Ayah 5:96سمندر کا شکار
قول باری ہے (احل لکم صید البحر و طعامہ ، تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا) حضرت ابن عباس ، حضرت زید بن ثابت، سعید بن جبیر، سعید بن المسیب، قتادہ ، سدی اور مجاہد کا قول ہے کہ سمندر کے شکار سے مراد وہ شکار ہے جو جال کے ذریعے تازہ پکڑا جائے۔
قول باری (وطعامہ) کے متعلق حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ مردہ جانور ہے جسے سمندر باہر پھینک دے۔ حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، سعید بن المسیب، قتادہ اور مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نمکین شکار ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ واضح ہے اس لئے کہ یہ دونوں صنف یعنی شکار شدہ اور غیر شکار شدہ جانوروں پر مشتمل ہے ۔ نمکین شکار قول باری (صید البحر) میں داخل ہے۔ اس صورت میں قول باری (وطعامہ) سے اس چیز کا دوبارہ ذکر لازم آئے گا جسے پہلا لفظ (صید البحر) شامل ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ یہ بات مر کر پانی کی سطح پر تیرنے والے جانور کی اباحت پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ آیت کے الفاظ شکار شدہ اور غیر شکار شدہ دونوں قسموں کے جانوروں کو شامل ہیں جب کہ مر کر پانی کی سطح پر تیرنے والا جانور غیر شکار شدہ جانوروں میں شامل ہے۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ سلف نے قول باری (وطعامہ) کی تفسیر میں کہا ہے اس سے مراد وہ جانور ہے جسے سمندر باہر پھینک دے۔ ہمارے نزدیک جس جانور کو سمندر باہر اچھال دے وہ طافی یعنی مر کر پانی کی سطح پر آ جانے والا جانور نہیں ہوتا۔ طافی تو وہ ہوتا ہے جو پانی کے اندر قدرتی موت مرجاتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ سلف کا قول ہے کہ (وطعامہ) سے مراد وہ جانور ہے جسے سمندر مردہ حالت میں باہر اچھال دے یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ اس کی موت سمندر میں واقع ہوئی اور یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے اس سے طافی مراد لیا ہے۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ضروری نہیں کہ جس جانور کو سمندر مردہ حالت میں باہر پھینک دے وہ طافی ہو یعنی سمندر کے اندر اس کی موت واقع ہوئی ہو کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ سمندر کے اندر سردی، گرمی یا کسی اور وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ اس صورت میں وہ طافی نہیں کہلائے گا ہم نے طافی پر اس کتاب کے پچھلے ابواب میں سیر حاصل بحث کی ہے۔
حسن سے قول باری (وطعامہ) کی تفسیر میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :” تمہارے اس سمندر کے ماوراء جو کچھ ہے وہ سب سمندر ہے اور اس کا کھانا گندم، حو اور دیگر جبوب یعنی دانے ہیں جو بطور غذا استعمال ہوتے ہیں۔ “ اشعت بن عبدالملک نے حسن سے یہ روایت کی ہے۔
حسن نے اس مقام پر صرف پانی والے سمندروں کو بحر قرار نہیں دیا بلکہ زمین کی پہنائی اور وسعت کو سمندر کہا اس لئے کہ عبر کے لوگ پھیلی ہوئی چیز کو بحر کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ اسی مفہوم میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے (وجدنا ہ بحراً ) ہم نے اس گھوڑے کو سمندر پایا) یعنی یہ بہشت کشادہ قدم ہے۔ یہ بات آپ نے اس وقت ارشاد فرمائی تھی۔ جب آپ نے ابو طلحہ کے گھوڑے پر سواری کی تھی۔
حبیب بن الزبیر نے عکرمہ سے قول باری (ظھر الفساد فی البرو البحر، خشکی اور سمندر دونوں میں فساد پھیل گیا) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ بحر سے مراد امصار یعنی شہری آبادیاں ہیں۔ اس لئے کہ عرب کے لوگ شہروں کو بحر کہتے ہیں۔
سفیان نے ایک واسطے سے عکرمہ سے درج بالا آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ بر سے مراد وہ بیابان ہے جہاں کوئی چیز نہ ہو اور بحر سے مراد دیہات یعنی آبادیاں ہیں حسن سے آیت کی جو تاویل مروی ہے وہ درست نہیں ہے اس لئے کہ قول باری (احل لکم صید البحر) سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد پانی والا سمندر ہے۔
اس سے خشکی اور شہری آبادیا مراد نہیں ہیں۔ اس لئے کہ اس پر یہ قول باری (وحرم علیکم صید البر مادمتم حرماً ، البتہ خشکی کا شکار، جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے) عطف کیا گیا ہے۔
قول باری ہے (متاعال لکم وللسیارۃ جہاں تم ٹھہرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لئے زاد راہ بھی بنا سکتے ہو) حضرت ابن عباس، حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا ” مقیم اور مسافر دونوں کے لئے منفعت ہے۔ “
اگر کوئی یہ کہے کہ آیا قول باری (احل لکم صید البحر) دریائوں کے شکار کی اباحت کا مقتضی ہے ؟ تو اس کا جواب اثبات میں دیا جائے گا اس لئے کہ عرب کے لوگ دریا کو بھی بحر کے نام سے موسوم کرتے تھے۔
اس مفہوم میں یہ قول باری ہے (ظھر الفساد فی البرو البحر) ایک قول یہ ہے کہ بحر کے لفظ کا زیادہ تر اطلاق اس سمندر پر ہوتا ہے جس کا پانی کھارا ہوتا ہے۔ مگر جب بحر کے لفظ کا ذکر فی الجملہ آئے تو وہ دریائوں کو بھی شامل ہوتا ہے۔ اس سے مقصود آبی شکار ہے۔ تمام آبی جانوروں کا شکار محرم کے لئے جائز ہے۔
اس بارے میں فقہاء کے مابین ہمیں کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ قول باری (احل لکم صید البحر) سے وہ حضرات استدلال کرتے ہیں جو تمام آبی جانوروں کی اباحت کے قائل ہیں۔ اس بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف رائے ہے۔
آبی جانوروں کی اباحت کے بارے میں اختلاف رائے کا ذکر
ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ آبی جانوروں میں سے صرف مچھلی حلال ہے۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ ابو اسحاق فزاری نے ان سے یہ قول نقل کیا ہے۔ قاضی ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے کہ سمندر میں پائی جانے والی ہر چیز کے کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے مثلاً مینڈک، آبی سانپ وغیرہ
امام مالک کا یہی قول ہے اور سفیان ثوری سے بھی اس طرح کا قول منقول ہے۔ البتہ ثوری نے یہ کہا ہے کہ اسے ذبح کرلیا جائے گا اوزاعی کا قول ہے کہ ہر قسم کا سمندری شکار حلال ہے، انہوں نے یہ بات مجاہد سے نقل کی ہے ۔ لیث بن سعد کا قول ہے کہ سمندر کا مردار کھا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح ابٓی کتے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے یہی حکم اس جانور کا ہے جو آبی گھوڑا کہلاتا ہے۔ البتہ آبی سور اور آبی انسان نہیں کھائے جائیں گے۔
امام شافعی کا قول ہے کہ ہر وہ جانور جو پانی میں زند گی بسر کرتا ہے اس کا کھانا حلال ہے۔ اسے پکڑ لینا ہی اس کا ذبح ہے۔ آبی سور کھا لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ جن حضرات نے تمام آبی جانوروں کو مباح قرار دیا ہے انہوں نے قول باری (احل لکم صید البحر) سے استدلال کیا ہے۔ اس میں سارے آبی جانور آ گئے ہیں کیونکہ اس میں کوئی کسی قسم کی تخصیص نہیں کی گئی ہے۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں ان حضرات کے قول پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے اس لئے کہ قول باری (احل لکم صید البحر) محرم کے لئے ان جانوروں کے شکار کی اباحت پر محمول ہے جو سمندر میں پائے جاتے ہیں۔ ان جانوروں کو کھا لینے پر آیت میں کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ اس پر قول باری (وحرم علیکم صید البر مادمتم حرماً ) کو عطف کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے کلام کا انداز بیان محرم کے لئے خشکی اور سمندری شکار کے حکم کے فرق کو ظاہر کرتا ہے نیز صید کا لفظ اسم مصدر ہے۔ یہ مصدر اصطیاد (شکار کرنا) کے لئے اسم ہے۔ اگرچہ یہ بعض شکار پر بھی واقع ہوتا ہے۔
آپ نہیں دیکھتے کہ آپ کا یہ فقرہ درست ہے ” صدت صیدا “ (میں نے شکار کیا) اگر لفظ صید مصدر ہوگا تو یہ اصطیاد مصدر کے لئے اسم ہوگا جو حقیقت میں شکاری کا فعل ہوتا ہے۔ اگر اس لفظ سے یہ معنی مراد لئے جائیں تو پھر اس میں اکل کی اباحت پر کوئی دلالت نہیں ہو گ اگرچہ بعض مواقع پر پکڑے ہوئے شکار کی اس لفظ سے تعبیر کی جاتی ہے۔ لیکن یہ مجاز کے طور پر ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں مفعول کو فعل کا نام دے دیا جاتا ہے اور کسی چیز کو اس کے غیر کے نام سے پکارنا استعارہ ہوتا ہے جو مجاز کی ایک صورت ہوتی ہے۔
جن لوگوں نے تمام آبی جانوروں کو مباح کردیا ہے ان کے قول کے بطلان پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ (احلت لنا المیتان ودمان السمک والجراد، ہمارے لئے دو مردار اور دو خون حلال کردیئے گئے ہیں ایک مچھلی اور دوسری ٹڈی)
حضور ﷺ نے تمام مرداروں میں سے صریہی دو چیزیں مخصوص کردی ہیں اور اس میں یہ دلیل ہے کہ قول باری (حرمت علیکم المیتۃ تم پر مردار حرام کردیا گیا) کی تحریم کے تحت آنے والے تمام مرداروں میں سے صرف یہی دو چیزیں مخصوص کردی گئی ہیں، کوئی تیسری چیز نہیں۔ اس لئے کہ ان دونوں چیزوں کے سوا بقیہ تمام مردار اس قول باری کی تحریم کے عموم میں داخل ہیں۔
نیز قول باری ہے (الا ان تکون میتۃ الایہ کہ وہ مردار ہو) اس میں خشکی اور آبی تمام مرداروں کی تحریم کے لئے عموم ہے۔
ہمارے اصحاب میں سے بعض نے یہ کہ ا ہے کہ حضور ﷺ نے مرداروں میں سے حلال کو دو کی تعداد میں منحصر فرما دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دو کے ماسوا باقی تمام مردار حرام ہیں۔ نیز جب حضور ﷺ نے ان دونوں کا ذکر فرما دیا اور اس کے ذریعے ان دونوں مرداروں اور باقی ماندہ مرداروں میں فرق کردیا تو آپ کا یہ فرق کردیتا اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی حالت دوسرے مرداروں کی حالت سے مختلف ہے اس پر قول باری (ولحکم الخنزیر اور سور کا گوشت ) بھی دلالت کرتا ہے کیونکہ اس تحریم میں جس طرح خشکی کے سور کی تحریم کے لئے عموم ہے اسی طرح آبی خنزیر کے لئے بھی تحریم میں عموم ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ آبی سور کو آبی گدھے کے نام سے موسوم کرتے ہیں تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر کسی انسان نے اس کا نام گندھا رکھ دیا تو اس کی وجہ سے خنزیر کا نام اس سے سلب نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ لغت میں اس کے لئے یہی نام مہود و متعین ہے اس لئے تحریم کا عموم اسے شامل ہوگا۔
مینڈک سے دوا تیار کرنا حضور ﷺ نے منع فرمایا
ابن ابی ذئب کی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے جو انہوں نے سعید بن خالد سے، انہوں نے سعید بن المسیب سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن عثمان سے نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کے پاس ایک طبیب نے کسی دوائی کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ یہ دوائی مینڈک سے تیار ہوتی ہے۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے اسے مینڈک ہلاک کرنے سے منع فرما دیا۔
اب مینڈک آبی جانور ہے اگر اس کا کھانا حلال ہوتا اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہوتا تو حضور ﷺ اسے ہلاک کرنے سے کبھی منع نہ فرماتے ۔ جب اس حدیث سے مینڈک کی تحریم ثابت ہوگئی تو مچھلی کے سوا تمام آبی حیوانات کا حکم بھی یہی ہوگا ۔ اس لئے کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کسی نے مینڈک اور باقی ماندہ آبی جانوروں کے درمیان کوئی فرق کیا ہے۔
جن حضرات نے اس کی اباحت کا قول نقل کیا ہے انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو مالک بن انس نے صفوان بن سلیم سے، انہوں نے سعید بن سلمہ الزرقی سے، انہوں نے مغیرہ بن ابی بردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ نے سمندر کے متعلق ارشاد فرمایا (ھو الطھورماء ہ والحل میتتہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے)
اس روایت کا ایک راوی سعید بن سلمہ مجہول ہے اس لئے اس کی روایت کی بنا پر کوئی قطعی بات نہیں کہی جاسکتی۔ سلسلہ سند میں بھی اس کی مخالفت ہوئی ہے۔
یحیی بن سعید انصاری نے مغیرہ بن عبداللہ سے روایت کی ہے یہ حضرت ابوبردہ کے بیٹے ہیں انہوں نے اپنے والد سے اور انہوںں نے حضور ﷺ سے اس کی روایت کی ہے۔ اسے یحییٰ بن ایوب نے جعفر بن ربیعہ اور عمرو بن الحارث دونوں سے روایت کی ہے، انہوں نے بکر بن سوادہ سے انہوں نے ابومعاویہ العلوی سے، انہوں نے مسلم بن محنشی المدلجی سے، انہوں نے الفراسی سے کہ حضور ﷺ نے ان سے سمندر کے متعلق فرمایا تھا کہ (ھوالطھور ماء ہ والحل میتتہ)
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں عبداللہ بن احمد بن حنبل اور محمد بن عبدوس نے ، ان دونوں کو امام احمد بن حنبل نے، انہیں ابوالقاسم بن زناد نے ، انہیں اسحاق بن حازم نے ابن مقسم یعنی عبیداللہ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے کہ حضور ﷺ سے سمندر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا (ھوالطھور ماء کا الحل میتتہ)
ان روایات سے کوئی ایسا شخص استدلال نہیں کرسکتا جسے علم حدیث کی معرفت حاصل ہو اگر یہ روایات ثابت بھی ہوجائیں تو انہیں (احلت لنا میتتان) والی روایت پر محمول کیا جائے گا۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ حضور ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعے صرف آبی حیوانات کی تخصیص نہیں کی بلکہ ان کا ذکر کیا جو پانی میں مرجاتے ہیں۔
اس ارشاد کا ظاہر آبی اور خشکی تمام جانوروں کے لئے عام ہے جب پانی میں ان کی موت واقع ہوجائے اور یہ بات تو واضح ہے کہ یہ عموم آپ کی مراد نہیں ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ نے صرف مچھلی مراد لی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی جانور مراد نہیں ہے کیونکہ یہ بات تو معلوم ہوچکی ہے۔ آپ نے اپنے ارشاد کے عموم کا ارادہ نہیں کیا ۔ اس لئے اس کے بارے میں عموم کا اعتقاد درست نہیں ہے۔
اباحت کے قائلین نے حضرت جابر کی اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے کہ حبش خبط “ میں شامل مجاہدین کے لئے سمندر نے ایک جانور اچھال کر باہر پھینک دیا اس جانور کو عنبر کہتے ہیں۔
مجاہدین نے اس کا گوشت کھالیا پھر انہوں نے حضور ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا (ھل معکم منہ شیء تطعمونیہ، کیا تمہارے پاس کچھ بچ گیا ہے۔ جو تم مجھے کھانے کے لئے دے سکو۔ )
لیکن اس روایت میں ان حضرات کے قول کی تائید میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک اور جماعت نے یہی حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے اس میں بیان کیا ہے کہ سمندر نے ان کے لئے ایک مچھلی اچھال دی تھی جس کا نام عنبر تھا، ان حضرات نے یہ بتایا کہ سمندر کا وہ پھینکا ہو اور اصل حوت تھا جسے مچھلی کہتے ہیں مچھلی کی حلت میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس کے ماسوا کی حلت پر کوئی دلالت موجود نہیں۔
محرم کا غیر محرم کے کئے ہوئے شکار کا گوشت کھا لینا
قول باری ہے (وحرم علیکم صید البر ما دمتم حرما تم پر (جب تک تم احرام کی حالت میں ہو ) خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے) حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ان دونوں حضرات نے لحال یعنی غیر محرم کے پکڑے ہوئے شکار کا گوشت محرم کے لئے مکروہ سمجھا ہے۔
البتہ حضرت علی کی روایت کی اسناد قوی نہیں ہے۔ علی بن زید نے اسکی روایت کی ہے۔ بعض طراق میں اسے حضور ﷺ سے مرفوعاً اور بعض دوسرے طرق میں اسے موقوفاً روایت کیا گیا ہے ۔ حضرت عثمان، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت ابوقتادہ اور حضرت جابر وغیرھم سے اس کی اباحت منقول ہے۔
عبداللہ بن ابی قتاہ اور عطاء بن یسار نے حضرت ابوقتادہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں ” میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کرلیا اور حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے اس طرح شکار کیا تھا اور اس کا کچھ حصہ میرے پاس اب بھی بچا ہوا ہے، یہ سن کر آپ نے اسے لوگوں سے کھا لینے کے لئے کہا یہ لوگ احرام کی حالت میں تھے۔
ابو الزبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ ابو قتادہ نے ایک جنگلی گدھا ذبح کیا اور ہم نے اس کا گوشت کھالیا ابوقتادہ حالت احرام میں نہیں تھے لیکن ہم محرم تھے۔ ہمارے ساتھ حضور ﷺ بھی تھے۔ المطلب بن عبداللہ بن حنطب نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ﷺ بھی تھے۔ المطلب بن عبداللہ بن حنطب نے حضرت جابرب بن عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ نے فرمایا (لحم صید البر حلال لکم و انتم حرم مالم تصیدوہ اویصطاد لکم، خشکی کے شکار کا گوشت تمہارے لئے احرام کی حالت میں بھی حلال ہے۔ بشرطیکہ وہ شکار تم نے نہ مارا ہو اور نہ ہی تمہارے لئے اسے پکڑا گیا ہو) اس کی اباحت کے سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں ، میں نے طوالت کے خوف سے انہیں بیان کرنا پسند نہیں کیا نیز اس وجہ سے بھی کہ اس مسئلے میں فقہاء امصار کے مابین کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔
جن حضرات نے ایسے شکار کی ممانعت کی ہے۔ انہوں نے قول باری (وحرم علیکم صید البر مادمتم حرماً ) سے استدلال کیا ہے۔ اس کا عموم شکار کرنے کے فعل اور نفس شکار دونوں کو شامل ہے اس لئے کہ صید کا اسم ان دونوں چیزوں پر واقع ہوتا ہے، جن حضرات نے اس کی اباحت کی ہے۔ انہوں نے قو ل باری (وحرم علیکم صید البر) سے استدلال کیا ہے۔
یہ آیت شکار کرنے کے فعل کو نیز نفس شکار دونوں کی تحریم کو شامل ہے۔ جانور اس وقت تک شکار کہلاتا ہے جب تک وہ زندہ رہے لیکن ذبح ہوجانے کے بعد اس کے گوشت کو اس نام سے موسوم نہیں کیا جاتا۔ اگر موسوم کر بھی لیا جائے تو صرف اس وجہ سے کہ یہ کبھی پہلے شکار تھا۔ گوشت پر بہرحال شکار کا لفظ حقیقتہ واقع نہیں ہوتا۔
آیت کا لفظ صید گوشت کو شامل نہیں ہے اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ محرم کو ایسے گوشت میں تصرف کرنے سے منع نہیں کی اگیا وہ اس کی خرید و فروخت کرسکتا ہے نیز اسے تلف بھی کرسکتا ہے اور دوسرے قسم کے تمام تصرفات اس کے لئے جائز ہیں۔ تحریم کے قائلین کے نزدیک وہ کھانے کے سوا اس میں ہر تصرف کرسکتا ہے۔
