Sunan At-Tirmidhi 3209

قرآن کی تفسیر کا بیان

3209Sunan At-Tirmidhi

سورہ احزاب کی تفسیر

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَا كُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر ہی پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ایسے لوگوں کو ان کے اصلی باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارو یہی اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے (الاحزاب: ٥) ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said, “We used to call Zayd ibn Harithah, Zayd ibn Muhammad till the Qur’an was revealed: "Call them by (the names of) their fathers: that is more equitable in the sight of Allah." (33:5) [Ahmed 5480, Bukhari 4782, Muslim 2425]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3209
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب ٢ (٤٧٨٢)، و ٥ (٤٧٨٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٠ (٢٤٢٥)، ویأتي عند المؤلف في المناقب (٣٨١٤) (تحفة الأشراف: ٧٠٢١) (صحیح)