ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کرلی ١ ؎ تو آپ نے میری معذرت قبول کرلی، پھر اللہ نے یہ آیت «إنا أحللنا لك أزواجک اللاتي آتيت أجورهن وما ملکت يمينک مما أفاء اللہ عليك وبنات عمک وبنات عماتک وبنات خالک وبنات خالاتک اللاتي هاجرن معک وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے (الاحزاب: ٥٠) ، نازل فرمائی ام ہانی کہتی ہیں کہ اس آیت کی رو سے میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوئی کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی میں (فتح مکہ کے موقع پر) «الطلقاء» آزاد کردہ لوگوں میں سے تھی، (اور اسی موقع پر ایمان لائی تھی) ۔
Sayyidah Umm Hani (RA) daughter of Abu Talib narrated: Allah’s Messenger sent me proposal of marriage. But I excused myself and he accepted my excuse. Then, Allah revealed: "We have made lawful to you your wives to whom you have paid their dowers, and those whom your right hand possesses out of the prisoners of war whom Allah has assigned to you; and daughters of your paternal uncles and aunts, and daughters of your maternal uncles and aunts, who migrated (from Makkah) with you, and any believing woman who dedicates her soul to the Prophet." (33 : 50) She said, “I was not lawful to him because I had not migrated. I was among those who had embraced Islam after the conquest of Makkah.”
ضعيف الإسناد جداصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3214
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ہم اس کو سُدّی کی روایت صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ معذرت اس وجہ سے تھی کہ ان کے پاس چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور وہ اس بات سے ڈریں کہ ان کے رونے پیٹنے سے کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٩٩٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو صالح باذام مولی ام ہانی ضعیف مدلس راوی ہے)
انس ؓ کہتے ہیں کہ آیت «وتخفي في نفسک ما اللہ مبديه وتخشی الناس» تم اس چیز کو اپنے جی میں چھپا کر رکھ رہے ہو جس کو اللہ ظاہر کرنے والا ہے، اور تم ( اللہ سے ڈرنے کی بجائے) لوگوں سے ڈر رہے ہو (الاحزاب: ٣٧) ، زینب بنت جحش ؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے (ان کے شوہر) زید شکایت لے کر (رسول اللہ ﷺ کے پاس) آئے اور انہوں نے زینب کو طلاق دینے کا ارادہ کرلیا، اس پر انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا: «أمسک عليك زوجک واتق الله» اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو (طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو (الاحزاب: ٣٧) ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that when the verse about Zaynab bint Jahsh was "Then when Zayd had dissolved (his marriage) with her, with the necessary (formality), we joined her in marriage to you." (33 37) she boasted before the other wives of the Prophet ﷺ saying. “You were given in marriage by your family but I was given in marriage by Allah from above the seven heavens.’ [Bukhari 7420]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3212
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ایک جھوٹی روایت لوگوں نے گھڑ رکھی ہے کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دل میں ان کی بات چھپا رکھی تھی وہ یہ کہ وہ زینب سے محبت کرتے تھے اور خود ان سے شادی چاہتے تھے اس لیے چاہتے تھے کہ زید جلد طلاق دے دیں معاذاللہ، حالانکہ جس بات کے چھپانے کی طرف اللہ آپ ﷺ کو اشارہ کر رہا ہے، وہ یہ تھی کہ: اچھا ہوتا کہ زید زینب کو نہیں چھوڑتے، ورنہ بحکم الٰہی زینب سے مجھے ہی شادی کرنی ہوگی، تب لوگ کہیں گے: لو محمد نے اپنے لے پالک بیٹے کی مطلقہ سے شادی کرلی ( یہ چیز ان کے یہاں معیوب سمجھی جاتی تھی ) اسی کو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ایک دن اللہ اس کو ظاہر کر دے گا، اس شادی میں سماج سے ایک غلط روایت کو دور کرنا ہے، اور لوگوں کو صحیح بات بتانی ہے کہ لے پالک بیٹا صلبی بیٹا نہیں ہوتا کہ اس کی مطلقہ یا بیوہ حرام ہوجائے، اسی طرح لے پالک سے، دیگر خونی معاملات میں حرمت و حلت کی بات صحیح نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مومن اور مہاجر عورتوں کے سوا دوسری عورتوں سے شادی کرنے سے روک دیا گیا، (جیسا کہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لا يحل لک النساء من بعد ولا أن تبدل بهن من أزواج ولو أعجبک حسنهن إلا ما ملکت يمينك» آپ کے لیے آج کے بعد کوئی عورت حلال نہیں، اور آپ کے لیے یہ بھی حلال نہیں کہ موجودہ بیویوں میں سے کسی بیوی کو ہٹا کر من بھائی عورت سے شادی کرلیں، سوائے ان لونڈیوں کے جن کے آپ مالک بن جائیں (الاحزاب: ٥٢) ، اللہ نے (نبی کے لیے) تمہاری جوان مومن مسلمان عورتیں حلال کردی ہیں۔ «وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» اور وہ ایمان والی عورت بھی اللہ نے حلال کردی ہیں جو اپنے آپ کو نبی کو پیش کر دے ، اور اسلام کے سوا ہر دین والی عورت کو حرام کردیا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا: «ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله وهو في الآخرة من الخاسرين» جو ایمان کا منکر ہوا اس کا عمل ضائع گیا، اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا (المائدہ: ٥) ، اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها النبي إنا أحللنا لك أزواجک اللاتي آتيت أجورهن وما ملکت يمينک مما أفاء اللہ عليك» سے لے کر «خالصة لک من دون المؤمن» اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں اور وہ باندیاں تمہارے لیے حلال کردی ہیں جو اللہ نے تمہیں بطور مال فیٔ (غنیمت) میں عطا فرمائی ہیں (الاحزاب: ٥٠) ، تک، یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ١ ؎ اور دوسرے مومنین کے لیے نہیں (ان کا نکاح بغیر مہر کے نہیں ہوسکتا) ان کے علاوہ عورتوں کی اور قسمیں حرام کردی گئی ہیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated; Allahs Messenger ﷺ was disallowed to marry women other then the believing emigrant women. "It is not lawful for you (to marry more) women after this, nor to change them for (other) wives,even though their beauty attract you, except any your right hand should possess." (33 : 52) Believing young women were allowed. "And any believing woman who declares her soul to the Prophet." (33 : 50) And everyone of any religion other than Islam was forbidden. Then ALLAH said: "If anyone rejects faith, fruitless is his work, and in the Hereafter. He will be in the ranks of those who have lost." (5: 6) And also: "We have made lawful to you, your wives to whom you have paid their dowers, and those whom your right hand possesses out of the prisoners of war whom Allah has assigned to you; and daughters of your paternal uncles and aunts, and daughters of your maternal uncles and aunts, who migrated (from Makkah) with you and any believing woman who dedicates her soul to the Prophet ﷺ if the Prophet ﷺ wishes to wed her-this only for you and not for the Believers (at large)."(33 : 50) And Allah forbade all other women. [Ahmed 2925)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3215
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے عبدالحمید بن بہرام کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ٢- احمد بن حنبل کہتے ہیں: عبدالحمید بن بہرام کی شہر بن حوشب سے روایات کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس خاص حکم سے مراد یہ ہے کہ نبی کے سوا کسی اور مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ بغیر مہر اور بغیر ولی کے عورت سے شادی کرلے، اپنے آپ کو بغیر مہر کے ہبہ کرنا صرف نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خاص ہے، اس کا تعلق چچا زاد، پھوپھی زاد خالہ زاد اور ماموں زاد بہنوں سے شادی سے نہیں ہے، جبکہ اس دور کے بعض متجددین نے یہ شوشہ چھوڑا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٦٨٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے آپ کے لیے سب عورتیں حلال ہوچکی تھیں ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that till he died, the women were lawful to Allah’s Messenger ﷺ . [Nisai 3204]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3216
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پچھلی حدیث میں مذکور حرام کردہ عورتیں بعد میں نبی اکرم ﷺ کے لیے حلال کردی گئیں تھیں، یہ استنباط عائشہ ؓ یا دیگر نے اس ارشاد باری سے کیا ہے، «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» (اے ہمارے حبیب و خلیل نبی! ) تمہیں یہ بھی اختیار ہے کہ تم ان عورتوں میں سے جس کو چاہو پیچھے رہنے دو ( اس سے شادی نہ کرو یا موجود بیویوں میں سے جس کی چاہو باری ٹال دو ) اور جس کو چاہو اپنے پاس جگہ دو، ( گو اس کو باری نہ بھی ہو ) ( الأحزاب: 51 )۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے ساتھ شادی والی رات گزاری، پھر آپ نے مجھے کچھ لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لیے بھیجا۔ جب لوگ کھا پی کر چلے گئے، تو آپ اٹھے، عائشہ ؓ کے گھر کا رخ کیا پھر آپ کی نظر دو بیٹھے ہوئے آدمیوں پر پڑی۔ تو آپ (فوراً ) پلٹ پڑے (انہیں اس کا احساس ہوگیا) وہ دونوں اٹھے اور وہاں سے نکل گئے۔ اسی موقع پر اللہ عزوجل نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لکم إلى طعام غير ناظرين إناه» نازل فرمائی، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: I was with the Prophet ﷺ . He came to the door of his wife with whom he had consummated his marriage. There (still) were some people inside, so he returned, Attended to some task and came there (again) but they were still there. He went away, attended to his task and came there. They had gone away. He went in and put a screen between himself and me. I mentioned this to Abu Talhah who said, “If it is as you say then something will be revealed about it.” Indeed, the verse of hijab was then revealed. (Hijab is to observe the veil by a woman). [Bukhari 5166, Muslim 1428, Ahmed 13478]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3219
