براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: جب تک نماز عید ادا نہ کرلے کوئی ہرگز قربانی نہ کرے ۔ براء کہتے ہیں: میرے ماموں کھڑے ہوئے ١ ؎، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں (زیادہ ہونے کی وجہ سے) گوشت قابل نفرت ہوجاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی جلد کردی تاکہ اپنے بال بچوں اور گھر والوں یا پڑوسیوں کو کھلا سکوں؟ آپ نے فرمایا: پھر دوسری قربانی کرو ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! وہ تمہاری دونوں قربانیوں سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ (بچے) کی قربانی کافی نہ ہوگی ٢ ؎۔ اس باب میں جابر، جندب، انس، عویمر بن اشقر، ابن عمر اور ابوزید انصاری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidina Bara ibn Aazib narrated Allahs Messenger delivered a sermon to us on the day of sacrifice. He said None of you must make a sacrifice until he has
صحيح، الإرواء (2495)، صحيح أبي داود (2495 - 2496)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1508
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب تک امام نماز عید نہ ادا کرلے شہر میں قربانی نہ کی جائے، ٣ - اہل علم کی ایک جماعت نے جب فجر طلوع ہوجائے تو گاؤں والوں کے لیے قربانی کی رخصت دی ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے، ٤ - اہل علم کا اجماع ہے کہ بکری کے جذع (چھ ماہ کے بچے) کی قربانی درست نہیں ہے، وہ کہتے ہیں البتہ بھیڑ کے جذع کی قربانی درست ہے ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا نام ابوبردہ بن نیار تھا۔ ٢ ؎: یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے کیونکہ تمہارے لیے اس وقت مجبوری ہے ورنہ قربانی میں «مسنہ» (دانتا یعنی دو دانت والا) ہی جائز ہے، بکری کا «جذعہ» وہ ہے جو سال پورا کر کے دوسرے سال میں قدم رکھ چکا ہو اس کی بھی قربانی صرف ابوبردہ ؓ کے لیے جائز کی گئی تھی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا صحیح وقت نماز عید کے بعد ہے، اگر کسی نے نماز عید کی ادائیگی سے پہلے ہی جانور ذبح کردیا تو اس کی قربانی نہیں ہوئی، اسے دوبارہ قربانی کرنی چاہیئے۔ ٣ ؎: بھیڑ کے «جذعہ» (چھ ماہ) کی قربانی عام مسلمانوں کے لیے دانتا میسر نہ ہونے کی صورت میں جائز ہے، جب کہ بکری کے جذعہ (ایک سالہ) کی قربانی صرف ابوبردہ ؓ کے لیے جائز کی گئی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٣ (٩٥١)، و ٥ (٩٥٥)، و ٨ (٩٥٧)، و ١٠ (٩٦٨)، و ١٧ (٩٧٦)، و ٢٣ (٩٨٣)، والأضاحي ١ (٥٥٤٥)، و ٨ (٥٥٥٦-٥٥٥٧) و ١١ (٥٥٦٠) و ١٢ (٥٥٦٣)، والأیمان والندور ١٥ (٦٦٧٣)، صحیح مسلم/الأضاحي ١ (١٩٦١)، سنن ابی داود/ الأضاحي ٥ (٢٨٠٠)، سنن النسائی/العیدین ٨ (١٥٦٤)، والضحایا ١٧ (٤٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٩)، و مسند احمد (٤/٢٨٠، ٢٩٧، ٣٠٢، ٣٠٣) وسنن الدارمی/الأضاحي ٧ (٢٠٠٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھائے ١ ؎۔ اس باب میں عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Let none of you eat the flesh of his sacrifice for more than three days.” [Muslim 1970]
صحيح، الإرواء (1155)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1509
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - نبی اکرم ﷺ کی طرف سے یہ ممانعت پہلے تھی، اس کے بعد آپ نے اجازت دے دی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ فرمان خاص وقت کے لیے تھا جو اگلی حدیث سے منسوخ ہوگیا۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا تاکہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے کشادگی کردیں جنہیں قربانی کی طاقت نہیں ہے، سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور (گوشت) جمع کر کے رکھو ١ ؎۔
Sulayman ibn Buraydah reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “I had forbidden you the meat of sacrifice beyond three days that the affluent may be liberal to those who cannot afford. Now, eat as you like, and feed, and store (what you like). [M1971]
١ - بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، ٣ - اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، نبیشہ، ابوسعید، قتادہ بن نعمان، انس اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اب اللہ نے عام مسلمانوں کے لیے بھی کشادگی پیدا کردی ہے اور اب اکثر کو قربانی میسر ہوگئی ہے۔
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے؟ وہ بولیں: نہیں، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جو لوگ قربانی نہیں کرسکے ہیں انہیں کھلایا جائے، ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعد کھاتے تھے ١ ؎۔
Aabis ibn Rabiah reported having asked the Mother of the Faithful Did Allah’s Messenger ﷺ disallow the flesh of the sacrificial animal? She said, No! But few were the people who made a sacrifice. So he liked that those who did not sacrifice should be fed. Indeed, we used to keep aside a trotter and eat it after ten days.’ [Bukhari 5423, Nisai 4445, Ibn e Majah 3159]
ضعيف بهذا السياق، وأصله في صحيح مسلم، الإرواء (4 / 370)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1511
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین (جن سے حدیث مذکور مروی ہے) وہ نبی اکرم ﷺ کی بیوی عائشہ ؓ ہیں، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مقصود یہ ہے کہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کر کے رکھتے اور قربانی کے بعد اسے کئی دنوں تک کھاتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٧ (٥٤٢٣)، و ٣٧ (٥٤٣٨)، والأضاحي ١٦ (٥٥٧٠)، سنن النسائی/الضحایا ٣٧ (٤٤٣٧)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١٦ (١٥١١)، والأطعمة ٣٠ (٣١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٦٥)، و مسند احمد (٦/١٠٢، ٢٠٩) (صحیح) (وعند صحیح مسلم/الأضاحي ٥ (١٩٧١)، و سنن ابی داود/ الضحایا ١٠ (٢٨١٢)، و موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٧) و مسند احمد (٦/٥١)، سنن الدارمی/الأضاحي ٦ ( ) نحوہ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اسلام میں) نہ «فرع» ہے نہ «عتيرة»، «فرع» جانور کا وہ پہلا بچہ ہے جو کافروں کے یہاں پیدا ہوتا تو وہ اسے (بتوں کے نام پر) ذبح کردیتے تھے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is no fara’ and no atirah.” Fara’ is the first-born of an animal. The infidels used to make an offering of it to their idols. [Bukhari 5473, Muslim 1976]
صحيح، ابن ماجة (3168)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1512
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں نبیشہ، مخنف بن سلیم اور ابوالعشراء سے بھی احادیث آئی ہیں، ابوالعشراء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ٣ - «عتيرة» وہ ذبیحہ ہے جسے اہل مکہ رجب کے مہینہ میں اس ماہ کی تعظیم کے لیے ذبح کرتے تھے اس لیے کہ حرمت کے مہینوں میں رجب پہلا مہینہ ہے، اور حرمت کے مہینے رجب ذی قعدہ، ذی الحجہ، اور محرم ہیں، اور حج کے مہینے شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دن ہیں۔ حج کے مہینوں کے سلسلہ میں بعض صحابہ اور دوسرے لوگوں سے اسی طرح مروی ہے۔
یوسف بن ماہک سے روایت ہے کہ لوگ حفصہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس گئے اور ان سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ (ان کی پھوپھی) ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کریں ١ ؎۔
Yusuf ibn Mahik reported that they visited Sayyidah Hafsah bint Abdur Rahman and asked her about aqiqah. She said that Sayyidah Ayshah (RA) had informed her that Allah’s Messenger had commanded them to slaughter two sheep for a male new-born and one for a female. [Ibn e Majah 3163]
صحيح، ابن ماجة (3163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1513
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حفصہ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق ؓ کی بیٹی ہیں، ٣ - اس باب میں علی، ام کرز، بریدہ، سمرہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، انس، سلمان بن عامر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عقیقہ اس ذبیحہ کو کہتے ہیں جو نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل میں عقیقہ ان بالوں کو کہتے ہیں جو ماں کے پیٹ میں نومولود کے سر پر نکلتے ہیں، اس حالت میں نومولود کی طرف سے جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ عقیقہ «عق» سے ماخوذ ہے جس کے معنی پھاڑنے اور کاٹنے کے ہیں، ذبح کی جانے والی بکری کو عقیقہ اس لیے کہا گیا کہ اس کے اعضاء کے ٹکڑے کئے جاتے ہیں اور پیٹ کو چیر پھاڑ دیا جاتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنی چاہیئے، «شاة» کے لفظ سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عقیقہ کے جانور میں قربانی کے جانور کی شرائط نہیں ہیں، لیکن بہتر ہے کہ قربانی کے جانور میں شارع نے جن نقائص اور عیوب سے بچنے اور پرہیز کرنے کی ہدایت دی ہے ان کا لحاظ رکھا جائے، عقیقہ کے جانور کا دو دانتا ہونا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں، البتہ «شاة» کا تقاضا ہے کہ وہ بڑی عمر کا ہو۔ اور لفظ «شاة» کا یہ بھی تقاضا ہے کہ گائے اور اونٹ عقیقہ میں جائز نہیں، اگر گائے اور اونٹ عقیقہ میں جائز ہوتے تو نبی اکرم ﷺ صرف «شاة» کا تذکرہ نہ فرماتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٥١٣)، و مسند احمد (٦/٣١، ١٥٨، ٢٥١) (صحیح )
ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی، وہ جانور نر یا ہو مادہ اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ۔
Sayyidah Umm Kurz (RA) reported that she asked Allah’s Messenger about aqiqah. He said, “Slaughter two sheep for the newborn male and one for the newborn female.
