Ayah 17:27رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں پر مال خرچ کرنے کا حکم فرمانے کے بعد فضول خرچی اور بےجا مال اڑانے سے منع فرمایا، سخاوت تو شریعت اسلامیہ میں محمود ہے لیکن مال کو ضائع کرنا بےجا اڑانا فضول خرچی کرنا ممنوع ہے، بہت سے لوگ گناہوں میں خرچ کردیتے ہیں اور بیوی بچوں کی فرمائشوں میں بےجا مال صرف کرتے ہیں اور اس کے لیے اپنے سر قرضے تھوپتے رہتے ہیں جن میں بعض مرتبہ سود کا لین دین بھی کر بیٹھتے ہیں اور اپنی جان کو مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگ آیت کریمہ کے مضمون پر غور کریں۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے۔ (وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ) (اور اسراف نہ کرو بلاشبہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا) اور یہاں فضول خرچ کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں شیطان ہی ان سے فضول مال خرچ کرواتا ہے اور گناہوں میں لگواتا ہے اس کی بات ماننے والے اس کے بھائی ہیں یعنی اللہ کی نافرمانی میں شیطان کی طرح سے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر (ص 36 ج 3) میں حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ تبذیر یہ ہے کہ حق کے علاوہ دوسری چیزوں میں مال خرچ کیا جائے اور حضرت مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا سارا مال حق میں خرچ کردے تو یہ تبذیر نہیں اور ایک مد بھی ناحق خرچ کردے تو یہ تبذیر ہے۔
مزید فرمایا (وَکَان الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا) (اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ )
جو لوگ شیطان کی راہ پر چلتے ہیں مال فضول اڑاتے ہیں وہ بھی ناشکرے ہی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا نعمتیں عطا فرمائیں ان کو سوچ سمجھ کر میانہ روی کے ساتھ خرچ کرنا لازم ہے، فرائض وواجبات میں خرچ کرے، نفلی صدقات دے اور گناہوں میں مال نہ لگائے، یہ کتنی بڑی بیوقوفی ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے جو مال عطا فرمایا اسے گناہوں میں لگا دیا یا بیچا خرچ کردیا، جس نے مال دیا اسی کی نافرمانی کی اس سے بڑھ کر کیا ناشکری ہوگی، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر دانی یہ ہے کہ ان نعمتوں کو نعمت دینے والے کے حکم کے مطابق خرچ کیا جائے۔
Ayah 17:28بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ذوی القربی اور مساکین اور مسافرین کو دینے کے لیے اپنے پاس مال نہیں ہوتا یا تھوڑا بہت ہوتا ہے ایسے موقع پر جو لوگ امیدوار ہوتے ہیں لیکن ان کی مالی خدمت کرنے سے معذوری اور مجبوری ہوتی ہے مگر ساتھ ہی خرچ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ سے یہ امید بھی بندھی ہوئی ہوتی ہے کہ انشاء اللہ مال آجائے گا ایسے موقع پر ان لوگوں سے اچھے الفاظ میں اور نرم لہجے میں معذرت کرلی جائے ان کی سرزنش نہ کرے اور ایسے الفاظ نہ کہے جن سے انہیں دکھ پہنچے، مفسر ابن کثیر (فَقُلْ لَّھُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ای عدھم وعدا بسھولۃ ولین۔
لکھتے ہیں کہ حضرت بلال اور خباب (فقرائے صحابہ) کبھی کبھی اپنی ضرورت کے لیے آنحضرت ﷺ سے سوال کرلیا کرتے تھے کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ کے پاس ان کے دینے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا آپ ان کی طرف سے شرم کے مارے اعراض فرما لیتے تھے زبانی طور پر کوئی جواب نہیں دیتے تھے اس پر آیت (وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْھُمُ ابْتِغَآءَ ) (الآیۃ) نازل ہوئی۔
Ayah 17:29پھر فرمایا (وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) (اور تو اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کی طرف باندھا ہوا مت رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے ورنہ تو ملامت کیا ہوا خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے گا) اس آیت میں خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے مال خرچ کرتا رہے (لیکن گناہوں میں خرچ نہ کرے اور بالکل ہی ہاتھ روک کر نہ بیٹھ جائے کہ خرچ نہ کرے) اور جب خرچ کرنے لگے تو بالکل پوری طرح ہاتھ نہ کھول دے (کہ سارا مال ختم کردے) کیونکہ ایسا کرنے سے ملوم بھی ہوگا اور محسور بھی ہوگا، ملوم کا معنی ہے ملامت کیا ہوا اور محسور کا معنی ہے رکا ہوا یعنی عاجز بنایا ہوا، جب اپنے پاس کچھ بھی نہ رہے گا تو لوگ ملامت کریں گے جن لوگوں پر خرچ کیا ہے وہ بھی کہنے لگیں گے کہ ایسا بےتکا خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی سوچ سمجھ کر خرچ کرنا چاہیے، مال حاجات پورا ہونے کا ذریعہ بھی ہے اور مال کمانے کا ذریعہ بھی جب کچھ نہ رہے گا تو حاجتیں بھی پوری نہ ہوسکیں گی اور آئندہ مال کمانے میں بھی بےبسی ہوگی، بعض مفسرین نے فرمایا کہ ملوماً کا تعلق پہلی بات سے ہے جس کا معنی یہ ہے کہ خرچ کرنے سے ہاتھ روک کر بالکل ہی نہ بیٹھ جائے ورنہ لوگ ملامت کریں گے اور محسوراً کا تعلق دوسری بات ہے اور مطلب یہ ہے کہ خرچ کرنے میں اتنی زیادتی نہ کر کہ خود تنگدست ہو کر عاجز ہو کر رہ جائے، آیت کریمہ میں میانہ روی کے ساتھ خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور میانہ روی ہمیشہ کام دیتی ہے حدیث شریف میں ہے الاقتصاد فی النفقۃ نصف المعیشۃ کہ خرچ میں میانہ روی آدھی معیشت ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص 430) یعنی معیشت کی پریشانیوں کا آدھا حل یہ ہے کہ خرچہ میں میانہ روی اختیار کی جائے اور آدھا حل باقی دوسری تدبیروں میں ہے جو فرد یا جماعت اس سے غافل ہے وہ یا تو کنجوسی کی وجہ سے ہمیشہ مصیبت میں رہے گی یا ذرا سی مدت میں سارا مال خرچ کرکے عاجز ہو کر بیٹھ رہے گی، پھر قرضوں پر نظر جائے گی قرضے چڑھ جائیں گے تو ان کی ادائیگی کا کوئی راستہ نہ ہوگا، غیر قوموں کی طرف تکیں گے ان سے سودی قرضے لیں گے سود در سود چڑھتا چلا جائے گا جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔
فائدہ : آیت بالا سے پورا مال خرچ کردینے کی ممانعت معلوم ہوئی یہ عام افراد کے لیے ہے جو خرچ کرکے پچھتانے لگیں اور پریشان ہوں اور پھر دوسروں سے مانگنے لگیں حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ اہل توکل جو خرچ کرکے نہ گھبرائیں نہ تلملائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کا پورا پورا بھروسہ ہو ایسے حضرات کو اجازت ہے کہ اپنا پورا مال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کردیں۔ حضرت صدیق اکبر ؓ کا واقعہ تو مشہور ہی ہے کہ ایک مرتبہ جب رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ سارا ہی مال لے آئے آپ نے سوال فرمایا کہ تم نے گھر والوں کے لیے کیا باقی رکھا تو حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے عرض کیا ابقیت اللّٰہ و رسولہ (کہ میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو باقی رکھا) (مشکوٰۃ المصابیح ص 556 از ترمذی و ابو داؤد)
آپ نے ان کا سارا مال قبول فرما لیا، اور بھی اس طرح دیگر اکابر کے واقعات ہیں، علامہ قرطبی ج 1 ص 250 فرماتے ہیں کہ وکان کثیر من الصحابۃ ینفقون فی سبیل اللّٰہ جمیع اموالھم، فلم یعنفھم النبی ﷺ ولم ینکر علیھم لصحۃ یقینھم وشدۃ بصائرھم، وانما نھی اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ عن الافراط فی الانفاق، واخراج ماحوتہ یداہ من المال من خیف علیہ الحسرۃ علی ماخرج من یدہ فاما من وثق بموعود اللّٰہ عزوجل وجزیل ثوابہ فیما انفقہ فغیر مراد بالایۃ واللّٰہ اعلم۔
Ayah 17:30آخر میں فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًام بَصِیْرًا) (بلاشبہ تیرا رب جس کے لیے چاہے رزق میں فراخی دیتا ہے، اور وہ رزق میں تنگی فرما دیتا ہے بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے دیکھنے والا ہے۔ )
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا تکوینی نظام بتایا ہے سب اس کے بندے ہیں وہ اپنی حکمت کے مطابق کسی کا رزق زیادہ فرماتا ہے اور کسی کے رزق میں تنگی فرما دیتا ہے وہ خبیر بھی ہے اور بصیر بھی ہے سب کا حال اسے معلوم ہے اس کے ذمہ کسی کا کچھ واجب نہیں ہے جس کو چاہے جتنا دے اور جس کو چاہے بالکل ہی نہ دے اسے پورا پورا اختیار ہے۔ بندے اپنا کام کریں میانہ روی کے ساتھ اپنی جان پر اپنے اہل و عیال پر اوراقرباء پر اور فقراء و مساکین پر خرچ کریں تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ کچھ لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی رہیں اور کچھ لوگوں کی حاجتیں رکی رہیں اور بندے احکام شرعیہ کے پابند ہیں ان کو حکم ہے کہ سارا مال خرچ کرکے اپنے آپ کو پریشانی میں نہ ڈالیں صاحب روح المعانی نے ص 66 ج 15 میں آیت بالا کی ایک تفسیر بتاتے ہوئے لکھا ہے۔ علی معنی ان البسط والقبض امران مختصان باللّٰہ تعالیٰ واما انت فاقتصد واترک ما ھو مختص بہ جل وعلا۔
Ayah 17:31اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، زنا کے قریب نہ جاؤ، کسی جان کو بلاشرعی حکم کے قتل نہ کرو، یتیموں کا مال نہ کھاؤ
ان آیات میں متعدد احکام ذکر فرمائے ہیں، پہلا حکم یہ فرمایا کہ اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو اہل عرب اولاد کو اس وجہ سے قتل کردیتے تھے کہ ہم اولاد کو کہاں سے کھلائیں گے جو لوگ تنگدستی میں ایسا کرتے تھے ان کے بارے میں فرمایا (وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ) یہ الفاظ سورة انعام میں ہیں اور کچھ لوگ اس لیے قتل کردیتے تھے کہ ممکن ہے آئندہ تنگدست ہوجائیں۔ ان کے لیے فرمایا (وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ) تم تنگدستی کے ڈر سے اولاد کو قتل نہ کرو، یہ سورة الاسراء کے الفاظ ہیں نیز اہل عرب لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے تاکہ کسی کو داماد نہ بنانا پڑے یہ سب جاہلانہ رسمیں تھیں، زمانہ جاہلیت میں شیطان نے اہل عرب کو ان چیزوں پر ڈالا تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (اِنَّہٗ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا) ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔ پرانی جاہلیت اب پھر عود کر آئی ہے دشمنان اسلام نے یہ بات اٹھائی ہے کہ اتنے سال کے بعد تک اگر بچوں کی پیداوار کی شرح اسی طرح رہی جو پورے عالم میں ہے تو زمین چھوٹی پڑجائے گی اور کھانے پینے کی چیزوں کی کفایت نہ ہوگی لہٰذا ایسی کوششیں جاری کردی گئی ہیں جو ان کے خیال میں بچوں کی پیدائش روکنے والی ہیں اس کے لیے کئی کئی طرح سے پروپیگنڈا ہو رہا ہے۔ بھاری بھاری رقمیں خرچ کی جا رہی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ دشمنان اسلام جو کچھ کہہ دیتے ہیں مسلمان صاحب اقتدار اسے تسلیم کرلیتے ہیں قرآن و حدیث کی تصریحات کو بالکل نہیں دیکھتے قرآن نے اس جہالت کا پہلے ہی جواب دیدیا اور فرما دیا (نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَ اِیَّاکُمْ ) (ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور انہیں بھی رزق دیں گے) تمہیں کس نے روزی رساں بنایا ہے اور کس نے اللہ کی مخلوق کو رزق دینے کا ٹھیکہ دیا ہے، درحقیقت جتنے بھی طریقے تقلیل اولاد کے لیے جاری کیے ہیں یہ سب اللہ کی قضاء و قدر کے سامنے ناکام ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ما من نسمۃ کائنۃ الی یوم القیمۃ الاوھی کائنۃ (یعنی اللہ کے علم میں قیامت کے دن تک جتنی بھی جانیں پیدا ہونے والی ہیں وہ ضرور پیدا ہو کر رہیں گی) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ما من کل الماء یکون الولد و اذا اراد اللّٰہ خلق شئ لم یمنعہ شئ ہر نطفے سے اولاد نہیں ہوتی اور جب اللہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے کوئی چیز روکنے والی نہیں (مشکوٰۃ المصابیح ص 275) دیکھا جاتا ہے کہ مرد و عورت ولادت کو روکنے کے لیے کئی طرح کی چیزیں استعمال کرتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کو تخلیق منظور ہوتی ہے تو ان سب چیزوں کے باوجود استقرار ہوجاتا ہے اور اولاد پیدا ہوتی ہے۔
آنے والے انسانوں کے یہی خیر خواہ جو ان کی آمد اور پیدائش کو روکنے کے لیے زور لگا رہے ہیں انہیں وقت سے پہلے آنے والوں کی روزی کی تو فکر ہے لیکن موجودہ انسانوں کی جانوں کا فکر نہیں انہیں جگہ جگہ قتل کرتے ہیں اور قتل کرواتے ہیں اور ایسے ایسے آلات حرب تیار کر رکھے ہیں جو دو چار منٹ میں ہی پورے عالم کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
Ayah 17:32دوسرا حکم یوں دیا (وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنآی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃًط وَ سَآءَ سَبِیْلًا) (اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو بلاشبہ وہ بڑی بےحیائی اور بری راہ ہے) اس میں زنا کی ممانعت فرمائی اور یوں فرمایا کہ اس کے پاس بھی مت پھٹکو اور اسے بےحیائی اور بری راہ سے تعبیر فرمایا زنا ایسا برا عمل ہے اور ایسی لعنت کی چیز ہے جو کبھی کسی نبی کی شریعت میں حلال نہ تھی بلکہ اسلام کے علاوہ جو دوسرے ادیان ہیں مذہبی طور پر وہ بھی اسے ممنوع سمجھتے ہیں گو نفس و شیطان کے ابھار کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
آج جب کہ یورپ اور امریکہ میں بےحیائی کو ہنر اور حیا کو عیب سمجھا جانے لگا ہے وہاں زنا کاری بہت عام ہوچکی ہے جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اپنا تعلق ظاہر کرتے ہیں وہ تو حیا کی ہر سرحد پار کرچکے ہیں اور چونکہ ان کے پادری ہر اتوار کو حاضرین کے ہر گناہ کو معاف کردیتے ہیں اس لیے خوب دھڑلے سے عوام و خواص زنا کرتے ہیں، جو مسلمان وہاں جا کر بستے ہیں وہ بھی ان بےحیائیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہاں رواج کی وجہ سے اتنی زیادہ بےحیائی پھیل چکی ہے کہ بیویاں ہوتے ہوئے زنا کاری میں مبتلا ہوتے ہیں اور شوہر کی رضا مندی سے ایک شخص کی بیوی دوسرے شخص کے ساتھ رات گزارتی ہے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں ایسے لوگوں پر گذرا جن کی کھالیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی تھیں۔ میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں انہوں نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جو زنا کرنے کے لیے زینت اختیار کرتے ہیں پھر میں ایسے بدبودار گڑھے پر گزرا جس میں بہت سخت آوازیں آرہی تھیں میں نے کہا جبرائیل یہ کون ہیں انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو زناکاری کے لیے بنتی سنورتی ہیں اور وہ کام کرتی ہیں جو ان کے لیے حلال نہیں۔ (الترغیب والترہیب ص 511 ج 3)
اس گناہ سے بچانے کے لیے شریعت مطہرہ نے بد نظری تک سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں، اور پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور اس گناہ کی دنیاوی سزا یہ رکھی ہے کہ غیر شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرلے تو اس کو سو کوڑے مارے جائیں اور شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرلے تو اس کو سنگسار کیا جائے یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے دنیا میں جو مصیبتیں آرہی ہیں ان کا بہت بڑا سبب بڑے گناہ بھی ہیں اور ان گناہوں میں زنا کاری کا عام ہونا بھی ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس قوم میں زنا کاری پھیل جائے گی قحط بھیج کر ان کی گرفت کی جائے گی اور جن لوگوں میں رشوت کا لین دین ہوگا رعب کے ذریعے ان کی گرفت ہوگی (یعنی دلوں پر رعب طاری ہوجائے گا اور دشمنوں سے ڈرتے رہیں گے) حضرت ابن عباس اور ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی قوم میں (ایک روایت میں ہے کہ جب کسی بستی میں) زنا اور سود کا ظہور ہوجائے تو ان لوگوں نے اپنی جانوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل کرلیا۔ (الترغیب والترہیب ص 278 ج 3)
جب زنا عام ہوجاتا ہے تو حرام کی اولاد بھی زیادہ ہوجاتی ہے نسب باقی نہیں رہتا کون کس کا بیٹا اور کس کا بھتیجا یا بھانجا، ان سب باتوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ صلہ رحمی کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ اور انسان، حیوان محض بن کر رہ جاتا ہے۔ حلالی ہونے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ حرامی ہونے ہی کو مناسب سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں یورپ کے رہنے والوں پر یہ باتیں مخفی نہیں ہیں۔
