24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے اعمال کسی چٹیل میدان میں ایک سراب کی طرح ہیں، جسے پیاسا پانی خیال کرتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا اور اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے تو وہ اسے اس کا حساب پورا چکا دیتا ہے اور اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۢ۔۔ : ”سَرَابٌ“ چٹیل میدان یا ریگستانی صحرا میں دوپہر کے وقت سورج کی روشنی کی وجہ سے دور سے ایسا نظر آتا ہے جیسے پانی لہریں مار رہا ہو، اسے ”سراب“ کہتے ہیں، جو محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔ ”قِیْعَۃٌ“ اور ”قَاعٍ“ دونوں کا معنی چٹیل میدان ہے۔ ”الظَّمْاٰنُ“ ”فَعْلَانُ“ کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے، معنی ہے سخت پیاسا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کے دل میں ہدایت کے نور کی مثال بیان فرمائی، اب کفار کے اعمال کے لیے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں، جیسا کہ سورة بقرہ میں منافقین کے لیے آگ اور پانی کی مثال بیان فرمائی اور سورة رعد میں اس ہدایت اور علم کی جو دلوں میں جاگزین ہوجاتے ہیں، دو مثالیں بیان فرمائیں، ایک پانی کی اور دوسری آگ کی۔ یہاں کفار کے اعمال کی دو مثالیں لفظ ”او“ کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ بعض اہل علم نے سراب والی مثال کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ کافر دو قسم کے ہیں، ایک وہ جو اپنے گمان کے مطابق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کام آئیں گے، جیسا کہ بیت اللہ کی خدمت، حاجیوں کو پانی پلانا، صدقہ و خیرات وغیرہ کرنا، حالانکہ ان کا کوئی بھی کام، اگرچہ وہ بظاہر اچھا ہی ہو، پھر بھی کفر کی شامت سے اللہ کے ہاں قبول و معتبر نہیں۔ ان لوگوں کو ان کے اچھے اعمال کی جزا دنیا ہی میں دے دی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا) [ الأحقاف : 20 ] ”تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے۔“ آخرت میں ان کے اعمال ”ھَبَاءً مَّنْثٗوْراً“ (بکھرا ہوا غبار) کردیے جائیں گے۔ (دیکھیے فرقان : 23) دوسری جگہ ان کے اعمال کی مثال اس راکھ سے بیان فرمائی جس پر آندھی والے دن میں سخت ہوا چلی ہو۔ دیکھیے سورة ابراہیم (18)۔ زیر تفسیر آیت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے اعمال کی مثال اس طرح ہے جیسے دوپہر کے وقت ایک سخت پیاسے شخص کو دور سے پانی دکھائی دے، جو دراصل سراب ہو، وہ سخت پیاس کی وجہ سے اسے پانی سمجھ کر وہاں پہنچے، تو وہاں پانی وغیرہ کچھ نہ ہو، بلکہ وہاں اس سے حساب کا تقاضا کرنے والے ہوں جو اسے پکڑ کر اپنے حساب میں باندھ لیں۔ اسی طرح کافر اپنے گمان میں اپنے اچھے کاموں کو قیامت کے دن فائدہ پہنچانے والے گمان کرتا ہے، مگر قیامت کے دن وہ سراب کی طرح بےحقیقت ہوجائیں گے اور جزا ملنے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ سے سابقہ پیش آئے گا، جو اس سے اپنا حساب پورا لے گا۔ ”وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ“ یعنی اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے، کیونکہ دوسرے لوگوں کو ہر چیز کا علم نہیں، نہ ان میں سے کوئی ایک وقت میں ایک سے زیادہ کا حساب لے سکتا ہے، اس لیے ان کے حساب میں تاخیر ہوجاتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کو پہلی پچھلی ہر چیز کا مکمل علم ہے، وہ کسی لکھنے پڑھنے کا محتاج نہیں اور وہ ایک لمحے میں ساری کائنات کا حساب بھی لے سکتا ہے، اس لیے وہ ”وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ“ ہے۔ اسے حساب میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ دوسری قسم کے کافر وہ ہیں جنھیں آخرت کی فکر ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے وہ کوئی اچھا کام کریں، وہ سر سے پاؤں تک دنیا کی لذتوں میں غرق ہیں اور کفر و ضلالت، ظلم و جہل، خواہش پرستی اور اللہ کی نافرمانی میں غوطے کھا رہے ہیں۔ ان کی مثال آگے بیان فرمائی کہ ان کے پاس روشنی کی اتنی چمک بھی نہیں جتنی سراب پر دھوکا کھانے والے کو نظر آتی تھی۔ یہ لوگ خالص اندھیروں اور تہ بہ تہ ظلمات میں بند ہیں، روشنی کی کوئی شعاع کسی طرف سے ان تک نہیں پہنچتی۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا ان اندھیروں کی طرح جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں، جب اپنا ہاتھ نکالے تو قریب نہیں کہ اسے دیکھے اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ۔۔ : ”لُّـجِّيٍّ“ میں یاء نسبت کی ہے اور یہ ”لُجٌّ“ کی طرف منسوب ہے، جو ”لُجَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی ہے بہت بڑا اور گہرا پانی۔ ”بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ“ کا معنی ہوگا ”نہایت گہرے پانیوں والا سمندر۔“ اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ گہرے پانیوں والے سمندر کی گہرائی پانی کی موٹائی کی وجہ سے نہایت تاریک ہوتی ہے۔ جدید تحقیقات بھی یہی ہیں کہ سمندر کی گہرائی میں ایک حد کے بعد روشنی کا گزر بالکل نہیں ہوتا، پھر جب اس پر تہ بہ تہ موجیں ہوں تو تاریکی اور بڑھ جاتی ہے اور جب ان موجوں کے اوپر بادل بھی ہوں تو تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو جو شخص ایسے سمندر کی گہرائی میں ہو وہ اتنی تہ بہ تہ تاریکیوں میں ہوگا کہ اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہے تو قریب نہیں کہ دیکھ پائے، حالانکہ آدمی اپنے جسم کا جو حصہ آنکھوں کے سب سے زیادہ قریب لے جا کر دیکھ سکتا ہے وہ اس کا ہاتھ ہے۔ 3 آیت میں کافر کے عمل کی ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ کی کیفیت اہل علم نے کئی طرح بیان فرمائی ہے، طبری نے ابی بن کعب ؓ سے معتبر سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ”کافر پانچ ظلمتوں میں پھرتا رہتا ہے، چناچہ اس کا کلام ظلمت ہے، اس کا عمل ظلمت ہے، وہ ظلمت میں داخل ہوتا ہے اور ظلمت ہی میں سے نکلتا ہے اور قیامت کے دن آگ کی طرف جاتے ہوئے اس کا لوٹنا بھی ظلمتوں میں ہوگا۔