سلمان بن عامر ضبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ لازم ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ (جانور ذبح کرو) اور اس سے گندگی دور کرو ۔
Sayyidina Salman ibn Aamir Dabbi reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The aqiqah is with every boy. So shed blood (by slaughtering an animal) for him and cast off injury from him (by shaving off hair, etc).’ [Bukhari 5471]
ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حسن بن علی جب فاطمۃ الزہراء ؓ سے پیدا ہوئے تو آپ ﷺ نے حسن کے کان میں نماز کی اذان کی طرح اذان دی۔
Ubaydullah ibn Abu Rafi reported on the authority of his father that he saw Allah’s Messenger call the azan in the ear of Hasan ibn Ali when he was born to Sayyidah Fatimah (RA) the azan as is called for salah. [Ahmed 23930, Abu Dawud 5105]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عقیقہ کے مسئلہ میں اس حدیث پر عمل ہے جو نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے آئی ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے، ٣ - نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حسن کی طرف سے ایک بکری ذبح کی، بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١١٦ (٥١٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٠) و مسند احمد (٦/٩، ٣٩١، ٣٩٢) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہیں، اور اس معنی کی ابن عباس کی حدیث میں ایک کذاب راوی ہے ۔ دیکھیے الضعیفة رقم ٣٢١ و ٦١٢١ )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قربانی کے جانوروں میں سب سے بہتر مینڈھا ہے اور سب سے بہتر کفن «حلة» (تہبند اور چادر) ہے ۔
Sayyidina Abu Umamah reported that Allah’s Messenger said, “The best sacrifice is the sacrifice of a ram and the best shroud (for the dead) is hullah. [Ibn e Majah 3130]
ضعيف، ابن ماجة (3164)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1517
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - عفیر بن معدان حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٤ (٣١٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤٨٦٦) (ضعیف) (سند میں ” عفیر بن معدان “ ضعیف ہیں )
مخنف بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو فرماتے سنا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو۔
Sayyidina Mikhnaf ibn Sulaym narrated: We observed the wuquf at Arafat with the Prophet ﷺ I heard him say, “O People! It is incumbent on every household (family) to offer a scrifice and an atirah. Do you fathom what the atirah is? It is that which you call the Rajabiyah.” [Abu Dawud 2788]
صحيح، ابن ماجة (3125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1518
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو ابن عون ہی کی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأضاحي ١ (٢٧٨٨)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١ (٤٢٢٩)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٢ (٣١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٤)، و مسند احمد (٤/٢١٥) و (٥/٧٦) (حسن )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اور فرمایا: فاطمہ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو ، فاطمہ ؓ نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا ١ ؎۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ observed the aqiqah of Sayyidina Hasan with a sheep and said, “O Fatimah! Have his head shaved and give sadaqah of silver equal in weight to his hair.” So, she weighed that and their weight was (equal to) a dirham, or part of it.
حسن، الإرواء (1175)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1519
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس کی سند متصل نہیں ہے، اور راوی ابوجعفر الصادق محمد بن علی بن حسین نے علی بن ابی طالب کو نہیں پایا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ نومولود کے سر کا بال وزن کر کے اسی کے برابر چاندی صدقہ کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٢٦١) (حسن) (سند مں ل ” محمد بن علی ابو جعفرالصادق “ اور ” علی ؓ “ کے درمیان انقطاع ہے، مگر حاکم کی روایت (٤/٢٣٧) متصل ہے، نیز اس کے شواہد بھی ہیں جسے تقویت پا کر حدیث حسن لغیرہ ہے )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا، پھر (منبر سے) اترے پھر آپ نے دو مینڈھے منگائے اور ان کو ذبح کیا۔
Abdur Rahman ibn Abu Bakr (RA) reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ delivered a sermon. After that, he descended (from the pulpit) and asked for two goats and slaughtered them. [Muslim 1679]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1520
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (یہ عید الاضحی کی نماز کے بعد کیا تھا، دیکھئیے اگلی حدیث) ۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عید الاضحی کے دن عید گاہ گیا، جب آپ خطبہ ختم کرچکے تو منبر سے نیچے اترے، پھر ایک مینڈھا لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، اور (ذبح کرتے وقت) یہ کلمات کہے: «بسم اللہ والله أكبر، هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated: I observed the (eid) al-Adha with the Prophet ﷺ at the place of (eed) prayer. When he had delivered the sermon, he came down the pulpit. A ram was brought and he slaughtered it with his hand, saying “Bismillah wa Allahu Akbar This is from me and from those of my ummah who have not made a sacrifice. [Ahmed 14843]
صحيح، الإرواء (1138)، صحيح أبي داود (2501)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1521
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت آدمی یہ کہے «بسم اللہ والله أكبر» ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے، کہا جاتا ہے، ٣ - راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب کا سماع جابر سے ثابت نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے، جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے۔ (یہ آخری جملہ اس بابت واضح اور صریح ہے کہ آپ ﷺ نے امت کے ان افراد کی طرف سے قربانی کی جو زندہ تھے اور مجبوری کی وجہ سے قربانی نہیں کرسکے تھے، اس میں مردہ کو شامل کرنا زبردستی ہے )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الضحایا ٨ (٢٨١٠)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١ (٣١٢١)، (تحفة الأشراف: ٣٠٩٩)، و مسند احمد (٣/٣٥٦، ٣٦٢)، وسنن الدارمی/الأضاحي ١ (١٩٨٩) (صحیح) (” مطلب “ کے ” جابر “ ؓ سے سماع میں اختلاف ہے، مگر شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء ١١٣٨، وتراجع الألبانی ٥٨٠ )
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے ١ ؎، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں ۔
Sayyidina Samurah reported that Allah’s Messenger said, “A boy is pledged to his aqiqah. Sacrifice is made for him on the seventh day and he is given a name, and his head is shaved.” [Ahmed 20104]
صحيح، ابن ماجة (3165)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1522
Notes · وضاحت
١ ؎: «مرتهن» کے مفہوم میں اختلاف ہے: سب سے عمدہ بات وہ ہے جو امام احمد بن حنبل (رح) نے فرمائی ہے کہ یہ شفاعت کے متعلق ہے، یعنی جب بچہ مرجائے اور اس کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو قیامت کے دن وہ اپنے والدین کے حق میں شفاعت نہیں کرسکے گا، ایک قول یہ ہے کہ عقیقہ ضروری اور لازمی ہے اس کے بغیر چارہ کار نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بالوں کی گندگی و ناپاکی میں مرہون ہے، اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ اس سے گندگی کو دور کرو۔ ٢ ؎: اس سلسلہ میں صحیح حدیث تو درکنار کوئی ضعیف حدیث بھی نہیں ملتی جس سے اس شرط کے قائلین کی تائید ہوتی ہو۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کرنا چاہتا ہو وہ (جب تک قربانی نہ کرلے) اپنا بال اور ناخن نہ کاٹے ۔
Sayyidah Umm Salamab (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “One who observes the (new) moon of Zulhajjah and intends to make a sacrifice must not take (meaning not shave) his hair and (not clip) his nails.” [Muslim 1977]
صحيح، ابن ماجة (3149 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1523
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - (عمرو اور عمر میں کے بارے میں) صحیح عمرو بن مسلم ہے، ان سے محمد بن عمرو بن علقمہ اور کئی لوگوں نے حدیث روایت کی ہے، دوسری سند سے اسی جیسی حدیث سعید بن مسیب سے آئی ہے، سعید بن مسیب ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا یہی قول ہے، سعید بن مسیب بھی اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک بھی اسی حدیث کے موافق ہے، ٤ - بعض اہل علم نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے، وہ لوگ کہتے ہیں: بال اور ناخن کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، شافعی کا یہی قول ہے، وہ عائشہ ؓ کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ قربانی کا جانور مدینہ روانہ کرتے تھے اور محرم جن چیزوں سے اجتناب کرتا ہے، آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہیں کرتے تھے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عائشہ ؓ اور ام سلمہ کی حدیث میں تطبیق کی صورت علماء نے یہ نکالی ہے کہ ام سلمہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا۔ «واللہ اعلم »
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت کے کاموں میں نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ١ ؎۔
Sayyidah Umm e Salamab (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “One who observes the (new) moon of Zulhajjah and intends to make a sacrifice must not take (meaning not shave) his hair and (not clip) his nails.” [Muslim 1977]
صحيح، ابن ماجة (2125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1524
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ زہری نے اس کو ابوسلمہ سے نہیں سنا ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، انہیں میں موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق ہیں، ان دونوں نے زہری سے بطریق: «سليمان بن أرقم عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: وہ حدیث یہی ہے (اور آگے آرہی ہے) ، ٣ - اس باب میں ابن عمر، جابر اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی معصیت کی نذر پوری نہیں کی جائے گی، البتہ اس میں قسم کا کفارہ دینا ہوگا، نذر کی اصل انذار ہے جس کے معنی ڈرانے کے ہیں، امام راغب فرماتے ہیں کہ نذر کے معنی کسی حادثہ کی وجہ سے ایک غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینے کے ہیں، قسم کے کفارے کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے: «لا يؤاخذکم اللہ باللغو في أيمانکم ولکن يؤاخذکم بما عقدتم الأيمان فکفارته إطعام عشرة مساکين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو کسوتهم أو تحرير رقبة فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام ذلک کفارة أيمانکم إذا حلفتم» اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو موکد کر دو، اس کا کفارہ دس مساکین کو اوسط درجہ کا جو خود کھاتے ہیں وہ کھانا کھلا نا یا کپڑے پہنانا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، پس جو شخص یہ نہ پائے تو اسے تین روزے رکھنے ہوں گے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھالو میں ہے (المائدة: ٨٩ )، یہ حدیث معصیت کی نذر میں کفارہ کے واجب ہونے کا تقاضا کرتی ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کی یہی رائے ہے مگر جمہور علماء اس کے مخالف ہیں، ان کے نزدیک وجوب سے متعلق احادیث ضعیف ہیں، لیکن شارح ترمذی کہتے ہیں کہ باب کی اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں، ان سے حجت پکڑی جاسکتی ہے۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ٢٣ (٣٢٩٠-٣٢٩٢)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٥)، سنن النسائی/الأیمان ٤١ (٣٨٦٥-٣٨٧٠) (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠)، و مسند احمد (٦/٢٤٧) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء رقم: ٢٥٩٠ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔
Abu Isma’il Muhammad ibn lsma’il ibn Yusuf Tirmidhi: reported from Ayyub ibn Sulayman ibn Bilal (RA) , from Abu Bakr (RA) ibn Uways, from Sulayman ibn Bilal (RA) , from Musa ibn Uqbah and Abdullah ibn Abu Atiq, from Zuhri, from Sulayman ibn Arqam, from Yahya ibn Abu Kathir, from Abu Salamah from Sayyidah Ayshah (RA) and she from the Prophet ﷺ the same hadith. [Abu Dawud 3292]
صحيح بما قبله (1524)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1525
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اور ابوصفوان کی اس حدیث سے جسے وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، زیادہ صحیح ہے، ٣ - ابوصفوان مکی ہیں، ان کا نام عبداللہ بن سعید بن عبدالملک بن مروان ہے، ان سے حمیدی اور کئی بڑے بڑے محدثین نے روایت کی ہے، ٤ - اہل علم صحابہ کی ایک جماعت اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: اللہ کی معصیت کے سلسلے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں، ٥ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٢) (صحیح) (سند میں ” سلیمان بن ارقم “ ضعیف ہیں، مگر سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو وہ اللہ کی اطاعت کرے، اور جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے ۔ اس سند سے بھی عائشہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Sayyidah Ayshah reported that the Prophet ﷺ said, “He who vows to obey Allah must obey Him and he who vows to disobey Allah must not disobey Him.”
ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بندہ کے اختیار میں جو چیز نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Thabit ibnDahhak (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘There is no vow for a man in what he does not own.” [Bukhari 6047, Muslim 110]
صحيح، الإرواء (2575)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1527
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نذر مانتے وقت جو چیز بندے کے اختیار میں نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر اس چیز پر اختیار حاصل ہوجائے تو بھی وہ نذر پوری نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی اس پر کفارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٤٤ (٦٠٤٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١١٠)، سنن ابی داود/ الأیمان ٩ (٣٢٥٧)، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠١)، و ٣١ (٣٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٢)، و مسند احمد (٤/٣٣) (صحیح )