اگر آیت کا عموم گوشت کو بھی شامل ہوتا تو محرم کے لئے اکل کے سوا اس میں مذکورہ بالا تصرفات درست نہ ہوتے جس طرح زندگی کے اندر گوشت میں تصرف جائز نہیں ہوتا اور اگر محرم اس گوشت کو تلف کردیتا تو اس پر اس کا تاوان عائد ہوجاتا جس طر زندہ شکار کے اتلاف کی صورت میں اس پر تاوان واجب ہوجاتا ہے اس لئے کہ قول باری (وحرم علیکم صید البرما دمتم حرماً ) احرام کی حالت میں شکار سے تعلق رکھنے والے مہارے تمام افعال کی تحریم کو شامل ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ شکار کے انڈے محرم پر حرام ہوتے ہیں اگرچہ یہ انڈے نہ خود اپنی حفاظت آپ کرسکتے ہیں جس طرح جنگلی جانور کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر صید کے اسم کا اطلاق ہوتا ہے ، جس طرح انڈے حرام ہوتے ہیں اسی طرح محرم کے لئے شکار کا گوشت بھی حرام ہوگا۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ بات اس طرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ محرم کو شکار کا گوشت تلف کردینے کی ممانعت نہیں ہے اور اگر وہ گوشت تلف کر دے تو اس کا تاوان نہیں بھرے گا لیکن اسے شکار کے انڈے اور چوزے سے تلف کرنے کی ممانعت ہے اور تلف کرنے پر اسے تاوان بھی بھرنا پڑتا ہے۔ نیز انڈے اور چوزے کسی مرحلے پر ایسے شکار بن جاتے جو اپنی حفاظت آپ کرسکتے ہیں۔
اس لئے ان دونوں چیزوں پر شکار کا ہی حکم عائد کردیا گیا ہے لیکن شکار کا گوشت کسی حالت میں بھی شکار نہیں بن سکتا اس لئے اس کی حیثیت دوسرے حیوانات کے گوشت کی طرح ہوگئی۔ اس لئے کہ وہ اس حالت میں نہ تو شکار بن سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی شکار پیدا ہوسکتا ہے یہاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے آیت کے عموم کی بنا پر انڈوں اور چوزوں کی تحریم کا حکم نہیں لگایا ہے بلکہ تمام کے اتفاق کی بنا پر یہ حکم لگایا ہے۔
صعب بن جثامہ کی روایت میں اختلاف ہے۔ اس روایت میں بیان ہوا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو ابواء کے مقام پر یا کسی اور جگہ جنگلی گدھے کا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا آپ اس وقت احرام کی حالت میں تھے۔ آپ نے یہ ہدیہ واپس کردیا اور جب دیکھا کہ ان کے چہرے پر اس کا ردعمل ظاہر ہو رہا ہے تو آپ نے ان سے فرمایا (لیس بنا ردعلیک ولکنا حرم، تمہارا ہدیہ واپس کرنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ )
امام مالک نے اس کے خلاف روایت کی ہے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عبداللہ بن سے، انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے صعب بن جثامہ سے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو جنگلی گدھے کا تحفہ پیش کیا تھا جب آپ مقام ابواء یا ودان میں تھے۔ آپ نے یہ تحفہ واپس کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم یہ تحفہ صرف اس لئے واپس کر رہے ہیں کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔
ابن ادریس کہتے ہیں کہ امام مالک سے کہا گیا کہ سفیان تو یہ کہتے ہیں کہ آپ کو جنگلی گدھے کی ٹانگ تحفے کے طور پر پیش کی گئی تھی، امام مالک نے یہ سن کر فرمایا کہ ” سفیان کو کیا پتہ ہے وہ تو ابھی بچہ ہے، وہ تو ابھی بچہ ہے۔ “ یہی روایت ابن جریج نے زہری سے ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے اس کے الفاظ امام مالک کی روایت کی طرح ہیں۔ اس میں یہ مذکور ہے کہ انہوں نے جنگلی گدھے کا ہدیہ پیش کیا تھا۔
اعمش نے حبیب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس سے روای کی ہے کہ صعب بن جثامہ نے حضور ﷺ کو جنگلی گدھے کا ہدیہ پیش کیا تھا جبکہ آپ احرام کی حالت میں تھے۔ آپ نے اسے واپس کردیا تھا اور فرمایا تھا ” اگر ہم احرام کی حالت میں نہ ہوتے تو تمہارا یہ ہدیہ ضرور قبول کرلیتے۔ “ ان روایات سے سیان کی روایت کا ضعف اور بود اپن واضح ہوجاتا ہے ۔
ان میں درست روایت وہ ہے جو امام مالک نے نقل کی ہے۔ اس لئے کہ ان تمام راویوں کا اس پر اتفاق ہے۔ اس بارے میں ایک اور پہلو سے بھی روایت ہوئی ہے۔ یہ روایت ابومعاویہ نے ابن جریج سے، انہوں نے جابر بن زید ابو الشعتاء سے اور انہوں نے اپنے والد سے کی ہے وہ کہتے ہیں۔ کہ حضور ﷺ سے اس محرم کے متعلق پوچھا گیا تھا جس کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا جائے آیا وہ یہ گوشت کھا سکتا ہے تو آپ نے فرمایا تھا (احسبوا لہ ، اس کے لئے حساب کرلو۔ )
ابو معاویہ نے آپ کے ارشاد کی تو ضیح کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی مراد یہ تھی کہ اگر احرام باندھنے سے پہلے یہ شکار مارا گیا تھا تو وہ کھا سکتا ہے ورنہ نہیں اس میں یہ احتمال ہے کہ آپ کی اس سے مراد یہ تھی اگر یہ شکار اس محرم کی خاطر کیا گیا ہو یا اس نے شکار کرنے کے لئے کہا ہو یا اس سلسلے میں اعانت کی ہو یا نشاندہی کی ہو یا اس قسم کی کوئی ممنوع حرکت کی ہو تو پھر وہ اس کا گوشت نہیں کھا سکتا۔
Ayahs 5:97–100قول باری ہے (جعل اللہ الکعبۃ المبیت الحرام قیاماً للناس۔ ہم نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا) تا آخرت آیت ایک قول ہے کہ اللہ کی مراد اس سے یہ ہے کہ اس نے کعبہ کو لوگوں کی معیشت کا سہارا اور ستون بنادیا۔
جس طرح یہ محاورہ ہے ۔” ھو قوام الامرو ملا کہ “ (وہ اس معاملہ کا سہارا اور بنیاد ہے) یعنی اس کی ذات کے سہارے یہ معامل ہٹھیک ٹھاک رہتا ہے۔ کبعہ بھی لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کی درست رکھنے کا ذریعہ ہے ۔ سعید بن جبیر کا یہ قول منقول ہے کہ یہ لوگوں کے لئے سہارا اور ان کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگوں کے قیام کا ذریعہ ہے یعنی اس کے ذریعے لوگوں کے جسم قائم رہتے ہیں۔ اس لئے کہ کعبہ کی وجہ سے وہ امن و امان میں رہتے اور ہلاکت سے محفوظ ہوتے ہیں اور پوری دل جمعی کے ساتھ زندگی کے گذر ان کے ذرائع تلاش کرتے ہیں۔ کعبہ ان کے دین کے لئے بھی قوام اور درست رکھنے کا ذریعہ ہے اس لئے کہ مناسک حج میں اعمال قبیحہ سے دور رکھنے اور نیکی کی طرف ہلانے کا سامان موجود ہوتا ہے۔
