قرآن کی تفسیر کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 43 · 445 hadiths · Page 13 of 22

3193Sunan At-Tirmidhi

سورہ روم کی تفسیر

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْن عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: الم 1 غُلِبَتِ الرُّومُ 2 فِي أَدْنَى الأَرْضِ سورة الروم آية 1-2، قَالَ: غُلِبَتْ وَغَلَبَتْ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ يَظْهَرَ أَهْلُ فَارِسَ عَلَى الروم لِأَنَّهُمْ وَإِيَّاهُمْ أَهْلُ أَوْثَانِ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ يَظْهَرَ الروم عَلَى فَارِسَ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابِ، فَذَكَرُوهُ لِأَبِي بَكْرٍ، فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُونَ ، فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ، فَقَالُوا: اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا فَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا، وَإِنْ ظَهَرْتُمْ كَانَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلَ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ فَلَمْ يَظْهَرُوا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا جَعَلْتَهُ إِلَى دُونَ ، قَالَ: أُرَاهُ الْعَشْرِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَالْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ، قَالَ: ثُمَّ ظَهَرَتْ الروم بَعْدُ، قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: الم غُلِبَتِ الرُّومُ إِلَى قَوْلِهِ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ سورة الروم آية 1 ـ 5، قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ أَنَّهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ آیت «الم غلبت الروم في أدنی الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر ؓ سے کیا اور ابوبکر ؓ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: وہ (رومی) (مغلوب ہوجانے کے بعد پھر) غالب آ جائیں گے، ابوبکر ؓ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: (ایسی بات ہے تو) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کرلو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے (جیت گئے) تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ تو انہوں نے پانچ سال کی مدت رکھ دی، لیکن وہ (رومی) اس مدت میں غالب نہ آسکے، ابوبکر ؓ نے یہ بات بھی رسول اللہ ﷺ کو بتائی۔ آپ نے فرمایا: تم نے اس کی مدت اس سے کچھ آگے کیوں نہ بڑھا دی؟ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ کی مراد اس سے دس (سال) تھی، ابوسعید نے کہا کہ «بضع» دس سے کم کو کہتے ہیں، اس کے بعد رومی غالب آ گئے۔ (ابن عباس ؓ) کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے قول «الم غلبت الروم» سے «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر اللہ ينصر من يشاء» تک کا یہی مفہوم ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ وہ (رومی) لوگ ان پر اس دن غالب آئے جس دن بدر کی جنگ لڑی گئی تھی۔

Sayyidina Abu Sa’eed reported that while the Battle of Badr was being fought, the Romans defeated the Persians. This pleased the Believers and this was revealed: "Alif Laam Mim. The Romans have been defeated in the land close by, and after (this) defeat of theirs, they will soon be victorious, within a few years. To Allah belongs the command before and after and on that day the Believers will rejoice, in Allahs help. (30: 1-5) The Believers were pleased at the victory of the Romans over the Persian.

صحيح الضعيفة تحت الحديث (3354)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3193
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف سفیان ثوری کی اس روایت سے جسے وہ حبیب بن ابو عمرہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٤٨٩)، و مسند احمد (١/٢٧٦، ٣٠٤) (صحیح)
3191Sunan At-Tirmidhi

سورہ روم کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ فِي مُنَاحَبَةِ: الم 1 غُلِبَتِ الرُّومُ 2 سورة الروم آية 1-2، أَلَا احْتَطْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ الْبِضْعَ مَا بَيْنَ الثَّلَاثَ إِلَى التِّسْعِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے ان کے (قریش سے) شرط لگانے پر کہا: اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ («بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) explained the words of Allah: “Alif Laam Mim. The Romans have been defeated in the land.” (80:1-2) He said: This is read غُلِبَتْ as also غَلَبَتْ The idolaters loved that the Persians should gain victory over Rome because they and the Persians were idolaters. The Muslims loved that the Romans should become victorious over the Persians because they were People of the Book. They mentioned it to Abu Bakr (RA) who mentioned it to Allah’s Messenger. He said ‘They will soon be victorious.” Abu Bakr (RA) mentioned this to the idolaters and they said, “Cause between us and them a term. If we win during that time then for us is this-and-that and if you gain victory then for you is this-and that.” Then he fixed the times as five years; but it did not transpire, so he mentioned that to the Prophet). He said, ‘Why did you not fix a longer period”? The narrator supposed that he put it at ten years. And Sa’eed said that (bitl’) is a number less than ten Then Rome emerged victorious over Persia. This is why Allah said; "Alif Laam Mim. The Romans have been defeated in the land close by, and after (this) defeat of theirs, they will soon be victorious, within a few years. To Allah belongs the command before and after and on that day the Believers will rejoice, in Allahs help. (30: 1-5) Sufyan said, “I heard that the Romans emerged victorious on the day of Badr.” [Ahmed 2495, Bukhari 115]

ضعيف المصدر نفسه // الضعيفة تحت الحديث (3354) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3191
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول: «سيغلبون في بضع سنين» (الروم: ٤)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٨٥٦) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عبد الرحمن جمحی مجہول الحال ہیں، لیکن اس بابت اس قول کے سوا دیگر تفاصیل صحیح ہیں، دیکھیے حدیث رقم ٣١٩٣، و ٣١٩٤)
3194Sunan At-Tirmidhi

سورہ روم کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نِيَارِ بْنِ مُكْرَمٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ الم 1 غُلِبَتِ الرُّومُ 2 فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ 3 فِي بِضْعِ سِنِينَ سورة الروم آية 1 ـ 4 فَكَانَتْ فَارِسُ يَوْمَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَاهِرِينَ لِلرُّومِ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ ظُهُورَ الروم عَلَيْهِمْ لِأَنَّهُمْ وَإِيَّاهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَفِي ذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ 4 بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ 5 سورة الروم آية 4-5 وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُحِبُّ ظُهُورَ فَارِسَ، لِأَنَّهُمْ وَإِيَّاهُمْ لَيْسُوا بِأَهْلِ كِتَابٍ وَلَا إِيمَانٍ بِبَعْثٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِيحُ فِي نَوَاحِي مَكَّةَ: الم 1 غُلِبَتِ الرُّومُ 2 فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ 3 فِي بِضْعِ سِنِينَ سورة الروم آية 1 ـ 4 قَالَ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ لِأَبِي بَكْرٍ: فَذَلِكَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ زَعَمَ صَاحِبُكُمْ أَنَّ الروم سَتَغْلِبُ فَارِسًا فِي بِضْعِ سِنِينَ، أَفَلَا نُرَاهِنُكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: بَلَى، وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الرِّهَانِ، فَارْتَهَنَ أَبُو بَكْرٍ وَالْمُشْرِكُونَ وَتَوَاضَعُوا الرِّهَانَ، وَقَالُوا لِأَبِي بَكْرٍ: كَمْ تَجْعَلُ الْبِضْعُ ثَلَاثُ سِنِينَ إِلَى تِسْعِ سِنِينَ فَسَمِّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ وَسَطًا تَنْتَهِي إِلَيْهِ، قَالَ: فَسَمَّوْا بَيْنَهُمْ سِتَّ سِنِينَ، قَالَ: فَمَضَتِ السِّتُّ سِنِينَ قَبْلَ أَنْ يَظْهَرُوا، فَأَخَذَ الْمُشْرِكُونَ رَهْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا دَخَلَتِ السَّنَةُ السَّابِعَةُ ظَهَرَتِ الروم عَلَى فَارِسَ فَعَابَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْمِيَةَ سِتِّ سِنِينَ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: فِي بِضْعِ سِنِينَ سورة الروم آية 4 وَأَسْلَمَ عِنْدَ ذَلِكَ نَاسٌ كَثِيرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ نِيَارِ بْنِ مُكْرَمٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ.

نیار بن مکرم اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنی الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر اللہ ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے (الروم: ٤- ٥) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق ؓ مکہ کے اطراف میں اعلان کرنے نکل کھڑے ہوئے، انہوں نے چیخ چیخ کر (بآواز بلند) اعلان کیا، «الم غلبت الروم في أدنی الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» رومی مغلوب ہوگئے زمین میں، وہ مغلوب ہوجانے کے بعد چند سالوں میں پھر غالب آ جائیں گے تو قریش کے کچھ لوگوں نے ابوبکر ؓ سے کہا: آؤ ہمارے اور تمہارے درمیان اس بات پر شرط ہوجائے، تمہارے ساتھی (نبی) کا خیال ہے کہ رومی فارسیوں پر چند سالوں کے اندر اندر غالب آ جائیں گے، کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم سے اس بات پر شرط لگا لیں، انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ ہم تیار ہیں، ابوبکر ؓ اور مشرکین دونوں نے شرط لگا لی، اور شرط کا مال کہیں رکھوا دیا، مشرکین نے ابوبکر ؓ سے کہا: تم «بضع» کو تین سے نو سال کے اندر کتنے سال پر متعین و مشروط کرتے ہو؟ ہمارے اور اپنے درمیان بیچ کی ایک مدت متعین کرلو، جس پر فیصلہ ہوجائے، راوی کہتے ہیں: انہوں نے چھ سال کی مدت متعین اور مقرر کردی۔ راوی کہتے ہیں کہ روم کے مشرکین پر غالب آنے سے پہلے چھ سال گزر گئے تو مشرکین نے ابوبکر ؓ کے بطور شرط جمع کرائے ہوئے مال کو لے لیا، مگر جب ساتواں سال شروع ہوا اور رومی فارسیوں پر غالب آ گئے، تو مسلمانوں نے ابوبکر ؓ پر نکتہ چینی کی کہ یہ ان کی غلطی تھی کہ چھ سال کی مدت متعین کی جب کہ اللہ تعالیٰ نے «بضع سنین» کہا تھا، (اور «بضع» تین سال سے نو سال تک کے لیے مستعمل ہوتا ہے) ۔ راوی کہتے ہیں: اس پیشین گوئی کے برحق ثابت ہونے پر بہت سارے لوگ ایمان لے آئے۔

Sayyidina Niyar ibn Mukram al-Aslami (RA) narrated: When the verses "Alif Laam Mim. The Romans have been defeated in the land close by, and after (this) defeat of theirs, they will soon be victorious, within a few years. To Allah belongs the command before and after and on that day the Believers will rejoice, in Allahs help. (30: 1-5) were revealed, the Persians were the conquerors of Rome. The Muslims loved to see that Rome overran the Persians because they (the Romans) were People of the Book like them (the Muslim). This is what Allah’s words concern: "And on that day the Believers will rejoice in Allah’s help. He helps whom He will. And He is the Mighty, the Merciful.” (30: 4-5) But the Quraysh loved the upper hand of Persia because they and the Quraysh were not People of he Book and did not believe in prophethood. When these verses were revealed, Abu Bakr Siddiq (RA) is recited (them) aloud in the surroundings of Makkah: "Alif Laam Mim. The Romans have been defeated in the land close by, and after (this) defeat of theirs, they will soon be victorious, within a few years. To Allah belongs the command before and after and on that day the Believers will rejoice, in Allahs help. (30: 1-5) Some of the Quraysh said to him, “Let that be (a deciding factor) between us and you. Your friend imagines that Rome will conquer Persia in a few years. Shall we not wage a bet with you over that?” He said, “Yes!” and that was before gambling was prohibited. Thus, Abu Bakr (RA) and the idolaters waged the bet and placed the wager somewhere. They asked Abu Bakr. “How much do you regard the (bid’) to be between three and nine years? So name a middle period for us and you at which it should terminate.” So they named six years between them. The six years were over before the victory (of the Romans). So the idolators took hold of Abu Bakr’s is wager. When the seventh year began, Rome defeated Persia. So the Muslims asked Abu Bakr (RA) why he had determined six years. He said, “Because Allah the Exalted said: “in a few years.” Many people embraced Islam when that happened. --------------------------------------------------------------------------------

حسن الضعيفة تحت الحديث (3354)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3194
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث نیار بن مکرم کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوالزناد کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٧١٩) (حسن)
3195Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت لقمان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ وَلَا خَيْرَ فِي تِجَارَةٍ فِيهِنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ، وَفِي مِثْلِ هَذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ سورة لقمان آية 6 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَالْقَاسِمُ ثِقَةٌ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: الْقَاسِمُ ثِقَةٌ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ يُضَعَّفُ.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے ، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله » بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں (لقمان: ٦) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔

Sayyidina Abu Umamah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Neither buy singing girls nor sell them. Do not teach them (to sing). And, there is no good in the business on them. Their price is forbidden. It is about this that the verse was revealed: And of mankind is he who buys frivolous discourse to lead astray (others) from Allah’s way (31:6 to end)

حسن ومضی برقم (1305)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3195
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٢٨٢ (ضعیف)
3196Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت السجدہ

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 نَزَلَتْ فِي انْتِظَارِ الصَّلَاةِ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت «تتجافی جنوبهم عن المضاجع» ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں (السجدۃ: ١٦) ، اس نماز کا انتظار کرنے والوں کے حق میں اتری ہے جسے رات کی پہلی تہائی کی نماز کہتے ہیں، یعنی نماز عشاء ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik narrated: The verse, "Their sides forsake their beds." (32 :16) was revealed concerning the wait for the salah called (al-atmah). [Abu Dawud 1321]

صحيح، التعليق الرغيب (1 / 160)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3196
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث صحیح ہے، تو اسی کے مطابق اس سے مراد عشاء کی نماز لینی چاہیئے، ( بعض لوگوں نے اس سے مراد تہجد کی نماز کو لیا ہے )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٦٢) (صحیح)
3197Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت السجدہ

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ (قرآن) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما کانوا يعملون» کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے (صالح) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک (کے لیے) پوشیدہ رکھ رکھی ہے (السجدۃ: ١٦) ، سے ہوتی ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported from the Prophet ﷺ that Allah said: I have prepared for My righteous slaves what eyes have not seen, ears have not heard and hearts of human beings not perceived. Confirmation of that is found in Allah’s Book: No soul knows what delight of the eyes is kept hidden from them, as a recompense for what they used to do. (32:17) [Bukhari 3244, Muslim 282, Ibn e Majah 4328, Ahmed 9255]

صحيح، الروض النضير (1106)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3197
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٢٤٤)، وتفسیرسورة السجدة ١ (٤٧٧٩، ٤٧٨٠)، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٨)، صحیح مسلم/الجنسة ١ (٢٨٢٤) (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٥) (صحیح)
3198Sunan At-Tirmidhi

تفسیرالسجدہ

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام سَأَلَ رَبَّهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً ؟ قَالَ: رَجُلٌ يَأْتِي بَعْدَمَا يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: كَيْفَ أَدْخُلُ وَقَدْ نَزَلُوا مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ ؟ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، أَيْ رَبِّ قَدْ رَضِيتُ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشْرَةَ أَمْثَالِهِ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَالْمَرْفُوعُ أَصَحُّ.

شعبی کہتے ہیں: میں نے مغیرہ بن شعبہ ؓ کو منبر پر کھڑے ہو کر نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے پوچھتے ہوئے کہا: اے میرے رب! کون سا جنتی سب سے کمتر درجے کا ہوگا؟ اللہ فرمائے گا: جنتیوں کے جنت میں داخل ہوجانے کے بعد ایک شخص آئے گا، اس سے کہا جائے گا: تو بھی جنت میں داخل ہوجا، وہ کہے گا: میں کیسے داخل ہوجاؤں جب کہ لوگ (پہلے پہنچ کر) اپنے اپنے گھروں میں آباد ہوچکے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں ، آپ نے فرمایا: اس سے کہا جائے گا: دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس جتنا کچھ ہوتا ہے اتنا تمہیں دے دیا جائے، تو کیا تم اس سے راضی و خوش ہو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے کہا جائے گا: تو جا تیرے لیے یہ ہے اور اتنا اور اتنا اور اتنا اور، وہ کہے گا: میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے پھر کہا جائے گا جاؤ تمہارے لیے یہ سب کچھ اور اس سے دس گنا اور بھی وہ کہے گا، میرے رب! بس میں راضی ہوگیا، تو اس سے کہا جائے گا: اس (ساری بخشش و عطایا) کے باوجود تمہارا جی اور نفس جو کچھ چاہے اور جس چیز سے بھی تمہیں لذت ملے وہ سب تمہارے لیے ہے ١ ؎۔

Shabii reported having heard Mughirah ibn Shu’bah (RA) say from the pulpit tracing it to the Prophet ﷺ that he said: Musa asked his Lord, "O Lord! Which of the dwellers of Paradise will have the lowest grade?” He said, “A man who will come after its inhabitants have entered Paradise. It will be said to him, ‘Enter.’ He will ask, ‘How do I enter Paradise when its houses have been occupied and all that was available has been taken over.’ He will be asked, ‘Would you he pleased on having what was owned by a king of the worlds kings?’ He will assert, ‘Yes, O Lord! I am pleased.’ So, he will be told, For you is this, the like of that, the like of that and the like of that. He wil affirm, ‘I am pleased, O Lord.’ And it will be said to him, For you is this and ten times the like of it.’ So he will profess, ‘I am pleased O Allah, O My Lord!’ Then it will be said to him, ‘And for you with (all this) is what your heart desires and what pleases your eyes.’“ [Muslim 189]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3198
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ان میں سے بعض (محدثین) نے اس حدیث کو شعبی سے اور انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) مرفوع روایت زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف نے یہ حدیث مذکورہ آیت ہی کی تفسیر ذکر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٤ (١٨٩) (تحفة الأشراف: ١١٥٠٣) (صحیح)
3199Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 مَا عَنَى بِذَلِكَ ؟ قَالَ: قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي، فَخَطَرَ خَطْرَةً، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ: أَلَا تَرَى أَنَّ لَهُ قَلْبَيْنِ: قَلْبًا مَعَكُمْ، وَقَلْبًا مَعَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 ،حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس ؓ سے کہا: ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل اللہ لرجل من قلبين في جوفه» اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں (الاحزاب: ٤) ، کا کیا معنی و مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم ﷺ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہوگیا، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل اللہ لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی۔

Ibn Abu Zabyan reported from his father (Abu Zabyan) that he asked Sayyidina Ibn Abbas (RA) what he thought of the words of Allah, the Glorious, the Majestic: “Allah has not assigned to any man two hearts within his body.” (33 :4) He said, “The Prophet ﷺ stood up one day and offered salah, but forgot something. So, the hypocrites who were praying with him said. ‘Do you not see that he has two hearts. a heart with you and a heart with them.’ So, Allah revealed: “Allah has not assigned to any man two hearts within his body.” (33:4)

(الحديث الذي في سنده: حدثنا عبد اللہ بن عبد الرحمن، أخبرنا صاعد الحراني أخبرنا زهير) ضعيف الإسناد، (الحديث الذي في سنده: حدثنا عبد بن حميد حدثني أحمد بن يونس أخبرنا زهير) ضعيف أيضا (الحديث الذي في سنده: حدثنا عبد اللہ بن عبد الرحمن، أخبرنا صاعد الحراني أخبرنا زهير) ضعيف الإسناد، (الحديث الذي في سنده: حدثنا عبد بن حميد حدثني أحمد بن يونس أخبرنا زهير) ضعيف أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3199 اس سند بھی اسی طرح روایت ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3199
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٤٠٦) (ضعیف) (سند میں قابوس لین الحدیث راوی ہیں) انظر ماقبلہ (ضعیف)
3200Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبُرَ عَلَيَّ، فَقَالَ: أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِبْتُ عَنْهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ مَشْهَدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَعْدُ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ، فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، أَيْنَ ؟ قَالَ: وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهَا دُونَ أُحُدٍ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ، فَقَالَتْ عَمَّتِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ: فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر ؓ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، (اس کا مجھے بےحد افسوس ہے) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے (اور بچتے) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، سعد بن معاذ ؓ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: ابوعمرو! کہاں کا ارادہ ہے انہوں نے کہا: اے واہ! میں تو احد پہاڑ کے پرے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں پھر وہ لڑے اور اس شان سے لڑے کہ شہید کردیئے گئے، ان کے جسم میں اسی ( ٨٠) سے کچھ زائد چوٹ تیر و نیزہ کے زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر ؓ نے کہا: میں اپنے بھائی کی نعش صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان پائی، اسی موقع پر آیت «رجال صدقوا ما عاهدوا اللہ عليه فمنهم من قضی نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» ایمان والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے وعدے کیے تھے ان میں وہ پورے اترے، ان میں سے کچھ تو انتقال کر گئے اور کچھ لوگ مرنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے اس میں یعنی (اللہ سے کیے ہوئے اپنے معاہدہ میں کسی قسم) کی تبدیلی نہیں کی (الاحزاب: ٢٣) ، نازل ہوئی۔

Sayyidina Anas in Maalik narrated: My uncle, Anas ibn Nadr after whom I am named, did not participate in (the Battle of) Badr with Allah’s Messenger This weighed heavily on him. He said, ‘This was the first battle and Allah’s Messenger did indeed take part in it but I absented myself from it. By Allah, if Allah causes me to participate in a battle with His Messenger then He will see what I do.” (The narrator said:) He was afraid to say more than that. So, he participated with Allah’s Messenger J’ in the Battle of Uhud in the year following. He met Sa’dibn Mu’adh i who asked him, "O Abu Amr, whereto?” He said, “How wonderful! I perceive the fragrance of Paradise at Uhud.” So he fought till he was killed, and on his body something over eighty wounds were counted from blunt strike, spears and arrows. My aunt, Rabi bint Nadr, said, “I did not recognize my brother but through his fingertips.” This verse was revealed: Men who are true to the covenant they made with Allah: so of them is he who fulfilled his vow ‘by (martyrdom) and of them is he who waits, and they have not altered in the least. -------------------------------------------------------------------------------- (33 : 23) [Ah3014, M1903]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3200
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤١ (١٩٠١) (تحفة الأشراف: ٤٠٦) (صحیح)
3201Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَمَّهُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَقَالَ: غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ، لَئِنْ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالًا لَلْمُشْرِكِينَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ، يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ وَأَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَصْحَابَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَلَقِيَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا أَخِي مَا فَعَلْتَ، أَنَا مَعَكَ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ، فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ، فَكُنَّا نَقُولُ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ نَزَلَتْ: فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ سورة الأحزاب آية 23 قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي هَذِهِ الْآيَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاسْمُ عَمِّهِ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان کے چچا (انس بن نضر) بدر کی لڑائی میں غیر حاضر تھے، انہوں نے (افسوس کرتے ہوئے) کہا: اس پہلی لڑائی میں جو رسول اللہ ﷺ نے مشرکین سے لڑائی میں غیر موجود رہا، اب اگر اللہ نے مشرکین سے مجھے کسی جنگ میں لڑنے کا موقع دیا تو اللہ ضرور دیکھے گا کہ میں (بےجگری و بہادری سے کس طرح لڑتا اور) کیا کرتا ہوں۔ پھر جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع آیا، اور مسلمان (میدان سے) چھٹ گئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جسے یہ لوگ یعنی مشرکین لے کر آئے ہیں اور ان سے یعنی آپ کے صحابہ سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے، اس کے لیے تجھ سے معذرت خواہ ہوں، پھر وہ آگے بڑھے، ان سے سعد بن معاذ ؓ کی ملاقات ہوئی، سعد نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ جو بھی کریں میں آپ کے ساتھ ساتھ ہوں، (سعد کہتے ہیں) لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہ میں نہ کرسکا، ان کی لاش پر تلوار کی مار کے، نیزے گھوپنے کے اور تیر لگنے کے اسّی ( ٨٠) سے کچھ زیادہ ہی زخم تھے، ہم کہتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آیت «فمنهم من قضی نحبه ومنهم من ينتظر» اتری ہے۔ یزید (راوی) کہتے ہیں: اس سے مراد یہ (پوری) آیت ہے۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated that his uncle was absent from the Battle of Badr. So, he lamented. “I was absent from the first battle that Allah’s Messenger ﷺ fought against the idolaters. If Allah causes me to participate in a battle against the idolaters, He will see how I perform.” So, when it was the day of Uhud, the Muslims suffered defeat, and he prayed, "O Allah, I absolve myself with you from that which they (the idolators) have brought, and I seek pardon from you for what they (the Muslims) have done.” Then he advanced and met Sa’d. He asked. "O Brother, what have you done? I am with you.” But Sa’d said, “I could not do what he did. There were found on him some more than eighty wounds from swords, spears and arrows, We used to say about him and his friends that this verse was revealed about them:

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3201
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- انس بن مالک کے چچا کا نام انس بن نضر ؓ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف: ٨٠٨) (صحیح)
3202Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ.

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ ؓ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے کہا: ضرور، سنائیے، کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طلحہ ؓ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «ممن قضی نحبه» فرمایا ہے ، یعنی جو اپنا کام پورا کرچکے۔

Musa ibn Talhah narrated: I went to Mu awiyah. He said. Shall I not give you good news?’ I said, “Yes.” He said “I heard Allah’s Messenger ﷺ say that Talhah is among those who have fulfilled their vow.” [Ibn e Majah 127]

حسن، ابن ماجة (126)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3202
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ ؓ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- جبکہ یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ صرف طلحہ کی حدیث سے روایت کی جاتی ہے، (جو آگے آرہی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٦) (تحفة الأشراف: ١١٤٤٥) (حسن)
3203Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى، وَعِيسَى ابني طلحة، عَنْ أَبِيهِمَاطَلْحَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ: سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ ؟ وَكَانُوا لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ، فَسَأَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ؟ قَالَ الأَعْرَابِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ.

طلحہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل دیہاتی سے کہا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے «ممن قضی نحبه» سے متعلق پوچھے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ خود آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے، وہ آپ کا ادب و احترام کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے بھی تھے، اعرابی نے آپ سے پوچھا، مگر آپ نے اعراض کیا، اس نے پھر پوچھا، آپ نے پھر اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر بےرخی برتی، پھر میں مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور (اندر آیا) میں (نمایاں) سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا: «ممن قضی نحبه» سے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے ؟ اعرابی، (گنوار دیہاتی) نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ شخص (طلحہ) انہی لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کردی ہیں ۔

Sayyidina Talhah (RA) reported that the sahabah requested an ignorant villager to ask Allah’s Messenger ﷺ about him who has fulfilled his vow, “Who is he?” They did not dare to ask directly, for they held him in respect and awe. so, the villager did ask him, but he did not pay attention to him He asked again, but the Prophet ﷺ ,.9J looked the other way. The third time he asked and he turned away. (Talhah said:) I entered through the door of the mosque wearing green coloured garments. When the Prophet ﷺ saw me, he asked “Where is the one who asked about him who fulfilled his vow”? The villager said, “I, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “This is he who fulfilled his vow.”

حسن صحيح، الصحيحة (1 / 36)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3203
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن بکیر کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٠٠٥) (حسن صحیح)
3204Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ، قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَايَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، يَقُولُ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ حَتَّى بَلَغَ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 ـ 29، فَقُلْتُ: فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، وَفَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں ١ ؎ تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کرلینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہاں تک «للمحسنات منکن أجرا عظيما» ٢ ؎ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں ماں باپ سے مشورہ لوں؟ (نہیں مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں) میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، آپ کی دیگر بیویوں نے بھی ویسا ہی کچھ کہا جیسا میں نے کہا تھا۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: When Allah’s Messenger was commanded to give option to his wives, he began with me and said. "O Ayshah I tell you something, but do not make haste to answer it till you seek advice from your parents.” He knew that my parents would never ask me to separate from him. He added that Allah has said: O Prophet, say to you wives, “If you desire the life of this world and its adornment, come! I will provide for your comfort and allow you to depart by a fair departing. But if you desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter then surely Allah has repaired for the good doers among you a mighty reward.” (33:28-29) So, I said, about what of it shall I consult my parents? For, I wish for Allah and His Messenger ﷺ . And the (other) wives of the Prophet ﷺ did as I had done. [Bukhari 4785, Nisai 3201, Ahmed 25354]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3204
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ چاہیں تو آپ کے ساتھ رہیں اور تنگی کی زندگی گزاریں، اور اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہتی ہیں تو نبی اکرم ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیں۔ ٢ ؎: اے نبی! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ تمہیں اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہیئے تو آؤ میں کچھ دے کر چھوڑ چھاڑ دوں، ( طلاق کے ساتھ کچھ مال دے کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں ) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہو اور آخرت کا گھر تمہیں مطلوب ہے تو اللہ نے تم نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ( الاحزاب: ٢٨-٢٩)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الأحزاب ٤ (٤٧٨٥)، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٥)، سنن النسائی/النکاح ٢ (٣٢٠٣)، والطلاق ٢٦ (٣٤٦٩)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٠ (٢٠٥٣) (تحفة الأشراف: ١٧٧٦٧)، و مسند احمد (٦/٧٨، ١٠٣، ١٨٥، ٢٤٨، ٢٦٤)، وسنن الدارمی/الطلاق ٥ (٢٢٧٤) (صحیح)
3205Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا فَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ عَلَى خَيْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ.

نبی اکرم ﷺ کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت «إنما يريد اللہ ليذهب عنکم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ (ہر قسم کی) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے (الاحزاب: ٣٣) ، ام سلمہ ؓ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین ؓ کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی ؓ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کرلیا، پھر فرمایا: اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے ، ام سلمہ ؓ کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے ١ ؎۔

Sayyidina Umar ibn Abu Salamah (RA) the Prophet’s stepson, reported that when this verse was revealed to the Prophet ﷺ : "Allah only desires to take away from you all abomination, O people of the household (of Muhammad), and to purify you with a thorough purifying." (33:33) He was in the house of Umm Salamah (RA).He summoned Fatimah ,(RA), Hasan (RA); and Husayn (RA) and put his cloak over all of them. Ali was behind him and he put the clok over him too. Then he said, ‘O Allah, they are the people of my house. Remove from them abomination and purify them with a thorough purifying.” Umm Salamah (RA) said, “And I am with them, O Prophet ﷺ of Allah.” He said, “Stay where you are. You are on what is good.” [Muslim 2424]

صحيح، الروض النضير (976 و 1190)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3205
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس آیت میں وارد «اہل البیت» سے مراد بتصریح نبوی علی، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں، ازواج مطہرات کو اگرچہ دیگر فضیلتیں حاصل ہیں مگر وہ اس آیت کے اس لفظ کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف و أعادہ في المناقب ٣٢ (برقم ٣٧٨٧) (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٧) (صحیح)
3206Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ، يَقُولُ: الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فاطمہ ؓ کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو «إنما يريد اللہ ليذهب عنکم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that for six months Allah’s Messenger ﷺ . passed by the door of Sayyidah Fatimah when he went out for the salah of fajr. He would call, “The salah” (and recited): "Allah only desires to take away from you all abomination, O people of the household (of Muhammad), and to purify you with a thorough purifying." (33:33)

ضعيف المصدر نفسه //، الروض النضير (976 و 1190) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3206
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ٢- اس باب میں ابوالحمراء، معقل بن یسار اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٩٩) (ضعیف) (سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں)
3207Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْإِسْلَامِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْعِتْقِ فَأَعْتَقْتَهُ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولا سورة الأحزاب آية 37، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا، قَالُوا: تَزَوَّجَ حَلِيلَةَ ابْنِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ سورة الأحزاب آية 40، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّاهُ وَهُوَ صَغِيرٌ، فَلَبِثَ حَتَّى صَارَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5 فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانٍ وَفُلَانٌ أَخُو فُلَانٍ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 يَعْنِي أَعْدَلُ عِنْدَ اللهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَوْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 37 هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يُرْوَ بِطُولِهِ،

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم اللہ عليه» جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام کیے تھے اور آپ نے بھی (اسے آزاد کر کے) اس پر انعام و احسان کیے تھے کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو (طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تم لوگوں کے (لعن طعن) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ تم اس سے ڈرو ، سے لے کر «وكان أمر اللہ مفعولا» تک چھپالیتے، رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے (زینب سے) شادی کرلی تو لوگوں نے کہا: آپ نے اپنے (لے پالک) بیٹے کی بیوی سے شادی کرلی، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما کان محمد أبا أحد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبيين» محمد ( ﷺ ) تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین (آخری نبی) ہیں ، نازل فرمائی، زید چھوٹے تھے تبھی رسول اللہ ﷺ نے انہیں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، وہ برابر آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہوگئے، اور ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباء هم فإخوانکم في الدين ومواليكم» انہیں ان کے (اصلی باپ کی طرف) منسوب کر کے پکارو (جن کے نطفے سے وہ پیدا ہوئے ہیں) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف بات ہے، لیکن اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو (کہ وہ کون ہیں) تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں ، فلاں فلاں کا دوست ہے اور فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے ٤ ؎، «هو أقسط عند الله» یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی کا مفہوم یہ ہے کہ پورا انصاف ہے۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: If Allah’s Messenger ﷺ were to conceal anything of the revelation then he would have surely concealed this verse: And (recall) when you (O Prophet) said to him (Zayd ibn Harithah) whom Allah has blessed (with Islam) and to whom you had shown favour (with freedom), “Keep you wife to yourself and fear Allah, and while you were concealing in your mind that which Allah was going to disclose, and you were fearing mankind, whereas Allah has a better right for you to fear Him. So when Zayd had had his want fulfilled of her, we joined her in marriage to you, in order that there should be no blame for the believers in marrying the wives of their adopted sons who have had their want fulfilled of them. And Allah’s commandment is ever performed. (33: 33) When Allah’s Messenger married her, they said, “He has married his son’s wife.” So, Allah revealed: "Muhammad is not the father of anyone of you men, but he is the Messenger of Allah, and the last of the Prophets." (33: 40) Allahs Messenger ﷺ had adopted him when he was a young child and he stayed with him till he attained manhood. He was called Zayd bin Muhammad so Allah revealed; "Assert their relationship to their fathers; this is more equitable with Allah; but if you do not know their fathers, then they are your brethren in faith and your friends;" (33:5) Thus (call in this manner) so-and-so friend of so-and-so, and so-and-so brother of so-and-so. “That is more equitable in the sight of Allah. (33: 5) That is, more fair in Allah’s sight. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسناد جداصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3207
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔ اس سند سے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: اگر نبی اکرم ﷺ وحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم اللہ عليه وأنعمت عليه» چھپاتے، (اس روایت میں) یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے ٥ ؎۔
Notes · وضاحت
٤ ؎: اگر وہ آزاد ہوں تو ترجمہ ہوگا فلاں فلاں کے دوست، حلیف اور اگر آزاد کردہ غلام ہوں تو ترجمہ ہوگا فلاں فلاں کا آزاد کردہ غلام یہی بات «موالیکم» کے ترجمہ میں بھی ملحوظ رہے۔ ٥ ؎: یعنی: اس حدیث کی دو سندوں میں شعبی کے بعد مسروق کا اضافہ ہے، اور یہی سندیں متصل ہیں ( یہ آگے آرہی ہیں ) پہلی سند میں انقطاع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦١٦٩) (ضعیف الإسناد جداً )
3209Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَا كُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر ہی پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ایسے لوگوں کو ان کے اصلی باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارو یہی اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے (الاحزاب: ٥) ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said, “We used to call Zayd ibn Harithah, Zayd ibn Muhammad till the Qur’an was revealed: "Call them by (the names of) their fathers: that is more equitable in the sight of Allah." (33:5) [Ahmed 5480, Bukhari 4782, Muslim 2425]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3209
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب ٢ (٤٧٨٢)، و ٥ (٤٧٨٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٠ (٢٤٢٥)، ویأتي عند المؤلف في المناقب (٣٨١٤) (تحفة الأشراف: ٧٠٢١) (صحیح)
3210Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيّ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة الأحزاب آية 40، قَالَ: مَا كَانَ لِيَعِيشَ لَهُ فِيكُمْ وَلَدٌ ذَكَرٌ.

عامر شعبی اللہ کے اس قول «ما کان محمد أبا أحد من رجالکم» (لوگو! ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ( ﷺ ) نہیں (الاحزاب: ٤٠) ، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد زندہ نہ رہنے والی نرینہ اولاد ہے ١ ؎۔

Aamir Shabi (RA) said in explanation of this verse: "Muhammad is not the father of anyone of your men." (33:40). none of his sons survived him among you.

ضعيف مقطوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3210
Notes · وضاحت
١ ؎: ورنہ نرینہ اولاد تو آپ کے یہاں بھی پیدا ہوئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (ضعیف الإسناد) (سند میں ” مسلمہ بن علقمہ “ صدوق ہیں، لیکن ان سے احادیث میں اوہام پائے جاتے ہیں)
3211Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا أَرَى كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا لِلرِّجَالِ، وَمَا أَرَى النِّسَاءَ يُذْكَرْنَ بِشَيْءٍ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة الأحزاب آية 35 الْآيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام عمارہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: کیا بات ہے میں ہر چیز مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا (قرآن میں) کہیں ذکر نہیں ملتا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات» آخر آیت تک۔

Sayyidah Umm Umarah Ansariyah (RA) came to the Prophet ﷺ and said, “I do not see but everything is about men and I do not find any mention of women.’ So this verse was revealed: "For Muslim men and women for beliand women. (33 35) the verse to the end).[Ahmed 26636)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3211
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨٣٣٧) (صحیح الإسناد)
3213Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا سورة الأحزاب آية 37 قَالَ: فَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: زَوَّجَكُنَّ أَهْلُكُنَّ، وَزَوَّجَنِي اللَّهُ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «فلما قضی زيد منها وطرا زوجناکها» زید نے جب ان سے اپنی حاجت پوری کرلی (انہیں طلاق دے دی) تو ہم نے تمہاری شادی اس سے کردی (الاحزاب: ٣٧) ، زینب بنت جحش ؓ کے بارے میں اتری ہے۔ انس کہتے ہیں: چناچہ اسی بناء پر وہ نبی اکرم ﷺ کی دوسری بیویوں پر یہ کہہ کر فخر کرتی تھیں کہ تمہاری شادیاں رسول اللہ ﷺ سے تمہارے گھر والوں (رشتہ داروں) نے کی ہیں، اور میری شادی تو اللہ نے آپ سے ساتویں آسمان پر کردی ہے۔

Sayyidina Anas reported about this verse: "But you did hide in your heart." (33 : 37) It was about Zaynab bint Jahsh.”O Zayd came (to the Prophet) and complained (about her) having resolved to divorce her. The Prophet ﷺ advised him to: "Retain you your wife, and fear Allah." (33 : 37) [Ahmed 12513, Bukhari 4787]

صحيح مختصر العلو (84 / 6)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3213
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ٢٢ (٧٤٢١)، سنن النسائی/النکاح ٢٦ (٣٢٥٤) (تحفة الأشراف: ٣٠٧، و مسند احمد (٣/٢٢٦) (صحیح)