5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 5:45–46

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلا ہے لیکن جو شخص بدلا معاف کردے وہ اس کیلئے کفّارہ ہوگا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں۔

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان پیغمبروں کے بعد انہیں کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

قول باری ہے وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس والعین و الانف بالانف ، تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک تا آخر آیت ۔ یہاں یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں یہودیوں پر جان اور آیت میں مذکورہ اعضا کا قصاص لکھ دیا تھا۔ امام ابو یوسف نے ظاہر آیت سے جان کے سلسلے میں عورت اور مرد کے درمیان قصاص کے ایجاب پر استدلا ل کیا ہے۔ اس لیے کہ ارشاد باری ہے الفنس بالنفس یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ امام ابو یوسف کا مسلک یہ تھا کہ ہم سے پہلے انبیا (علیہم السلام) کی شریعتوں کا حکم جاری اور نافذ رہے گا یہاں تک کہ اس کی تنسیخ کا حکم حضور ﷺ کی زبان مبارک یا نص قرآنی کے ذریعے وارد ہوجائے۔ آیت کے تسلسل میں قول باری ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولیک ھم الظالمون اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت یہ حکم ثابت اور جاری تھا۔ اس پر دو وجوہ سے دلالت ہو رہی ہے ایک تو یہ کہ اس حکم کا منزل من اللہ ہونا ثابت ہوچکا ہے اور زمانے کے لحاظ سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ نسخ وارد ہونے تک یہ ہر زمانے میں ثابت رہے گا ۔ دوسری وجہ یہ کہ آیت زیر بحث کے نزول کے وقت ان پر ظلم اور فسق کی علامت اس لیے چسپاں ہوگئی کہ یہ لوگ اس وقت اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا اصول چھوڑ بیٹھے تھے وہ اس طرح کہ یہ یا تو ان کی طرف سے اس قانون کا سرے سے انکار ہوگیا تھا اور یا اللہ تعالیٰ نے اس قانون کے تحت ان پر جو طریق کار واجب کردیا تھا اس سے یہ ہٹ گئے تھے۔ یہ چیز تمام قسم کی جانوں کے قصاص کی مقتضی ہے جب تک اس کے نسخ یا تخصیص کی دلات قائم نہ ہوجائے۔ قول باری والعین بالعین کا مفہوم ہمارے اصحاب نے یہ لیا ہے کہ آنکھ میں اس طرح ضرب لگے کہ اس کی روشنی جاتی رہے یعنی مضروب بینائی سے محروم ہوجائے ۔ ان کے نزدیک آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ آنکھ نکال لی جائے۔ پھر ہمارے اصحاب کے نزدیک آنکھ نکال لینے کے جرم کا کوئی قصاص نہیں ہے اس لیے کہ اس جیسی صورت میں قصاص لینا متعذر ہوتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ قصاص کے اندر آنکھ کس حد تک نکال لی جائے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کی ران یا بازو سے گوشت کا ٹکڑا کاٹ کر علیحدہ کر دے یا اس کی ران کا کوئی حصہ جدا کر دے تو اس صورت میں میں اس پر قصاص واجب نہیں ہوگا ۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک قصاص اس صورت میں لیا جائے گا جب آنکھ کی روشنی ضائع ہوچکی ہو اور آنکھ کی پتلی اپنی جگہ قائم ہو۔ قصاص کی صورت یہ ہوگی کہ ایک آنکھ میں پٹی باندھ دی جائے گی پھر آئینہ گرم کر کے اس آنکھ کے سامنے کردیا جائے گا جس میں قصاص واجب ہے ۔ گرم شیشہ اس آنکھ کو دکھایا جائے گا یہاں تک کہ اس کی روشنی ختم ہوجائے ۔ قول باری والا نف بالانف کے متعلق ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر ناک جڑ سے کاٹ دی گئی ہو تو اس میں قصاص نہیں ہے اس لیے کہ یہ ہڈی ہوتی ہے جس میں پوری طرح قصاص لینا ممکن نہیں ہوتا۔ جس طرح کوئی شخص کسی کا نصف بازو کاٹ دے یا جس طرح کوئی ٹانگ آدمی ران سے کاٹ دے تو ایسی صورتوں میں قصاص کے سقوط میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس لیے کہ ان صورتوں میں مثل متعذر ہوتا ہے اس لیے کہ قصاص اخذ المثل برابر کا بدلہ لینے کا نام ہے ۔ اگر قصاص میں اخذ المثل کا مفہوم نہیں پایا جائے گا تو وہ قصاص نہیں کہلائے گا ۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ ناک کے سلسلے میں قصاص صرف اسی وقت واجب ہوتا ہے ۔ جب مارن یعنی نازک کا نرم قطع ہوجائے اور ناک کے بانسے قصبۃ الانف سے اتر جائے۔ امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ اگر پوری ناک کاٹ دی گئی ہو تو اس میں قصاص ہوگا ۔ اسی طرح عضو تناسل اور زبان کا مسئلہ ہے۔ اما م محمد کا قول ہے کہ اگر ناک ، عضو تناسل یا زبان پوری کاٹ دی گئی ہو تو اس میں قصاص نہیں ہوگا ۔ قول باری ہے والا ذن بالاذن اور کان کے بدنے کان یہ قول باری قصاص کے وجوب کا مقتضی سے اگر کان پورا کاٹ دیا گیا ہو کیونکہ قصاص کے طور پر پورا کان کاٹ دینا ممکن ہے۔ اگر کان کا بعض حصہ کاٹ دیا گیا ہو تو ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اس میں قصاص واجب ہوگا بشرطیکہ اس کی مقدار معلوم کر کے اتنا ہی حصہ کاٹا جاسکتا ہو ۔ قول باری والسن بالسن اور ذات کے بدلے دانت ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ دانت کے سوا کسی بڈی میں قصاص نہیں لیا جاتا ۔ اگر دانت اکھاڑ دیا گیا ہو یا اس کا ایک حصہ توڑ دیا گیا ہو تو اس میں قصاص ہوگا اس لیے کہ اس میں قصاص لینا ممکن ہوتا ہے ۔ اگر پورا دانت اکھاڑ دیا گیا ہو تو قصاص میں پورا دانت اکھاڑ دیا جائے گا ۔ جس طرح ہاتھ قصاص میں مفصل یعنی گٹے سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ اگر دانت کا ایک حصہ توڑ دیا گیا ہو تو قصاص میں ریتی سے اتنا حصہ رگڑ دیا جائے گا اور اس طرح پورا قصاص لینا ممکن ہوجائے گا باقی ماندہ تمام ہڈیوں میں پورا قصاص لینا ممکن نہیں ہے اس لیے کہ اس صورت میں قصاص کی حد کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔ مذکورہ بالا اعضاء کے قصاص میں اللہ تعالیٰ نے نصا ً جو حکم بیان کیا ہے وہ اس کا مقتضی ہے کہ ان اعضاء میں سے قصا ص کے سلسلے میں بڑے چھوئے عضو میں کوئی فرق نہیں ہوگا یعنی مثلاً چھوٹے کان کے قصاص میں بڑا کان کاٹ دیا جائے گا اور بڑے کان کے قصاص میں چھوٹا کان کاٹ دیا جائے گا ۔ اسی طرح مذکورہ بالا دوسرے اعضاء کا بھی مسئلہ ہے بشرطیکہ جس عضو میں قصاص لیا جارہا ہے وہ اس عضو کے بالمقابل ہو جسے نقصان پہنچایا گیا ہے کوئی اور عضو نہ ہو۔ قول باری ہے والجروح قصاص اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ یعنی ان تمام زخموں میں قصاص کا ایجاب ہے جن میں برابر کا بدلہ ممکن ہو ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ جن زخموں میں برابر کا بدلہ لینا ممکن نہ ہو ان میں قصاص کی نفی ہے۔ اس لیے کہ قول باری والجروح قصاص برابر کا بدلہ لینے کا مقتضی ہے۔ اس لیے اگر برابر کا بدلہ نہیں ہوگا تو وہ قصاص نہیں ہوگا ۔ اس سلسلے میں بہت سی چیزوں کے قصاص کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے مثلاً جان لینے سے کم درجے کے جرم میں مردوں اور عورتوں کے درمیان قصاص ۔ اس پر ہم نے سورة بقرہ میں روشنی ڈالی ہے۔ اسی طرح آزاد اور غلاموں کے درمیان قصاص کا مسئلہ بھی مختلف فیہ ہے۔ قصاص کے متعلق فقہاء کے مابین اختلاف رائے کا ذکر اما م ابوحنیفہ ، امام ابو یوسف ، امام محمد ، زفر ، امام اور امام شافعی کا قول ہے دائیں عضو کے بدلے میں بایاں عضو نہیں کاٹا جائے گا یعنی دائیں آنکھ اور دائیں آنکھ اور دائیں بازو کا قصاص بائیں آنکھ اور بائیں بازو سے نہیں لیا جائے گا ۔ اسی طرح دانت کا قصاص مجرم کے اسی جیسے دانت سے لیا جائے گا ۔ قاضی ابن شبرمہ کا قول ہے کہ بائیں آنکھ کے قصاص میں دائیں آنکھ اور دائیں آنکھ کے قصاص میں بائیں آنکھ پھوڑ دی جائے گی ۔ دو بازوئوں کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ داڑھ کے دانت کا قصاص سامنے کے اوپر نیچے کے دو دانتوں اور سامنے کے اوپر نیچے کے دانتوں کا قصاص داڑھ کے دانت سے لیا جائے گا ۔ حسن بن صالح کا قول ہے اگر کسی کے ہاتھ کی ایک انگلی کا ٹ دی گئی ہو اور مجرم کے اس ہاتھ میں اس جیسی انگلی نہ ہو تو قصاص میں اس کی ساتھ والی انگلی کاٹ دی جائے گی ۔ ایک کف دست کی انگلی کے قصاص میں دوسری ہتھیلی کی انگلی نہیں کاٹی جائے گی۔ اس طرح اگر مجرم کا اس جیسا دانت نہ ہو جسے اسی نے نقصان پہنچایا ہے تو اس کے ساتھ والے دانت سے قصاص لیا جائے گا خواہ وہ داڑھ کے دانت کیوں نہ ہوں ۔ اگر مجرم نے بائیں آنکھ کو نقصان پہنچایا ہو اور اس کی اپنی بائیں آنکھ موجود نہ ہو تو اس کی جگہ اس کی دائیں آنکھ سے قصاص لیا جائے گا لیکن دائیں بازو کے قصاص میں بایاں بازو اور بائیں بازو کے قصاص میں دایاں بازو قطع نہیں کیا جائے گا ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ مجرم نے جس عضو کو نقصان پہنچایا ہے اگر اس کا اپنا وہ عضو موجود ہو تو اس صورت میں قصاص لینے والا اس عضو کے سوا مجرم کے کسی اور عضو سے قصاص نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس عضو کو چھوڑ کر اس کے بالمقابل واقع کسی اور عضو کو قصاص کا نشانہ بنا سکتا ہے خواہ مجرم اور جرم کی زد میں آنے والا شخص مجنی علیہ اس امر پر رضا مند کیوں نہ ہوجائیں ۔ فقہاء کا یہ متفق علیہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ قول باری العین بالعین تا آخر آیت میں مجرم کے اس عضو سے قصاص لینا مراد ہے جو مجنی علیہ کے عضو کے بالمقابل ہو ۔ اگر بات اس طرح ہے تو پھر اس عضو کے سوا کسی اور عضو سے قصاص لینا جائز نہیں ہوگا خواہ یہ عضو موجود ہو یا معدوم ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جب ہاتھ کے قصاص کا حکم پیر تک پہنچا دینا اور ہاتھ کا قصاص پیر سے لینا جائز نہیں ہے تو اس عدم جو از کے حکم میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ مجرم کا ہاتھ موجود ہے یا موجود نہیں ۔ ہر صورت میں قصاص کے حکم کو پیر تک پہنچانا ممتنع ہوگا ۔ نیز قصاص برابر کا بدلہ لینے کا نام ہے اور یہ اعضاء یعنی ہاتھ اور پیر وغیرہ ایک دوسرے کے مماثل نہیں ہیں اس لیے قصاص میں ان کا احاطہ کرنا جائز نہیں ہوگا ۔ فقہاء کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ مفلوج ہاتھ کے قصاص میں تندرست ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا البتہ تندرست ہاتھ کے قصاص میں مفلوج ہاتھ کاٹ دیا جائے گا وہ اس لیے کہ قول باری ہے والحجروج قصاص اس کے تحت اگر مفلوج ہاتھ کے قصاص میں تندرست ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو قصاص کی مقدار بڑھ جائے گی لیکن اگر تندرست ہاتھ کے قصاص میں مفلوج ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو قصاص کی مقدار کم رہے گی اور یہ اس وجہ سے جائز ہوگا کہ قصاص لینے والا اپنے حق سے کم پر رضا مند ہوگیا ہے۔ ہڈی کے قصاص میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ ، امام ابو یوسف ، امام محمد اور زفرکا قول ہے کہ دانت کے سوا کسی ہڈی میں قصاص نہیں ہے۔ لیث بن سعد اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے ۔ ان دونوں حضرات نے اس حکم سے دانت کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا ہے۔ ابن القاسم نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ جسم کی تمام ہڈیوں میں قصاص کا حکم جاری ہوگا ۔ جن ہڈیوں کو قصاص میں نہیں توڑا جاسکتا البتہ دو ہڈیاں اس حکم سے مستثنیٰ ہوں گی جو مجوف یعنی اندر سے کھوکھلی ہوں گی مثلاً ران کی ہڈی اور اس جیسی اور ہڈیاں ، ان جیسی ہڈیوں میں قصاص کا حکم جاری نہیں ہوگا ۔ کھوپڑی کی ہڈی کے زخم میں قصاص نہیں لیا جائے گا اسی طرح اس ہڈی کا بھی قصاص نہیں لیا جائے گا جو زخم لگنے کی وجہ سے ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ جائے۔ دونوں بازوئوں ، دونوں پنڈلیوں ، دونوں قدم ، دونوں ٹخنوں اور انگلیوں کو توڑنے کی صورت میں ان کا قصاص لیا جائے گا۔ اوزاعی کا قول ہے کہ دماغ کی جھلی کے زخم میں قصاص نہیں ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب سر کی ہڈی میں قصاص کی نفی پر سب کا اتفاق ہے تو پھر تمام ہڈیوں کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والجروح قصاص اور قصاص یعنی برابر کا بدلہ ہڈیوں میں ممکن نہیں ہے۔ حماد بن سلمہ نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے کہ ابن الزبیر ؓ نے دماغ کی جھلی کا زخم کا قصاص لیا تو ان کے فعل کو ناپسند کیا گیا اور اس کی تردید کی گئی یہ تو واضح ہے کہ تردید کرنے والے حضرات صحابہ کرام تھے۔ نیز اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کسی نے کسی کے کان میں اس طرح ضرب لگائی ہو کہ کان خشک ہوگیا ہو یعنی اس کی قوت سامعہ جاتی رہی ہو تو اس کے قصاص میں مجرم کے کان کو ضرب لگا کر بےکار نہیں کیا جائے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نوعیت کے جرم میں جرم کی مقدار کا انداز نہیں لگایا جاسکتا ۔ جسم کی ہڈیوں کی بھی یہی کیفیت ہے ۔ دانت کے سلسلے میں قصاص کے وجوب پر ہم گزشتہ سطور میں وضاحت کر آئے ہیں ۔ قول باری ہے فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ، حسن ، قتادہ ، ابراہیم نخعی ( ایک روایت کے مطابق اور شعبی ایک روایت کے مطابق کا قول ہے کہ مقتول کا ولی اور زخمی انسان جب اپنا قصاص معاف کردیں گے تو یہ ان کے لیے کفارہ بن جائے گا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد ، ابراہیم نخعی ( ایک روایت کے مطابق) اور شعبی ایک روایت کے مطابق کا قول ہے کہ یہ مجرم کے لیے کفارہ بن جائے گا ۔ ان حضرات نے قصاص معاف کردینے کو بمنزلہ اس امر کے قرار دیا کہ گویا قصاص لینے والے نے اپنا حق وصول کرلیا اور مجرم نے گویا کوئی جرم نہیں کیا ۔ تا ہم یہ بات اس پر محمول ہوگی کہ مجرم نے اپنے جرم سے توبہ کرلی ہے اس لیے کہ مجرم کو اپنے جرم پر اصرار رہے گا تو اس بنا پر اللہ کے ہاں اس کی سزا بحالہ باقی رہے گی کہ اس نے ایک ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے جس کی اللہ کی طرف سے ممانعت تھی۔ پہلا قول درست ہے اس لیے کہ قول باری فھو کفارۃ لہ اس سے ما قبل کے قول فمن تصدق بہ کی طرف راجع ہے۔ اس لیے کفارہ اس کا ہوگا جس نے قصاص کا صدقہ کردیا ہے اور پھر مفہوم یہ ہوگا کہ قصاص کا صدقہ کردینا قصاص کے حق دار کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ۔
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اسکے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نزل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔

قول باری ہے ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے ان پر نازل کیا ہے ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس قول باری میں یہ دلالت موجود ہے کہ انبیاء سابقین کی شریعتوں میں سے جو باتیں منسوخ نہیں ہوئیں وہ بایں معنی ثابت ہیں کہ اب وہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا حصہ بن گئی ہیں ۔ اس لیے قول باری ہے ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ اور یہ بات واضح ہے کہ اہل انجیل کو انجیل میں نازل کردہ احکام کی پیروی کے حکم سے صرف یہ مراد ہے کہ یہ لوگ حضور ﷺ کی پیروی کریں اس لیے کہ انجیل میں نازل کردہ احکام اب حضور ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا جز بن چکے ہیں ۔ اس لیے کہ اگر یہ لوگ حضور ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے اور آپ کی اتباع کیے بغیر انجیل پر عمل پیرا ہو بھی جاتے تو بھی کافر قراردیے جاتے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ انہیں اس شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونے کا بایں معنی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ شریعت اب حضور ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی جز بن چکی ہے۔
Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ! ) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کردیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کردیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو۔ تم سب کو خدا کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتادے گا۔

قول باری ہے وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا ً نما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا ً علیہ پھر اے محمد ﷺ ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ نگہبان ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ مہیمن کے معنی امین کے ہیں ۔ ایک قول ہے کہ یہ گواہ کے معنی میں ہے۔ ایک اور قول کے مطابق محافظ اور نگہبان کے معنوں میں ہے ، نیز یہ قول بھی ہے کہ اس کے معنی موتمن کے ہیں یعنی جس پر بھروسہ کیا جائے۔ اس کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ یہ کتاب سابقہ کتب آسمانی کی باتیں ہم تک نقل کرنے میں پوری طرح امین ہیں ۔ یعنی ان کتابوں میں اللہ نے جو کچھ نازل کیا تھا یہ کتاب بلا کم و کاست اور بلا کسی تحریف و تبدیل نیز بلا کسی حد و اضافہ کے وہ باتیں ہم تک نقل کرتی ہے ۔ اس لیے کہ جو کسی چیز کا امین ہوتا ہے اس کے متعلق اس کا قول کی تصدیق کی جاتی ہے۔ شاہد یعنی گواہ کا بھی یہی مفہوم ہے۔ اس میں اس امر کی دلیل موجود ہے کہ جس شخص کو کسی چیز کا امین بنایا گیا ہو مثلاً اس کے پاس کوئی چیز ودیعت رکھی گئی ہو یا اسے رعایت کے طور پر دی گئی ہو یا مضاربت وغیرہ کی کوئی صورت ہو تو اس کے بارے میں اس کا قول قابل قبول نہ ہوگا ۔ اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصدیق کے وجوب کی خبر دی جو قرآن نے کتب سابقہ سے نقل کی ہیں تو اس بنا پر قرآن کو ان کتابوں کے امین کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جس شخص کو کسی چیز کا امین بنایا گیا ہو اس کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہوگا ، چناچہ ارشاد باری ہے فان امن بعضکم بعضا ً فلیود الذی ائتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کر کے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اسے چاہے کہ امانت ادا کر دے اور اللہ اپنے رب سے ڈرے۔ نیز فرمایا ولا یبخس منہ شیئا ً اور اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ جب اللہ تعالیٰ اسے امین قرار دیا تو اس کمی بیشی نہ کرنے کی تلقین فرمائی۔ لفظ مہبمین کے مدلول کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ اس طرح آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید کتب سابقہ کا مہیمن یعنی محافظ و نگہبان اور ان کے منزل من اللہ ہونے پر گواہ ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد حضور ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ قول باری ہے فاحکم بینھم بما انزل اللہ ۔ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطا بق فیصلہ کرو یہ آیت تخییر کے نسخ پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ قول باری ہے ولا تتبع اھواء ھم اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ۔ یہ آیت ان لوگوں کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر اہل کتاب سے حلف اٹھوانے کی ضرورت پیش آئے تو اس مقصد کے لیے انہیں ان کی عبادت گاہوں یعنی گرجوں وغیرہ میں لے جا کر یہ کام کیا جائے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح اس غلط جگہ کا تعظیم کا پہلو پیدا ہوگا جو ان کی خواہشات کے عین مطابق ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہشات کی پیروی سے روک دیا ہے۔ اس طرح آیت ان لوگوں کے قول کے بطلان پر بھی دلالت کرتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ انہیں ان کے دین کی طرف لوٹا دیا جائے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ان کی خواہشات کی پیروی کا پہلو پیدا ہوگا نیز ان کے من گھڑت احکام کو ایک گونہ حیثیت مل جائے گی ۔ ایک اور دوجہ یہ ہے کہ اگر انہیں ان کے اہل دین کی طرف لوٹا دیا جائے گا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ ان کے متعلق اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو صریحا ً اللہ کے انکار پر مبنی ہے اس لیے کہ جس شرعی قانون کے مطابق وہ فیصلہ کریں گے وہ اگرچہ تورات اور انجیل کے مطابق کیوں نہ ہو، پھر بھی اس سے اللہ کا انکار لازم آئے گا اس لیے کہ یہ لوگ اس قانون کو ترک کر کے حضور ﷺ کی شریعت کے اتباع کے من جانب اللہ پابند ہیں۔ قول باری ہے لکل جعلنا منکم شرعۃ ً ومنھا جا تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور راہ عمل مقرر کی شرعہ اور شریعت دونوں ہم معنی الفاظ ہیں جن کے معنی اور گھاٹ کی طرف جانے والے راستے کے ہیں جس پر زندگی کا انحصا رہے۔ اسی مناسبت سے ان امور کو شرعہ اور شریعت کا نام دیا گیا جن کے ذریعے سمعی جہت سے اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ اس لیے کہ یہ امور اپنے طاعلین کو ابدی نعمتوں والی حیات سر مدی تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ قول باری منھاجا ً کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد ، قتادہ اور ضحا کا قول ہے کہ اس سے مراد سنت اور راستہ ہے ۔ اگر راستہ واضح ہو تو کہا جاتا ہے طریق نھج ۔ مجاہد کا قول ہے کہ قول باری شرعۃ سے قرآن مراد ہے اس لیے کہ یہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے کتاب ہدایت ہے۔ قتادہ اور دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ اس سے مراد تورات اور انجیل کی شریعتیں ہیں نیز شریعت سے قرآن بھی مراد ہے۔ اس سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو ہم پر ما قبل کی شریعتوں کے لزوم کی نفی کرتے ہیں خواہ ان کا نسخ ثابت نہ بھی ہوا ہو ۔ اس لیے کہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر نبی کے ساتھ ایک شریعت اور منہاج بھیجا گیا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں ان لوگوں کے قول پر کوئی دلیل نہیں ہے اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو شریعت تھی وہ حضور ﷺ کی بعثت تک منسوخ نہیں ہوئی تو اس کے بعد اب وہ حضور ﷺ کی شریعت بن گئی جبکہ آپ کی بعث سے پہلے یہ کسی اور نبی یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت تھی ۔ اس لیے شریعتوں کے احکام کے اختلاف پر اس آیت میں کوئی دلالت نہیں ہے۔ نیز کوئی شخص اس بات کے جواز میں اختلاف نہیں کرے گا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اس طریقے اور شریعت کے تحت پیروی کی جائے جس میں گزشتہ انبیاء کی شریعتوں کے ساتھ مطابقت پائی جاتی ہو اس لیے قول جاری لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھاجا ً اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ حضور ﷺ کی شریعت کی بہت سے امور میں انبیائے سابقین کی لائی ہوئی شریعتوں کے ساتھ مطابقت پیدا ہوجائے۔ جب اس بات اس طرح ہے تو زیر بحث قول باری ہے وہ امور مراد ہوں گے جو انبیائے سابقین کی لائی ہوئی شریعتوں کے جز تھے لیکن ا ب منسوخ ہوچکے ہیں اور حضور ﷺ ان امور میں ان شریعتوں کے پیروکار نہیں رہے۔ اس طرح آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تم میں سے ہر امت کے لیے ایک شریعت ہے جو دوسری امت کی شریعت سے مختلف ہے۔ قول باری ہے ولو شاء اللہ بجعلکم امۃ واحدۃ ً اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا حسن کا قتال ہے تم سب کو حق پر قائم کردیتا یعنی تمام لوگوں کو حق بات کہنے پر مجبور کردینا مشیت ایزدی کے عین مطابق تھا لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو پھر لوگ ثواب کے مستحق نہ ہوتے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے ولو شئنا لاتینا کل نفس ھداھا اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت عطا کردیتے دوسرے حضرات کا قول ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ابنیاء کی دعوت کے ذریعے ایک ہی شریعت پر اکٹھا کردیتا ۔ قول باری فاستبقوا الخیرات پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا حکم دیا گیا ہے جو اللہ کی بندگی کے طور پر ہمارے لیے مقرر کی گئی ہیں تا کہ موت کی وجہ سے یہ نیکیاں ہم سے رہ نہ جائیں ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ واجبات یعنی فرائض کی تقدیم انہیں موخر کرنے سے افضل ہے مثلاً رمضان کے روزوں کی ادائیگی ، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی اور اسی طرح دوسرے تمام فرائض کی ادائیگی اس لیے کہ ان تمام امور کا شمار خیرات یعنی نیکیوں میں ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ درج بالا وضاحت سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ نماز کی اول وقت میں ادائیگی اسے تاخیر کر کے ادا کرنے سے افضل ہے اس لیے کہ یہ اول وقت میں ادا کی جانے والی نیکیوں میں شامل ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ نماز اول وقت میں ادا کی جانے والی نیکیوں میں شامل ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ نماز اول وقت میں ادا کی جانے والی نیکیوں میں سے نہیں ہیے آیت وجوب کی مقتضی ہے اس لیے اس کا اطلاق ان صورتوں پر ہوگا جو واجب اور لازم ہوچکی ہوں ۔ اس میں یہ دلیل بھی موجود کہ سفر میں روزہ رکھنا نہ رکھنے سے افضل ہے ا س لیے کہ روزہ رکھنا خیرات یعنی نیکیوں میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ نے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے۔
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔

قول باری وان احکم بینھم بما انزل اللہ اور یہ کہ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو اس مقام پر تکرار کے طور پر نہیں وارد ہوا ہے۔ اس میں ما قبل آیت کا تکرار نہیں ہے اس لیے یہ آیت اور ما قبل کی آیت دونوں کا نزول دو مختلف پس منظر میں ہوا ہے۔ پہلی آیت کا نزول رجم کے سلسلے میں ہوا ہے اور دوسری آیت کا نزول دیتوں میں یکسانیت کے سلسلے میں ہوا ہے جب بنو نضیر اور بنو قریظہ اس بارے میں اپنے تنازعہ کا فیصلہ کرانے کے لیے حضور ﷺ کے پاس آئے تھے۔ قول باری ہے واحد رھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر بھی منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف ناز ل کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ حضور ﷺ کو فتنہ میں ڈال کر اللہ کے نازل کردہ قانون سے ہٹا کر ان احکام کی طرف لے جانا چاہتے تھے جو ان کی خواہشات کے عین مطابق تھے۔ فتنہ میں ڈالنے کی صورت یہ تھی کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے سامنے اسلام میں داخل ہونے کی اپنی رغبت کا اظہار کرتے اور اس طریقے سے آپ سے من مانے فیصلے کرانے کی کوشش کرتے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد تورات کے احکام کے متعلق کذب بیانی ہے جبکہ ان احکام کا تعلق تورات کے ساتھ سرے سے نہیں تھا۔ اس طرح کذب بیانی کرکے وہ لوگ حضور ﷺ کو راہ ہدایت سے ہٹانے کی کوشش کرتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ حقیقت واضح کردی۔ قول باری ہے فان تولوا فاعلم انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم پھر اگر یہ اس سے منہ موڑ لیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے۔ یہاں بعض کا ذکر کر کے جمیع یعنی سارا مراد لیا گیا ہے جس طرح عموم کا لفظ ذکر کر کے اس سے خصوص مرادلیا جاتا ہے یا جس طرح فرمایا یایھا النبی اے نبی ؐ! اور اس سے تمام اہل اسلام مراد لیے گئے اس کی دلیل ہے کہ آیت کا اگلا لفظ اذا طلقتم النساء جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دو ۔ اس سے مراد انہیں یہ بتانا ہے کہ اپنے بعض گناہوں کی بنا پر وہ جس سزا کے مستحق ہوگئے ہیں وہ بڑی سخت ہوگی اور ان کی ہلاکت کا باعث بنے گی اور ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی سرکشی اور نافرمانی کی بنا پر فوری طور پر انہیں بعض عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا ۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ سزا ہے جو بنی نضیر کی جلا وطنی اور بنو قریظہ کے قتل کی صورت میں انہیں دی گئی ۔
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم کے خواہشمند ہیں ؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے ؟

قول باری ہے افحکم الجاھلیۃ یبغون تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اس کی دو طرح تفسیر کی گئی ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس میں یہود کو خطاب ہے اس لیے کہ ان کا طریق کار یہ تھا کہ جب کمزوروں پر کوئی فیصلہ واجب ہوتا تو اسے نافذکر دیتے اور جب امیروں پر کسی فیصلے کا اطلاق ہوتا تو اسے نافذ کرنے سے پہلوتہی کرلیتے۔ آیت میں ان سے یہ کہا گیا کہ تم اہل کتاب ہونے کے باوجود بت پرستوں کا فیصلہ چاہتے ہو ایک قول ہے کہ اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو اللہ کے فیصلے سے نکل کر جاہلیت کے فیصلے کا خواہش مند ہوتا ہے اور یہ بات اس کے ان اقدامات پر مشتمل ہوگی جو وہ جہالت اور بے علمی کے طور پر اٹھاتا ہے۔ قول باری ہے من احسن من اللہ حکما ً لقوم یوقنون حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ آیت میں یہ بتایا گیا کہ اللہ کے فیصلے حق و انصاف پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں جانبداری نہیں ہوتی۔ یہ بھی کہنا درست ہے کہ ایک فیصلہ بہ نسبت دوسرے فیصلے کے افضل اور احسن ہوتا ہے جس طرح کسی کو منصوص طریقے سے دو فیصلوں کے درمیان اختیار دے دیا جائے اور یہ معلوم ہو کہ ان میں سے ایک فیصلہ دوسرے سے افضل ہے تو جو افضل ہوگا وہ احسن ہوگا ۔ اسی طرح ایک مجتہد کبھی ایسا حکم لگاتا ہے جس کی یہ نسبت دوسرا حکم اولیٰ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یا تو مجتہد میں کوتاہ نظری ہوتی ہے یا وہ ایسے شخص کی تقلید کرلیتا ہے جس سے خود اس حکم میں کوتاہی سر زد ہوچکی ہو۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے انکو دوست بنائیگا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

یہودونصاریٰ سے دوستی کی ممانعت قول باری ہے یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصاری اولیاء بعضھم اولیاء بعض اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول ابو لبابہ بن عبد المنذر کے بارے میں ہوا ہے ، یہ بنو قریظہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے خیر خواہی کا اظہار کرتے ہوئے گلے پر ہاتھ رکھ کر انہیں اشارے سے اطلاع دے دی کہ ان کے متعلق ذبح یعنی قتل کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ سدی کا قول ہے کہ جب جنگ احد کے بعد کافروں کے عارضی غلبے کی بنا پر کچھ لوگوں پر خوف طاری ہوگیا اور وہ مشرکین سے ڈر گئے یہاں تک کہ ایک شخص کے منہ سے یہ نکلا میں یہودیوں کے ساتھ سوالات یعنی دوستی کا معاہدہ کرلوں گا ۔ ایک اور کی زبان سے یہ نکلا ۔ میں یہودیوں کے ساتھ سوالات یعنی دوستی کا معاہدہ کرلوں گا ۔ ایک اور کی زبان سے یہ نکلا ۔ میں عیسائیوں کے ساتھ دوستی گانٹھ لوں گا ۔ تو اس موقع پر مسلمانوں کی تنبیہ کی خاطر اس آیت کا نزول ہوا ۔ عطیہ بن سعد کا قول ہے کہ آیت کا نزول حضرت عبادہ بن الصامت ؓ اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں ہوا ۔ حضرت عبادہ ؓ تو یہودیوں کی موالات سے دست بردار ہوگئے۔ لیکن عبد اللہ بن ابی اس پر ڈٹا رہا اور کہتا تھا مجھے زمانے کی گردشوں کا خطرہ ہے۔ ولی مدد گار کو کہتے ہیں ۔ اس لیے کہ وہ اپنے رفیق کے ساتھ اس کی مدد کے ذریعے رابطہ رکھتا ہے ۔ نابالغ کے سرپرست کو بھی ولی کہتے ہیں اس لیے کہ وہ اس نابالغ کی طرف سے احتیاط اور ہوشمندی کے ساتھ تمام تصرفات کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ عورت کے ولی اس کے عصبات ہوتے ہیں اس لیے کہ یہی رشتہ دار اس کے نکاح کے انتظام و انصرام کے نگران اور ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس آیت میں دلالت موجود ہے کہ کافر کسی طرح بھی مسلمان کا ولی نہیں بن سکتا نہ تو تصرفات کے لحاظ سے اور نہ ہی مدد اور نصرت کے لحا ظ سے بلکہ آیت کافروں کے سے برأت اور دست برداری نیز ان کے لیے عداوات رکھنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے ۔ اس لیے کہ دلالت عداوت کی ضد ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہودیوں اور عیسائیوں کے کفر کی بنا پر ان سے دوستی نہ کرنے یعنی دشمنی رکھنے کا حکم دیا تو دوسرے کفار بھی انہی کی طرح ہوں گے، نیز آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے کہ قول باری ہے بعضھم اولیاء بعض ۔ نیز اس امر پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ ایک یہودی کو ان حالتوں میں ایک نصرانی پر ولایت کا استحقاق ہوتا ہے جن میں اس کی ولایت اور سرپرستی میں کسی یہودی کے ہونے کی صورت میں اسے یہ حق حاصل ہوجاتا ، مثلاً یہ کہ وہ نصرانی نابالغ یا دیوانہ نہ ہو ۔ نکاح کے سلسلے میں یہودی اور نصرانی کے درمیان ولایت کا حکم بھی اسی طرح ہے۔ چونکہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ لوگ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق اور ولی ہیں ۔ اس لیے ان کے درمیان تورات کے ایجاب پر دلالت ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں ہم نے یہ بیان کردیا ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے خواہ ان کے مذاہب اور راستے ایک دوسرے سے مختلف کیوں نہ ہوں ۔ ان کی آپس میں شادی بیاہ کے جواز پر بھی دلالت ہو رہی ہے ۔ ایک عیسائی مرد ایک یہودی عورت سے اور ایک یہودی مرد ایک عیسائی عورت سے نکاح کرسکتا ہے۔ ہماری یہ بات ان احکام سے تعلق رکھتی ہے جو ان کے درمیان جاری اور ناقد ہوتے ہیں لیکن ان کے اور مسلمانوں کے درمیان اس بات کا جہاں تک تعلق ہے تو شادی بیاہ اور ذبیحہ کی حلت کے جو از کے لحاظ سے کتابی اور غیر کتابی کے حکم میں فرق ہوتا ہے۔ قول باری ہے ومن یتولھم منکم فانہ منھم اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اسکا شمار بھی پھر انہی میں سے ہے یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے ہاتھ کے ذبح کیے ہوئے جانوروں کے گوشت کی حلت اور ان کی عورتوں سے نکاح کے جواز کے لحاظ سے بنی تغلب کے نصاری کا حکم وہی ہے جو بنی اسرائیل کے نصاریٰ ا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن سے یہی مروی ہے۔ قول باری منکم سے مشرکین عرب مراد لینا درست ہے اس لیے کہ اگر اس سے مسلمان مراد لیے جاتے تو وہ کفار سے دوستی کی بنا پر مرتد ہوجاتے جبکہ یہودیت اور نصرانیت کی طرف ارتداد اختیار کرنے والا شخص ان کے کسی بھی حکم کے لحاظ سے ان میں سے نہیں ہوتا ۔ آپ نہیں دیکھتے تھے کہ ایسے شخص کا ذبیحہ نہیں کھایا جاتا اور اگر عورت ہو تو اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوتا، نہ وہ ان کا وارث ہوتا ہے اور نہ ہی وہ لوگ اس کے وارث ہوتے ہیں ۔ اس شخص کے اور ان لوگوں کے مابین ولایت کے حقوق میں سے کوئی بھی حق ثابت نہیں ہوتا ۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ قول باری ومن یتولھم منکم فانہ منھم اس پر دلالت کرتا ہے کہ ایک مسلمان ایک مرتد کا وارث نہیں ہوسکتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مرتد ان لوگوں میں سے ہے جو یہود و نصاریٰ سے دوستی گانٹھتے ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ ایک مسلمان کسی یہودی یا نصرانی کا وارث نہیں ہوتا اسی طرح وہ مرتد کا بھی وارث نہیں ہو سکات ۔ ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ جس بات کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اس پر اس قول باری کی کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہودیت کی طرف ارتداد اختیار کرنے والا یہودی نہیں بنتا ۔ اسی طرح نصرانیت کی طرف ارتداد اختیار کرنے والا نصرانی نہیں بنتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ایسے شخص کا ذبیحہ حلال نہیں ہوتا اور عورت ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوتا نیز یہ کہ ایسا شخص نہ کسی یہودی کا وارث ہوتا ہے اور نہ یہودی اس کا وارث بنتا ہے ۔ جس طرح یہ قول باری اس شخص کے اوپر ایک یہودی یا نصرانی کے درمیان تورات کے ایجاب پر دلالت نہیں کرتا اسی طرح یہ اس پر بھی دلالت نہیں کرتا کہ مسلمان اس کا وارث نہیں بن سکتا ۔ اس قول باری کو دو باتوں میں سے ایک پر محمول کیا جائے گا ۔ اگر اس میں کفار عرب کو خطاب ہے تو اس کی اس امر پر دلالت ہوگی کہ عرب کے بت پرست اگر یہودی یا عیسائی بن جائیں تو ان سے مناکحت اور ان کے ہاتھ سے ذبح ہونے والے جانوروں کے گوشت کی حلت کے جواز نیز جزیہ لے کر انہیں کفر پر برقرار رکھنے کے لحاظ سے ان کا حکم بھی وہی ہوگا جو یہود و نصاریٰ کا حکم ہے۔ اگر آیت میں مسلمانوں کو خطاب ہے تو پھر اس صورت میں آیت کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ ایسا شخص ان یہودیوں اور نصرانیوں سے موالات کی بنا پر ان جیسا کافر ہے۔ اس لیے میراث کے حکم پر اس قول باری میں کوئی دلالت نہیں ہوگی ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ جب خطاب کی ابتدا مسلمانوں سے ہوئی ہے جیسا کہ قول یایھا الذین امنوا لا تتخذوالیھود والنصاری اولیاء سے ظاہر ہے تو اب یہ احتمال باقی نہیں رہتا ہے کہ قول باری ومن یتولھم منکم فانہ منھم سے مشرکین عرب مراد لیے جائیں ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جب آیت کی ابتدا میں جو لوگ مخاطب بنائے گئے تھے وہ اس وقت کے اہل عرب تھے تو یہ جائز ہے کہ قول باری ومن یتولھم منکم سے عرب کے لوگ مراد ہوں ۔ پھر آیت سے یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ عرب کے مشرکین جب مذہب کے ذریعے اور ملت کی طرف انتساب کے واسطے سے یہود و نصاریٰ کے ساتھ سوالات کرلیں گے تو وہ بھی ان کے حکم میں ہوجائیں گے خواہ وہ ان کے دین کے تمام احکام کی پیروی نہ بھی کریں ۔ بعض لوگ تو اس بات کے بھی قائل ہیں کہ ملت اسلام سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اگر کسی ایسے مذہب کا معتقد ہوجائے جس کے پیروکاروں کی کفر کی طرف نسبتواجب قرار پاتی ہو تو اس شخص پر کفر کی طرف نسبت کا حکم اس کا ذبیحہ کھانے اور اس قسم کی عورت سے نکاح کرنے میں مانع نہیں ہوگا ۔ بشرطیکہ ایسے لوگ ملت اسلام کی طرف اپنا انتساب کرتے ہوں۔ خواہ فاسد مذہب پر اعتقاد کی وجہ سے یہ عقیدے کے لحاظ سے کافر ہی کیوں نہ قرار پائیں ، اس جواز کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ فی الجملہ اہل اسلام کے ساتھ موالات کرتے اور قرآن کے حکم کی طرف اپنا انتساب رکھتے ہیں۔ جس طرح ایک شخص جب یہودیت یا نصرانیت اختیار کرلیتا ہے تو اس کا حکم وہی ہوتا ہے جو یہودیوں اور نصرانیوں کا ہے خواہ ایسا شخص ان کی شریعتوں کی پوری پابندی نہ بھی کرتا ہو ۔ اس جواز کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ومن یتولھم منکم فانہ منھم ابو الحسن کرخی بھی اس مسلک کے حامیوں میں سے تھے۔
Ayahs 5:52–54

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم انکو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سو قریب ہے کہ خدا فرح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور (اس وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے عمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑگئے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کردے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔

قول باری ہے یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اے ایمان لانے والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے تو پھر جائے اللہ اور بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا ۔ حسن، قتاد ہ، ضحاک اور ابن جریج کا قول ہے آیت کا نزول حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور آپ کے مرتدین کی سرکوبی کرنے والوں کے بارے میں ہوا ۔ سدی کا قول ہے کہ آیت حضرات انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ اہل یمن کے متعلق ہے۔ شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے عیاض الاشعری سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ کی طرف کسی چیز کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ھم قوم ھذا وہ لوگ اس شخص کی قوم ہیں۔ اس آیت میں خلفائے راشدین کی دلالت موجود ہے آیت میں حضرات خلفائے راشدین ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کی خلافت و امامت کی صحت پر دلالت موجود ہے وہ اس طرح کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد عرب کے جو لوگ مرتد ہوگئے تھے ان کے خلاف حضرت ابوبکر ؓ اور مذکورہ بالا حضرات نبرد آزما ہوئے تھے ان کے متعلق اللہ نے خبر دی کہ اللہ کو محبوب ہے اور یہ اللہ کو محبوب ہیں نیز یہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہیں کھاتے اور نہ ہی اس کی پروا کرتے ہیں ۔ یہ بات تو واضح ہے کہ جس شخص کی یہ صفات ہوں وہ اللہ کا دوست ہوگا ۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد مرتدین کے خلاف صف آراء ہونے والوں میں یہ حضرات اور ان کے رفقاء تھے۔ کسی کے لیے یہ گنجائش نہیں ہے آیت کو ان عربوں پر محمول کرے جو حضور ﷺ کی وفات کے بعد مرتد نہیں ہوئے تھے، نہ ہی یہ گنجائش ہے کہ ان ائمہ کے سوا کسی اور کو آیت کا مصداق ٹھہرایا جائے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکور مرتدین سے نبردآزما ہونے کے لیے ان لوگوں کے سوا اور کوئی قوم پیدا نہیں کی جنہوں نے حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ مل کر ان کا مقابلہ کیا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ کی امامت کی صحت کی دلالت کرنے میں زیر بحث قول باری کی نظر یہ قول باری ہے قل للمخلفین من الاعذاب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونھم او یسلمون فان تطیعوا یوتکم اللہ اجراً حسنا ً آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں کی طرف بلائے جائو گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے یا تو ان سے لڑتے رہو یا وہ مطیع اسلام ہوجائیں ۔ سو اگر تم اس وقت اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں نیک عوض دے گا اس لیے کہ حضرت ابوبکر ؓ مرتدین سے قتال کی دعوت دینے والے تھے اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر آپ کی اطاعت کے وجوب کی خبر دی ۔ چناچہ ارشاد ہوا فان تطیعوا یوتکم اللہ اجرا ً حسنا ً نیز فرمایا وان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذ بکم عذابا ً الیما ً اور اگر روگردانی کرو گے جیسا کہ اس سے قبل روگردانی کرچکے ہو تو وہ تمہیں درد ناک عذب کی سزا دے گا ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ عین ممکن ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں اس کی دعوت دی ہو تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ارشاد باری ہے قل لن تخرجوا معی ابدا ً ولن تقاتلوا معی عدوا ۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہیں نکلو گے اور کبھی بھی میرے ساتھ مل کر کسی دشمن کا مقابلہ نہیں کرو گے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے ساتھ کبھی نہیں نکلیں گے اور نہ ہی کسی دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے لوگوں کو مرتدین کیخلاف قتال کی دعوت دی ہو تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر آیت کی دلیل کی بنا پر حضرت عمر ؓ کی امامت درست ہوگئی اور جب حضرت عمر ؓ کی امامت درست ہوگئی تو حضرت ابوبکر ؓ کی امامت بھی درست ہوگی اس لیے کہ حضرت عمر ؓ کو خلیفہ مقرر کرنے والے حضرت ابوبکر ؓ ہی تھے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے لوگوں کو مرتدین کے خلاف صف آراء ہونے کی دعوت دی ہو تو اس کے جواب میں کہا جائے گا ارشاد باری ہے تقاتلوا نھم او یسلمون حضرت علی ؓ نے باغیوں سے جنگ کی تھی اور اہل کتاب سے اس بنیاد پر قتال کیا تھا کہ وہ یا تو مسلمان ہوجائیں یا پھر جزیہ دینے پر رضا مند ہوجائیں ۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ؓ کے سوا کسی نے اس بنیاد پر جنگ نہیں کی تھی کہ یہ لوگ مسلمان ہوجائیں اس لیے آیت آپ کی امامت کی صحت پر دلالت کر رہی ہے۔
Ayahs 5:55–56

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانیوالی ہے۔

نماز میں عمل قلیل کا بیان قول باری ہے انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوٰۃ ویوتون الزکوۃ وھو راکعون تمہارا رفیق تو اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ ادا کرتے اور رکوع کرتے ہیں۔ مجاہد ، سدی ، ابوجعفر اور عتبہ بن ابی الحکم سے مروی ہے کہ آیت کا نزول حضرت علی ؓ کے بارے میں ہوا۔ جب آپ نے رکوع کی حالت میں اپنی انگوٹھی خیرات کردی تھی ۔ حسن سے مروی ہے کہ یہ آیت تمام مسلمانوں کی توصیف میں نازل ہوئی ہے اس لیے کہ قول باری الذین یقیمون الصلوٰۃ ویوتون الزکوۃ وھم راکعون پوری جماعت کی صفت میں ہے فرد واحد کی صفت میں نہیں ہے۔ قول باری وھم راکعون کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے ایک قول یہ ہے کہ یہ حضرات آیت کے نزول کے وقت رکوع کی حالت میں تھے، ان میں سے کچھ نے اپنی نماز مکمل کرلی تھی اور کچھ رکوع کی حالت میں تھے۔ دور سے حضرات کا قول ہے کہ اس فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ رکوع کرنا ان سب حضرات یعنی صحابہ کرام کی حالت اور کیفیت تھی ، نماز کے ارکان میں سے صرف رکوع کا ذکر ہوا تا کہ رکوع کے شرف اور عظمت کا اظہار ہوجائے ۔ کچھ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ نوافل ادا کرتے ہیں جس طرح کہا جاتا ہے فلان یرکح فلاں شخص رکوع کرتا یعنی نوافل ادا کرتا ہے۔ اگر رکوع کی حالت میں صدقہ کردینا مراد ہے تو پھر اس امر پر اس کی دلالت ہوگی کہ نماز میں عمل قلیل کی اباحت ہے ۔ حضور ﷺ سے بھی نماز کے اندر عمل قلیل کی اباحت کی روایات منقول ہیں ایک روایت ہے کہ آپ نے نماز کے اندر اپنے جوتے اتار دیئے تھے ایک میں ہے کہ آپ نے اپنی داڑھی پر دست مبارک پھیرا تھا نیز نماز کی حالت میں ہاتھ سے اشارہ بھی کیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ وہ حضور ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہوگئے تھے آپ نے انہیں پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ ایک روایت کے مطابق حضور ﷺ نے ابو العاص بن الربیع کی چھوٹی بچی امامہ کو اٹھائے ہوئے نماز کی ، جب آپ سجدے میں جاتے تو اسے زمین پر بٹھا دیتے اور پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو بچی کو پھر اٹھا لیتے۔ نماز کے اندر صدقہ کرنے کی اباحت پر آیت کی دلالت ظاہر ہے۔ اس لیے کہ اگر رکوع مراد ہے تو آیت کے مفہوم کی ترتیب کچھ یوں ہوگی ۔ وہ لوگ جو رکوع کی حالت میں صدقہ کرتے ہیں اس سے حالت رکوع میں صدقہ کرنے کی اباحت پر دلالت ہوجائے گی۔ اگر قول باری وھم راکعون سے وھم یصلون مراد ہو یعنی نماز پڑھنے کی حالت میں تو پھر پوری نماز کے اندر صدقہ کرنے کی اباحت پر دلالت ہوجائے گی ۔ جو بھی معنی مراد لیے جائیں ۔ آیت بہر حال نماز کے اندر صدقہ کرنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ آیت سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ صدقہ بھی کرتے اور نماز بھی پڑھتے ہیں ۔ یہاں نماز کے اندر صدقہ کا عمل مراد نہیں ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ایک ساقط تاویل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قول باری وھم راکعون کے ذریعے اس حالت کی خبر دی گئی ہے جس میں صدقہ کا فعل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں تکلم فلان وھم قائعد اعطی فلانا وھو قاعد فلاں شخص نے حالت قیام میں گفتگو کی یا فلاں نے فلاں شخص کو اس وقت کچھ دیا جبکہ ہو بیٹھا ہوا تھا ان دونوں فقروں میں فعل کے وقوع پذیر ہونے کی حالت کو بیان کیا گیا ہے نیز اگر معترض کی تاویل درست مان لی جائے تو اس سے تکرار لازم آ ئے گی اس لیے کہ خطاب کی ابتداء میں نماز کا ذکر ان الفاظ میں گزر چکا ہے الذین یقیمون الصلوٰۃ پھر اس صورت میں کلام کی ترتیب یوں ہوگی وہ لوگ جو نماز قائم کرتے اور نماز پڑھتے ہیں ۔ اللہ کے کلام میں اس قسم کی ترکیب کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے ہماری بات ثابت ہوگئی کہ آیت میں رکوع کے اندر یا نماز کے اندر صدقہ کرنے کے عمل کی تعریف کی گئی ہے۔ قول باری یوتون الزکوۃ وھو راکعون اس پر دلالت کرتا ہے کہ نفلی صدقے کو بھی زکوٰۃ کا نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی ؓ نے نماز کے اندر اپنی انگوٹھی نفلی صدقے میں دی تھی ۔ یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے وما اتیتم من زکوٰۃ شدیدون وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون اور جو کچھ تم زکوٰۃ یعنی صدقہ میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے دو گے تو یہی لوگ وہ ہیں جو اپنے اجر کو کئی گناہ بڑھانے والے ہیں ۔ اس لیے لفظ زکوٰۃ ، فرض زکوۃ اور صدقہ دونوں کو شامل ہے۔ اس طرح زکوٰۃ کا اسم فرض اور نفل دونوں صورتوں کو اسی طرح شامل ہے جس طرح صدقہ کا اسم دونوں کو شامل ہے یا جس طرح صلوٰۃ کا اسم فرض اور نفل دونوں نمازوں کو شامل ہے۔
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھی ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔

قول باری ہے یا یھا الذین امنوا لاتتخذو الذین اتخذوادینکم ھزوا والعبا ًمن الذین اوتوا الکتاب من قبلکم والکفار اولیاء اے ایمان لانے والو ! تمہارے پیش رو اہل کتاب میں جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے، انہیں اور دور سے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائو۔ آیت میں کافروں سے مدد لینے کی نہی ہے اس لیے اولیاء یعنی دوست اور رفیق وہ لوگ ہوتے ہیں جو مدد کرتے ہیں حضور ﷺ سے مروی ہے کہ جب آپ نے احد کے معرکے پر نکلنے کا ارادہ کا ارادہ کیا تو یہودیوں کا ایکگروہ آ کر کہنے لگا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ جائیں گے ۔ آپ نے انہیں جو اب دیتے ہوئے فرمایا :” ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے “ حضور ﷺ کے ساتھ منافقین کی ایک بڑی تعداد مشرکین سے نبردآزما ہوتی تھی۔ ہمیں عبد الباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے ، انہیں ابو مسلم نے ، انہیں حجاج نے ، انہیں حماد نے محمد بن اسحاق سے ، انہوں نے زہری سے کہ کچھ یہودیوں نے حضور ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا آپ نے مال غنیمت میں سے مسلمانوں کے حصوں کی طرح انہیں بھی حصہ دیا تھا۔ حضور ﷺ سے یہ بھی ایک روایت ہے جو ہمیں محمد بن بکر نے سنائی ہے۔ انہیں ابو دائود نے ، انہیں مسدو اور یحییٰ بن معین نے ، انہیں یحییٰ نے مالک سے ، انہوں نے فضل سے ، انہوں نے عبد اللہ بن نیار سے ، انہوں نے عرو ہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے یحییٰ بن معین کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ایک کافر حضور ﷺ کے پاس آگیا اور کہنے لگا کہ میں بھی آپ کے ساتھ مل کر دشمنوں کا مقابلہ کروں گا ۔ آپ نے اسے واپس جانے کا کہہ دیا ۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ میں مسدد اور یحییٰ بن معین دونوں کا اتفاق ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا انا لا نستعین بمشرک ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ مشرکین کے مقابلے کے لیے مشرکین سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ کامیابی کے بعد اسلام کو غلبہ حاصل ہوجائے لیکن اگر صورت حال یہ ہو کہ فتحیابی کے بعد شرک کو غلبہ حاصل ہونے کا امکان ہو تو پھر مسلمانوں کو ان کے ساتھ مل کر قتال نہیں کرنا چاہیے ۔ اصحاب سیر و مغازی نے کثرت سے یہ بات نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ بعض اوقات یہودیوں کا کوئی نہ کوئی گروہ جنگ پر جایا کرتا تھا اور بعض اوقات مشرکین کا گروہ بھی آپ کے ساتھ ہوتا تھا۔ رہ گئی وہ حدیث جس میں آپ نے فرمایا ہے انا لا نستعین بمشرک یعنی ہم ایسے مشرک سے مد د نہیں لیتے جس کی اس جیسی کیفیت ہو ۔ قول باری ہے لو لا ینھاھم الربا نیون والا حبار عن قولھم الاتم و اکلھم الحست کیوں ان کے علماء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے۔ ایک قول ہے کہ یہاں لولا کا لفظ ھلا کے معنوں میں ہے یہ ماضی اور مستقبل دونوں صیغوں پر داخل ہوتا ہے۔ اگر یہ مستقبل کے لیے ہو تو پھر امر کے معنوں میں ہوتا ہے جس طرح یہ قول ہے۔ الم لا تفعل تم ایسا کیوں نہیں کرتے ؟ یعنی ایسا کرلو اس مقام پر یہ لفظ مستقبل کے لیے ہے۔ یعنی ھلا ینھاھم اور لم لا ینھاھم کے معنوں میں ہے۔ اگر یہ لفظ ماضی کے لیے ہو تو اس سے بیخ مراد ہوتی ہے یعنی پھر یہ جھڑکنے اور دھمکانے کے معنی ادا کرتا ہے۔ مثلاً یہ قول باری ہے لولا جاء کم علیہ باربعۃ شھدا انہوں نے اپنی اس بات پرچار گواہ کیوں نہیں پیش کیے۔ نیز فرمایا لو لا اذا سمعتموہ فلن المومنون والمومنات بانفسھم خیراً ، جب تم نے یہ بات سنی تو کیوں نہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں کے حق میں نیک گمان کیا ۔ ربانیکے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو رب کے دین کا عالم ہو اس کی نسبت رب کی طرف کردی جاتی ہے جس طرح روحانی میں روح کی طرف نسبت ہے اور بحرانی میں بحر یعنی سمندر کی طرف نسبت ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اہل انجیل کے علماء کو ربانیون اور اہل تورات کے علماء کو احبار کہا جاتا ہے۔ حسن کے علاوہ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ سب یہود کے بارے میں ہے اس لیے کہ یہ ان یہود کے ذکر کے ساتھ متصل ہے۔ ہمیں ثعلب کے غلام ابو عمر نے ثعلب سے بیان کیا ہے کہ ربانی اس عالم کو کہتے ہیں جو عامل بھی ہو ۔ آیت اس بات کی مقتضی ہے کہ منکر یعنی غلط بات کی تردید واجب ہے، اس سے روکنا اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ آیت میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو ایسا نہیں کرتے۔