نیز حرم اور حرمت کے مہینوں میں امن و امان ہوتا ہے نیز حج اور مناسک کی ادائیگی کے مواقع پر لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ دنیا کے کونے کونے سے لوگ جمع ہوتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی معیشت بھی درست ہوجاتی ہے اور معاشی حالات پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح ہدی اور قلائد بھی امن و امان کا ذریعہ ہیں۔ جب انسان قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈال کر سفر کرتا ہے تو کوئی شخص اس سے کسی قسم کا کوئی تعرض نہیں کرتا۔
ایک قول یہ ہے کہ جب کوئی شخص احرام باندھنے کا ارادہ کرتا تو وہ حرم کے درختوں کی چھال اپنے گلے میں ڈال لیتا اور اس طرح محفوظ ہوجاتا۔ حسن نے قلائد کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد اونٹوں اور گایوں کے گلے میں جوتے اور موزے وغیرہ لٹکانا ہے۔
یہ کام دین میں عبادت گذاری کو درست رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ قربانی کے اونٹوں کو پٹے پہنانا عبادت ہے اسی طرح قربانی کے جانور بانک کرلے جانا بھی تقرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔
کعبہ حرمت والے گھر کا نام ہے۔ مجاہد اور عکرمہ کا قول ہے کہ کعبہ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ مربع شکل کا ہے۔ اہل لغت کا قول ہے کہ اضافت کی صورت میں ” کعبۃ البیت “ اس لئے کہا گیا کہ بیت اللہ کی چوکور کرسی اسے اوپر کی طرف مربع شکل میں بلند کرتی ہے۔ یہ لفظ کعوبۃ سے نکلا ہے جس کے معنی ابھار کے ہیں۔
تربیع یعنی چوکور بنانے کو کعبہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ مربع کے زاویے اور گوشے ابھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سے یہ محاورہ ہے۔ ” کعب ثدی الحباریہ “ (لڑکی کے پستان میں ابھار پیدا گیا) اسی سے ” کعب الانسان “ بھی ہے یعنی انسان کا ٹخنہ ، اس لئے کہ اس میں ابھار ہوتا ہے ۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ وضو میں پائوں دھونے کی انتہا جس حصے پر ہوتی ہے وہ یہی ٹخنے ہیں جو پنڈلی کی جڑ میں دونوں طرف ابھرے ہوئے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے بیت کو حرم یعنی محترم کے نام سے موسوم کیا اس لئے کہ اس سے سارا حرم مراد ہے یہاں شکار پکڑنا، گھاس وغیرہ اکھاڑنا، یہاں آ کر پناہ لینے والے کو قتل کرنا سب حرام ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ھدیا بانع الکعبۃ) اس سے مراد حرم ہے۔
قول باری ہے (والشھر الحرام اور ماہ حرام کو بھی (اس کام میں معاون بنایا ) حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد حرمت والے مہینے ہیں۔ یہاں ان مہینوں کو واحد کی شک ل میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے جنس ماہ حرام مراد ہے۔ یہ چار مہینے ہیں۔ ان میں تین لگاتار ہیں یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ایک مہینہ تنہا ہے اور وہ رجب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اس نے ماہ حرام کو لوگں کے قیام کا ذریعہ بنادیا ہے اس لئے کہ لوگوں کو ان مہینوں کے دوران امن و امان حاصل ہوجاتا تھا اور لوگ اطمینان کے ساتھ اپنے گذران کے ذرائع اور معاش کے وسائل کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جاسکتے تھے۔ اس طرح ان مہینوں میں انہیں سہارا حاصل ہوجاتا۔
اللہ تعالیٰ نے مناسک حج ، حرم، حرمت کے مہینوں ، ہدی اور قلائد کو لوگوں کے قوام اور سہارے کے طور پر ذکر کیا ہے، اس کا سب کو علم تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے حج کی ابتداء کے وقت سے لے کر حضور ﷺ کے زمانے تک بلکہ رہتی دنیا تک لوگ اس کا مشاہدہ کرتے چلے آ رہے اور کرتے رہیں گے۔ ایمان کے بعد لوگوں کے معاش و معاد کی صلاح و فلاح کا جس قدر حج کے ساتھ تعلق ہے آپ کو دین و دنیا کی کسی اور چیز کے ساتھ یہ تعلق نہیں آئے گا۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حج کے اجتماعات میں آنے والے حاجیوں کے منافع اور فوائد کس قدر زیادہ ہیں جو دنیا کے تمام ملکوں اور شہروں سے آ کر ان اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں اور حج کے بعد اپنے گھروں کو واپسی تک مکہ مکرمہ اور منیٰ کی سر زمین سے گذرتے اور آتے جاتے رہتے ہیں۔
اسی دوران لوگوں کو ان سے منتفع ہونے اور اپنے معاش اور تجارت کو فروغ دینے کے کثیر مواقع ہاتھ آ جاتے ہیں پھر حج کے اندر دینی منافع ان کے علاوہ ہیں۔ حج کے سفر کی تیاری گناہوں سے توبہ، زاد راہ کے طور پر پاکیز ترین نیز حلال ترین مال کا استعمال، سفر کی مشقتوں کی برداشت بیت اللہ تک کے لئے خطرات کا مقابلہ چوروں اور ٹھگوں کے ہاتھوں پہنچنے والے نقصانات کی فراموشی پھر احرام باندھ کر ہر طرف سے فراغت حاصل کر کے اللہ کے لئے یکسو ہوجانا۔
نیز قیامت کے دن اپنی قبروں سے نکل کر عرصہ محشر میں پہنچنے والوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرلینا، تلبیہ کے ذریعے کثرت سے اللہ کو یاد کرنا، اس کے سامنے گڑ گڑانا، بیت اللہ کے پاس اخلاص نیت کا اظہار کرنا، نیز اس یقین کے ساتھ بیت اللہ کے پردوں سے لپٹ جانا جس طرح ڈوبتا ہوا انسان بچائو کے ذریعے سے لپٹ جاتا ہے کہ اللہ کی ذات کے سوا کوئی اور جائے پناہ نہیں۔
نیز یہ کہ اس کی ذات کا سہارا لئے بغیر نجات کا کوئی اور راستہ نہیں۔ پھر اللہ کی رسی یعنی شریعت پر ثابت قدمی کا اظہار … یقینا جو شخص اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو چھوڑ دے گا وہ ہلاک ہوجائے گا پھر میدان عرفات میں پہنچنا اور دنیا کی ہر چیز سے کنارہ کش ہو کر، مال و دولت اور اہل و عیال کو فراموش کر کے اہل محشر کی طرح قدموں کے بل کھڑے ہو کر اللہ سے گڑ گڑا کر دعائیں مانگنا، اس کی رحمت اور اس کے فضل سے آس لگانا۔
یہ سب ایسے امور ہیں جن سے حاصل ہونے والے بیشمار دینی منافع و فوائد سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ مناسک حج کی ادائیگی کے دوران اللہ کے ذکر کی کثرت، اس کے سامنے عجز و نیاز مندی نیز اطاعت و فرمانبرداری کے بار بار اظہار پر غور کیجیے، پھر یہ بھی دیکھیے کہ نماز، روزہ، زکوۃ اور صدقات و خیرات کی صورت میں نیکیوں کی جتنی شکلیں ہیں وہ سب کی سب مناسک حج کے اندر موجود ہیں۔
علاوہ ازیں بیت اللہ کے طواف نیز ذکر جہری اور ذکر سری یا ذکر لسانی اور ذکر قلب سے تقویت الٰہی کے جو مواقع ہاتھ آتے ہیں انہیں بھی دھیان میں رکھیے تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں کے ان تمام سے ایک انسان کو بیشمار دینی اور دنیوی منافع و فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان امور پر تفصیل سے روشنی ڈالتے تو یقینا گفتگو بڑی طویل ہوجاتی، اس لئے اس پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
قول باری ہے (ذلک لتعلموا ان اللہ یعلم ما فی السموات وما فی الارض تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حج کی مشروعیت سے حاصل ہونے والے دنیوی و اخروی فوائد و منافع سے اللہ باخبر تھا۔
چنانچہ اس نے اس کا ایسا لاجواب نظام قائم کردیا جس میں پہلی امت سے لے کر آخری امت تک کے لئے قیامت تک انسانوں کی صلاح و فلاح کی تمام صورتیں سمٹ کر آ گئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ عالم الغیب نہ ہوتا اور اسے تمام اشیاء کے وجود میں آنے سے پہلے ان کی خبر نہ ہوتی تو ان امور کے بارے میں اس کی تدبیر و تصرف کے وہ نتائج برآمد نہ ہوتے جو بندوں کے دین و دنیا کی صلاح و فلاح کی صورت میں برآمد ہوئے ہیں۔
اس لئے کہ جس ذات کو ایک چیز کے وجود میں آنے سے پہلے اس کا علم نہ ہو اس سے اس قدر محکم اور پختہ انداز میں ایک اچھوتے نظام و تربیت کے ساتھ فعل کا صدور نہیں ہوسکتا جس کا فائدہ پوری امت کے دین و دنیا دونوں پر محیط نظر آتا۔
Ayah 5:101قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لاتسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم وتسوکم اے ایمان لانے والو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں) قیس بن الربیع نے ابو حصین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ غصے کی حالت میں گھر سے برآمد ہوئے آپ کا چہرہ تمتا رہا تھا۔ پھر منبر پر تشریف فرما ہوگئے، کہا ” لوگو، تم مجھ سے جو بات بھی پوچھو گے میں اس کا جواب دوں گا۔ “ ایک شخص نے اٹھ کر پوچھا :” میں کہاں ہوں گا “ جواب ملا ” جہنم میں۔ “
ایک دوسرے شخص نے سوال : ” میرا باپ کون ہے ؟ “ جواب دیا گیا :” تیرا باپ حذافہ ہے “ اس پر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور عرض کیا :” ہم نے اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین، قرآن کو اپنا امام اور اے اللہ کے رسول، محمد ﷺ کو اپنا نبی پسند کرلیا۔ ہم ابھی تازہ تازہ جاہلیت اور شرک کے زمانے سے نکلے ہیں اللہ ہی کو علم ہے کہ ہمارے ابائو و اجداد کون تھے۔ “ یہ سن کر آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور درج بالا آیت کا نزول ہوا۔
ابراہیم الھجری نے ابو عیاض سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ آیت کا نزول اس موقع ہپر ہوا جب حضور ﷺ سے یہ پوچھا گیا تھا کہ آیا حج ہر سال فرض ہے ؟ حضرت ابو امامہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے عکرمہ نے روایت کی ہے یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے یہ پوچھا تھا کہ میرا باپ کون ہے ؟
سعید بن جبیر کے قول کے مطابق آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جنہوں نے حضور ﷺ سے بحیرہ اور سائبہ کے بارے میں دریافت کیا تھا (ان کا ذکر آگے آ رہا ہے) مقسم کا قول ہے کہ آیت کا نزول ان نشانیوں کے متعلق ہوا تھا جو پچھلی امتوں نے اپنے انبیاء سے طلب کیا تھا۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس میں کوئی امتناع نہیں آیت کے شان نزول کے طور پر ان تمام روایات کو درست تسلیم کرلیا جائے۔ حضور ﷺ نے جب یہ فرمایا تھا کہ :” تم مجھ سے جو بات بھی پوچھو گے میں اس کا جواب دوں گا۔ “ تو حضرت عبداللہ بن حذافہ نے اپنے باپ کے بارے پوچھا تھا کہ وہ کون ہے۔ اس لئے کہ ان کے نسب کے متعلق لوگ اکثرچہ میگوئیاں کرتے رہتے تھے۔ آپ سے ان لوگوں نے بھی مختلف سوالات کئے تھے جن کا ذکر گزشتہ سطور میں ہوچکا ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لا تسئلوا عن اشیاء) یعنی ان جیسی چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کرو اس لئے کہ لوگوں کو ان کی ضرورت نہیں تھی۔ عبداللہ بن حذافہ کا نسب فراش یعنی ہمبستری کے حق کی بنا پر ثابت ہوچکا تھا۔ اس لئے انہیں اس حقیقت کے جاننے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ کس کے نطفے سے ہیں، اس لئے انہیں ایسا کرنا ہی نہیں چاہیے تھا۔
نیز سوال سے پہلے اس بات کا امکان موجود تھا کہ وہ کسی اور کے نطفے سے ہوں اور سوال کی وجہ سے ان کا وہ راز کھل جائے جس پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان کی والدہ کی بےعزتی ہوتی اور خود ان کے دامن پر بھی بلاوجہ ایک دھبہ لگ جاتا ہے۔
انہیں اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچتا اس لئے کسی اور کے نطفے سے ہونے کے باوجود ان کا نسب حذافہ سے ہی ثابت رہتا اس لئے کہ ان کی ماں کے ساتھ حذافہ کو ہمبستری کا حق حاصل تھا۔ اسی بن اپر ماں نے ان سے کہا تھا کہ تو نے یہ سوال کر کے میری نافرمانی کی ہے۔ اس پر انہوں نے ماں کو جواب دیا تھا کہ مجھے اس بارے میں حضور ﷺ سے ہی اطمینان حاصل ہوا ہے۔
درحقیقت ان کا یہ سوال ایسا تھا کہ اگر جواب ظاہری حالت کے خلاف ہوتا تو انہیں اس سے سخت نقصان پہنچتا اس لئے ایسے نامناسب سوال سے روکا گیا۔
آپ نہیں دیکھتے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا :” جو شخص اس قسم کے گندے کا م یعنی زنا کاری کا ارتکاب کرے اسے چاہیے کہ اللہ کی طرف سے پڑے ہوئے پردے میں چھپا رہے لیکن اگر اس نے ہمارے سامنے اپنا سینہ کھول دیا یعنی راز فاش کردیا تو ہم اس پر کتاب اللہ کا نفاذ کریں گے۔ “ یعنی حد جاری کریں گے۔
جب ماعز سے یہ فعل بدسر زد ہوگیا تو ہزال نامی شخص نے انہیں اپنے گناہ کا اعتراف کرلینے کا مشورہ دیا تھا اس موقعہ پر حضور ﷺ نے ہزال سے فرمایا تھا :” اگر تم اس پر اپنے کپڑے کا پردہ ڈال دیتے تو تمہارے لئے یہ بہتر ہوتا۔ “
جس شخص نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ ” میں کہاں ہوں گا۔ “ اسے بھی اس سوال کے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ دنیا میں اس پر پردہ پڑا ہوا تھا ۔ اس نے یہ سوال پوچھ گر گویا اپنی پردہ دری کرلی جبکہ انبیائے معجزات کا ظہور ہوچکا تھا۔
اس لئے اس قسم کے سوال سے روک دیا گیا اور کسی کے لئے بھی اس کی گنجائش باقی نہیں رکھی گئی اس لئے کہ انبیاء کے معجزات کا منکرین نبوت کی خواہشات و مطالبات کے تابع ہونا کسی طرح بھی درست نہیں ہوتا۔ اس لئے اس طرح کے سوالات ناپسندیدہ اور قبیح قرار دیئے گئے جس شخص نے حضور ﷺ سے یہ پوچھا تھا کہ آیا ہر سال حج فرض ہے اسے چاہیے تھا کہ آیت حج سن کر اس کے حکم کے موجب یعنی صرف ایک حج کے ایجاب پر اکتفا کرلیتا۔
اس بنا پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا (انھا حجۃ واحدۃ ولو قلت نعم لوجیت، صرف ایک حج فرض ہے اگر میں تمہارے سوال پر ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا) آپ نے یہ بتادیا کہ اگر آپ سائل کے سوال کا اثبات میں جواب دیتے تو آپ کے قول کی بن اپر، نہ کہ آیت کی بنا پر ہر سال حج فرض ہوجاتا۔ اس لئے سائل کو یہ سوال نہیں کرنا چاہیے تھا جبکہ آیت کے حکم کی بن اپر اس کے لئے اس سوال سے احتراز ممکن تھا۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت کے شان نزول کے سلسلے میں یہ توجیہ سب سے زیادہ دو رازکار ہے کہ حضور ﷺ سے بحیرہ ، سائبہ اور فصلیہ کے متعلق پوچھا گیا تھا اور اس کی بنا پر آیت کا نزول ہوا تھا۔ اس لئے کہ سوال کے ذریعے یا تو بحیرہ کے معنی پوچھے گئے ہوں گے کہ وہ کیا ہے یا اس کے جواز کے متعلق سوال کیا گیا ہوگا۔
جبکہ بحیرہ اور اس کے ساتھ مذکورہ دیگر اسماء ایسی چیزوں کے نام تھے جو زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے علم میں تھیں۔ اس لئے انہیں ان کے متعلق سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ سوال ان جانوروں کی اباحت اور جواز کے متعلق کیا گیا تھا۔ اس لئے کہ یہ کافرانہ طریقفہ تھا جس کے تحت مشرکین اپنے بتوں کا تقرب اور ان کی خوشنودی حاصل کرتے تھے۔ اس لئے جن لوگوں کا عقیدہ اسلام کا عقیدہ تھا وہ اس طریقے کے بطلان کا بخوبی علم رکھتے تھے۔
اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو پیش آمدہ امور کے احکام کے متعقل سوال کی ممانتع کے قائل ہیں انہوں نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جو زہری نے عامر بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من مسائل عن شئی لم یکن حراما فحرم من اجل مسئملتہ ، مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جو حرام نہیں تھی لیکن صرف اس کے سوال کی وجہ سے وہ چیز حرام ہوگئی۔ )
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں پیش آمدہ امور کے احکام کے متعلق سوال کی ممانعت پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس لئے کہ آیت میں صرف ایسی چیزوں کے بارے میں سوال سے نہی مقصود ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا ہے اور ان کا علم صرف اپنی ذات تک محدود کردیا ہے۔
درحقیقت بندوں کو ایسے امور کے علم کی ضرورت ہی ہے بلکہ اگر یہ امور ان پر ظاہر کردیئے جائیں تو اس سے انہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ مثلاً انساب کے حقائق کا علم ، اس لئے کہ حضور ﷺ نے فرما دیا تھا (الولد للفراش، بچہ اس کا ہے جسے عوت کے ساتھ ہمبستری کرنے کا حاصل ہے) جب عبداللہ بن حذافہ نے یہ حقیقت دریافت کی کہ ان کی تخلیق کس شخص کے نطفے سے ہوئی ہے اور اس فیصلے کو نظر انداز کردیا جو اللہ تعالیٰ نے نسب کے سلسلے میں ہمبستری کے حق کی نسبت سے دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قسم کے سوال سے روک دیا۔
اسی طرح اس شخص کی بات تھی جس نے پوچھا تھا کہ میں کہاں ہوں گا۔ اسے اپنے اس عیب کو کھولنے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ اہل نار میں سے ہے۔ یا ابنیاء کی نشانیوں کے بارے میں سوال۔ آیت کے مضمون میں اس پر دلالت موجود ہے کہ ممانعت کا تعلق اس قسم کے سوالات سے ہے جو ابھی ہم نے بیان کردیئے ۔
قول باری ہے (قد سالھا قوم من قبلکم ثم اصیحوا بھاکافرین تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کئے تھے پھ روہ لوگ ان ہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہ وگئے) یعنی ان لوگوں نے ابنیاء سے نشانیاں طلب کی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ نشانیاں دکھلا دیں، مقسم نے گزشتہ آیت کی جو تفسیر کی تھی۔ اس آیت سے اس کی تصدیق ہوتی ہے ۔ غیر منصوص احکام کے متعلق سوال کرنے کا جہاں تک تعلق ہے وہ آیت میں وارد ممانعت کے اندر داخل نہیں ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ” احبہ بن جندب کو قربانی کے اونٹ دے کر مکہ مکرمہ میں ذبح کرنے کے لئے جب روانہ کیا تو انہوں نے آپ سے پوچھا کہ ان میں سے اگر کوئی اونٹ مرنے لگے تو اس کا کیا کروں گا ؟ آپ نے فرمایا :” اسے ذبح کر دو ، اس کے فعل کو اس کے خون سے رنگ دو اور اس کے پہلو پر بھی خون کی چھینٹیں ماردو اور پھر لوگوں کے لئے اسے چھوڑ جائو تم اور تمہارے رفقاء میں سے کوئی بھی اس کا گوشت نہ کھائے۔ حضور ﷺ نے ان کے سوال پر ناپسندیدگی کا اظہار نہیں فرمایا۔
حضرت رافع بن خدیج کی روایت میں ہے کہ صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے استفسار کیا کہ ہم کل صبح دشمن کا سامنا کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھرے نہیں ہیں۔ آپ نے اس استفسار کو ناپسند نہیں کیا۔ حضرت یعلی بن امیہ کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ عمرہ میں وہ کون کون سے افعال سر انجام دے۔ آپ نے اس کے اس سوال پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں فرمایا۔
بہت سی روایات موجود ہیں جو شریعت کے مسائل کے ان احکام کے متعلق لوگوں کے سوالات پر مشتمل ہیں جو منصوص نہیں تھے کسی کو بھی اس قسم کے سوال سے روکا نہیں گیا تھا۔ شہر بن جو شب نے عبدالرحمٰن بن عنم سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں :” میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں لیکن آیت (لاتسئلوا عن شیاء) میرے لئے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ “
یہ سن کر آپ نے پوچھا وہ کون سی بات ہے میں نے عرض کیا ” وہ عمل بتا دیجیے جو مجھے جنت میں لے جائے ۔ اس پر آپ نے فرمایا :” تم نے بہت بڑی بات پوچھی ہے لیکن یہ آسان بھی ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا۔ رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ “ آپ نے حضرت معاذ کو سوال کرنے سے نہیں روکا اور نہ ہی ان کے سوال پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
محمد بن سیرین نے احنف سے اور انہوں نے حضرت عمر سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” سردار بننے سے پہلے سمجھ پیدا کرو۔ “ حضور ﷺ کے صحابہ کرام مسجد نبوی میں اکٹھے ہو کر نئے پیدا شدہ مسائل کے احکام کے سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے۔
تابعین کرام بھی اس نہج پر چلتے رہے اور ان کے بعد ہمارے زمانے تک فقہاء کا بھی یہی طریقہ رہا۔ اس طریق کار کا صرف ان لوگوں نے انکار کیا ہے جو علم سے بابللد اور سمجھ بوجھ سے عاری تھے، انہوں نے روایات و آثار کا بوجھ تو اٹھا رکھا تھا لیکن ان کے معانی اور احکام سے نابلد تھے اس لئے وہ ان پر گفتگو کرنے اور ان سے احکام استنباط کرنے سے عاجز رہے۔
جبکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (رب حامل فقہ غیر فقیہ و رب حامل فقہ الی من ھوا فقہ منہ، بعض دفعہ شرعی حکم کا حامل خود سمجھدار نہیں ہوتا اور بعض دفعہ شرعی حکم کا حامل اس حکم کو ایسے شخص تک پہنچا دیتا ہے جو اس سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے۔ )
اس بنا پر اس منکر گروہ کی مثال وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے (مثل الذین حملوا التوراۃ تم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفاراً ) جن لوگوں کو تورات پر عمل کا حکم دیا گیا تھا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے جیسی ہے جس پر کتابیں لادی گئی ہوں۔ )
قول باری (ان تبدلکم ) کے معنی ہیں۔” اگر تم پر ظاہر کردی جائیں۔ “ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے عبداللہ بن حذافہ جیسا سوال پوچھا تھا یا ان کے سوال کے نوعیت اس طرح تھی جیسی اس شخص کی جس نے یہ پوچھا تھا کہ میں کہاں ہوں گا۔
اس لئے کہ نئے پیدا شدہ مسائل کے احکام کو ظاہر کردینا سائلین کو کبھی برا نہیں لگتا کیونکہ ان کے سوال کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ ان امور کے متعلق انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کا علم ہوجائے۔
قول باری ہے (وان تسئلوا عنھا حین ینزل القوان تبدلکم ، لیکن تم اگر انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ ) یعنی فرشتہ کے نزول اور حضور ﷺ کو قرآن کی آیات سنانے کی حالت میں یعنی زمانہ نزول قرآن میں اگر تم ایسے سوالات پوچھو گے تو اللہ تعالیٰ انہیں تم پر ظاہر کر دے گا۔ پھر اس سے تمہیں نقصان پہنچے گا اور تمہیں یہ برا لگے گا۔
قول باری ہے (عنا اللہ عنھا، اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا ) یعنی اس قسم کے سوالات، اللہ تعالیٰ نے ان کو کرید نے اور ان کے حقائق معلوم کرنے کے سلسلے میں تم سے کوئی باز پرس نہیں کی۔ اس مقام پر عفو کے معنی ان چیزوں کے متعلق ترک سوالات کی اباحت میں گنجائش اور آسانی مہیا کرنے کے ہیں۔
جس طرح یہ قول باری ہے (فتاب علیکم وعفا عنکم، اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف کردیا) اس کے معنی یہ ہیں ” اللہ نے تمہارے لئے آسانی پیدا فرما دی۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے :” حلال وہ اشیاء ہیں جنہیں اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حرم وہ چیزیں ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ جن چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ان میں عفو یعنی آسانی اور وسعت رکھی گئی ہے۔ اس کی مثال حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے (عفوت لکم عن صدقۃ الخیل والرقیق، میں نے گھوڑوں اور لونڈی غلاموں کی زکواۃ کے سلسلے میں تمہارے ساتھ درگذری سے کام لیا ہے۔ )
Ayah 5:102قول باری ہے (قدسا لھا قوم من قبلکم ثم اصبحوا بھا کافرین ، تم سے پہلے ایک گروہ نے اس قسم کے سوالات کئے تھے پھر وہ لوگ ان ہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے ) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہے، انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مائدہ یعنی کھانوں سے بھرے ہوئے دستر خوان کا معجزہ طلب کیا تھا پھر اس کے ظہور کے بعد اس کا انکار کر بیٹھے تھے۔
دوسرے حضرات کو قول ہے کہ اس سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے۔ انہوں نے اونٹنی کا معجزہ طلب کیا تھ اپھر جب اونٹنی ظاہر ہوگئی تو اسے ہلاک کردیا اور اس معجزے کا انکار کر بیٹھے۔ سدی کا قول ہے کہ یہ بات اس وقت پیش آئی جب لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ عرض کیا تھا کہ کوہ صفا سونا بنادیا جائے۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے بنی سے ان جیسی چیزوں کے متعقل سوال کیا تھا جن کے بارے میں عبداللہ بن حذافہ اور اس دوسرے شخص کے سوالات تھے جس نے یہ پوچھا تھا کہ میں کہاں ہوں گا۔ ان لوگوں کو جب ان کے نبی نے وہ باتیں بتلا دیں تو انہیں بہت برا لگا اور وہ لوگ اس نبی کی تکذیب پر اتر آئے اور انہیں نبی ماننے سے انکار کردیا۔