5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاحکام القرآن

Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھاچکے۔ جبکہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کئے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکوکاری کی۔ اور خدا نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے۔

قول باری ہے (لیس علی الذین امنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی) حضرت ابن عباس، حضرت جابر، حضرت براء بن عازب، حضرت انس بن مالک، حسن مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کچھ صحابہ کرام ایسے تھے جو شراب کا استعمال کرتے تھے لیکن حرمت کے نزول سے پہلے وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ جب صحابہ کرام نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا کہ ان کا کیا بنے گا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ عطاء بن السائب سے روایت ہے۔ انہوں نے عبدالرحمٰن السلمی سے اور انہوں نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں شام کے کچھ لوگوں نے شراب نوشی کی اور اپنے اس فع ل کے جواز کے لئے اس آیت سے استدلال کیا۔ حضرت عمر اور حضرت علی اس رائے پر متفق ہوگئے کہ ان لوگوں سے توبہ کرائی جائے۔ اگر یہ لوگ توبہ کرنے سے انکار کردیں تو ان کی گردن اڑا دی جائے۔ زہری نے روایت کی ہے کہ انہیں عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بتایا کہ نبو عبدالقیس کے سردار جارود اور حضرت ابوہریرہ دونوں نے قدامہ بن مظعون کے خلاف شراب پینے کی گواہی دی۔ حضرت عمر نے جب انہیں کوڑے مارنے کا فیصلہ سنایا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ایسا نہیں کرسکتے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (لیس علی الذین امنوا و عملوا الصالحات جناح) تا آخر آیت یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا :” قدامہ ! تم نے آیت کی غلط تاویل کی ہے۔ اگر تم پرہیز گاری اختیار کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرتے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قدامہ پر نافذ ہونے والا حکم شام میں شراب پینے والوں پر نافذ ہونے والے حکم کی طرح نہیں تھا۔ ان دونوں حکموں میں یکسانیت نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شام کے شرابیوں نے شراب کو حلال سمجھ کر پیا تھا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیز کو حلال سمجھے وہ کافر وہتا ہے اسی لئے ان شربایوں سے توبہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ قدامہ بن مظعون نے شراب حلال سمجھ کر نہیں پی تھی۔ انہوں نے آیت سے یہ مفہوم اخذ کیا تھا کہ ان کی موجودہ حالت نیز آیت میں اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ صفت کی ان کی ذات میں موجودگی ان کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی۔ پوری آیت یہ ہے (لیس علی الذین امنوا و عملوا الصالحات جناح فیما طعموا اذا ما اتقوا و امنوا و عملوا الصالحات ثم اتقوا و امنوا ثم اتقوا و احسنوا واللہ یحب المحسنین ۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہیں ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہوا سے مانیں پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ حضرت قدامہ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ آیت میں بیان کردہ صفات کے حام ل ہیں نیز شراب کی حرمت کا اعتقاد رکھتے ہوئے اگر وہ شراب پی بھی لیں تو وہ سزا کے مستحق قرار نہیں پاسکتے اور ان کا احسان یعنی نیک رویہ ان کی اس برائی کا کفارہ بن جائے گا۔ آیت میں اتقا یعنی بچنے اور پرہیز کرنے کا تین مرتبہ ذکر ہوا ہے لیکن ہر ایک سے الگ الگ مفہوم مراد ہے، پہلے کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ ماضی میں بچتے رہے، دوسرے سے آنے والے زمانے میں بچنا مراد ہے۔ تیسرے سے بندوں پر ظلم کرنے سے بچنا اور ان کیساتھ نیکی کرنا مراد ہے۔
Ayah 5:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

مومنو ! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تاکہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

احرام والے انسان کے لئے شکار کا حکم قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورما حکم۔ اے ایمان والو ! اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعے سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا۔ ) ایک قول ہے کہ اس جگہ حرف ” من “ تبعیض کے لئے ہے بایں طور کہ شکار سے مراد خشکی کا شکار ہو سمندر کا شکار نہ ہو، احرام کی حالت کا شکار ہو۔ احلال، یعی احرام نہ ہونے کی حالت کا شکار نہ ہو۔ ایک قول ہے کہ من تمیز کے طور پر واقع ہے جس طرح یہ قول باری ہے (فاجتنبوا الرجس من الاوثان نجاست یعنی بتوں سے بچو) یا جس طرح کوئی کہے ” باب من حدید یا ” ثوب من قطن “ (دروازہ یعنی لوہے کا یا کپڑا یعنی سوتی) یہ بھی جائز ہے کہ اس سے شکار کے اجزا مراد لئے جائیں اگرچہ یہ شکار کے تحت نہ آتے ہوں مثلاً انڈے، چوزے وغیرہ اس لئے کہ انڈے شکار کا جز ہوتے ہیں۔ اسی طرح چوزے اور پر نیز شکار کے دوسرے تمام اجزا بھی شکار کا جز ہوتے ہیں۔ اس صورت میں آیت ان تمام معانی کو شامل ہوگی اور بعض احوال میں بعض شکار کی حرمت ہوگی، وہ ہے احرام کی حالت میں خشکی کا شکار۔ آیت اس حکم کا بھی افادہ کرتی ہے کہ جو چیزیں شکار کا جز ہیں اور شکار سے ہی ان کی نمو ہوئی ہے وہ بھی حرام ہیں مثلاً انڈے، چوزے، گوبر وغیرہ ، قول باری (تنالہ ایدیکم) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اس سے مراد پرندوں کے چوزے اور چھوٹے چھوٹے جنگلی جانور ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد انڈے اور چوزے ہیں۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کے پاس ایک بدو پانچ انڈے لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ” ہم حالت احرام میں ہیں۔ ہم یہ کھا نہیں سکتے آپ لے لیں۔ “ لیکن آپ نے انہیں قبول نہیں کیا۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ نے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں جو ایک احرام والے شخص نے اٹھا لئے تھے ان کی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا تھا ۔ حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابن عباس اور حضرت ابو موسیٰ سے شتر مرغ کے انڈوں کے متعلق جو محرم شخص اٹھا لے یہ مروی ہے کہ اس شخص پر ان انڈوں کی قیمت لازم ہوگی۔ اس بارے میں اہل علم کے درمیان ہمیں کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ قول باری (ورما حکم) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد ڑے شکار ہیں۔