24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور عورتوں میں سے بیٹھ رہنے والیاں، جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں سو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار دیں، جب کہ وہ کسی قسم کی زینت ظاہر کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ (اس سے بھی) بچیں ان کے لیے زیادہ اچھی ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا۔۔ : بچوں کو بالغ ہونے کے بعد اجازت طلب کرنے کی پابندی کے ذکر کے بعد عورتوں کے سن یاس کو پہنچنے کے بعد ان کے لیے پردے کی پابندی میں تخفیف کا حکم بیان فرمایا۔ ”الْقَوَاعِدُ“ ”قَاعِدٌ“ کی جمع ہے، جو مذکر کا صیغہ ہونے کے باوجود عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ ”حَاءِضٌ“ اور ”حَامِلٌ“ ہے، یعنی وہ عورتیں جو بڑی عمر کو پہنچ جائیں، انھیں نکاح کی رغبت نہ رہے، نہ دوسروں کو ان سے نکاح کی دلچسپی رہے، ان کے لیے رعایت ہے کہ وہ غیر محرم مردوں سے پردہ نہ کریں تو ان پر گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ اپنی زینت کا اظہار کرنے والی نہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ عورتیں جن کے حسن و جمال میں مردوں کے لیے کشش باقی ہو، انھیں پردہ اتارنا جائز نہیں۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ کا قول نقل فرمایا ہے : ”آیت ”وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا“ کا مطلب یہ ہے کہ ایسی عورت پر گناہ نہیں کہ گھر میں قمیص اور دوپٹے کے ساتھ رہے اور بڑی چادر اتار دے، جب تک وہ زینت ظاہر نہ کرے، جسے ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔“ (طبری : 26409) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی بوڑھی عورتیں گھر میں تھوڑے کپڑوں میں رہیں تو درست ہے اور پورا پردہ رکھیں تو اور بہتر ہے۔“ گھر سے باہر بھی اگر وہ برقع یا بڑی چادر نہ لیں تو حرج نہیں، بشرطیکہ وہ کسی قسم کی زینت کا اظہار نہ کر رہی ہوں۔ ”بِزِيْنَةٍ“ میں تنوین سے ظاہر ہے کہ بوڑھی عورت کے لیے غیر محرموں کے سامنے کسی بھی طرح کی زینت کا اظہار جائز نہیں۔ 3 مرد جس عمر کو بھی پہنچ جائے اور جتنا بوڑھا بھی ہوجائے اگر غیر محرم ہے تو عورت کو اس سے پردہ کرنا لازم ہے، بعض عورتوں کا بوڑھوں سے پردہ اتار دینا درست نہیں۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس سے پردہ نہ کرنے کی اجازت نہیں آئی۔ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ : یعنی اجازت طلب کرنے اور پردہ کرنے کے یہ احکام فتنے کی روک تھام کے ظاہری اسباب ہیں، باقی پردے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے اور جو فتنے اٹھائے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو سنتا اور جانتا ہے اور وہ اسی کے موافق ہر ایک سے معاملہ فرمائے گا۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ اندھے پر کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے اور نہ خود تم پر کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ، یا اپنے باپوں کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھو پھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا (اس گھر سے) جس کی چابیوں کے تم مالک بنے ہو، یا اپنے دوست (کے گھر) سے۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اکٹھے کھاؤ یا الگ الگ۔ پھر جب تم کسی طرح کے گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں پر سلام کہو، زندہ سلامت رہنے کی دعا جو اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی بابرکت، پاکیزہ ہے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ۔۔ : بعض مفسرین نے فرمایا، اس آیت کے دو حصے ہیں، ایک شروع سے ”وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ“ تک اور دوسرا ”وَّلَا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ“ سے آخر تک۔ پہلے حصے کا تعلق جہاد سے ہے کہ اندھے، لنگڑے اور بیمار اگر جہاد میں نہ جاسکیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ وہ معذور ہیں۔ سورة فتح کی آیت (17) میں بعینہٖ یہی الفاظ : (لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ) اسی مفہوم کے لیے آئے ہیں اور سورة توبہ کی آیت (91) : (لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ عرب لوگ اندھے، لنگڑے اور مریض کے ساتھ کھانے سے کراہت محسوس کرتے تھے، اس پر فرمایا کہ ان کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ تم پر کوئی حرج نہیں کہ اندھے، لنگڑے یا مریض کے ساتھ مل کر کھاؤ، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اندھے پر کوئی حرج نہیں، نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ مریض پر کوئی حرج ہے۔ تیسری تفسیر جو اس مقام سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، یہ ہے کہ یہاں ”لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ“ سے آیت کے آخر تک ایک ہی مسئلہ بیان ہوا ہے۔ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ) [ النساء : 29 ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔“ تو مسلمانوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپس میں اپنے اموال باطل طریقے سے کھانے سے منع فرمایا ہے اور کھانا ہمارے ان اموال میں سے ہے جو سب سے بہتر ہیں، اس لیے ہم میں سے کسی کو حلال نہیں کہ کسی کے ہاں کھانا کھائے، تو لوگوں نے ایک دوسرے کے ہاں کھانا چھوڑ دیا، اس پر یہ آیت اتری : (لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ۔۔ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗٓ) (طبری : 26426) اس تفسیر کے مطابق اندھے، لنگڑے اور بیمار کو اجازت دی گئی ہے کہ معذور ہونے کی وجہ سے ان کا لوگوں پر حق ہے کہ وہ بھوک مٹانے کے لیے ہر جگہ اور ہر گھر سے کھا سکتے ہیں، انھیں خواہ مخواہ کی عزت نفس کے یا حرام سے اجتناب کے خیال میں مبتلا ہو کر کسی دوسرے کے کھانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ مجاہد نے آیت زیر تفسیر کے متعلق فرمایا : ”آدمی کسی اندھے یا لنگڑے یا بیمار کو لے کر اپنے باپ یا بھائی یا بہن یا پھوپھی یا خالہ کے گھر (کچھ کھلانے کے لیے) لے جاتا تو وہ معذور لوگ اس میں گناہ محسوس کرتے کہ یہ لوگ ہمیں دوسروں کے گھروں میں لے جاتے ہیں۔ اس پر یہ آیت ان کے لیے رخصت بیان کرنے کے لیے اتری۔“ [ مسند عبد الرزاق و سندہ صحیح ] اس کے بعد عام لوگوں کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے گھروں سے اور ان لوگوں کے گھروں سے کھا سکتے ہیں جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی کے ہاں کھانے کے لیے اس طرح کی شرطوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ صاحب خانہ باقاعدہ اجازت دے تو کھائیں، ورنہ خیانت ہوگی۔ آدمی اگر ان میں سے کسی کے گھر جائے اور گھر کا مالک موجود نہ ہو اور اس کے بیوی بچے کھانے کو کچھ پیش کریں تو بلاتکلف کھایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کھانا سامنے لا کر رکھ دیا جائے تو مزید اجازت کی درخواست محض تکلف ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اپنے گھروں سے تو ہر شخص ہی کھاتا ہے، یہ کہنے میں کیا حکمت ہے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے گھروں سے کھاؤ ؟ جواب یہ ہے کہ اس میں دو حکمتیں معلوم ہوتی ہیں، ایک یہ کہ اپنے گھروں سے کھانے اور مذکورہ رشتہ داروں کے گھروں سے کھانے میں کوئی فرق نہیں، جس طرح اپنے گھروں سے کھا سکتے ہو ایسے ہی ان لوگوں کے گھروں سے بھی کھا سکتے ہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ ”اپنے گھروں“ کے لفظ میں اپنے گھر کے علاوہ اپنی اولاد کا گھر بھی شامل ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ آیت میں کھانے کی اجازت کے سلسلے میں اولاد کا الگ ذکر نہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : (أَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍63، ح : 2564۔ أبو داوٗد : 3530 ] ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لیے ہے۔“ 3 آباء میں باپ دادا اور نانا اوپر تک شامل ہیں، اسی طرح امہات میں دادی اور نانی اوپر تک اور اخوان، اخوات، اعمام، عمات، اخوال اور خالات میں حقیقی، عینی اور علاتی بھائی بہنیں، چچا، ماموں اوپر تک اور ان کی اولادیں بھی شامل ہیں، سب کے گھروں سے کھانے کی اجازت ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت سے بعض اہل علم نے استدلال فرمایا ہے کہ اقارب میں سے ہر ایک کا نفقہ دوسرے پر واجب ہے، اگر وہ ضرورت مند ہوں۔ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗٓ : طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو اپنی جائداد (گھر یا باغ وغیرہ) کا نگران مقرر کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے رخصت عطا فرمائی کہ اپنی زیر حفاظت و نگرانی گھر یا باغ سے کھانا یا پھل وغیرہ کھالے یا دودھ پی لے۔ اَوْ صَدِيْقِكُمْ : یہ ”صَدِیْقٌ“ (دوست) دال کی تشدید کے بغیر ہے اور ”صَدَاقَۃٌ“ (دوستی) سے مشتق ہے۔ یہ وزن (فَعِیْلٌ) واحد، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے ایک ہی ہوتا ہے۔ ”صِدِّیْقٌ“ دال کی تشدید کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے بہت سچا یا بہت تصدیق کرنے والا۔ ”صَدِيْقِكُمْ“ سے مراد وہ بےتکلف دوست ہیں جن کی عدم موجودگی میں اگر ان کے گھر سے کوئی چیز کھائی جائے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے خوش ہوتے ہیں۔ 3 بعض اہل علم نے فرمایا کہ اس آیت میں جن لوگوں کے گھروں سے کھانے کی اجازت دی گئی ہے ان کی طرف سے بھی اجازت ہونی چاہیے، وہ اجازت خواہ عام ہو یا خاص، اگر وہ ناگواری محسوس کریں تو ان کے گھروں سے کھانا درست نہیں، حتیٰ کہ کسی بھائی کی لاٹھی اٹھانا بھی اس کی دلی خوشی کے بغیر جائز نہیں۔ سائب بن یزید ؓ بیان فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے : (لَا یَأْخُذَنَّ أَحَدُکُمْ مَتَاعَ أَخِیْہِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا وَ مَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِیْہِ فَلْیَرُدَّھَا) [ أبوداوٗد، الأدب، باب من یأخذ الشيء من مزاح : 5003، قال الألباني حسن ] ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا سامان نہ لے، نہ ہنسی مذاق کرتے ہوئے اور نہ سنجیدگی سے اور جس نے اپنے بھائی کی لاٹھی لی ہو وہ اسے واپس کرے۔“ اور بعض اہل علم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان گھروں سے کھانے کی اجازت دے دی تو کھانے کے لیے گھر والوں سے اجازت لینا ضروری نہیں، اس میں نہ کھانے والوں کو حجاب کرنا چاہیے، نہ اہل خانہ کو دریغ کرنا چاہیے۔ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْـتَاتًا : کھانے کے متعلق جاہلیت میں دو طرح کا غلو پایا جاتا تھا، کچھ لوگ تو وہ تھے جو اکیلے اکیلے کھانا کھاتے تھے اور کسی دوسرے کے ساتھ مل کر کھانے سے نفرت کرتے تھے، جیسا کہ ہندوؤں کا طریقہ ہے، یا جس طرح اب بھی کفار سے متاثر بعض لوگ جراثیم کے ذریعے سے بیماری لگ جانے کے خوف سے کسی دوسرے کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھاتے اور کچھ لوگ وہ تھے جو اکیلا کھانے کو بخل اور کمینگی سمجھتے تھے اور جب تک کوئی دوسرا ساتھی نہ ملتا کھانا نہیں کھاتے تھے، حتیٰ کہ بعض اوقات فاقہ کر جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے دونوں پابندیاں ختم کرکے عام اجازت دے دی کہ الگ الگ کھاؤ یا اکٹھے مل کر کھاؤ، دونوں صورتوں میں تم پر گناہ نہیں۔ اگرچہ الگ الگ کھانے کی اجازت ہے مگر مل کر کھانا افضل ہے اور اس میں برکت ہوتی ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (طَعَامُ الْاِثْنَیْنِ کَافِي الثَّلَاثَۃِ وَ طَعَام الثَّلَاثَۃِ کَافِي الْأَرْبَعَۃِ) [ بخاري، الأطعمۃ، باب طعام الواحد یکفي الاثنین : 5392 ] ”دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہوتا ہے اور تین آدمیوں کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے۔“ جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (طَعَامُ الْوَاحِدِ یَکْفِي الْاِثْنَیْنِ وَطَعَامُ الْاِثْنَیْنِ یَکْفِي الْأَرْبَعَۃَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَۃِ یَکْفِي الثَّمَانِیَۃَ) [ مسلم، الأشربۃ، باب فضیلۃ المواساۃ في الطعام القلیل۔۔ : 2059 ] ”ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہوجاتا ہے اور دو کا کھانا چار کو اور چار کا آٹھ کو کافی ہوجاتا ہے۔“ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الْأَشْعَرِیِّیْنَ ، إِذَا أَرْمَلُوْا فِي الْغَزْوِ ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِیَالِھِمْ بالْمَدِیْنَۃِ ، جَمَعُوْا مَا کَانَ عِنْدَھُمْ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ اقْتَسَمُوْہُ بَیْنَھُمْ فِيْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، بِالسَّوِیَّۃِ ، فَھُمْ مِنِّيْ وَ أَنَا مِنْھُمْ) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل الأشعریین رضي اللہ عنھم : 2500 ] ”اشعری لوگ جب لڑائی میں (کھانے کے حوالے سے) محتاج ہوجاتے ہیں، یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کا کھانا کم ہوجاتا ہے، تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے ہیں، پھر آپس میں برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ۔۔ : اس میں گھروں میں داخلے کا ادب بیان فرمایا کہ داخل ہوتے وقت گھر والوں کو سلام کہے۔ ”عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ“ سے مراد اپنے لوگوں کو سلام کہنا ہے، کیونکہ وہ سب ایک جان کی مانند ہیں۔ اگر گھر میں کوئی بھی نہ ہو تو پھر بھی سلام کہے۔ تشہد کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو اس وقت سلام اس طرح کہنا چاہیے ”اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَاد اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ“ امام بخاری ؓ نے ”الأدب المفرد“ (1055) میں حسن سند کے ساتھ ابن عمر ؓ کا قول نقل فرمایا ہے : ”جب تو کسی گھر میں جائے، جس میں کوئی نہ ہو تو یوں کہہ ”اَلسََّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَاد اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ۔“ شاہ عبد القادر ؓ نے اس آیت کا نہایت عمدہ خلاصہ بیان فرمایا ہے، لکھتے ہیں : ”یعنی اپنایت کے علاقوں میں کھانے کی چیز کو ہر وقت پوچھنا ضروری نہیں، نہ کھانے والا حجاب کرے، نہ گھر والا دریغ کرے، مگر عورت کا گھر اس کے خاوند کا ہو تو اس کی مرضی چاہیے، اور مل کر کھاؤ یا جدا، یعنی اس کا تکرار دل میں نہ رکھیے کہ کس نے کم کھایا کس نے زیادہ، سب نے مل کر پکایا، سب نے مل کر کھایا، اور اگر ایک شخص کی مرضی نہ ہو پھر کسی کی چیز کھانی ہرگز درست نہیں۔ اور سلام کی تاکید فرمائی آپس کی ملاقات میں، اس سے بہتر دعا نہیں، جو لوگ اس کو چھوڑ کر اور لفظ ٹھہراتے ہیں اللہ کی تجویز سے ان کی تجویز بہتر نہیں۔“ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ : یہاں آیات کو کھول کر بیان کرنے کی بات تیسری دفعہ آرہی ہے، یعنی آیات کو اس طرح کھول کر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم غور و فکر کرو اور ان آیات میں ذکر کردہ احکام کو سمجھو۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب وہ اس کے ساتھ کسی ایسے کام پر ہوتے ہیں جو جمع کرنے والا ہے تو اس وقت تک نہیں جاتے کہ اس سے اجازت مانگیں۔ بیشک جو لوگ تجھ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو جب وہ تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے تو چاہے اجازت دے دے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگ، بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ۔۔ : اس سے پہلے گھروں میں داخل ہوتے وقت اجازت طلب کرنے کا حکم دیا تھا، اب نکلتے وقت اجازت طلب کرنے کا حکم دیا، خصوصاً جب کسی اہم کام کے لیے اکٹھا کیا گیا ہو، مثلاً کسی کام کے بارے میں مشورہ ہو، یا جہاد کے لیے جمع کیا گیا ہو، یا نصیحت کے لیے جمع کیا گیا ہو، یا جیسا کہ خندق کھودنے کے لیے مسلمان اکٹھے ہوئے تھے، ایسے موقعوں پر منافقین جان بچانے کے لیے بلا اجازت نکل جاتے تھے، جیسا کہ اس کے بعد والی آیت میں فرمایا : (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا) [ النور : 63 ] ”بیشک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔“ اور دوسری جگہ فرمایا : (وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ ۭ هَلْ يَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا ۭ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَھُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ) [ التوبۃ : 127 ] ”اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان کا بعض بعض کی طرف دیکھتا ہے کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ رہا ہے ؟ پھر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہاں منافقین کی صریح الفاظ میں مذمت کے بجائے اجازت لے کر جانے والے مسلمانوں کی تعریف کرکے فرمایا کہ مومن صرف یہ ہیں اور یہ بات اسی آیت میں دو دفعہ بیان فرمائی، ایک ”اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔“ اور دوسری ”ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ“ اس سے ظاہر ہے کہ ایسے موقع پر اجازت کے بغیر کھسک جانے والوں میں کامل ایمان نہیں، یا وہ ایمان سے بالکل ہی فارغ ہیں۔ مگر یہ بات صراحت کے بجائے کنائے سے بیان فرمائی، گویا منافقین اس قابل نہیں کہ ان کا نام مذمت کے لیے بھی لیا جائے۔ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ : اس سے معلوم ہوا کہ اجازت بلاوجہ نہیں بلکہ اپنے کسی اہم کام کے لیے مانگنی چاہیے اور یہ بھی کہ امیر کو اختیار ہے کہ جسے چاہے اجازت دے اور جسے چاہے نہ دے، کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے کہ مجلس کی اہمیت کے پیش نظر کسے اجازت دینے کی گنجائش ہے۔ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عذر کی بنا پر اگرچہ اجازت لے کر جانا جائز ہے مگر پھر بھی اچھا نہیں ہے، کیونکہ یہ دنیا کے کام کو دین پر مقدم رکھنا ہے، اس لیے آپ ﷺ کو ایسے لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (وحیدی) 3 یہ آیت امت کی مصلحت کے لیے جماعتی نظم کی بنیاد ہے، کیونکہ سنت یہ ہے کہ ہر اجتماع کے لیے (چھوٹا ہو یا بڑا) ایک امیر ہو۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا کَانَ ثَلَاثَۃٌ فِيْ سَفَرٍ فَلْیُؤَمِّرُوْا أَحَدَھُمْ) [ أبوداوٗد، الجہاد، باب في القوم یسافرون۔۔ : 2609، قال الألباني حسن صحیح ] ”جب سفر میں تین (3) آدمی ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنالیں۔“ یہ امیر ان مسلمانوں کے لیے ولی الامر کا قائم مقام ہوگا اور اس کی حیثیت رسول اللہ ﷺ کے جانشین کی ہوگی، اس لیے اس کے اجتماع سے اس کی اجازت کے بغیر جانا جائز نہیں، کیونکہ اگر ہر شخص کو اپنی مرضی سے کھسک جانے کی اجازت ہے تو کوئی اجتماع بکھرنے سے نہیں بچے گا۔ اسی طرح جب امیر کسی دینی، سیاسی یا جہادی ضرورت کے لیے مجلس بلائے تو طے شدہ مقام اور وقت سے اجازت یا صحیح عذر کے بغیر پیچھے رہنا جائز نہیں۔ (ابن عاشور)
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنالو جیسے تمہارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔ بیشک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔ سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔

لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ۔۔ : مفسرین نے اس آیت کے تین مطلب بیان فرمائے ہیں، پہلا یہ کہ ”دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ“ کا معنی ہے رسول کا بلانا۔ اس صورت میں لفظ ”دُعَاء“ اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ تمہیں بلائیں تو آپ ﷺ کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی طرح معمولی نہ سمجھو، کیونکہ آپ ﷺ جب بلائیں تو حاضر ہونا واجب ہوتا ہے، جب کہ آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کا یہ حکم نہیں ہے۔ یہ مفہوم یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اجازت طلب کرنے اور امر جامع میں موجود رہنے کا بیان ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے، تمہارا رسول کو بلانا۔ اس صورت میں ”دُعَاء“ اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کو اس طرح نام لے کر مت بلاؤ جس طرح تم ایک دوسرے کو نام لے کر بلاتے ہو، بلکہ یا نبی اللہ، یا رسول اللہ، یا ایسے القاب سے بلاؤ جن میں آپ ﷺ کی تعظیم و تکریم ہو اور ایسے لہجے میں مت بلاؤ جس میں تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو، بلکہ آواز نیچی رکھ کر ادب کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو بلاؤ۔ اس معنی کی تائید سورة حجرات کی ابتدائی آیات سے ہوتی ہے، فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ) [ الحجرات : 2 ] ”اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمہارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔“ یہ معنی بھی بہت عمدہ ہے۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ تم رسول کی دعا کو عام لوگوں کی دعا کی طرح مت سمجھو۔ کیونکہ آپ کی دعا قبول شدہ ہے، اگر تمہارے حق میں ہوگئی تو اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں اور اگر تمہارے خلاف ہوگئی تو کوئی جائے پناہ نہیں۔ یہ معنی اگرچہ اپنی جگہ درست ہے، مگر آیت کے الفاظ سے بعید ہے۔ قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا :”يَتَسَلَّـلُوْنَ“ آہستہ آہستہ خفیہ طریقے سے نکلتے ہیں، کھسکتے ہیں، جیسے ”تَدَخَّلَ“ اور ”تَدَرَّجَ“ میں آہستہ آہستہ کا مفہوم شامل ہے۔ ”لِوَاذًا“ لَاذَ یَلُوْذُ سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، ایک دوسرے کی پناہ لینا۔ یہ منافقین کا شیوہ تھا کہ کوئی مسلمان اجازت لے کر نکلتا تو اس کی آڑ لے کر وہ بھی نکل جاتے۔ کھسکنے والوں کو اللہ کی گرفت سے ڈرانا مقصود ہے۔ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ : ”خَالَفَ یُخَالِفُ خِلَافًا وَ مُخَالَفَۃً“ کا معنی پیچھے رہنا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ) [ التوبۃ : 81 ] ”وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہوگئے۔“ ”يُخَالِفُوْنَ“ کے بعد ”عَنْ“ کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے ”سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں۔“ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انفال (24، 25) شوکانی نے فرمایا : ”يُخَالِفُوْنَ“ کے بعد ”عَن“ لانے کا مطلب یہ ہے کہ ”يُخَالِفُوْنَ“ کے ضمن میں اعراض کا مفہوم شامل ہے، یعنی جو لوگ اس کے حکم سے اعراض کرتے ہیں۔“ زمخشری نے فرمایا : ”يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ“ کا معنی ”یَصُدُّوْنَ عَنْ أَمْرِہِ“ ہے، یعنی جو لوگ اس کے حکم سے دوسروں کو روکتے ہیں۔“ مختصر یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پیچھے رہنے کا نتیجہ فتنے میں مبتلا ہونا ہے۔ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طالب سے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت ”وَقٰتِلُوْھُم حَتّٰی لَاتَکُوْنَ فِتْنَۃً“ میں فتنہ سے مراد شرک ہے، یعنی جو شخص جان بوجھ کر رسول اللہ ﷺ کے حکم پر عمل نہیں کرتا یا عمل کرنے میں تاخیر کرتا ہے، خطرہ ہے کہ وہ خالص ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور کفر و شرک یا بدعت میں مبتلا ہوجائے گا۔ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ : دنیا میں اس عذاب کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں، دیکھیے سورة انعام کی آیت (65) کی تفسیر۔ 3 اس آیت میں لفظ ”اَوْ“ مانعۃ الخلو ہے، یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ فتنے اور عذاب الیم میں سے کوئی چیز بھی ان پر نہ آئے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ دونوں چیزیں ان پر اتریں۔ 3 جب صرف ایک معاملہ میں رسول کی اطاعت نہ کرنے پر یہ وعید سنائی گئی ہے تو ان لوگوں کو اپنے معاملے پر ضرور غور کرنا چاہیے جنھوں نے رسول کو سرے سے اطاعت کا مستحق ہی نہیں سمجھا، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بےنیاز ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

سن لو ! بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، یقینا وہ جانتا ہے جس حال پر تم ہو اور اس دن کو بھی جب وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے، پھر وہ انھیں بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : طبری نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، یاد رکھو، سارے آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور مملوک کو لائق نہیں کہ اپنے مالک کے حکم کی نافرمانی کرے اور اس کی سزا کا حق دار بنے۔ فرماتے ہیں، لوگو ! اسی طرح تمہارے لیے بھی اپنے رب کے حکم کی جو تمہارا مالک ہے، خلاف ورزی کرنا درست نہیں، سو اس کی اطاعت کرو، اس کے حکم پر عمل کرو اور جب تم اس کے رسول کے ساتھ کسی جامع کام میں حاضر ہو تو اس کی اجازت کے بغیر مت نکلو۔“ (طبری : 26476) قَدْ يَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ : یعنی تم جس روش پر قائم ہو، وہ اچھی ہے یا بری، اللہ تعالیٰ یقیناً اسے جانتا ہے۔ وَيَوْمَ يُرْجَعُوْنَ اِلَيْهِ۔۔ : خبر دینے سے مراد ان کے اعمال کی جزا دینا ہے۔ منافقین کا خطاب کے بعد غائب کے صیغے سے ذکر التفات ہے، جس سے ناراضی کا اظہار ہو رہا ہے۔ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ : یہ ”قَدْ يَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ“ کے مضمون کی تکمیل ہے، پہلے صرف منافقین کے احوال جاننے کا ذکر فرمایا، اب فرمایا، وہ صرف تمہارے احوال ہی نہیں بلکہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