Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 74 of 199

1528Sunan At-Tirmidhi

نذرغیر معین کے کفارے کے متعلق۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَّارَةُ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر متعین نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The expiation for an unspecified vow is the same as for an oath.” [Muslim 1645]

ضعيف، وهو صحيح دون قوله: إذا لم يسم، الإرواء (2586)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1528
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس نے کوئی نذر مانی اور اس کا نام نہیں لیا یعنی صرف اتنا کہا کہ اگر میری مراد پوری ہوجائے تو مجھ پر نذر ہے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النذور ٥ (١٦٤٥)، سنن ابی داود/ الأیمان ٣١ (٣٣٢٣)، سنن النسائی/الأیمان ٤١ (٣٨٦٣)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٧ (٢١٢٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩٦٠)، و مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٧) (صحیح) (لیکن ” لم یسم “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کے سوا کسی کے یہاں ہے بھی نہیں (جبکہ ابوداود نے اسی کا لحاظ رکھ کر ” من نذر نذراً لم یسم “ کا باب باندھا ہے) یہ مؤلف کے راوی ” محمد مولیٰ المغیرہ “ کا اضافہ ہے جو خود مجہول راوی ہیں، یہ دیگر کی سندوں میں نہیں ہیں )
1529Sunan At-Tirmidhi

اگر کوئی شخص کسی کام کے کرنے کی قسم کھائے اور اس قسم کو توڑنے میں ہی بھلائی ہو تو اس کو توڑ دے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يُونُسَ هُوَ: ابْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أَتَتْكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أَتَتْكَ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَبِي مُوسَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبدالرحمٰن! منصب امارت کا مطالبہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اسی کے سپرد کردیئے جاؤ گے ١ ؎، اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی مدد و توفیق تمہارے شامل ہوگی، اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ پھر دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھو تو جسے تم بہتر سمجھتے ہو اسے ہی کرو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو ۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “O Abdur Rahman, do not ask for office of authority, for if you are given one on your asking then you will be left to yourself to tackle the affairs. But, if you get it without asking for it then you will be helped. And when you take an oath but see something else better than it then opt for that which is better and make an atonement for your oath.” [Bukhari 6622, Muslim 1652]

صحيح، الإرواء (7 / 166 - 8 / 228 / 2601)، صحيح أبي داود (2601)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1529
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، جابر، عدی بن حاتم، ابو الدرداء، انس، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ام سلمہ اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید تمہیں حاصل نہیں ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان والنذور ١ (٦٦٢٢)، والکفارات ١٠ (٦٧٢٢)، والأحکام ٥ (٤١٤٦)، صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٥٢)، سنن ابی داود/ الخراج ٢ (٢ (٢٩٢٩)، سنن النسائی/آداب القضاة ٥ (٥٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٥)، و مسند احمد (٥/٦٦) وسنن الدارمی/النذور ٩ (٢٣٩١) (صحیح )
1530Sunan At-Tirmidhi

کفارہ قسم توڑنے سے پہلے دے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ تُجْزِئُ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُكَفِّرُ إِلَّا بَعْدَ الْحِنْثِ، قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: إِنْ كَفَّرَ بَعْدَ الْحِنْثِ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَإِنْ كَفَّرَ قَبْلَ الْحِنْثِ أَجْزَأَهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو آدمی کسی امر پر قسم کھائے، اور اس کے علاوہ کام کو اس سے بہتر سمجھے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے (جسے وہ بہتر سمجھتا ہے) ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘If anyone takes an oath but finds (something else as) a better proposition then let him make an expiation for his oath, and undertake the better proposition.” [Ahmed 8742, Muslim 1650]

