Ayah 24:26اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۔۔ : اس آیت میں یہ نفسیاتی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ خبیث (گندے) مردوں کا نبھاؤ خبیث عورتوں سے اور پاکیزہ مردوں کا نبھاؤ پاکیزہ عورتوں ہی سے ہوسکتا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک مرد خود تو بڑا پاکیزہ ہے مگر وہ ایک خبیث عورت سے برسوں نبھاؤ کرتا چلا جائے۔ مقصود عائشہ ؓ کی پاکیزگی کا بیان ہے کہ ان میں خباثت کا ادنیٰ شائبہ بھی ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ نبی کریم ﷺ جو ازل سے ابد تک پاکیزہ ہستیوں کے سردار تھے، ان کے ساتھ نہایت محبت و اطمینان سے برسوں نبھاؤ کرتے چلے جاتے ؟ بعض مفسرین نے ”اَلْخَبِيْثٰتُ“ سے مراد گندے اقوال و افعال اور ”َالطَّيِّبٰتُ“ سے مراد پاکیزہ اقوال و افعال لیے ہیں، یعنی کوئی آدمی جیسا خود ہوتا ہے ویسے ہی وہ اعمال کرتا ہے اور ویسے ہی اقوال زبان پر لاتا ہے۔ اب چونکہ عائشہ ؓ پاک تھیں، ان کی سیرت اور ان کے اقوال و افعال بھی پاک تھے اور یہ منافق خود گندے تھے، اس لیے ان سے ایسے ہی گندے اقوال و افعال کی توقع تھی۔
اُولٰۗىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ ۭ : یعنی طیّب مرد اور طیّب عورتیں ان باتوں سے صاف بری کیے ہوئے ہیں جو خبیث مرد اور خبیث عورتیں کہتے ہیں۔ ”مُبَرَّءُوْنَ“ اسم مفعول کا صیغہ ہے ”بری کیے ہوئے۔“ اس میں ام المومنین عائشہ ؓ کی واشگاف الفاظ میں براءت کا ذکر ہے۔ یعنی اہل ایمان میں سے جو یہ سنتا ہے وہ ”سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ“ کہہ کر انھیں پاک قرار دیتا ہے اور رب تعالیٰ بھی ”ۧاِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ عُصْبَة“ کے ساتھ ان کی براءت کا اعلان فرماتے ہیں۔ ”مِمَّا يَقُوْلُوْنَ“ یعنی بہتان تراشوں کی صرف منہ کی باتیں ہیں، ان کی حقیقت کچھ نہیں۔
لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ : ”مَّغْفِرَةٌ“ پر تنوین تعظیم کی وجہ سے ”بڑی بخشش“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی خبیث لوگوں کے برا کہنے سے وہ برے نہیں ہوجاتے، بلکہ ان کی تہمتوں کی وجہ سے انھیں جو رنج پہنچتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی خطاؤں اور لغزشوں کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہے اور مفسد لوگ جس قدر انھیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں اسی قدر انھیں عزت کی روزی ملتی ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ ، عائشہ، ان کے والدین اور صفوان ؓ سب کے لیے جنت کی بشارت ہے، جو حقیقی رزق کریم ہے، کیونکہ اس بہتان سے ان سب کی عزت و آبرو پر حملہ ہوا اور سب کو نہایت رنج پہنچا۔
Ayah 24:27يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا۔۔ : سورت کے شروع سے زنا اور بہتان کی حد اور ان کی مذمت کا بیان آ رہا ہے، اب ان احکام کا ذکر شروع ہوتا ہے جن سے مردوں اور عورتوں کے ایسے میل جول کی روک تھام ہوتی ہے جو زنا اور بہتان کا سبب بنتا ہے۔ ان احکام میں گھروں میں داخلے کی اجازت، نظر کی حفاظت، پردے اور نکاح کی تاکید اور قحبہ گری سے ممانعت جیسے آداب شامل ہیں۔
غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ : یعنی صرف اپنے گھروں میں داخلے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں، جہاں آدمی اکیلا رہتا ہو، یا بیوی کے ساتھ رہتا ہو۔ اگرچہ افضل یہی ہے کہ وہاں داخلے سے پہلے بھی کسی طرح گھر والوں کو اپنی آمد سے آگاہ کردیا جائے، ممکن ہے وہ ایسی حالت میں ہوں جس میں خاوند کا دیکھنا انھیں پسند نہ ہو۔ چناچہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب بیان کرتی ہیں : (کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَۃٍ فَانْتَھٰی إِلَی الْبَابِ تَنَحْنَحَ وَ بَزَقَ کَرَاھَۃَ أَنْ یَّھْجُمَ مِنَّا عَلٰی أَمْرٍ یَکْرَھُہُ) [ ابن جریر : 26131 ] ”عبد اللہ (t) جب کسی کام سے فارغ ہو کر گھر آتے تو دروازے پر آ کر کھانستے اور تھوکتے کہ کہیں ان کی نظر ہماری کسی ایسی چیز پر نہ پڑجائے جو انھیں ناپسند ہو۔“ ابن کثیر نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا أَطَالَ أَحَدُکُمُ الْغَیْبَۃَ فَلَا یَطْرُقْ أَھْلَہُ لَیْلًا) [ بخاري، النکاح، باب لا یطرق أھلہ۔۔ : 5244 ] ”جب تم میں سے کوئی شخص زیادہ عرصہ گھر سے غائب رہے تو گھر والوں کے پاس رات کے وقت نہ آئے۔“ مسلم میں یہ الفاظ زائد ہیں : (نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ أَنْ یَّطْرُقَ الرَّجُلُ أَھْلَہُ لَیْلًا یَتَخَوَّنُھُمْ أَوْ یَلْتَمِسُ عَثَرَاتِھِمْ) [ مسلم، الإمارۃ، باب کراھیۃ الطروق۔۔ : 184؍715، قبل ح : 1929 ] ”رسول اللہ ﷺ نے (زیادہ عرصہ گھر سے غائب رہنے والے شخص کو) منع فرمایا کہ وہ گھر والوں کی خیانت یا ان کی غلطی کی تلاش کے لیے رات کو (اچانک) ان کے پاس آئے۔“
”حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا“ کا لفظی ترجمہ ہے ”یہاں تک کہ تم انس حاصل کرلو۔“ اس لیے اس میں نہ صرف اجازت حاصل کرنے کا مفہوم شامل ہے، بلکہ یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ تم معلوم کرلو کہ گھر میں کوئی ہے بھی یا نہیں اور ہے تو اسے تمہارا آنا ناگوار تو نہیں ہے ؟
3 اجازت مانگنے کا طریقہ، بنو عامر کا ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، کہنے لگا : ”کیا میں اندر آجاؤں ؟“ نبی ﷺ نے اپنے خادم سے کہا : ”اس کے پاس جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ وہ اس طرح کہے : (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَ أَدْخُلُ ؟) ”السلام علیکم، کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟“ اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا : ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَ أَدْخُلُ ؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی اور وہ داخل ہوگیا۔“ [ أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان ؟ : 5177 ]
کَلَدہ بن حنبل ؓ کہتے ہیں : ”میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور آپ کے پاس سیدھا چلا آیا، میں نے نہ سلام کہا (اور نہ اجازت مانگی) ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : (اِرْجِعْ فَقُلْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان ؟ : 5176، صححہ الألباني ] ”واپس جاؤ اور کہو السلام علیکم۔“
3 اجازت زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ مانگے، اگر اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔ [ دیکھیے بخاري، الاستئذان، باب التسلیم و الاستئذان ثلاثا : 6245، عن أبي موسیٰ ؓ ]
3 دروازہ کھٹکھٹانے یا سلام کہنے پر اگر گھر والے پوچھیں، کون ہے تو اپنا نام بتائے۔ جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس ایک قرض کے سلسلے میں حاضر ہوا، جو میرے والد کے ذمے تھا، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ ﷺ نے پوچھا : (مَنْ ذَا ؟ فَقُلْتُ أَنَا، فَقَالَ أَنَا أَنَا)”کون ہے ؟“ میں نے کہا : ”میں ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”میں، میں۔“ گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔ [ بخاري، الاستئذان، باب إذا قال من ذا ؟ فقال أنا : 6250 ]
3 ہزیل ؓ فرماتے ہیں، ایک آدمی آیا اور نبی ﷺ کے دروازے کے سامنے کھڑا ہو کر اجازت مانگنے لگا، تو نبی ﷺ نے فرمایا : (ھٰکَذَا عَنْکَ أَوْ ھٰکَذَا، فَإِنَّمَا الْاِسْتِءْذَانُ مِنَ النَّظَرِ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان ؟ : 5174، صححہ الألباني ] ”اس طرف ہوجاؤ یا اس طرف، کیونکہ دیکھنے ہی کی وجہ سے اجازت مانگی جاتی ہے۔“
3 ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَوِ اطَّلَعَ فِيْ بَیْتِکَ أَحَدٌ وَ لَمْ تَأْذَنْ لَہُ خَذَفْتَہُ بِحَصَاۃٍ فَفَقَأْتَ عَیْنَہُ مَا کَانَ عَلَیْکَ مِنْ جُنَاحٍ) [ بخاري، الدیات، باب من أخذ حقہ۔۔ : 6888 ] ”اگر کوئی آدمی تیرے گھر میں جھانکے، جبکہ تو نے اجازت نہ دی ہو اور تو کنکری پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تجھ پر کچھ گناہ نہ ہوگا۔“ ایسی صورت میں آنکھ پھوڑنے پر نہ قصاص ہے، نہ دیت۔
ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ۔۔ : یعنی ان آداب میں دونوں طرف کا فائدہ ہے، اجازت مانگنے والے کا بھی اور گھر والوں کا بھی۔ (ابن کثیر) ”لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ“ تاکہ تم نصیحت حاصل کرو کہ جس طرح تمہیں دوسروں کا بلا اجازت آ گھسنا برا محسوس ہوتا ہے، اسی طرح دوسروں کو تمہارا بلا اجازت در آنا بھی برا محسوس ہوتا ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے اجازت مانگنے کے حکم پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔ (الا ما شاء اللہ) رشتہ داروں، ہمسایوں بلکہ اجنبیوں تک کے گھروں میں آنے جانے کے لیے اجازت کی ضرورت ہی نہیں رہی، اس پر مزید عام بےپردگی اور بےلباسی سے بدتر لباس ہے، جس سے مسلم معاشرے میں بےحیائی کا سیلاب آ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بدکاری، بدگمانی، تہمت تراشی، رقابت، قتل و غارت اور دوسری برائیاں پھیل رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی حدود اور اپنے احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
Ayah 24:28فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْهَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا : یعنی اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو اس سے تمہارے لیے بغیر اجازت وہاں داخلہ جائز نہیں ہوجاتا۔ ہر آدمی جس طرح اپنی ذاتی حالتوں میں سے بعض حالتوں پر کسی کا مطلع ہونا پسند نہیں کرتا اسی طرح وہ اپنی بعض چیزوں پر بھی کسی کے مطلع ہونے کو پسند نہیں کرتا اور عین ممکن ہے کہ بلا اجازت گھس جانے سے تم پر چوری یا خیانت کا الزام لگ جائے اور جھگڑا پیدا ہوجائے۔ ہاں، اگر اس نے اجازت دے رکھی ہو کہ میں گھر میں نہ ہوں تو تم آجاؤ تو وہاں جانے میں کوئی حرج نہیں۔
وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا : یعنی اگر تمہیں واپس جانے کے لیے کہا جائے تو واپس ہوجاؤ، نہ غصہ کرو، نہ کبر کی وجہ سے تنگی یا بےعزتی محسوس کرو، کیونکہ گھر والے نے تمہارا کوئی ایسا حق نہیں روکا جو اس پر واجب ہو، وہ اجازت کا اختیار رکھتا ہے، چاہے دے یا نہ دے، لوگوں کے اپنے اپنے حالات ہوتے ہیں، کسی کو کیا خبر کہ کوئی کس حال میں ہے۔
هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ : یعنی تمہارا واپس آجانا تمہارے لیے زیادہ عزت اور پاکیزگی کا باعث ہے، کیونکہ اس طرح تم کسی کے دروازے پر کھڑے رہنے کی بےقدری سے بچ جاؤ گے، واپس چلے آنے سے صاحب خانہ کے دل میں تمہاری حیا ہوگی اور سب سے بڑھ کر اللہ کی طرف سے اجر ہے۔ rnۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ : اس میں جاسوسی یا کسی بری نیت سے کسی گھر میں داخل ہونے پر وعید ہے۔
3 طبری نے بعض مہاجرین سے نقل کیا ہے کہ میری ساری عمر یہ آرزو رہی ہے کہ میں کسی کے گھر جاؤں اور اندر سے مجھے یہ جواب ملے کہ واپس چلے جاؤ اور میں واپس چلا آؤں، تاکہ مجھے اس آیت پر کم از کم ایک مرتبہ تو عمل کرنے کی سعادت نصیب ہوجائے۔
Ayah 24:29لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِيْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ۭ۔۔ : یعنی ایسے مکان جو کسی کے رہنے کی جگہیں نہ ہوں اور ان سے تمہارا کوئی فائدہ یا کوئی ضرورت وابستہ ہو اور وہ ہر خاص و عام کے لیے کھلے ہوں تو ان کے اندر بلا اجازت داخل ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، جیسے اسٹیشن، بسوں کے اڈے، مساجد، کھانے پینے اور رہائش کے ہوٹل، مسافر خانے، دکانیں اور وہ مہمان خانے جن میں جانے کی ایک دفعہ اجازت مل چکی ہو۔ اسی طرح وہ مکانات جو بےآباد، ویران اور اجڑے پڑے ہوں ان کے اندر آرام کرلینا، سایہ حاصل کرنا اور رات گزارنا وغیرہ جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن مکانوں میں آدمی کا کوئی فائدہ، مقصد یا ضرورت نہ ہو وہاں نہیں جانا چاہیے۔
وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر اور پوشیدہ اعمال جانتا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ کسی جگہ جانے میں تمہاری نیت کیا ہے۔
Ayah 24:30قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ : ”غَضَّ طَرْفَہُ ، خَفَضَہُ“ ”اس نے اپنی آنکھ نیچی کرلی۔“ دوسرا معنی ہے ”نَقَصَ وَ وَضَعَ مِنْ قَدْرِہِ“ ”اس نے فلاں کی قدر کم کی۔“ (قاموس) زنا اور بہتان سے محفوظ رکھنے کے لیے گھروں میں داخلے کے آداب بیان فرمانے کے بعد نظر کی حفاظت کا حکم دیا، کیونکہ آدمی کے دل کا دروازہ یہی ہے اور تمام شہوانی فتنوں کا آغاز عموماً یہیں سے ہوتا ہے۔ احمد شوقی نے کہا ہے : ”نَظْرَۃٌ فَابْتِسَامَۃٌ فَسَلَامٌ فَکَلَامٌ فَمَوْعِدٌ فَلِقَاءٌ“ ”نظر ملتی ہے، پھر مسکراہٹ، پھر سلام، پھر گفتگو، پھر وعدہ اور پھر ملاقات تک بات جا پہنچتی ہے۔“
3 اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ”ۧيٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا“ کے ساتھ براہ راست مخاطب فرمایا ہے، جیسا کہ ”لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ“ اور ”لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ“ سے پہلے ہے، یہاں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا : ”مومن مردوں سے کہہ دے“ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ نظر کا معاملہ نہایت خطرناک ہے اور اسے روکنا نہایت مشکل کام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شہنشاہانہ جلال کے ساتھ نبی ﷺ کو حکم دیا کہ مومن مردوں سے کہہ دے اور مومن عورتوں سے کہہ دے۔ (البقاعی) (واللہ اعلم)
”قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”مومن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں۔“ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ نہیں کہ کسی چیز کو بھی نظر بھر کر نہ دیکھو، راستہ چلتے ہوئے بھی نگاہ مت اٹھاؤ، بلکہ حکم کچھ نگاہیں نیچی رکھنے کا ہے اور مراد ان چیزوں سے نگاہ نیچی رکھنا ہے جن کی طرف نگاہ بھر کر دیکھنا اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے، مثلاً اپنی بیوی اور محرم رشتوں کے سوا عورتوں کو دیکھنا، کسی ڈاڑھی کے بغیر لڑکے کو شہوت کی نظر سے دیکھنا، یا کسی کا خط یا وہ چیز دیکھنا جسے وہ چھپانا چاہتا ہے وغیرہ۔
يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ : بلا ارادہ پڑنے والی پہلی نظر معاف ہے، گناہ اس نظر پر ہے جو جان بوجھ کر ڈالی جائے۔ نظر کا ذکر خصوصاً فرمایا، کیونکہ عموماً زنا کی ابتدا اس سے ہوتی ہے، ورنہ زنا سارے حواس ہی سے ہوتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہُ کَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّہُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَ ذٰلِکَ لَا مَحَالَۃَ فَزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ وَ زِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَتَمَنّٰی وَ تَشْتَھِيْ وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ کُلَّہُ وَ یُکَذِّبُہُ) [ بخاري، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج : 6243 ] ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے وہ لامحالہ حاصل کرے گا، چناچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کردیتی ہے۔“
جریر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں : ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک نظر کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر ہٹا لوں۔“ [ مسلم، الآداب، باب نظر الفجاءۃ : 2159 ] البتہ ضرورت کے لیے غیر محرم عورت کو دیکھ سکتا ہے، مثلاً اس سے نکاح کا ارادہ ہو، یا طبی ضرورت ہو، یا کسی حادثہ کی وجہ سے ضرورت پڑجائے۔ اللہ نے فرمایا : (وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ) [ الأنعام : 119 ] ”حالانکہ بلاشبہ اس نے تمہارے لیے وہ چیزیں کھول کر بیان کردی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، مگر جس کی طرف تم مجبور کردیے جاؤ۔“
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا یَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلٰی عَوْرَۃِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَۃُ إِلٰی عَوْرَۃِ الْمَرْأَۃِ وَ لَا یُفْضِي الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَۃُ إِلَی الْمَرْأَۃِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ) [ مسلم، الحیض، باب تحریم النظر إلی العورات : 338 ] ”کوئی مرد دوسرے مرد کی شرم گاہ نہ دیکھے، نہ ہی کوئی عورت کسی عورت کی شرم گاہ دیکھے۔ نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔“
3 مرد کے لیے اپنی بیوی یا لونڈی کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا جائز ہے، اسی طرح بیوی کے لیے اپنے خاوند کے جسم کا اور لونڈی کے لیے اپنے مالک کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا جائز ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ) [ البقرۃ : 187 ] ”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔“ ظاہر ہے کہ لباس سے جسم کا کوئی حصہ پوشیدہ نہیں رہتا۔ ابن ماجہ (662) میں عائشہ ؓ سے مروی حدیث کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی شرم گاہ نہیں دیکھی، سند کے لحاظ سے ثابت نہیں، کیونکہ عائشہ ؓ سے روایت کرنے والا راوی مجہول ہے۔ اس کے برعکس عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہمارے ہاتھ اس میں باری باری آتے جاتے تھے۔“ ایک روایت میں ہے : ”ہم جنبی ہوتے تھے۔“ [ بخاري، الغسل، باب ھل یدخل الجنب یدہ۔۔ : 261، 263 ]
وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ : یہاں ”مِنْ“ استعمال نہیں فرمایا کہ اپنی کچھ شرم گاہوں کی حفاظت کریں، بلکہ فرمایا، اپنی شرم گاہوں کی مکمل حفاظت کریں، کیونکہ نظر سے مکمل بچاؤ ممکن نہ تھا۔
اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ : وہ اس حکم پر عمل کرنے والوں کو جزا دے گا اور عمل نہ کرنے والوں کو سزا دے گا، خواہ ان کی نیکی یا بدی سے کوئی آگاہ ہو یا آگاہ نہ ہو، جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہے۔ فرمایا : (يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ) [ المؤمن : 19 ] ”وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔“