Ayah 24:33وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا : ”عَفَّ یَعِفُّ عَفَافًا وَ عِفَّۃً“ اس چیز سے باز رہنا جو حلال نہ ہو یا جمیل نہ ہو۔ ”اِسْتَعَفَّ“ اور ”تَعَفَّفَ“ کا بھی یہی معنی ہے۔ (القاموس) ”وَلْيَسْتَعْفِفِ“ میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور حرام سے بہت بچیں۔“ یعنی جو لوگ کسی وجہ سے نکاح نہ کرسکیں، مثلاً رشتہ نہ ملے، یا مہر میسر نہ ہو، یا غلام کو اس کا مالک نکاح کی اجازت نہ دے، یا کسی اور وجہ سے حالات سازگار نہ ہوں تو وہ حرام سے بچنے کی بہت زیادہ کوشش کریں، یعنی زنا، قوم لوط کے عمل اور استمنا بالید وغیرہ سے باز رہیں۔ اس کوشش میں نگاہ نیچی رکھنا، بلا اجازت دوسروں کے گھروں میں نہ جانا اور خیالات کو پاکیزہ رکھنا وغیرہ آداب شامل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انسان کی اس منہ زور قوت یعنی شہوت کی آفات سے محفوظ رہنے کے لیے نکاح کا حکم دیا اور جسے نکاح میسر نہ ہو اسے زیادہ سے زیادہ نفلی روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا : ”یہ اس کے لیے (شہوت) کچلنے کا باعث ہوگا۔“ [ دیکھیے بخاري : 1905 ] آپ ﷺ نے شہوت کو روزے کے ساتھ کچلنے کا حکم دیا، کیونکہ اس سے شہوت کمزور ہونے کے علاوہ ضبط نفس کی عادت بھی پڑتی ہے۔ بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ روزے سے تو شہوت قوی ہوئی ہے، یہ خیال فرض روزوں یا کبھی کبھار روزے کی حد تک تو صحیح ہے، کیونکہ جب صحت بہتر ہوتی ہے تو ہر قوت مضبوط ہوتی ہے، مگر مسلسل روزے رکھنے کا نتیجہ وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا اور آپ کے تجویز کردہ نسخے میں ضبط نفس کی عادت بھی ہے اور کوئی نقصان بھی نہیں، کیونکہ روزے چھوڑنے سے وہ قوت پھر بحال ہوجائے گی جو افزائش نسل اور زمین کی رونق کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص مسلسل دھنیا، یا کافور، یا پوٹاشیم برومائید، یا ایسی دوائیں استعمال کرے جن سے شہوت ختم ہوجائے تو اس کا نتیجہ نہایت نقصان دہ نکلتا ہے، کیونکہ دوائیں چھوڑنے کے باوجود بعض اوقات وہ قوت دوبارہ بحال ہی نہیں ہوتی، یہ ایک قسم کا خصی ہونا ہے، جو حرام ہے۔
حَتّٰى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ : اس میں پاک دامن رہنے والوں کے لیے وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں غنی کرے گا اور ان کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ مومن کا اللہ کے وعدے پر یقین اس کے لیے انتظار کی مشقت کو آسان بنا دیتا ہے۔ (سعدی)
عرفی اگر بگریہ میسر شدے وصال
صد سال می تو اں بتمنا گریستن
”عرفی ! اگر رونے سے وصل کی دولت میسر ہوسکتی تو تمنا میں سو سال بھی رویا جاسکتا ہے۔“
وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ۔۔ : ”الْكِتٰبَ“ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے ”قَاتَلَ یُقَاتِلُ مُقَاتَلَۃً وَ قِتَالًا“ ہے، یعنی غلام اور اس کے مالک کے درمیان آزادی کی تحریر کہ غلام اتنی رقم قسطوں میں فلاں مدت تک ادا کرے گا تو اسے آزادی مل جائے گی، اسے ”اَلْکِتَابُ“ ، ”اَلْکِتَابَۃُ“ یا ”اَلْمُکَاتَبَۃُ“ کہتے ہیں۔ پچھلی آیت میں مالکوں کو اپنے صالح غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرنے کا حکم دیا۔ ان کے نکاح میں دو بڑی رکاوٹیں ہوسکتی تھیں، ایک یہ کہ مالک انھیں نکاح کی اجازت نہ دے، دوسری یہ کہ وہ خود نکاح سے اجتناب کریں، کیونکہ غلام ہوتے ہوئے ان کے جتنے بچے پیدا ہوں گے، وہ ان کی طرح ان کے مالک کے غلام ہوں گے۔ ان دونوں رکاوٹوں کا حل یہ تھا کہ وہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے مالک کے ساتھ مکاتبت کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے مالکوں کو مکاتبت کا تقاضا کرنے والے لونڈی اور غلاموں کے ساتھ مکاتبت کرنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مکاتبت کا تقاضا کرنے والے غلاموں کے ساتھ مکاتبت سے انکار جائز نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے، اگر اس کے خلاف کوئی قرینہ نہ ہو۔ امام بخاری ؓ نے صحیح بخاری میں یہی آیت : (وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ۔۔) درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء (تابعی کبیر) سے کہا : ”کیا مجھ پر واجب ہے کہ میں اپنے غلام سے مکاتبت کروں، جب مجھے معلوم ہو کہ اس کے پاس مال ہے ؟“ تو انھوں نے فرمایا : ”میں تو اسے واجب ہی سمجھتا ہوں۔“ عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا : ”کیا آپ یہ بات کسی سے نقل کرتے ہیں ؟“ انھوں نے فرمایا : ”نہیں۔“ پھر انھوں نے مجھے بتایا کہ انھیں موسیٰ بن انس نے بیان کیا کہ (مشہور امام محمد بن سیرین کے والد) سیرین نے انس ؓ سے مکاتبت کا تقاضا کیا اور وہ بہت مال والا تھا، انس ؓ نے انکار کردیا تو سیرین، عمر ؓ کے پاس چلا گیا، انھوں نے فرمایا : ”اس سے مکاتبت کرو۔“ انس ؓ نے انکار کردیا تو عمر ؓ نے یہ آیت پڑھتے ہوئے انھیں درّے کے ساتھ مارا : (فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا) تو انس ؓ نے اس سے مکاتبت کرلی۔ [ بخاري، المکاتب، باب المکاتب و نجومہ۔۔ ، قبل ح : 2560 ] اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی مالک غلام کے ساتھ مکاتبت کرنے سے انکار کر دے تو غلام عدالت میں جاسکتا ہے اور حاکم مالک کو مکاتبت پر مجبور کرے گا، جیسا کہ عمر ؓ کے درّے کے ساتھ مارنے سے ثابت ہوتا ہے۔
اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا : بعض اہل علم نے خیر سے مراد مال لیا ہے، مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں ”إِنْ عَلِمْتُمْ لَھُمْ خَیْرًا“ ہونا چاہیے تھا، یعنی اگر تم ان کے پاس خیر کا علم رکھتے ہو، جبکہ یہاں الفاظ یہ ہیں کہ اگر تم ان میں خیر کا علم رکھتے ہو۔ اس لیے خیر کا مطلب یہ ہے کہ ان میں اتنی استعداد اور قوت و امانت ہو کہ وہ کمائی کرکے اپنی قیمت ادا کرسکتے ہوں، مکاتبت کو کچھ عرصہ کام سے جان چھڑانے کا بہانہ نہ بنا رہے ہوں اور آزاد ہونے کے بعد چوری یا خیانت کے بغیر اپنی روزی کما سکتے ہوں، تاکہ آزاد ہو کر گدائی نہ کرتے پھریں اور مسلم معاشرے پر بوجھ نہ بنیں۔ خیر میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نیک اور پاک باز ہوں، تاکہ آزاد ہو کر بدکاری اور چوری ڈاکے کا ارتکاب نہ کرتے پھریں۔
بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ مالک کے لیے مکاتبت کا تقاضا قبول کرنا مستحب ہے، واجب نہیں، کیونکہ یہ فیصلہ اس نے کرنا ہے کہ اس میں خیر ہے یا نہیں، پھر غلام اس کا مال ہے جو زبردستی اس سے لینا جائز نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے مکاتبت قبول کرنے کا حکم دیا ہے تو اس غلام کا حکم عام مال والا نہیں ہوسکتا اور غلام کو حق حاصل ہے کہ اگر مالک خواہ مخواہ اس میں خیر نہ ہونے کا بہانہ بنا کر مکاتبت سے انکار کرتا ہے تو وہ اسلامی عدالت میں چلا جائے، جو سارے حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی کہ مالک کی بات درست ہے یا محض بہانہ ہے، جیسا کہ سیرین ؓ کے عمر ؓ کے پاس جانے سے ظاہر ہے۔
وَّاٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّال اللّٰهِ الَّذِيْٓ اٰتٰىكُمْ : یہ حکم مکاتب کے مالک کو بھی ہے کہ وہ طے شدہ رقم کا ایک حصہ اسے چھوڑ دے، یا جو کچھ اس سے لیا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ واپس کر دے اور عام مسلمانوں کو بھی کہ ایسے غلاموں کو مال دے کر انھیں آزادی حاصل کرنے میں تعاون کریں۔ تعاون کی ترغیب کے لیے ارشاد ہے کہ تم جو مال انھیں دو گے وہ اللہ ہی کا عطا کردہ ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دے رہا ہے کہ اس کے دیے ہوئے مال میں سے انھیں دو ، کیونکہ ایسے غلاموں کی مدد اس نے اپنے آپ پر حق قرار دی ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ثَلَاثَۃٌ حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ عَوْنُھُمُ الْمُکَاتَبُ الَّذِيْ یُرِیْدُ الْأَدَاءَ وَالنَّاکِحُ الَّذِيْ یُرِیْدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاھِدُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ) [ نساءي، النکاح، باب معونۃ اللہ الناکح الذي یرید العفاف : 3220۔ ترمذي : 1655، قال الترمذي والألباني حسن ] ”تین آدمیوں کی مدد اللہ پر حق ہے، وہ مکاتب جو ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ نکاح کرنے والا جو حرام سے بچنے کا ارادہ رکھتا ہے اور مجاہد فی سبیل اللہ۔“ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف میں غلاموں کی آزادی کو باقاعدہ ایک مصرف مقرر فرمایا ہے، فرمایا : (وَفِی الرِّقَابِ) [ التوبۃ : 60 ] یعنی گردنوں کو غلامی سے آزاد کرانے میں زکوٰۃ خرچ کی جائے۔ اس لیے اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیت المال میں سے مکاتب غلاموں کی رہائی کے لیے رقم خرچ کرے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ”فَکُّ رَقَبَةٍ“ (گردن چھڑانا) عمل صالح کی دشوار گھاٹی کو عبور کرنے کا حصہ ہے۔ دیکھیے سورة بلد (13)۔
مکاتب اپنی رہائی کے لیے لوگوں اور حکومت سے مالی امداد کی درخواست کرسکتا ہے، جیسا کہ بریرہ ؓ نے اپنی مکاتبت میں امداد کے لیے ام المومنین عائشہ ؓ سے درخواست کی اور انھوں نے پوری رقم یک مشت ادا کرکے انھیں خرید لیا اور آزاد کردیا۔ [ دیکھیے بخاري : 2168 ]
3 یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عہد نبوی میں غلام تین قسم کے تھے، ایک وہ جو اصل میں آزاد تھے، لیکن کسی نے اغوا کر کے یا زبردستی غلام بنا لیا، دوسرے وہ جو نسل در نسل غلام چلے آتے تھے اور تیسرے وہ جو جنگ میں گرفتار کرکے لونڈی یا غلام بنائے جاتے تھے۔ ان غلاموں کی خریدو فروخت ہوتی تھی اور مالک ان کی محنت کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ غلام ہوتے وہ اتنا ہی صاحب حیثیت سمجھا جاتا۔ اسلام نے جو غلام موجود تھے ان کی آزادی کے لیے ہر ممکن صورت اختیار فرمائی، مگر غلامی کو اس طرح ممنوع قرار نہیں دیا جس طرح شراب یا سود کو ممنوع قرار دیا اور نہ تمام غلام آزاد کرنے کا جبری حکم صادر فرمایا، بلکہ غلام آزاد کرنے کی ترغیب دی، اس کا ثواب بیان فرمایا۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے : (مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً أَعْتَقَ اللّٰہُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْہُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتّٰی یُعْتِقَ فَرْجَہُ بِفَرْجِہِ) [ ترمذي، النذور و الأیمان، باب ما جاء في ثواب من أعتق رقبۃ : 1541، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني صحیح ] ”جو شخص کوئی مومن گردن آزاد کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا ایک عضو آزاد کرے گا، یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کے بدلے اس کی شرم گاہ کو آزاد کرے گا۔“ کئی کاموں کا کفارہ گردن آزاد کرنا مقرر فرمایا، مثلاً قسم، ظہار، قتل خطا اور فرض روزے کی حالت میں جماع کے کفارے میں ترجیح غلام آزاد کرنے کو دی۔ اس کے باوجود غلامی کو ممنوع اس لیے قرار نہیں دیا کہ قیامت تک جنگیں ہوتی رہیں گی اور قیدی بنتے رہیں گے۔ ایسے مواقع پر ایک غیر مسلم حکومت کے فوجی مفتوح قوم کی عورتوں پر جس طرح کی دست درازیاں کرتے اور ظلم و ستم ڈھاتے ہیں وہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ گزشتہ دونوں عالمگیر جنگوں میں بےبس قیدی عورتوں میں سے ایک ایک عورت سے جس طرح کئی کئی فوجیوں نے اپنی ہوس پوری کی اور جس درندگی کا ثبوت دیا وہ ان نام نہاد مہذب بھیڑیوں کے ماتھے پر لعنت کا بدترین داغ ہے۔ ان بیچاریوں کی صحت یا عزت یا اولاد کا ذمہ دار بننے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا، جب کہ ہر ایک اپنی ہوس پوری کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہے۔ اسلام نے ایسی فحاشی اور درندگی کو حرام قرار دیا اور لونڈیاں بنانے کی پاکیزہ راہ کھولی، جس میں اسیر عورت ایک شخص کی لونڈی ہوتی ہے، صرف اس کے لیے اس سے بیوی کی طرح فائدہ اٹھانا جائز ہوتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی اولاد بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد کی طرح باپ کی وارث ہوتی ہے اور بچوں کی ماں بن جانے کی صورت میں وہ مالک کی وفات کے بعد خود بخود آزاد ہوجاتی ہے۔ اس کے وارث اسے آزاد کروانا چاہیں تو کسی حکومت سے معاملہ کرنے کے بجائے اس کے مالک سے لین دین کرکے آسانی کے ساتھ آزاد کروا سکتے ہیں۔ غرض اسلام کا غلامی کی اجازت دینا مردوں اور عورتوں کی پاکیزگی اور عفت کا ضامن ہے۔ کفار نے غلامی کو سرے سے ممنوع قرار دے کر قیدی بننے والے مردوں اور عورتوں پر کوئی احسان نہیں کیا، بلکہ ظلم و ستم اور بدکاری و درندگی کا دروازہ کھولا ہے اور یہی کفر کا نتیجہ ہے، جب کہ اسلام عدل، رحم، پاکیزگی اور پاک دامنی کا ضامن ہے اور غلاموں اور لونڈیوں کی سہولت اور آسائش کا اہتمام کرتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے انھیں آزادی دلانے کے راستے کھولتا ہے۔
وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ۔۔ : ”الْبِغَاۗءِ“ کا معنی زنا ہے، مگر یہ لفظ صرف عورت کے زنا پر بولا جاتا ہے، کہا جاتا ہے : ”بَغَتْ ، تَبْغِيْ بِغَاءً ، فَھِيَ بَغِيٌّ وَ لِلْجَمَاعَۃِ بَغَایَا۔“ ”فَتَیَاتٌ“ ”فَتَاۃٌ“ کی جمع ہے، معنی اس کا جوان لڑکی ہے، جیسا کہ ”فَتًی“ کا معنی جوان لڑکا ہے۔ عام طور پر غلام اور لونڈی پر ”عَبْدٌ“ اور ”أَمَۃٌ“ کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسا کہ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ) اس لیے غلام اور لونڈی پر ”عَبْدٌ“ اور ”أَمَۃٌ“ کا لفظ بولنا جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ غلام کے لیے ”فَتًی“ اور لونڈی کے لیے ”فَتَاۃٌ“ کا لفظ بولا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا یَقُلْ أَحَدُکُمْ عَبْدِيْ وَلَا أَمَتِيْ ، وَلْیَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِيْ وَغُلاَمِيْ) [ بخاری، العتق، باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق : 2552، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”تم میں سے کوئی شخص ”عَبْدِيْ“ اور ”أَمَتِيْ“ نہ کہے، بلکہ ”فَتَايَ“ ، ”فَتَاتِيْ“ اور ”غُلَامِيْ“ کہے۔“ یہاں لونڈیوں کے لیے ”إِمَاءَکُمْ“ کے بجائے ”فَتَيٰتِكُمْ“ کا لفظ استعمال کرنے میں ان لونڈیوں کی فتوت (جواں مردی) کا بیان مقصود ہے کہ وہ لونڈیاں ہو کر بھی پاک دامن رہنا چاہتی ہیں۔ (بقاعی) یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں۔“ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ پاک دامن نہ رہنا چاہیں تو انھیں بدکاری پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اہل علم نے اس کا دو طرح سے جواب دیا ہے، ایک یہ کہ بدکاری پر مجبور اسی کو کیا جاتا ہے جو پاک دامن رہنا چاہے، جو پاک دامن رہنا ہی نہ چاہے اسے بدکاری پر مجبور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ کہا جائے اسے بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ لفظ ”اِنْ“ (اگر) یہاں شرط کے لیے نہیں بلکہ اس واقعہ کے بیان کے لیے ہے جس پر یہ آیت اتری۔ واقعہ یہ تھا کہ عبداللہ بن ابی اور اس قسم کے بدقماش اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے، جب کہ وہ پاک دامن رہنا چاہتی تھیں۔ چناچہ جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک لونڈی کا نام مسیکہ تھا اور دوسری کا نام امیمہ تھا، وہ انھیں بدکاری پر مجبور کرتا تھا، ان دونوں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ کے پاس کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَنْ يُّكْرِھْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) [ مسلم، التفسیر، باب في قولہ تعالیٰ : (ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء) : 27؍3029 ] اس کی ایک مثال یہ آیت ہے : (وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ڰ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ النساء : 101 ] ”اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کرلو، اگر ڈرو کہ تمہیں وہ لوگ فتنے میں ڈال دیں گے جنھوں نے کفر کیا۔“ یہاں خوف کا ذکر شرط کے لیے نہیں بلکہ اس واقعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے جس موقع پر یہ آیت اتری تھی۔ یہ دوسرا جواب پہلے کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ لونڈیاں پاک دامن نہ بھی رہنا چاہیں تو ضروری نہیں کہ وہ اس شخص سے زنا پر بھی راضی ہوں جس پر ان کا مالک انھیں مجبور کر رہا ہے۔
لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر دنیا کا مال طلب کرنا مقصود نہ ہو تو لونڈیوں سے زنا کروایا جاسکتا ہے، بلکہ یہ بھی بیان واقعہ کے لیے ہے کہ یہ کام کرنے والوں کا مقصد دنیا کے سازو سامان کی طلب تھا۔ چناچہ صحیح مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ عبداللہ بن ابی اپنی ایک لونڈی سے کہا کرتا تھا کہ جاؤ اور ہمارے لیے کچھ تلاش کرکے لاؤ، تو اس پر یہ آیت اتری۔ [ دیکھیے مسلم : 3029 ] رسول اللہ ﷺ نے عورت کی بدکاری کی کمائی سے منع فرمایا، ابومسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ کی آمدنی اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایا۔“ [ بخاري، البیوع، باب ثمن الکلب : 2237 ] ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (لَا یَحِلُّ ثَمَنُ الْکَلْبِ وَلَا حُلْوَانُ الْکَاھِنِ وَلَا مَھْرُ الْبَغِيِّ) [ نساءي، الصید والذبائح، باب النھي عن ثمن الکلب : 4298 ] ”نہ کتے کی قیمت حلال ہے، نہ کاہن کی شیرینی اور نہ زانیہ کی آمدنی۔“
وَمَنْ يُّكْرِھْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : زنا ایک ایسا فعل ہے کہ مجبور ہو کر کرنے سے بھی نفس کی لذت کا دخل اس میں ہو ہی جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لونڈیوں کو مجبور کیے جانے کے بعد ان کی گناہ میں شرکت پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے غفور و رحیم ہے، ان کا گناہ مجبور کرنے والوں پر ہے۔ علی بن ابی طلحہ کی روایت سے ابن عباس ؓ کی تفسیر یہی ہے اور یہی ظاہر بھی ہے اور راجح بھی۔ تفسیر سعدی میں ہے : ”اس آیت میں لونڈیوں کو زنا پر مجبور کرنے والوں کو توبہ کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ بھی اگر توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کرنے کے گناہ کے بعد بھی غفور و رحیم ہے، اس لیے انھیں چاہیے کہ اللہ کی جناب میں توبہ کریں اور آئندہ اس جرم سے باز آجائیں۔“ اس آیت کے علاوہ اللہ کی رحمت کی ایک جھلک اس آیت میں بھی دکھائی دیتی ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ) [ البروج : 10 ] ”یقیناً وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔“ کوئی حد ہے اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت و رحمت کی کہ اس کے دوستوں کو آگ میں جلا کر تماشا دیکھنے والوں کے لیے بھی جہنم کے عذاب کی وعید تب ہے جب انھوں نے توبہ نہ کی ہو۔
Ayah 24:34وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ : ”مُّبَيِّنٰتٍ“ باب تفعیل سے اسم فاعل ”مُبَیِّنَۃٌ“ کی جمع ہے، یہ باب لازم و متعدی دونوں میں آتا ہے، یہاں دونوں معنی اکٹھے بھی مراد ہوسکتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات واضح اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کو خوب واضح کرنے والی بھی ہیں۔ ان آیات سے مراد نبی ﷺ پر نازل ہونے والی تمام آیات ہیں، اگرچہ سب سے پہلے اس سورت میں مذکور آیات و احکام مراد ہیں، جیسا کہ فرمایا : (سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَفَرَضْنٰهَا وَاَنْزَلْنَا فِيْهَآ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ) [ النور : 1 ] ”(یہ) ایک عظیم سورت ہے، ہم نے اسے نازل کیا اور ہم نے اسے فرض کیا اور ہم نے اس میں واضح آیات اتاری ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“
وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۔“ ”مَثَلًا“ کا معنی ہے ضرب المثل، وہ چیز جو دوسری چیز کے مشابہ ہو، کسی کا حال جو دوسرے کے حال سے ملتا جلتا ہو، کسی چیز کی صفت اور قصہ عجیبہ، یعنی ہم نے تمہاری طرف کھول کر بیان کرنے والی آیات نازل کی ہیں اور پہلے لوگوں کے کچھ احوال نازل کیے ہیں جو تمہارے احوال سے ملتے جلتے ہیں۔ اس میں وہ احکام و حدود بھی شامل ہیں جو امت مسلمہ کی طرح پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، مثلاً زنا کی حد، قصاص، فحاشی کی اشاعت کی روک تھام وغیرہ اور پہلی امتوں کے وہ حالات و واقعات جو اس امت کے احوال سے ملتے جلتے ہیں، مثلاً عائشہ ؓ پر بہتان کا واقعہ اور مریم [ پر یہودیوں کے بہتان اور یوسف ؑ پر عزیز مصر کی بیوی کے بہتان کا واقعہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ تینوں واقعات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی پاک دامنی قیامت تک کے لیے قرآن میں ثبت فرما دی اور بہتان لگانے والوں کا جھوٹ ہمیشہ کے لیے واضح کردیا۔
وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ : ”أَيْ وَ أَنْزَلْنَا مَوْعِظَۃً“ یعنی ہم نے ڈرنے والوں اور نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے عظیم نصیحت نازل فرمائی، کیونکہ جسے اللہ کا خوف نہیں اسے ان آیات سے کچھ حاصل نہیں۔
Ayah 24:35اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ”اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے“ یعنی آسمان و زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں۔ وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہ ہو۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین اور آسمان کی۔ اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہوجائیں۔“ یاد رہے، یہاں اللہ کے آسمان و زمین کا نور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور آسمان و زمین کا نور ہے اور اسے روشن کرنے والا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور نور کی مثال بیان کی گئی ہے، جب کہ اللہ کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ) [ الشورٰی : 11 ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ دوسری دلیل یہ کہ اس آیت میں اس نور کا ذکر ہے جس سے آسمان و زمین روشن ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور حجاب کے پیچھے ہے۔ ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِيْ لَہُ أَنْ یَّنَامَ ، یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ یَرْفَعُہُ ، یُرْفَعُ إِلَیْہِ عَمَلُ اللَّیْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّھَارِ وَ عَمَلُ النَّھَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّیْلِ ، حِجَابُہُ النُّوْرُ ، لَوْ کَشَفَہُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہِ) [ مسلم، الإیمان، باب في قولہ ؑ ”إن اللہ لا ینام“۔۔ : 179 ] ”اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق میں سے ہر اس چیز کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“
3 اس آیت میں ”نُور“ کا معنی ”ذُوْ نُوْرٍ“ ہے، یعنی روشن کرنے والا، جیسا کہ ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ کا معنی یہ نہیں کہ زید عدل و انصاف ہے، بلکہ اس کا معنی ہے کہ زید عدل و انصاف والا ہے۔ بعض مفسرین نے یہی مفہوم ان الفاظ میں ادا فرمایا : (َللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) یعنی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو روشن فرمایا۔ (نقلہ ابن کثیر عن ضحاک) آسمانوں اور زمین سے سارا جہان مراد ہے، یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ نور سے روشن ہے۔ یہ نور حسی بھی ہے اور معنوی بھی۔
حسی کی کئی قسمیں ہیں، ایک وہ نور جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشن کرتا ہے، جیسے سورج، چاند، ستارے، بجلی، آگ، ہر قسم کے چراغ، جگنو اور ہر وہ حیوان یا درخت جس سے روشنی نکلتی ہے، یہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ ایک وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حسن یا توانائی کی کسی نہ کسی شکل میں کائنات کے ہر ذرّے میں ودیعت کر رکھا ہے، مثلاً چہرے کا حسن چہرے کا نور کہلاتا ہے، گھر کے افراد گھر کا نور ہوتے ہیں، گلے کا نور آواز کی صورت میں روشنی بکھیرتا ہے، زبان کا نور بولنے سے ظاہر ہوتا ہے، ہر عضو کی توانائی اس کا نور ہے۔ سمندر، پہاڑ، درخت، صحرا غرض ہر چیز کا حسن و جمال اور ان کے منافع اللہ کا نور ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت کر رکھا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کردہ ہے۔ نور کی ایک قسم ہر عضو کی وہ استعداد ہے جس سے حیوان یا انسان کائنات میں پھیلے ہوئے نور کا ادراک کرتا ہے، مثلاً آنکھ میں بینائی کا نور ہے، یہ نہ ہو تو نہ سورج چاند یا کوئی روشنی نظر آئے، نہ اس سے روشن کائنات کے ذرّے ذرّے میں پھیلا ہوا حسن نظر آئے، اس لیے نابینے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں۔ کان کا نور اس کے سننے کی قوت ہے۔ اسی طرح چھونے، چکھنے، سونگھنے کی قوتیں ان اعضا کا نور ہیں جن میں یہ رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح بھوک پیاس، جنسی اشتہا، غرض بیشمار استعدادات ہیں جو اپنے اپنے متعلقہ عضو کا نور ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ نے کیا خوب خلاصہ نکالا ہے جو اوپر گزرا کہ اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین و آسمان کی، اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہوجائیں۔
معنوی نور کی بھی کئی قسمیں ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جس سے ضلالت کے اندھیرے ختم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا یہ نور پیغمبروں کے ذریعے سے نازل فرمایا، اللہ نے فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا) [ النساء : 174 ] ”اے لوگو ! بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔“ اور فرمایا : (هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِهٖٓ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) [ الحدید : 9 ] ”وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر یقیناً بیحد نرمی کرنے والا نہایت مہربان ہے۔“ اور فرمایا : (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) [ البقرۃ : 257 ] ”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ اور فرمایا : (قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ) [ المائدۃ : 15 ] ”بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔“ مزید دیکھے سورة انعام (122) اور سورة شوریٰ (52)۔
اس معنوی نور کی دوسری قسم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے کی وہ استعداد ہے جو مومن کے دل میں ہوتی ہے، جو شروع ہی سے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں رکھ دی ہے، مگر بعض اوقات وہ ماحول کے اثر یا اپنی بدعملی کی وجہ سے اس سے محروم ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِیْمَۃُ بَھِیْمَۃً جَمْعَاءَ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِیْھَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟) [ بخاري، تفسیر سورة الروم، باب لا تبدیل لخلق اللہ : 4775، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ پیدا ہوتا ہے تو پورے اعضا والا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کوئی کان کٹا یا ناک کٹا دیکھتے ہو (یعنی اس کا کان یا ناک بعد میں لوگ کاٹتے ہیں)۔“ ہدایت کا یہ نور اگر کسی دل میں نہ ہو تو جتنے بھی انبیاء آجائیں یا جتنی بھی آیات الٰہی نازل ہوں دل کے اندھے کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر یہ نور آنکھوں یا کانوں میں نہ ہو تو تمام معجزے اور ہر وعظ و نصیحت بےکار ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا) [ الأعراف : 179 ] ”ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔“
مطلب ساری آیت کا یہ ہے کہ کائنات کی ساری رونق اور آبادی اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہ رہ جائے، نور کے تمام ذرائع مثلاً سورج چاند وغیرہ، ان سے روشن ہونے والی کائنات اور ان کا ادراک کرنے والا نور اسی کا پیدا کردہ ہے، اسی طرح ایمان کا نور بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اسی نے وحی بھیجی، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور دلوں میں انھیں قبول کرنے کا نور رکھا۔
اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ میں اگرچہ حسی و معنوی تمام نور داخل ہیں اور سب ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں، مگر زیر تفسیر آیت میں مراد ہدایت کا نور ہے کہ وہ صرف اللہ کی عطا ہے، اس کا ایک قرینہ اس سے پہلی آیت ہے، جس میں ”اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ“
اور گزشتہ اقوام کے کچھ حالات اور متقین کے لیے نصیحت نازل کرنے کا ذکر ہے اور ایک قرینہ خود اس آیت میں موجود ہے کہ ”يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ“ اور تیسرا قرینہ اس سلسلہ کلام کی آخری آیت کا اختتام ہے، فرمایا : (وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ) [ النور : 40 ] ”اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔“ اس لیے ترجمان القرآن عبداللہ بن عباس ؓ سے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ یہ تفسیر آئی ہے کہ انھوں نے فرمایا : ”(اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ) یَقُوْلُ : اللّٰہُ سُبْحَانَہُ ھَادِيْ أَھْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“ [ طبري : 26292 ]”اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ“ کا معنی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ آسمانوں اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔“
شیخ المفسرین طبری نے یہی تفسیر اختیار کی ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے یہ تفسیر ذکر کرکے اسے قائم رکھا ہے، مگر ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ تفسیر نور کی دوسری انواع کو اس کی تفسیر میں داخل کرنے سے مانع نہیں ہے۔ (تفسیر سورة النور از ابن تیمیہ) ابن کثیر نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسے فرمایا : (اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰي نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ) [ الزمر : 22 ] ”تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے۔“
مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ۔۔ : ”مِشْکَاۃٌ“ دیوار میں طاق جو دیوار کے آر پار نہ ہو، ”زُجَاجَةٍ“ شیشے کا فانوس۔ ”دُرِّيٌّ“ ”دُرٌّ“ کے ساتھ یاء نسبت لگانے سے ”دُرِّيٌّ“ بن گیا، موتی کی طرح چمکتا ہوا۔ ”لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ“ کے الفاظ سے زیتون کے اس تیل کی عمدگی اور شفافیت بیان کرنا مقصود ہے۔ اہل علم سے اس کی دو تفسیریں آئی ہیں، ایک یہ کہ وہ تیل زیتون کے ایسے درخت سے حاصل ہوا ہے جو نہ مشرقی ہے کہ اس کے مغرب میں کوئی پہاڑ یا اوٹ ہو، جس کی وجہ سے اس پر صرف دن کے پہلے پہر کی دھوپ پڑتی ہو اور نہ مغربی ہے کہ اس کے مشرق میں کوئی پہاڑ یا اوٹ ہو جس کی وجہ سے اس پر صرف دن کے پچھلے پہر کی دھوپ پڑتی ہو، بلکہ وہ درخت کھلی جگہ میں ہے جس پر سارا دن سورج کی دھوپ پڑتی ہے، ایسے درخت کا تیل زیادہ صاف اور عمدہ ہوتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ زیتون کا وہ درخت نہ مشرق کی جانب ہے نہ مغرب کی طرف، بلکہ دوسرے درختوں کے عین درمیان واقع ہے، جس پر صرف جنوب کی طرف سے سورج کی دھوپ پڑتی ہے۔ درختوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے وہ سورج کی مسلسل تپش سے محفوظ رہتا ہے، جس سے اس کے پھل کی رطوبت پوری طرح محفوظ رہتی ہے۔ دونوں تفسیریں سلف سے مروی ہیں، دوسری تفسیر ابی بن کعب ؓ سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”اور زیتون نہ شرق کا نہ غرب کا، یعنی باغ کے بیچ کا، نہ صبح کی دھوپ کھاوے نہ شام کی، خوب ہرا اور چکنا رہے۔“
مَثَلُ نُوْرِهٖ“ یعنی ”اس کے نور کی مثال“ سے مراد کس کے نور کی مثال ہے اور مثال کس طرح ہے ؟ میں نے جتنی تفسیریں دیکھی ہیں سب سے واضح تفسیر ترجمان القرآن ابن عباس ؓ کی ہے، جو طبری نے علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس ؓ کی معتبر سند کے ساتھ نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں : (ۭ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ) قَالَ مَثَلُ ھَدَاہُ فِيْ قَلْبِ الْمُؤْمِنِ کَمَا یَکَاد الزَّیْتُ الصَّافِيْ یُضِيْءُ قَبْلَ أَنْ تَمَسَّہُ النَّارُ فَإِذَا مَسَّتْہُ النَّارُ ازْدَادَ ضَوْءًا عَلٰی ضَوْءٍ کَذٰلِکَ یَکُوْنُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ یَعْمَلُ بالْھُدٰی قَبْلَ أَنْ یَّأْتِیَہُ الْعِلْمُ فَإِذَا جَاءَ ہُ الْعِلْمُ ازْدَادَ ھُدًی عَلٰی ھُدًی وَ نُوْرًا عَلٰی نُوْرٍ) [ طبري : 26313 ] ”اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے“ فرمایا : ”مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی مثال اس طرح ہے جیسے صاف زیتون کا تیل، قریب ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی روشن ہوجائے کہ اسے آگ چھوئے، پھر جب اسے آگ چھوتی ہے تو وہ روشنی پر روشنی میں بڑھ جاتا ہے، ایسے ہی مومن کا دل ہے کہ اس سے پہلے ہی ہدایت پر عمل کرنے والا ہوتا ہے کہ اس کے پاس علم آئے، پھر جب اس کے پاس علم آتا ہے تو وہ ہدایت پر ہدایت میں بڑھ جاتا ہے اور نور پر نور میں بڑھ جاتا ہے۔“
3 آیت میں مومن کے دل میں اللہ کی ہدایت کے نور کو مثال دے کر زیادہ سے زیادہ روشن بیان کرنا مقصود ہے، اس کے لیے اسے ایسے چراغ کی روشنی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو آیت کے نزول کے وقت رات کے اندھیرے میں روشنی کے لیے انسانی استعمال میں آنے والی سب سے روشن چیز تھی اور اس کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے جو اسباب و ذرائع ہوسکتے تھے وہ بھی ساتھ ذکر فرمائے۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ چراغ ایک طاق میں ہے، طاق میں ہونے کی وجہ سے اس کی شعائیں مجتمع ہو کر زیادہ روشنی کا باعث بنتی ہیں، اگر وہ کسی کھلی جگہ میں ہوتا تو اس کی شعائیں بکھر جاتیں۔ دوسری چیز اس کی روشنی کو بڑھانے والی یہ ہے کہ وہ چراغ شیشے کے ایک فانوس میں ہے، جس سے وہ ہوا کے تھپیڑوں سے محفوظ ہے اور فانوس کی وجہ سے اس کی روشنی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ تیسری چیز یہ کہ وہ فانوس عام شیشے کا بنا ہوا نہیں کہ روشنی میں معمولی اضافے کا باعث ہو، بلکہ اتنا شفاف اور چمک دار ہے جیسے کوئی چمکتا ہوا تارا ہو۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ وہ چراغ کسی عام تیل سے روشن نہیں کیا جا رہا، بلکہ تیل کی تمام قسموں میں سے جو تیل سب سے شفاف، سب سے زیادہ روشنی دینے والا اور سب سے کم دھواں دینے والا ہے وہ اس کے ساتھ روشن کیا جا رہا ہے، جو روغن زیتون ہے۔ پانچویں چیز یہ ہے کہ زیتون کا وہ تیل ردی یا خراب قسم کا نہیں کہ ایسے پھلوں سے نکالا گیا ہو جو نکمے اور خشک ہوں، بلکہ ایسے درخت کے پھلوں سے نکالا گیا ہے جو نہایت سرسبز و شاداب ہے اور جس کے پھل صاف روغن سے بھرپور ہیں۔ چھٹی چیز یہ کہ وہ تیل اتنا شفاف ہے کہ آگ لگائے بغیر بھی ایسے دکھائی دیتا ہے کہ ابھی اس سے روشنی پھوٹنے لگے گی۔ نور پر نور یعنی نور کو جس طرح بھی بڑھایا جاسکتا ہے اسی طرح اسے زیادہ سے زیادہ روشن کیا گیا ہے۔ اس میں جس کو تشبیہ دی گئی ہے وہ مومن کے دل میں اللہ کی ہدایت کا نور ہے اور جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے وہ ایسے چراغ کی روشنی ہے جس میں ہر اس طریقے سے اضافہ کیا گیا ہے جس سے اضافہ ہوسکتا ہے، یعنی تشبیہ ایک چیز سے نہیں بلکہ اس چراغ کی مجموعی صورت سے ہے، اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں۔ اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی تشبیہ مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ نہیں دی جاتی، بلکہ مشبّہ کی مجموعی صورت کی تشبیہ مشبّہ بہ کی مجموعی صورت کے ساتھ دی جاتی ہے۔ ابن عباس ؓ کی تفسیر کا انداز یہی ہے، البتہ بعض اہل علم نے مشبّہ کے اجزا کو مشبّہ بہ کے ایک ایک جز سے تشبیہ دی ہے۔ چناچہ طبری (26310) نے معتبر سند کے ساتھ ابو العالیہ سے ابی بن کعب ؓ کی تفسیر نقل فرمائی ہے، ان کے مطابق طاق سے مراد مومن کا سینہ ہے، فانوس سے مراد مومن کا دل ہے، چراغ وہ ایمان اور قرآن ہے جو مومن کے دل میں ہے۔ ستارے کی طرح چراغ کے روشن ہونے سے مراد مومن کے دل کا نور ایمان سے منور ہونا ہے۔ شجرہ مبارکہ سے اس چراغ کے روشن ہونے سے مراد اس کا اللہ وحدہ کے لیے اخلاص اور اس کی عبادت سے روشن ہونا ہے۔ ”لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ“ سے مراد ایسے درخت سے تشبیہ ہے جو گھنے درختوں کے درمیان گھرا ہوا ہے، چناچہ وہ نہایت سبز اور چکنا ہے، اسے شدید دھوپ نہیں پہنچتی، نہ سورج کے طلوع ہوتے وقت نہ غروب ہوتے وقت، اسی طرح مومن کا دل اس سے محفوظ ہے کہ اسے مختلف حالات نقصان پہنچائیں، اگر وہ ایسے انقلابات کی زد میں آتا بھی ہے تو اللہ اسے ثابت رکھتا ہے۔ یہ بھی ایک جلیل القدر صحابی کی تفسیر ہے، جو سید القراء تھے۔ ”نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ ۭ“ یعنی وہ نور تہ بہ تہ ہے اور اسے قوت دینے والی اور زیادہ روشن کرنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہی جس نے اسے مزید روشن نہ کیا ہو۔
يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جب اللہ کے نور ہدایت سے آسمان و زمین روشن ہیں، تو کافر اس سے کیوں محروم ہیں اور عائشہ صدیقہ ؓ کی اظہر من الشمس براءت کے باوجود ان پر بہتان لگانے والے اس سے اندھے کیوں رہے ؟ فرمایا، اللہ اس نور کا مالک ہے، وہ اپنی چیز جسے چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، اگر وہ کسی کو بھی نہ دے تو ظالم نہیں، مگر یہ اس کا کرم ہے کہ جو ہدایت کے قابل ہو اسے ضرور ہدایت دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ) [ القصص : 56 ] ”بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَال للنَّاسِ : یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے حسب حال مثالیں بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید میں تقریباً ہر اہم مسئلے کے ساتھ کوئی نہ کوئی مثال بیان ہوئی ہے، کیوں کہ اس سے بات خوب ذہن نشین ہوجاتی ہے۔
وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ : اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، جس میں سے یہ بھی ہے کہ کس بات کے لیے کون سی مثال موزوں ہے اور ہدایت کے لائق کون ہے اور کون نہیں۔
Ayah 24:36فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ : ”بُيُوْتٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”ان عظیم گھروں میں“ کیا گیا ہے۔ ”اَذِنَ“ کا لفظ اجازت اور حکم دونوں معنوں میں آتا ہے، یہاں مراد حکم ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ) [ النساء : 64 ] ”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی فرماں برداری کی جائے۔“
”فِيْ بُيُوْتٍ“ جار مجرور کس کے متعلق ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں کئی الفاظ ہیں جن میں سے کسی کے بھی متعلق کردیں تو معنی درست ہوتا ہے، مثلاً ”نورٌ، کَمشکٰوۃ، مِصْباح، الزُّجاجۃ“ اور ”یوقد“ یعنی وہ نور ہدایت ایسے عظیم گھروں میں ملتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ”جب اللہ تعالیٰ نے مومن کے دل کی اور اس میں موجود علم اور ہدایت کی مثال ایسے چراغ کے ساتھ دی جو شفاف فانوس میں ہے اور نہایت عمدہ تیل کے ساتھ روشن کیا جا رہا ہے، تو اس کی جگہ بیان فرمائی کہ وہ جگہ زمین کے تمام قطعوں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب قطعہ اللہ کی مسجدیں ہیں، جن میں اس کی عبادت ہوتی ہے اور اس کی توحید کا اعلان ہوتا ہے۔“
”اَنْ تُرْفَعَ“ کا لفظی معنی ہے ”کہ وہ (گھر) بلند کیے جائیں“ مگر یہاں بلند کرنے سے مراد یہ نہیں کہ ان کی عمارت زیادہ سے زیادہ اونچی بنائی جائے، کیونکہ اگر یہ مطلب ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ انھیں کھجور کے تنوں اور ٹہنیوں سے نہ بناتے اور آپ ﷺ یہ نہ فرماتے : (مَا أُمِرْتُ بِتَشْیِیْدِ الْمَسَاجِدِ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب في بناء المساجد : 448، قال الألباني صحیح، عن ابن عباس ؓ ] ”مجھے مساجد کو اونچا بنانے یا چونا گچ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔“ اس سے مراد ان کی تعظیم و تکریم ہے۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل فرمائی ہے : ”(فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ) وَھِيَ الْمَسَاجِدُ تُکْرَمُ وَ نُھِيَ عَنِ اللَّغْوِ فِیْھَا“ [ طبري : 26336 ] ”اس آیت میں ”بُيُوْتٍ“ سے مراد مساجد ہیں، ان کی تکریم و تعظیم کی جائے اور ان میں لغو کاموں سے منع کیا گیا۔“ ابن عباس ؓ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ ”بُيُوْتٍ“ سے مراد مساجد ہیں اور انھیں بلند کرنے سے مراد ان کی تکریم اور ان میں لغو کاموں سے بچنا ہے۔ ”رفع مساجد“ یعنی مسجدوں کی تعظیم و تکریم میں انھیں ہر محلے میں بنانا، ان میں جھاڑو پھیرنا، انھیں نجاست اور گندگی سے پاک رکھنا، انھیں خوشبو دار رکھنا، تحیۃ المسجد پڑھے بغیر ان میں نہ بیٹھنا، ان میں تھوکنے سے، غلط اور شرکیہ اشعار پڑھنے سے، بےہودہ باتوں اور شوروغل سے بچنا، گم شدہ چیز کا ان میں اعلان نہ کرنا اور ان میں خریدو فروخت نہ کرنا، سب کچھ شامل ہے۔ علاوہ ازیں حائضہ اور جنبی کو مسجد میں داخلے سے ممانعت، بدبودار چیز کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت، مسجد کو راستے کے طور پر استعمال کرنے کی ممانعت اور مساجد میں حدود اللہ قائم کرنے سے ممانعت بھی ان کی نظافت اور تکریم ہی کی وجہ سے ہے۔ ان میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں اور نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے رکھنا ان کی تکریم کا حصہ ہے۔ اسی طرح ان میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ سے رحمت کی درخواست اور شیطان مردود سے پناہ کی طلب اور نکلتے وقت اللہ کے فضل کی درخواست واضح علامت ہے کہ بندہ کسی عام جگہ میں داخل یا اس سے خارج نہیں ہو رہا، بلکہ ایک نہایت عظمت والے مقام میں داخل ہو رہا ہے، یا اس سے نکل رہا ہے۔ ان تمام باتوں کی تفصیل آیات و احادیث میں موجود ہے اور تھوڑی سے توجہ سے بآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں اس کا خاصا حصہ مذکور ہے۔
وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ : مساجد میں اللہ کا نام یاد کرنے میں فرض اور نفل سب نمازیں شامل ہیں، اسی طرح اس میں قرآن مجید کی تلاوت، اللہ کی تسبیح، اس کی حمد، لا الٰہ الا اللہ اور دوسرے تمام اذکار شامل ہیں۔ علم کا سیکھنا سکھانا، اس کا باہم مذاکرہ، اعتکاف اور دوسری تمام عبادات شامل ہیں جو مساجد میں ادا کی جاتی ہیں۔
يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ : ”بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ“ کے لیے دیکھیے سورة اعراف کی آیت (205) یعنی ان مساجد میں بڑی شان والے مرد خلوص کے ساتھ اللہ کے لیے صبح و شام تسبیح بیان کرتے ہیں۔ تسبیح میں اگرچہ سب اذکار آجاتے ہیں اور عموماً اذکار روزانہ صبح و شام ہی کیے جاتے ہیں، مگر ترجمان القرآن ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر فرض نماز کے ساتھ فرمائی ہے۔ چناچہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ کے طریق سے ابن عباس ؓ کی تفسیر بیان فرمائی ہے، انھوں نے فرمایا : ”رِجَالٌ“ کا مطلب یہ ہے کہ بڑی شان والے وہ مرد پہلے اور پچھلے پہر ان میں اللہ کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ ”غُدُوٌّ“ سے مراد صبح کی نماز ہے اور ”آصَالٌ“ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ یہ دونوں نمازیں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے فرض فرمائیں، اس لیے اس نے پسند فرمایا کہ ان نمازوں کا ذکر کرے اور ان کے ساتھ اپنی عبادت کا ذکر کرے۔“
[ طبري : 26351 ]
قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی تسبیح بول کر نماز مراد لی گئی ہے، دیکھیے سورة طٰہٰ (130) ، سورة ق (39، 40) اور سورة طور (49) بعض مفسرین نے ”وَالْاٰصَال“ سے چاروں نمازیں مراد لی ہیں۔ بغوی نے فرمایا : ”کیونکہ ”وَالْاٰصَال“ میں وہ چاروں آجاتی ہیں۔“ ”صَیْلٌ“ کا لفظ سورج ڈھلنے سے لے کر فجر سے پہلے تک بھی بولا جاتا ہے، اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے یہ تفسیر درست ہے، تاہم شان نزول کو مدنظر رکھیں تو ابن عباس ؓ کی تفسیر راجح ہے۔
Ayah 24:37رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ۔۔ : ”رِجَالٌ“ پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی شان والے مرد“ کیا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ ”تجارت“ کے بعد ”بیع“ کو ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے، جب کہ بیع بھی تجارت ہی ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تجارت ایک وسیع عمل ہے، جس میں مختلف اشیاء خریدنے کے لیے سفر کرنا، انھیں مناسب مقام سے مناسب وقت پر مناسب قیمت کے ساتھ خریدنا، انھیں محفوظ کرکے رکھنا، پھر بیچنے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں رہنا، اس کے لیے دکان پر بیٹھنا، گاہک کا انتظار کرنا اور مناسب وقت پر فروخت کردینا سب کچھ شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمانے کے بعد کہ ان عظیم مردوں کو اللہ کے ذکر اور اقامت صلاۃ اور ادائے زکوٰۃ سے تجارت میں درکار کوئی عمل غافل نہیں کرتا، تجارت کے تمام کاموں میں سے خاص اس کام کا ذکر فرمایا جو تجارت کی ساری محنت کا نتیجہ ہے اور وہ ہے بیع، یہ لفظ بیچنے اور خریدنے دونوں پر بولا جاتا ہے، یعنی اللہ کے ان بندوں کو تجارت میں درکار کوئی کام اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتا، حتیٰ کہ خریدو فروخت کا عمل، جو تجارت کی ساری محنت کا نتیجہ ہے اور جس سے نفع حاصل ہوتا ہے، وہ بھی انھیں اللہ کے ذکر سے نہیں روکتا۔ اذان ہونے پر خواہ کوئی چیز بک رہی ہو یا خریدی جا رہی ہو اور خواہ کتنا نفع حاصل ہو رہا ہو وہ دنیا کے اس نفع کو لات مار کر اللہ کے گھر میں حاضر ہوجاتے ہیں۔
عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کے ذکر سے مراد دل میں اسے یاد رکھنا اور زبان سے اس کا ذکر دونوں مراد ہیں، یعنی وہ تجارت کے کسی موقع پر حتیٰ کہ خریدو فروخت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولتے، نہ کسی سودے میں ایسا کام کرتے ہیں جس سے اس نے منع فرما دیا ہے اور ان کی زبان پر ہر وقت اللہ کا ذکر ہی رہتا ہے۔ وہ بات بات پر الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ وغیرہ کہتے ہیں اور خاموشی کی حالت میں بھی ان کی زبان اللہ کے ذکر سے تر رہتی ہے، وہ اس حکم پر کاربند رہتے ہیں : (لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ) [ ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في فضل الذکر : 3375 ] ”تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا) [ الأحزاب : 41 ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کو یاد کرو، بہت یاد کرنا۔“
وَاِقَام الصَّلٰوةِ وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوةِ : نماز کی اقامت میں اسے وقت پر ادا کرنا اور اس کے تمام ارکان کو صحیح طریقے سے ادا کرنا سب کچھ شامل ہے، یعنی کوئی تجارت یا خریدو فروخت اللہ کے ذکر اور اقامت صلاۃ اور ادائے زکوٰۃ میں ان کے لیے غفلت کا باعث نہیں بنتی۔
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ دنیا کا کاروبار چھوڑ کر اللہ اللہ کرتے رہو، یہ تو رہبانیت ہے جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے نہیں دی۔ اللہ کے تمام جلیل القدر پیغمبر محنت کے ساتھ کمائی کرتے تھے، آدم ؑ مویشی پالنے، کھیتی باڑی، صنعت و حرفت اور ضرورت کے سارے کام خود کرتے تھے۔ زکریا ؑ نجار تھے، داؤد ؑ زرہیں بناتے تھے۔ تمام پیغمبروں نے بکریاں چرائی ہیں، ہمارے نبی ﷺ نے نبوت سے پہلے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں، تجارت بھی کی ہے، آخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کا رزق آپ کے نیزے کے سائے تلے رکھ دیا تھا۔ صحابہ کرام ؓ کا بھی یہی حال تھا، کوئی مویشی پالتا تھا، کوئی کاشت کار تھا، کوئی صنعت کار، کوئی تجارت کرتا تھا، کوئی مزدوری، البتہ جہاد میں سبھی شامل تھے، جو رزق کا سب سے باعزت ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایتائے زکوٰۃ (زکوٰۃ دینے) کے حکم میں بھی کسب حلال کی ترغیب ہے کہ مال نہیں کمائے گا تو زکوٰۃ کس سے دے گا۔ اسی لیے جب رسول اللہ ﷺ صدقے کی اپیل کرتے تو بعض صحابہ بوجھ اٹھا کر اور بعض رات بھر ڈول کھینچ کر جو کچھ کماتے پیش کردیتے۔ دیکھیے سورة توبہ کی آیت (79) کی تفسیر۔
امت مسلمہ کی بدنصیبی کا آغاز اس دن سے ہوا جب ان لوگوں کو اولیاء اللہ قرار دے دیا گیا جنھوں نے جہاد کرنا تو دور، حلال کمانا بھی چھوڑ دیا اور اللہ پر توکّل کے نام پر لوگوں کے لقموں پر پلنا شروع کردیا۔ ان کے ترک دنیا اور خود ساختہ زہد سے متاثر ہو کر لوگ ان پر اپنا مال نچھاور کرنے لگے کہ ان بزرگوں کے طفیل ہم بھی کچھ کیے کرائے بغیر بخشے جائیں گے۔ جب یہ حضرات لوگوں کی نظروں میں نیکی کا معیار بن گئے تو کفار کو مسلمانوں پر چڑھ دوڑنے کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں کی نگاہوں میں ان اعلیٰ ترین لوگوں نے تجارت، صنعت، زراعت، حرب و ضرب سب کچھ چھوڑا تو عوام اور حکمرانوں کی نظر میں بھی یہ کام دنیا پرستی ٹھہرے۔ نتیجہ وہ غلامی ہے جس کا عذاب امت مسلمہ جھیل رہی ہے۔ جب تک یہ امت روزانہ ہزار ہزار رکعت پڑھنے والے، دنیا ترک کرکے مساجد کو چھوڑ کر خانقاہوں کو آباد کرنے والے، کسی معشوق یا شیخ کے تصور میں عمر گزارنے والے، دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والے عزت مآب راہبوں کی حقیقت کو نہیں سمجھے گی اور خیر القرون کے صحابہ و تابعین کے عمل کی طرف نہیں پلٹے گی، تو کوئی طاقت انھیں ذلت و رسوائی سے نہیں نکال سکتی۔
3 اللہ تعالیٰ کو مطلوب یہ ہے کہ اس کے بندے دنیا کے سب جائز کام کریں، مگر وہ کام ان کے لیے اس کی یاد اور اس کے احکام کی بجا آوری میں رکاوٹ نہ بنیں۔ امام بخاری ؓ نے ”کِتَابُ الْبُیُوْعِ ، بَاب التِّجَارَۃِ فِي الْبَزِّ وَ غَیْرِہِ“ (کپڑے وغیرہ کی تجارت کے باب) میں آیت : (رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ) نقل فرمانے کے بعد جلیل القدر تابعی قتادہ کا قول نقل فرمایا ہے، جس میں انھوں نے صحابہ کرام ؓ کا حال بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں : (کَانَ الْقَوْمُ یَتَبَایَعُوْنَ وَ یَتَّجِرُوْنَ وَلٰکِنَّھُمْ إِذَا نَابَھُمْ حَقٌّ مِنْ حُقُوْقِ اللّٰہِ لَمْ تُلْھِھِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ حَتّٰی یُؤَدُّوْہُ إِلَی اللّٰہِ) [ بخاري، بعد ح : 2059 ] ”وہ لوگ خریدو فروخت کرتے اور تجارت کرتے تھے، لیکن جب ان کے سامنے اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق آجاتا تو کوئی تجارت یا کوئی خریدو فروخت انھیں اللہ کے اس حق کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتی تھی۔“
3 یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ کے گھروں میں تسبیح کرنے والوں میں سے یہاں صرف مردوں کا ذکر فرمایا، تو کیا عورتیں مسجد میں نہیں جا سکتیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی مردانگی کا ذکر ہے جو تجارت اور خریدو فروخت چھوڑ کر مسجدوں میں جماعت کے ساتھ آ ملتے ہیں اور ظاہر ہے یہ کام مردوں کا ہے، عورتوں کا نہیں۔ (رازی) رہا عورتوں کا مسجد میں آنا تو یہ بات معروف ہے کہ وہ مسجد نبوی میں جماعت کے ساتھ شریک ہوتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے انھیں مسجدوں میں آنے کی اجازت دی اور روکنے سے منع فرمایا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں : ”عمر ؓ کی ایک بیوی صبح اور عشاء کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھتی تھی (عمر ؓ اسے ناپسند کرتے اور غیرت کھاتے تھے) اسے کسی نے کہا : ”تم کیوں نکلتی ہو، جب کہ تمہیں معلوم ہے کہ عمر اسے ناپسند کرتے ہیں اور غیرت کھاتے ہیں ؟“ اس نے کہا : ”انھیں کیا مانع ہے کہ مجھے (جانے سے) روک دیں ؟“ تو اس نے کہا، انھیں رسول اللہ ﷺ کا فرمان مانع ہے : (لَا تَمْنَعُوْا إِمَاء اللّٰہِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ) [ بخاري، الجمعۃ، باب : 900 ] ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے منع مت کرو۔“ البتہ آپ ﷺ نے عورتوں کے گھر میں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا ہے۔ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا تَمْنَعُوْا نِسَاءَ کُمُ الْمَسَاجِدَ وَ بُیُوْتُھُنَّ خَیْرٌ لَّھُنَّ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب ما جاء في خروج النساء إلی المسجد : 567 ] ”اپنی عورتوں کو مسجدوں سے مت روکو اور ان کے گھر ان کے لیے زیادہ اچھے ہیں۔“
يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ : یعنی ان مردوں کا اللہ کے گھروں میں ذکر و تسبیح کرنا اس دن کے خوف کی وجہ سے ہے جب دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی، یعنی دل اور آنکھیں خوف اور گھبراہٹ کی شدت سے اپنی معمول کی جگہ چھوڑ دیں گی، جیسا کہ فرمایا : (وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَـنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ) [ المؤمن : 18 ] ”اور انھیں قریب آنے والی گھڑی سے ڈرا جب دل گلوں کے پاس غم سے بھرے ہوں گے۔“ اور فرمایا : (ڛ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ) [ إبراھیم : 42 ] ”وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔“
Ayah 24:38ڎلِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا : اس کا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے : ”أَيْ ثَوَابَ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا“ کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان بہترین اعمال کا ثواب دے جو انھوں نے کیے، اور یہ بھی : ”أَيْ أَحْسَنَ جَزَاءٍ مَا عَمِلُوْا“ کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا بہترین بدلا دے جو انھوں نے کیے۔ دوسرا معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے فرمایا : (وَاللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ)”اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔“