5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 5:58–63

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ تم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانیوالے کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سُؤر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانا ہے۔ اور وہ سیدھے راستے سے بہت دور ہیں۔

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں۔ اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا انکو خوب جانتا ہے

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں۔ بیشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے ؟ بلا شبہ وہ بھی برا کرتے ہیں۔

اذان کا بیان قول باری ہے واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذو ھا ھزوا وکعب اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کے لیے اذان دی جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلایاجائے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے اذا نو دی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعور الی ذکر اللہ وذروا البیع جب جمعہ کے دن نمازجمعہ کے لیے ندا دی جائے تو اللہ کی یاد کی طرف ڈور پڑو اور خرید چھوڑ دو ۔ عمرو بن مرہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگ نماز کے لیے ایک وقت پر اکٹھے ہوجاتے جس کا سب کو علم ہوتا ۔ لوگ ایک دوسرے کو اس کی آمد سے آگاہ کرے حتیٰ کہ ناقوس بجایا یا شایدناقوس بجانے کی تیاری ہوچکی تھی کہ حضرت عبد اللہ زید ؓ انصاری نے آ کر اذان کا ذکر کیا ۔ یہ سن حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ رات مجھے بھی کوئی اذان سکھا گیا تھا جس طرح اس نے انہیں یعنی حضرت عبد اللہ ؓ کو اذان سکھائی تھی لیکن عبد اللہ اس بات کے ذکر میں مجھ سے سبقت لے گئے ۔ زہری نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے مسلمانوں کو نماز کے لیے اکٹھا کرنے کے طریقے کے بارے میں مشورہ کیا تھا، لوگوں نے ناقوس بجانے کی تجویز پیش کی حضور ﷺ نے اس تجویز کو اس لیے ناپسند فرمایا کہ یہودی بھی نا قوس بجایا کرتے تھے۔ اس روایت میں حضرت عبد اللہ بن زید ؓ انصاری کے واقعے کا ذکر ہے نیز یہ کہ حضرت عمر ؓ نے بھی اس جیسا خواب دیکھا تھا اس طرح ہجرت سے پہلے اذان مسنون نہ ہونے کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہجرت کے بعد اذان مسنون ہوئی تھی۔ امام ابویوسف نے محمد بن بشرہمدانی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن علی سے اذان کے متعلق دریافت کیا اور یہ پوچھا کہ اس کی ابتداء کیسے ہوئی تھی اور اس نے موجودہ صورت کیسے اختیار کی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اذان کا معاملہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ حضور ﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے تو تمام انبیاء اکٹھے ہوگئے ، پھر آسمان سے ایک فرشتہ اترا جو اس سے پہلے کبھی نہیں اترا تھا اس نے اس طریقے سے اذان دی جس طرح تم دیتے ہو اس نے تمہاری طرح اقامت بھی کہی پھر حضور ﷺ نے انبیاء کرام کو نماز پڑھائی۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ معراج کا واقعہ حضور ﷺ کی مکی زندگی میں پیش آیا تھا جبکہ آپ نے صحابہ میں اذان کے بغیر نماز پڑھی تھی اور صحابہ کرام سے لوگوں کو نماز کے لیے اکٹھا کرنے کے طریقے کے متعلق مشورہ لیا تھا ۔ اگر اذان کی ابتداء ہجرت سے پہلے ہوتی تو آپ کو صحابہ کرام سے مشورہ لینے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ دوسری طرف حضرت معاذ ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ نے اذان کی ابتداء کے متعلق جو کچھ بیان کیا تھا اس کا ہم نے درج بالا سطور میں ذکر کردیا ہے۔ اذان ہر فرض نماز کے لیے مسنون ہے خواہ کوئی شخص یہ فرض نماز تنہا ادا کر رہا ہو یا جماعت کے ساتھ تا ہم ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ مقیم شخص اگر تنہاء نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے اذان کہے بغیر نماز جائز ہے اس لیے کہ مسجدوں میں ہونے والی اذانیں اس شخص کو نماز کی طرف بلانے کے لیے کافی ہوں گی اس لیے وہ ان پر اکتفا کر کے اذا ن دیئے بغیر نماز پڑھ لے گا ۔ مسافر شخص اذان اور اقامت دونوں کہے گا ، لیکن اگر صرف اقامت پر اکتفا کرے گا تو یہ بھی جائز ہوگا ۔ البتہ اذان و اقامت کے بغیر اس کا نماز پڑھ لینا مکروہ ہوگا اس لیے اس مقام پر کوئی اور اذان تو ہوگی نہیں جو اسے نماز کی طرف بلانے کا ذریعہ بن جائے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا من صلی فی ارض باذان واقامۃ صلی خلفہ صف من الملائکہ کی ایک پوری صف نماز ادا کرتی ہے وہ صف اس قدر طویل ہوتی ہے کہ اس کے دونوں کنارے نظر نہیں آتے۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ تنہا نماز پڑھنے والے کے لیے اذان دینا سنت ہے۔ ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا اذا ساقوتمافاذنا واقیما جب تم دونوں سفر کرو تو نماز کے لیے اذان دو اور اقامت کہو ہم نے اذان اور اقامت کی کیفیت اور اس بارے میں فقہاء کے اختلاف رائے پر اس کتاب کے سوا دوسری کسی کتاب میں روشنی ڈالی ہے۔
Ayahs 5:64–66

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے۔ (یعنی اللہ بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو۔ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں) وہ جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اے محمد یہ کتاب جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے انکے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کیلئے ڈال دیا ہے۔ یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں تو خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان سے انکے گناہ محو کریتے اور انکو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے تو (ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اعمال برے ہیں۔

قول باری ہے وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ غلت ایدیھم یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ان یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کی بخل کی طرف نسبت کی ہے اور اس کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے ہیں کہ نعوذ باللہ اس کی عطاء اور بخشش کا منہ بند ہوگیا ۔ جس طرح یہ قول باری ہے ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسط ما کل البسط اور اپنا ہاتھ پانی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلا دو حسن کا قول ہے کہ یہود نے یہ کہا تھا ۔ ہمیں سزا دینے سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ لغت میں لفظ ید کے کئی معنی آتے ہیں ۔ ایک تو معروف ہاتھ ہے جو انسان کے اعضاء و جوارح میں سے ایک ہے۔ یہ لفظ نعمت اور احسان کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ مثلاً آپ یہ کہیں لفلان عندی ید اشکرہ علیھا فلاں کا مجھ پر احسان ہے جس کے لیے میں اسکا شکر گزار ہوں ایک معنی قوت اور طاقت کے بھی ہیں ۔ قول باری اولی الا یدی کی تفسیر کی گئی ہے کہ اس سے مراد اولی القوی قوت و طاقت والے ہیں ۔ ان ہی معنوں میں شاعر کا یہ شاعر ہے بھی ہے۔ تحملت من ذلفاء ما لیس لی بہ ولا للجبال الرسیات ید ان میں نے ذلفاء یعنی چھوٹی اور ہموار ناک والی محبوبہ کی محبت میں اتنی تکلیفیں برداشت کی ہیں کہ مجھ جیسے انسان میں اور نہ مضبوط پہاڑوں میں انہیں اٹھانے کی طاقت ہے۔ ید کے ایک معنی ملکیت اور مالک ہونے کے بھی ہیں ۔ قول باری او الذی بیدہ عقدۃ النکاح وہ شخص جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہو ان ہی معنوں میں ہے یعنی وہ شخص جو نکاح کی گرہ کا مالک ہو۔ ایک معنی کسی فعل کے ساتھ اختصاص کے بھی ہیں جس طرح یہ قول باری ہے خلقت بیدی میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا یعنی میں نے خود اس کی تخلیق کی ۔ ایک معنی تصرف کے بھی ہیں جس طرح آپ کہیں ھذہ الدار فی ید فلان یہ گھر فلاں کے ہاتھ میں ہے یعنی وہ اس گھر میں اپنی رہائش گاہ یا کسی اور رہائش کی اجازت وغیرہدے کر تصرف کرتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کے صیغے کے ساتھ ید کا ذکر فرمایا یعنی بل یذاہ کہا تو اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سے دو نعمتیں مراد ہیں ایک دنیا کی نعمت اور دوسری آخرت کی نعمت دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے دو قوتیں مراد ہیں ایک اجر و ثواب دینے کی قوت اور دوسری سزا اور عذاب دینے کی قوت ۔ یہ دراصل یہود کے اس قول کی تردید ہے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ ہمیں سزا دینے کی قوت نہیں رکھتا ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں تثنیہ کا صیغہ نعمت کی صفت میں مبالغہ کے اظہار کے لیے ہے جس طرح آپ کہتے ہیں ۔ لبیک وسعدیک قول باری غلت ایدیھم سے مراد یہ ہے کہ جہنم میں ان کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ۔ حسن سے یہی تفسیر مروی ہے۔ قول باری ہے کلما او قد و انارا للحرب اطفاھا اللہ جب کبھی یہ جنگ کی آ گ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو ان یہودیوں پر غلبہ حاصل ہوجائے گا جن کا ذکر قول باری وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ میں گزر چکا ہے۔ اس میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت موجود ہے۔ اس لیے کہ آپ نے غیب کی یہ بات بتائی تھی جبکہ یہودیوں کی اس وقت بڑی کثرت تھی اور ان کا طنطنہ اور جاہ و جلال بھی تھا ۔ مدینہ منورہ کے ارد گرد بسنے والے ایسے یہودی بھی تھے جو زمانہ جاہلیت میں ہونے والی جنگوں میں عربوں کا مقابلہ بھی کرچکے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ان مسلمانوں کے غلبہ کی خبر دی ۔ چناچہ اس خبر کے عین مطابق واقعات پیش آئے ۔ حضور ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا اور بنو قریظہ کا صفایا کردیا پھر آپ نے بزور شمشیر خیبر بھی فتح کرلیا اور تمام کے تمام یہودذلیل و خوار ہوکر آپ کے سامنے سپر انداز ہوگئے حتیٰ کہ ان کا ایک گروہ بھی ایسا باقی نہیں رہا جس میں مسلمانوں سے پنجہ آزمائی کی سکت موجود ہو ۔ آیت میں لفظ نار یعنی آگ کا ذکر ہے ۔ یہ دراصل جنگ کی تیاری اور اس کے لیے سازو سامان کی بہم رسانی سے عبارت ہے عربوں کا طریقہ تھا کہ ایسے موقع پر اسم نار کا اطلاق کیا کرتے تھے۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی ان ہی معنوں میں ہے انا بری من کل مسلم ومع مشرک میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرک کے ساتھ ہو ۔ عرض کیا گیا یہ کیوں ؟ تو آپ نے فرمایا لا تراء ی ناراھما ان دونوں کی جلائی ہوئی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے۔ اس سے جنگ مراد ہے یعنی مشرکین کی جنگ شیطان کے لیے اور مسلمانوں کی جنگ اللہ کے لیے ہوتی ہے اس میں مسلمانوں اور کافر اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ ایک قول یہ ہے کہ نار کے اسم سے جنگ مراد لینے کی اصلیت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی بڑا قبیلہ اگر دوسرے قبیلے سے پنجہ آزمائی کا ارادہ کرلیتا تو پہاڑوں کی چوٹیوں اور اونچے مقامات پر آگ روشن کردیتا جسے دیکھ کر قبیلے کے تمام افراد یہ سمجھ جاتے کہ جنگ کی تیاری اور جنگی سازو سامان کی بہم رسانی کا سگنل ہوگیا ہے۔ پھر وہ پوری طرح جنگ کے لیے تیار ہوجاتے۔ اس طرح نار کا اسم ان مواقع پر جنگی تیاری کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور توجیہ بھی بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ جب کچھ قبائل آپس میں اس بات کا معاہدہ کرنا چاہتے کہ وہ دشمن کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مد د کریں گے اور دشمنوں سے قتال کرنے میں پوری سرگرمی دکھائیں گے تو وہ اس مقصد کے لیے ایک بڑا الائو روشن کرتے پھر اس کے قریب اکٹھے ہو کر قسمیں کھاتے اور کہتے کہ کسی نے اس معاہدے کے سلسلے میں اگر غداری کی یا جنگ میں پیٹھ دکھائی تو وہ آگ کے منافع سے محروم ہوجائے ! اعشی کا ایک مصرعہ ہے ؎ واوقدت للحرب نارا ً میں نے جنگ کی آگ بھڑکائی
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچ دو ۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے۔ (یعنی پیغمبری کا فرض ادانہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

قول باری ہے یا یھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک اے پیغمبر ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا وہ لوگوں تک پہنچا دو آیت میں حضور ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے اللہ نے آپکے ذریعے لوگوں کی طرف جو کتاب بھیجی ہے اور جو احکام نازل کیے ہیں آپ انہیں بےکم و کاست لوگوں تک پہنچا دیں اور کسی سے ڈر کر یا کسی کے ساتھ نرمی برتنے کی خاطر کوئی بات چھپا کر نہ رکھیں ۔ اور یہ بتادیا کہ اگر آپ نے ان میں سے کوئی بات لوگوں تک پہنچانے میں کوتاہی کی تو آپ کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوگی جس نے گویا کوئی بات پہنچائی ہی نہیں چناچہ ارشاد باری ہے وان لم تعفل فما بغلت رسالتہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبر ی کا حق ادا نہ کیا ۔ پھر آپ انبیاء کے درجے اور مرتبے کے مستحق نہیں قرار پائیں گے جنہوں نے اللہ کا پیغام اور اس کے احکام لوگوں تک پہنچانے میں دن رات ایک کردیئے تھے نیز اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع بھی دے دی وہ لوگوں کے شر سے آپ کو بچا لے گا ۔ آپ کے دشمن نہ آپ کی جان پر ہاتھ ڈال سکیں گے نہ آپ کو مغلوب کرسکیں گے اور نہ محصور چناچہ ارشاد ہوا واللہ یعصمک من الناس اور تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ نے اللہ کی نازل کردہ تمام باتوں کو لوگوں تک پہنچانے میں کوئی تقیہ نہیں کیا ۔ کوئی بات پوشدہ نہیں رکھی۔ حضور ﷺ نے تقیہ نہیں کیا اس میں روافض اور اہل تشیع کے اس دعوے کے بطلان پر دلالت موجود ہے کہ حضور ﷺ نے خوف کی بنا پر تقیہ کے طور پر لوگوں سیب بعض باتیں چھپالی تھیں اور انہیں لوگوں تک نہیں پہنچایا تھا۔ یہ دعویٰ اس لیے باطل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبلیغ یعنی لوگوں تک اللہ کی نازل کردہ تمام باتیں پہنچانے کا حکم دیا تھا اور آپ کو یہ بتادیا کہ آپ کو تقیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ قول باری واللہ یعصمک من الناس سے ظاہر ہے۔ آیت میں اس بات پر بھی دلالت موجود ہے کہ ایسے تمام احکام جن کی لوگوں کو عام طور پر ضرورت تھی آپ نے انہیں تمام لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔ نیز یہ کہ امت کے لیے ان احکام کا ورد و تواتر کے ساتھ ہونا چاہیے مثلاً مس ذکر یا مس مرأۃ یا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی بنا پر وضو کرنے کا حکم اور اس جیسے دوسرے احکام ۔ اس لیے کہ ان جیسے امور سے لوگوں کے دن رات سابقہ پڑتا تھا۔ اس بنا پر اگر اس قسم کا کوئی حکم تواتر کے ساتھ وارد نہ ہو تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ یا تو اصل کے اعتبار سے یہ حکم ثابت ہی نہیں ہے یا اس کی توجیہ اور اسکے معنی وہ نہیں ہیں جن کا ظاہر حدیث مقتضی ہے ، مثلاً وضو کے معنی ہاتھ دھونے کے لیے جائیں ، حدث لا حق ہونے کی بنا پر وضو کرنے کے نہ لیے جائیں ۔ قول باری واللہ یغصمک من الناس حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ آیت میں غیب کی ان باتوں میں ایک بات خبر دی گئی ہے جو بعد میں پیش آنے والے واقعات کے عین مطابق ثابت ہوئیں اس لیے کہ واقعاتی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ کسی کو آپ کی جان پر ہاتھ ڈالنے ، آپ پر غلبہ پانے یا قید و بند میں ڈالنے کا خدا کی طرف سے موقعہ ہی نہیں دیا گیا ۔ گزند پہنچانے والے وہ دشمنان رسول جنہیں حضور ﷺ تک رسائی نصیب نہ ہوسکی جبکہ ایسے دشمنوں کی کوئی کمی نہیں تھی جو آپ کے خون کے پیاسے تھے ، آپ سے ٹکر لینے کو ہمہ وقت تیار تھے اور ہمیشہ آپ کی تاک میں رہتے تھے مثلاً عامر بن الطفیل اور اربد ، نے مل کر آپ کے خلاف سازش کی لیکن آپ تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے یا جس طرح عمیر بن وہب اور صفوان بن امیہ نے آپ کو دھوکے سے قتل کردینے کا منصوبہ بنایا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس منصوبے کی قبل از وقت اطلاع دے دی ۔ آپ نے عمیر بن وہب کو اس کے منصوبے سے آگاہ کردیا جو اس نے صفوان بن امیہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا ، جبکہ یہ دونوں ابھی آپ سے بہت دور ہجر کے مقام پر تھے۔ اس کے نتیجے میں عمیر مسلمان ہوگئے اور اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی اطلاع اللہ کے سوا اور کسی کی طرف سے نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہی عالم الغیب و الشہادہ ہے۔ اگر آپ کو اللہ کی طرف سے اس بات کی اطلاع نہ دی جاتی تو آپ لوگوں کو ہرگز اس سے آگاہ نہ کرسکتے۔ نہ ہی آپ یہ دعویٰ کرتے کہ دشمن آپ کی جان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے ہیں اور نہ ہیں آپ کو مغلوب کرسکتے ہیں اگر آپ اپنی طرف سے ایسی باتیں کہتے تو آپ کو ہر وقت یہ خطرہ لا حق رہتا کہ کہیں واقعاتی طور پر یہ باتیں غلط ثابت نہ ہوجائیں اور لوگوں کو آپ پر کذب بیانی کی تہمت لگانے کا موقع ہاتھ نہ آ جائے۔ علاوہ ازیں آپ کو اپنی طرف سے ایسی باتیں کہنے کی قطعا ً ضرورت بھی نہیں تھی ۔ ایک اور پہلو سے اس پر نظر ڈال لی جائے وہ یہ کہ اگر آپ کی بتائی ہوئی یہ باتیں اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتیں تو واقعاتی طور پر ان سب کا ظہور میں آ جانا اور آپ کی اطلاع کے عین مطابق ہونانیز کسی ایک واقعہ کا اس نہج سے ہٹ کر وقوع پذیر نہ ہونا ممکن نہ ہوتا ۔ اس لیے کہ آج تک ایسا اتفاق پیش نہیں آیا کہ لوگوں نے اپنی دانائی وزیر کی اور ظن و نخمین نیز علم نجوم، فال اور جفر کی بنیادپر جتنی باتیں کی ہوں وہ سب کی سب واقعاتی طور پر درست بھی ثابت ہوئی ہوں لیکن جب حضور ﷺ کی مستقبل کے بارے میں پیشینگوئیاں ہو بہو درست ثابت ہوگئیں اور ایک بھی پیشینگوئی خلاف واقعہ ثابت نہیں ہوئی تو اس سے میں یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ تمام کی تمام باتیں اللہ کی طرف سے تھیں جسے ماضی کے پیش آمدہ واقعات کا بھی علم ہے اور مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی بھی پہلے سے خبر ہے۔
Ayahs 5:68–74

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور (یہ قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا۔ تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے۔

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لیکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلادیتے اور ایک جماعت کو قتل کردیتے تھے۔

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور یہ خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔ اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسٰی) مسیح خدا ہیں۔ حالانکہ مسیح (یہود سے) یہ کہا کرے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا کی عبادت کرو جو میر ابھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کریگا خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اگر یہ لوگ ایسے اقوال (و عقائد سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔

قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔ اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا اگرچہ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتابیں لی جائیں جو اللہ تعالیٰ نے انبیائے سابقین کے زمانے میں ان کے آبائو اجداد کے لیے نازل کی تھیں ۔ قول باری الستم علی اشی اس مفہوم کا مقتضی ہے کہ تم کسی طرح بھی دین حق پر نہیں ہوسکتے جب تک تم تورات ، انجیل اور قرآن کے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انبیائے سابقین کی شریعتوں کی جو باتیں حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے تک منسوخ نہیں ہوئیں ان کا حکم ثابت اور ان پر عمل پیرا ہونے کی پابندی ہے نیز یہ کہ اب وہ حضور ﷺ کی شریعت کا حصہ ہیں ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اہل کتاب کو ان باتوں پر ثابت قدم رہنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کا حکم نہ دیا جاتا ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ بات تو واضح ہے کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک کے ذریعے انبیائے سابقین کی شریعتوں کے بہت سے احکامات منسوخ کردیئے گئے ۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ آیت زیر بحث کا نزول ان جیسے احکامات کی منسوخی کے بعد ہوا ہو اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کو ان باتوں پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے جو حضور ﷺ کی صفات اور بعثت کے سلسلے میں تورات اور انجیل میں مذکور ہیں۔ نیز انہیں قرآن کی اس دلالت پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے جو اس کتاب کے اعجاز کی نشاندہی کرتی اور حضور ﷺ کی نبوت کی سچائی کی موجب ہے۔ جب آیت میں یہ احتمال پیدا ہوگیا تو پھر ابنیائے متقدمین کی شریعتوں کی بقا پر اس کی دلالت ختم ہوگئی ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ آیت یا تو انبیائے متقدمین کی شریعتوں کے نسخ سے پہلے نازل ہوئی ہے یا ان میں سے بہت سی باتوں کے نسخ کے بعد اس کا نزول ہوا ہے۔ پہلی صورت کے اندر آیت میں ان پر عمل پیرا ہونے کا حکم ہے اور ان کے حکم کی بقاء کی خبر ہے۔ اگر دوسری صورت ہو تو جو باتیں منسوخ نہیں ہوئی ہیں ان کا حکم ثابت اور باقی رہے گا جس طرح ہم عموم کے حکم پر اس وقت تک عمل پیرا رہتے ہیں جب تک تخصیص کی کوئی دلالت قائم نہیں ہوجاتی ہے اس طرح تورات اور انجیل کی وہ باتیں جن کا نسخ کسی طور پر درست نہیں ان پر بھی عمل پیرا ہونا ضروری ہوگا۔ مثلاً حضور ﷺ کی صفات اور آپ کی بعثت سے تعلق رکھنے والی باتیں اسی طرح وہ باتیں جو عقلی طور پر درست ہیں اور انسانی عقول جن کی مقتضی اور موجب ہیں ۔ اس لیے آیت کے اندر بہر صورت انبیائے سابقین کی شریعتوں کے غیر منسوخ شدہ حصوں کے حکم کے بقا پر دلالت موجود ہے ، نیز یہ دلالت بھی موجود ہے کہ اب یہ باتیں حضور ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا جزبن گئی ہیں ۔
Ayahs 5:75–77

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا کے) پیغمبر تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔ اور ان کی والدہ (مریم خدا کی ولی اور) سچّی فرماں بردار تھیں۔ دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم ان لوگوں کے لئے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اخیتار نہیں ؟ اور خدا ہی سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو ' اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔

قول باری ہے ما السیح ابن مریم الا رسول فد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یا کلان الطعام مسیح ابن مریم اسکے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ آیت میں عیسائیوں کے عقیدہ ٔالوہیت مسیح کی تردید کی واضح ترین دلالت موجود ہے۔ اس لیے کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہو تو اسے تمام دوسرے انسانوں کی طرح ایک صانع اور خالق کی ضرورت ہو ، کیونکہ جس ذات کے اندر حدوث کی علامت موجود ہو وہ قدیم نہیں ہوسکتی اور جو شخص خود دوسرے کا محتاج ہو وہ اس طرح قادر نہیں ہوسکتا کہ کوئی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہ رہ سکے۔ قول باری کانا یا کلان الطعام کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ حدوث سے کنایہ ہے اس لیے کہ ہر وہ چیز جو کھانے کی محتاج ہو وہ لا محالہ حدوث کی بھی محتاج ہوگی۔ اگرچہ عادتا ً بات اس طرح ہے تا ہم کھانے اور پینے کا احتیاج اور ان دونوں کے ساتھ پیدا ہونے والی بھوک اور پیاس ظاہراً اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ان چیزوں کا حاجت مند حادث ہے نیز حدوث کی یہ صورتیں اس پر آگے پیچھے وارد ہوتیں ہیں اور یہ صورت حال اس کی الوہیت اور قدامت کی نفی کرتی ہے۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ یہ اس لئے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

قول باری ہے لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان دائود و عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ حسن ، مجاہد ، سدی اور قتادہ کا قول ہے کہ ان پر حضرت دائود (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی اور یہ بندر بن گئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی جس کے نتیجے میں یہ خنزیر بن گئے۔ ایک قول یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح انہیں جتلا دیا گیا کفر اور معاصی پر ڈٹے رہنے کی صورت میں انہیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور بخشش سے بالکلیہ مایوس جانا چاہیے اس لیے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے نکلی ہوئی لعنت اور عذاب کی بد دعائیں قبول ہوچکی ہیں ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کا اظہار اس لیے ہوا کہ یہ اپنے بارے میں دنیا کے لوگوں کو اس دھوکے میں نہ رکھ سکیں کہ نبیوں کی اولاد ہونے کی وجہ سے اللہ کے ہاں انکی بڑی قدر و منزلت ہے جو انہیں اللہ کے عذاب اور گناہوں سے بچا لے گا ۔
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ بلا شبہہ وہ برا کرتے تھے۔

قول باری ہے کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا یعنی وہ ایک دوسرے کو منکرات کے ارتکاب سے روکتے نہیں تھے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ہے ، انہیں ابو دائود نے ، انہیں عبد اللہ بن محمد نفیلی نے ، انہیں یونس بن راشد نے علی بن بذیمہ سے ، انہوں نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ۔ بنی اسرائیل کے اندر سب سے پہلے جس خرابی نے جڑ پکڑ لی وہ تھی کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص سے ملتا اور اسے کسی برائی میں مبتلا دیکھ کر اس سے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور یہ برا کام مت کر اس لیے کہ یہ کام تیرے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر وہی شخص دوسری صبح اس برے انسان سے ملتا اور اس کی برائی کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھاتا، پیتا اور مجلس آرائی کرتا ، یہ جب بات عام ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ایک دوسرے کے ذریعے مہر لگا دی پھر بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تھا، ان پر دائود اور عیسیٰ کی زبان سے لعنت بھیجی (آپ نے اس موقع پر آیت لعن الذین کفروا تافاسقون تک کی تلاوت کی پھر فرمایا :” خدا کی قسم تم لوگ بھی ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو اور ظالم کا ہاتھ پکڑکر اسے ظلم کرنے سے روکتے رہو ، اسے حق کی طرف موڑ کر جھکاتے رہو ، یا کم از کم اسے حق کے اندر پابند کرتے رہو۔ ابو دائود نے کہا کہ ہمیں خلف بن ہشا م نے روایت بیان کی ، انہیں ابو شہاب الحناط نے علاء بن المسیب سے ، انہوں نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے سالم ، انہوں نے ابو عیدہ سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے ۔ ورنہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعے تمہارے دلوں پر مہر لگا دے گا اور تم پر بھی اسی طرح لعنت بھیجے گا جس طرح اس نے بنی اسرائیل پر لعنت بھیجی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں آیت زیر بحث اور اس کی تاویل میں مذکورہ احادیث میں یہ دلالت موجود ہے کہ جو لوگ کھلے بندوں منکرات کا ارتکاب کرتے ہیں انکی مجالست کی ممانعت ہے نیز منکرات کی تردید کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہوگی ان پر ٹوکا جائے اور ان سے روکا جائے لیکن ان کے مرتکبین کی مجالست ترک نہ کی جائے
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے۔

قول باری ہے تری کثیرا منھم یتولون الذین کفروا ان میں سے بہت سوں کو تم دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں ۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ منھم کی ضمیر یہود کی طرف راجع ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ قول باری الذین کفروا سے مراد بت پرست ہیں ۔ اہل کتاب نے ان مشرکین کے ساتھ حضور ﷺ کی دشمنی اور آپ سے جنگ کرنے کی خاطر دوستی گانٹھی تھی۔
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں۔

قول باری ہے ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیاء اگر یہ لوگ اللہ ، نبی اور نبی پر نازل شدہ کتاب پر ایمان رکھتے تو انہیں ہرگز اپنا دوست نہ بناتے۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے یہ آیت ان منافقین کے بارے میں ہے جو یہود میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ لوگ اللہ پر ، اس کے نبی پر ایمان نہیں رکھتے تو انہیں ہرگز اپنا دوست نہ بناتے حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں ہے جو یہود میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ لوگ اللہ پر ، اس کے نبی پر ایمان نہیں رکھتے اگرچہ ایمان کا اظہار بھی کرتے ہیں ایک قول ہے کہ نبی سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ، آپ پر ان یہودیوں کا ایمان نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ مشرکین کو اپنا رفیق اور دوست بناتے ہیں
Ayahs 5:82–86

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنیوالے یہودی اور مشرک ہیں۔ اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں مشائخ بھی۔ اور وہ تکبّر نہیں کرتے۔

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب اس کتاب کو سنتے ہیں جو (سب سے پچھلے) پیغمبر (محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی۔ اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے۔

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور نیکوکاروں کا یہی صلہ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

قول باری ہے ولتجدن قوبھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصاری اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں تا آخر آیت ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ، عطاء اور سدی کا قول ہے یہ آیت نجاشی شاہ حبشہ اور اس کے ساتھیوں بارے میں نازل ہوئی جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ آیت کا تعلق اہل کتاب کے ایک گروہ سے تھا جس کے افراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے رہے ۔ پھر جب حضور ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔ جاہلوں کا ایک گروہ بھی ہے جس کا گمان ہے کہ اس آیت میں نصاریٰ کی تعریف کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ نصاریٰ یہود سے بہتر ہیں حالانکہ بات یہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں اس چیز کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں تو صرف ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے تھے۔ سلسلہ تلاوت میں ان لوگوں کا اپنے متعلق اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی خبر دینا اس پر دلالت کرتا ہے۔ صحیح سمجھ رکھنے والا جو شخص ان دو گروہوں یعنی یہود و نصاریٰ کے عقائد پر گہری نظر سے غور کرے گا اس کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہود کے عقائد کی بہ نسبت نصاریٰ کے عقائد قبیح ، زیادہ محال ، زیادہ فاسد ہیں۔ اس لیے کہ یہود فی الجملہ توحید کا اقرار کریت ہیں اگرچہ ان کے اندر بھی تشبیہ کا عقیدہ ہے جو ان کے فی الجملہ توحید کے عقیدے کے اندر نقص پیدا کرنے کا سبب ہے۔ اس کے برعکس نصاریٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کا اقرار کر کے توحید کے عقیدے سے منکر ہوگئے ہیں۔