5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاحکام القرآن

Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

(آیت 6 کی بقیہ تفسیر) 46۔ چھیالیسویں بات یہ کہ آیت میں ان لوگوں کے استدلال کے لئے بھی احتمال موجود ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قول باری (فلم تجدجا ماء فتیموا) میں پانی کے ہر جز کی عدم موجودگی کا ذکر ہے اس لئے کہ ماء کے لفظ کو نکرہ کی صورت میں لایا گیا ہے۔ اس بنا پر جب پانی کا ہر جز غیر موجود ہوگا تو پھر تیمم کا جواز ہوگا اگر اسے تھوڑا سا بھی پانی مل جائے تو صرف تیمم پر اقتصاء کرنا جائز نہیں ہوگا بلکہ اعضاء بھی دھوئے گا اور باقی ماندہ اعضاء کا تیمم بھی کرے گا۔ 47۔ سینتالیسویں بات یہ کہ پانی کی تلاش اور طلب کے سقوط پر بھی آیت دلالت کرتی ہے اور اس سے طلب کو واجب قرار دینے والوں کے قول کا بطلان ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وجود اور عدم دونوں طلب کے مقتضی نہیں ہوتے۔ اس لئے طلب کے موجب آیت میں ایسے مفہوم کا اضافہ کر رہے ہیں جو آیت کے مفہوم کا جز نہیں۔ 48۔ اڑتالیسویں بات یہ کہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو وضو میں مصروفیت کی بناء پر نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو اس کے لئے تیمم جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے لئے پانی موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کا اسے حکم ہے کہ پانی موجود ہونے پر وضو کرے چناچہ ارشاد ہے (فاغسلوا) اس میں وقت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ 49۔ انچاسویں بات یہ کہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص محبوس ہو اور اسے پانی نہ ملے اور نہ ہی پاک مٹی تو وہ نماز نہیں پڑھے گا اس لئے کہ اللہ نے اسے آیت میں پانی اور پاک مٹی میں سے ایک چیز استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔ 50۔ پچاسویں بات یہ کہ آیت میں محبوس کے لئے تیمم کے جواز کا احتمال ہے جب اسے پاک مٹی مل جائے۔ 51۔ اکاون ویں بات یہ کہ نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے تیمم کرلینا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کو کسی وقت کے اندر منحصر نہیں کیا بلکہ اپنے قول (فلوتجدوا ماء) کے ذریعے تیمم کے حکم کو پانی کی عدم موجودگی کے ساتھ معلق کردیا ہے۔ 52۔ باون ویں بات یہ کہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ایک تیمم کے ساتھ کئی فرض نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں جب تک حدث لاحق نہ ہوجائے یا پانی نہ مل جائے۔ چناچہ ارشاد ہے (اذا تم تم الی الصلوٰۃ فاغسلوا وجوھکم) پھر اسی سیاق خطاب میں یہ فرمایا (فتیموا) اس میں تیمم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھنے کا حکم دیا جس طرح وضو کے ساتھ جب آیت ہر نماز کے لئے وضو کی تکرار کی مقتضی نہیں ہے تو وہ ہر نماز کے لئے تیمم کی تکرار کی بھی مقتضی نہیں ہے۔ 53۔ ترپن ویں بات یہ کہ جب تیمم کرنے والے کے لئے نماز کے دوران پانی کا وجود ہوجائے تو اس پر وضو لازم ہوگا اس لئے کہ ارشاد باری ہے (اذا قمتم الی الصلوٰۃ فاغسلوا) مذکورہ بالا امر پر آیت کی دلالت کی ہم نے پچھلے صفحات میں وضاحت کردی۔ 54۔ چون ویں بات یہ کہ تیمم میں چہرے اور دونوں بازوئوں کا مسح کیا جائے گا اور مسح کے ساتھ ان اعضاء کا احاطہ کیا جائے گا۔ 55۔ پچپن ویں بات یہ کہ مسح کہنیوں تک کیا جائے گا اس لئے کہ قول باری (وایدیکم الی الموافق) دونوں کہنیوں کا مقتضی ہے اور ان سے اوپر کا حصہ دلیل کی بنا پر مسح اور غسل کے حکم سے خارج ہوا ہے۔ 56۔ چھپن ویں بات یہ کہ تیمم ہر اس چیز کے ساتھ جائز ہے جو زمین کی جنس میں سے ہو اس لئے کہ قول باری ہے (فتیموا صعیدا طیب) اور صعید زمین کو کہتے ہیں۔ 57۔ ستاون ویں بات یہ کہ ناپاک مٹی سے تیمم باطل ہوتا ہے اس لئے کہ قول باری ہے (طیبا) اور ناپاک چیز طیب نہیں ہوتی) 58۔ اٹھاون ویں بات یہ کہ تیمم میں نیت کرنا فرض ہے، اس کی دو وجوہ ہیں اول یہ کہ تیمم کے معنی قصد کے ہیں اور دوم یہ قول باری ہے (فامسحوا بوجوھکم وایدیکم منہ) ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ اس قول باری کی اس امر پر دلالت ہو رہی ہے کہ تیمم کی ابتدا زمین سے ہوگی یہاں تک کہ کسی انقطاع کے بغیر چہرے تک پہنچ جائے گا اس لئے کہ تیمم کرنے والے کا کسی اور عمل میں لگ جانا نیت کو منقطع کر دے گا اور نئے سرے سے تیمم کرنے کا موجب ہوگا۔ 59۔ انسٹھویں بات یہ کہ آیت میں اس کا احتمال ہے کہ مٹی کا کچھ حصہ اس کے چہرے اور بازوئوں کو لگ جائے اس لئے کہ قول باری (منہ) میں حرف من تبعیض کے لئے ہے۔ 60۔ ساٹھویں بات یہ کہ جو لوگ برف اور خشک گھاس پر تیمم کے جواز کے قائل ہیں آیت ان کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ یہ دونوں چیزیں صعید یعنی مٹی کی جنس میں سے نہیں ہیں۔ 61۔ اکسٹھویں بات یہ کہ قول باری (اوجاء احد منکم من الغائط) سبیین یعنی فرج و تضیب اور مقعد سے نکلنے والی چیز پر طہارت کے ایجاب پر دلالت کرتا ہے۔ نیز یہ کہ اسحاضے کا خواہ سلسل البول اور ندی وغیرہ وضو کے موجب ہیں اس لئے کہ غائط پست زمین کو کہتے ہیں جہاں لوگ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں۔ 62۔ باسٹھویں بات یہ کہ قول باری (فاغسلوا وجوھکم) ہر قسم کے مانع کے ساتھ وضو کے جواز پر دلالت کرتا ہے، سوائے ان مائعات کے جن کی کسی دلیل نے تخصیص کردی ہو، اس لئے نبیذ تمر کے ساتھ وضو کے جواز پر اس سے استدلال کیا جاسکتا ہے حسن بن صالح نے سر کے اور اس جیسی چیز کے ساتھ وضو کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ اس قول باری سے اس پانی کے ساتھ تیمم کے جواز پر بھی استدلال کیا جاسکتا ہے جسکے ساتھ کوئی پاک چیز مل گئی ہو لیکن وہ پانی پر غالب نہ آ گئی ہو مثلاً عرق گلاب، دودھ، سرکہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں۔ 63۔ تریسٹھویں بات یہ کہ قول باری (فلم تجدوا ماء فتیموا) نبیذ کے ساتھ وضو کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نبیذ بھی پانی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس وقت تیمم کرنے کی اجازت دی ہے جب پانی کا کوئی جز موجود نہ ہو اس لئے لفظ ماء کو اسم نکرہ کی صورت میں بیان کیا ہے۔ اس قول سے وہ لوگ بھی استدلال کرسکتے ہیں جو اس پانی کے ساتھ وضو کے جواز کے قائل ہیں جس کی نسبت کسی اور چیز کی طرف کردی گئی ہو مثلاً شوربہ، … کا سرکہ وغیرہ کیونکہ ان چیزوں میں بہرحال پانی ہوتا ہے۔ 64۔ چونسٹھویں بات یہ کہ جو لوگ مستحاضہ کو ایک وضو کے ساتھ دو فرض نمازیں پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے آیت ان کے حق میں اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگلی فرض نماز کے لئے اسے دوبارہ وضو کرنا ہوگا اس لئے کہ قول باری ہے (اذا تم تم الی الصلوٰۃ) اور اس کی تفسیر میں یہ معنی مروی ہیں ” اذا تم تم وانتم محدثون “ (جب تم حدث کی حالت میں نماز کے لئے اٹھو ( مسحاضہ حدث کی حالت میں ہوتی ہے اس لئے کہ وضو کے بعد اسے استحاضے کے خون کی صورت میں حدث لاحق ہوجاتا ہے۔ 65۔ پینسھٹویں بات یہ کہ آیت ایک تیمم کے ساتھ دو فرض نمازوں کی ادائیگی کے جواز کے امتناع پر دلالت کرتی ہے جس طرح مستحاضہ کے متعلق اس کی دلالت ہے اس لئے کہ تیمم حدث کو رفع نہیں کرتا اس لئے جب تیمم کرنے والا نماز کے ارادے سے اٹھے گا تو وہ حدث کی حالت میں ہوگا۔ 66۔ چھیاسٹھویں بات یہ کہ پانی کی عدم موجودگی میں اول وقت میں تیمم کے جواز پر آیت دلالت کرتی ہے اس لئے کہ قول باری ہے (اقم الصلوٰۃ لذنوک الشمس۔ سورج ڈھلنے یا چھپنے پر نماز قائم کرو) نیز ارشاد ہوا (اذا تم تم الی الصلوٰۃ) تا قول باری (فلم تجدوا ماء فتیمموا) اللہ تعالیٰ نے سورج کے ڈھلنے یا چھپنے پر نماز پڑھنے کا حکم دیا اور پانی کی موجودگی میں وضو اور عدم موجودگی میں تیمم کو نماز پر مقدم کرنے کا امر فرمایا۔ یہ بات اول وقت اور وقت سے قبل تیمم کے جواز کی مقتضیٰ ہے جس طرح یہ وقت سے پہلے اور اول وقت میں وضو کے جواز کی مقتضیٰ ہے۔ 67۔ سٹرسٹھویں بات یہ کہ آیت حضر کی حالت میں محبوس کے لئے تیمم کے جواز اور اس کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے جواز دونوں کے امتناع پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ قول باری ہے (وان کنتم مرضی او علی سفراوجاء احد منکم من الغائط) تا قول باری (فتیمموا صعیدا) اللہ تعالیٰ نے تیمم کی اباحت میں دو باتوں کی شرط عائد کردی ایک بیماری اور دوسری مسافرت جبکہ پانی میسر نہ ہو۔ اس لئے اگر انسان مسافر نہیں ہوگا بلکہ مقیم ہوگا مگر حبس اور قید کی وجہ سے اسے پانی دستیاب نہ ہو رہا ہو تو تیمم کے ساتھ اس کی نماز جائز نہیں ہوگی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایسا شخص پانی کا واجد اور حاصل کرنے والا نہیں کہلا سکتا اگرچہ وہ مقیم ہی کیوں نہ ہو تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ مذکورہ شخص کی کیفیت بالکل یہی ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے جواز تیمم کے لئے دو باتوں کی شرط عائد کی ہے۔ ایک سفر جس کے اندر اکثر احوال میں پانی دستیاب نہیں ہوتا اور دوسری پانی کی عدم موجودگی مسافر کے لئے تیمم کی اباحث اور اس کے ساتھ نماز کی ادائیگی کا جواز صرف پانی کی موجودگی متعذر ہونے کی بنا پر کیا گیا ہے اس لئے کہ سفر کی حالت اس کے اس عذر کی موجب ہوتی ہے۔ حضر کی حالت اس کی موجب نہیں ہوتی اس لئے کہ اکثر احوال میں حضر کے اندر پانی موجود ہوتا ہے اب محبوس کو…… اگر پانی میسر نہیں تو اس میں کسی آدمی کے فعل یعنی اس کے رکاوٹ بننے کو دخل ہوتا ہے۔ اس میں عادت کو کوئی دخل نہیں ہوتا جبکہ عادت یعنی اکثر احوال میں حضر کے اندر پانی کی عدم موجودگی نہیں ہوتی۔ 68۔ اڑسٹھویں بات یہ کہ قول باری (ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج) ہر اس چیز کی نفی پر دلالت کرتا ہے جو حرج اور تنگی کی موجب بنتی ہو۔ اس کے ساتھ ان لوگوں کے خلاف استدلال کیا جاسکتا ہے جو اختلافی مسئلوں میں تنگی پیدا کرنے کے مسلک کو اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ آیت تیمم کے جواز پر دلالت کتری ہے جب تیمم کرنے والے کے پاس صرف اس قدر پانی ہو جو اس کے پینے کے کام آسکتا ہو اور اس کے ساتھ وضو کرلینے کی صورت میں اسے پیاس کا سامنا کرنے کا اندیشہ ہو جس کی بنا پر اس نے اسے پینے میں استعمال کرنے کے لئے رکھ لیا ہو۔ اس لئے کہ اس کے اس طرز عمل سے حرج اور تنگی کی نفی ہوتی ہے اس لئے اس صورت میں تیمم کرنا جائز ہے۔ اسی طرح آیت ترتیب کے ایجاب، پے در پے وضو کے افعال کی ادائیگی نیز نیت اور اسی طرح کے دوسرے امور کے ایجاب کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ 69۔ انتہرویں بات یہ کہ قول باری (ولکن یرید لیطھرکم) اس پر دلالت کرتا ہے کہ اصل مقصد تو طہارت کا حصول ہے خواہ جس طریقے سے بھی حاصل ہوجائے یعنی ترتیب ہو یا نہ ہو، افعال وضو پے در پے ادا کئے گئے ہوں یا نہ کئے گئے ہوں، نیت کا وجوب ہوا ہو یا نہ ہوا ہو وغیرہ وغیرہ۔ 70۔ سترویں بات یہ کہ قول باری (فاطھروا) اس پر دلالت کرتا ہے طہارت کے حصول کے لئے اپنی کا اندازہ مقرر کرنے کی بات ساقط الاعتبار ہے اس لئے اصل مقصد تو تطہیر یعنی طہارت حاصل کرنا ہے نیز آیت کی اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک صاع پانی سے جو غسل فرمایا تھا اس کا اعتبار ضروری نہیں ہے۔ 71۔ اکہترویں بات یہ کہ قول باری (فامسحوا بروسکم) میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ اس سے پانی کے ساتھ مسح کرنا مراد ہے اس لئے مسح فی نفسہ پانی کا مقتضی نہیں ہوتا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا دیا (فلم تجدواماء) تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ یہاں پانی کے ساتھ مسح کرنا مراد ہے۔ الغرض اس ایک آیت کی مختلف معانی اور احکام پر دلالتوں کی یہ صورتیں ہیں۔ ان میں سے کچھ تو منصوص ہیں اور کچھ احتمالات کے درجے میں ہیں۔ ان سب کا تعلق طہارت کے مسئلے کے ساتھ ہے جسے نماز پر مقدم کیا جاتا ہے اور جو نماز کی ایسی شرط ہے جس کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی۔ ہم یہاں اس امر کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آیت زیر بحث میں بہت سے ایسے دلائل اور احتمالات باقی رہ گئے ہیں جو ہمارے علم کی رسائی سے باہر ہیں۔ جب کبھی کوئی صاحب توفیق اور باہمت عالم ان کی تلاش و جستجو کے درپے ہوگا اور گہری نظر سے ان کا مطالعہ کرے گا۔ یہ دلائل اور احتمالات اس کے ادراک میں جلوہ گر ہوجائیں گے۔ واللہ الموفق۔ ۔۔۔ آیت 6 کی تفسیر ختم ہوئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ تفسیر آیت 7: گواہی اور انصاف قائم کرنا قول باری ہے (یایھا الذین امنوا کونوا قوامین لللہ شھداء بالقسط اے لوگو، جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو) اس کے معنی ہیں ان تمام معاملات میں جن پر قائم رہنا تم پر لازم ہے یعنی امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور منکرات سے اجتناب وغیرہ تم اللہ کی خاطر حق اور راستی پر قائم رہنے والے بن جائو، اسی کا نام اللہ کی خاطر حق پر قائم رہنا ہے۔ قول باری (شھداء للہ بالقسط) میں قسط کے معنی عدل کے ہیں۔ شہادت کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس سے مراد لوگوں کے حقوق کے سلسلے میں دی جانے والی گواہیاں ہیں۔ حسن سے یہ مروی ہے یہ قول باری اس آیت کی طرح ہے (کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ ولو علی انفسکم انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو) ۔ ایک قول ہے کہ اس سے وہ گواہی مراد ہے جو لوگوں کے خلاف ان کے معاصی پر دی جاتی ہے جس طرح یہ قول باری ہے (لتکونوا شھداء علی الناس تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جائو) اس میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ تم ان اہل عدالت میں سے بن جائو جن کے متعلق اللہ کا حکم ہے کہ وہ قیامت کے دن لوگوں پر گواہ بنیں گے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد وہ گواہی ہے جو اللہ کے اوامر کے بارے میں دی جاتی ہے کہ یہ برحق ہیں۔ درج بالا تمام معانی کا یہاں مراد ہونا درست ہے اس لئے کہ لفظ کے اندر ان سب کا احتمال موجود ہے۔ قول باری ہے (ولا یجرمنکم شغان قوم علی ان لا تعدلوا کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جائو) ایک روایت ہے کہ آیت کا نزول یہودیوں کے بارے میں ہوا تھا جب آپ ایک دیت کے سلسلے میں ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے اور پھر ان لوگوں نے آپ کی جان لینے کی ٹھان لی تھی۔ حسن کا قول ہے کہ آیت کا نزول قریش کے بارے میں ہوا تھا جب ان لوگوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روک دیا تھا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر اسی سورت میں اپنے اس قول کے اندر کیا ہے (ولا یجرمنکم شنان قوم ان صدو کم عن المسجد الحرام ان تعتدوا۔ ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگ جائو) حسن نے اسے پہلی آیت کے معنوں پر محمول کردیا۔ بہتر بات یہی ہے کہ آیت کا نزول قریش کے سوا دوسروں کے بارے میں مان لیا جائے تاکہ تکرار لازم نہ آئے۔ آیت زیر بحث کے ضمن میں حق پرست اور باطل پرست دونوں کے ساتھ عدل کرنے کا حکم موجود ہے اور یہ ہدایت ہے کافروں کا کفر اور ان کا ظلم و ستم ان کے ساتھ عدل کرنے کی راہ میں حائل نہ ہوجائے۔ نیز یہ کہ ان کے خلاف جنگ کرنے اور انہیں تہ تیغ کرنے میں اس حد سے تجاوز نہ کیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں اور اس کا دائرہ صرف ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے، انہیں گرفتار کرنے اور غلام بنانے تک محدود رکھا جائے، ان کا مثلہ نہ کیا جائے اور نہ ہی انہیں اذیتیں دی جائیں۔ نہ ہی انہیں صدموں سے دوچار کرنے اور دکھی بنانے کے ارادے سے ان کی اولاد اور عورتوں کو قتل کیا جائے۔ حضور ﷺ نے جب حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کو اہل خیبر کے پھلوں کی پیداوار کا اندازہ لگانے کے لئے ان کی طرف بھیجا تھا اور انہوں نے زیورات وغیرہ جمع کر کے حضرت عبد اللہ ؓ کو اس نیت سے دینے کا ارادہ کیا تھا کہ وہ پیداوار کا تخمینہ لگانے میں کچھ تخفیف کردیں تو آپ نے ان لوگوں سے یہی کہا تھا۔ ” یہ حرام ہے “ تم اپنے اس سازو سامان کی وجہ سے میرے لئے بندروں اور سوروں سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہو، لیکن تمہاری یہ حرکت میرے لئے تمہارے ساتھ انصاف سے پیش آنے کی راہ میں حائل نہیں ہوگی، یہ سن کر ان یہودیوں نے کہا تھا : ” زمین و آسمان کا قیام اسی انصاف کی بدولت ہے “۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ھو اقرب للتقوی۔ انصاف تقویٰ سے زیادہ قریب ہے) جبکہ یہ معلوم ہے کہ انصاف خود تقویٰ ہے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک چیز کو خود اس کی ذات سے قریب قرار دیا جائے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس کے معنی ہیں، انصاف اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ تم تمام سیئات سے اجتناب کر کے متقی بن جائو۔ اس طرح مذکورہ عدل تمام امور میں انصاف کرنے اور تمام معاصی سے اجتناب کرنے کا داعی بن جائے گا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ عدل جہنم کی آگ سے بچنے کا اقرب ذریعہ ہے۔ قول باری (ھو اقرب للتقوی) میں ضمیر ھو اس مصدر کی طرف راجع ہے جس پر فعل (اعدلوا) دلالت کرتا ہے، گویا یوں فرمایا ” عدل تقویٰ سے زیادہ قریب ہے “ جس طرح کوئی شخص یہ کہے۔ ” من کذب کان شترا لہ “ (جو شخص جھوٹ بولے گا تو یہ اس کے لئے برا ہوگا) یعنی جھوٹ بولنا اس کے لئے برا ہوگا۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور خدا نے نبی اسرائیل سے اقرار لیا۔ اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے۔ پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کرونگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

قول باری ہے (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل و بعثنا منھم اثنی عشو نقیب۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب مقرر کئے تھے) اس مقام پر نقیب سے کیا مراد ہے اس میں اختلاف ہے حسن کا قول ہے کہ اس سے ضمین یعنی کفیل اور ذمہ دار مراد ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو اپنی قوم کا نگران ہو۔ ایک قول ہے کہ لفظ نقیب نقب سے ماخوذ ہے جس کے معنی بڑے سوراخ کے ہیں۔ کسی کو نقیب القوم اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے احوال پر نظر رکھتا ہے اور ان کے پوشیدہ خیالات و امور سے مطلع رہتا ہے۔ اسی مفہوم کی بنا پر قوم کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والوں کے سردار کو نقیب کہا جاتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ نقیب کفیل اور ذمہ دار کو کہتے ہیں انہوں نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ نقیب اس کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ وہ اپنے متعلقہ لوگوں کے احوال، ان کے امور، ان کے صلاح و فساد اور ان کی استقامت اور کج روی سے باخبر رہ کر حضور ﷺ کو اس کی اطلاع فراہم کرے، حضور ﷺ نے انصار پر بارہ نقیب اسی معنی میں مقرر فرمائے تھے۔ ربیع بن انس کا قول ہے کہ امین کو نقیب کہتے ہیں۔ قتادہ کا یہ قول کہ اس سے نگران مراد ہے حسن کے قول سے قریب ہے۔ اس لئے کہ نقیب اپنے متعلقہ لوگوں پر امین ہوتا ہے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا اور ان کے معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔ حضور ﷺ نے نقیبوں کا دو باتوں کی بنا پر تقرر فرمایا تھا۔ ایک تو یہ کہ اس کے ذریعے لوگوں کے احوال اور ان کے امور سے رابطہ رہے اور حضور ﷺ کو اس کی اطلاعات ملتی رہیں تاکہ آپ اپنی صوابدید کے مطابق ان کے متعلق تدابیر اختیار کریں۔ دوسری بات یہ تھی کہ جب لوگوں کو اس کا علم ہوتا کہ ان پر ایک نگران نقیب کی صورت میں مقرر ہے تو وہ سلامت روی سے زیادہ قریب ہوجاتے کیونکہ انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان کے تمام معاملات حضور ﷺ تک پہنچا دیئے جائیں گے۔ نیز یہ کہ ہر شخص حضور ﷺ سے اپنے معاملات اور ضروریات کے سلسلے میں براہ راست مخاطب ہونے سے جھجکتا تھا اس لئے اس کی طرف سے نقیب اس کی معروضات حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیتا تھا۔ یہ جائز نہیں کہ نقیب ان کے کئے ہوئے وعدوں اور میثاق کو پورا کرنے کا ضامن اور ذمہ دار بن جاتا اس لئے کہ یہ معاملہ ایسا ہے کہ اس میں نقیب کی ضمانت درست نہیں ہوتی نہ ہی ضمین یہ کام کرسکتا اور نہ ہی اسے قائم رکھ سکتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ نقیب پہلے معنی پر محمول ہوتا ہے۔ اس آیت میں خبر واحد یعنی ایک آدمی کے ذریعے دی گئی خبر کو قبول کرل ینے کی دلالت موجود ہے اس لئے کہ ہر گروہ اور قوم پر نقیب اس لئے مقرر کیا جاتا تھا کہ وہ ان کے حالات کی اطلاع حضور ﷺ یا وقت امام المسلمین تک پہنچا دے۔ اگر اس ایک فرد کی دی گئی خبر قابل قبول نہ ہوتی تو اسے اس منصب پر مقرر کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کی رو سے بارہ افراد کی دی گئی خبر قابل قبول ہوسکتی ہے ایک فرد کی نہیں تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بارہ افراد بنی اسرائیل کی پوری قوم پر نقیب نہیں بنائے گئے تھے بلکہ ہر نقیب صرف اپنی قوم اور اپنے قبیلے کا نقیب مقرر کیا گیا تھا۔ بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم انکی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔ تو ان کی خطائیں معاف کردو اور ( ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

قول باری ہے (یحرفون الکلم عن مواضعہ اور ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں) وہ دو طرح سے کلام اللہ کی تحریف کرتے تھے۔ ایک تو غلط تاویل کر کے اور غلط مفہوم لے کر اور دوسری الفاظ میں الٹ پھیر کر کے، جو چیز کلام یا کتاب کی صورت میں لوگوں کے اندر عام ہوجانے اور لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائے اس کے الفاظ میں الٹ پھیرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ ایسی بات پر تمام لوگوں کا متفق ہوجانا ممتنع ہوتا ہے۔ لیکن جس کتاب کی لوگوں کے درمیان اشاعت نہ ہوئی ہو بلکہ اس کا علم صرف ایک خاص طبقے تک محدود ہو جس سے الٹ پھیر اور تغیر و تبدل متوقع بھی ہو اس صورت میں ایسی کتاب کے الفاظ اور معانی میں الٹ پھیر کا پورا امکان ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ اصل الفاظ کی جگہ اپنے الفاظ نہ رکھ دیئے گئے ہوں۔ لیکن ایسی کتاب جو عام لوگوں کے ہاتھوں میں ہو اور لوگوں میں اس کی اشاعت بھی ہوئی ہو اس میں غلط تاویلات کے ذریعے ہی تحریف ہوسکتی ہے جس طرح فرقہ جبریہ اور فرقہ قدریہ نے متشابہ آیات کے وہ معنی پہنائے جن سے ان کے باطل عقائد کی تائید ہوتی تھی اور ان سے ایسے مفاہیم اخذ کرنے کا دعویٰ کیا جو ان کے اعتقادات کے مطابق ہوتے انہوں نے متشابہ آیات کو محکم آیات کے معانی پر محمول کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم نے جو یہ کہا ہے کہ جو کتاب عام لوگوں تک پہنچ گئی ہو اور عوام الناس کے درمیان پھیل گئی ہو اس کے الفاظ میں الٹ پھیر کے ذریعے تحریف واقع ہونا ممکن نہیں ہوتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریف صرف اسی صورت میں واقع ہوسکتی ہے جب سب لوگ اس پر متفق ہوجائیں۔ لیکن لوگوں کا ایسی بات پر متفق ہوجانا جبکہ ان کے خیالات ایک دوسرے سے مختلف اور ان کے علاقے ایک دوسرے سے دور ہوں، ناممکن ہوتا ہے جس طرح تمام مسلمانوں کا قرآن کے الفاظ میں کسی قسم کے الٹ پھیر پر متفق ہوجانا ناممکن ہے۔ اگر یہ بات ممکن ہوتی تو پھر جھوٹی احادیث اور بےبنیاد روایات گھڑنے پر بھی ان کا اتفاق ہوسکتا تھا اور اگر ایسا ہوجاتا تو احادیث و روایات کے ذریعے دین کی کسی بات کا بھی صحیح علم ہم تک نہ پہنچ سکتا۔ اس اضطرار کی بنا پر اس قول کا بطلان سب کے علم میں ہے۔
Ayahs 5:14–16

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لئے دشمنی اور کینہ ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزّماں) آگئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے۔

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس سے خدا اپنی رضا پر جلنے والوں کو نجات کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے

نصاریٰ کی حقیقت قول باری ہے (ومن الذین قالوا انا نصاری اخذنا میتا قھم اور ان لوگوں سے ہم نے عہد لیا تھا جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں) حسن سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (قالوا انا نصاری) فرمایا اور یہ نہیں فرمایا کہ ” ہم نصاریٰ میں سے ہیں “ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان لوگوں نے نصرانیت کے عقائد گھڑے تھے اور اپنے آپ کو اس نام سے موسوم کیا تھا۔ یہ لوگ ان لوگوں کے طریقے پر نہیں چلتے تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں ان کی پیروی کرتے اور حواری کہلاتے تھے۔ یہی حواری حقیقت میں نصاریٰ تھے۔ شام کے ایک گائوں ناصرہ کی طرف ان کی نسبت تھی بعد میں آنے والے لوگوں نے جو درحقیقت نصرانیت کے پرستار تھے ان لوگوں کی طرف اپنی نسبت کی اگرچہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے۔ اس لئے کہ وہ لوگ توحید پرست اور اہل ایمان تھے اور یہ لوگ مشرک اور تثلیث پرست تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی اور مقامات پر ایسے لوگوں کے لئے لفظ نصاریٰ کا اطلاق کیا ہے لیکن یہ اطلاق ان کی حقیقت حال کی حکایت کے طور پر نہیں تھا مثلاً یہ قول باری ہے (وقالت النصاریٰ المسیح ابن اللہ اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں) اسی طرح اور مواقع پر بھی اس کا اطلاق ہوا ہے، اس اطلاق کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اسی نام سے پہچانے جاتے تھے اور یہ نام ان کی نشانی اور علامت بن گیا تھا۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

جو لوگ اس بات کے قائل ہے کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہے تو بیشک کافر ہیں ( ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے ؟ اور آسمان اور اور جو کچھ ان دونوں میں ہیں سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

کفر کی تشریح قول باری ہے (لقد کفوالذین قالوا ان اللہ ھو المسیح بن مریم قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم، یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے، اے محمد ﷺ ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے) ۔ ان لوگوں کو کفر کا نشان اس لئے لگ گیا کہ انہوں نے یہ بات اس بنا پر کہی تھی کہ وہ اسے اپنا دین سمجھتے تھے، انہیں اس کا اعتقاد تھا اور اس کی صحت کا اقرار کرتے تھے۔ اس لئے کہ اگر وہ یہ بات دوسرے لوگوں کے عقیدے کی حکایت کے طور پر کہتے اور خود اس کا انکار کرتے تو کافر قرار نہ دیئے جاتے۔ کفر چھپا لینے اور پردہ ڈال دینے کو کہتے ہیں۔ ہم نے ان کی جو بات نقل کی ہے اس میں دو وجوہ سے ڈھانپ لینے اور چھپا لینے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایک تو نعمت کا انکار کر کے کفران نعمت کرنا نعمت عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے لیکن اس نعمت کو کسی اور کی طرف منسوب کردینا جس کی الوہیت کے یہ دعوے دار تھے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے جاہل ہونے کی بنا پر اس کا انکار کردینا۔ اللہ کی ذات سے جاہل کافر ہوتا ہے، اس لئے کہ وہ اس جہل کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا حق ضائع کردیتا ہے اور اس طرح اس کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوجاتی ہے جو ان نعمتوں کی نسبت غیر اللہ کی طرف کرتا ہے۔ کفر کی تشریح قول باری ہے (لقد کفوالذین قالوا ان اللہ ھو المسیح بن مریم قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم، یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے، اے محمد ﷺ ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے) ۔ ان لوگوں کو کفر کا نشان اس لئے لگ گیا کہ انہوں نے یہ بات اس بنا پر کہی تھی کہ وہ اسے اپنا دین سمجھتے تھے، انہیں اس کا اعتقاد تھا اور اس کی صحت کا اقرار کرتے تھے۔ اس لئے کہ اگر وہ یہ بات دوسرے لوگوں کے عقیدے کی حکایت کے طور پر کہتے اور خود اس کا انکار کرتے تو کافر قرار نہ دیئے جاتے۔ کفر چھپا لینے اور پردہ ڈال دینے کو کہتے ہیں۔ ہم نے ان کی جو بات نقل کی ہے اس میں دو وجوہ سے ڈھانپ لینے اور چھپا لینے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایک تو نعمت کا انکار کر کے کفران نعمت کرنا نعمت عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے لیکن اس نعمت کو کسی اور کی طرف منسوب کردینا جس کی الوہیت کے یہ دعوے دار تھے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے جاہل ہونے کی بنا پر اس کا انکار کردینا۔ اللہ کی ذات سے جاہل کافر ہوتا ہے، اس لئے کہ وہ اس جہل کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا حق ضائع کردیتا ہے اور اس طرح اس کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوجاتی ہے جو ان نعمتوں کی نسبت غیر اللہ کی طرف کرتا ہے۔ قول باری (فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم) کے معنی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیتا تو اللہ کو اپنے اس ارادے سے باز رکھنے کی مجال کس کو ہوتی۔ یہ قول حضرت مسیح (علیہ السلام) کے الہ نہ ہونے کی واضح ترین اور بین ترین دلیل ہے اس لئے کہ اگر حضرت مسیح (علیہ السلام) الہ ہوتے تو وہ اللہ کو اس ارادے سے باز رکھ سکتے لیکن جب حضرت مسیح (علیہ السلام) اور دوسری تمام مخلوقات اس لحاظ سے یکساں ہیں کہ سب پر موت اور ہلاکت کا درود ممکن ہے تو یہ بات درست ہوگئی کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) الہ نہیں ہیں کیونکہ تمام لوگ الہ نہیں ہیں اور حضرت مسیح (علیہ السلام) فنا، موت اور ہلاکت کے جواز کے لحاظ سے دوسرے لوگوں کی طرح ہیں۔
Ayahs 5:18–19

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔ کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے ؟ (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو۔ وہ جیسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب (پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہاتو) اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانیوالے آگئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

قول باری ہے (وقالت ایھود و النصاری نحن ابناء اللہ واحباء ہ) یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ بات یہودیوں کی ایک جماعت نے کہی تھی جب حضور ﷺ نے انہیں اللہ کی سزائوں سے ڈرایا تھا، انہوں نے جواب میں کہا تھا کہ آپ ہمیں نہ ڈرائیں کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ لالہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کو یہ وحی بھیجی تھی کہ تمہارا بیٹا درحقیقت وہی ہوگا جو سب سے پہلے پیدا ہوگا یعنی وہ تمہاری طرح ہوگا اور تم سب سے قریب ہوگا۔ حسن کہتے ہیں کہ یہودیوں نے آیت میں مذکورہ اس معنی کی بنا پر کہی تھی کہ بیٹا باپ سے قریب ہوتا ہے یعنی یہود کا خیال یہ تھا کہ وہ لوگ اللہ سے قریب ہیں۔ نصاریٰ کے متعلق کہا گیا ہے کہ انجیل کے مطابق جب حضرت مسیح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جا رہا ہوں تو انہوں نے اس سے یہ مفہوم اخذ کرلیا کہ وہ سب کے سب اللہ کے بیٹے ہیں۔ ایک قول یہ ہے عیسائیوں نے جب یہ کہا کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں تو انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں یعنی ان میں سے کسی نے یہ کہا کہ دوسرے لوگ بھی اس کے ہم زبان بن گئے، اس تاویل کی بنا پر آیت نقل کردہ ان کے قول کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کا بیٹا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ہم میں سے ہے۔ ان کا یہ قول اہل عرب کے اس محاورے کے مطابق ہے کہ ” ھذیل شعرا “ (قبیلہ ہذیل شاعر ہے) اس کا مفہوم یہ ہے کہ قبیلہ ہذیل میں سے شعراء ہیں۔ یا یہ جملہ کہ ” فی رھط مسلیمہ وہ مسلیمہ کے گروہ میں ہے) قول باری ہے (قل فلم یعذبکم بذنوبکم۔ اے نبی ﷺ ! کہہ دیں کہ وہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں پر سزائیں کیوں دیتا ہے) آیت میں ان کے مذکورہ بالا دعوے کی تردید اور ان کی زبان سے ہی اس کی تکذیب ہے۔ اس لئے کہ انہیں اس بات کا کہ گناہوں پر انہیں سزائیں ملتی ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ مشفق باپ اپنے بیٹے کو کبھی سزا نہیں دیتا۔
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔ اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔

قول باری ہے (وجعلکم ملوکا اور تمہیں ملوک یعنی فرمانروا بنایا) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ زید بن اسلم اور حسن کا قول ہے کہ ملک اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کا اپنا گھر بیوی اور نوکر چاکر ہوں، دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ملک اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے پاس اتنی پونجی اور اتنا سامان ہو جس کی وجہ سے وہ کام کرنے کی تکلیف اٹھانے اور معاش کے لئے مشقتیں برداشت کرنے سے بچ جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ انہیں من و سلویٰ (بنی اسرائیل کو ان کی دشت گردی کے دوران ملنے والی خدائی خوراک) سر پر سایہ کرنے والے بادل اور بارہ چشمے بہانے والے چٹان کی بنا پر ملوک قرار دیا گیا۔ دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ مال و دولت کی بنا پر انہیں ملوک کہا گیا۔ حسن کا قول ہے کہ انہیں ملوک کے نام سے اس لئے موسوم کیا گیا کہ جب انہوں نے اپنے آپ کو مصر کے قبطیوں سے چھڑا لیا جنہوں نے انہیں غلام بنا رکھا تھا تو اپنی ذات کے آپ مالک ہوگئے۔ سدی کا قول ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال نیز اپنے مال کا مالک تھا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل پہلے لوگ تھے جنہوں نے نوکر چاکر رکھے تھے۔
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

تو بھائیو ! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑجاؤ گے۔

ارض مقدس قول باری ہے (یا قوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم۔ اے برادران قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جائو جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد سرزمین بیت المقدس ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ سرزمین طور ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ ارض شام ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد دمشق ہے۔ فلسطین اور اردن کے کچھ حصے ہیں۔ مقدسہ مطہرہ کو کہتے ہیں اس لئے کہ تقدیس کے معنی تطہیر کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ارض مقدس اس لئے کہا کہ اسے بہت سی شرکیات سے پاک رکھا گیا تھا اور اس سرزمین کو انبیاء اور اہل ایمان کا مسکن اور جائے قرار بنادیا گیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس کے لئے فرمایا (کتب اللہ لکم) جبکہ اسی سرزمین کے لئے یہ بھی فرمایا (فانھا محرمۃ علیھم۔ یہ سرزمین ان کے لئے حرام کردی گئی ہے) تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ابن اسحاق سے مروی ہے کہ یہ سرزمین ان یہودیوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ہبہ اور تحفہ تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اس سرزمین کو حرام کردیا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ مناسب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو انہیں اس شرط پر عطا کیا تھا کہ یہ لوگ اللہ کی اطاعت اور اس کے اوامر کی فرماں برداری کی راہ پر گامزن رہیں لیکن جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر کمربستہ ہوگئے تو اللہ نے ان پر یہ سرزمین حرام کردی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اگرچہ اس امر کا درودعموم کی صورت میں ہوا ہے لیکن اسے خصوص پر محمول کیا جائے گا۔
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سر زمین سے نکل نہ جائیں تم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہونگے۔

لفظ جبار کی تشریح قول باری ہے (ان فیھا قوما جبارین۔ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں) ایک قول یہ ہے کہ لفظ جبار راحبار علی الامر “ کسی بات پر مجبور کرنا) سے نکلا ہے۔ ٹوٹی ہوئی ہڈی پر پلستر چڑھانے کو ” جبر العظم “ اس لئے کہتے ہیں کہ پلستر یا جبیرہ کے ذریعے اس ہڈی کو ٹھیک ہوجانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ خون رائیگاں جانے اور خونبہا لازم نہ ہونے کو جبار کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس کے اندر بھی زبردستی کے معنی پائے جاتے ہیں۔ لمبے کھجور کے درخت کو جس تک ہاتھ نہ پہنچ سکے جبارۃ کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ بھی جبار انسان کی طرح ہوتا ہے۔ جبار انسان اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو لوگوں کو اپنے مقصد اور مطلب پر مجبور کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ جبار مدح کی صفت ہے اور غیر اللہ کے لئے صفت ذم ہے۔ اس لئے کہ غیر اللہ ایسی چیز کی بنا پر بڑا بنتا ہے جو اس کی اپنی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی دی ہوئی ہوتی ہے، جب عظمت اور بڑائی صرف اللہ کی ذات کے لئے ہے وہی جبار اور صاحب عظمت ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جب اللہ کے لئے جبار کی صفت کا اطلاق کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے اللہ تعالیٰ عارف باللہ کو اپنی ذات بےہمتا کی تعظیم کی دعوت دیتا ہے۔ جبار اور قہار میں یہ فرق ہے کہ قہار کے اندر اس شخص پر غلبہ پالینے کے معنی پائے جاتے ہیں جو اللہ کی نافرمانی کر کے اس کے ساتھ دشمنی کرتا ہو یا دشمنی کرنے والے کے حکم میں ہو۔
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے راستے سے حملہ کردو۔ جب تم دروازے میں داخل ہوگئے تو فتح تمہاری ہے۔ اور خدا ہی پر بھروسا رکھو بشرطیکہ صاحب ایمان ہو۔

خوف کے ہوتے ہوئے حق گوئی کی عظمت قول باری ہے (قال رجلان من الذی یخافون انعم اللہ علیھما ادخلوا علیھم الباب۔ ان ڈرنے والوں میں سے دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا انہوں نے کہا کہ ان جباروں کے مقابلہ میں دروازوں کے اندر گھس جائو “ ) قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (یخافون) سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ سے ڈرتے تھے، لیکن دوسرے اہل علم کا قول ہے کہ وہ لوگ ان جباروں سے ڈرتے تھے لیکن اس خوف اور ڈرنے نے انہیں کلمۂ حق کہنے سے باز نہیں رکھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دو مرد حق کی تعریف کی یہ چیز خوف اور ڈر کے موقعہ پر کلمۂ حق کہنے کی فضیلت اور اس کی شرف منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لایمنعن احدکم مخافۃ الناس ان یقول الحق اذا راأہ ولعمہ فانہ یبعد من الرزق ولا یدنی من اجل۔ تم میں سے کسی کو لوگوں کا خوف کلمۂ حق کہنے سے باز نہ رکھے جب وہ حق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے اور اس کا علم اسے حاصل ہوجائے اس لئے کہ بات نہ اسے ملنے والے رزق سے دور کرسکتی ہے اور نہ ہی آنے والے اجل سے قریب کرسکتی ہے) آپ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا تھا (وان لایا خذک فی اللہ لومۃ لائم اور یہ کہ کسی ملامت گر کی ملامت اللہ کے بارے میں تمہارے راستے کی رکاوٹ نہ بننے پائے) جب آپ سے افضل ترین جہاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا (کلمۃ حق عند سلطان جائر ظالم سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا افضل ترین جہاد ہے۔ )
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے کہ موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جاسکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔

قوم موسیٰ کا جنگی تعاون سے انکار قول باری ہے (قالوا یموسی انا لن نذخلھا ابدا مادا مرا فیھ فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھتا قاعدون۔ انہوں نے پھر یہی کہا کہ اے موسیٰ ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں، بس تم اور تمہارا رب، دونوں جائو اور لڑو ہم یہاں بیٹھتے ہیں۔ ) قول باری (فاذھب انت وربک فقاتلا) میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے یہ بات بطور مجاز کہی تھی یعنی تم جائو اور تمہارا رب تمہاری مدد کرے گا “۔ دوسرے یہ کہ ذہاب یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجانا اپنے حقیقی معنوں پر محمول ہے۔ اس صورت میں قائل کے اس قول کو اس کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو جسم اور جسمانیات کے مشابہ قرار دینے پر محمول کیا جائے گا۔ یہ معنی کلام کے مفہوم کے مدنظر اولیٰ ہے اس لئے کہ یہ کلام ان لوگوں کی تردید اور ان کی جہالت پر اظہار تعجب کے موقعہ میں وارد ہوا ہے۔ کبھی مجازاً یہ فقرہ کہا جاتا ہے ” قاتلہ اللہ “ اور اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ کی اس کے ساتھ عداوت اس شخص کی عداوت کی طرح ہے جو اس سے برسرپیکار ہو اور اپنے اقتدار اور تسلط کے دبدبے کی بنا پر اس پر چھایا ہوا ہو۔
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی اور پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے۔

انسان اپنے نفس کا کہاں تک مالک ہے قول باری ہے (قال رب انی لا املک الا نفسی واحی۔ اس پر موسیٰ نے کہا۔ ” اے میرے رب ! میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی) یہ بات بھی مجازا کہی گئی ہے اس لئے کہ کوئی انسان نہ اپنی ذات کا حقیقۃً مالک ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے آزاد بھائی کا۔ یہ اس لئے کہ ملک کے اصل معنی قدرت کے ہیں۔ اور یہ بات محال ہوتی ہے کہ کوئی شخص اپنی ذات پر یا اپنے بھائی پر قدرت رکھتا ہو پھر ملک کے اسم کا تصرف کے معنوں پر اطلاق کیا گیا اور اس طرح مملوک کو اس شخص کے حکم میں کردیا گیا جو پوری طرح قابو میں ہو۔ اس لئے کہ قابو پانے والا انسان یعنی آقا اپنے مملوک کو اسی طرح اپنے اشاروں پر چلاتا ہے جس طرح اس شخص کو جو پوری طرح اس کے قابو میں ہوتا ہے۔ اس جگہ آیت کے معنی ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کردیا کہ وہ اس کی اطاعت میں اپنی ذات کو جس رخ پر چاہیں چلا سکتے ہیں۔ آپ نے اپنے بھائی پر بھی اس کا اطلاق کیا اس لئے کہ آپ کے بھائی آپ کے حکم پر چلتے اور آپ کی بات پر قائم رہتے تھے۔ ابوبکر ؓ کے احسانات کا حضور ﷺ نے اعتراف فرمایا حضور ﷺ کا ارشاد (ما احد من علی بنفسہ و ذات یدہ من ابی بکر کسی شخص نے اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ ابوبکر ؓ سے بڑھ کر مجھ پر احسان نہیں کیا) یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ رو پڑے اور عرض کیا۔ ” اللہ کے رسول ! میں اور میرا مال سب کچھ آپ کے لئے ہے “ یعنی آپ مجھے جس طرح موڑیں گے میں مڑ جائوں گا اور میرے مال میں آپ جو تصرف کریں گے وہ جائز ہوگا۔ اسی طرح حضور ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا تھا (انت ومالک لا بیک تو اور تیرا مال سب کچھ تیرے باپ کا ہے) آپ نے یہاں ملکیت کے حقیقی معنی مراد نہیں لئے تھے۔
Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کیلئے حرام کردیا گیا ہے (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے ہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حلال پر افسوس نہ کرو۔

تحریم بمعنی بندش وغیرہ قول باری ہے (فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ یتیھون فی الارض۔ اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے) اکثر اہل علم کا قول ہے کہ یہ تحریم انہیں روک دینے کی صورت میں تھی اس لئے کہ جس جگہ یہ شام کرتے تھے وہیں ان کی صبح ہوتی تھی۔ اس مقام کی مساحت چھ فرسخ یا اٹھارہ میل تھی۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ یہ بھی درست ہے کہ یہ تحریم تعبد کے طور پر تھی یعنی اسے بجا لانا ان پر لازم تھا۔ اس لئے کہ تحریم کے اصل معنی بندش اور منع کے ہیں۔ قول باری ہے (وحرمنا علیہ المراضع من قبل۔ اور ہم نے موسیٰ پر دائیوں کی بندش پہلے ہی کر رکھی تھی) یہاں تحریم سے مراد بندش ہے۔ شاعر ایک گھوڑے کی توصیف کرتے ہوئے کہتا ہے۔ حالت لتصرعتی فقلت لھا اقصری انی امرء صرعی علیک حرام یہ گھوڑا مجھے نیچے گرانے کے لئے مڑا تو میں نے اس سے کہا کہ ٹھہر جائو، میں تو ایسا شخص ہوں جسے نیچے گرا دینا تمہارے لئے حرام یعنی ممنوع ہے۔ شاعر کی مراد یہ ہے کہ میں شہسوار ہوں، تمہارے لئے مجھے نیچے گرا دینا ممکن نہیں ہے۔ تحریم کے اصل معنی تو یہی ہے، پھر اس تحریم کو اس تحریم کے ہم معنی بنادیا گیا جو تعبد کے طورپ ر ہوتی اس لئے کہ تحریم تعبد میں اللہ تعالیٰ حکماً ایک شخص پر کسی چیز کی بندش لگا دیتا ہے اور پھر تحریم شدہ چیز کی حیثیت وہی ہوجاتی ہے جو ممنوع کی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس چیز کے بارے میں اللہ کا حکم یہ ہوتا ہے کہ وہ وقوع پذیر نہ ہو جس طرح ممنوع چیز وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ قول باری (حرمت علیکم المیتۃ ولادم تم پر مردار اور خون حرام کردیئے گئے ہیں) میں تحریم حکم اور تعبد کے طور ہے، حقیقۃً منع کرنے اور بندش لگانے کے طور پر نہیں ہے۔ ایک چیز میں تحریم تعبد اور تحریم منع کا اجتماع محال ہوتا ہے۔ اس لئے ممنوع شے کی نہ بندش درست ہوتی ہے اور نہ ہی اباحت اس لئے یہ چیز مقدور کے اندر نہیں ہوتی۔ جبکہ خطر یعنی بندش اور اباحت کا تعلق ہمارے افعال کے ساتھ ہوتا ہے ہمارا ہر فعل وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہمارے مقدور میں ہوتا ہے۔ اگر یہ ہمارے مقدور میں نہ ہو تو اس کا ہم سے وقوع پذیر ہونا ناممکن ہوتا ہے۔
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے ّ (ہیں) پڑھ کر سن دو کہ جب ان دونوں نے (خدا کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردونگا۔ اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔

ہابیل وقابیل کی قربانی قول باری ہے (واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق اذ قربا قربانا اور ذرا ابن آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بےکم و کاست سنا دو ، جب ان دونوں نے قربانی کی) حضرت ابن حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ یہ دونوں حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے، ہابیل اور قابیل۔ ہابیل مومن تھا جبکہ قابیل کافر تھا۔ ایک قول ہے کہ وہ ایک برا انسان تھا۔ حسن کا قول ہے کہ یہ دونوں بنی اسرائیل میں سے تھے اس لئے قربانی قبول ہونے کی نشانی بنی اسرائیل سے پہلے نہ تھی۔ قربان یا قربانی اس کارخیر کو کہتے ہیں جس میں اللہ کی رحمت سے مقصود ہوتا ہے۔ قربان قرب سے فلعان کے وزن پر ہے جس طرح فرقان کا لفظ فرق ہے۔ یا عدوان کا لفظ عدو سے اور کفران کا لفظ کفر سے بنا ہے۔ ایک قول ہے کہ دونوں بھائیوں میں سے ایک کی قربانی اس لئے قبول نہیں ہوئی کہ اس نے اپنے بدترین مال سے قربانی پیش کی تھی۔ جبکہ دوسرے نے اپنے بہترین مال سے قربانی دی تھی۔ اس لئے اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کی قربانی اس لئے رد کردی گئی کہ وہ فاجر تھا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ صرف پرہیزگاروں کی پیش کردہ قربانیاں قبول کرتا ہے۔ ایک قول ہے کہ قربانی کی قبولیت کی علامت یہ تھی کہ ایک آگ آتی اور مقبول قربانی کو کھا جاتی لیکن نامقبول قربانی کو چھوڑ جاتی۔ اسی امر کا ذکر اس قول باری میں ہوا ہے (حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لے کر آئے جسے آگ آ کر کھاجائے)