیں لیل و نہار بھی ہیں اور پہاڑ بھی بحار و انہار بھی ہیں اور اشجار بھی، ان سب چیزوں میں دلائل موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ خالق ومالک ایک ہی ہے۔ یہ دلائل تکوینیہ ہیں ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ان پر کتابیں نازل فرمائیں انہوں نے توحید کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نبوت اور رسالت کے اثبات کے لیے معجزات ظاہر فرمائے اور راہ حق کو خوب واضح فرما دیا۔ لیکن بہت سے لوگ قصداً اور ارادۃً دلائل تکوینیہ کو دیکھ کر ایمان نہ لائے۔ اور معجزات سامنے ہونے پر بھی متاثر نہ ہوئے۔ جیسا کہ کفر و شرک میں ڈوبے ہوئے تھے اسی طرح بدستور گمراہی میں رہنا پسند کیا اور اپنے آپ کو اندھا بنالیا۔ جس نے دنیا میں اپنے لیے گمراہ ہونے کو پسند کیا وہ آخرت میں بھی نابینا ہوگا۔ یعنی اسے وہاں کوئی راستہ نجات کا نہیں ملے گا۔ دنیا میں تو یہ بھی ہوسکتا تھا کہ جب تک زندہ ہے توبہ کرلے اور ایمان قبول کرلے لیکن جب مرگیا تو توبہ کا راستہ بھی بند ہوگیا۔ اور مزید گمراہ اور بےراہ ہوگیا کیونکہ اب نجات کا کوئی راستہ نہ رہا۔ لہٰذا جو دنیا میں اندھا بنا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور وہاں نجات کا راستہ پانے کی کوئی تدبیر نہ ہوسکے گی۔
سورة حج میں ارشاد فرمایا (اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ) (کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ ان کے ایسے دل ہوتے جن کے ذریعے سمجھتے یا ایسے کان ہوتے جن سے سنتے، سو بلاشبہ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں لیکن دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں) یعنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن دلوں کی بصیرت سے کام نہیں لیتے قصداً اور ارادۃً اندھے بنے رہتے ہیں۔
کفار و مشرکین دنیا میں دل کے اندھے ہیں اور آخرت میں بھی اس کے نتیجے میں اندھے ہوں گے اور نجات کی کوئی سبیل نہ پائیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ آنکھوں سے نابینا ہونے کی حالت میں اٹھائے جائیں گے۔
اسی سورت کے گیارہویں رکوع میں فرمایا (وَ نَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ عُمْیًا وَّ بُکْمًا وَّ صُمًّا مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰھُمْ سَعِیْرًا) (اور قیامت کے دن ہم انہیں اس حالت میں محشور کریں گے کہ چہروں کے بل اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں چل رہے ہوں گے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جب وہ دھیمی ہوجائے گی تو ہم اسے اور زیادہ بھڑکا دیں گے) معلوم ہوا کہ مشرکین و کفار جب محشور ہوں گے تو آنکھوں سے اندھے اور زبانوں سے گونگے اور کانوں سے بہرے ہوں گے البتہ بعد میں زبان کو گویائی دے دی جائے گی اور سمع و بصر بھی واپس کردی جائیں گی دل کے اندھے ہو کر تو دنیا ہی سے گئے تھے ابتداءً محشور ہوں گے تو اس وقت آنکھوں سے بھی اندھے ہوں گے۔
Ayahs 17:73–75مشرکین کی خواہش تھی کہ آپ کو اپنی طرف کرلیں اور اپنا دوست بنالیں
ان آیات کا نزول بیان کرتے ہوئے مفسرین نے کئی روایات لکھی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی قابل اعتماد نہیں۔ صحت کے قریب جو روایت ہے جسے صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن ابی حاتم جبیر بن نفیر سے نقل کیا ہے یہی ہے کہ قریش مکہ نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ اگر ہماری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں تو آپ ان لوگوں کو ہٹا دیں جو گرے پڑے لوگ آپ کے تابع ہوگئے ہیں۔ تاکہ ہم آپ کے اصحاب میں شامل ہوجائیں۔ اتنی بات آیت کریمہ (وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ ) کے سبب نزول سے موید ہوتی ہے جس کا سورة انعام میں ذکر گزر چکا ہے اس کے بعد صاحب روح المعانی نے ایک قول بلاحوالہ نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ قریش مکہ نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے آیت رحمت کو آیت عذاب بنا دیں اور آیات عذاب کو آیات رحمت بنا دیں تو آپ پر ایمان لے آئیں گے اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔
صحیح سند سے تو کوئی روایت ثابت نہیں البتہ (طرز کلام سے) اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین نے کوئی درخواست ایسی کی تھی جس کے قبول کرنے کا اسلام میں کوئی جواز نہ تھا۔ ان لوگوں نے تو کوشش کی کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کو ان باتوں سے ہٹا دیں جن کی آپ پر وحی آئی تھی۔ اور آپ سے ایسی باتیں منظور کرالیں جو اللہ کی وحی کے خلاف ہیں۔ چونکہ یہ چیزیں ان کے مطلب کی تھیں اور وحی الٰہی ان کی خواہشوں کے خلاف تھی اس لیے رسول اللہ ﷺ سے دشمنی رکھتے تھے۔ اگر آپ ان کی باتیں مان لیتے تو وہ آپ کو دوست بنالیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثابت قدم رکھا اور آپ ان کی طرف ذرا بھی مائل نہ ہوئے۔
قال صاحب الروح ولا یخفی ان فی قولہ سبحانہ (الیھم) دون الی اجابتھم ما یقوی الدلالۃ علی انہ (علیہ السلام) بمعزل عن الاجابۃ فی اقصی الغایات، وھذا الذی ذکر فی معنی الایۃ ھو الظاھر متبادر للافھام۔
آخر میں یوں فرمایا کہ اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے اور بالفرض آپ ان کی طرف جھک جاتے تو ہم آپ کو اس زندگی میں اور موت کے بعد دہرا عذاب چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کوئی بھی مددگار نہ پاتے اس میں آپ کو جو خطاب ہے فرض کے طور پر ہے اور اس میں امت کے لیے عبرت ہے جو بھی کوئی شخص کافروں کی طرف مائل ہوگا (اور میلان کے مختلف درجات ہیں) تو وہ دنیا اور آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ قال البغوی فی تفسیرہ یعنی اضعفنالک العذاب فی الدنیا والآخرۃ وقیل الضعف ھو العذاب سمی ضعفا لتضاعف الالم فیہ قال صاحب الروح وینبغی للمومن اذا تلا ھذہ الایۃ ان یجثو عندھا ویتدبرھا وان یستشعر الخشیۃ وازدیاد التصلب فی دین اللّٰہ تعالیٰ
Ayah 17:76مشرکین چاہتے تھے کہ آپ ﷺ کو زبردستی مکہ مکرمہ سے نکال دیں
حضرت مجاہد اور قتادہ ؓ نے فرمایا کہ مشرکین نے آنحضرت سرور عالم ﷺ کو مکہ مکرمہ سے جلا وطن کرنے اور وہاں سے زبردستی نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا کرنے سے باز رکھا اور آپ باذن الٰہی خود ہی ہجرت کرکے مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر مدینہ تشریف لے آئے مشرکین اپنے ارادوں میں ناکام ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قریب تھا کہ یہ لوگ اس سرزمین سے آپ کے قدموں کو اکھاڑ دیتے (لیکن وہ ایسا نہ کرسکے) اور اگر وہ ایسا کرلیتے اور آپ کو نکال کر خود رہنا چاہتے تو خود بھی وہاں نہ رہ پاتے اور وہاں ان کا ٹھہرنا بس ذرا سا ہی ہوتا، اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ آپ کو ہجرت کی اجازت دیدی اور ان لوگوں کو اس کا موقع نہ دیا کہ زبردستی آپ کو نکال دیتے لہٰذا وہ مکہ ہی میں رہتے رہے پھر انہیں اسلام کی بھی توفیق ہوگئی۔ قال صاحب الروح وھذا ھو التفسیر المروی عن مجاھد قال ارادت قریش ذالک ولم تفعل لانہ سبحانہ اراد استبقاءھا وعدم استتصالھا لیسلم منھا ومن اعقابھا من یسلم فاذن لرسولہ (علیہ السلام) بالھجرۃ فخرج باذنہ لا باخراج قریش وقھرھم۔
Ayah 17:77(سُنَّۃ مَنْ اَرْسَلْنَا) یہ مصدریت کی بنا پر منصوب ہے یعنی سننا سنۃ من قد ارسلنا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آپ کو نکال دیتے تو ہم انہیں ہلاک کردیتے آپ ﷺ سے پہلے جو رسول ہم نے بھیجے تھے ان کے بارے میں ہمارا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب ان کی امتوں نے نکال دیا تو پھر امتیں بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں تھوڑے سے وقفے کے بعد ہی ہلاک کردی گئیں۔ (وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا) (اور آپ ہمارے طریقہ میں تغیر نہ پائیں گے) اپنی مخلوق کے بارے میں جو طریقے ہم نے جاری کیے ہیں انہیں کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 17:78صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے کافروں کے مکرو فریب کو بیان فرمانے اور آپ کو تسلی دینے کے بعد حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر متوجہ رہیں آپ کو نمازیں قائم کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی آپ سے یہ وعدہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود عطا فرمائے گا یہ ایسا مقام ہے کہ جس پر اولین و آخرین سب رشک کریں گے پس جبکہ آپ کو اتنا بڑا مقام ملنے والا ہے تو اہل دنیا کی ایذاؤں پر صبر کیجیے ان کی طرف توجہ نہ فرمائیے۔
آیت شریفہ میں (لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ ) سے لے کر (غَسَقِ الَّیْلِ ) تک نماز پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ دلوک لفظ مشترک ہے اس کا اصل معنی مائل ہونے کا ہے، مجمع البحار میں ہے الدلوک یرادبہ زوالھا عن وسط السماء وغروبھا ایضا واصلہ المیل حضرت عمر اور ابن عمر اور انس اور حضرت ابوبرزہ اسلمی اور حسن اور شعبی اور عطاء اور مجاہد ؓ نے (لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ ) سے زوال شمس مراد لیا ہے اور حضرت علی اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا ہے کہ اس سے غروب شمس مراد ہے، اور لفظ غسق کے بارے میں صاحب قاموس لکھتے ہیں کہ ظلمۃ اول اللیل اور امام راغب مفردات القرآن میں لکھتے ہیں غسق اللیل شدۃ ظلمتہ ان دونوں باتوں سے معلوم ہوا کہ غسق اللیل سے رات کی ابتدائی اندھیری بھی مراد لی جاسکتی ہے اور اس کے بعد جو خوب زیادہ تاریکی آجاتی ہے وہ بھی مراد لی جاسکتی ہے، دلوک سے زوال مراد لینے کی صورت میں آیت کریمہ میں پانچوں نمازوں کا تذکرہ آجاتا ہے۔ کیونکہ زوال آفتاب سے لے کر رات کی خوب زیادہ تاریکی آنے تک نمازیں پڑھنے میں ظہر، عصر اور مغرب و عشاء سب کا حکم آگیا اور فجر کی نماز کا ذکر مستقل (وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ) میں فرما دیا کیونکہ یہ وقت نیند سے اٹھنے کا ہوتا ہے اس لیے اس کو مستقل طریقے پر ذکر فرمایا ہے۔
قال البغوی فی معالم التنزیل ص 128 ج 3 والحمل (ای حمل الدلوک) علی الزوال اولی القولین لکثرۃ القائلین بہ، لانا اذا حملناہ علیہ کانت الایۃ جامعۃ لمواقیت الصلاۃ کلھا، فدلوک الشمس یتناول صلاۃ الظھر والعصر والی غسق اللیل یتناول المغرب والعشاء و قرآن الفجر ھو صلاۃ الصبح۔
لفظ (وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ) منصوب ہے اور الصلوٰۃ پر معطوف ہے اور قراٰن الفجر سے نماز فجر مراد ہے نماز فجر میں سب نمازوں سے زیادہ لمبی قرأت پڑھی جاتی ہے اور جہر سے ہوتی ہے اس لیے اسے قرآن الفجر فرمایا : ھذا من تسمیۃ الشیء باسم جزۂ لان القراء ۃ جزء منھا۔
(اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا) (بلاشبہ فجر کی نماز حاضر ہونے کا وقت ہے) سنن ترمذی (کتاب التفسیر) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ تشھدہ ملائکۃ اللیل وملائکۃ النھار یعنی قرآن الفجر کو مشہود اس لیے فرمایا کہ اس میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ قال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے رہتے ہیں۔ اور نماز فجر اور نماز عصر میں جمع ہوجاتے ہیں پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے ساتھ رہے وہ اوپر جاتے ہیں تو ان کا رب ان سے دریافت فرماتا ہے حالانکہ اپنے بندوں کو وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے انہیں اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز میں مشغول تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے اس وقت بھی وہ نماز میں مشغول تھے۔ (صحیح بخاری ص 79 ج 1)
فرشتے عصر اور فجر دونوں ہی نمازوں میں حاضر ہوتے ہیں لیکن آیت کریمہ میں خاص طور پر فجر کے وقت کی حاضری کا ذکر اس لیے فرمایا کہ نماز فجر میں نیند چھوڑ کر حاضر ہونا نفسوں پر شاق ہوتا ہے بندوں کو بتادیا کہ نیند کو چھوڑو اور وہاں حاضر ہوجاؤ جہاں فرشتے بھی حاضر ہیں۔ قال صاحب الروح ص 137 ج 15 ولا یخفی ما فی ھذہ الجملۃ من الترغیب والحث علی الاعتناء بامر صلاۃ الفجر لان العبد فی ذالک الوقت مشیع کراما و متلقی کراما فینبغی ان یکون علی احسن حال یتحدث بہ الراحل ویرتاح لہ النازل ھو من اللیل۔
Ayah 17:79(فتھجدبہ نافلۃ لک) اور رات کے حصہ میں نماز تہجد پڑھا کیجیے جو آپ کے لیے زائد چیز ہے۔
لفظ تہجد ہجود سے لیا گیا ہے، ہجود سونے کو کہتے ہیں اور تہجد ترک النوم یعنی سونے کے بعد اٹھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ (لان التفعل للتجنب مثل التاثم والتحنث) وقال بعضھم ان الھجود من الاضداد والمراد بالتھجد تکلف الھجود بمعنی الیقظۃ ذکرہ صاحب الروح۔
رات عبادت کے لیے مناسب ترین وقت ہے، اس میں جتنی بھی نماز پڑھی جائے ذکر و تسبیح و تلاوت میں وقت گزارا جائے بہت مبارک ہے اور بہت بڑی فضیلت کی بات ہے اگر سونے سے پہلے نفل نماز پڑھ لے، یہ بھی بہت بڑے ثواب کی چیز ہے۔ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ یہ بیداری مشقت کی چیز ہے اور نفسوں پر بھاری ہے سو جب تم میں سے کوئی شخص اول رات میں وتر پڑھ لے تو اس کے بعد دو رکعتیں (نفل) پڑھ لے اس کے بعد اگر رات کو کھڑا ہوگیا (اور نماز پڑھ لی تو یہ اس کے لیے بہتر ہوگا) ورنہ دو رکعت (جو سونے سے پہلے پڑھی) رات کے قیام کے حساب میں لگ جائے گی۔ (رواہ الدارمی کما فی المشکوٰۃ ص 133)
لیکن تہجد وہی ہے جو سو کر اٹھنے کے بعد نفلیں پڑھی جائیں کیونکہ اس میں تکلیف زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا عموماً اسی پر عمل تھا۔ بعض راتیں آپ نے ایسی گزاریں کہ بار بار سو جاتے تھے اور درمیان میں بار بار اٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔
بظاہر آیت کریمہ میں نبی اکرم ﷺ کو خطاب ہے اور ” نافلہ “ کے معنی زائدہ کے ہیں۔ بعض علماء کی رائے تو یہ ہے کہ نماز تہجد خاص کر آنحضرت ﷺ پر فرض فرمائی تھی۔ اور چونکہ یہ پانچوں نمازوں سے زیادہ تھی اس لیے اسے نافلہ فرمایا۔ نافلہ اپنے معروف معنی میں نہیں ہے۔ پھر آگے اس میں اختلاف ہے کہ آپ پر اس کی فرضیت باقی رہی یا آپ کے لیے بھی بعد میں نماز تہجد نفل قرار دے دی گئی۔
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ یہ خطاب بظاہر آنحضرت ﷺ کو ہے لیکن تبعاً آپ کی امت کو بھی خطاب ہے جیسا کہ اور دیگر مواقع میں بھی ایسا ہے ان حضرات کا فرمانا ہے کہ ابتداً رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کی امت کو نماز تہجد کا حکم دیا گیا تھا اور یہ سب پر فرض تھی پھر امت کے حق میں فرضیت منسوخ ہوگئی۔ اور آپ پر برابر فرض رہی۔
آنحضرت ﷺ پر نماز تہجد فرض ہوئی۔ پھر فرضیت آخیر تک باقی رہی یا فرضیت آپ کے حق میں بھی منسوخ ہوگئی۔ جو بھی صورت ہو بہرحال آپ ہمیشہ اہتمام کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھتے تھے۔ حضرات صحابہ ؓ بھی اس میں مشغول رہتے تھے۔ اور آپ نے اس کی بہت زیادہ ترغیب دی ہے۔ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) اور ان کی امتوں کے صالحین اس نماز کو پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم رات کے قیام کرنے کو لازم پکڑلو۔ کیونکہ تم سے پہلے جو صالحین گزرے ہیں یہ ان کی عبادت رہی ہے اور وہ تمہارے رب کی نزدیکی کا سبب ہے اور تمہارے گناہوں کا کفارہ ہے اور گناہوں سے روکنے والی ہے۔ (رواہ الترمذی)
عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نماز ہے اور روزوں میں سب سے زیادہ محبوب حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں۔ وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز میں کھڑے ہوتے تھے پھر باقی رات کا جو چھٹا حصہ رہ گیا اس میں سو جاتے تھے اور ایک دن (نفل) روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بےروزہ رہتے تھے۔ (رواہ البخاری)
حضرت مغیرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نمازوں میں اتنا قیام فرمایا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے کسی نے عرض کیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ حالانکہ آپ کا گزشتہ اور آئندہ سب کچھ بخش دیا گیا ہے آپ نے فرمایا تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (رواہ البخاری ص 102)
حضرت عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جس وقت پچھلی رات کا درمیانہ حصہ ہو۔ سو اگر تجھ سے یہ ہوسکے کہ اس وقت میں اللہ کا ذکر کرنے والوں میں سے ہوجائے تو اس پر عمل کرلینا۔ (رواہ الترمذی قال ہذا حدیث حسن صحیح)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے زیادہ مقبول ہونے والی دعا کونسی ہے ؟ آپ نے فرمایا جو پچھلی رات کے درمیان ہو اور فرض نمازوں کے بعد (رواہ الترمذی) اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ افضل وہ نماز ہے جو رات کے درمیان ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 111)
حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا باہر کا حصہ اندر سے اور اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے۔ یہ بالا خانے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے تیار کیے ہیں جو نرمی سے بات کریں اور کھانا کھلایا کریں اور لگاتار روزے رکھا کریں اور رات کو نماز پڑھیں جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعت پڑھتے تھے ان میں وتر بھی تھے اور فجر کی دو سنتیں بھی تھیں۔ (رواہ مسلم)
احادیث بالا سے نماز تہجد کی فضیلت معلوم ہوئی۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت بالا کے علاوہ دیگر آیات میں بھی اس کی فضیلت آئی ہے۔ سورة الذاریات میں ہے (اِِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ اٰخِذِیْنَ مَا اٰتَاھُمْ رَبُّہُمْ اِِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ) (بلاشبہ متقی لوگ بہشتوں میں اور چشموں میں ہونگے جو کچھ ان کے رب نے ان کو دیا اسے لینے والے ہونگے بلاشبہ وہ اس سے پہلے نیک کام کرنے والے تھے وہ رات کو بہت کم سوتے تھے اور رات کے آخری حصوں میں استغفار کرتے تھے) سورة الم سجدہ میں فرمایا (تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) (ان کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں اس طور پر کہ وہ لوگ اپنے رب کو امید سے اور خوف سے پکارتے ہیں اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں۔ )
فائدہ : رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد نیند کے غلبہ یا کسی دکھ تکلیف کی وجہ سے رہ جاتی تھی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ یہ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے اور حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص سے رات کا کوئی ورد نیند کی وجہ سے رہ گیا یا پڑھنے کی کوئی چیز چھوٹ گئی پھر اسے فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لیا تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے رات کو پڑھا ہوتا۔ (دونوں روایتیں صحیح مسلم میں مروی ہیں)