صحيح، الإرواء (2084)، الروض النضير (1029)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1530
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ام سلمہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - اکثر اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا صحیح ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں:«حانث» ہونے (یعنی قسم توڑنے) کے بعد ہی کفارہ ادا کیا جائے گا، ٥ - سفیان ثوری کہتے ہیں: اگر کوئی «حانث» ہونے (یعنی قسم توڑنے) کے بعد کفارہ ادا کرے تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے اور اگر «حانث» ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرے تو بھی درست ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث جو اس سے پہلے مذکور ہے اور باب کی اس حدیث کے الفاظ مجموعی طور پر قسم توڑنے کی صورت میں کفارہ کی ادائیگی کو پہلے بھی اسی طرح جائز بتاتے ہیں جس طرح اس کے بعد جائز بتاتے ہیں، جمہور کا یہی مسلک ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قسم کا کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ادا کرنا کسی حالت میں صحیح نہیں ہے تو ابوداؤد کی حدیث «فكفر عن يمينک ثم ائت الذي هو خير» ان کے خلاف حجت ہے اس میں کفارہ کے بعد «ثم» کا لفظ ترتیب کا مقتضی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٣ (٦٥٠/١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٧٣٨)، و مسند احمد (٢/٣٦١) (صحیح )
1531Sunan At-Tirmidhi

قسم میں (اسثنائ) انشاء اللہ کہنا۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى، فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، مَوْقُوفًا، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مَوْقُوفًا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وقَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَكَانَ أَيُّوبُ أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ، وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ إِذَا كَانَ مَوْصُولًا بِالْيَمِينِ، فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور ساتھ ہی ان شاء اللہ کہا، تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If any one swears an oath and says Insha Allah (if god wills) then he has made an exception. (He will not have to pay an expiation if he goes contrary to it). [Abu Dawud 3261, Muslim 3838]

صحيح، ابن ماجة (2105)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1531
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو عبیداللہ بن عمرو وغیرہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے موقوفا روایت کیا ہے، اسی طرح اس حدیث کو سالم بن علیہ نے ابن عمر ؓ سے موقوفاً روایت کی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ایوب سختیانی کے سوا کسی اور نے بھی اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، اسماعیل بن ابراہیم کہتے ہیں: ایوب اس کو کبھی مرفوعاً روایت کرتے تھے اور کبھی مرفوعاً نہیں روایت کرتے تھے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جب قسم کے ساتھ «إن شاء اللہ» کا جملہ ملا ہو تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے، سفیان ثوری، اوزاعی، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کی رو سے قسم کھانے والا ساتھ ہی اگر «إن شاء اللہ» کہہ دے تو ایسی قسم توڑنے پر کفارہ نہیں ہوگا، کیونکہ قسم کو جب اللہ کی مشیئت پر معلق کردیا جائے تو وہ قسم منعقد نہیں ہوئی، اور جب قسم منعقد نہیں ہوئی تو توڑنے پر اس کے کفارہ کا کیا سوال؟۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ١١ (٣٢٦١)، سنن النسائی/الأیمان ١٨ (٣٨٠٢)، و ٣٩ (٣٨٣٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٦ (٢١٠٥)، (تحفة الأشراف: ٧٥١٧)، و مسند احمد (٢/٦، ١٠، ٤٨، ١٥٣) (صحیح )
1532Sunan At-Tirmidhi

قسم میں (اسثنائ) انشاء اللہ کہنا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَمْ يَحْنَثْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ، أَخْطَأَ فِيهِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، اخْتَصَرَهُ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ، قَالَ، لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً، تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ غُلَامًا، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ، فَلَمْ تَلِدِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ، إِلَّا امْرَأَةٌ نِصْفَ غُلَامٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَكَانَ كَمَا قَالَ ، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، هَذَا الْحَدِيثُ بِطُولِهِ، وَقَالَ: سَبْعِينَ امْرَأَةً، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا، وہ «حانث» نہیں ہوا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘If anyone swears and adds Insha Allah then he does not commit perjury.” [Ahmed 8094]

صحيح، ابن ماجة (2104)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1532
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث میں غلطی ہے، اس میں عبدالرزاق سے غلطی ہوئی ہے، انہوں نے اس کو معمر کی حدیث سے اختصار کردیا ہے، معمر اس کو بسند «ابن طاؤس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے کہا: (اللہ کی قسم! ) آج رات میں ستر بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا، ہر عورت سے ایک لڑکا پیدا ہوگا، وہ ستر بیویوں کے پاس گئے، ان میں سے کسی عورت نے بچہ نہیں جنا، صرف ایک عورت نے آدھے (ناقص) بچے کو جنم دیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر انہوں (سلیمان علیہ السلام) نے «إن شاء اللہ» کہہ دیا ہوتا تو ویسے ہی ہوتا جیسا انہوں نے کہا تھا ، اسی طرح یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ عبدالرزاق سے آئی ہے، عبدالرزاق نے بسند «معمر عن ابن طاؤس عن أبيه» روایت کی ہے اس میں «علی سبعين امرأة» کے بجائے «سبعين امرأة» ہے، یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے دیگر سندوں سے آئی ہے، (اس میں یہ ہے کہ) وہ نبی کرم ﷺ سے (یوں) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سلیمان بن داود نے کہا: آج رات میں سو بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس نے قسم نہیں توڑی، اور ایسی قسم توڑنے سے اس پر کفارہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان ٤٣ (٣٨٨٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٦ (٢١٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٢٣) (صحیح )
1533Sunan At-Tirmidhi

غیر اللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ، مَا حَلَفْتُ بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَقُتَيْلَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ، مَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَا آثِرًا، أَيْ: لَمْ آثُرْهُ عَنْ غَيْرِي، يَقُولُ: لَمْ أَذْكُرْهُ عَنْ غَيْرِي.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر ؓ کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! آپ نے (انہیں بلا کر) فرمایا: سنو! اللہ نے تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے ، عمر ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے (باپ دادا کی) قسم نہیں کھائی، نہ جان بوجھ کر اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔

Saalim reported from his father that the Prophet ﷺ heard Umar (RA) say,” By my father! By my father!” So, he said, “Know that Allah farbids you to swear on your ancestors.” Umar (RA)then said, “By Allah! I never swore on them after that neither for myself nor on behalf of others.” [Bukhari 6647, Muslim 1646]

صحيح، ابن ماجة (2094)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1533
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ثابت بن ضحاک، ابن عباس، ابوہریرہ، قتیلہ اور عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابو عبید کہتے ہیں کہ عمر کے قول «ولا آثرا» کے یہ معنی ہیں «لم آثره عن غيري» (میں نے دوسرے کی طرف سے بھی نقل نہیں کیا) عرب اس جملہ کو «لم أذكره عن غيري» کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٧٤ (٦١٠٨)، و الأیمان ٤ (٦٦٤٦، وتعلیقاً بعد حدیث ٦٦٤٧) صحیح مسلم/الأیمان ١ (١٦٤٦/٣)، سنن النسائی/الأیمان ٤ (٣٧٩٦)، و ٥ (٣٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٨)، وط/النذور ٩ (١٤)، و مسند احمد (٢/١١، ٣٤، ٩٦) (صحیح )
1534Sunan At-Tirmidhi

غیر اللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ وَهُوَ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، لِيَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَسْكُتْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر ؓ کو ایک قافلہ میں پایا، وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تم لوگوں کو باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے، قسم کھانے والا اللہ کی قسم کھائے ورنہ چپ چاپ رہے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ overtook Sayyidina Umar (RA) while he was riding his beast and swearing by his father. Allah’s Messenger ‘ said, “Surely Allah has disallowed that you swear by your fathers. If anyone swears then he must swear by Allah, or observe silence.” [Bukhari 6646, Muslim 1646]

صحيح، ابن ماجة (2094)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1534
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ٨٠٥٨) (صحیح )
1535Sunan At-Tirmidhi

غیر اللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا، وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَفُسِّرَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ قَوْلَهُ: فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ ، عَلَى التَّغْلِيظِ وَالْحُجَّةُ، فِي ذَلِكَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الرِّيَاءَ شِرْكٌ، وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذِهِ الْآيَةَ: فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا سورة الكهف آية 110 قَالَ: لَا يُرَائِي.

سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے ایک آدمی کو کہتے سنا: ایسا نہیں قسم ہے کعبہ کی، تو اس سے کہا: غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا ۔

Sa’d ibn Ubaydah narrated : Sayyidina Ibn Umar (RA) heard a man swear by the Ka’bah. He said, “Do not swear by other than Allah, for I had heard Allah’s Messenger ‘ ﷺ say that if anyone swears by anyone besides Allah then he has disbelieved or associated (with Allah).” [Abu Dawud 3251, Ahmed 6179]

صحيح، الإرواء (2561)، الصحيحة (2042)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1535
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کی تفسیر بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان «فقد کفر أو أشرك» تنبیہ و تغلیظ کے طور پر ہے، اس کی دلیل ابن عمر ؓ کی حدیث ہے، نبی اکرم ﷺ نے عمر کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم، میرے باپ کی قسم! تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے ، نیز ابوہریرہ ؓ کی (روایت) کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھائی وہ «لا إله إلا الله» کہے، ٣ - یہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہے بیشک ریا، شرک ہے، ٤ - بعض اہل علم نے آیت کریمہ «فمن کان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا» (الکہف: ١١٠ ) کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ ریا نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ٥ (٣٢٥١)، (تحفة الأشراف: ٧٠٤٥)، و مسند احمد ٢/٨٧، ١٢٥) (صحیح )
1536Sunan At-Tirmidhi

جو شخص چلنے کی استطاعت نہ ہونے کے باوجود چلنے کی قسم کھالے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: نَذَرَتِ امْرَأَةٌ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَسُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِهَا مُرُوهَا فَلْتَرْكَبْ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالُوا: إِذَا نَذَرَتِ امْرَأَةٌ أَنْ تَمْشِيَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ شَاةً.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ تک (پیدل) چل کر جائے گی، نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے (پیدل) چلنے سے بےنیاز ہے، اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے ۔

Sayyidina Anas (RA) narrated that a woman vowed to walk up to the House of Allah. When the Prophet ﷺ was asked about it, he said, “Allah is not in need of her walking (all the way). Instruct her to ride (up to it).”

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1536
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب عورت (حج کو پیدل) چل کر جانے کی نذر مان لے تو وہ سوار ہوجائے اور ایک بکری دم میں دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٣٢) (حسن صحیح )
1537Sunan At-Tirmidhi

جو شخص چلنے کی استطاعت نہ ہونے کے باوجود چلنے کی قسم کھالے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يَتَهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَذَا ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ ، قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک بوڑھے کے قریب سے گزرے جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے (حج کے لیے) چل رہا تھا، آپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے ان کا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے (پیدل) چلنے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل اس کے اپنی جان کو عذاب دینے سے بےنیاز ہے ، پھر آپ نے اس کو سوار ہونے کا حکم دیا۔

Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger came by an old man being led by his two sons. He asked about him and was told that he had vowed to walk. He said, ‘Indeed, Allah has no concern with his punishing himself. Instruct him to ride.’ [Bukhari 6701, Muslim 3301]

1538Sunan At-Tirmidhi

نذر کی کراہت۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَنْذِرُوا، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا النَّذْرَ، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: مَعْنَى الْكَرَاهِيَةِ فِي النَّذْرِ: فِي الطَّاعَةِ وَالْمَعْصِيَةِ، وَإِنْ نَذَرَ الرَّجُلُ بِالطَّاعَةِ فَوَفَّى بِهِ، فَلَهُ فِيهِ أَجْرٌ، وَيُكْرَهُ لَهُ النَّذْرُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر مت مانو، اس لیے کہ نذر تقدیر کے سامنے کچھ کام نہیں آتی، صرف بخیل اور کنجوس کا مال اس طریقہ سے نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messanger ﷺ said, “Do not make vows, for a vow is of no use against fate. It is only that the miserly will make some expenses.’ [Muslim 1640]

صحيح، ابن ماجة (2123 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1538
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ نذر کو مکروہ سمجھتے ہیں، ٤ - عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: نذر کے اندر کراہیت کا مفہوم طاعت اور معصیت دونوں سے متعلق ہے، اگر کسی نے اطاعت کی نذر مانی اور اسے پورا کیا تو اسے اس نذر کے پورا کرنے کا اجر ملے گا، لیکن یہ نذر مکروہ ہوگی ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نذر سے منع کرنا دراصل بہتر کی طرف رہنمائی کرنا مقصود ہے، صدقہ و خیرات کو مقصود کے حصول سے معلق کرنا کسی بھی صاحب عظمت و مروت کے شایان شان نہیں، یہ عمل اس بخیل کا ہے جو کبھی خرچ نہیں کرتا اور کرنے پر بہتر چیز کی خواہش رکھتا ہے اور ایسا وہی شخص کرتا ہے جس کا دل صدقہ و خیرات کرنا نہیں چاہتا صرف کسی تنگی کے پیش نظر اصلاح حال کے لیے صدقہ و خیرات کی نذر مانتا ہے، نذر سے منع کرنے کی یہی وجہ ہے «واللہ اعلم»۔ ٢ ؎: اور اگر معصیت کی نذر ہو تو اس کا پورا کرنا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/النذور ٢ (١٦٤٠)، سنن ابی داود/ الأیمان ٢١ (٣٢٨٨)، سنن النسائی/الأیمان ٢٥ (٣٨٣٥)، و ٢٦ (٣٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٠٠)، و مسند احمد (٢/٢٣٥، ٣٠١، ٣١٤، ٤١٢، ٤٦٣) (صحیح )
1539Sunan At-Tirmidhi

نذر کو پورا کرنا۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْعُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، قَالُوا: إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ، وَعَلَيْهِ نَذْرُ طَاعَةٍ، فَلْيَفِ بِهِ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، وقَالَ آخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ عَلَى الْمُعْتَكِفِ صَوْمٌ، إِلَّا أَنْ يُوجِبَ عَلَى نَفْسِهِ صَوْمًا، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ أَنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَفَاءِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا، (تو اس کا حکم بتائیں؟ ) آپ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ١ ؎۔

Sayyidina Umar ﷺ reported that he said, “O Messenger of Allah, during the jahiliyah, I had vowed to observe i’tikaf for one night in the Masjid Haram.” He said, “Fulfil your vow.’ [Bukhari 2042, Muslim 1656]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1539
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی اسلام لائے، اور اس کے اوپر جاہلیت کی نذر طاعت واجب ہو تو اسے پوری کرے، ٤ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ بغیر روزے کے اعتکاف نہیں ہے اور دوسرے اہل علم کہتے ہیں کہ معتکف پر روزہ واجب نہیں ہے الا یہ کہ وہ خود اپنے اوپر (نذر مانتے وقت) روزہ واجب کرلے، ان لوگوں نے عمر ؓ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا (اور روزے کا کوئی ذکر نہیں کیا) ، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ عمر ؓ نے ایک رات کے لیے مسجد الحرام میں اعتکاف کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٥ (٣٠٣٢)، و ١٥ (٣٠٤٢)، و ١٦ (٢٠٤٣)، والخمس ١٩ (٣١٤٤)، والمغازي ٥٤ (٤٣٢٠)، والأیمان ٢٩ (٦٦٩٧)، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦)، سنن ابی داود/ الأیمان ٣٢ (٣٣٢٥)، سنن النسائی/الأیمان ٣٦ (٣٨٣٠)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦٠ (١٧٧٢)، والکفارات ١٨ (٢١١٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٥٠)، و مسند احمد (١/٣٧) وأیضا (٢/٢٠، ٨٢، ١٥٣) وسنن الدارمی/النذور ١ (٢٣٧٨) (صحیح )
1540Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ کیسے قسم کھاتے تھے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَثِيرًا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ بِهَذِهِ الْيَمِينِ، لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قسم کھاتے تھے تو اکثر «لا ومقلب القلوب» کہتے تھے نہیں، دلوں کے بدلنے والے کی قسم ١ ؎۔

Sayyidina lbn Umar reported that it was often that Allah’s Messengr took oath in these words, “No, by the Turner of hearts!.” [Bukhari 6617, Abu Dawud 3263] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2092)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1540
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے قسم کھانے کا انداز و طریقہ بیان ہوا ہے کہ پہلے سے جو بات چل رہی تھی اگر صحیح نہ ہوتی تو آپ پہلے لفظ «لا» سے اس کی نفی اور تردید فرماتے، پھر اللہ کے صفاتی نام سے اس کی قسم کھاتے، یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء سے قسم کھانی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/القدر ١٤ (٦٦١٧)، والأیمان ٣ (٦٦٢٨)، والتوحید ١١ (٧٣٩١)، سنن ابی داود/ الأیمان ١٢ (٣٢٦٣)، سنن النسائی/الأیمان ١ (٣٧٧٠)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١ (٢٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ٧٠٢٤)، و مسند احمد (٢/٢٦، ٦٧، ٦٨، ١٢٧) (صحیح )
1541Sunan At-Tirmidhi

غلام آزاد کرنے کے ثواب۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، أَعْتَقَ اللَّهُ مِنْهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ، حَتَّى يَعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَابْنُ الْهَادِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ وَهُوَ مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ، قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ایک ایک عضو کو آگ سے آزاد کرے گا، یہاں تک کہ اس (غلام) کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو آزاد کرے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone sets a Believing slave free then Allah will release from the fire a limb of his against each limb of the slave, even his sexual organ against slaves.’ [Bukhari 6715, Muslim 1509]

صحيح، الإرواء (1742)، الروض النضير (353)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1541
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح، غریب ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، عمرو بن عبسہ، ابن عباس، واثلہ بن اسقع، ابوامامہ، عقبہ بن عامر اور کعب بن مرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب اور اگلے باب میں مذکور احادیث کا تعلق کتاب الأيمان سے یہ ہے کہ قسم کے کفارہ میں پہلے غلام آزاد کرنا ہی ہے، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ١ (٢٥١٧)، والکفارات ٦ (٦٧١٥)، صحیح مسلم/العتق ٥ (١٥٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٨٨ (صحیح )
1542Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنے غلام کو تمانچہ مارے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَبْعَةَ إِخْوَةٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: لَطَمَهَا عَلَى وَجْهِهَا .

سوید بن مقرن مزنی ؓ کہتے ہیں کہ صورت حال یہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے، ہمارے پاس ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اس کو طمانچہ مار دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کردیں۔

Suwayd ibn Muqarrin Muzani said, “We were seven brothers. We did not have but only one servant among us. One of us slapped him. So, the Prophet ﷺ commanded us to set him free.” [Muslim 1658]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1542
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے حصین بن عبدالرحمٰن سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ سوید بن مقرن مزنی نے «لطمها علی وجهها» کہا یعنی اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا ۔ ٣ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٨ (١٦٥٨)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٣ (٥١٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨١١)، و مسند احمد (٣/٤٤٨)، و (٥/٤٤٤) (صحیح )
1543Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنے غلام کو تمانچہ مارے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: هُوَ يَهُودِيٌّ، أَوْ نَصْرَانِيٌّ، إِنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَفَعَلَ ذَلِكَ الشَّيْءَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ أَتَى عَظِيمًا وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَإِلَى هَذَا الْقَوْلِ ذَهَبَ أَبُو عُبَيْدٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ: عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْكَفَّارَةُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

ثابت بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائی وہ ویسے ہی ہوگیا جیسے اس نے کہا ١ ؎۔

Sayyidina Thabit ibn Dahhak reported that Allah’s Messenger said, ‘If anyone swears by a religion other than Islam falsely then he is as he says.’ [Bukhari 1363, Muslim 110]

صحيح، ابن ماجة (2098)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1543
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جب کوئی اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی قسم کھائے اور یہ کہے: اگر اس نے ایسا ایسا کیا تو یہودی یا نصرانی ہوگا، پھر اس نے وہ کام کرلیا، تو بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس نے بہت بڑا گناہ کیا لیکن اس پر کفارہ واجب نہیں ہے، یہ اہل مدینہ کا قول ہے، مالک بن انس بھی اسی کے قائل ہیں اور ابو عبید نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ٣ - اور صحابہ و تابعین وغیرہ میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس صورت میں اس پر کفارہ واجب ہے، سفیان، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٣ (١٣٦٣)، والأدب ٤٤ (٦٠٤٧)، و ٧٣ (٦١٠٥)، والأیمان ٧ (٦٦٥٢)، صحیح مسلم/الأیمان ٤٧ (١١٠)، سنن ابی داود/ الأیمان ٩ (٣٢٥٧)، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠١)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٣ (٢٠٩٨)، و ٣١ (٣٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٢)، و مسند احمد (٤/٣٣، ٣٤) (صحیح )
1544Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنے غلام کو تمانچہ مارے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، فَلْتَرْكَبْ وَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے نذر مانی ہے کہ وہ چادر اوڑھے بغیر ننگے پاؤں چل کر خانہ کعبہ تک جائے گی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا! ١ ؎ اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہوجائے، چادر اوڑھ لے اور تین دن کے روزے رکھے ٢ ؎۔

Sayyidina Uqbahibn Aamir (RA)narrated : I said, O Messenger of Allah, my sister had vowed that she would walk up to Bayt Allah (House of Allah) bare footed and without a covering cloak.” The Prophet ﷺ said, “Allah has nothing to do with the hardship enforced on herself by your sister. Let her ride and cover herself and keep fast for three days.” [Abu Dawud 3293, Nisai 3824, Ibn e Majah 2134, Ahmed 17292]

ضعيف، ابن ماجة (2134)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1544
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب اسے نہیں دے گا۔ ٢ ؎: اس حدیث کی رو سے اگر کسی نے بیت اللہ شریف کی طرف پیدل یا ننگے پاؤں چل کر جانے کی نذر مانی ہو تو ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری اور لازم نہیں، اور اگر کسی عورت نے ننگے سر جانے کی نذر مانی ہو تو اس کو تو پوری ہی نہیں کرنی ہے کیونکہ یہ معصیت اور گناہ کا کام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ٢٣ (٣٢٩٣، ٣٢٩٩٤)، سنن النسائی/الأیمان ٣٣ (٣٨٤٥)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣٠)، و مسند احمد (٤/١٤٣، ١٤٥، ١٤٩، ١٥١)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیداللہ بن زحر “ سخت ضعیف ہیں، اس میں ” روزہ والی بات “ ضعیف ہے، باقی ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں )
1545Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنے غلام کو تمانچہ مارے

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ هُوَ الْخَوْلَانِيُّ الْحِمْصِيُّ وَاسْمُهُ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں کہا: لات اور عزیٰ کی قسم ہے! وہ «لا إله إلا الله» کہے اور جس شخص نے کہا: آؤ جوا کھیلیں وہ صدقہ کرے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) repdrted that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone of you swears and says, By Laat and Uzza’ then let him say, i (There is no god but Allah). And if anyone invites another to gambling then let him give sadaqah.” [Bukhari 6650, Muslim 1647]

صحيح، ابن ماجة (2096)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1545
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٦٠)، والأدب ٧٤ (٦١٠٧)، والاستئذان ٥٢ (٦٣٠١)، والأیمان ٥ (٦٦٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٨)، سنن ابی داود/ الأیمان ٤ (٣٢٤٧)، سنن النسائی/الأیمان ١١ (٣٧٨٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٦)، و مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )
1546Sunan At-Tirmidhi

میت کی طرف سے نذر پوری کرنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِ عَنْهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے جو ان کی ماں پر واجب تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ مرگئیں، فتویٰ پوچھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان کی طرف سے نذر تم پوری کرو ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Sayyidina Sa’d ibn Ubadahh asked Allah’s Messenger ﷺ about a vow his mother had made but she died before she could fulfil it. The Prophet ﷺ said, “Fulfill it on her behalf.” [Bukhari 2761, Muslim 1638]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1546
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: میت کے واجب حقوق کو پورا کرنا اس کے وارثوں کے ذمہ واجب ہے، اس کے لیے میت کی طرف سے اسے پوری کرنے کی وصیت ضروری نہیں، ورثاء کو اپنی ذمہ داری کا خود احساس ہونا چاہیئے، اور ورثاء میں سے اسے پورا کرنے کی زیادہ ذمہ داری اولاد پر ہے، اگر نذر کا تعلق مال سے ہے تو اسے پوری کرنا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١٩ (٢٧٦١)، والأیمان ٣٠ (٦٦٩٨)، والحیل ٣ (٦٩٥٩)، صحیح مسلم/النذور ١ (١٦٣٨)، سنن ابی داود/ الأیمان ٢٥ (٣٣٠٧)، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨٨)، والأیمان ٣٥ (٣٨٤٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٩ (٢١٢٣)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٥)، وط/النذور ١ (١)، و مسند احمد (١/٢١٩، ٢٢٩، ٣٧٠) (صحیح )
1547Sunan At-Tirmidhi

گردنیں آزاد کرنے کی فضلیت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُمَا عُضْوًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، كَانَتْ فَكَاكَهَا مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عِتْقَ الذُّكُورِ لِلرِّجَالِ أَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الْإِنَاثِ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ .

ابوامامہ ؓ اور دوسرے صحابہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے گا، تو یہ آزاد کرنا اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگا، اس آزاد کیے گئے مرد کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے گا، تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں گی، ان دونوں آزاد عورتوں کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی، تو یہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگی، اس آزاد کی گئی عورت کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا ۔

Sayyidina Abu Umamah and some other sahabah (RA) reported that Allah’s Messenger I said, ‘If any Muslim sets a Muslim slave free then against every limb of the slave, a limb of his will be set free from the fire. And, if a Muslim sets two Muslim slavewomen free then a limb of his will be set free against each of their limbs. And, if a Muslim woman sets a Muslim woman free then against each of her limbs a limb of her will be set free.” [Ahmed 10805]

صحيح، ابن ماجة (2522)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1547
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث دلیل ہے کہ مردوں کے لیے مرد آزاد کرنا عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگا، اس آزاد کئے گئے مرد کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی جو اپنی سندوں کے اعتبار سے صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٨٦٤) (صحیح) وأما حدیث غیرہ من أصحاب النبی ﷺ فأخرجہ من حدیث أبي نجیح السلمي (عمرو بن عبیسة)، سنن ابی داود/ العتق ١٤ (٣٩٦٥، ٣٩٦٦)، و مسند احمد (٤/١١٣، ٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٥ و ١٠٧٧٢) ومن حدیث کعب بن مرة: د (برقم ٣٩٦٧)، و ن (رقم ٣١٤٢) و سنن ابن ماجہ/العتق ٤ (٢٥٢٢)، و مسند احمد (٤/٢٣٤، ٢٣٥، ٣٢١) (تحفة الأشراف: ١١١٦٣ )