“ (طبری : 26371) یہ سید القراء کی تفسیر ہے، بعض اہل علم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی ظلمتیں بیان فرمائی ہیں، سمندر کی ظلمت، امواج کی ظلمت اور بادلوں کی ظلمت۔ اسی طرح کافر بھی تین ظلمتوں میں گرفتار ہے، عقیدے کی ظلمت، قول کی ظلمت اور عمل کی ظلمت۔“ رازی نے اسے حسن کی طرف منسوب کیا ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ان ظلمتوں سے مراد دل پر، آنکھوں پر اور کانوں پر پڑے ہوئے پردے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ) [ البقرۃ : 7 ] ”اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی نگاہوں پر بھاری پردہ ہے۔“ بعض نے فرمایا، تاریک دل تاریک سینے میں ہے جو تاریک جسم میں ہے۔ ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر حق بات نہیں جانتا اور اسے یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ نہیں جانتا اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ جانتا ہے۔ یہ تینوں مراتب ان تین ظلمتوں کے مشابہ ہیں۔ (رازی) ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر کے اعمال کو اس شخص کی مجموعی حالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو سمندر، اس کی امواج اور بادلوں کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں اور اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ مشابہت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ توجیہ تکلف سے خالی ہونے کی وجہ سے بہت اچھی ہے۔ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ : اس سے پہلے آیت (35) میں مومن کے متعلق فرمایا تھا : (يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ) ”اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔“ اب کافر کے متعلق فرمایا : (وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ) جسے اللہ تعالیٰ (اس کی استعداد کی خرابی کی وجہ سے) نور ہدایت نہ دے اسے کہیں سے بھی کوئی نور نہیں مل سکتا۔ یا اللہ ! تو اپنے خاص فضل و کرم سے ہمیں اپنا نور ہدایت عطا فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے متعلق تو نے فرمایا ہے : (يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ) [ الحدید : 12 ] ”جس دن تو ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھے گا ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہی ہوگی۔“
Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقینا اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اس سے پہلی آیات میں یہ بتایا کہ آسمانوں اور زمین کو حسی اور معنوی نور سے روشن کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، ساتھ ہی مومنوں کے دلوں کے نور ایمان سے منور ہونے اور کفار کے دلوں کے تاریکیوں میں غوطے کھانے کی مثالیں بیان فرمائیں، اب آسمانوں اور زمین میں پھیلے ہوئے اس نور (توحید) کی طرف رہنمائی کرنے والے چند دلائل بیان فرمائے۔ اَلَمْ تَرَ : یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے بھی نہیں دیکھا، اس لیے یہاں ”اَلَمْ تَرَ“ سے مراد یہ نہیں کہ ”کیا تو نے نہیں دیکھا“ بلکہ مراد ہے ”أَلَمْ تَعْلَمْ“ یعنی کیا تجھے معلوم نہیں ؟ جیسا کہ فرمایا : (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ) [ الفیل : 1 ] اس میں مخاطب اگر رسول اللہ ﷺ ہوں تو آپ پیدا ہی اس واقعہ کے بعد ہوئے ہیں، آپ کے اسے دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہر شخص اس کا مخاطب ہے تو ہر شخص کا اس واقعہ کو دیکھنا ممکن ہی نہیں، اس لیے وہاں بھی معنی ”أَلَمْ تَعْلَمْ“ ہے۔ دراصل اس لفظ سے پوچھنا نہیں بلکہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں، اگر معلوم نہیں ہے تو اب جان لو، اور ”اَلَمْ تَرَ“ کا لفظ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہونے والا علم خود دیکھنے سے حاصل ہونے والے علم کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ یقینی ہے۔ (شعراوی) 3 یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان میں جو بھی موجود ہیں، یعنی جن، انسان، فرشتے، جانور، اڑتے ہوئے پرندے، حتیٰ کہ نباتات اور جمادات سب شہادت دیتے ہیں کہ ہمیں پیدا کرنے والا اور ساری کائنات کو کسی خرابی کے بغیر نہایت حسن و خوبی سے چلانے والا ہر نقص اور ہر شریک سے پاک ہے۔ تو جب ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تو انسان پر تو سب سے بڑھ کر اس کی تسبیح کرنا اور اس کی توحید کی شہادت دینا لازم ہے۔ کائنات کی ہر چیز کی یہ تسبیح زبان حال ہی سے نہیں زبان قال سے یعنی بول کر بھی ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (44) اور سورة رعد (13)۔ وَالطَّيْرُ صٰۗفّٰتٍ : زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کی تسبیح کے بعد پرندوں کی تسبیح کا الگ ذکر فرمایا، کیونکہ وہ اڑتے وقت نہ زمین پر ہوتے ہیں نہ آسمان میں، بلکہ ان کے درمیان معلق ہوتے ہیں، یہ پرندے بھی اللہ کے ہر نقص سے پاک ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة ملک (19)۔ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗ : اس سے معلوم ہوا کہ ان کی یہ تسبیح اتفاقی طور پر بےسوچے سمجھے نہیں، بلکہ سمجھ کر اور علم کی بنا پر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں سکھایا اور ان کی طرف الہام کیا ہے۔ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ ان کی تسبیح اور بندگی کو اور ان کے ہر عمل کو خوب جاننے والا ہے۔
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : آسمان و زمین یعنی پوری کائنات میں حقیقی بادشاہی صرف اللہ کی ہے، اسی نے سب کو پیدا فرمایا، زندگی کا سارا سلسلہ وہی چلا رہا ہے اور سب کی واپسی بھی آخر کار اسی کی طرف ہے۔ نہ دنیا میں اس کی سلطنت میں کسی کا دخل ہے نہ آخرت میں اس کے سوا کسی کا کوئی دخل ہوگا۔ جب زمین و آسمان اور دنیا و آخرت میں سارا اختیار اسی کا ہے تو پھر دوسرے کی عبادت کیوں ہو !
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ بادل کو چلاتا ہے، پھر اسے آپس میں ملاتا ہے، پھر اسے تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے نکل رہی ہے اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں میں سے جو اس میں ہیں، کچھ اولے اتارتا ہے، پھر انھیں جس کے پاس چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے اور انھیں جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو لے جائے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزْجِيْ سَحَابًا۔۔ : ”أَزْجٰی یُزْجِيْ“ نرمی کے ساتھ چلانا، ہانکنا، دھکیلنا۔ ”ألَّفَ یُؤَلِّفُ“ دو یا زیادہ چیزوں کو جوڑنا۔ بادل کو جوڑنے سے مراد اس کے ٹکڑوں کو جوڑنا ہے۔ ”رَکْمٌ“ کہتے ہیں ایک چیز کو دوسری کے اوپر رکھنا۔ ”رُکَاماً“ تہ بہ تہ۔ ”خِلاَلٌ“ ”خَلَلٌ“ کی جمع ہے، جیسے : ”جِبَالٌ“ ”جَبَلٌ“ کی جمع ہے۔ ”خَلَلٌ“ کا معنی شگاف، دراڑ اور سوراخ ہے۔ 3 ہوائیں کئی کام سر انجام دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ پہلے ہوائیں بھیجتا ہے، وہ زمین پر جھاڑو پھیر کر خوب صفائی کردیتی ہیں، پھر مزید ہوائیں بھیجتا ہے، وہ بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں، تیسری ہوائیں بادلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر تہ بہ تہ کردیتی ہیں، پھر چوتھی ہوائیں انھیں برسانا شروع کردیتی ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (57) ، روم (48) اور فاطر (9)۔ یہ توحید کی دوسری دلیل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انھیں جوڑ کر تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر یہ بھی اس کا احسان ہے کہ تہ بہ تہ بادلوں میں موجود پانی کے ذخیرے کو قطروں کی صورت میں زمین پر گراتا ہے، جس سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور انسانوں، حیوانوں اور پودوں کو زندگی ملتی ہے۔ اگر وہ سیکڑوں ہزاروں مربع میل میں پھیلے ہوئے بادلوں کا کروڑوں اربوں ٹن پانی ایک ہی وقت میں زمین پر گرا دے تو نہ کوئی جان دار اس بوجھ کو برداشت کرسکے، نہ کوئی پودا اور نہ کوئی مکان باقی رہ جائے جس میں کوئی شخص سکونت اختیار کرسکے۔ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا مِنْۢ بَرَدٍ : ”َبرَدٍ“ ”اولے۔“ زمین سے جیسے جیسے بلندی کی طرف جائیں ٹھنڈک بڑھتی چلی جاتی ہے اور بعض اوقات اللہ کے حکم سے بادل برف کے پہاڑوں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ اب یہ اللہ کا فضل ہے کہ برف کے ان پہاڑوں میں سے تودوں کی شکل میں برف گرانے کے بجائے وہ اسے اولوں کی شکل میں گراتا ہے، جس سے کم از کم نقصان ہوتا ہے اور یہ بھی اس کی قدرت کا ثبوت ہے کہ وہی سمندر ہے، وہی سورج ہے جس کی تپش سے پانی بخارات بن کر اٹھتا ہے، وہی زمین ہے جس پر برستا ہے، زمین کے ہر قطعے کا سمندر سے اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا پہلے تھا، پہاڑ جن سے ٹکرا کر سائنسدان بارش برسنے کا ذکر کرتے ہیں، وہ بھی اسی جگہ ہیں، سارے اسباب یکساں ہونے کے باوجود ہمیشہ ہر جگہ ایک جیسی نہ بارش ہوتی ہے، نہ اولے پڑتے ہیں۔ کسی جگہ اگر کبھی خوش حالی لانے والی بارش ہے تو کبھی وہاں قحط مسلط کرنے والی خشکی ہے، کبھی غرق کردینے والا سیلاب ہے اور کبھی اولوں کی صورت میں تباہی و بربادی ہے، یہ سب کچھ اللہ مالک الملک کی توحید، اس کی قدرت اور اس کے اختیار کی دلیل ہے۔ فَيُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ يَّشَاۗءُ : اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ ان اولوں کو جس پر برسانا چاہتا ہے برسا دیتا ہے اور جس سے ہٹانا چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے، محکمہ موسمیات کے اندازے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ يَكَادُ سَـنَا بَرْقِهٖ يَذْهَبُ بالْاَبْصَارِ : ”سَـنَا“ بروزن ”عَصَا“ چمک، روشنی اور ”سَنَاءٌ“ بروزن ”جَلاَءٌ“ بلندی اور رفعت شان۔ آیت کا یہ جملہ اس جملے کی طرح ہے جس میں فرمایا : (يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ) [ البقرۃ : 20 ] مزید دیکھیے سورة رعد (12، 13)۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ رات اور دن کو ادل بدل کرتا ہے، بیشک اس میں آنکھوں والوں کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے۔

يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔۔ : یہ اس بات کی تیسری دلیل ہے کہ اس کائنات کا مالک و مختار اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی زمین و آسمان میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے، چناچہ فرمایا، اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے، نہ ہمیشہ دن رہتا ہے نہ رات۔ دیکھیے قصص (71 تا 73) پھر کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے کبھی دن۔ دیکھیے لقمان (29) واضح رہے کہ زمین پر زندہ رہنے کے جتنے اسباب موجود ہیں رات دن کے اسی الٹ پھیر کی بدولت ہیں، اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو کوئی چیز پیدا نہ ہوسکتی، یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ رات دن کو یا اس نظام کو برا بھلا کہنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَال اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی یُؤْذِیْنِي ابْنُ آدَمَ ، یَقُوْلُ یَا خَیْبَۃَ الدَّھْرِ ! فَلَا یَقُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ یَا خَیْبَۃَ الدَّھْرِ ! فَإِنِّيْ أَنَا الدَّھْرُ ، أُقَلِّبُ لَیْلَہُ وَ نَھَارَہُ ، فَإِذَا شِءْتُ قَبَضْتُھُمَا) [ مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر : 3؍2246 ] ”اللہ عز و جل فرماتا ہے، ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، کہتا ہے، ہائے زمانے کی کم بختی ! سو تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے، ہائے زمانے کی کم بختی ! اس لیے کہ میں ہی زمانہ ہوں، میں رات دن کو بدل بدل کر لاتا ہوں اور میں جب چاہوں گا دونوں کو سمیٹ لوں گا۔“
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔

وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَاۗبَّةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (30) یہ اس مقام پر توحید کی چوتھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والا (جان دار) پانی سے پیدا فرمایا، پھر ایک ہی چیز سے پیدا ہونے والے تمام جان دار زندگی کی پہلی حالت ہی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے جیسے سانپ، مچھلی اور بعض قسم کے کیڑے مکوڑے، کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے جیسے انسان اور پرندے اور کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے جیسے گائے، بھینس، گھوڑے اور دوسرے چوپائے اور درندے۔ يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ : یعنی کسی جانور کو چاہے تو اس سے زیادہ پاؤں دے دیتا ہے، جیسے کنکھجورا، کیکڑا، مکڑی اور کئی قسم کے کیڑے اور سمندری مخلوق۔ یہ کائنات میں پھیلے ہوئے نور ہدایت ہی کا اظہار ہے، جسے دیکھ کر سعادت مند لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آتے ہیں اور اس پر بھی کہ جب اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا فرما سکتا ہے، تو وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ بھی کرے گا۔ چلنے میں جانوروں کی ترتیب بھی قابل توجہ ہے، سب سے پہلے وہ جس کے پاؤں ہی نہیں، ان کے چلنے میں قدرت کا اظہار سب سے زیادہ ہے، پھر دو پاؤں پر چلنا چار پاؤں پر چلنے سے عجیب ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ : یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ جو چاہے پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