حضرت میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت برابر خیر پر رہے گی جب تک ان میں زنا اولاد کی کثرت نہ ہوجائے۔ سو جب ان میں زنا کی اولاد پھیل جائے گی تو عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو عام عذاب میں مبتلا فرما دے گا اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ جب زنا ظاہر ہوجائے گا تو تنگدستی اور ذلت کا ظہور ہوگا۔ (الترغیب والترہیب ص 277 ج 3)
صحیح بخاری میں حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے رسول اللہ ﷺ کا ایک خواب مروی ہے (حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا خواب سچا ہوتا ہے) جس میں بہت سی چیزوں کا تذکرہ ہے ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ آپ کا گذر ایک ایسے سوراخ پر ہوا جو تنور کی طرح تھا۔ اس میں جو جھانک کر دیکھا تو اس میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں نظر آئیں ان کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی جب وہ لپٹ اوپر آتی تھیں تو وہ چیختے چلاتے اور فریاد کرتے تھے آپ نے اپنے ساتھیوں سے دریافت فرمایا (جن میں ایک جبرائیل اور ایک میکائیل تھے) یہ کیا ماجرا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ زنا کار مرد اور زنا کار عورتیں ہیں۔ (صحیح بخاری ص 1044 وھو فی المشکوٰۃ 395)
جب زنا کی عادت پڑجاتی ہے تو بڑھاپے میں بھی زنا کرتے رہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات نہ کرے گا اور ان کو پاک نہ کرے گا اور ان کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا (1) زنا کار بوڑھا (2) جھوٹا بادشاہ (3) تنگدست متکبر۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ تین شخص جنت میں داخل نہ ہوں گے، ان میں زنا کار بوڑھے کو بھی شمار فرمایا اور ایک حدیث میں فرمایا کہ تین شخصوں سے اللہ کو بغض ہے ان میں سے ایک زنا کار بوڑھا بھی ہے۔ (الترغیب ص 275 ج 3)
حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی ایسی عورت کے بستر پر بیٹھا جس کا شوہر گھر پر نہیں ہے (اور اس کے غائب ہونے کو اس نے زنا کا ذریعہ بنالیا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر ایک اژدھا مسلط فرمائے گا (الترغیب والترہیب ص 279 ج 3) شوہر گھر پر نہ ہو تو عورت مرد کی ضرورت محسوس کرتی ہے زنا کاری کا مزاج رکھنے والے ایسی عورت سے جوڑ بٹھا لیتے ہیں ایسے لوگوں کو مذکورہ بالا وعید سنائی ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ شوہر اگر گھر پر ہو اور دیوث ہو تو اس کی اجازت سے گناہ حلال ہوجائے گا زنا ہر حال میں حرام ہے۔
اسلام عفت اور عصمت والا دین ہے۔ اس میں فواحش اور منکرات اور زناکاری اور اس کے اسباب اور دواعی، ناچ رنگ، عریانی وغیرہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ یورپ کے شہوت پرست انسان نما حیوانوں میں زنا کاری عام ہے محرم عورتوں تک سے زنا کرتے ہیں قانوناً مردوں کو مردوں سے شہوت پوری کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے اس کی وجہ سے طرح طرح کے بدترین امراض میں مبتلا ہیں۔
ایک حدیث میں بربادی کے اسباب میں سے یہ بھی بتایا جاتا ہے۔ اکتفی الرجال بالرجال والنساء بالنساء کہ مرد مردوں سے شہوت پوری کرنے لگیں اور عورتیں عورتوں سے۔ (الترغیب والترہیب ص 267 ج 3)
یورپ والوں کی دیکھا دیکھی مسلمان بھی ان کے کرتوتوں کے ساتھی بنتے جا رہے ہیں اور شہوت پرستوں کو ان کے مقاصد میں کامیاب بنا رہے ہیں سورة نساء میں فرمایا (وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّھَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا) (اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمائے، اور جو لوگ شہوتوں کا اتباع کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ۔ )
بعض زنا کار عورتوں کی یہ بات سننے میں آئی ہے کہ میرا بدن ہے جس طرح چاہوں استعمال کروں۔ یہ تو کفریہ بات ہے قرآن کا مقابلہ ہے۔ اس کا معنی ہے (العیاذ باللہ) کہ زنا کاری سے قرآن کا منع فرمانا صحیح نہیں، درحقیقت بہت سے لوگوں نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ ہم بندے ہیں اللہ تعالیٰ خالق ہے اور مالک ہے، سارے بندے اس کی مخلوق ہیں اور مملوک ہیں مملوک کو کیا حق ہے کہ اپنی ذات کو اپنے بارے میں اور اپنے جسم و جان کے بارے میں خود مختار سمجھے۔
بہت سے ملکوں میں یہ قانون نافذ ہے کہ زنا بالجبر تو منع ہے لیکن اگر رضا مندی سے کوئی مرد عورت سے زنا کرلے تو اس پر نہ کوئی مواخذہ ہے اور نہ کوئی سزا۔ بہت سے وہ ممالک جن کے اصحاب اقتدار مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں ان کے ملک میں بھی یہ قانون نافذ ہے اور دشمنوں کے سمجھانے سے یہ قانون پاس کردیا گیا ہے کہ بیک وقت نکاح میں صرف ایک عورت رہ سکتی ہے لیکن دوستانیاں جتنی چاہے رکھ سکتا ہے۔ زنا کاری کو عام کردینا انجام کے اعتبار سے کیا رنگ لائے گا اس کے بارے میں بالکل کوئی فکر نہیں، مسلمان ممالک کے ذمہ دار دشمنوں کے سامنے اس بات سے جھینپتے ہیں کہ ایک سے زیادہ عورتیں نکاح میں رکھنے کا قانون پاس کردیں۔ مسلمان کو کافر سے کیا جھینپنا ؟ اسے تو قرآن و حدیث کے قوانین نافذ کرنا لازم ہے۔
آخر میں ایک حدیث کا ترجمہ لکھ کر یہ مضمون ختم کیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے مہاجرین کی جماعت پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہوجاؤ گے اور اللہ کرے کہ تم ان چیزوں کو نہ پاؤ (تو طرح طرح کی مصیبتوں اور بلاؤں میں ابتلاء ہوگا۔ )
(1) جس قوم میں کھلم کھلا طریقہ بےحیائی کا رواج ہوجائے گا ان لوگوں میں طاعون پھیلے گا اور ایسے امراض میں مبتلا ہوں گے جو ان کے اسلاف میں نہیں تھے۔
(2) اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کریں گے ان کو قحط کے ذریعہ پکڑا جائے گا اور سخت محنت اور بادشاہ کے ظلم میں مبتلا ہونگے۔
(3) اور جو لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ کو روک لیں ان سے بارش روک لی جائے گی اور اگر جانور نہ ہوں تو (بالکل ہی) بارش نہ ہو۔
(4) اور جو لوگ اللہ کے عہد کو اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ دیں گے ان کے اوپر دشمن مسلط کردیا جائے گا وہ ان کے بعض اموال لے لے گا۔
(5) اور جس قوم کے اصحاب اقتدار اللہ کی کتاب کے ذریعے فیصلے نہ کریں گے اور اللہ نے جو چیز نازل فرمائی اس کو اختیار نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں ایسی مخالفت پیدا فرما دے گا جس کی وجہ سے آپس میں لڑتے رہیں گے۔ (رواہ ابن ماجہ فی باب العقوبات ص 112)
Ayah 17:33تیسرا حکم یہ فرمایا کہ اللہ نے جس جان کو قتل کرنے سے منع فرمایا اسے قتل مت کرو۔ جس کسی جان کا قتل کرنا شریعت اسلامیہ میں حلال نہیں ہے اس کا قتل کردینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اور اس بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں قتل کی بعض صورتوں میں قصاص اور بعض صورتوں میں دیت ہے اس کی تفصیلات سورة بقرہ کے اکیسویں رکوع میں اور سورة نساء کے تیرہویں رکوع میں اور سورة مائدہ کے ساتویں رکوع میں گزر چکی ہیں۔ (انوار البیان)
سورۃ نساء میں قتل کی وعیدیں بھی مذکور ہیں۔ وہاں ہم نے متعدد احادیث کا ترجمہ بھی لکھا دیا ہے قتل نفس کی حرمت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ ) (اور جو شخص ظلماً قتل کیا گیا اس کے ولی کے لیے ہم نے اختیار رکھا ہے سو وہ قتل کرنے میں حد سے آگے نہ بڑھے) کسی کے قتل کردینے پر جو عذاب ہے وہ آخرت سے متعلق ہے۔ اور دنیا میں جو اس کے بارے میں شرعی احکام ہیں ان کے مطابق مقتول کے ولی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شرعی اصول کے مطابق قتل کا ثبوت ہوجانے پر انہیں حدود پر رہے جو حدود اس کے لیے مقرر کردی گئی ہیں مثلاً قتل خطا میں دیت کے بجائے قاتل کو قتل نہ کرے اور قتل عمد میں جو شریعت نے قصاص لینے کا اختیار دیا ہے اسے قاتل تک ہی محدود رکھا جائے۔ جوش انتقام میں قاتل کے سوا کسی دوسرے شخص کو اس کے اعزہ واقربا میں سے قتل نہ کردے۔ نیز قاتل کے قتل کرنے میں زیادتی نہ کرے۔ مثلاً اس کے ہاتھ پاؤں، ناک نہ کاٹے، جسے مثلہ کرنا کہتے ہیں۔
(اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا) (بلاشبہ مقتول کے ولی کی مدد ہوگی) یعنی ولی مقتول حد شرعی کے اندر رہتے ہوئے قصاص لے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مدد کی جائے گی۔ یعنی شریعت اسلامیہ اس کی مددگار ہوگی۔ اور اہل ایمان اصحاب اقتدار قصاص دلانے کے لیے راہ ہموار کریں گے اسے قصاص دلائیں گے۔ اس کا دوسرا رخ بھی سمجھ لینا چاہیے اور وہ یہ کہ اگر ولی مقتول حد سے بڑھ گیا تو اب یہ ظالم ہوگا اور معاملہ برعکس ہوجائے گا۔ اور اب شرعی قانون میں اس کا مواخذہ ہوگا۔
Ayah 17:34چوتھا حکم یہ فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقے پر جو مستحسن ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اس بارے میں سورة نساء کی تفسیر میں تفصیل سے لکھا جاچکا ہے۔
پانچواں : پانچواں حکم یہ دیا کہ عہد کو پورا کرو اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ (اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْءُوْلًا) (یعنی عہد کی باز پرس ہوگی) بہت سے لوگ عہد تو کرلیتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے اور قصداً عہد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دفع الوقتی کے طور پر وعدہ کرلیتے ہیں اور عین معاہدہ کرتے وقت بھی دل میں عہد توڑنے اور دغا دینے کا ارادہ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ عہد کی باز پرس ہوگی۔ قرآن مجید کی متعدد سورتوں میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ سورة بقرہ کی آیت (وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا) اور سورة مائدہ کی پہلی آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ ) اور سورة نحل کی آیت (وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عَاھَدْتُّمْ ) کے ذیل میں جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کا مراجعہ کرلیا جائے۔
Ayah 17:35چھٹاحکم یہ دیا کہ ناپ تول پوری کیا کرو اور ٹھیک ترازو سے تولا کرو۔
آخر میں فرمایا (ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا) کہ احکام پر عمل کرنا بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے اچھی چیز ہے۔
آیات بالا میں جو احکام مذکور ہوئے سورة انعام کے رکوع نمبر 14 میں بھی ذکر فرمائے گئے ہیں وہاں بھی ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 17:36جس بات کا پتہ نہیں اس کے پیچھے پڑنے اور زمین پر اتراتے ہوئے چلنے سے ممانعت
یہ تین آیات ہیں پہلی آیت میں اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ جس بات کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، اس کی جامعیت بہت سے اعمال کو شامل ہے اس نصیحت پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے جو اعمال صادر ہوتے ہیں معاشرہ میں جو بدمزگی پیدا ہوتی ہے اور ایک دوسرے کی آبرو ریزی ہوجاتی ہے مختصر الفاظ میں ان سب کی ممانعت آگئی، غلط حدیثیں بیان کرنا خود حدیثیں وضع کرنا جھوٹے راویوں سے حدیثیں لینا اور انہیں آگے بڑھانا کسی بھی شخص کے بارے میں محض اٹکل سے یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کچھ کہہ دینا تہمت رکھ دینا یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو دینی اعتبار سے گمراہی کا ذریعہ بنتی ہیں اور دنیاوی اعتبار سے آپس میں بغض اور دشمنی پھیلاتی ہیں صرف گمان سے اٹکل پچو کوئی بات ثابت نہیں ہوتی سورة الحجرات میں فرمایا (اِِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِِثْمٌ) (بعض گمان گناہ ہوتے ہیں) اور غیبت کرنا تو اس بات کا یقین ہوتے ہوئے بھی حلال نہیں ہے کہ فلاں شخص نے فلاں گناہ کیا ہے یا فلاں شخص میں فلاں عیب ہے پھر بھلا محض اٹکل سے یا خود سے بنا کر کسی کے بارے میں یوں کہہ دینا کہ اس نے یوں کیا ہے یا کہا ہے کیسے حلال ہوسکتا ہے ؟ صاحب معالم التنزیل تحریر فرماتے ہیں۔ قال قتادہ لا تقل رایت ولم ترسمعت ولم تسمعہ وعلمت ولم تعلمہ، وقال مجاھد لا ترم احدا بما لیس لک بہ علم، قال القتیبی، لا تتبعہ بالحدس والظن وھو فی اللغۃ اتباع الاثر یقال، قفوت فلانا اقفوہ وقفیتہ واقفیتہ اذا اتبعت اثر۔
پھر ارشاد فرمایا (اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلًا) کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں باز پرس ہوگی، اللہ تعالیٰ شانہ نے جو یہ اعضا دئیے ہیں یوں ہی نہیں دئیے کہ ان کو جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں استعمال کریں جس ذات پاک نے عطا فرمائے ہیں اس نے ان سب کے استعمال کرنے کے مواقع بھی بتائے ہیں اور وہ اعمال بھی بتائے ہیں جن سے ان کو محفوظ رکھنا لازم ہے کہاں دیکھے اور کیا بات سنے اور اپنی قوت فکریہ کو کہاں خرچ کرے، ان سب کی تفصیلات احادیث شریفہ میں موجود ہیں، کسی نے چوری کرلی، کسی کو ظلماً مارا، حساب غلط لکھ کر یا جھوٹا بل بنا کر خیانت کردی یا کسی ایسے مرد یا کسی عورت سے مصافحہ کرلیا جس سے مصافحہ کرنا جائز نہیں تو اس نے اپنے ہاتھ پاؤں کو غیر شرعی امور میں استعمال کیا، بائیں ہاتھ سے کھایا اور داہنے ہاتھ سے استنجا کیا یہ بھی ہاتھ کا غلط استعمال ہے۔ زبان سے کوئی بیجا بات کی کفر کا کلمہ کہا کسی کی غیبت کی کسی پر تہمت دھری گالی دی جھوٹ بولا یہ سب زبان کا غلط استعمال ہوا، کسی شخص نے گانا سنا، باجوں کی آواز کی طرف کان لگانا غیبتیں سنتا رہا یہ کان کا غلط استعمال ہوا، کسی شخص نے ایسی جگہ نظر ڈالی جہاں دیکھنا یا نظر ڈالنا ممنوع تھا، بد نظری سے کسی کو دیکھ لیا کسی کے ستر پر نظر ڈالی آنکھوں کو کسی بھی طرح گناہوں میں استعمال کیا تو یہ سب آنکھوں کا غیر جگہ استعمال ہوگا جہاں استعمال کرنا ممنوع تھا، کوئی شخص گناہ کے لیے کہیں چل کر گیا تو اس نے اپنے پاؤں کا غلط استعمال کیا، حدیث شریف میں ہے کہ آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا دیکھنا زنا کرنا ہے اور کان بھی زنا کرتے ہیں ان کا زنا سننا ہے اور زبان بھی زنا کرتی ہے اس کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ بھی زنا کرتا ہے اس کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں بھی زنا کرتا ہے اس کا زنا چل کر جانا ہے اور دل خواہش کرتا ہے اور گناہوں کی آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کردیتی ہے یعنی موقعہ لگ جاتا ہے تو شرم گاہ گناہوں میں استعمال ہوجاتی ہے ورنہ شرم گاہ کا زنا ہو نہیں پاتا لیکن اس سے پہلے دوسرے اعضاء زنا کرچکے ہوتے ہیں اور ان کا گناہ صاحب اعضاء کے ذمہ پڑجاتا ہے کیونکہ انہیں اسی نے استعمال کیا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 22)
حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن بن جاتا ہوں : (1) جب بات کرو تو سچ بولو (2) وعدہ کرو تو پورا کرو (3) جب تمہارے پاس امانت رکھ دی جائے تو اسے ادا کرو (4) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو (5) اپنی آنکھوں کو نیچی رکھو (6) اپنے ہاتھوں کو (بےجا استعمال سے) روکے رکھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 415)
فُؤَاد : دل کو کہتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اور بہت بڑا عطیہ ہے جو زندگی کا ذریعہ ہے سورة ملک میں فرمایا (وَھُوَ الَّذِیْ اَنْشَاَ کُمْ وَ جَعَل لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْءِدَۃَ قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہارے لیے کان آنکھیں بنائیں اور دل عطا فرمائے تم کم شکر ادا کرتے ہو) یہ دل ہی تو ہے جس کے ذریعے جسم میں خون رواں اور دواں ہے اور قوت فکریہ سوچ سمجھ ہوش گوش کا آلہ ہے، دل کی جو نعمت عظیمہ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے اس کو بےجا استعمال کرنا غیر شرعی امور میں اس کی قوتوں کو صرف کرنا گناہوں کے لیے تدبیریں کرنا یہ سب دل و دماغ کا غلط استعمال ہے اپنی زندگی میں انسان آزاد نہیں ان سب اعضاء کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی کہ ان کو کہاں لگایا اور کن کاموں میں استعمال کیا یہ اعضاء یہاں دنیا میں تو فرمانبردار ہیں لیکن قیامت کے دن مخالفانہ گواہی دیں گے۔ سورة نور میں فرمایا (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس عمل کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے) رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو حفاظت اعضاء (از معاصی) کے لیے یہ دعا بتائی۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ وَشَرِّ بَصَرِیْ وَشَرِّلِسَانِیْ وَشَرِّ قَلْبِیْ وَشَرِّمَنِّیِیْ (اے اللہ میں آپ سے اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور اپنی زبان اور اپنے دل اور اپنی منی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں) کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ یہ میرے اعضاء ہیں جیسے چاہوں استعمال کروں۔ تو خود اپنا نہیں ہے تو اور تیرے اعضاء سب اللہ جل شانہ کی مخلوق اور مملوک ہیں، میدان آخرت میں کٹ حجتی کام نہ دے گی، اعمال نامہ لکھا ہوا سامنے ہوگا لہٰذا اپنے نفس کو اپنے قلب کو اپنے اعضاء کو پاک اور صاف لے جاؤ یہ سب اعضاء اللہ تعالیٰ شانہ کا عطیہ ہیں ان کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
Ayah 17:37دوسری آیت میں اترا کر اور اکڑ مکڑ کر چلنے کی ممانعت فرمائی اور فرمایا (وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا) (کہ تو زمین میں اتراتا ہوا مت چل) (اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا) (بےشک تو زمین کو نہیں پھاڑ سکتا اور پہاڑوں کی لمبائی کو نہیں پہنچ سکتا) یعنی ایسی چال نہ چل جس سے تکبر اور غرور ظاہر ہوتا ہو کیونکہ یہ ایک احمقانہ فعل ہے تکبر کی چال چلنے والا سمجھتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں حالانکہ اللہ کی مخلوق میں اس سے بڑی بڑی چیزیں موجود ہیں۔ زمین ہی کو دیکھ لو جس پر انسان بستے ہیں انسان اسی کو نہیں پھاڑ سکتا اور پہاڑوں کو دیکھ لو کہ وہ انسان کے قد سے بہت اونچے ہیں اترا کر چلنے والا ذرا اپنی ذات کو تو دیکھے پہاڑوں کی درازی تک تو پہنچ ہی نہیں سکتا پھر کیوں تکبر کرتا ہے اور کیا شان رکھتا ہے اور اکڑتا ہوا چلتا ہے، سورة لقمان میں فرمایا (وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ ) (اور تو زمین میں اتراتا ہوا نہ چل بلاشبہ اللہ ہر اس شخص کو دوست نہیں رکھتا جو اپنے کو بڑا سمجھنے والا ہو فخر کرنے والا ہو) تکبر انسان کے لیے زیبا نہیں، جو ذلیل پانی سے پیدا ہوا جس نے ماں کے پیٹ میں حیض کے خون سے غذا پائی جو آخر میں مردہ نعش ہو کر رہ جائے گا اسے کیا مقام ہے کہ تکبر کرے اتراتا ہوا چلے اور اللہ کی مخلوق کو حقیر جانے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ایک شخص دو چادریں پہنے ہوئے ناز کے انداز میں چل رہا تھا خود پسندی اختیار کیے ہوئے تھا اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ (صحیح البخاری ص 490 و ص 861 کتاب اللباس والزینۃ)
رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جب میری امت اترا کر چلنے لگے اور فارس و روم کے شہزادے ان کی خدمت کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ امت کے برے لوگوں کو ان کے اچھے لوگوں پر مسلط فرما دے گا۔ مشکوٰۃ المصابیح ص 459 انسان کے لیے تواضع ہی بہتر ہے تکبر حرام ہے اور تواضع محبوب چیز ہے، حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تواضع اختیار کرے گا اللہ اسے بلند فرما دے گا وہ اپنے نفس میں چھوٹا ہوگا اور لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوگا اور جو شخص متکبر ہوگا اللہ اسے گرا دے گا وہ لوگوں کی آنکھوں میں چھوٹا ہوگا اور اپنے نفس میں بڑا ہوگا لوگوں کے نزدیک کتے اور خنزیر سے بھی زیادہ ذلیل ہوگا (مشکوٰۃ المصابیح ص 434) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن ایسی حالت میں ہوگا کہ صورتیں انسانوں جیسی ہوں گی اور جسم چیونٹیوں کے برابر چھوٹے چھوٹے ہوں گے ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی انہیں دوزخ کے جیل خانے کی طرف ہنکایا جائے گا جس کا نام بولس ہے ان لوگوں پر آگوں کو جلانے والی آگ چڑھی ہوئی ہوگی۔ انہیں دوزخیوں کے جسم کا نچوڑ پلایا جائے گا (مشکوٰۃ المصابیح 433) حضرت عیاض ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ تواضع اختیار کرو تاکہ کوئی شخص کسی کے مقابلہ میں فخر نہ کرے اور کوئی شخص کسی پر ظلم نہ کرے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 417 از مسلم)
Ayah 17:38تیسری آیت میں مذکورہ بالا برائیوں کی شناعت اور قباحت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّءُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا) (یہ سب برے کام تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں) صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں کہ (وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوْٓا الاَّ اِیَّاہُ ) سے یہاں تک جو امور خیر مذکور ہوئے ان کو ترک کرنا اور جن امور سے بچنے کا حکم فرمایا ہے ان کا ارتکاب کرنا یہ سب بری باتیں ہیں تمہارے رب جل شانہ کے نزدیک مکروہ ہیں ناپسندیدہ ہیں جس نے وجود بخشا پرورش کے اسباب پیدا فرمائے جو اعمال اس کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں، ان کو اختیار کرنا عقلاً بھی قبیح ہے، جو رب جل شانہ کو رب نہیں مانتے وہی افعال شنیعہ اور اعمال سیۂ کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔
Ayah 17:39اللہ کے ساتھ معبود ٹھہرانے والوں کے لیے جہنم ہے اور اس کے لیے اولاد تجویز کرنا بہت بڑی بات ہے
آیات سابقہ میں جو احکام بیان ہوئے اول تو ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ سب اس حکمت میں سے ہیں جو اللہ نے آپ پر وحی کے ذریعے بھیجی ہے، علامہ قرطبی فرماتے ہیں۔ ھذہ من الافعال المحکمۃ التی تقتضیھا حکمۃ اللّٰہ عزوجل فی عبادہ وخلقھا لھم من محاسن الاخلاق والحکمۃ و قوانین المعانی المحکمۃ والافعال الفاضلۃ۔ (تفسیر قرطبی ص 264 ج 10)
یعنی یہ وہ محکم افعال ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ بندے انہیں اختیار کریں اور یہ وہ محاسن اخلاق ہیں اور محکم قوانین ہیں اور افعال فاضلہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشروع فرمایا ہے۔
اس کے بعد یوں فرمایا ہے اے مخاطب اللہ کے سوا کوئی معبود تجویز نہ کرو ورنہ ملامت کیا ہوا راندہ کیا ہوا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ یہ خطاب ساری امت دعوت اور ساری امت اجابت کو ہے جو کوئی شخص بھی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا مستحق ملامت ہوگا اور قیامت کے دن دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا، مدحور لغت کے اعتبار سے وہ جو ذلیل ہو اور اس پر پھٹکار پڑی ہو جس کی وجہ سے دور کردیا گیا ہو چونکہ (فَتُلْقٰی فِیْ جَھَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا) فرمایا ہے اس لیے محاورہ کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے کہ ملامت کیا ہوا راندہ کیا ہوا دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
Ayah 17:40مشرکین عرب جو طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور اولاد بھی کیا تجویز کی ؟ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا دیا ! یہ سب کچھ انہوں نے شیطان کے سمجھانے سے عقیدہ بنایا جس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔ اول تو یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا ہی ظلم ہے وہ اولاد سے پاک ہے اولاد اس کی شایان شان نہیں، پھر اولاد بھی تجویز کی تو بیٹیاں تجویز کیں اپنے لیے انہیں لڑکیاں گوارا نہ تھیں بیٹی پیدا ہوجاتی تو اسے زندہ دفن کردیتے تھے اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرنا جو خود انہیں بھی ناپسند ہیں انتہائی بےعقلی کی بات ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں ان کی حماقت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کیا اللہ نے تمہارے لیے بیٹوں کو مخصوص کردیا اور فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنالیا ؟ (اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا) (بلاشبہ تم بڑی بات کہتے ہو) یعنی گناہ کے اعتبار سے یہ بہت بڑی بات ہے اور بہت ہی زیادہ بری ہے، اس کی شناعت اور قباحت بیان کرتے ہوئے سورة مریم میں فرمایا (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کرلی ہے تم نے یہ ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں اور اس بات سے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے۔ )
Ayah 17:41اللہ تعالیٰ وحدہ لاشرک ہے، شرک کرنے والوں کی باتوں سے پاک ہے ساتوں آسمان اور زمین اور ہر چیز اس کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہے
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے قرآن مجید میں جو باتیں بیان کی ہیں (جن میں توحید کی دعوت ہے اور اس کے دلائل میں شرک کی مذمت اور آخرت کی یقین دہانی ہے اور افعال خیر کی ترغیب ہے اور برے اعمال کی وعیدیں ہیں) ان کو طرح طرح سے بیان فرمایا تاکہ مخاطبین غور کریں سوچیں اور سمجھیں، پھر فرمایا (وَ مَا یَزِیْدُھُمْ اِلَّا نُفُوْرًا) اور حال یہ ہے کہ اس قرآن کے بیان سے متاثر نہیں ہوتے وہ تو اور زیادہ متنفر ہوتے جاتے ہیں، یہی قرآن جو غور و فکر اور تدبر والوں کے لیے ذریعہ ہدایت بن گیا معاندین کے لیے بعد اور نفرت کا ذریعہ بن رہا ہے، جن لوگوں کو حق سے بیر ہے وہ قرآن حکیم کو سنتے ہیں لیکن اس کے بیان سے اثر نہیں لیتے حالانکہ مختلف وجوہ سے ان کو سمجھایا جاتا اور طرح طرح سے راہ حق کی دعوت دی جاتی ہے۔
Ayahs 17:42–43اس کے بعد مشرکین کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ تم جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود تجویز کرتے ہو اپنی اس احمقانہ بات کے بارے میں یوں سوچو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے تو وہ بھی زور دار ہوتے اور اپنے زور کو استعمال کرلیتے اور اللہ تعالیٰ شانہ جو عرش والا ہے اس تک پہنچنے کا انہوں نے کبھی کا راستہ ڈھونڈلیا ہوتا یعنی راستہ تلاش کرکے عرش والے تک پہنچ جاتے پھر آپس میں لڑائی ہوتی اور اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مخلوق کا نظام درہم برہم ہوجاتا سب دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں سال سے ایک خاص محکم نظام کے ساتھ سارے عالم کا نظام رواں اور دواں ہے اگر ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو یہ سب بگڑ کر رہ جاتا جب کوئی بھی معارض اور مقابل نہیں ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے اور وہ شرک سے بالاتر ہے وہ وحدہ لا شریک ہے لوگ جو شرکیہ بات کرتے ہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور اہل باطل جو بھی کچھ کہتے ہیں اس سے بلند وبالا ہے