Sunan At-Tirmidhi 3216

قرآن کی تفسیر کا بیان

3216Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے آپ کے لیے سب عورتیں حلال ہوچکی تھیں ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that till he died, the women were lawful to Allah’s Messenger ﷺ . [Nisai 3204]

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3216
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پچھلی حدیث میں مذکور حرام کردہ عورتیں بعد میں نبی اکرم ﷺ کے لیے حلال کردی گئیں تھیں، یہ استنباط عائشہ ؓ یا دیگر نے اس ارشاد باری سے کیا ہے، «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» (اے ہمارے حبیب و خلیل نبی! ) تمہیں یہ بھی اختیار ہے کہ تم ان عورتوں میں سے جس کو چاہو پیچھے رہنے دو ( اس سے شادی نہ کرو یا موجود بیویوں میں سے جس کی چاہو باری ٹال دو ) اور جس کو چاہو اپنے پاس جگہ دو، ( گو اس کو باری نہ بھی ہو ) ( الأحزاب: 51 )۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ٢ (٣٢٠٦، ٣٢٠٧) (تحفة الأشراف: ٧٣٧٩)، وسنن الدارمی/النکاح ٤٤ (٢٢٨٧) (صحیح الإسناد)