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بیان کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ثابت نے انس کے واسطہ سے یہ حدیث پوری کی پوری بیان کی ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ اپنی ایک بیوی کے کمرے کے دروازہ پر تشریف لائے جن کے ساتھ آپ کو رات گزارنی تھی، وہاں کچھ لوگوں کو موجود پایا تو آپ وہاں سے چلے گئے، اور اپنا کچھ کام کاج کیا اور کچھ دیر رکے رہے، پھر آپ دوبارہ لوٹ کر آئے تو لوگ وہاں سے جا چکے تھے، انس ؓ کہتے ہیں: پھر آپ اندر چلے گئے اور ہمارے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا (لٹکا دیا) میں نے اس بات کا ذکر ابوطلحہ سے کیا: تو انہوں نے کہا اگر بات ایسی ہی ہے جیسا تم کہتے ہو تو اس بارے میں کوئی نہ کوئی حکم ضرور نازل ہوگا، پھر آیت حجاب نازل ہوئی ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: Allah’s Messenger married and went to his wife. My mother prepared haysO and put it in a bowl of stone and said, "O Anas, go with this to the Prophet ﷺ and tell him, ‘My mother has sent me to you with this and she has conveyed salaam to you. She says that we have sent very little to you.’“ So, I went to him and said, ‘My mother offers to you her salaam and says that this is from us, a little.’ He said, ‘Put it the men. So I invited whoever he had named and whoever I met. The sub narrator said that he asked him how many they were and he said that they were around three hundred men. The Prophet ﷺ said to me, "O Anas, give me the vessel.” (Meanwhile,) they came in till the courtyard and the room was full. He instructed them that they should sit ten each in a circle, and everyone should eat from what was before him. They ate till they were satiated. A batch went out and another entered till all of them had eaten. Then he said, "O Anas, pick up the vessel.” So, I took it up and I could not determine if it was more than I had brought (or lesser). A group of them (the invitees) sat down chatting in the house of Allah’s Messenger who was also sitting and his wife sat facing the wall. This was unbearable by Allah’s Messenger. So, he went out to his wives, greeted them and returned. When they saw Allah’s Messenger return, they imagined that it was unbearable to him, so they took to the door and went out, all of them. And Allah’s Messenger J’ came, drew the curtain and entered. I was sitting there in the room. Not much time had passed when he came to me and these verses were revealed: O you who believe Enter not the Prophet’s houses until leave is give you for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation: but when you are invited, enter: and when you have taken your meal, disperse, without seeking familiar talk. Such (behaviour) annoys the Prophet: he is ashamed to dismiss you, but Allah is not ashamed (to tell you) the truth. And when you ask (his wives) for anything you want, ask them from before a screen: that makes for greater purity for your hearts and for theirs. Nor is it right for you that you should annoy Allah’s Messenger, or that you should marry his widows after him at any time. Truly such a thing is in Allah’s sight an enormity. (33: 53) Ja’d reported that Anas (RA) said, “I was the first of the people to get these verses and the Prophet’s ﷺ wives took up the veil (that day).” [Bukhari 5163, Muslim 1428, Nisai 3387] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3217
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آیت حجاب سے مراد یہ آیت ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم» سے «إن ذلکم کان عند اللہ عظيما» تک یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، لیکن تم پہلے ہی اس کے پکنے کا انتظار نہ کرو، بلکہ جب بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ اور جب کھا چکو تو فوراً منتشر ہوجاؤ، …اور جب تم امہات المؤمنین سے کوئی سامان مانگو تو پردے کی اوٹ سے مانگو … ( الأحزاب: 53 )۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح کیا اور اپنی بیوی (زینب بنت جحش ؓ ) کے پاس تشریف لے گئے، اس موقع پر میری ماں ام سلیم ؓ نے حیس ١ ؎ تیار کیا، اسے ایک چھوٹے برتن میں رکھا، پھر (مجھ سے) کہا: (بیٹے) انس! اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: اسے میری امی جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تھوڑا سا ہدیہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اللہ کے رسول! میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: میری امی جان آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ میری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا ہدیہ ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے رکھ دو ، پھر فرمایا: جاؤ فلاں فلاں، اور فلاں کچھ لوگوں کے نام لیے اور جو بھی تمہیں ملے سب کو میرے پاس بلا کرلے آؤ، انس کہتے ہیں: جن کے نام آپ نے لیے تھے انہیں اور جو بھی مجھے آتے جاتے ملا اسے بلا لیا، راوی جعد بن عثمان کہتے ہیں: میں نے انس ؓ سے پوچھا: کتنے لوگ رہے ہوں گے؟ انہوں نے کہا: تقریباً تین سو، انس ؓ کہتے ہیں: پھر مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انس «تَور» پیالہ لے آؤ۔ انس کہتے ہیں: لوگ اندر آئے یہاں تک کہ صفہ (چبوترہ) اور کمرہ سب بھر گیا، آپ نے فرمایا: دس دس افراد کی ٹولی بنا لو اور ہر شخص اپنے قریب سے کھائے ، لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا، ایک ٹولی (کھا کر) باہر جاتی اور دوسری ٹولی (کھانے کے لیے) اندر آ جاتی اس طرح سبھی نے کھالیا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے کہا: انس: اب (برتن) اٹھا لو ۔ میں نے (پیالہ) اٹھا لیا، مگر (صحیح صحیح) بتا نہ پاؤں گا کہ جب میں نے پیالہ لا کر رکھا تھا تب اس میں حیس زیادہ تھا یا جب اٹھایا تھا تب؟ کچھ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر آپ کے گھر میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔ (انہوں نے کچھ بھی خیال نہ کیا کہ) رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں اور آپ کی اہلیہ محترمہ دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہیں، وہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر بوجھ بن گئے، آپ وہاں سے اٹھ کر اپنی دوسری بیویوں کی طرف چلے گئے اور انہیں سلام کیا (مزاج پرسی کی) اور پھر لوٹ آئے، جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ لوٹ آئے ہیں تو انہیں احساس و گمان ہوا کہ وہ لوگ آپ کے لیے باعث اذیت بن گئے ہیں، تو وہ لوگ تیزی سے دروازہ کی طرف بڑھے اور سب کے سب باہر نکل گئے۔ رسول اللہ ﷺ آئے دروازہ کا پردہ گرا دیا اور خود اندر چلے گئے، میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ پر یہ آیتیں اتریں پھر آپ نے باہر آ کر لوگوں کو یہ آیتیں «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لکم إلى طعام غير ناظرين إناه ولکن إذا دعيتم فادخلوا فإذا طعمتم فانتشروا ولا مستأنسين لحديث إن ذلکم کان يؤذي النبي» اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو، بلکہ جب بلایا جائے تب جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے (الاحزاب: ٥٣) ، آخر تک پڑھ کر سنائیں۔ میں ان آیات سے سب سے پہلا واقف ہونے والا ہوں، اور اسی وقت سے رسول اللہ ﷺ کی بیویاں پردہ کرنے لگیں۔
Sayyidina Anas bin Malik (RA) narrated: Allahs Messenger ﷺ consummated his marriage with one of his wives and sent me to invite people to the meal. When they had eaten and went out, Allahs Messenger ﷺ stood up to go towards the house of (Sayyidah) Ayshah, but he saw two men still seated. So, he returned. The two men got up and went away. This was revealed then; "O you who believe! Enter not the Prophet’s houses until leave is given you, for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation." (33 : 53) There is a lengthier account.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3218
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- جعد: عثمان کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دینار کے بیٹے ہیں اور ان کی کنیت ابوعثمان بصریٰ ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ (قوی) ہیں، ان سے یونس بن عبید، شعبہ اور حماد بن زید نے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حیس ایک قسم کا کھانا ہے جو کھجور، گھی اور ستو سے تیار کیا جاتا ہے۔
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ہم سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ سے بشیر بن سعد نے کہا: اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تو ہم کیسے آپ پر صلاۃ (درود) بھیجیں، راوی کہتے ہیں: آپ (یہ سن کر) خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سوچنے لگے کہ انہوں نے نہ پوچھا ہوتا تو ہی ٹھیک تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو: «اللهم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صليت علی إبراهيم وعلی آل إبراهيم وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی إبراهيم وعلی آل إبراهيم في العالمين إنک حميد مجيد» اور سلام تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تم (التحیات میں) جانتے ہو۔
Abu Mas’ud Ansari .i narrated: We were sitting with Sa’d ibn Ubadahh when Allah’s Messenger ﷺ came to us. Bashir ibn Sa’d (RA) said to him, “Allah has commanded us to invocate blessing on you. How should we do that? He kept quiet till we wished that he had not asked the question. Then he said: Say: "O Allah! Shower blessing on Muhammad and on the family of Muhammad as You did shower blessing on Ibrahim and on the family of Ibrahim. And shower favours on Muhammad and on the family of Muhammad as You did shower favours on Ibrahim and on the fimaly of Ibrahim in the worlds. Surely, You are Praise worthy, Glorious. He said: As for salaam, it is as you have learnt (in the tashahhud). [Bukhari 6357, Muslim 405, Abu Dawud 980, Nisai 1282, Ahmed 22415]
صحيح، صفة الصلاة، صحيح أبي داود (901)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3220
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابوحمید، کعب بن عجرہ اور طلحہ بن عبیداللہ اور ابو سعید خدری اور زید بن خارجہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور زید کو ابن جاریہ اور ابن بریدہ بھی کہا جاتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «إن اللہ وملائكته يصلون علی النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلم وا تسليما» ( الأحزاب: ٥٦) کے تفسیر میں ذکر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٣ (٩٨٠)، سنن النسائی/السھو ٤٩ (١٢٨٦) (تحفة الأشراف: ١٠٠٠٧)، موطا امام مالک/ صلاة السفر ٢٢ (٦٧)، و مسند احمد (٥/٢٧٤)، وسنن الدارمی/الصلاة ٨٥ (١٣٨٢) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: موسیٰ (علیہ السلام) باحیاء، پردہ پوش انسان تھے، ان کے بدن کا کوئی حصہ ان کے شرما جانے کے ڈر سے دیکھا نہ جاسکتا تھا، مگر انہیں تکلیف پہنچائی جس کسی بھی اسرائیلی نے تکلیف پہنچائی، ان لوگوں نے کہا: یہ شخص (اتنی زبردست) ستر پوشی محض اس وجہ سے کر رہا ہے کہ اسے کوئی جلدی بیماری ہے: یا تو اسے برص ہے، یا اس کے خصیے بڑھ گئے ہیں، یا اسے کوئی اور بیماری لاحق ہے۔ اللہ نے چاہا کہ ان پر جو تہمت اور جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان سے انہیں بری کر دے۔ (تو ہوا یوں کہ) موسیٰ (علیہ السلام) ایک دن تنہا تھے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ کر نہانے لگے، جب نہا چکے اور اپنے کپڑے لینے کے لیے آگے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی اٹھائی، پتھر کو بلانے اور کہنے لگے «ثوبي حجر ثوبي حجر» پتھر: میرا کپڑا دے، پتھر! میرا کپڑا دے اور یہ کہتے ہوئے پیچھے پیچھے دوڑتے رہے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت (ایک گروہ) کے پاس جا پہنچا، دوسروں نے انہیں (مادر زاد) ننگا اپنی خلقت و بناوٹ میں لوگوں سے اچھا دیکھا۔ اللہ نے انہیں ان تمام عیبوں اور خرابیوں سے پاک و صاف دکھا دیا جو عیب وہ ان میں بتا رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا: پھر وہ پتھر رک گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، پھر اپنی لاٹھی سے پتھر کو پیٹنے لگے۔ تو قسم اللہ کی پتھر پر لاٹھی کی مار سے تین، چار یا پانچ چوٹ کے نشان تھے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تکونوا کالذين آذوا موسیٰ فبرأه اللہ مما قالوا وکان عند اللہ وجيها» اے ایمان لانے والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے جھوٹے الزامات سے تکلیف پہنچائی، تو اللہ نے انہیں اس تہمت سے بری قرار دیا، وہ اللہ کے نزدیک بڑی عزت و مرتبت والا تھا (الاحزاب: ٦٩) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said: Musa was very shy. He kept himself covered, nothing of his body was ever seen because of his modesty. But some of the Banu lsra’il annoyed him, saying, “He conceals his body to this extent only because of a defect on his skin, perhaps leprosy or scrotal hermia, or some other malady.” But, surely, Allah decided to absolve him of what they alleged. 0ne day, Musa secluded himself all alone and took ff his garments placing them on a stone. Then he had a bath. When he had finished, he approached his clothes that he might take them. But the stone fled with his garments. Musa took his staff and pursued the stone saying, “My garments, O stone! My garments, O stone!” He ended up at a company of Banu Israil and the observed hini naked, the best of men in creation. And he was cleared of what (calumnies) the’ used to allege. The stone stopped and he took his garments and wore them. Then he struck the stone with his staff. By Allah, the stone yet has marks of the beating three or four or five. This is as Allah’s words: "O you who believe! Be not like those who annoyed Musa, but Allah cleared him of what they said, and he was honoured in Allah’s sight." (33: 69) [Ahmed 10683, Bukhari 678, Muslim 339] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3221
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، اور اس میں ایک حدیث انس کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٢٨ (٣٤٠٤)، وتفسیر سورة الأحزاب ١١ (٤٧٩٩) (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٢، و ١٢٣٠٢، و ١٤٤٨٠) (صحیح)
فروہ بن مسیک مرادی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آئے ہیں ان لوگوں سے نہ لڑوں جو ایمان نہیں لائے ہیں، تو آپ نے مجھے ان سے لڑنے کی اجازت دے دی، اور مجھے میری قوم کا امیر بنادیا، جب میں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے میرے متعلق پوچھا کہ غطیفی نے کیا کیا؟ آپ کو بتایا گیا کہ میں تو جا چکا ہوں، مجھے لوٹا لانے کے لیے میرے پیچھے آپ نے آدمی دوڑائے، تو میں آپ کے پاس آگیا، آپ اس وقت اپنے کچھ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے، آپ نے فرمایا: لوگوں کو تم دعوت دو، تو ان میں سے جو اسلام لے آئے اس کے اسلام و ایمان کو قبول کرلو، اور جو اسلام نہ لائے تو اس کے معاملے میں جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ میں تمہیں نیا (و تازہ) حکم نہ بھیجوں ۔ راوی کہتے ہیں: سبا کے متعلق (کلام پاک میں) جو نازل ہوا سو ہوا (اسی مجلس کے) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! سبا کیا ہے، سبا کوئی سر زمین ہے، یا کسی عورت کا نام ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ نہ کوئی ملک ہے اور نہ ہی وہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا نام کا ایک عربی شخص تھا جس کے دس بچے تھے، جن میں سے چھ کو اس نے باعث خیر و برکت جانا اور چار سے بدشگونی لی (انہیں منحوس جانا) تو جنہیں اس نے منحوس سمجھا وہ: لخم، جذام، غسان اور عاملہ ہیں، اور جنہیں مبارک سمجھا وہ ازد، اشعری، حمیر، مذحج، انمار اور کندہ ہیں ، ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! انمار کون سا قبیلہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اسی قبیلہ کی شاخیں خشعم اور بجیلہ ہیں ۔ یہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، وہ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Sayyidina Farwah ibn Musayk al-Muradi (RA) narrated: I went to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah! ﷺ Shall I not join those people of my tribe who have embraced Islam and fight against those who turn away from it.” He gave me permission for that and he made me amir (chief) of my tribe. When I went out from him, he asked about me, “What did al-Ghutayfi do?” He was informed that I had gone away. So he sent for me. When I came to him, some of the sahabah (RA) were sitting with him. He said, “Invite the people. So, whoso submits (to Islam), welcome him and whoso does not submit (to Islam), do not hurry (about him) till I tell you something.” The narrator reported that there was a revelation about Saba and a man asked, "O Messenger of Allah, what is Saba, a land or a woman”? He said, “Neither a land nor a woman but a man who had ten Arab sons, six of whom he regarded auspicious and four inauspicious. As for those he regarded as inauspicious, they were Lakhm, Juzam, Ghassan and Aamilah and as for those he regarded as lucky they were Azd, Ash’arun, Himyar, Kindah, Mazhij and Anmar.” The man said, "O Messenger of Allah! ﷺ What is Anmar”? He said, “The one from whom spring Kath’am and Bajilah.” [Abu Dawud 3988]
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3222
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب اللہ آسمان پر کسی معاملے کا حکم و فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے عجز و انکساری کے ساتھ (حکم برداری کے جذبہ سے) اپنے پر ہلاتے ہیں۔ ان کے پر ہلانے سے پھڑپھڑانے کی ایسی آواز پیدا ہوتی ہے تو ان زنجیر پتھر پر گھسٹ رہی ہے، پھر جب ان کے دلوں کی گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: حق بات کہی ہے۔ وہی بلند و بالا ہے ، آپ نے فرمایا: شیاطین (زمین سے آسمان تک) یکے بعد دیگرے (اللہ کے احکام اور فیصلوں کو اچک کر اپنے چیلوں تک پہنچانے کے لیے تاک و انتظار میں) لگے رہتے ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When Allah decrees a command in the heaven, the angels flutter their wings in fear. This makes a sound like an iron chain being struck on stone. When that fear goes out of their hearts, they ask each other what their Lord had said. Their reply is that He spoke the truth and He is Exalted, Mighty. As for the devils, some of them (stand) above some other (that they might hear the command of Allah).” [Bukhari 4800, Abu Dawud 3989, Ibn e Majah 194]
صحيح، ابن ماجة (194)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3223
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ارشاد باری تعالیٰ «ولا تنفع الشفاعة عنده إلا لمن أذن له حتی إذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربکم قالوا الحق وهو العلي الكبير» (سبأ: 23 ) کی طرف اشارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر ١ (٤٧٠١)، والتوحید ٣٢ (٧٤٨١)، سنن ابی داود/ الحروف ٢١ (٣٩٨٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٤) (تحفة الأشراف: ١٤٢٤٩) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی، رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا: زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی آسمان کے فرشتے تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی، اس طرح تسبیح کا یہ غلغلہ ہمارے اس آسمان تک آ پہنچتا ہے، چھٹے آسمان والے فرشتے ساتویں آسمان والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ (کیا حکم صادر فرمایا ہے؟ ) تو وہ انہیں بتاتے ہیں، پھر اسی طرح ہر نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں، اس طرح بات دنیا سے قریبی آسمان والوں تک آ پہنچتی ہے۔ اور کی جانے والی بات چیت کو شیاطین اچک لیتے ہیں۔ (جب وہ اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو سننے سے باز رکھنے کے لیے تارہ پھینک کر) انہیں مارا جاتا ہے اور وہ اسے (اچکی ہوئی بات کو) اپنے یاروں (کاہنوں) کی طرف پھینک دیتے ہیں تو وہ جیسی ہے اگر ویسی ہی اسے پہنچاتے ہیں تو وہ حق ہوتی ہے، مگر لوگ اسے بدل دیتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that while Allah’s Messenger ﷺ was sitting with some of his sahabah, a star shot down and there was a bright light (in the sky). Allah’s Messenger ﷺ asked, “What would you have said during the jahiliyah if such a thing had happened then)?” They said, “We would have remarked, A great man will die’ and great man will be born:” He said, “It does not shoot at the death of anyone or life of one. But when our Lord, blessed is His name and Exalted is He, decrees an affair, the bearers of the Throne hymn (His) glory. Then the dwellers of the heavens (the angels) hymn his glory, they being nearer to them, then those nearer to these (and so on) till the tasbih (glorification) resounds on the heaven. Then the angels of the sixth heaven ask those of the seventh heaven, ‘What has your Lord said?” They inform them. Then the dwellers of every heaven are informed till news goes out to the heaven above earth, and the devils try to eavesdrop, but are hit. They disclose it to their friends (the soothsayers). What they come out with is true, but they change it and add to it.’ [Ahmed 1882, Muslim 2229] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3224
یہ حدیث زہری سے بطریق: «علي بن الحسين عن ابن عباس عن رجال من الأنصار» مروی ہے کہتے ہیں: ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے، آگے انہوں نے اسی کی ہم معنی حدیث بیان کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3224
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف نے یہ حدیث سابقہ آیت ہی کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس آیت «ثم أورثنا الکتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات» پھر ہم نے اللہ کے حکم سے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنادیا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا، تو ان میں سے بعض تو خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں، اور بعض میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض نیکی و بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں (فاطر: ٣٢) ، کے سلسلے میں فرمایا: یہ سب ایک ہی درجے میں ہوں گے اور یہ سب کے سب جنت میں جانے والے لوگ ہیں ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri reported the Prophet’s ﷺ saying about this verse: "Then We have given the Book for inheritance to such of Our servants as We have chosen, but there are among them some who wrong their own souls, some who follow a middle course, and some who are by Allah’s leave foremost in good deeds)." (35: 32) He said, “These-all of them-are at one station and all of them will be in Paradise.” [Ah21756]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3225
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ (قبیلہ کے لوگ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد (نبوی) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتی ونکتب ما قدموا وآثارهم» ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور (مسجد کی طرف آنے و جانے والے) آثار قدم بھی ہم (گن کر) لکھ لیتے ہیں (یس: ١٢) نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Banu Salamah lived in the suburds of Madinah but cherished to move over nearer to the mosque. So, this verse was revealed: "Verily We shall give life to the dead and We record that which they send before and that which they leave behind." (36: 12) Thus, Allah’s Messenger ﷺ said to them, “What you have behind is recorded, so do not move.’ [Bukhari 656,Ibn e Majah 784, Ahmed 12033, Muslim 665]
صحيح، ابن ماجة (785)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3226
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سورج ڈوبنے کے وقت داخل ہوا، آپ وہاں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ابوذر! کیا تم جانتے ہو یہ (سورج) کہاں جاتا ہے؟ ، ابوذر کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم، آپ نے فرمایا: وہ جا کر سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے تو ان اس سے کہا جاتا ہے وہیں سے نکلو جہاں سے آئے ہو۔ پھر وہ (قیامت کے قریب) اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکلے گا ۔ ابوذر کہتے ہیں: پھر آپ نے «وذلک مستقر لها» یہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ ہے پڑھا۔ راوی کہتے ہیں: یہی عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated: I entered the mosque while the sun was setting and the Prophet ﷺ was sitting there. He asked me. ‘O Abu Dharr! Do you know where it goes”? I said, “Allah and His Messenger know best.” He said, ‘It goes and seeks permission to prostrate. Permission is given and as though it will be told: Rise from where you have come. And it will rise from its west.” Then he recited (قَرَأَ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا) that being the recital of Abdullah. (That is its period determined) (compare verse 36 : 38) [Ahmed 21597, Bukhari 3199, Muslim 159, Nisai 1176] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح وهو مکرر (2295)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3227
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور قراءت ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلک تقدير العزيز العليم» (یس: ٣٨)۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹا اور ٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتا اگرچہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایا ہو پھر آپ نے آیت «وقفوهم إنهم مسئولون ما لکم لا تناصرون» انہیں روک لو، ان سے پوچھا جائے گا: کیا بات ہے؟ تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ ( الصافات: ٢ ٤- ٢٥) ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “There is no one who invites to (polytheism, or sin or Resurrection (and punished for that) and anything but will be stopped on the Day of necessarily he (whom will he invited) will not be separated from him even though if one man had invited just one.” Then he recited the words of Allah, the Glorious, the Majestic: "But stop them, for they must be asked, “What is the matter with you that you help not each other?” (37: 24-25)" [Ibn e Majah 208]
ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 50)، ظلال الجنة (112) // ضعيف الجامع الصغير (5170)، ضعيف ابن ماجة (36 - 208) يرويه عن أبي هريرة //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3228
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٤٨) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آیت کریمہ: «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ہم نے انہیں (یعنی یونس کو) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا (الصافات: ٧٧) ، کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ایک لاکھ بیس ہزار تھے ۔
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3229
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا (الصافات: ٧٧) ، کی تفسیر میں فرمایا: (نوح کے تین بیٹے) حام، سام اور یافث تھے ۔
Sayyidina Samurah (RA) reported from the Prophet ﷺ about Allah’s words: "And made his progeny to endure (on this earth)." (37: 77) He said “They were (three sons of Nuh): Haam, Saam, and Yaafith."
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3230
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ٢- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٦٠٥) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کے سمرہ ؓ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، نیز حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں)
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «سام» «ابوالعرب» (عربوں کے باپ) ہیں اور «حام» «ابوالحبش» (اہل حبشہ کے باپ) ہیں اور «یافث» «ابوالروم» (رومیوں کے باپ) ہیں ۔
Sayyidina Samurah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “Saam was the father of the Arab, Haam the father of the Ethiopians and Yaafith of the Romans.” [Ahmed 20120]
ضعيف، الضعيفة (3683) // ضعيف الجامع الصغير (3214)، وسيأتي برقم (826 / 4207) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3231
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ابوطالب بیمار پڑے، تو قریش ان کے پاس آئے، اور نبی اکرم ﷺ بھی آئے، ابوطالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا کہ وہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، اور ان سب نے ابوطالب سے آپ کی شکایت کی، ابوطالب نے آپ سے کہا: بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ تسلیم کرانا چاہتا ہوں جسے یہ قبول کرلیں تو اس کلمہ کے ذریعہ پورا عرب مطیع و فرماں بردار ہوجائے گا اور عجم کے لوگ انہیں جزیہ ادا کریں گے، انہوں نے کہا: ایک ہی کلمہ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، ایک ہی کلمہ ، آپ نے فرمایا: چچا جان! آپ لوگ «لا إلہ الا اللہ» کہہ دیجئیے، انہوں نے کہا: ایک معبود کو تسلیم کرلیں؟ یہ بات تو ہم نے اگلے لوگوں میں نہیں سنی ہے، یہ تو صرف بناوٹی اور (تمہاری) گھڑی ہوئی بات ہے، (ہم یہ بات تسلیم نہیں کرسکتے) ابن عباس کہتے ہیں: اسی پر ان ہی لوگوں سے متعلق سورة ص کی آیات «ص والقرآن ذي الذکر بل الذين کفروا في عزة وشقاق) إلى قوله (ما سمعنا بهذا في الملة الآخرة إن هذا إلا اختلاق» صٓ، اس نصیحت والے قرآن کی قسم، بلکہ کفار غرور و مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ چھٹکارے کا نہ تھا اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہیں میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے، کیا اس نے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کردیا، واقعی یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے، ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے، ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے (ص: ١- ٧) ، تک نازل ہوئیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when Abu Talib fell ill, the Quraysh went to him, and the Prophet ﷺ (also) went to him but there remained seating accomodation with him for only one man. Abu Jahi got up to forbid him and all of them complained to Abu Talib (about the Prophet ﷺ so he asked him, “Nephew, what do you desire from your people?” He said, “I desire from them one kalimah whereby they would rule the Arabs, while the non-Arabs would pay them the jizyah. He asked, “0ne kalimah”? And the Prophet ﷺ confimed, “One kalimah, O uncle! Say . There is no God but Allah).” (They asked, “One God? We have not heard this from any previous religion. This is nothing but an invented (story).” Thus, there was revealed in the Qur’an concerning them: "Saad. By the Qu?an, full of admonition; (this is the Truth). But the unbelievers (are steeped) in self-glory and separatism. How many generations before them did we destroy? In the end they cried (for mercy) when there was no longer time for being saved! So they wonder that a warner has come to them from among themselves! And the unbelievers say, “This is a sorcerer telling lies! Has he made the gods (all) into one God? Truly this is a wonderful thing.. This is nothin but a made-up tale!" -------------------------------------------------------------------------------- (38 : 1-7) [Ahmed 3419)
ضعيف الإسناد
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3232 اس سند سے سفیان ثوری نے اعمش سے اسی طرح روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3232
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یحییٰ بن سعید نے بھی سفیان سے، سفیان نے اعمش سے اسی حدیث کے مثل حدیث بیان کی، اور یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عباد کے بجائے یحییٰ بن عمارہ کہا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٥٦٤٥، و ٥٦٤٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں یحییٰ بن عباد یا یحییٰ بن عمارہ لین الحدیث راوی ہیں)
انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد)