24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو بہتان لے کر آئے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ : ”اَلإِْفْکُ“ کا لفظی معنی الٹا کرنا ہوتا ہے، مراد ایسا بہتان ہے جو حقیقت کے بالکل خلاف ہو۔ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو منافقین نے ام المومنین عائشہ ؓ پر لگایا تھا، دو تین مخلص مسلمان بھی سادہ دلی کی وجہ سے ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ اس کی تفصیل خود عائشہ ؓ سے سنیے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی عادت تھی کہ آپ جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے، جس بیوی کے نام قرعہ نکلتا اسے آپ اپنے ساتھ لے جاتے۔ چناچہ آپ ﷺ نے ایک غزوہ (بنو المصطلق) میں قرعہ ڈالا جو میرے نام نکلا، تو میں آپ کے ساتھ روانہ ہوگئی۔ یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ میں ایک ہودے میں سوار رہتی اور جب اترتی تو ہودے سمیت اتاری جاتی۔ ہم اسی طرح سفر کرتے رہے، جب آپ ﷺ اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور سفر سے لوٹے تو ہم لوگ مدینہ کے نزدیک آپہنچے، آپ نے ایک رات کوچ کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سن کر میں اٹھی اور پیدل چل کر لشکر سے پار نکل گئی، جب حاجت سے فارغ ہوئی اور لشکر کی طرف آنے لگی تو مجھے معلوم ہوا کہ ”اظفار“ کے نگینوں کا ہار (جو میرے گلے میں تھا) ٹوٹ کر گرگیا ہے۔ میں اسے ڈھونڈنے لگی اور اسے ڈھونڈنے میں دیر لگ گئی۔ اتنے میں وہ لوگ جو میرا ہودہ اٹھا کر اونٹ پر لادا کرتے تھے، انھوں نے ہودہ اٹھایا اور میرے اونٹ پر لاد دیا۔ وہ یہ سمجھتے رہے کہ میں ہودہ میں موجود ہوں، کیونکہ اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، پُر گوشت اور بھاری بھر کم نہ ہوتی تھیں اور تھوڑا سا کھانا کھایا کرتی تھیں۔ لہٰذا ان لوگوں نے جب ہودہ اٹھایا تو انھیں اس کے ہلکے پن کا کوئی خیال نہ آیا، علاوہ ازیں میں ان دنوں ایک کم سن لڑکی تھی۔ خیر وہ ہودہ اونٹ پر لاد کر چل دیے۔ لشکر کے روانہ ہونے کے بعد میرا ہار مجھے مل گیا اور میں اسی ٹھکانے کی طرف چلی گئی جہاں رات کو اترے تھے، دیکھا تو وہاں نہ کوئی پکارنے والا ہے اور نہ جواب دینے والا (مطلب سب جا چکے تھے) ، میں نے ارادہ کیا کہ اپنے ٹھکانے پر چلی جاؤں، کیونکہ میرا خیال تھا کہ جب وہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو اسی جگہ تلاش کرنے آئیں گے۔ میں وہاں بیٹھی رہی، نیند نے غلبہ کیا اور میں سو گئی۔ لشکر کے پیچھے پیچھے (گرے پڑے سامان کی خبر رکھنے کے لیے) صفوان بن معطل السلمی الذکوانی مقرر تھے۔ وہ رات چلے اور صبح میرے ٹھکانے کے قریب پہنچے اور دور سے کسی انسان کو سوتے ہوئے دیکھا، پھر میرے قریب آئے تو مجھے پہچان لیا، کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھوں نے مجھے دیکھا تھا، جب انھوں نے مجھے پہچان کر ”إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ پڑھا تو میں بیدار ہوگئی اور اپنی چادر سے چہرہ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم ! انھوں نے نہ مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے ”إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ کے سوا کوئی بات سنی۔ انھوں نے اپنی سواری بٹھائی اور اس کے اگلے پاؤں کو پاؤں سے دبائے رکھا تو میں اس پر سوار ہوگئی۔ وہ آگے سے اونٹنی کی مہار پکڑ کر پیدل چلتے رہے، یہاں تک کہ ہم لشکر سے اس وقت جا ملے جب وہ عین دوپہر کو گرمی کی شدت کی وجہ سے پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ تو جن کی قسمت میں تباہی لکھی تھی وہ تباہ ہوئے۔ اس تہمت کا ذمہ دار عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا۔ خیر ہم لوگ مدینہ پہنچے، وہاں پہنچ کر میں بیمار ہوگئی اور مہینا بھر بیمار رہی۔ لوگ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا چرچا کرتے رہے اور مجھے خبر تک نہ ہوئی، البتہ ایک بات سے مجھے شک سا پڑتا تھا، وہ یہ کہ آپ ﷺ کی وہ مہربانی جو بیماری کی حالت میں مجھ پر ہوا کرتی تھی وہ اس بیماری میں مجھے نظر نہیں آئی۔ بس یہ تھا کہ آپ میرے پاس آتے تو سلام کہتے، پھر فرماتے : ”کیا حال ہے ؟“ اور چلے جاتے، اس سے مجھے شک پڑتا، مگر مجھے کسی بات کی خبر نہ تھی۔ بیماری سے کچھ افاقہ ہوا تو میں کمزور ہوگئی، ابھی کمزور ہی تھی کہ ”مناصع“ کی طرف گئی۔ مسطح کی ماں (عاتکہ) میرے ساتھ تھی۔ ہم لوگ ہر رات کو وہاں رفع حاجت کے لیے جایا کرتے تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہم اپنے گھروں کے نزدیک بیت الخلا نہیں بناتے تھے، بلکہ اگلے زمانہ کے عربوں کی طرح رفع حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے۔ کیونکہ گھروں کے قریب بیت الخلا بنانے سے اس کی بدبو ہمیں تکلیف دیتی۔ خیر میں اور مسطح کی ماں جو ابو رہم بن عبد مناف کی بیٹی تھی اور اس کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی اور ابوبکر صدیق کی خالہ تھی، اس کا بیٹا مسطح تھا، رفع حاجت سے فراغت کے بعد ہم دونوں گھر کو آرہی تھیں کہ مسطح کی ماں کا پاؤں چادر میں الجھ کر پھسلا تو وہ کہنے لگی : ”مسطح ہلاک ہو۔“ میں نے اسے کہا : ”تم نے بہت بری بات کہی، کیا تم اس شخص کو کو ستی ہو جو بدر میں شریک تھا ؟“ وہ کہنے لگی : ”اے بھولی لڑکی ! کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا ہے ؟“ میں نے کہا : ”اس نے کیا کہا ہے ؟“ تب اس نے تہمت لگانے والوں کی باتیں مجھ سے بیان کیں تو میری بیماری میں مزید اضافہ ہوگیا۔ جب میں گھر پہنچی تو رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لائے اور سلام کرکے پوچھا : ”اب کیسی ہو ؟“ میں نے کہا : ”کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں والدین کے پاس جاؤں ؟“ میرا ارادہ اس وقت یہ تھا کہ ان سے خبر کی تحقیق کروں۔ آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین کے پاس آگئی تو میں نے اپنی ماں سے کہا : ”امی ! لوگ (میرے بارے میں) کیا باتیں کر رہے ہیں ؟“ اس نے کہا : ”بیٹی ! اتنا رنج نہ کرو، اللہ کی قسم ! اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی مرد کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہوتی ہے اور وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو وہ بہت کچھ کرتی رہتی ہیں۔“ میں نے کہا : ”سبحان اللہ ! لوگوں نے اس کا چرچا بھی کردیا۔“ چناچہ میں وہ ساری رات روتی رہی، صبح ہوگئی مگر میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے، نہ آنکھوں میں نیند کا سرمہ تک آتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید ؓ کو بلایا، کیونکہ وحی اترنے میں دیر ہو رہی تھی اور آپ ﷺ ان سے اپنی اہلیہ سے علیحدگی کے متعلق مشورہ چاہتے تھے۔ چناچہ اسامہ بن زید نے تو آپ کو اس کے مطابق مشورہ دیا جو وہ جانتے تھے کہ عائشہ ایسی ناپاک باتوں سے پاک ہے اور اس کے مطابق کہا جو ان کے دل میں آپ کے گھر والوں کی محبت تھی۔ انھوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! وہ آپ کی اہلیہ ہے اور ہم خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔“ علی (t) نے کہا : ”یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی اور عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں اور اگر آپ بریرہ سے پوچھیں تو وہ آپ کو ٹھیک ٹھیک بتادے گی۔“ چناچہ آپ ﷺ نے بریرہ (r) کو بلایا اور اس سے پوچھا : ”کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے کہ عائشہ کے متعلق تمہیں کچھ شک ہو ؟“ بریرہ (r) کہنے لگیں : ”اللہ کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! میں نے اس میں کوئی بات نہیں دیکھی جسے میں اس کا عیب سمجھوں، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ وہ نو عمر لڑکی ہے، گھر والوں کا گندھا ہوا آٹا رکھ کر سو جاتی ہے اور بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے۔ ‘ ‘(اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور اس دن عبداللہ بن ابی کے خلاف مدد مانگی، فرمایا : (یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ ! مَنْ یَعْذِرُنِيْ مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِيْ أَذَاہُ فِيْ أَھْلِ بَیْتِيْ ؟ فَوَ اللّٰہِ ! مَا عَلِمْتُ عَلٰی أَھْلِيْ إِلَّا خَیْرًا، وَ لَقَدْ ذَکَرُوْا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِ إِلَّا خَیْرًا، وَمَا کَانَ یَدْخُلُ عَلٰی أَھْلِيْ إِلَّا مَعِيَ) ”مسلمانو ! اس آدمی کے خلاف کون میری حمایت کرتا ہے جس کی تکلیف مجھے میرے گھر والوں کے متعلق پہنچی ہے، اللہ کی قسم ! میں نے اپنے اہل خانہ میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا اور ان لوگوں نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا ہے جس میں خیر کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا اور وہ میرے گھر کبھی اکیلا نہیں بلکہ میرے ساتھ ہی آتا ہے۔“ یہ سن کر سعد بن معاذ انصاری (اوس قبیلے کے سردار) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : ”میں اس کے مقابل آپ کی مدد کرتا ہوں، اگر وہ اوس قبیلے سے ہے تو میں اس کی گردن اڑاتا ہوں اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج قبیلے سے ہے تو آپ جو حکم دیں گے ہم بجا لائیں گے۔“ یہ بات سن کر سعد بن عبادہ، جو خزرج قبیلے کے سردار تھے، کھڑے ہوئے، وہ اس سے پہلے نیک آدمی تھے، مگر قومی حمیّت نے انھیں بھڑ کا دیا، انھوں نے سعد بن معاذ سے کہا : ”اللہ کی قسم ! تم نے جھوٹ کہا، اللہ کی قسم ! نہ تم اسے قتل کرو گے اور نہ ہی قتل کرسکتے ہو۔“ اتنے میں اسید بن حضیر ؓ جو سعد بن معاذ ؓ کے چچا کے بیٹے تھے، کھڑے ہوئے اور انھوں نے سعد بن عبادہ سے کہا : ”تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم ! ہم اسے ضرور قتل کریں گے، کیونکہ تم منافق ہو، منافقوں کی طرف داری کرتے ہوئے، ان کی طرف سے جھگڑتے ہو۔“ اس پر اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور قریب تھا کہ آپس میں لڑ پڑیں، رسول اللہ ﷺ ابھی منبر ہی پر تھے، آپ ﷺ انھیں سمجھاتے اور ٹھنڈا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے اور آپ ﷺ بھی خاموش ہوگئے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں وہ سارا دن روتی رہی، نہ میرے آنسو تھمتے تھے نہ آنکھوں میں نیند کا سرمہ تک پڑتا تھا۔ (والد نے مجھے گھر واپس جانے کا حکم دیا اور میں گھر چلی گئی) میرے والدین صبح میرے پاس آگئے، میں دو رات اور ایک دن سے مسلسل رو رہی تھی، اس عرصہ میں مجھے نہ نیند آئی تھی اور نہ آنسو تھمتے تھے، والدین کو گمان ہوتا تھا کہ رو رو کر میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ پھر ایسا ہوا کہ میرے والدین میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے اجازت دے دی تو وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔ ہم اس حال میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے سلام کہا اور بیٹھ گئے۔ اس سے پہلے جب سے مجھ پر تہمت لگی تھی آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔ آپ ایک مہینا انتظار کرتے رہے، مگر وحی نہیں آئی۔ آپ ﷺ نے بیٹھ کر خطبہ پڑھا، پھر فرمایا : (أَمَّا بَعْدُ ، یَا عَاءِشَۃُ ! فَإِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِيْ عَنْکِ کَذَا وَ کَذَا، فَإِنْ کُنْتِ بَرِیْءَۃً فَسَیُبَرِّءْکِ اللّٰہُ ، وَإِنْ کُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللّٰہَ وَتُوبِيْ إِلَیْہِ ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِہِ ثُمَّ تَابَ إِلَی اللّٰہِ تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِ) ”اما بعد ! عائشہ ! مجھے تمہارے بارے میں یہ بات پہنچی ہے، اگر تو بےگناہ ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ضرور بری کر دے گا اور اگر تو کسی گناہ سے آلودہ ہوئی ہے تو اللہ سے معافی مانگ اور توبہ کر، کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرکے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی بات ختم کی تو میرے آنسو سوکھ گئے، حتیٰ کہ مجھے ان کا ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا، میں نے اپنے والد سے کہا : ”رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کہا ہے اس کا جواب دیں۔“ انھوں نے کہا : ”اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں میں کیا کہوں۔“ پھر میں نے اپنی ماں سے کہا : ”آپ رسول اللہ ﷺ کو جواب دیں۔“ انھوں نے کہا : ”اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں میں کیا کہوں۔“ آخر میں خود ہی جواب دینے لگی، میں نو عمر لڑکی تھی، قرآن میں نے زیادہ نہیں پڑھا تھا، میں نے کہا : (إِنِّيْ وَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ حَتَّی اسْتَقَرَّ فِيْ أَنْفُسِکُمْ وَ صَدَّقْتُمْ بِہِ ، فَلَءِنْ قُلْتُ لَکُمْ : إِنِّيْ بَرِیْءَۃٌ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ أَنّيْ بَرِیْءَۃٌ، لَا تُصَدِّقُوْنَنِيْ بِذٰلِکَ ، وَلَءِنِ اعْتَرَفْتُ لَکُمْ بِأَمْرٍِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ أَنِّيْ مِنْہُ بَرِیْءَۃٌ لَتُصَدِّقُنِّيْ ، وَاللّٰہِ مَا أَجِدُ لَکُمْ مَثَلًا إِلَّا قَوْلَ أَبِيْ یُوْسُفَ قَالَ : (فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ) [ یوسف : 18 ]) ”اللہ کی قسم ! میں جانتی ہوں کہ آپ لوگوں نے یہ بات سنی ہے، حتیٰ کہ آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ نے اسے سچا سمجھ لیا ہے، اب اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بےگناہ ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بےگناہ ہوں، تو تم مجھے اس میں سچا نہیں سمجھو گے اور اگر میں کسی بات کا اعتراف کرلوں، جب کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ مجھے سچا سمجھیں گے۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اور تمہاری مثال ایسی ہی سمجھتی ہوں جیسے یوسف کے باپ نے کہا تھا : ”سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے، جو تم بیان کرتے ہو۔“ پھر میں نے کروٹ بدل لی اور بستر پر لیٹ گئی۔ میں اس وقت جانتی تھی کہ میں بےگناہ ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میری بےگناہی کی وجہ سے مجھے بری کر دے گا، لیکن اللہ کی قسم ! مجھے یہ گمان تک نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کرنے والا ہے جس کی تلاوت کی جائے گی اور میرے دل میں میری شان اس سے کہیں کم تر تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی بات فرمائے گا جس کی تلاوت کی جایا کرے گی۔ مجھے تو یہ امید تھی کہ رسول اللہ ﷺ نیند میں خواب دیکھیں گے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ مجھے پاک قرار دے گا۔ تو اللہ کی قسم ! ابھی رسول اللہ ﷺ وہاں سے چلے نہ تھے، نہ ہی گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ پر وہ سختی ہونے لگی جو اس موقع پر ہوا کرتی تھی، یہاں تک کہ آپ سے موتیوں کی طرح پسینا ٹپکنے لگا، حالانکہ وہ سردی کا دن تھا۔ ایسا اس کلام کے بوجھ کی وجہ سے ہوتا تھا جو آپ پر نازل ہوتا تھا۔ جب وہ حالت ختم ہوئی تو آپ خوش تھے اور ہنس رہے تھے۔ پھر پہلی بات جو آپ نے کہی یہ تھی : (یَا عَاءِشَۃُ ! أَمَّا اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ فَقَدْ بَرَّأَکِ) ”عائشہ ! اللہ عز و جل نے تمہیں بری کردیا۔“ میری والدہ نے کہا : ”رسول اللہ ﷺ کی طرف اٹھو (اور شکریہ ادا کرو)۔“ میں نے کہا : ”اللہ کی قسم ! میں آپ کی طرف نہیں اٹھوں گی اور اللہ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : (ۧاِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ۔۔ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) [ النور : 11 تا 20 ] جب اللہ تعالیٰ نے میری براءت میں یہ آیات نازل فرمائیں تو ابوبکر صدیق (t) نے، جو محتاجی اور قرابت کی وجہ سے مسطح پر خرچ کیا کرتے تھے، کہا : ”اللہ کی قسم ! میں مسطح پر کبھی کچھ خرچ نہیں کروں گا، کیونکہ اس نے عائشہ کے متعلق ایسی باتیں کی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ډ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا ۭ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) [ النور : 22 ] ”اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھا لیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخشے اور اللہ بیحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ یہ آیت سن کر ابوبکر نے کہا : ”کیوں نہیں ؟ اللہ کی قسم ! مجھے پسند ہے کہ اللہ مجھے بخش دے۔“ اور وہ مسطح پر جو خرچ کیا کرتے تھے دوبارہ کرنے لگے اور کہا : ”اللہ کی قسم ! میں کبھی یہ معمول بند نہیں کروں گا۔“ عائشہ ؓ نے فرمایا : ”رسول اللہ ﷺ (اس تہمت کے زمانہ میں) زینب بنت جحش ؓ سے میرے بارے میں پوچھا کرتے تھے کہ زینب تمہیں کیا معلوم ہے، یا تم نے کیا دیکھا ہے ؟ تو وہ یہی کہتی کہ میں اپنے کان اور آنکھ کی خوب احتیاط رکھتی ہوں، مجھے تو اس کے اچھا ہونے کے سوا کچھ معلوم نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں میں سے زینب ہی میرا مقابلہ کرتی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی پرہیزگاری کی وجہ سے اسے بچا لیا اور اس کی بہن حمنہ اس کی خاطر لڑنے لگی۔ تو جس طرح دوسرے تہمت لگانے والے تباہ ہوئے وہ بھی تباہ ہوئی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب : (لو لا إذ سمعتموہ ظن المؤمنون۔۔) : 4750 ] اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ۔۔ : ایک ذہن کے لوگوں کے گروہ اور جماعت کو ”عُصْبَۃٌ“ اور ”عِصَابَۃٌ“ کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہوتے ہیں اور ”عَصَبَ یَعْصِبُ“ (ض) کا معنی باندھنا اور مضبوط کرنا ہے، یعنی جو لوگ یہ عظیم بہتان اپنے پاس سے بنا کر لائے ہیں ان کا شمار مسلمانوں میں ہوتا ہے، اس لیے ان سے معاملہ کرتے وقت ان کے ساتھ غیر مسلموں والا سلوک نہ کرو، کیونکہ یہ تمھی میں سے ہیں، ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں اور بات باہمی فساد تک جا پہنچے۔ جیسا کہ تجربے سے یہ بات ثابت بھی ہوگئی ہے کہ جب آپ نے عبداللہ بن ابی کے مقابلے میں مدد کے لیے کہا تو قریب تھا کہ لوگ لڑ پڑتے، اگر نبی کریم ﷺ انھیں ٹھنڈا نہ کرتے۔ اس لیے اللہ سبحانہ نے یہ کہہ کر کہ ”جو لوگ یہ بہتان لائے ہیں تمھی میں سے ایک گروہ ہیں“ ان کا بہتان اور جھوٹ بھی واضح فرمایا اور زیادہ تعاقب سے بھی منع فرما دیا۔ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ ۭ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ : یہ بات مخلص مسلمانوں کے اطمینان کے لیے فرمائی، جنھیں اس بہتان سے صدمہ پہنچا تھا، خصوصاً جن کا اس واقعہ سے براہ راست تعلق تھا، مثلاً نبی کریم ﷺ ، ابوبکر صدیق، عائشہ، ان کی والدہ اور صفوان بن معطل ؓ۔ فرمایا، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے کئی لحاظ سے بہتر ہے : 1 اس واقعہ سے رسول اللہ ﷺ ، عائشہ، ان کے والدین اور صفوان بن معطل ؓ کو جو رنج و غم پہنچا اور مسلسل ایک ماہ تک وہ شدید کرب میں مبتلا رہے، اس کرب پر صبر اور بہتان لگانے والوں سے درگزر کا یقیناً اللہ کے ہاں بہت اجر ہے، فرمایا : (اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ) [ الزمر : 10 ] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے ایک اشارے سے تمام بہتان لگانے والوں کی گردنیں تن سے جدا ہوسکتی تھیں۔ اس اجر کے علاوہ براءت کی آیات نازل ہونے پر ان تمام حضرات کو اتنی ہی خوشی ہوئی جتنا صدمہ پہنچا تھا، چناچہ رسول اللہ ﷺ آیات اترنے پر ہنس رہے تھے، اسی طرح عائشہ، ان کے والدین، صفوان بن معطل ؓ اور تمام مسلمانوں کو درجہ بدرجہ خوشی ہوئی۔ 2 ام المومنین عائشہ ؓ کو اس واقعہ سے جو عزت ملی امت مسلمہ میں سے کسی کو حاصل نہ ہوسکی کہ ان کی بریت کے لیے قرآن مجید اترا، جو قیامت تک تمام دنیا میں پڑھا جاتا رہے گا اور قرآن نے ان کی جو براءت بیان فرمائی رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد ام المومنین عائشہ ؓ کی پاکیزہ زندگی اس کی سچی شہادت ہے کہ وہ ہر بہتان سے پاک ہیں۔ اس سے قرآن کا اعجاز بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت نہ ہوئی ہے، نہ ہوگی۔ 3 اس واقعہ میں یہ بھی خیر ہے کہ بہتان لگانے والے مخلص مسلمانوں پر حد لگنے سے وہ گناہ سے پاک ہوگئے اور منافقین کا نفاق ظاہر ہوگیا، جس سے آئندہ ان کے نقصانات سے بچنا آسان ہوگیا۔ 4 اس واقعہ سے صحابہ کرام ؓ کی نیک نفسی اور پاک طینتی بھی ثابت ہوتی ہے کہ مسلسل ایک ماہ کے پروپیگنڈے کے باوجود مخلص مسلمانوں میں سے صرف تین آدمی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش ؓ اس پروپیگنڈے کا شکار ہوئے، باقی تمام صحابہ اس بدگمانی سے پوری طرح محفوظ رہے۔ ازواج مطہرات میں سے کسی نے عائشہ ؓ کی بدنامی میں حصہ نہیں لیا، حتیٰ کہ زینب بنت جحش ؓ نے، جو عائشہ ؓ کی برابر کی چوٹ تھیں، سوکن ہونے کے باوجود قسم کھا کر عائشہ ؓ کے پاک ہونے کی شہادت دی۔ ابو ایوب انصاری ؓ اور ان کی بیوی کا واقعہ بھی، جو آگے آ رہا ہے، صحابہ کے کریم النفس اور پاک طینت ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔ ابوبکر ؓ کا بہتان لگانے کے باوجود مسطح سے حسن سلوک ان کی خشیت الٰہی اور صبر کا بہترین نمونہ ہے۔ عائشہ ؓ کا حسان بن ثابت ؓ سے بہتان کے باوجود حسن سلوک اور ان کی عزت افزائی کرنا ان کے عالی نفس ہونے کی دلیل ہے۔ 5 اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ آپ ایک ماہ تک مسلسل کرب میں مبتلا نہ رہتے۔ اس سے اس غلو کی جڑ کٹ گئی جس میں اس سے پہلے یہود و نصاریٰ مبتلا ہوئے اور جس میں بعض نادان مسلمان بھی مبتلا ہیں۔ 6 اس واقعہ کے نتیجہ میں زنا اور قذف کی حد نازل ہوئی اور قیامت تک کے لیے مسلمان مردوں اور عورتوں کی عصمت و عفت بہتان طرازوں سے محفوظ کردی گئی اور مسلم معاشرے میں بےحیائی کی اشاعت کا پوری طرح سد باب کردیا گیا۔ لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ : یعنی جس شخص نے اس فتنے میں جتنا حصہ لیا اسی قدر گناہ گار ہوا اور سزا کا مستحق ہوا۔ کسی نے اپنے پاس سے بہتان باندھ کر طوفان اٹھایا، کسی نے بہتان باندھنے والے کی زبانی موافقت کی، کوئی سن کر ہنس دیا، کسی نے خاموشی سے سن لیا، حالانکہ اسے انکار کرنا چاہیے تھا اور کسی نے سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یہ بات کہنے والوں کو اللہ نے پسند فرمایا، باقی سب کو تھوڑا بہت الزام دیا۔ وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ : اس سے مراد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ہے، جیسا کہ خود عائشہ ؓ نے فرمایا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے منبر پر اسی کے متعلق فرمایا کہ اس کی تکلیف مجھے میرے گھر والوں کے متعلق پہنچی ہے، دیکھیے زیر تفسیر آیت کا پہلا فائدہ۔ بعض روایات میں حسان بن ثابت ؓ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، مگر صحیح بات یہی ہے کہ حسان بن ثابت ؓ کا قصور صرف اتنا تھا کہ انھوں نے سن کر یہ بات آگے کردی، ورنہ یہ بہتان گھڑنے والا عبداللہ بن ابی ہی تھا۔ یہی ظالم لوگوں کو جمع کرتا اور نہایت چالاکی سے خود دامن بچا کر دوسروں کے منہ سے کہلوایا کرتا تھا۔ اس کے لیے عذاب عظیم اس لیے کہ دوسرے تمام لوگوں کا گناہ اس کے سر پر بھی تھا، کیونکہ اس نے اس کی ابتدا کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ سَنَّ فِي الإِْسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّءَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَّنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِھِمْ شَيْءٌ) [ مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ۔۔ : 1017 ] ”جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہوگا اور ان کا گناہ بھی جو اس پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“ عذاب عظیم کا مطلب یہ ہے کہ اسے توبہ کی توفیق نہیں ہوگی، وہ کفر پر فوت ہوگا اور آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوگا، جو ”اَلدَّرْکُ الْأَسْفَلُ مِنَ النَّارِ“ ہے۔ [ أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ ] اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس جماعت کے دوسرے لوگوں کو توبہ کی توفیق عطا ہوگی۔
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا اور کہا کہ یہ صریح بہتان ہے۔

لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَيْرًا : بظاہر یوں کہنا چاہیے تھا کہ ”کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو تم نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا“ اس کے بجائے فرمایا : ”کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تہمت کو سچا سمجھنے والے مرد اور عورتیں دونوں تھے، اس لیے دونوں کو متنبہ کرنے کے لیے خاص طور پر ان کے مومن ہونے کا ذکر فرمایا کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ کسی تہمت کی وجہ سے کسی مومن کے متعلق اپنے دل میں برا گمان نہ آنے دیا جائے۔ 3 اس آیت کے تین مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس بہتان کو سن کر اپنے دلوں میں (عائشہ ؓ کے متعلق) اچھا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ صریح بہتان ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس بہتان کو سن کر مومن مرد اور مومن عورتیں اپنے بارے میں اچھا گمان کرتے۔ یعنی تم اپنے متعلق سوچتے کہ اگر تم اپنی ماں، بہن یا بیٹی کے ساتھ اکیلے ہوتے تو کبھی یہ حرکت کرتے۔ تو تم نے یہ کیسے گمان کرلیا کہ صفوان (t) اپنی اور تمام مومنوں کی ماں کے ساتھ ایسا خیال بھی کرے گا، بلکہ کیا تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ کسی قافلے سے بچھڑی ہوئی کوئی خاتون مل جائے تو اس کے ساتھ ایسی خسیس حرکت کرو۔ یہ وہی شخص سوچ سکتا ہے جس میں ایمان نہ ہو اور انتہائی گندے ذہن کا مالک ہو، وہ دوسرے کو بھی ایسا ہی گندا سمجھے گا جیسا خود گندا ہے۔ پاک باز شخص دوسرے کے متعلق بھی پاک بازی ہی کا گمان کرے گا۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ ”بِاَنْفُسِهِمْ“ سے مراد دوسرے مومن ہیں، کیونکہ تمام مومن ایک جان کی مانند ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَاتَقْتُلُوْا اَنْفَسَکُمْ) [ النساء : 29 ] ”اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔“ اور فرمایا : (فَسَلِّمُوْا عَلیٰ اَنْفُسِکُم) [ النور : 61 ] ”اپنے آپ کو سلام کہو۔“ اور فرمایا : (وَلَاتَلْمِزُوْا اَنْفُسَکُم) [ الحجرات : 11 ] ”اور اپنے آپ پر عیب نہ لگاؤ۔“ مراد کسی دوسرے کو قتل کرنا اور ایک دوسرے کو سلام کہنا اور کسی دوسرے پر عیب لگانا ہے۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں اپنے بارے میں یعنی دوسرے مومنوں کے بارے میں اچھا گمان کرتے، کیونکہ وہ اور دوسرے مومن ایک ہی ہیں۔ نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ فِيْ تَرَاحُمِھِمْ وَ تَوَادِّھِمْ وَ تَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکٰی عُضْوًا تَدَاعٰی لَہُ سَاءِرُ جَسَدِہِ بالسَّھَرِ وَالْحُمّٰی) [ بخاري، الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم : 6011 ] ”تم مومنوں کو ایک دوسرے پر رحم، ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور ایک دوسرے پر شفقت کے معاملہ میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب اس کا ایک عضو بیمار ہو تو اس کی خاطر سارا جسم بخار اور بیداری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔“ وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ : صاف جھوٹ اور صریح بہتان اس لیے کہ جو کچھ ہوا اس میں شک کی گنجائش ہی نہ تھی، ام المومنین ؓ دن کے وقت عین دوپہر کی روشنی میں صفوان بن معطل ؓ کی سواری پر آرہی ہیں۔ صفوان مہار پکڑے ہوئے ہیں، پورا لشکر آپ کو دیکھ رہا ہے، رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس موجود ہیں۔ اگر (بالفرض) شک والی کوئی بات ہوتی تو وہ چھپ چھپا کر آتے، اکٹھے آنے کی جرأت نہ کرتے اور دن کے بجائے رات کو آتے، جیسا کہ یوسف ؑ کے بھائی رات کو آئے تھے، فرمایا : (وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ) [ یوسف : 16 ] ”اور وہ اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے آئے۔“ اس لیے یہ بات واضح تھی کہ ام المومنین ؓ پر جو الزام لگایا گیا صاف جھوٹ اور صریح بہتان ہے اور ایمان والے ہر مرد اور عورت کو یہی کہنا لازم ہے۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔

لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ۔۔ : ام المومنین عائشہ ؓ پر بہتان لگانے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دعویٰ پر چار گواہ کیوں نہیں لائے، تو جب وہ اس کے گواہ نہیں لائے تو وہی اللہ کے ہاں کامل جھوٹے ہیں۔ ابن عاشور نے اس کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے : ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص دیکھے بغیر کوئی خبر دے اسے لازم ہے کہ وہ مشاہدہ کرنے والے کا حوالہ دے اور وہ مشاہدہ کرنے والے اتنی تعداد میں ہونے ضروری ہیں کہ اس قسم کے واقعہ میں اتنی تعداد سے سچ کا یقین حاصل ہوجائے۔ (یہ تعداد زنا کے لیے کم از کم چار ہے) اب ان لوگوں نے جو اُمّ المومنین پر تہمت باندھی تو ان میں سے کسی نے بھی نہ دیکھا اور نہ اتنی تعداد میں دیکھنے والے پیش کیے جس سے کسی پر زنا کا جرم ثابت ہوتا ہے، بلکہ محض خیال اور گمان سے تہمت لگا دی، اس لیے اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ) [ بخاري، الأدب، باب : (یأیھا الذین آمنوا اجتنبوا۔۔) : 6066 ] ”(برے) گمان سے بچو، کیونکہ (برا) گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔“ ”فَاُولٰۗىِٕكَ“ کی تاکید ”هُمُ“ کے ساتھ کرنے اور خبر ”الْكٰذِبُوْنَ“ پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، جس سے مراد ان کے جھوٹا ہونے میں مبالغہ ہے۔ گویا وہ اتنے کامل جھوٹے ہیں کہ ان کے مقابلے میں کوئی اور جھوٹا ہے ہی نہیں۔ ”اللہ کے ہاں جھوٹے“ سے مقصود ان کے حقیقی جھوٹا ہونے کا بیان ہے، کیونکہ اللہ کا علم کبھی خلاف واقعہ نہیں ہوسکتا۔ رہا یہ مسئلہ کہ کوئی شخص اگر چار گواہ زنا کے ثبوت کے لیے پیش نہ کرسکے تو ممکن ہے وہ سچ ہی کہہ رہا ہو، مگر شرعی فیصلہ ظاہر کے مطابق ہوگا اور اسے جھوٹا قرار دے کر اس پر قذف کی حد نافذ کی جائے گی، تو اس آیت کا یہ مطلب نہیں (اگرچہ دوسرے دلائل سے یہ بات درست ہے)۔“ [ التحریر والتنویر ]
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا اس بات کی وجہ سے جس میں تم مشغول ہوئے، تم پر بہت بڑا عذابپہنچتا۔

وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ۔۔ : یعنی اگر دنیا میں تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا کہ اس نے تمہیں دنیا میں بیشمار نعمتیں دی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ گناہ پر فوراً مؤاخذہ کے بجائے وہ مہلت دیتا ہے اور اگر آخرت میں اس کا فضل نہ ہوتا کہ وہ توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے، تو تم جس کام (بہتان) میں مشغول ہوئے تھے اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب آلیتا۔
Ayah 24:15

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اسے ایک دوسرے سے اپنی زبانوں کے ساتھ لے رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کچھ علم نہیں اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ : ”تَلَقّٰی یَتَلَقّٰی“ (تفعل) کسی سے کوئی چیز لینا، جیسے فرمایا : (فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ) [ البقرۃ : 37 ] ”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے۔“ یعنی جب تم اس بہتان کو ایک دوسرے سے لے کر آگے بیان کرتے تھے کہ میں نے فلاں سے یوں سنا، فلاں نے یہ کہا وغیرہ۔ وَتَــقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ : یعنی یہ صرف تمہارے مونہوں کی بات تھی، نہ تمہارے دل میں اس کا یقین تھا نہ سننے والے کو یقین ہوسکتا تھا، جیسا کہ منافقین کے متعلق فرمایا : (يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِھِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِھِمْ) [ آل عمران : 167 ] ”اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔“ مَّا لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ : ”عِلْمٌ“ پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی تم اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کچھ علم نہ تھا۔ وَّتَحْسَبُوْنَهٗ هَيِّنًا : تم اسے معمولی سمجھتے تھے، جس کی دلیل یہ ہے کہ تم اسے ایک دوسرے سے لے کر آگے بیان کرتے تھے، یا کم از کم اس پر خاموش رہتے تھے، کیونکہ اگر تم اسے معمولی نہ سمجھتے تو سختی سے اس کا انکار کرتے اور ایسی بات کرنے والے کو ٹوکتے۔ وَّهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمٌ : حالانکہ بہتان کسی پر بھی ہو، اللہ کے ہاں بہت بڑا گناہ ہے، تو جب وہ ام المومنین پر ہو، جو خاتم الانبیاء، سید المرسلین اور سید ولد آدم ﷺ کی بیوی ہے تو کتنا بڑا گناہ ہوگا۔ رازی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں تین گناہوں کا مرتکب قرار دیا اور اس پر عذاب عظیم کے خطرے سے آگاہ فرمایا۔ پہلا گناہ یہ کہ ایک دوسرے سے سن کر اسے پھیلانا برائی کی اشاعت ہے، جو بہت بڑا گناہ ہے۔ دوسرا گناہ وہ بات کرنا ہے جس کا علم نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہی بات کرنی چاہیے جس کا علم ہو، ایسی بات کرنا جس کے سچا ہونے کا علم نہ ہو اسی طرح حرام ہے جیسے وہ بات کرنا حرام ہے جس کے جھوٹا ہونے کا علم ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ) [ بني إسرائیل : 36 ] ”اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔“ اور نبی ﷺ نے فرمایا : (کَفٰی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ) [ مسلم، المقدمۃ : 5 ] ”آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر بات جو سنے آگے بیان کر دے۔“ تیسرا گناہ یہ کہ وہ اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ 3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے کسی گناہ کو معمولی سمجھنے سے وہ معمولی نہیں ہوتا، بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ اس کی دنیا و آخرت کی بربادی کا باعث بن جائے، جب وہ اسے معمولی سمجھ کر بار بار اس کا ارتکاب کرتا رہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بالْکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَان اللّٰہِ لَا یُلْقِيْ لَھَا بَالًا یَرْفَعُ اللّٰہُ بِھَا دَرَجَاتٍ وَ إِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بالْکَلِمَۃِ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ لَا یُلْقِيْ لَھَا بَالًا یَھْوِيْ بِھَا فِيْ جَھَنَّمَ) [ بخاري، الرقاق، باب حفظ اللسان : 6478 ] ”بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی بات کرتا ہے، جس کی طرف وہ خیال بھی نہیں کرتا، لیکن اللہ تعالیٰ اس بات کے ساتھ اسے بہت سے درجے بلند کردیتا ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی بات کرتا ہے، جس کی طرف وہ خیال بھی نہیں کرتا، لیکن اس کے ساتھ وہ جہنم میں گر جاتا ہے۔“
Ayah 24:16

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو کہا ہمارا حق نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ کلام کریں، تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔

وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ۔۔ : اس سے پہلے آیت (13) میں یہ ادب سکھایا تھا کہ جب اچھے لوگوں کے بارے میں کوئی نامناسب بات سنی جائے تو ان کے متعلق اچھا گمان رکھنا لازم ہے۔ اب اس کے متعلق دوسرا ادب بیان فرمایا کہ اگر کوشش کے باوجود کوئی وسوسہ یا خیال دل میں آجائے تو اسے زبان پر ہرگز نہ لائے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : (إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِيْ عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَھَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِہِ أَوْ تَکَلَّمْ) [ بخاري، الأیمان والنذور، باب إذا حنث ناسیا۔۔ : 6664، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ اپنے دل میں کریں، جب تک وہ اسے قول یا عمل میں نہ لائیں۔“ یعنی جب تم نے یہ بات سنی تو بجائے اس کے کہ اس پر خاموش رہتے، یا اس پر یقین کرتے، یا اسے آگے پھیلاتے، تم نے سنتے ہی یہ کیوں نہ کہا کہ ہمارا حق نہیں کہ ہم یہ بات زبان پر لائیں، بلکہ ایسی بات سے اپنی شدید نفرت کے اظہار کے لیے ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا : (ڰ سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ) تو پاک ہے کہ تیرے نبی کی بیوی بدکاری کے ارتکاب سے آلودہ ہو، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ نبی کی بیوی بدکار ہو، وہ کافر تو ہوسکتی ہے، بدکار نہیں، کیونکہ انبیاء کفار کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ جو چیز کفار کے نزدیک قابل نفرت ہو وہ اس سے پاک ہوں اور ظاہر ہے کہ عورت کی بدکاری ان کے نزدیک بھی قابل نفرت ہے۔
Ayah 24:17

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے اس سے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو۔

يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖٓ اَبَدًا۔۔ :”يَعِظُكُمُ“ کے ضمن میں ”یَنْھَاکُمْ“ کا معنی موجود ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے منع کرتا ہے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو، یعنی یہ کام ایمان کے منافی ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو۔
Ayah 24:18

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

ۚوَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ۔۔ : آیات کو کھول کر بیان کرنے کے ساتھ علیم و حکیم کی مناسبت ظاہر ہے۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بیشک جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں بےحیائی پھیلے جو ایمان لائے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ۔۔ : ”الْفَاحِشَةُ“ انتہائی برے کام کو کہتے ہیں، یہ لفظ زنا پر بھی بولا جاتا ہے اور اس کی تہمت اور چرچے پر بھی۔ یعنی جو لوگ ایمان والوں میں بےحیائی اور بدکاری کا تذکرہ پھیلانا چاہتے ہیں اور پاک دامن مسلمانوں پر تہمتیں تراش کر مجلسوں میں ان کا چرچا کرتے ہیں، جس کے سننے سے زنا سے نفرت ختم ہوتی ہے، بلکہ ایسی باتوں میں دلچسپی کے نتیجے میں یہ برائی مزید پھیلتی ہے اور اس کا ذکر کرنے والے اور اسے خاموشی سے سن کر تہمت تراشنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے، عفیف مسلمانوں کے گوشت سے لذت اٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے دنیا میں عذاب الیم ہے کہ تہمت لگانے والوں کو درّے پڑتے ہیں اور وہ مردود الشہادہ اور فاسق ٹھہرتے اور ان کا اور ان کے مجلس نشینوں کا نفاق اور فسق مسلمانوں کے سامنے بےنقاب ہوجاتا ہے، جس سے وہ مسلم معاشرے میں بےاعتبار ٹھہرتے ہیں اور آخرت کے عذاب کے المناک ہونے کی کوئی حد ہی نہیں۔ 3 آج کل تمام دنیا کے کفار اور ان کے مددگار مسلم حکمرانوں کی پوری کوشش ہے کہ ریڈیو، اخبارات، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، سکول و کالج کی تعلیم، غرض ہر طریقے سے مسلم معاشروں میں زنا اور اس کا تذکرہ عام ہو۔ ایک آدھ ملک کے سوا کسی ملک میں نہ زنا کی حد نافذ ہے نہ بہتان کی۔ نتیجہ اس کا دشمنوں کے خوف، قتل و غارت، بدامنی، وباؤں اور نئی سے نئی بیماریوں کے عذاب الیم کی صورت میں سب کے سامنے ہے اور قیامت کا عذاب الیم ابھی باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن : یعنی زنا کی حد اور بہتان کی حد جو اللہ نے مقرر فرمائی ہے اور ایمان والوں میں بےحیائی پھیلانے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں جو عذاب الیم رکھا ہے، سو اس کی وجہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ ہر بات جانتا ہے“ ، اسے ان گناہوں کے خوفناک نتائج کا بھی علم ہے اور یہ بھی کہ انھیں کیسے روکا جاسکتا ہے۔ ”اور تم نہیں جانتے“ لہٰذا تم اپنی عقل سے جو بھی قاعدہ و قانون مقرر کرو گے وہ تمہاری لاعلمی کی وجہ سے کبھی بھی مسلمانوں کی پاک دامنی اور ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کا ضامن نہیں بن سکتا۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ یقینا اللہ بےحد مہربان، نہایت رحم والا ہے (تو تہمت لگانے والوں پر فوراً عذاب آجاتا)۔

وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ۔۔ : اس کا جواب محذوف ہے ”تو تمہیں توبہ کا موقع ہی نہ ملتا اور فوراً اللہ کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لیتا، یہ محض اس کا فضل و رحمت اور اس کا رؤف و رحیم ہونا ہے کہ اس نے تمہیں توبہ کا موقع دیا اور حد کے ذریعے سے تمہیں پاک کرنے کا اہتمام فرمایا۔“
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو اور جو شیطان کے قدموں کے پیچھے چلے تو وہ تو بےحیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۔۔ : ”خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ“ کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (168) اور ”بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَر“ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نحل کی آیت (90) پہلے فرمایا : (لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ) پھر ”الشَّيْطٰنِ“ کے لیے ضمیر لا کر ”وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوَاتِہِ“ کہنے کے بجائے دوبارہ نام لے کر فرمایا : (ۭ وَمَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ) مراد توجہ دلانا ہے کہ آدمی سوچے کہ میں کس کی پیروی کر رہا ہوں۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ۔۔ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی شخص کسی طرح بھی اپنے آپ کو پاک نہیں رکھ سکتا، نہ پاک کرسکتا ہے۔ اگر انسان کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو کوئی انسان بھی پاک نہ رہ سکے، کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر اسے گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ”فحشاء“ اور ”منکر“ کو خوش نما بنا کر اس کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں، نفس امارہ ان کی طرف مائل ہے اور ان کا حکم دیتا ہے۔ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے، یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہی ہے جس کی بدولت کوئی شخص گناہوں سے پاک رہتا ہے، یا گناہ کے بعد توبہ کے ساتھ پاک ہوتا ہے۔ اس مفہوم کی آیات کے لیے دیکھیے سورة نساء (16، 17) اور سورة نجم (32)۔ 3 اس مقام پر ان الفاظ سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ واقعۂ افک میں ملوث ہونے سے بچ گئے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے جو ان پر ہوا، ورنہ وہ بھی اسی رو میں بہ جاتے جس میں بعض مسلمان بہ گئے تھے۔ اس لیے شیطان کے مکر و فریب سے بچنے کے لیے ایک تو ہر وقت اللہ سے مدد طلب کرتے رہو اور اس کی طرف رجوع کرتے رہو اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہوگئے ان کو زیادہ ہدف ملامت نہ بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے ان کی اصلاح کرو۔ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ : یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے، مگر اس کی مشیت اندھی نہیں، بلکہ وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ اپنے اس علم ہی کی وجہ سے جسے پاک کرنے کے لائق جانتا ہے پاک کردیتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ) [ القصص : 56 ] ”بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھالیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخشے اور اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ۔۔ : ”لَا يَاْتَلِ“ ”أَلِیَّۃٌ“ (بروزن فَعِیْلَۃٌ، بمعنی قسم) میں سے باب افتعال ”اِءْتَلٰی یَأْتَلِیْ“ میں سے نہی غائب ہے۔ سورة بقرہ کی آیت (226) : (لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ) میں ”يُؤْلُوْنَ“ باب افعال میں سے ہے۔ سورة نور کی آیت (11) میں صحیح بخاری کی حدیث (4750) گزر چکی ہے کہ عائشہ ؓ پر بہتان لگانے والوں میں مسطح بن اثاثہ ؓ بھی تھے، جو ابوبکر ؓ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے تھے (بعض نے انھیں خالہ زاد بھی کہا ہے) ، ابوبکر ؓ نے ان سے قرابت اور ان کے فقر کی وجہ سے ان کا وظیفہ مقرر کر رکھا تھا، جب مسطح نے یہ بات کی تو ابوبکر ؓ نے وہ وظیفہ بند کردیا، لیکن جب یہ آیت اتری اور اس میں یہ الفاظ آئے : (اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ) ”کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخشے ؟“ تو ابوبکر ؓ نے کہا، کیونکہ نہیں، میں تو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔ چناچہ انھوں نے وہ وظیفہ دوبارہ جاری کردیا اور کہا، میں اس میں کبھی کمی نہیں کروں گا۔ 3 پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے تو اگر اہل افک اس گناہ میں مبتلا ہوئے ہیں اور تم اس سے محفوظ رہے ہو تو اس میں تمہارا کچھ کمال نہیں، یہ محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اس لیے جب بہتان لگانے والے تائب ہوچکے، انھیں اس کی سزا بھی مل چکی تو ان کی غلطی ہی پر نظر نہ رکھو، بلکہ ان سے حسن سلوک کے اسباب پر بھی نگاہ رکھو، جن میں سے ہر سبب کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں برتری اور وسعت دی ہے اس میں سے انھیں بھی دیتے رہو۔ ان حسن سلوک کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت دار ہونا ہے، دوسرا مسکین اور تیسرا مہاجر فی سبیل اللہ ہونا ہے۔ تینوں سبب جمع ہیں تو ان کا حق انھیں بالاولیٰ دینا چاہیے۔ 3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ مرتد ہونے کے سوا دوسرے گناہوں سے کسی شخص کے اعمال صالحہ بالکل ختم نہیں ہوجاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے کے باوجود اہل افک میں سے مہاجرین کی ہجرت کی قدر افزائی فرمائی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا :”وَلْيَعْفُوْا“ ”عَفَا یَعْفُوْ“ کا معنی مٹانا ہے، کہا جاتا ہے : ”عَفَتِ الرِّیْحُ الْأَثَرَ“ ”ہوا نے قدموں کا نشان مٹا دیا۔“ یعنی ان کی لغزش کا خیال دل سے مٹا دیں اور اس پر پردہ ڈال دیں۔ ”وَلْيَصْفَحُوْا“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ ”صَفْحَۃُ الْعُنُقِ“ (گردن کا کنارہ) سے مشتق ہے، یعنی ان کے برے سلوک سے اس طرح درگزر کرو جیسے تم نے ان سے گردن کا کنارا پھیرلیا ہے۔ عفو و درگزر کا یہ حکم سورة آل عمران (134) ، نساء (149) ، حجر (85) ، شوریٰ (43) اور دیگر کئی آیات میں آیا ہے۔ (اضواء البیان) اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ : اس کی شان نزول اوپر بیان ہوچکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ گار مسلم کو معاف کرنا اور اس سے درگزر کرنا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ تم بخشو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے گا، تم درگزر کر وگے تو اللہ تعالیٰ تم سے درگزر فرمائے گا، جیسا عمل کرو گے ویسی جزا پاؤ گے۔ 3 یہ آیت دلیل ہے کہ نیکی نہ کرنے کی قسم کھانا جائز نہیں، ایسی قسم کا کفارہ دے کر وہ نیکی کر لینی چاہیے۔ اسی طرح اگر قسم کا پورا نہ کرنا بہتر ہو تو اس کا بھی کفارہ دے کر بہتر کام کرنا چاہیے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَأَی غَیْرَھَا خَیْرًا مِّنْھَا فَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَلْیَفْعَلْ) [ ترمذي، النذور والأیمان، باب ما جاء في الکفارۃ قبل الحنث : 1530، و قال الألباني صحیح ]”جو شخص کسی کام پر قسم کھائے، پھر اس کے علاوہ کو بہتر سمجھے تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور (بہتر کام) کرلے۔“
Ayah 24:23

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو پاک دامن، بیخبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ۔۔ : ”الْغٰفِلٰتِ“ (بےخبر) سے مراد وہ سیدھی سادی شریف عورتیں ہیں جن کے دل پاک ہیں اور ان کے دل میں بدچلنی کا بھولے سے بھی خیال نہیں آتا، ان میں سے کسی پر تہمت لگانا کبیرہ گناہ اور لعنت کا باعث ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ ، قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَمَا ھُنَّ ؟ قَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَ أَکْلُ الرِّبَا وَ أَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّيْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَ قَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ) [ بخاري، الحدود، باب رمي المحصنات : 6857 ] ”سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو۔“ صحابہ نے پوچھا : ”یا رسول اللہ ! وہ ہلاک کرنے والی چیزیں کیا ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کے ساتھ شرک، جادو، اس جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن بھاگ جانا اور پاک دامن مومن و غافل عورتوں پر تہمت لگانا۔“ یہاں جب عام پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر تہمت لگانا لعنت کا باعث ہے تو امہات المومنین خصوصاً عائشہ ؓ کے بارے میں بدزبانی کرنے والے کا کیا حال ہوگا، جن کی براءت خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی۔ اب ان پر تہمت لگانے والا صرف تہمت کا مجرم نہیں بلکہ قرآن کو جھٹلانے کا بھی مجرم ہے اور قرآن کو جھٹلانے والا کافر ہے۔ 3 یہاں پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر بہتان کی جتنی شدید وعید آئی ہے وہ عموماً کفار ہی کے لیے ہے کہ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے، جو جہنم ہی ہوسکتا ہے اور قیامت کے دن ان کے اعضا ان کے خلاف گواہی دیں گے، جو کفار کے ساتھ کیا جانے والا معاملہ ہے، جیسا کہ سورة حٰم سجدہ (19 تا 23) میں ہے، اس لیے اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ ”اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ۔۔“ سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی ہیں اور ”الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ“ سے مراد امہات المومنین خصوصاً عائشہ صدیقہ ؓ ہیں۔ ”اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ“ سے لے کر تمام آیات کے تسلسل سے یہ معنی درست معلوم ہوتا ہے، مگر آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے (کہ جو لوگ بھی پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، وہ عورتیں جو بھی ہوں، ان کے لیے یہ وعید ہے) اگر مراد عام ہو کہ ہر تہمت لگانے والے کے لیے یہ وعید ہے تو اس سے مراد وہ تہمت لگانے والے ہوں گے جو تہمت لگانے کو حلال سمجھتے ہیں، یا جنھوں نے توبہ نہیں کی، کیونکہ اس سے پہلی آیات میں توبہ کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کا اور ان کی سابقہ نیکیاں پیش نظر رکھنے کا حکم ہے۔ اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ قذف سے توبہ نہ کرنے والوں کی موت کفر پر ہونے کا خطرہ ہے۔ اللہ سب مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ 3 یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ یہ ساری وعید پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر بہتان کی آئی ہے، مردوں پر بہتان کا ذکر کیوں نہیں فرمایا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ”الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ“ پر بہتان عموماً کسی مومن مرد کے ساتھ ہی لگایا جائے گا، اس لیے اسے الگ سے ذکر نہیں کیا گیا۔
Ayah 24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔

يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ۔۔ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یٰسٓ (65) اور سورة حٰم السجدہ (19 تا 21) یعنی ان کے یہ اعضا ان کے خلاف تہمت لگانے اور دوسرے برے اعمال کی گواہی دیں گے۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں : (کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَضَحِکَ فَقَالَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مِمَّا أَضْحَکُ ؟ قَالَ قُلْنَا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ مِنْ مُخَاطَبَۃِ الْعَبْدِ رَبَّہُ ، یَقُوْلُ یَا رَبِّ ! أَلَمْ تُجِرْنِيْ مِنَ الظُّلْمِ ؟ قَالَ یَقُوْلُ بَلٰی، قَالَ فَیَقُوْلُ فَإِنِّيْ لَا أُجِیْزُ عَلٰی نَفْسِيْ إِلَّا شَاھِدًا مِنِّيْ ، قَالَ فَیَقُوْلُ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ شَھِیْدًا، وَ بالْکِرَامِ الْکَاتِبِیْنَ شُھُوْدًا، قَالَ : فَیُخْتَمُ عَلٰی فِیْہِ ، فَیُقَالُ لِأَرْکَانِہِ انْطِقِيْ ، قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِہِ ، قَالَ ثُمَّ یُخَلّٰی بَیْنَہُ وَ بَیْنَ الْکَلَامِ ، قَالَ فَیَقُوْلُ بُعْدًا لَکُنَّ وَ سُحْقًا، فَعَنْکُنَّ کُنْتُ أُنَاضِلُ) [ مسلم، الزھد، باب الدنیا سجن للمؤمن۔۔ : 2969 ] ”ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ ہنسے اور فرمایا : ”کیا تم جانتے ہو میں کس بات پر ہنسا ہوں ؟“ ہم نے کہا : ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ فرمایا : ”بندے کی اپنے رب کے ساتھ گفتگو پر، وہ کہے گا : ”اے میرے رب ! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی ؟“ اللہ فرمائے گا : ”کیوں نہیں !“ تو وہ کہے گا : ”پھر میں اپنی ذات پر اپنے سوا کسی گواہ کو نہیں مانتا۔“ اللہ فرمائے گا : ”آج تجھ پر تو خود ہی کافی گواہ ہے اور کراماً کاتبین گواہ کافی ہیں۔“ چناچہ اس کے منہ پر مہر کردی جائے گی اور اس کے اعضا سے کہا جائے گا، بولو ! چناچہ وہ بول کر اس کے اعمال بتائیں گے۔ پھر اسے بات کرنے کی اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے اعضا سے کہے گا : ”تمہارے لیے دوری اور ہلاکت ہو، میں تمہاری طرف ہی سے تو دفاع کر رہا تھا۔“ 3 زبان اگرچہ دنیا میں بھی بولتی ہے مگر یہاں بندے کی مرضی کے مطابق بولتی ہے، کیونکہ اسے اللہ کا حکم یہی ہے، وہاں اللہ کی مرضی کے مطابق اصل حقیقت کے مطابق بولے گی، کیونکہ اسے یہی حکم ہوگا۔ 3 اگرچہ جسم کے اور اعضا بھی بولیں گے، جیسا کہ سورة حٰم السجدہ (20، 21) میں چمڑوں کے بولنے کا ذکر ہے، تاہم یہاں زبان، ہاتھ اور پاؤں کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ ان اعضا کا تہمت تراشی میں زیادہ دخل ہے، زبان کی بات، ہاتھوں کے اشارے اور پاؤں کی دوڑ دھوپ تہمت کی تکمیل کرتی ہے۔ 3 زبان گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جس رب کے حکم سے اس میں کلام کی قوت پیدا ہوئی ہے اسی کے حکم سے جسم کے ہر حصے میں یہ قوت پیدا ہوجائے گی۔ اس لیے ہاتھ، پاؤں اور چمڑوں کے کلام پر تعجب نہیں ہونا چاہیے، فرمایا : (اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) [ یٰسٓ : 82 ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہوجا“ تو وہ ہوجاتی ہے۔“ آج کل پلاسٹک کی سی ڈی اور کیسٹ سے آواز نکلتی ہے اور کسی کو تعجب نہیں ہوتا۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ انھیں ان کا صحیح بدلہ پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ بیشک اللہ ہی حق ہے، جو ظاہر کرنے والا ہے۔

يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ۔۔ : ”دِيْنَهُمُ“ سے مراد جزا ہے، کیونکہ وہی پوری دی جائے گی۔ دوسری جگہ فرمایا : (ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى) [ النجم : 41 ] ”پھر اسے اس کا بدلا دیا جائے گا، پورا بدلا۔“ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ : اللہ تعالیٰ کی صفت ”الْحَقُّ“ کے دو معنی ہیں، ایک معنی ”ثابت“ ہے، کیونکہ اس کی ذات ہمیشہ سے ہے، نہ اس پر پہلے عدم ہے اور نہ اس پر کبھی فنا ہے، دوسری کسی چیز میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے۔ لفظ ”اَللّٰه“ اور اس کی خبر ”الْحَقُّ“ پر الف لام آنے سے اور ان دونوں کے درمیان ”ھُوْ“ لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی حق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، باقی سب باطل ہیں، کیونکہ حق کے مقابلے میں باطل ہے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَصْدَقُ کَلِمَۃٍ قَالَھَا الشَّاعِرُ کَلِمَۃُ لَبِیْدٍ : أَلَا کُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ) [ بخاري، مناقب الأنصار، باب أیام الجاھلیۃ : 3841 ] ”سب سے سچی بات جو شاعر نے کہی ہے، وہ لبید کی بات ہے کہ سن لو ! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“ ”حق“ کا دوسرا معنی عدل و انصاف ہے، مراد ”ذُو الْحَقِّ أَيْ ذو الْعَدْلِ“ ہے، یعنی عدل و انصاف والا ہے، جیسے ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ بول کر مراد ”ذُوالْعَدْلِ“ لیتے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بہتان لگانے والوں کو ان کا صحیح بدلا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو حق فیصلہ کرنے والا ہے، سچ کو سچ ظاہر کرنے والا ہے۔ کیونکہ دوسرے حاکم حق فیصلہ کریں بھی تو اس میں خطا اور کوتاہی کا امکان رہتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی ایک ایسی ذات ہے جس کا ہر فیصلہ حق ہے۔ 3 اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ”اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ۔۔“ سے مراد کفار و منافقین ہی ہیں، کیونکہ مومن کو تو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے ”الْحَقُّ الْمُبِيْنُ ‘ ہونے کا علم ہے، اس لیے اگر اس سے بہتان کی غلطی سرزد ہوجائے تو وہ اللہ کے خوف سے توبہ کرلیتا ہے، جبکہ کافر اور منافق اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے بہتان باندھنے پر جمے رہتے ہیں، انھیں قیامت کو اللہ تعالیٰ کے ”الْحَقُّ الْمُبِيْنُ“ ہونے کا علم ہوگا۔