فائدہ : جس شخص کو تہجد پڑھنے کی عادت ہو اور اسے مضبوط امید ہو کہ رات کو ضرور اٹھے گا وہ نماز وتر کو تہجد کی نماز کے بعد پڑھے یہ افضل ہے، اور اگر تہجد کو اٹھنے کی پکی امیدنہ ہو تو شروع رات ہی میں وتر پڑھ کر سو جائے۔ شیطان بہت شریر ہے اس کو قابو نہ دیں وہ شروع رات میں یہ سمجھا دیتا ہے کہ تہجد میں وتر پڑھ لینا اور نفس بھی اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ پھر رات کو نہ نفس اٹھنے کی ہمت کرتا ہے اور نہ شیطان اٹھنے دیتا ہے۔ بعض تہجد گزاروں کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا ہوشمندی کے ساتھ نیک بنیں۔
فائدہ : بعض مفسرین نے (نَافِلَۃً لَّکَ ) کا یہ معنی بھی لیا ہے کہ نماز تہجد کے ذریعے آپ کو جو خاص فضیلت حاصل ہوگی وہ صرف آپ کے لیے ہے، چونکہ آپ معصوم ہیں اس لیے اس نماز کے ذریعہ آپ کے درجات رفیعہ میں مزید اضافہ در اضافہ ہوتا رہے گا اور مزید در مزید قرب الٰہی کا ذریعہ ہوگا۔ رہا امت کا معاملہ تو چونکہ وہ معصوم نہیں ہیں اس لیے اس کے ذریعے ان کا کفارہ سیئات بھی ہوگا اور فرائض میں جو کوتاہی ہے اس کی بھی تلافی ہوگی۔ (روح المعانی)
(عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) (آپ کا رب آپ کو عنقریب مقام محمود میں اٹھائے گا) اس میں آپ کے لیے تسلی ہے کہ چند روزہ دنیا میں وہ بھی چند دن آپ کے دشمن جو آپ کو تکلیف دے رہے ہیں یہ اس بلند مرتبہ کے سامنے بےحقیقت ہے جو مرتبہ آپ کو قیامت کے دن عطا کیا جائے گا یعنی مقام محمود پر پہنچایا جائے گا۔ اس مقام پر تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور تمام اولین و آخرین آپ کی تعریف کریں گے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ قیامت کے روز سب لوگ مختلف جماعتوں میں بٹے ہوں گے۔ ہر امت اپنے اپنے نبی کے پیچھے ہوگی۔ وہ عرض کریں گے کہ ہماری سفارش کیجیے حتیٰ کہ ہمارے نبی ﷺ تک شفاعت کی نوبت پہنچ جائے گی (جب دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) سفارش کرنے سے انکار کردیں گے تو نبی کریم ﷺ ساری مخلوق کے لیے سفارش کریں گے) یہ وہ مقام محمود ہے جس پر اللہ تعالیٰ آپ کو پہنچا دے گا۔ (صحیح بخاری ص 686)
اس حدیث میں بہت اجمال ہے۔ دوسری روایات میں تفصیل کے ساتھ شفاعت کا مضمون وارد ہوا ہے اور وہ یہ کہ قیامت کے دن جب لوگ بہت ہی زیادہ تکلیف میں ہوں گے اور سورج قریب ہوجائے گا اس بےچینی کے عالم میں کہیں گے کہ کسی سے سفارش کے لیے عرض کرو۔ پہلے آدم (علیہ السلام) کے پاس پھر نوح (علیہ السلام) کے پاس پھر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سفارش کرنے کی درخواست کریں گے یہ سب حضرات انکار کردیں گے تو سید الاولین و الآخرین محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور شفاعت کی درخواست کریں گے آپ عرش کے نیچے پہنچ کر سجدہ میں گرجائیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی ایسی ایسی تعریفیں الہام فرمائے گا جو اس سے پہلے کسی کے قلب میں نہیں ڈالی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اے محمد سر اٹھاؤ اور سوال کرو۔ سوال پورا کیا جائے گا۔ اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ (رواہ البخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے شفاعت مراد ہے۔ رواہ الترمذی فی التفسیر وفی حاشیۃ قولہ مَقَامًا مَّحْمُوْدًایحمدہ فی جمیع الخلق التعجیل الحساب والاراحۃ من طول والوقوف 1 ھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ آپ کو مقام محمود عطا فرمائے گا لیکن امت محمدیہ صلی اللہ علی صاحبھا السلام کو بھی مقام محمود کی دعا کرنے کا شرف عطا کیا ہے جو اذان کا جواب دینے کے بعد کی جاتی ہے۔
Ayah 17:80قرآن مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے، ظالموں کے نقصان ہی میں اضافہ کرتا ہے
یہ پانچ آیات ہیں جن کا اوپر ترجمہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت سفر ہجرت کے بارے میں ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ معظمہ میں مقیم تھے، پھر جب آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا اس وقت آیت کریمہ (وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ ) آخر تک نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں کہ مجھے بہترین داخل ہونے کی جگہ میں داخل فرمائیے اور میرا اپنے شہر سے نکلنا بھی میرے لیے اچھا بنا دیجیے (جس کا انجام مبارک ہو) اور میرے لیے اپنے پاس سے ایسا غلبہ دیجیے جس میں آپ کی مدد بھی ہو (رواہ الترمذی فی التفسیر) مدخل صدق سے جائے ہجرت اور مخرج صدق سے مکہ معظمہ مراد ہے مطلب یہ کہ مکہ معظمہ سے اطمینان کے ساتھ نکل جاؤں دشمن کوئی تکلیف نہ پہنچا سکے اور دارالہجرہ میں بھی خوبی کے ساتھ داخلہ ہوجائے اور پھر یہ داخلہ مبارک ہو جس کے بعد آپ کی طرف سے غلبہ بھی ہو اور نصرت بھی ہو۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے یہ دعا تلقین فرمائی پھر اس کو قبول فرمایا۔ پھر چند سال کے بعد آپ مکہ معظمہ میں فتح، غلبہ اور نصرت الٰہی کے ساتھ داخل ہوگئے۔
Ayahs 17:81–82دوسری آیت میں فتح مکہ کا ذکر ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت بیت اللہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ کی ایک ٹہنی سے گراتے جاتے تھے اور یہ پڑھتے جاتے تھے۔ (جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا) اور یہ بھی پڑھتے جاتے تھے۔ (جَآءَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ ) سورة سبا کی آیت ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ حق کے آنے اور باطل کے چلے جانے کا اعلان کردیں۔ چناچہ آپ نے بتوں کو گراتے ہوئے سورة بنی اسرائیل کی آیت پر بھی عمل کیا اور سورة سبا کی آیت پر بھی۔
تیسری آیت میں فرمایا کہ ہم جو قرآن میں نازل کرتے ہیں یہ مومنین کے لیے سراپا شفاء اور رحمت ہے، اور رہے ظالم جو حق پر بھی ظلم کرتے ہیں (اسے قبول نہیں کرتے) اور اپنی جانوں پر بھی ظلم کرتے ہیں تو یہ لوگ حق سے منہ موڑنے کی وجہ سے اپنے کو عذاب آخرت کے لیے تیار کرتے ہیں ان کا جو طریقہ ہے وہ خود ان کے حق میں بربادی اور خسارے کا سبب ہے۔ یہی قرآن جو اہل ایمان کے لیے شفاء اور رحمت ہے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے لیے یہی قرآن خسارہ اور بربادی کا سبب بن جاتا ہے اور جیسے جیسے کوئی آیت نازل ہوتی ہے اس کی تکذیب کرتے ہیں اور اپنے خسارہ میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ قال صاحب الروح واسناد الزیادۃ المذکورۃ الی القرآن مع انھم المزادون فی ذلک لسوء صنیعھم باعتبار کونہ سببا لذلک۔
Ayah 17:83چوتھی آیت میں انسان کے ناشکری کے مزاج کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ ہم جب اس پر انعام فرماتے ہیں اور نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور اعراض بھی تھوڑا سا نہیں خوب زیادہ اعراض کرتا ہے اور وہ یہ کہ رخ پھیر کر دوسری طرف مڑ جاتا ہے۔
یہ تو اس کی حالت اس وقت ہوتی ہے جب اس کو نعمت مل جائے، اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو بس ناامید ہو کر رہ جاتا ہے۔
سورة ہود میں فرمایا (وَ لَءِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنٰھَا مِنْہُ اِنَّہٗ لَیَءُوْسٌ کَفُوْرٌ وَ لَءِنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ذَھَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ) (اور اگر ہم انسان کو اپنی مہربانی کا مزا چکھا کر اس سے چھین لیتے ہیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے اور اگر اس کو کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی ہو کسی نعمت کا مزہ چکھا دیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرا سب دکھ درد رخصت ہوا وہ اترانے لگتا ہے شیخی بگھارنے لگتا ہے مگر جو لوگ مستقل مزاج ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہوتے ایسے لوگوں کے لیے بڑی مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ )