5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاحکام القرآن

Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کریگا۔ لیکن پختہ قسموں پر (جنکے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا۔ تو اسکا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو۔ یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔ جب تم قسم کھالو (اور اسے توڑ دو ) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

قسم کا کفارہ کتنا ہے ؟ قول باری ہے (اطعام عشرۃ مساکین ہیں مسکینوں کو کھانا کھلانا) حضرت علی، حضرت عمر، حضرت عائشہ، سعید بن المسیب، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی ، مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ قسم کے کفارہ میں ہر مسکین کو نصف صاع تقریباً دو سیر گندم دی جائے گی۔ حضرت عمر اور حضرت عائشہ کا قول ہے یا ایک صاع کھجور دیا جائے گا ۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب قسم کھانے والا ان مسکینوں کو طعام کا مالک بنا دے۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت زید بن ثابت، عطاء بن ابی رباح اور دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ مسکین کو ایک مد ایک پیمانہ جس کی مقدار اہل عراق کے نزدیک دو رطل یعنی اسی تولے اور اہل حجاز کے نزدیک پونے دو رطل ہے) گندم دی جائے گی۔ امام مالک اور امام شافعی کا یہی قول ہے۔ تملیک کئے بغیر کھانا کھلانے کے مسئلے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت علی، محمد بن کعب، قاسم، سالم، شعبی، ابراہیم نخعی اور قتادہ سے مروی ہے کہ ان مسکینوں کو صبح اور شام کا کھانا دیا جائے گا۔ ہمارے اصحاب کا یہی قول ہے ۔ نیز امام مالک، سفیان ثوری اور اوزاعی کا بھی یہی قول ہے حسن بصری کا قول ہے کہ صرف ایک وقت کھلایا جائے گا اور یہی کافی ہوگا۔ حکم کا قول ہے کہ جب تک طعام مسکینوں کے حوالے نہیں کردیا جائے گا کھانا کھلانا یعنی اطعام درست نہیں ہوگا۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ دو مدتو طعام کے لئے دیئے جائیں گے اور ایک مد سالن کے لئے دیا جائے گا۔ ان مسکینوں کو اکٹھا کر کے کھانا کھلایا نہیں جائے گا بلکہ کفارہ ادا کرنے والا انہیں یہ طعام حوالے کر دے گا۔ ابن سیرین ، جابرن بن زید، مکحول، طائوس اور شعبی سے مروی ہے کہ انہیں ایک ہی دفعہ بٹھا کر کھلادیا جائے گا۔ حضرت انس سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ انہیں طعام مشترکہ طور پر نہیں دے گا بلکہ ہر مسکین کو ایک مد کی مقدار طعام دے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری ہے (فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین من اوسط ما تطعمون اھلیکم اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجہ کا کھانا کھلا ئو جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو) ظاہر آیت مسکینوں کو طعام دیے بغیر اکل کی صورت میں اطعام کے جواز کا مقتضی ہے۔ آپ اس قول باری کو نہیں دیکھتے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکیناً اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین کو کھانا کھلاتے ہیں) اس سے یہی مفہوم سمجھ میں آتا ہے کھانا مسکینوں کی ملکیت میں دیئے بغیر ان کے سامنے رکھ دیا جائے اور اس طرح انہیں کھلا دیا جائے۔ جب یہ فقرہ کہا جائے گا کہ ” فلاں یطعم انطعا م (فلاں شخص کھانا کھلاتا ہے) اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ فلاں شخص لوگوں کو کھانے پر بلاتا ہے۔ جب اطعام کا اسم اباحت کے مفہوم کو شامل ہے تو اس کا جواز واجب ہوگیا اور جب ملکیت میں دیئے بغیر اباحت کے طور پر اطعام جائز ہوگیا تو پھر ملکیت میں دے دینا بڑھ کر جائز ہوگا۔ اس لئے کہ تملیک اباحت سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ تملیک کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔ ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ انہیں صبح و شام دو وقت کا کھانا دیا جائے گا اس کی وجہ یہ قول باری ہے (من اوسط ماتطعمون اھلیکم) اوسط کھانا وہ ہوتا ہے جو صبح و شام دو وقت کھایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ دن رات چوبیس گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ تین دفعہ کھانا کھایا جاتا ہے، کم سے کم ایک دفعہ اور اوسطاً دو مرتبہ لوگوں کی عام عادت اسی طرح ہے۔ لیث بن سعد نے ابن بریدہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (اذا کان خبزا یا بساً فھو غداء لا و عشائوہ اگر خشک روٹی ہو تو یہی اس کے صبح و شام کا کھانا ہے۔ ) ہمارے اصحاب کا یہ قول ہے کہ اگر کفارہ ادا کرنے والا انہیں کھانا دینا چاہے تو نصف صاع گندم اور ایک صاع جو یا کھجور دے گا۔ اس کی دلیل حضور ﷺ سے حضرت کعب بن عمرہ کی روایت ہے جس کا تعلق سر کی تکلیف کے فدیہ سے ہے۔ آپ نے فرمایا (ادا طعم ثلاثہ آصع من طعام ستۃ مساکین یا تین صاع طعام چھ مسکینوں کو کھلا وہ) ایک اور حدیث میں ہے (اطعم ستۃ آصع من تمر ستۃ مساکین چھ صاع کھجور چھ مسکینوں کو کھلا دو ) آپ نے ہر مسکین کے لئے ایک صاع کھجور یا نصف صاع گندم مقرر کردی اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قسم کا کفارہ بھی اسی طرح ہے۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے سر کی تکلیف کے فدیہ میں اور قسم کے کفارہ میں طعام کی مقدار کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا۔ آپ سے ظہار کے کفارہ کے سلسلے میں مروی ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھجور دیا جائے گا۔ وسق کی مقدار ساٹھ صاعب کے برابر ہوتی ہے۔ جب ظہار کے کفارے میں ہر مسکین کے لئے ایک صاع کھجور کا ثبوت ہوگیا تو قسم کا کافرہ بھی اسی طرح ہوگا۔ اس لئے کہ ان دونوں کے اندر واجب ہونے والے طعام کے مقدار کی یکسانیت پر سب کا اتفاق ہے۔ جب ایک صاع کھجور کا ثبوت ہوگیا تو گندم میں نصف صاع کا وجوب ہوگیا اس لئے کہ جن حضرات نے اس میں ایک صاع کھجور واجب کیا ہے انہوں نے نصف صاع گندم واجب کی ہے۔ قول باری ہے (من اوسط ماتطعمون اھلیکم) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اہل مدینہ کے لئے خوراک کی جو مقدار ہوتیھی اس میں بالغ اور آزاد کا حصہ نابالغ اور غلام کی بہ نسبت زیادہ ہوتا تھا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی (من اوسط ما تطعمون اھلیکم) یعنی اوسط درجے کا کھانا۔ نہ زیادہ بڑھیا اور نہ زیادہ گھٹیا، سعید بن جبیر سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے بیان کردیا کہ اوسط سے مراد یہ ہے کہ اوسط مقدار ہو، یہ مراد نہیں کہ سالن کے ساتھ ہو۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ ” اوسط طعام روٹی اور کھجور ہے۔ نیز روٹی اور زیتون کا تیل ہے۔ ہم اپنے بال بچوں کو جو بہترین کھانا کھلاتے ہیں وہ گوشت اور روٹی ہے۔ “ عبیدہ سے مروی ہے کہ اسوط طعام روٹی اور گھی ہے۔ ابو رزین نے کہا ہے اوسط طعام روٹی، کھجور اور سرکہ ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ سب سے عمدہ کھانا گوشت روٹی ہے اوسط کھانا گھی روٹی ہے اور احسن کھانا کھجور اور روٹی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے سلمہ بن صخہ کو ظہار کے کفارہ میں ہر مسکین کو ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا تھا اور اس کے ساتھ سالن کے طہور پر کوئی اور چیز دینے کا حکم نہیں دیا تھا۔ نیز آپ نے حضرت کعب بن عجرہ کو تین صاع طعام چھ مسکینوں پر صدقہ کو دینے کا حکم دیا تھا اس کے ساتھ سالن کے طور پر کچھ دینے کا حکم نہیں دیا تھا۔ کسی اہل علم کے نزدیک ظہار کے کفارہ اور قسم کے کفارہ کے درمیان طعام کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ طعام کے ساتھ اوام یعنی سالن واجب نہیں ہے۔ نیز یہ کہ آیت میں مذکورہ اوسط سے اسوط مقدار مراد ہے اس کے ساتھ اوام ملانا مراد نہیں ہے۔ قول باری افکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین) ان سب کے لئے عموم ہے جن پر مسکین کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس لئے ایک مسکین کو سارا کھانا دینے کے جواز پر اس سے استدلال کرنا درست ہے۔ یعنی سارا کھانا ایک مسکین کو دس دنوں میں نصف صاع یومیہ کے حساب سے دے دینا جائز ہے۔ اس لئے کہ اگر ہم اسے دوسرے دن کھانا نہ دیں تو ہم اسم کے بعض مدلول کے اندر حکم کی تخصیص کردیں گے اور بعض کو چھوڑ دیں گے۔ خاص طور پر ان مدلول کے اندر جو بالا تفاق آیت کے حکم میں داخل ہیں۔ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ ایک مسکین کو دس دنوں میں نصف صاع یومیہ کے حساب سے سارا طعام دے دینا قسم کے کفارہ کی ادائیگی کے لئے کافی نہیں ہوگا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دس مسکینوں کا ذکر فرما دیا تو اب ان سے کم پر اقتصار کرنا جائز نہیں ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (فاجلدوھم ثمانین جائدۃ انہیں اسی کوڑے لگائو یا یہ قول باری ہے (اربعۃ اشھر و عشراً چار مہینے دس دن) جن اعداد کا ذکر کیا گیا ہے ان سے کم پر اقتصار کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لئے زیر بحث مسئلے، میں بھی دس مسکینوں سے کم پر اقتصار کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ چونکہ اطعام کا مقصد مساکین کی بھوک دور کرتا ہے اس لئے اس میں ایک مسکین اور مسکینوں کے ایک گروہ کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ جب کہ ان سب کے لئے ایک دن میں اطعام کے عمل کی تکرار ہوجانے یا صرف ایک کے لئے دس دنوں کے اندر اس عمل کو دہرایا جائے۔ یہ دونوں صورتیں اس مقصد کے مطابق ہیں، اس طرح دس مسکینوں کو اطعام کا جو معنی مقصود سے وہ ایک مسکین کو دس دنوں کے اندر اس عمل کے تکرار میں موجود ہے۔ اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کہ اس عمل کی تکرار کی صورت میں ایک مسکین پر دس مسکینوں کے اطعام کا اطلاق کردیا جائے۔ اس لئے کہ مقصد تو اس عمل کی تکرار ہے نہ کہ مساکین کی تکرار۔ جس طرح یہ قول باری ہے (یسئلونک عن الاھلۃ آپ سے چاند کے گھٹنے بڑھنے کے متعلق پوچھتے ہیں) چاند تو ایک ہلال ہوتا ہے لیکن چونکہ ہر ماہ اس کی رویت میں تکرار ہوتی ہے اس لئے اس پر جمع کے اسم کا اطلاق ہوگیا۔ حضور ﷺ نے استنجا میں تین ڈھیلے استعمال کرنے کا حکم دیا لیکن اگر کوئی شخص صرف ایک تکونی ڈھیلے سے استنجا کرلے تو یہ اس کے لئے کافی ہوگا۔ یا جس طرح آپ نے سات کنکروں کے ساتھ رمی جمار کا حکم دیا لیکن اگر کوئی شخص ایک ہی کنکر کو سات دفعہ رمی کے لئے استعمال کرے تو بھی اس کے لئے یہ کافی ہوگا اس لئے کہ رمی جمار میں سات دفعہ کنکر مارنا مقصد ہوتا ہے۔ اسی طرح اسنجا میں مقعد کو تین دفعہ ڈھیلا لگانا قمصد ہوتا ہے۔ ڈھیلوں کی تعداد مقصد نہیں ہوتا۔ ٹھیک اسی طرح جب کفارہ دینے کا مقصد مساکین کی بھوک دور کرنا ہے تو پھر ایک مسکین کو دس دن کھلانے اور دس مسکینوں کو ایک دن کھلانے کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے (اوکسوتھم یا انہیں کپڑے پہنائے) یہاں یہ تو واضح ہے کہ مراد ان دس مسکینوں کو دس کپڑے پہنانا ہے اس طرح عبارت کی ترتیب کچھ اس طرح ہوگئی۔” اوعشرۃ اثواب “ (یا دس کپڑے) کپڑے پہنانے میں ایک یا دس مساکین کی کوئی تخصیص نہیں کی اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ اگر ایک مسکین کو دس جوڑے دے دیئے جائیں تو وہ کفارہ کے لئے کفایت کر جائے گا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ” میں نے دس مسکینوں کے جوڑے ایک مسکین کو دے دیئے۔ “ تو اس کا یہ قول درست ہوگا۔ اس طرح قول باری (اوکسوتھم) اس جہت سے اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حکم مسکینوں کی دس کی تعداد میں منحصر نہیں ہے۔ اس پر اس جہت سے بھی دلالت ہو رہی ہے جس میں جہت سے اطعام کے ذکر میں دلالت ہوتی ہے جس کا ہم نے درج بالا سطور میں ذکر کردیا ہے۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک ایک مسکین کو جوڑے دینے کی صورت اس وقت جائز ہوگی جب اسے دس دنوں کے اندر ہر روز ایک جوڑا دے دیا جائے اس لئے کہ کھانا کھلانے میں ایک مسکین کو دس دن کھلانے کا ہمارے بیان کی روشنی میں جب ثبوت ہوگیا تو پھر کپڑا پہنانے میں بھی یہ طریقہ واجب ہوگیا اس لئے کہ کسی نے کھانا کھلانے اور کپڑا پہنانے کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ ہمارے اصحاب نے طعام اور کپڑوں کی بجائے ان کی قیمت کی ادائیگی کو بھی جائز قرار دیا ہے اس لئے کہ اس بات کا ثبوت ہوگیا کہ کفارہ میں مقصد یہ ہوتا ہے کہ مساکین کو مال کی اس مقدار سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے جو انہیں وصول ہوئی ہے۔ یہی فائدہ انہیں قیمت کے طور پر نقد رقم حاصل ہونے کی صورت میں بھی ملتا ہے جس طرح طعام اور کپڑے کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ نیز جب روایات اور قیاس و نظر کی رو سے زکوۃ کے اندر قیمت کی ادائیگی درست ہوتی ہے تو پھر کفارہ کی صورت میں بھی ایسا ہونا واجب ہوگیا۔ اس لئے کہ کسی نے بھی ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ علاوہ ازیں اگر کوئی شخص کسی کو رقم دے کر طعام اور کپڑے وغیرہ خریدنے کے لئے کہتا ہے تو اس کے متعلق یہ اطلاق ممتنع نہیں ہوتا کہ ” اس نے فلاں کو کھانا کھلایا اور کپڑا پہنایا ہے۔ “ جب اس اطلاق کی گنجائش نکل آئی تو پھر آیت کے الفاظ اس صورت یعنی نقدی کی صورت میں کفارہ کی ادائیگی پر بھی مشتمل ہوگی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اطعام کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص کسی کو اس طرح کھلائے کہ کھانا اس کے لئے مباح کر دے یعنی اس کے سامنے لا کر رکھ دے اور پھر وہ اس میں سے جتنا چاہے کھالے۔ اس کے ساتھ اگر وہ اس کھانے کو مسکین کی مالیت میں دے دیتا اور مسکین اسے کھائے بغیر فروخت کر کے نقد رقم حاصل کرلیتا تو بھی کفارہ ادا ہوجاتا اگرچہ لفظ کے حقیقی معنی اس صورت کو شامل نہیں ہیں لیکن چونکہ اس مقدار میں مال اس تک پہنچانے کا مقصد حاص لہو گیا اس لئے یہ صورت درست ہوگئی اگرچہ اس نے اسے کھایا نہیں اور کھانے کے طور پر اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اسی طرح اگر کفارہ ادا کرنے والا مسکین کو جوڑا دے دیتا لیکن مسکین اسے پہنے بغیر فروخت کردیتا اور اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آتا تو اس کا کفارہ ادا ہوجاتا اگرچہ اس پورے عمل میں اس نے مسکین کو جوڑا نہیں پہنایا صرف اسے جوڑا دیا ہے۔ لیکن جواز کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اسے جوڑا دے کر مال کی یہ مقدار اس تک پہنچا دی ہے اس بنا پر وہ اسے کپڑا پہنانے والا قرارپایا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کفارے میں کھانے اور کپڑے کا حصول مقصد نہیں ہے بلکہ ماں کی اس مقدار کا مسکین تک پہنچ جانا مقصد ہے اس مقصد کے حصول کے لئے جنس اور نقد کی صورتوں میں حکم کے اندر کوئی فرق نہیں ہوگا یعنی مسکین کو خواہ طعام یا کپڑا دے دیا جائے یا ان کی قیمت دونوں صورتوں میں مقصد حاصل ہوجائے گا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ حضور ﷺ نے صدقہ فطر میں نصف صاع گندم یا ایک صاع جو یا کھجور کی مقدار مقرر کر کے فرمایا (اغنوھم عن المسئلۃ فی ھذا الیوم آج کے دن انہیں دست سوال دراز کرنے سے مستغنی کر دو ) آپ نے بتادیا کہ صدقہ فطر میں مقصد یہ ہے کہ مساکین سوال کرنے سے مستغنی ہوجائیں بعینہ طعام مقصد نہیں۔ یہ مقصد جس طرح طعام کے ذریعے حاصل ہوجاتا ہے اسی طرح اس کے قیمت کے ذریعے بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر قیمت جائز ہوتی اور مقصد یہ ہوتا کہ مال کی یہ مقدار مساکین تک پہنچ جائے تو پھر اطعام اور کسوہ کے ذکر کا کوئی فائدہ نہ ہوتا جبکہ اکثر احوال میں ان کی قیمتوں میں تفاوت ہوتا رہتا ہے۔ آیت میں کھانے اور کپڑے کے ذکر کے اندر یہ دلالت موجود ہے کہ انہیں چھوڑ کر ان کی قیمتوں کی ادائیگی جائز نہیں ہے نیز یہ کہ عین طعام اور کسوہ کی بجائے مال کی اس مقدار سے فائدہ اٹھانا مقصد نہیں ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ معترض کی یہ سوچ درست نہیں ہے۔ اور بات اس طرح نہیں ہے جس طرح اس نے سوچا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طعام اور کسوہ کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بڑے فائدے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باتوں کا ذکر فرما دیا اور اس ذکر سے ہمارے لئے یہ دلالت مہیا کردی کہ ان دونوں کی بجائے ان کی قیمت دے دینا بھی جائز ہے تاکہ کفارہ ادا کرنے والے کو یہ اختیار مل جائے کہ چاہے تو گندم دے دے یا کھانا کھلا دے یا کپڑا پہنا دے یا چاہے تو گندم اور کپڑوں کی بجائے ان کی قیمت ادا کر دے۔ اس صورت میں قیمتوں کے تفاوت کے وقت اس کے لئے گنجائش ہوگی کہ ارفع کو چھوڑ کر ادنیٰ یا ادنیٰ کو چھوڑ کر ارفع کو بطور کفارہ ادا کر دے۔ یا ان دونوں مذکورہ اشیاء میں سے بعینیہ جو چیز چاہے دے دے۔ جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے :” جس شخص کے اونٹوں کی زکوۃ میں بنت لبون (دو سال پورا کر کے تیسرے سال میں پہنچ جانے والی مادہ بچی) واجب ہوگئی ہو اور اسے بنت لبون نہ ملے تو پھر ایک بنت مخاض (ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں پہنچ جانے والی مادہ بچی) لے لی جائے گی اور اس کے ساتھ دو بکریاں اور بیس درہم بھی وصول کئے جائیں گے۔ “ حضور ﷺ نے زکوۃ ادا کرنے والے کو یہ اختیار دے دیا جبکہ اسے یہ قدرت حاصل تھی کہ وہ مذکورہ فرض کی ادائیگی ایک بنت لبون خرید کر ، کرسکتا تھا یا جس طرح حضور ﷺ نے دیت میں سو اونٹ مقرر کردیے۔ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ دیت اگر درہم اور دینار کی شکل میں ادا کی جائے گی تو وہ سو اونٹوں کی قیمتوں کے برابر ہوگی۔ اگرچہ قیمتوں کی تعیین میں اختلاف رائے ہے یا جس طرح یہ صورت ہے کہ کوئی شخص مہر میں اوسط درجے کا غلام دینا قبول کرے لے اگر وہ اوسط درجے کا غلام لے آئے گا تو اسے قبول کرلیا جائے گا اور اگر اس کی قیمت لے آئے گا تو قیمت بھی قبول کرلی جائے گی۔ ان صورتوں میں قیمت لے لینے کے جواز نے مذکورہ چیزوں کی تعیین کو باطل نہیں کیا۔ یہی بات اس مسئلے میں بھی ہے جو ہمارے زیر بحث ہے ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کی …سے کفارہ ادا کرنے والے کو کھانا کھلانے، کپڑا پہنانے اور غلام آزاد کرنے کے درمیان اختیار دے دیا گیا ہے ۔ اب قیمت بھی ان اشیاء میں سے ایک شے کی طرح ہے اس لئے اسے ان اشیاء اور قیمت کے درمیان اختیار مل جائے گا۔ اگرچہ طعام اور کسوہ کی قیمتوں میں فرق ہوتا رہتا ہے اس لئے کہ جب وہ ارفع چیز کفارہ کے طور پر ادا کرے گا تو اس میں زیادہ فضیلت حاصل ہوگی اور اگر ادنیٰ پر اقتصار کرے گا تو اس کی اسے اجازت ہوگی۔ ان میں سے جو بھی وہ کرے گا وہی فرض ہوگا اور اس کی انجام دہی پر وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائے گا۔ اس کی مثال یہ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نماز کے اندر فرض قرأت کی مقدار ایک آیت ہے لیکن اگر اس نے قرأت طویل کردی تو پوری قرأت فرضی میں شمار ہ وگی۔ اسی طرح رکوع میں فرض وہ مقدار ہے جس کی بنا پر ایک شخص راکع کہلا سکتا ہو۔ اگر اس نے رکوع میں طوالت اختیار کرلی تو پورے رکوع کا شمار فرض کے اندر وہ گا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر امام رکوع طویل کر دے اور مقتدی آخر رکوع میں آ کر شامل ہوجائے تو اس صورت میں مقتدی کو وہ رکعت مل جائے گی۔ اسی طرح اس میں کوئی امتنا ع نہیں کہ کفارہ میں اس چیز کی قیمت کو فرض تسلیم کرلیا جائے جو طعام یا کپڑے کی قیمتوں میں سے کم ہو لیکن اگر وہ ارفع چیز کی قیمت ادا کرے گا تو یہی قیمت فرض شمار ہوگی۔ کپڑے کی مقدار میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ فرض کے کفارہ میں ہر مسکین کو ایک کپڑا دیا جائے گا خواہ وہ ازار ہو یا چادر یا قمیض ہو یا قبایات چادر، ابن سماء نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ اگر شلوار دے دے گا تو بھی کافی ہے ۔ اسے یہ بھی روایت ہے کہ اگر کسی نے کپڑا نہ خریدنے کی قسم کھائی ہو تو اگر وہ مردانہ شلوار خریدے گا تو حانث ہوجائے گا۔ ہشام نے امام مالک سے روایت کی ہے شلوار یا عمامہ دینا کفارہ کے لئے کافی نہیں ہوگا۔ بشر نے امام ابو یوسف سے یہی روایت کی ہے۔ امام مالک اور لیث بن سعد کا قول ہے کہ اگر مرد مسکین کو کپڑا پہنائے گا تو ایک کپڑا دے گا اور اگر عورت کو پہنائے گا تو دو کپڑے دے گا ایک قمیص اور دوسری اوڑھنی۔ اس لئے کہ نماز کے جواز کے لئے یہی کم سے کم لباس ہے۔ عورت کو صرف ایک کپڑا دینا کافی نہیں ہوگا۔ اسی طرح صرف عمامہ دینا کافی نہیں ہوگا۔ سفیان ثوری کا قول ہے کہ عمامہ بھی کافی ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ عمامہ، شلوار اور سر پر ڈالنے کی اوڑھنی بھی کافی ہوگی۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین، ابراہیم نخعی، حسن، مجاہد، طائوس اور زہری سے مروی ہے کہ ہر مسکین کو ایک کپڑا دیا جائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر روایت اس بات کی مقتضی ہے کہ کپڑا ایسا ہونا چاہیے کہ جب اسے کوئی شخص پہن لے تو وہ لباس میں ملبوس کہلا سکے۔ اس لئے کہ ایک شخص جس نے صرف شلوار پہن رکھی ہو اور اس کے جسم پر کوئی اور کپڑا نہ ہو یا صرف عمامہ باندھ رکھا ہو تو اسے لباس میں ملبوس نہیں کہا جاسکتا جس طرح صرف ٹوپی پہننے والے کو یہ نام نہیں دیا جاسکتا۔ اس لئے یہ واجب ہوگیا کہ صرف شلوار یا عمامہ یا اوڑھنی کافی نہیں۔ کیونکہ یہ چیزیں پہننے کے باوجود ایک شخص برہنہ ہی شمار ہوگا۔ کپڑے میں ملبوس شمار نہیں ہوگا۔ لہٰذا ازار اور قمیص میں سے ہر ایک پورے جسم پر آ جاتی ہے اور ایسا انسان لباس میں ملبوس کہلا سکتا ہے اس لئے کفارہ میں یہ کافی ہوتی ہے۔ قول باری ہے (او تحریر رقبۃ یا ایک غلام آزاد کرنا) یعنی عتق رقبہ تحریر رقبہ کا مفہوم ہے کہ اس پر آزادی واقع کر دے۔ رقبہ یعنی گردن کا ذکر کر کے اس سے غلام کا پورا سراپا مراد لیا ہے۔ اسے قیدی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کی گردن میں بندھی ہوئی رسی کو کھول کر اسے آزاد کردیا جاتا ہے۔ اس طرح رقبہ پورے شخص سے عبارت ہے۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے ” تیری گردن آزاد ہے۔ “ تو وہ غلام آزاد ہوجائے گا۔ جس طرح ” انت حر “ (تو آزاد ہے) کہنے پر وہ آزاد ہوجاتا ہے۔ رقبہ کا لفظ اس بات کا مقتضی ہے کہ آزاد کیا جانے الا غلام جسمانی نقائص اور بیماریوں سے محفوظ ہو۔ اس لئے کہ یہ لفظ پورے اعضا والے انسان کے لئے اسم ہے تاہم فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ معمولی قسم کا جسمانی نقص اس کے جواز میں مانع نہیں ہے۔ ہمارے اصحاب نے اس سلسلے میں یہ معیار مقرر کیا ہے کہ اگر کسی عضو میں نقص ہو تو نقص اس درجے کا نہ ہو کہ اس عضو کی منفعت ہی ختم ہوگئی ہو اور عضو بےکار ہوچکا ہو۔ اگر اس کی منفعت باقی ہو تو اس صورت میں کفارہ کے اندر ایسے غلام کو آزاد کرنا جائز ہوگا۔ اگر منفعت ختم ہوچکی ہو تو ہمارے اصحاب کے نزدیک ایسا غلام آزاد کرنا جائز نہیں ہوگا۔ قو باری ہے (فمن لم یجد فصیام ثلاثۃ ایام) جس شخص کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن روزے رکھے۔ مجاہد نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے اور ابوالعالیہ نے حضر ابی بن کعب ؓ سے آیت کی قرأت فمن لم یجد فصیام ثلثۃ ایام متتا بعات) نقل کی ہے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ ہماری قرأت میں بھی یہ فقرہ اسی طرح ہے ۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، ابراہیم، قتادہ اور طائوس کا قول ہے کہ یہ تین روزے لگاتار رکھے جائیں گے ان میں وقفہ کفارہ کے لئے کافی نہیں ہوگا۔ ان حضرات کے قول سے تتابع کا ثبوت ہوگیا لیکن تلاوت کا ثبوت نہیں ہوا اس لئے کہ اس بات کی گنجائش ہے کہ تلاوت تو منسوخ ہوچکی ہو لیکن حکم ثابت ہو۔ ہمارے اصحاب کا یہی قول ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے ان روزوں میں تفریق سے بھی کفارہ ادا ہوجائے گا۔ ہم نے اصول فقہ میں اس پر روشنی ڈلای ہے۔ قول باری (فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین) اس بات کا مقتضی ہے کہ قدرت ہونے کی صورت میں اطعام یا کسوہ یا عتق رقبہ کے ذریعہ کفارہ کا ایجاب ہے اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعے کفارہ ادا کرنے کا خطاب باقی رہتا ہے۔ اگر یہ چیزیں میسر نہ ہوں تو پھر روزہ جائز ہوگا۔ اس لئے کہ قول باری ہے (فمن لم یجذ فصیام ثلثۃ ایام) اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا تین اشیاء میں سے کسی ایک سے حکم کو روزوں کی طرف اس صورت میں منتقل کردیا ہے جب یہ چیزیں موجود نہ ہوں۔ اس لئے جب تک کفارے کا خطاب ان میں سے کسی ایک چیز پر قائم ہے ۔ اس وقت تک اس اصل کفارہ کی موجودگی میں اس کے لئے روزہ رکھنا جائز نہیں ہوگا۔ روزہ شروع کردینے کی صورت میں ان تینوں اشیاء میں سے کسی ایک کے ذریعے کفارہ ادا کرنے کا خطاب اس سے ساقط نہیں ہوا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ پہلے دن کا روزہ شروع کرلیتا پھر اسے فاسد کردیتا جب کہ اسے آزاد کرنے کے لئے غلام دستیاب ہوجاتا تو اس کی دستیابی کے ساتھ اب روزہ رکھنا اس کے لئے جائز نہ ہوتا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس کا روزہ شروع کرلینا اصل کی فرضیت کے سقوط کا سبب نہیں بنا۔ اس لئے روزہ شروع کرنے سے پہلے اور اس کے بعد آزاد کرنے کے لئے غلام کی دستیابی میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونوں حالتوں میں کفارہ ادا کرنے کا خطاب اس پر قائم رہتا ہے۔
Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت اور پا سے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں۔ سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔

شراب کی تحریم قول باری ہے (انما الخمر والمیسر والا نصاب والا زلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔ یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو) آیت دو وجوہ سے شراب کی تحریم کی مقتضی ہے ۔ اول قول باری (رجس) اس لئے شرع میں رجس اس چیز کا نام ہے جس سے اجتناب لازم ہوتا ہے۔ نیز رجس کا اسم ہر اس چیز پر واقع ہوتا ہے جو نجس اور گندہ ہو۔ اس سے بھی پرہیز لازم ہے۔ شراب کو رجس کا نام دنیا اس سے پرہیز کے لزوم کا موجب ہے۔ دوم قول باری (فاجتنبوہ) یہ امر کا صیغہ ہے اور امر ایجاب کا مقتضی ہے۔ اس طرح آیت دو وجوہ سے شراب کی تحریم کے حکم پر مشتمل ہے۔ شراب انگور کے اس خام رس کو کہتے ہیں جس میں تیزی آ گئی ہو۔ اس طرح کے رس کے شراب ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ بعض دوسری حرام مشروبات پر بھی تشبیہ کے طور پر شراب کا اسم واقع ہوتا ہے مثلاً فصیح جو گدر کھجور یا خشک کھجور یعنی خرما کو پانی میں بھگو کر بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ ان دونوں قسموں کو خمر کے اسم کا اطلاق شامل نہیں ہوتا۔ خمر کے مفہوم کے بارے میں بہت سی روایات منقول ہیں۔ مالک بن مغول نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا : شراب کی حرمت نازل ہوئی اس وقت مدینہ منورہ میں اس نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی۔ 1 ؎ تحریم خمر کے بارے میں ابوبکر جصاص کی تحقیق ہے۔ وہ امام ابوحنیفہ کے قول پر مبنی ہے لیکن مفتی بہ قول امام ابو یوسف اور امام محمد کا ہے۔ یہ جمہور کے مطابق ہے۔ مترجم۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ مدینہ منورہ میں تقیع البسر (گدر کھجور کو پانی میں ملا کر بنایا جانے الا مشروب) اور نقیع التمر (خشک کھجور کو پانی میں ملا کر بنایا جانے والا مشروب) اور ا ن سے بنائی جانے والی تمام دوسری مشروبات ہوتی تھیں۔ حضرت ابن عمر ا نلوگوں میں سے نہیں تھے جن سے اشیاء کے ناموں کے لغوی معنی مخفی ہوں۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ کھجور سے بنائی جانے والی مشروبات ان کے نزدیک خمر کے نام سے موسوم نہیں ہوتی تھیں۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ شراب کی تحریم نازل ہوئی اور یہ شراب فضیخ ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بتایا کہ فضیخ کو شراب کہتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابن عباس نے اسے شراب کا نام اس لئے دیا تھا کہ حرام مشروب تھا۔ حمید الطویل نے حضرت انس سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں ” میں ابوطلحہ کے گھر میں ابوعبیدہ، ابی بن کعب اور سہیل بن بیضاء کو شراب پلا رہا تھا کہ ہمارے پاس سے ایک آدمی گزرا اس نے کہا کہ شراب حرام کردی گئی ہے۔ خدا کی قسم ! ان لوگوں نے یہ سن کر یہ نہیں کہا کہ ہمیں پتا لگا لینے دو ۔ بلکہ یہ کہا۔ انس ! تمہارے برتن میں جتنا حصہ باقی رہ گیا ہے اسے گرا دو ۔ “ اس کے بعد ان لوگوں نے شراب کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا یہاں تک کہ اپنے خلاق حقیقی سے جا ملے، اس زمانے میں مہارے پاس جو شراب ہوتی تھی وہ گدر کھجور اور خشک کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔ “ حضرت انس نے یہ بتایا کہ جس دن شراب کی حرمت ہوتی ہے اس دن یعنی اس زمانے میں گدر کھجور اور خشک کھجور سے تیار شدہ مشروب کو شراب کا نام دیا جاتا تھا۔ اس میں یہ گنجائش ہے کہ درج بالا دونوں قسم کے مشروب حرام تھے اس لئے حضرت انس نے انہیں خمر کا نام دیا، اور ان کی مراد یہ تھی کہ لوگ انہیں شراب کا درجہ دیتے تھے اور شراب کی طرح سمجھتے تھے یہ مراد نہیں کہ حقیقت میں بھی ان کا نام شراب تھا۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ قتادہ نے حضرت انس سے یہی روایت نقل کی ہے جس میں حضرت انس نے کہا ہے کہ اس زمانے میں ہم لوگ بایں معنی انہیں شراب شمار کرتے تھے کہ انہیں شراب کی طرح سمجھتے تھے۔ ثابت نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا :” ہم پر جب شراب حرام ہوئی توی اس زمانے میں ہمارے ہاں انگوری شراب بہت کم ہوتی تھی عام طور پر گدر کھجور اور خشک کھجور کی بنی ہوئی شراب استعمال کی جاتی تھی۔ اس روایت کے معنی بھی یہی ہے کہ اس زمانے میں یہی دو مشروب ہوتے تھے تاہم لوگ انہیں اس لحاظ سے خمر کا درجہ دیتے تھے کہ پینے پلانے نیز نشہ اور سرور کے حصول کے لئے انہیں استعمال کیا جاتا تھا۔ مختار بن فلفل نے کہا ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا :” شراب حرام کردی گئی، یہ انگور کے رس، خشک کھجور، شہد، گندم، جو اور باجرہ کی بنتی ہے۔ ان میں سے جو چیز نشہ آور بن جائے وہ شراب ہے۔ یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے درج بالا چیزوں کو اس وقت خمر کیا جائے گا جب ان کے اندر نشہ آوری کی کیفیت پیدا ہوجائے۔ اگر اس کا یعنی نشہ آوری کی کیفیت نہ پیدا ہو تو وہ خمر نہیں کہلائے گی۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :” شراب حرام کردی گئی ہے یہ پانچ چیزوں کی بنتی ہے۔ انگور، خشک کھجور، شہد، گندم اور جو سے ، خمر وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال اور اس پر اثر انداز ہوجائے۔ “ یہ روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عمر نے ان چیزوں سے بنی ہوئی مشروبات کو اس وقت خمر کا نام دیا ہے جب زیادہ استعمال کرلینے سے یہ نشہ پیدا کردیں۔ اس لئے کہ آپ نے فرمایا ” والخمر صاخا مرالعقل (خمروہ مشروب ہے جو عقل پر اثر انداز ہوجائے۔ ) سمری بن اسماعیل سے روایت کی گئی ہے، انہوں نے شعبی سے کہ انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ حضور ﷺ نے یہ فرمایا تھا : گندم کی شراب ہوتی ہے، جو کی بھی شراب ہوتی ہے، زبیب یعنی خشک انگور کی بھی شراب ہوتی ہے، خشک کھجور کی بھ شراب ہوتی ہے اور شہد کی بھی شراب ہوتی ہے۔ “ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایسی تمام مشروبات جن کا تعلق درج بالا اصناف سے ہو شراب ہیں۔ بلکہ آپ نے یہ بتایا ہے کہ ان چیزوں کی شراب ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ آپ نے یہ مراد لی ہو کہ ان میں سے جو چیزیں نشہ آور ہوں وہ شراب ہیں اور اس کیفیت کے پائے جانے کی صورت میں حرام ہیں۔ آپ کی اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ یہ ان مشروبات کا نام ہے جو ان اصناف سے تیار کی جاتی ہیں۔ اس لئے کہ اس روایت کی اسناد سے زیادہ صحیح اسناد کے ساتھ وہ روایتیں ہیں جو اس بات کی نفی کرتی ہیں کہ شراب کا تعلق ان اصناف سے ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت سنائی ، انہیں ابو دائود نے، انہیں موسیٰ بن اسمایعل نے، انہیں ابان نے، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو کثیر سے، (یہ یزید بن عبدالرحمٰن ہیں) انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (الخمر من ھاتین الشجرتین النخلۃ والغب شراب ان دونوں درختوں یعنی کھجور اور انگور کی ہوتی ہے۔ ) ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں عبید بن حاتم نے، انہیں ابن عماد الموصلی نے، انہیں عبدہ بن سلیمان نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے عکرمہ بن عمار سے، انہوں نے ابو کثیر سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (الخمر من ھاتین الشجرتین النخلی والعنب۔ یہ روایت اپنی سند کی صحت کی بنا پر ان تمام روایات کا خاتمہ کردیتی ہے جن کا ذکر اس کتاب میں گزر چکا ہے۔ یہ روایت ان تمام مشروبات سے خمر کے اس کی نفی کو متضمن ہے جو ان دو درختوں یعنی کھجور اور انگور کے سوا اور کسی چیز سے تیار کی گئی ہوں اس لئے کہ حضور ﷺ کا قول (الخمر) اسم جنس ہے جو ان تمام مشروبات کا حامل ہے جنہیں خمر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات منتقی ہوگئی کہ ان دو درختوں کے علاوہ کسی اور چیز سے بنے ہوئے مشروب کو خمر کے نام سے موسوم کیا جائے۔ یہ روایت اس امر کیمقتضی ہے کہ خمر کے نام سے صرف وہی مشروب موسوم ہوگا جو ان دو درختوں سے نکلا ہو۔ اس کا اطلاق اس رس پر ہوتا ہے جو ابتدا میں ان سے نکلتا ہے اور نشہ آور ہوتا ہے ۔ یہ وہ خام رس یا شیرہ ہوتا ہے جس میں سختی اور تیزی پید اہو گئی ہو۔ اس میں گدر کھجور اور خشک کھجور سے بنا وہا مشروب بھی شامل ہے جسے ابھی آگ پر پکایا نہ گیا ہو۔ اس لئے کہ حضو ر ﷺ کا قول (منھما) اس امر کا مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ رس ہے جو ابتدا میں ان دونوں درختوں سے نکلا ہو نیز نشہ آور بھی ہو۔ اب اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس مشروب کے خمر ہونے پر سب کا اتفاق سامنے آیا ہے یہ وہ مشروب ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی انگور کا خام رس جس میں تیزی آ گئی ہو اور جھاگ مادر یا ہو۔ جب خمر کے یہی معنی ہیں جو ہم نے بیان کردیئے تو اس صورت میں یہ احتمال ہے کہ حضرت ابوہریرہ کی روایت میں حضور ﷺ کے الفاظ (الخمر من ھاتین الشجرتین) کا یہ مفوہم ہو کہ آپ نے ان دو درختوں میں سے ایک مرادلی ہے۔ یعنی ان دونوں میں سے ایک سے شراب نکلتی ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (یامعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن و انس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے ؟ حالانکہ رسولوں کی آمد صرف گروہ انس سے ہوئی ہے۔ اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے (یخرج منھما اللولووالمرجان ان دونوں (میٹھے اور نمکین سمندروں) سے موتی اور مونگا برآمد ہوتے ہیں) حالانکہ موتی اور مونگا ان میں سے ایک سے برآمد ہوتے ہیں۔ خمر کے حقیقی معنی وہ ہیں جو ہم نے اوپر بیان کئے ہیں اور اس کے سوا کسی اور چیز پر خمر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جو شخص بلا ضرورت شراب کو حلال سمجھتا ہے وہ کافر ہے اس پر یہ امر دلالت کرتا ہے کہ تمام اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص بلا ضرورت شراب کو حلال سمجھتا ہے وہ کافر ہے۔ نیز سب کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ خمر کے سوا باقی ماندہ حرام مشروبات کو حلال سمجھنے والا کفر کی علامت یعنی تکفیر کا مستحق نہیں ہوتا۔ اگر یہ دوسری مشروبات بھی خمر ہوتیں تو یقینا ان کو حلال سمجھنے الا کافر ہوتا اور اس شخص کی طرح خارج اسلام ہوتا جو انگور کے خام رس کو حلال سمجھتا جس میں تیزی آ گئی ہو اور وہ جھاگ مار رہا ہو۔ اس بات میں یہ دلیل موجود ہے کہ خمر کا اسم حقیقت میں صرف انگور کے رس کو شامل ہے جس کو ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو تقویٰ اور پرہیز گاری صرف اسی بات میں سمجھتے ہیں کہ نیند کی تحریم ثابت کرنے پر پورا زور علم صرف کریں لیکن یتیموں کا مال کھانے اور حرام خوری سے اپنا دامن نہ بچائیں ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ کی کتاب۔ حضور ﷺ سے مروی صحیح احادیث خمر کی تفسیر کے سلسلے میں آثار و روایت، لغت کے مشوہر اقوال، قیاس و نظر اور اہل عقول کے عقلی تقاضے یہ تمام کے تمام اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو نشہ آور ہو وہ خمر ہے۔ قرآن مجید کی آیت (تتخذون منہ سکراً تم اس میں سے نشہ کی چیزیں بناتے ہو) سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انگور سے بنیہوئی نشہ کی چیز کھجور سے بنی ہوئی نشہ کی چیز کی طرح ہے۔ اس طرح اس قائل نے دعویٰ کیا ہے کہ اللہ کی کتاب اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ چیز جو نشہ آور ہو وہ خمر ہے۔ پھر اس نے اس آیت کی تلاوت کی ہے حالانکہ درج بالا آیت میں نہ یہ بات موجود ہے کہ سکو یعنی نشہ کی چیز کیا ہوتی ہے اور نہ ہی یہ بات کہ نشہ کی چیز خمر ہوتی ہے۔ اگر نشہ کی چیز فی الحقیقت خمر ہے تو پھر یہ وہ خمر ہوگی جو انگور کے رس سے تیا رہوتی ہے۔ اس لئے کہ قول باری ہے (ومن ثمرات النخیل والاعناب اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے) اس کے ساتھ یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ آیت اس سکر کی اباحت کی مقتضی ہے جس کا ذکر آیت میں ہوا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت کے ذریعے انگور اور کھجور کے منافع اور فوائد گنوائے ہیں جس طرح اس نے چوپایوں اور ان سے پیدا ہونے والے دودھ کے فوائد گنوائے ہیں۔ اس سلئے آیت میں سکر کی تحریم پر کوئی دلالت نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہ سکر خمر ہے۔ اگر آیت کی دلالت اس پر ہو بھی جاتی تو اس صورت میں بھی اس بات پر اس کی دلالت نہ ہوتی کہ شراب ہراس چیز کی ہوتی ہے جو نشہ پیدا کرتی ہے۔ اس لئے کہ آیت میں انگوروں کا ذکر ہے جس کے رس سے شراب تیار کی جاتی ہے۔ اس لئے کتاب اللہ کی دلالت کے بارے میں اس قائل کا دعویٰ درست نہیں ہوا۔ اس قائل نے اس سلسلے میں ان احادیث و آثار کا ذکر کیا ہے جن کا ہم اس سے پہلے حضور ﷺ سے روایات اور سلف کے اقوال کے تحت ذکر کر آئے ہیں ہم نے ان احادیث و آثار کی توجیہ بھی وہیں بیان کردی ہے۔ حضور ﷺ سے ان احادیث کا بھی ہم نے ذکر کردیا ہے جن میں آپ نے فرمایا ہے (کل مسکر خمرء کل مسکر حرام، کل شراب اسکرفھو حرام، وما اسکرکثیرہ فقلیلہ حرام۔ ہر نشہ آور چیز شراب ہے، ہر نشہ آور چیز حرام ہے، ہر ایسا مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ نیز ہر وہ چیز جسے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بنا پر نشہ پیدا ہوجاتا ہے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے) اور ان ہی جیسی دوسری روایات۔ ان تمام روایات میں حرمت کا حکم اس حالت پر محمول ہے جن میں مذکورہ چیزوں میں نشہ آوری کی کیفیت پیدا ہوجائے۔ اگر یہ کیفیت موجود نہ ہو تو اس صورت میں ان چیزوں کے ساتھ حرمت کے حکم کا تعلق نہیں ہوگا۔ ہماری یہ تاویل ان روایات کی ان دوسری روایات کے ساتھ تطبیق کر دے گی جو ان چیزوں کے خمر ہونے کی نفی کرتی ہیں، نیز اجماع کی دلالت کے ساتھ بھی ان روایات کی تطبیق ہوجائے گی۔ سلف کی ایک جماعت سے تیز قسم کے نیند پینے کی تواتر کے ساتھ روایات موجود ہیں۔ ان میں حضرت عمر حضرت عبد اللہ، حضرت ابوالدردآء اور حضرت بریدہ اور دیگر حضرات شامل ہیں جن کا ہم نے اپنی تصنیف ” کتاب الاشربۃ میں ذکر کردیا ہے۔ کچھ اور روایات ہیں جن میں مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے تیز یعنی گاڑھے نبیذ کا استعمال کیا تھا۔ اگر اس قائل کی بات درست تسلیم کرلی جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ مذکورہ بالا حضرات نے (نعوذ باللہ) خمر یعنی شراب کا استعمال کیا تھا۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں مطین نے، انہیں احمد بن یونس نے، انہیں ابوبکر بن عیاش نے ابکلی سے، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کل مسکر حرام ہر نشہ آور چیز حرام ہے) راوی کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس سے پوچھا :” حضرت یہ نبیذ جو ہم پیتے ہیں ہمارے اندر سکر کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا : بات یہ نہیں ہے، اگر تم سے کوئی شخص نوپیالے پی لے اور اسے نشہ نہ آئے تو یہ مشروب حلال ہے۔ اگر دسویں پیالے پر نشہ آ جائے تو وہ حرام ہے۔ “ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے۔ انہیں بشرین موسیٰ نے، انہیں ہودہ نے انہیں عوف بن سنان نے ابوالحکم سے، انہوں نے اشعری قبیلہ کے ایک شخص سے، انہوں نے الاشعری سے وہ کہتے ہیں :” مجھے اور معاذ کو حضور ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا، میں نے عرض کیا :” اللہ کے رسول ! ﷺ آپ ہمیں ایسی سر زمین کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں کچھ مشروبات رائج ہیں۔ ایک مشروب یتع ہے جو شہد سے تیار کیا جاتا ہے۔ ایک مزر ہے جو باجرہ اور جو سے تیار ہوتا ہے، اس میں تیزی آ جاتی ہے جس کی بنا پر وہ نشہ آور بن جاتا ہے۔ “ حضرت اشعری کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مختصر مگر جامع قسم کے الفاظ کہنے کی صفت عطا فرمائی تھی۔ چناچہ میری بات سن کر آپ نے فرمایا (انما حرم المسکر الذی یسکر عن ا لصلوۃ صرف وہی مشروب حرام ہے جو مسکر یعنی نشہ آور ہو، جو پینے والے کو نماز سے مدہوش رکھتا ہو۔ ) حضور ﷺ نے اس حدیث میں یہ بیان فرما دیا کہ صرف وہی مشربو حرام ہے جو نشہ کا موجب ہو۔ جو مشروب اس طرح کا نہ ہو وہ حرام نہیں ہے۔ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن زکریا العلائی نے، انہیں عباس بن بکار نے، انہیں عبدالرحمٰن بن بشیر الغطفافی نے ابواسحق سے، انہوں نے الحارث سے، انہوں نے حضرت علی سے ، وہ فرماتے ہیں : میں نے حجتو الوداع کے سال حضور ﷺ سے مشروبات کے متعلق دریافت کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (حرام الخمر بعینھا والسکر من کل شراب شراب بعینہ حرام ہے اور ہر وہ مشروب بھی حرام ہے جو سکر یعنی نشہ کا باعث ہو) اس حدیث میں بھی شراب کے سوا حرام مشروبات کا بھی بیان ہے، یہ وہ مشروبات ہیں جو نشہ کا موجب ہوتی ہیں۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے، انہیں معاذ بن المثنیٰ نے، انہیں مسدد نے، انہیں ابوالاحوص نے، انہیں سماک بن حرب نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہردہ بن نیار سے وہ کہتے ہیں : میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے (اشربوا فی الظروف ولا تسکروا۔ برتنوں میں ڈال کر پیو لیکن نشہ میں نہ آئو) آپ کا (اشربوا ) کا حکم اس نہی سے تعلق رکھتا ہے جس کے ذریعے آپ نے برتنوں میں ڈال کر پینے سے منع فرما دیا تھا، اس حکم کے ذریعے آپ نے اس کی اباحت کردی۔ یہ تو واضح ہے کہ آپ کی اس سے مراد ہر وہ مشروب ہے جس کی کثیر مقدار مسکر ہوتی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ یہ کہنا درست نہیں ہوتا :” پانی پیو لیکن نشہ میں نہ آئو “ اس لئے کہ پانی پینے کی وجہ سے کسی صورت میں بھی نشہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس قول سے آپ کی مراد یہ تھی کہ جس مشروب کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار کی اباحت ہے۔ صحابہ کرام سے تیز یعنی گاڑھے نبیذ پینے کی جو روایات ہیں ہم نے ان میں سیا کثر کا ذکر اپنی صنیف ” کتاب الاشربہ “ میں کردیا ہے۔ یہاں بھی ہم چند روایات کا ذکر کرتے ہیں۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ۔ انہیں حسین بن جعفر الفتات نے، انہیں یزید بن مہران الخباز نے، انہیں ابوبکر بن عیاش نے ابوحصین سے اور اعمش نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ اور اسود سے، وہ کہتے ہیں کہ ” ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے گھر جایا کرتے تھے۔ آپ ہمیں تیز یعنی گاڑھا نبیذ پینے کے لئے دیتے تھے۔ “ ہمیں عبداللہ بن حسین کرخی نے روایت بیان کی، انہیں ابوعوان الفرضی نے، انہیں احمد بن منصور الرمادی نے، انہیں نعیم بن حماد نے، وہ کہتے ہیں :” ہم کوفہ میں یحییٰ بن سعید القطان کے پاس موجود تھے۔ وہ ہمیں تحریم نبیذ کے بارے میں بتا رہے تھے، اتنے میں ابوبکر بن عیاش آئے اور آ کر یحییٰ بن سعید کے پاس کھڑے ہوگئے پھر کہا :” اولچے ! خاموش ہو جائو۔ “ ہمیں اعمش بن ابراہیم نے علقمہ سے روایت سنائی ہے جس میں انہوں نے کہا : ہم نے عبداللہ بن مسعود کے پاس گاڑھا نبیذ پیا تھا جس کے آخری حصے میں کسر پیدا کرنے کی خاصیت موجود تھی۔ “ ہمیں ابو اسحق نے عمر و بن میمون سے روایت سنائی ہے وہ کہتے ہیں :” جب حضرت عمر وحشی کے نیزے سے زخمی ہوگئے تھے تو اس وقت میں آپ کے پاس گیا، میری موجودگی میں آپ کے لئے نبیذ کا مشروب لایا گیا جسے آپ نے پی لیا۔ “ وہ کہتے ہیں : ابوبکر بن عیاش نے یحییٰ بن سعید القطان سے جو یہ کہا تھا کہ ” بچے ! چپ ہو جائو “ اس سے ہمیں بڑا تعجب ہوا۔ “ اسرائیل نے ابواسحٰق سے روایت کی ہے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے سعید اور علقمہ سے کہ ایک بدو نے حضرت عمر کے مشروب میں سے پی لیا، حضرت عمر نے حد کے طور پر کوڑے لگائے۔ بدو نے کہا کہ میں نے تو آپ کے مشروب میں سے پیا تھا یہ سن کر حضرت عمر نے اپنا وہ مشروب منگایا اور اس میں پانی ملا کر اس کی تیزی ختم کردی اور پھر اس میں سے پی لیا۔ ساتھ ہی فرمایا : جس شخص کو اپنے مشروب میں تیزی اور سکر کا اندیشہ پیدا ہوجائے وہ اس میں پانی ملا کر اس کی تیزی ختم کر دے۔ ابراہیم نخعی نے حضرت عمر سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔ ابراہیم نخعی نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت عمر نے اعربای کو سزا دینے کے بعد اس مشروب میں سے پیا تھا۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں العمری نے، انہیں محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے، انہیں عمر نے، انہیں عطاء بن ابی میمونہ نے، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے، انہوں نے ام سلیم اور ابو طلحہ سے کہ یہ دونوں متقی اور کھجور سے تیار شدہ نبیذ پیا کرتے تھے۔ دونوں پھل ملا کر نبیذ تیار کرتے تھے۔ ابو طلحہ سے کہا گیا کہ حضور ﷺ نے اس قسم کے مشروب سے روکا ہے تو انہوں نے کہا کہ حضو ر ﷺ نے اس سے اس لئے روکا تھا ک ہ اس زمانے میں بڑی غربت اور اشیائے صرف کی کمی تھی اس لئے آپ نے دو پھلوں کو ملا کر بنے ہوئے نبیذ سے بھی منع کردیا تھا۔ اس باب میں حضور ﷺ سے جو روایات منقول ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ ہم نے ان کا ایک حصہ اپنی تصنیف ” کتاب الاشربۃ “ میں بیان کردیا ہے۔ یہاں ہم نے طوالت کے خوف سے ان کا اعادہ نہیں کیا۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے ہمارے اصحاب جن مشروبات کی حلت کے قائل ہیں ان کی تحریم کے متعلق کسی صحابی یا تابعی سے کوئی روایت منقول نہیں ہے۔ ان حضرات سے صرف نقیع زبیب اور نقیع تمر (منقی یا خشک کھجور کو پانی میں بھگو کر تیار کیا جانے والا مشروب) کی تحریم کی روایت منقول ہے۔ نیز ان حضرات سے اس شیرے کی تحریم بھی منقول ہے جو پکنے یا دھوپ میں رکھنے کے بعد تہائی حصہ نہ رہ جائے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ کچھ ایسے لوگ پیدا ہوگئے جو علم سے عاری تھے، انہوں نے عوام الناس کے سامنے نبیذ کی تحریم کے متعلق شدت پسندی کا مسلک گھڑ کر پیش کردیا۔ اگر نبیذ کی حرمت ہوتی تو اس کے متعلق کثرت سے روایات منقول ہوتیں اس لئے عوام الناس کو اس سے شب و روز واسطہ پڑتا تھا کیونکہ اس وقت لوگ عام طور پر خشک اور گدر کھجور کا بنا ہوا نبیذ مشروب کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اگر ان کی تحریم ہوجاتی تو اس بارے میں اسی کثرت سے روایات منقول ہوتیں جس طرح تحریم خمر کے بارے میں منقول ہیں۔ بلکہ نبیذ کے استعمال کے ساتھ لوگوں کا واسطہ خمر کے استعمال کی بہ نسبت بڑھ کر تھا اس لئے کہ اس وقت لوگوں کے لئے شراب کی بڑی قلت تھی۔ اس وضاحت کے اندر ان لوگوں کے قول کے بطلان کی دلیل موجود ہے جو نبیذ کی تحریم کے قائل ہیں۔ ہم نے اپنی تصنیف ’ دکتاب الاشربہ “ میں اس مسئلے کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ میسر یعنی جوئے کے متعلق حضرت علی سے مروی ہے کہ شطرنج جوئے کی ایک شکل ہے۔ حضرت عثمان اور صحابہ کرام نیز تابعین عظام کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ میسر نرد کو کہتے ہیں (ایک قسم کا کھیل جس کو ارد شیر بابک شاہ ایران نے ایجاد کیا تھا) اہل علم کے ایک گروہ کا قول ہے کہ قمار یعنی جوئے کی تمام صورتیں میسر میں داخل ہیں۔ اس کے اصل معنی اونٹ کے گوشت کی تقسیم کے معاملے کو آسان کرنے کے ہیں جب لوگ اکٹھے ہو کر جوا کھیلتے۔ اس مقصد کے لئے تیروں پر مختلف نشانات لگا کر انہیں ایک تھیلے میں ڈال دیا جاتا۔ پھر تھیلے میں ہاتھ ڈال کر ان تیروں کو پھیرا جاتا اور باری باری ایک ایک شریک کے لئے تیر نکالا جاتا۔ اور تیر پر لگے ہوئے نشان کے مطابق ہر شریک کو گوشت میں سے حصہ مل جاتا۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ ایک شریک کا ایک تیر نکلتا جس پر کوئی نشان نہ ہوتا اور اسے کوئی حصہ نہ ملتا اور بعض دفعہ ایک شریک کو تیر پر لگے ہوئے نشان کی بنا پر وافر مقدار میں حصہ مل جاتا۔ یہ دراصل شرط لگا کر ماں کی تملیک کی ایک صورت تھی ۔ تملیک کے ایسے عقود کے بطلان کی یہی بات بنیاد ہے جن میں مستقبل میں پیش آنے والے کسی امر کی شرط لگا دی گئی ہو۔ مثلاً ہبہ کی تمام صورتیں، صدقات نیز خرید و فروخت کے عقود جب انہیں اس قسم کی شرط کے ساتھ مشروط کردیا جائے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے۔” میں نے یہ چیز تمہارے ہاتھ فروخت کردی جب زید کی آمد ہوجائے “ یا د ’ میں نے یہ چیز تمہیں ہبہ کردی جب عمرو اپنے گھر سے نکل آئے۔ “ اس لئے کہ اونٹ کے گوشت پر جوئے کی یہی صورت ہوتی تھی کہ ایک شخص کہتا : جس کا تیر نکل آئے گا وہ اونٹ کے فلاں حصے کا حق دار ہوگا۔ “ اس طرح گوشت کے حصے پر اس کا استحقاق ایک شرط کے ساتھ مشروط ہوتا۔ حقوق میں قرعہ اندازی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ قرعہ اندازی میں حصہ لینے والوں کے حصے یکساں ہوتے ہیں۔ قرعہ اندازی کے ذریعے کسی کے حق کے اثبات یا اس کے حصے میں کمی کا سوال نہیں ہوتا۔ قرعہ اندازی صرف ان حقداروں کے دلوں میں اطمینان پیدا کرنے اور انہیں خوش رکھنے کی خاطر کی جاتی ہے مثلاً کسی چیز کی تقسیم کے سلسلے میں قرعہ اندازی، یا بیویوں کے لئے باری مقرر کرنے کی خاطر قرعہ اندازی یا مثلاً قاضی کے سامنے مقدمہ پیش کرنے کے سلسلے میں متعلقہ افراد کے درمیان قرعہ اندازی وغیرہ قرعہ اندازی کی دوسری صورت وہ ہے جس کے قائل ہمارے مخالفین ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص مرض الموت میں اپنے غلاموں کو آزادی دے دے اور ان غلاموں کے سوا اس کا کوئی اور ترکہ نہ ہو تو اس صورت میں ہمارے مخالفین کے قول کے مطابق ان غلاموں کے تہائی حصے کی آزادی کے لئے ان میں قرعہ اندازی کی جائے گی (یاد رہے کہ ایک شخص مرض الموت میں صرف اپنی تہائی مال کی وصیت کرسکتا ہے) ہمارے مخالفین کا یہ قول اس قمار بازی کی جنس میں سے ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فصاً ممانعت کردی ہے۔ اس لئے کہ اس قرعہ اندازی سے ایک غلام پر واقع ہوجانے والی آزادی کو دوسرے کی طرف منتقل کردینا لازم آتا ہے۔ نیز اس میں ایک کے حق کا اثبات اور دوسرے کے حق کو گھٹا دینا لازم آتا ہے جس کی وجہ سے ایک تو بالکلیہ اپنے حق سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کی بجائے دوسرا شخص اپنے حق کے ساتھ اس کا حق بھی سمیٹ لیتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مفہوم کے لحاظ سے قرعہ اندازی کی اس صورت الحال میسر کے درماین کوئی فرق نہیں ہے۔ انصاب سے مراد وہ بت یا پتھر ہیں جو پوجا کے لئے کھڑے کردیئے جاتے تھے خواہ ان پر کوئی شکل بنی ہوتی یا نہ نہ بنی ہوتی۔ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو عبادت اور پوجا کی غرض سے قائم کی جاتی تھیں۔ ازلام سے مراد وہ پانسے یا تیر ہیں جن پر وہ کسی کام کے کرلینے یا نہ کرنے کے نشانات لگا دیتے پھر وہ اپنے تمام کام ان تیروں کے نشانات کے مطابق سر انجام دیتے۔ اگر کسی کام کے متعلق کرلو کے نشان والا تیر نکلتا تو اسے کرنے پر تیار ہوجاتے۔ اگر نہ کرو، کا تیر نکل آتا تو اس کام میں ہاتھ ہی نہ ڈالتے، اسی طرح اثبات یا نفی کے نشانات پر بھی عمل پیرا ہوتے۔ نسب کے اثبات یا نفی کے سلسلے میں بھی وہ ان تیروں کو اپنا ذریعہ بناتے۔ اگر کسی بچے کے نسب کے متعلق شک پڑجاتا تو وہ تیر نکالتے اگر لا یعنی نہیں، والا تیر نکل آتا تو اس کے نسب کی نفی کردیتے اگر نعم یعنی ہاں والا تیر نکل آتا تو نسب کا اثبات کردیتے۔ قمار بازی کے لئے بھی اس قسم کے تیر استعمال ہوتے۔ قول باری (رجس من عمل الشیطان) میں وارد لفظ رجس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے اس بنا پر اجتناب لازم ہے کہ یا تو وہ نجس ہے یا عبادت یا تعظیم کی وجہ سے وہ قبیح بن چکی ہے اس لئے کہ رجس اور نجس کے الفاظ ہم معنی ہیں، رجس کہہ کر نجس مراد لیا جاتا ہے۔ ان دونوں میں ہر لفظ دوسرے کے ساتھ آتا ہے۔ جس طرح عرب کے لوگ کہتے ہیں ” حسن بسن “ یا ” عطشان، نطشان “ غیرہ۔ یہاں یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ آتے ہیں اور ہم معنی ہیں۔ لفظ (جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ عذاب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ قول باری ہے (لئن کشفت عنا الرجزا اگر تو ہم سے عذاب دور کر دے) رجز سے مراد عذاب ہے کبھی یہ لفظ رجس یعنی نجس کے معنوں میں آتا ہے۔ قول باری ہے (والرجز فاھجر اور نجس سے دامن بچا) نیز فرمایا (ویذھب عنکم الرجز اور تم سے گندگی کو دور کر دے) اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں فرمایا (من عمل الشیطان) تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان ان گندے کاموں کی طرف بلاتا اور انہیں عمل میں لانے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کی طرف نسبت کر کے ان افعال کی تحریم کی اور بھی تاکید کردی کیونکہ شیطان معاصی، محرمات اور قبیح افعال کو بروئے کار لانے کے سوا اور کسی بات کا حکم نہیں دیتا۔ اس لئے مجازاً ان افعال کی نسبت شیطان کی طرف درست ہوگئی۔ اس لئے شیطان ہی ان افعال کی طرف دعوت دینے والا اور انہیں خوشنما بنا کر پیش کرنے والا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص کسی کو کسی اور شخص کی پٹائی کرنے یا گالی دینے پر ابھارے اور اس عمل کو بہت آراستہ کر کے اسے دکھائے تو اس موقع پر اس شخص سے یہ کہنا درست ہوتا ہے کہ ” یہ سب تمہاری کارستانی ہے۔ “
Ayahs 5:91–92

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہئے۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسول خدا کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو۔ اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر ﷺ کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے۔

قول باری ہے (انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر۔ ) شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے) تا آخر آیت اس سے یہ مراد ہے شیطان شراب نوشی کی دعوت دیتا اور اس قبیح فعل کو بہت آراستہ کر کے پیش کرتا ہے تاکہ شراب پینے والا نشہ کے تحت قبیح افعال کا مرتکب ہوجائے یا اپنے ہم نشینوں کے ساتھ بد اخلاقی پر اتر آئے جس کے نتیجے میں آپ س میں دشمنی اور بغض و عداوت کی بنیاد رکھ دی جائے۔ جوئے بازی بھی ان ہی امور پر جا کر منتج ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے۔” ہوتا اس طرح تھا کہ ایک شخص اپنا سارا مال بلکہ اہل و عیال جوئے کے دائو پر لگا دیتا ہے اور بازی ہارنے کے بعد رنج و الم کا بوجھ اپنے دل میں لے کر بیٹھ جاتا جس کے ردعمل کے طور پر اس کے دل میں بغض و عداوت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا۔ “ اس آیت سے نبیذ کی تحریم پر بھی استدلال کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ نبیذ سے پیدا ہونے والا نشہ اسی طرح بغض و عداوت کا باعث ہوتا ہے جس طرح شراب کا نشہ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ علت ان مشروبات اور چیزوں میں موجود ہوتی ہے جو نشہ آور ہوتی ہیں لیکن جو چیزیں نشہ آور نہیں ہوتیں ان میں موجود نہیں ہوتی۔ پہلی قسم کی چیزوں اور مشروبات کی تحریم میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ قلیل مقدار شراب میں یہ علت موجود نہیں ہے لیکن شراب چونکہ بعینہ حرام ہے اس لئے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام دی گئی ہے۔ آیت کے اندر کوئی ایسی عدت بیان نہیں ہوئی جو قلیل مقدار میں نبیذ کی تحریم کی مقتضی ہو۔