بلاشبہ یقینا ہم نے کھول کر بیان کرنے والی آیات نازل کردی ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (34) کی تفسیر۔ وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (35) کی تفسیر۔ 3 یہ آیت آئندہ آیات کی تمہید ہے، جن میں منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ یقیناً ہم نے تو کھول کر بیان کرنے والی عظیم الشان آیات نازل کی ہیں، مگر ان کے ذریعے سے صراط مستقیم کی ہدایت دینا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آگے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جنھیں ہدایت دینا اللہ کی مشیت نہیں ہے۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے حکم مان لیا، پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد پھرجاتا ہے اور یہ لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔

وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا باللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا : اس جملے کا ”وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ“ پر عطف ہے، گویا اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کا ذکر کر رہے ہیں جنھیں ہدایت دینا اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا، یہ وہ لوگ ہیں جو ظاہر تو اسلام کرتے ہیں لیکن دل میں کفر چھپائے ہوئے ہیں، یہ منافق لوگ ہیں۔ اس آیت کا مضمون سورة نساء کی آیات (60 تا 65) سے ملتا جلتا ہے، ان کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔

وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ۔۔ : واضح رہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جانے کا معاملہ صرف نبی ﷺ کی زندگی تک ہی نہیں تھا، بلکہ آپ ﷺ کے بعد آپ کی سنت کی طرف جو دعوت دی جاتی ہے وہ اصل میں آپ ہی کی طرف دعوت ہوتی ہے، اس سے منہ موڑنے والے کا حکم بھی وہی ہے جو اس آیت میں منافقین کے گروہ کا بیان ہوا ہے۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کے لیے حق ہو تو مطیع ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں۔

وَاِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ۔۔ : ”مُذْعِنِيْنَ“ ”أَیْ مُنْقَادِیْنَ“ مطیع ہونے والے، یعنی جب دیکھتے ہیں کہ شریعت کے مطابق فیصلے میں ان کا فائدہ ہے، تب تو بڑے فرماں بردار بن کر آتے ہیں اور ایمان کے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں ورنہ دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور شریعت کے احکامات میں کیڑے نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شریعت کی اس طرح کی پیروی اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی، کیونکہ یہ شریعت کی پیروی نہیں بلکہ نفس کی پیروی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں کوئی مرض ہے، یا وہ شک میں پڑگئے ہیں، یا ڈرتے ہیں کہ ان پر اللہ اور اس کا رسول ظلم کریں گے ؟ بلکہ وہ خود ہی ظالم ہیں۔

اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْٓا۔۔ : ”حَافَ یَحِیْفُ حَیْفًا“ ظلم کرنا، یعنی آخر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی عدالت میں فیصلہ لے جانے سے کیوں کتراتے ہیں ؟ آیا اس لیے کہ ان کے دلوں میں کفر و نفاق کی بیماری ہے، یا اس لیے کہ انھیں پیغمبر کے سچا ہونے میں شک ہے، یا اس لیے کہ انھیں فکر ہے کہ آپ ﷺ کے پاس مقدمہ لے جائیں گے تو ہم پر ظلم کیا جائے گا ؟ ظاہر ہے کہ نہ تو انھیں آپ ﷺ کی نبوت میں شک ہے اور نہ انھیں یہ خوف ہے کہ آپ ﷺ غلط فیصلہ کرکے ان پر ظلم کریں گے (کیونکہ ایسا نہ پہلے کبھی ہوا نہ ہوگا) تو پھر بات یہی رہ جاتی ہے کہ ان کے دلوں ہی میں بیماری ہے، ظالم اور قصور وار یہ خود ہیں، یعنی جس شخص کا ان کے ذمے حق ہے اس کو دبانا چاہتے ہیں۔ (جامع البیان، فتح القدیر) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”دل میں روگ یہ کہ اللہ اور رسول کو سچ جانا لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں، جیسے بیمار چاہتا ہے کہ چلے مگر پاؤں نہیں اٹھتے۔“ (موضح) اس سے معلوم ہوا کہ جو قاضی کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اس کے سمن کو قبول کرنا واجب ہے اور اس سے کترانا اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے منہ موڑنا ہے، مگر جو قاضی کتاب و سنت سے بیخبر ہو اور اس نے کسی عالم و مجتہد کے آراء و اجتہادات کو جمع کر رکھا ہو اور اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو تو اس کے پاس مقدمہ لے جانا اور اس کے سمن کو قبول کرنا ضروری نہیں، اس لیے کہ اس رائے پر عمل کرنا اس مجتہد کے لیے جائز تھا جس کی طرف وہ رائے منسوب ہے اور وہ بھی اس وقت تک جب تک اسے کتاب و سنت کا فیصلہ نہ پہنچا تھا، مگر کسی دوسرے کے لیے اس پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنا اور اس کے مطابق لوگوں کے مقدمات کے فیصلے کرنا صحیح نہیں۔ (شوکانی)
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان والوں کی بات، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے سوا نہیں ہوتی کہ وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔۔ : پچھلی آیات میں منافقین کی حالت بیان ہوئی، اب اس آیت میں خالص مومنوں کا بیان اور ان کی تعریف ہے، یعنی سچے مومنوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب کسی تنازع کے فیصلے کے لیے انھیں اللہ اور اس کے رسول (کتاب و سنت) کی طرف بلایا جائے، خواہ اس میں بظاہر ان کا نفع ہو یا نقصان تو وہ ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے، بلکہ فوراً کہتے ہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں کامیاب ہیں۔
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس سے بچے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔

وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔۔ : ”وَيَتَّقْهِ“ اصل میں ”یَتَّقِیْہِ“ تھا، آیت کے شروع میں اسم جازم ”مَن“ کی وجہ سے اس کی یاء گرگئی اور لفظ ”یَتَّقِہِ“ ہوگیا، جس میں قاف اور ہاء دونوں پر کسرہ ہے، پھر تخفیف کے لیے قاف کو ساکن کردیا، جیسے ”کَتْفٌ“ کی تاء کو ساکن کیا گیا۔ (ابوالسعود) یعنی صرف باہمی جھگڑے کے لیے ہی نہیں بلکہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کوئی کوتاہی ہوجائے تو اللہ سے ڈرے، اس گناہ سے توبہ کرے اور معافی مانگے اور آئندہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور جو ایسا کریں سو وہی مراد پانے والے ہیں۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور انھوں نے اللہ کی قسمیں کھائیں، اپنی پختہ قسمیں کہ اگر واقعی تو انھیں حکم دے تو وہ ہر صورت ضرور نکلیں گے، تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ، جانی پہچانی ہوئی اطاعت (ہی کافی ہے)۔ بیشک اللہ اس سے خوب واقف ہے جو تم کرتے ہو۔

وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ۔۔ : ”جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ“ کی دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ فعل محذوف کا مصدر ہے، جو اس فعل کی تاکید کر رہا ہے : ”أَيْ أَقْسَمُوْا باللّٰہِ یَجْھَدُوْنَ أَیْمَانَھُمْ جَھْدًا“ اور ”جَھْدَ اَیْمَانِھِم“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھانے کی زیادہ سے زیادہ جو طاقت رکھتے تھے اس کے ساتھ انھوں نے قسم کھائی۔ یہ ”جَھَدَ نَفْسَہُ“ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے اس نے اپنی جان کی آخری طاقت لگا دی۔ دوسری ترکیب یہ ہے کہ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے : ”أَيْ أَقْسَمُوْا باللّٰہِ مُجْتَھِدِیْنَ فِيْ أَیْمَانِھِمْ“ یعنی انھوں نے قسموں میں اپنی پوری کوشش لگاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی۔ (شوکانی) یعنی منافقین کو اپنے طرز عمل کی وجہ سے احساس تھا کہ مسلمان ہماری بات کا اعتبار نہیں کرتے تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ سے زیادہ پکی قسمیں کھا کر کہا کہ اگر آپ ہمیں ہمارے گھروں اور اہل و عیال سے نکلنے کا حکم دیں تو ہم ان سے نکل جائیں گے اور اگر جہاد کا حکم دیں تو ہم ہر صورت آپ کے ساتھ جہاد کے لیے نکلیں گے، غرض جو کہیں گے اس پر عمل کریں گے۔ درحقیقت ان کا قسم کھانا ہی اس بات کی چغلی کر رہا تھا کہ ان کی بات کا اعتبار نہیں، جیسا کہ متنبی نے کہا ہے ؂ وَ فِيْ یَمِیْنِکَ فِیْمَا أَنْتَ وَاعِدُہُ مَا دَلَّ أَنَّکَ فِي الْمِیْعَادِ مُتَّھَمُ ”اور تو جس بات کا وعدہ کر رہا ہے اس پر تیرے قسم کھانے میں اس بات کی دلیل ہے کہ تو اپنے وعدے میں قابل اعتبار نہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دے کہ قسمیں مت کھاؤ۔ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ : ”أَيْ الْمَطْلُوْبُ مِنْکُمْ طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ“ یعنی مطلوب تم سے قسمیں لینا نہیں بلکہ مطلوب جانے پہچانے طریقے کے مطابق فرماں برداری ہے اور یہی کافی ہے، قسموں کی ضرورت نہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے : ”طَاعَتُکُمْ طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ“ کہ قسمیں مت کھاؤ، تمہاری اطاعت جانی پہچانی اور تمہارا جھوٹ مشہور و معروف ہے، سب جانتے ہیں کہ تم کیسی اطاعت کرتے ہو۔ قسمیں کھانے سے تم مطیع نہیں بن جاؤ گے، تم جو کچھ کر رہے ہو یا کرو گے، جتنا چاہو چھپانے کی کوشش کرو، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس دوسری تفسیر کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے : (يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ) [ التوبۃ : 96 ] ”تمہارے لیے قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ، پس اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ تو بیشک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔“
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دے اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمہارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پاجاؤ گے اور رسول کے ذمے تو صاف پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔

قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : یعنی صرف اللہ کا نہیں بلکہ اللہ کا بھی اور اس کے ساتھ رسول کا بھی حکم مانو۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کا کہنا ماننا یہی ہے کہ ان کی سنت کی پیروی کی جائے۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا : ”تَوَلَّوْا“ اصل میں ”تَتَوَلَّوْا“ ہے، جو مضارع میں سے مخاطب کا صیغہ ہے، معنی ہے اگر تم پھر جاؤ۔ یہ فعل ماضی سے غائب کا صیغہ نہیں، جس کا معنی ہے اگر وہ پھرجائیں، کیونکہ آگے انھیں مخاطب کیا جا رہا ہے : (فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ) یعنی اگر تم کسی طرح کی بھی حکم عدولی کرو گے تو رسول اللہ ﷺ کا کچھ نقصان نہیں۔ اس کی ذمہ داری تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دینا تھی، سو اس نے یہ پیغام پہنچا دیا، اب اس پر عمل کرنا تمہاری ذمہ داری ہے، اگر تم اس سے پیٹھ پھیرتے ہو تو اپنا انجام خود سوچ لو۔ وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا : یعنی اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اس کے سوا جس کی بھی اطاعت کرو گے ہدایت نہیں پاؤ گے۔ ابن عطیہ نے یہاں سلف میں سے بعض کا قول نقل فرمایا ہے جو اس آیت کی بہترین تفسیر ہے، لکھتے ہیں : ”جو شخص اپنے قول و فعل میں سنت کو اپنا امیر بنا لے وہ حکمت اور دانائی کی بات کرے گا اور جو اپنے قول و فعل میں خواہش کو امیر بنا لے وہ بدعت کی بات کرے گا۔“ [ المحرر الوجیز ] وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : یعنی اگر تمہیں ہدایت نہ ہو تو گرفت رسول کی نہیں تمہاری ہوگی۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کر امن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ۔۔ : منافقین کی تمام تر زیادتیوں کے باوجود رسول اللہ ﷺ ان سے صرف نظر فرماتے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے ہی ساتھیوں کو اور پناہ دینے والوں کو قتل کرتے ہیں۔ اب ایک طرف پورے عرب کے کفار کی دشمنی تھی، دوسری طرف اسلام کے دعوے دار منافقین کی سازشیں تھیں، نتیجتاً مسلمان سخت پریشان اور خوف زدہ رہتے تھے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا طرز عمل بیان کرنے اور انھیں نصیحت کرنے کے بعد مخلص مومنوں کو کئی بشارتیں دیں۔ اُبیَ بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی مدینہ میں آئے اور انصار نے انھیں جگہ دی تو سارا عرب ایک کمان کے ساتھ ان پر حملہ آور ہوگیا، اس لیے مسلمان رات اسلحہ کے ساتھ گزارتے اور دن بھی اسی حال میں گزارتے، حتیٰ کہ وہ یہ کہنے لگ گئے : ”کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں گے جب ہماری راتیں امن و اطمینان سے گزریں گی، ہمیں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔“ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْن) [ النور : 55 ] [ مستدرک حاکم : 2؍401، ح : 3512، قال الحاکم صحیح الإسناد وقال الذھبي صحیح ] اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ”وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ“ کا معنی ہے، جو اس کے بعد نعمت کی ناشکری کرے گا۔ مسلمانوں کی اس خوف کی حالت کا نقشہ سورة انفال (26) میں بہترین صورت میں کھینچا گیا ہے۔ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ۔۔ : یعنی تم کھلے اور چھپے دشمن کفار و منافقین کی دشمنی سے پریشان نہ ہو، تم میں سے مخلص مومن جو اعمال صالحہ سے آراستہ ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انھیں عرب و عجم کے کفار و مشرکین کی زمین کا وارث بنائے گا، وہ اس کے جانشین اور حکمران ہوں گے، جیسا کہ اس نے اس سے پہلے کفار و مشرکین کے بعد بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کو جزیرۂ عرب، مصر اور شام کی حکومت بخشی۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے کیا ہوا یہ وعدہ بہت تھوڑے عرصے میں پورا فرما دیا، ہجرت کے بعد دس سال کے اندر، جب کہ ابھی رسول اللہ ﷺ زندہ تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ، خیبر، بحرین، یمن اور پورے جزیرۂ عرب پر فتح عطا فرما دی۔ آپ ﷺ ہجر کے مجوسیوں اور شام کے کئی علاقوں سے جزیہ وصول کرنے لگے، روم کے بادشاہ ہرقل، مصر کے بادشاہ مقوقس اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے آپ کی خدمت میں ہدیے ارسال کیے۔ جب رسول اللہ ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تو خلفائے اسلام نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور آپ ﷺ کے طریقے پر چل کر انھوں نے مشرق و مغرب کا بہت سا حصہ فتح کرلیا۔ اس وقت کے سب سے مضبوط حکمران کسریٰ کے تخت پر قبضہ کرلیا اور قیصر کو اس کے مملوکہ علاقوں شام وغیرہ سے ایسا نکالا کہ اسے قسطنطنیہ میں پناہ لینا پڑی۔ مشرق میں چین اور مغرب میں افریقہ تک اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ مسلمان ان کی گردنوں اور ان کے خزانوں کے مالک بن گئے اور رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی : (إِنَّ اللّٰہَ زَوٰی لِيَ الْأَرْضَ ، فَرَأَیْتُ مَشَارِقَھَا وَ مَغَارِبَھَا، وَ إِنَّ أُمَّتِيْ سَیَبْلُغُ مُلْکُھَا مَا زُوِيَ لِيْ مِنْھَا، وَ أُعْطِیْتُ الْکَنْزَیْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْیَضَ) [ مسلم، الفتن، باب ھلاک ھذہ الأمۃ بعضہم ببعض : 2889 ] ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین لپیٹ دی تو میں نے اس کے تمام مشرق اور مغرب دیکھ لیے اور میری امت کی سلطنت اس کے ان مقامات تک پہنچے گی جو مجھے لپیٹ کر دکھائے گئے اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے۔“ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ : یہ دوسرا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے ان کے اس دین کو اقتدار بخشے گا جو اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، یعنی مسلمانوں کو ایسا اقتدار ملے گا جس میں کسی اور آئین و قانون کا نہیں بلکہ اللہ کے دین اسلام کا مکمل غلبہ ہوگا، اس میں اللہ کی بات سب سے اونچی اور اس کا بول سب سے بالا ہوگا۔ دین کا یہ اقتدار پوری دنیا پر ہوگا۔ تمیم داری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : (لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ وَلاَ یَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیْلٍ ، عِزًّا یَعِزُّ اللّٰہُ بِہِ الإِْسْلَامَ ، وَ ذُلًّا یُذِلُّ اللّٰہُ بِہِ الْکُفْرَ) [ مسند أحمد : 4؍103، ح : 16959، قال محقق المسند إسنادہ صحیح علی شرط مسلم ] ”یہ کام یعنی دین اسلام وہاں تک پہنچے گا جہاں رات اور دن پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کوئی اینٹوں کا بنا ہوا مکان چھوڑے گا اور نہ ریشم کا بنا ہوا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت دے کر اور ذلیل کو ذلت دے کر۔ عزت ایسی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اسلام کو عزت بخشے گا اور ذلت ایسی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کرے گا۔“ اس پیش گوئی کا اکثر حصہ خلفائے راشدین، خلفائے بنی امیہ اور عثمانی خلفاء کے ہاتھوں پورا ہوا اور جو رہ گیا ہے وہ بھی پورا ہو کر رہے گا، مسلمانوں میں دین کی طرف رجوع اور جذبہ جہاد کی بیداری آنے والی صبح روشن کی نوید ہیں۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا : یہ تیسرا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو خوف کی حالت بدل کر امن عطا فرمائے گا۔ جہاد کی بدولت کفار یا تو اسلام قبول کرکے اس کے محافظ بن جائیں گے، یا محکوم ہو کر جزیہ دیں گے۔ اللہ کے احکام پر عمل کی بدولت خوش حالی کا دور دورہ ہوگا اور حدود اللہ کے نفاذ کی برکت سے اسلام کے زیر نگیں تمام علاقے امن کی نعمت سے فیض یاب ہوں گے۔ عدی بن حاتم طائی ؓ بیان کرتے ہیں : ”میں نبی ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ سے فاقے کی شکایت کی، پھر ایک اور آیا اور اس نے ڈاکے اور راہ زنی کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے مجھے مخاطب ہو کر فرمایا : ”عدی ! تم نے حیرہ (شہر) دیکھا ہے ؟“ میں نے کہا : ”میں نے اسے نہیں دیکھا، لیکن میں نے اس کے متعلق سنا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم اونٹنی پر سوار ایک عورت کو دیکھو گے، وہ حیرہ سے سفر کرے گی، حتیٰ کہ کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے سوا اسے کسی کا خوف نہیں ہوگا۔“ میں نے دل ہی دل میں کہا، تو بنو طے کے وہ بدمعاش کہاں جائیں گے جنھوں نے شہروں میں آگ لگا رکھی ہے ؟ (آپ نے مزید فرمایا :) ”اور اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔“ میں نے کہا : ”کسریٰ بن ہرمز کے خزانے ؟“ آپ نے فرمایا : ”ہاں، کسریٰ بن ہرمز کے خزانے، اور اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم آدمی کو دیکھو گے، وہ سونے یا چاندی سے اپنی لپ بھر کر اس شخص کی تلاش میں نکلے گا جو اس سے اسے قبول کرے، مگر اسے کوئی شخص نہیں ملے گا جو اس سے قبول کرے۔۔“ عدی ؓ کہتے ہیں : ”پھر میں نے اونٹنی پر سوار ایک عورت کو دیکھا جو حیرہ سے سفر شروع کرتی تھی، حتیٰ کہ کعبہ کا طواف کرتی تھی اور میں ان لوگوں میں شامل تھا جنھوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے اور اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم وہ بھی دیکھ لو گے جو نبی ابو القاسم ﷺ نے فرمایا : ”آدمی سونے چاندی سے لپ بھر کر صدقہ نکالے گا۔“ [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام : 3595 ] يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا : یعنی وہ لوگ جن کے ساتھ خلافت ارضی، دین کے غلبے اور خوف کے بعد امن عطا کرنے کا وعدہ ہے، وہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان اور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے، صرف اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں میں ان اوصاف میں سے کسی وصف کی کمی ہوگی یا سرے سے ان سے عاری ہوں گے انھیں حکومت مل بھی جائے تو دین کے غلبے اور امن کی نعمت میسر نہ ہوگی۔ 3 یہ آیت خلفائے راشدین کی خلافت کے برحق ہونے کی بہت بڑی اور واضح دلیل ہے، کیونکہ اس آیت میں اگرچہ خلافت، تمکین دین اور خوف کے بعد امن کا وعدہ ان تمام لوگوں سے ہے جو ایمان اور عمل صالح پر کاربند ہوں، خواہ کسی زمانے میں ہوں، مگر اس کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ صحابہ کرام ؓ تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ) کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو ”تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔“ اس لیے اس آیت کے سب سے پہلے مصداق بھی وہی ہیں اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ؓ کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں خلافت بخشی، ان کے زمانے میں دین غالب ہوا، اللہ کی حدود قائم ہوئیں، مسلمانوں کو امن میسر رہا اور تمام دنیا کے کافر مرعوب و مقہور رہے۔ ان کے بعد بھی جن خلفاء نے جہاد جاری رکھا، اللہ کی حدود پر عمل کیا اور کسی بھی قسم کے شرک سے آلودہ نہیں ہوئے، وہ بھی اس کے مصداق ہیں اور ان کے زمانے میں بھی دین غالب رہا اور مسلمانوں کو امن کی نعمت میسر رہی۔ آئندہ جو لوگ ان اوصاف سے آراستہ ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھی یہ وعدہ پورا فرمائے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ خلافت صرف تیس (30) برس قائم رہی ان کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ اعلیٰ درجے کے اوصاف والے لوگ یہی خلفاء تھے، کیونکہ وہ براہ راست نبی کریم ﷺ کے تربیت یافتہ تھے اور انھیں ایمان میں سبقت اور ہجرت کا شرف بھی حاصل تھا، ان کے بعد والوں کو یہ سارے فضائل حاصل نہ تھے، اس لیے ان کی خلافت اس بلند ترین درجے کی نہ تھی، مگر یہ بات غلط ہے کہ اس کے بعد امت مسلمہ اللہ کے اس وعدے سے محروم ہوگئی۔ خود رسول اللہ ﷺ نے ان تیس (30) سالوں کے بعد بھی ایسے خلفاء کی پیش گوئی فرمائی ہے جن کے زمانے میں دین غالب ہوگا۔ چناچہ جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، میرے ساتھ میرے والد بھی تھے، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : (لَا یَزَالُ ھٰذَا الدِّیْنُ عَزِیْزًا مَنِیْعًا إِلَی اثْنَيْ عَشَرَ خَلِیْفَۃً) ”یہ دین بارہ خلیفوں تک خوب غالب اور محفوظ رہے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک بات کی جو لوگوں نے مجھے سننے نہیں دی، میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے ؟ تو انھوں نے بتایا : (کُلُّھُمْ مِنْ قُرَیْشٍ) ”وہ سب قریش سے ہوں گے۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب الناس تبع لقریش : 9؍1821 ] ابو داؤد کی روایت (4279) میں یہ الفاظ بھی ہیں : (کُلُّھُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ الْأُمَّۃُ) ”ان سب پر امت مجتمع ہوگی۔“ علامہ البانی ؓ نے ان الفاظ کو ضعیف کہا ہے۔ ان بارہ خلفاء سے مسلسل خلفاء مراد ہیں، یا درمیان میں کچھ وقفے سے آنے والے خلفاء مراد ہیں، یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ میں نااہل لوگوں کے بعد پھر نبوی طریقے پر خلافت قائم ہونے کی پیش گوئی فرمائی ہے، حتیٰ کہ آخر زمانے میں مہدی خلیفہ راشد ہوں گے۔ حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَا شَاء اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَاءَ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃً عَلٰی مِنْھَاج النُّبُوَّۃِ فَتَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَاء اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا فَیَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ أَنْ یَّکُوْنَ ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَاءَ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیَّۃً فَتَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَاءَ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃً عَلٰی مِنْھَاج النُّبُوَّۃِ ، ثُمَّ سَکَتَ) [ مسند أحمد : 4؍273، ح : 18436، مسند احمد کے محقق اور شیخ البانی نے صحیحہ (5) میں اسے حسن کہا ہے ] ”تم میں نبوت رہے گی جب تک اللہ نے چاہا کہ رہے، پھر جب وہ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہوگی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، پھر اللہ اسے اٹھا لے گا جب چاہے گا کہ اسے اٹھا لے پھر ”ملک عاض“ (دانتوں سے کاٹنے والی بادشاہی) ہوگی اور جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، وہ رہے گی، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا، تو اٹھا لے گا، پھر جبر والی بادشاہی ہوگی اور جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، وہ رہے گی، پھر جب وہ چاہے گا کہ اسے اٹھائے تو اٹھا لے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہوگی۔“ پھر آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔“ اس آیت اور ان احادیث کی روشنی میں مسلمانوں کو ہمیشہ پُر امید رہنا چاہیے کہ جب بھی مسلمان ایمان اور عمل صالح پر کاربند ہوگئے، اللہ کے ساتھ شرک سے تائب ہوگئے، اپنی روزمرہ کی زندگی، اپنی معیشت، اپنی سیاست، غرض ہر چیز میں غیر اللہ کے حکم سے مکمل منہ موڑ کر ایک اللہ کے حکم پر چلنے لگے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے لگے، اللہ کے سوا ہر حاجت روا اور مشکل کشا کو چھوڑ کر ایک اللہ سے استغاثہ و استعانت کرنے لگے، بزدلی اور دنیا سے محبت کے بجائے شوق شہادت سے سرشار ہو کر جہاد کرنے لگے، تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور خلافت علی منہاج النبوۃ کی نعمت عطا فرمائے گا، کیونکہ اسے ایمان اور عمل صالح سے مزین ایسے بندے مطلوب ہیں جو ”يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ“ کی عملی تصویر ہوں، یعنی صرف اس کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ البتہ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب تک مسلمانوں کی موجودہ حالت نہیں بدلتی کہ ان کی عدالتوں میں کفار کا قانون رائج ہے، ان کی تجارت سود پر مبنی ہے، ان کی حکومت کا طریقہ کفار سے لیا ہوا ہے، ان کے معاشرے میں ہندوؤں اور یہود و نصاریٰ کی رسوم جاری ہیں، ان کی مساجد کے اندر پختہ قبروں کی پرستش ہو رہی ہے، ایک اللہ کو حاجت روا اور مشکل کشا ماننے کے بجائے ہر ایک نے اپنا الگ داتا و دستگیر بنا رکھا ہے، وہ ایک امت بننے کے بجائے مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالت کے بدلنے تک اس خلافت کی نعمت کا حصول ایک خوبصورت خواب کے سوا کچھ نہیں جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔ 3 کچھ لوگوں نے چار صحابہ کے سوا تمام صحابہ کرام ؓ کو کافر کہنا اپنے دین کا جز بنا لیا ہے کوئی ان سے پوچھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح والوں سے خلافت عطا کرنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ کس طرح اور کن لوگوں کے ذریعے سے پورا ہوا ؟ اگر وہ اپنے بارہ (12) خود ساختہ اماموں کو حقیقی خلفاء بتائیں تو بتائیں علی اور حسن ؓ کو چھوڑ کر دوسرے دس (10) خلفاء و ائمہ کی حکومت زمین کے کس خطے پر تھی، ان میں سے کس نے امن کے ساتھ حکومت کی ؟ ان ائمہ کی حالت تو یہ تھی کہ یہ حضرات خود بتاتے ہیں کہ ان کا بارھواں امام دشمنوں کے خوف سے ایک غار میں چھپ گیا اور آج تک نمودار نہیں ہوا۔ پھر اللہ کا وعدہ کن لوگوں کے ذریعے سے پورا ہوا ؟ ان لوگوں کے باطل پر ہونے کے لیے یہ بات بھی ایک واضح اور فیصلہ کن دلیل ہے کہ اسلام کے مرکز مکہ اور مدینہ میں ان ساڑھے چودہ سو سالوں میں حکومت کرنے والے صحابہ کرام ؓ تھے، یا پھر ان سے محبت کرنے والے۔ آج تک اللہ تعالیٰ نے اس پاک سرزمین میں صحابہ کے دشمنوں کے ناپاک قدم جمنے نہیں دیے۔ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : فاسق کے کئی درجے ہیں، کامل فاسق وہی ہے جو ایمان ہی سے نکل جائے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اس خلافت کے بعد جو لوگ کفر کریں اور کفر ہی پر مریں تو یہی لوگ پورے نافرمان ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”جو کوئی خلفائے اربعہ کی خلافت (اور ان کے فضل و شرف) سے منکر ہوا ان الفاظ سے اس کا حال سمجھا گیا۔“
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کا حکم مانو، تاکہ تم رحم کیے جاؤ۔

وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ۔۔ : اس کا عطف ”يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ“ پر ہے، کیونکہ وہ اگرچہ لفظوں میں خبر ہے مگر معنی کے لحاظ سے امر ہے۔ گویا یہ کہا جا رہا ہے : ”اُعْبُدُوْنِيْ وَلَا تُشْرِکُوْا بِيْ شَیْءًا وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَ آتُوا الزَّکَاۃَ۔۔“ خبر کے امر کے معنی میں ہونے کی ایک مثال یہ آیت ہے : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ) آگے فرمایا : (يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ) [ الصف : 10 تا 12 ] اس میں ”يَغْفِرْ“ پر جزم اس لیے ہے کہ یہ امر کا جواب ہے، جو ”تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ“ خبر کی صورت میں ہے۔ (ابن عاشور) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی کے حصول اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حق دار بننے کا طریقہ بیان فرمایا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (یہ بات ”يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا“ واؤ پر عطف سے ظاہر ہے) اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی فرماں برداری کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یہ نہایت جامع آیت ہے، دین کی کوئی بات باقی نہیں رہی جو اس آیت میں نہ آتی ہو۔ اللہ کی توحید کے بعد نماز اور زکوٰۃ کا خاص ذکر کرکے رسول کا ہر حکم ماننے کا حکم دیا۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

تو ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ہرگز گمان نہ کر کہ وہ زمین میں عاجز کرنے والے ہیں اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور بلاشبہ وہ بری لوٹ کر جانے کی جگہ ہے۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ۔۔ : مشرکین عام طور پر ہمیشہ تعداد اور قوت میں زیادہ رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی یہی حال تھا کہ مسلمان کمزور تھے، ان سے خوف زدہ رہتے تھے، تو ایسے حالات میں ان کے لیے خلافت کا وعدہ عجیب اور ناممکن سی بات نظر آتا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ کافروں کے متعلق یہ گمان ہرگز نہ کریں کہ وہ اللہ کو مقابلے میں عاجز کردیں گے، یہ لوگ جتنی تعداد اور قوت میں ہوں، جتنی چال بازیاں اور فوجیں اکٹھی کرلیں، مقابلہ ان کا اللہ تعالیٰ سے ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ کسی صورت مقابلے میں عاجز نہیں کرسکتے۔ کعب ؓ کا شعر ہے ؂ ھَمَّتْ سَخِیْنَۃُ أَنْ تُغَالِبَ رَبَّھَا فَلَیُغْلَبَنَّ مُغَالِبُ الْغَلَّابِ ”سخینہ (قریش) نے ارادہ کیا کہ اپنے رب سے مقابلے میں غالب آئیں، مگر اس زبردست غالب کا مقابلہ کرنے والا تو ہر صورت مغلوب ہی ہوگا۔“ [ مستدرک حاکم : 3؍488، ح : 6065، حاکم، ذہبی اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے ] یہ حال تو دنیا میں ہوگا اور آخری مقام ان کا جہنم ہے اور وہ لوٹ کر جانے کے لیے بہت بری جگہ ہے۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! لازم ہے کہ تم سے اجازت طلب کریں وہ لوگ جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوئے اور وہ بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہیں پہنچے، تین بار، فجر کی نماز سے پہلے اور جس وقت تم دوپہر کو اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین تمہارے لیے پردے (کے وقت) ہیں، ان کے بعد نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر۔ تم پر کثرت سے چکر لگانے والے ہیں، تمہارے بعض بعض پر۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۔۔ : یہاں سے پھر انھی احکام کی تکمیل کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو آیت (34) تک بیان ہو رہے تھے۔ اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھیں گھر میں داخلے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں اور یہ بھی کہ تین اوقات میں انھیں بھی اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، آدمی کے لونڈی و غلام اور نابالغ بچے۔ انھیں داخلے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں، کیونکہ گھروں میں ان کا آنا جانا کثرت سے ہوتا ہے اور ان پر اجازت کی پابندی لگانے سے دشواری اور تنگی پیدا ہوتی ہے۔ ”طَوّٰفُوْنَ عَلَيْكُمْ“ میں یہی حکمت بیان ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں انسانوں کی آسانی کو مدنظر رکھا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت ہے، خواہ ہمیں معلوم ہو سکے یا نہ ہو سکے۔ ”ثَلٰثَ مَرّٰتٍ“ سے مراد تین اوقات ہیں، یعنی ان تین اوقات میں اجازت مانگیں، جن کا ذکر آگے فرمایا ہے، یعنی نماز فجر سے پہلے، دوپہر کو آرام کے وقت جب عموماً آرام کے لیے کپڑے اتار دیے جاتے ہیں اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تینوں وقت پردے کے اوقات ہیں، ان اوقات میں آدمی ایسی حالت میں بھی ہوتا ہے کہ جس پر کسی کا بھی مطلع ہونا درست نہیں۔ ”ثَلٰثَ مَرّٰتٍ“ کی ایک تفسیر یہ ہے کہ غلام اور بچے بھی ان تین اوقات میں تین دفعہ اجازت مانگیں، اجازت مل جائے تو اندر آجائیں ورنہ واپس چلے جائیں۔ (بقاعی) اس تفسیر میں ”ثَلٰثَ مَرّٰتٍ“ کے لفظ سے محض گنتی بتانے کے بجائے ایک مستقل حکم معلوم ہوتا ہے، جو رسول اللہ ﷺ نے سب لوگوں کے لیے تمام اوقات میں اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں جانے کے متعلق بیان فرمایا کہ اجازت مانگنا تین دفعہ ہے، اگر مل جائے تو بہتر ورنہ واپس ہوجانا چاہیے۔ [ دیکھیے بخاري : 6245۔ أبوداوٗد : 5180 ] اس آیت میں ان تین اوقات میں غلاموں اور بچوں کو بھی تین دفعہ اجازت مانگنے کا پابند فرمایا۔ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ : یعنی ان تین اوقات کے سوا غلام اور بچے بلا اجازت آ جاسکتے ہیں۔ اس وقت اگر کوئی ایسی حالت میں ہے جو مناسب نہیں تو غلاموں اور بچوں کا قصور نہیں، خود اس کی نالائقی ہے۔ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : آیات کو کھول کر وہی بیان کرسکتا ہے جس کا علم کامل ہو اور حکمت بھی کامل ہو، کوئی دوسرا جتنی وضاحت بھی کرلے اپنے علم و حکمت کی نارسائی کی وجہ سے اس کی بات پوری ہی نہیں ہوگی، پوری طرح واضح ہونا تو دور کی بات ہے۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تم میں سے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو اسی طرح اجازت طلب کریں جس طرح وہ لوگ اجازت طلب کرتے رہے جو ان سے پہلے تھے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْا۔۔ : بالغ ہونے کے بعد بچوں کو بھی اجازت لینا ضروری ہے، جس طرح ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جن کا ذکر اس سے پہلے آیت (27) ”لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا“ میں آیا ہے اور جس طرح بالغ ہونے والے ان بچوں سے پہلے دوسرے بالغ لوگ اجازت لیتے چلے آئے ہیں، بالغ ہونے کے بعد انھیں بھی ہر حال میں اجازت لے کر آنا ہوگا۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا : ”کیا میں اپنی بہن کے پاس جانے کے لیے بھی اجازت مانگوں ؟“ فرمایا : ”ہاں !“ میں نے پھر سوال دہرایا : ”میری پرورش میں میری دو بہنیں ہیں، ان کا خرچہ میرے ذمے ہے، ان کے پاس بھی اجازت لے کر جاؤں ؟“ فرمایا : ”ہاں ! کیا تم پسند کرتے ہو کہ انھیں برہنہ حالت میں دیکھو۔“ پھر یہ آیت پڑھی : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ) [ النور : 58 ] ”ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ“ تک، تو ان لوگوں کو صرف ان تین اوقات میں اجازت مانگنے کا حکم دیا گیا، پھر فرمایا : (وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْا) [ النور : 59 ] ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”اب اجازت لینا واجب ہے۔“ [ الأدب المفرد للبخاري : 1063 ]