Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 35 of 199

736Sunan At-Tirmidhi

شعبان اور رمضان کے روزے ملا کر رکھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ .

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو لگاتار دو مہینوں کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان ١ ؎ اور رمضان کے۔

Sayyidah Umm Salmah (RA) said, ‘I never saw the Pophet ﷺ fast two months consecutively except during Sha’ban and Ramadan”. [Ahmed26624, Abu Dawud 2336, Nisai 2174 Ibn e Majah 1648] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1648)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 736
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام سلمہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اور یہ حدیث ابوسلمہ سے بروایت عائشہ بھی مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا، آپ شعبان کے سارے روزے رکھتے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے ہی شعبان روزے رکھتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شعبان میں زیادہ روزے رکھنے کی وجہ ایک حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ اس مہینہ میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں تو آپ نے اس بات کو پسند فرمایا کہ جب آپ کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو آپ روزے کی حالت میں ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٣٣ (٢١٧٧)، و ٧٠ (٢٣٥٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤ (١٦٤٨)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٣٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الصیام ١١ (٢٣٣٦)، وسنن النسائی/الصیام ٧٠ (٢٣٥٥)، و مسند احمد (٦/٣١١) من غیر ہذا الطریق۔
737Sunan At-Tirmidhi

شعبان اور رمضان کے روزے ملا کر رکھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قَالَ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: هُوَ جَائِزٌ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ إِذَا صَامَ أَكْثَرَ الشَّهْرِ أَنْ يُقَالَ صَامَ الشَّهْرَ كُلَّهُ، وَيُقَالُ: قَامَ فُلَانٌ لَيْلَهُ أَجْمَعَ وَلَعَلَّهُ تَعَشَّى وَاشْتَغَلَ بِبَعْضِ أَمْرِهِ، كَأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ قَدْ رَأَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُتَّفِقَيْنِ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ كَانَ يَصُومُ أَكْثَرَ الشَّهْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.

اس سند سے بھی اسے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔

We learnt this hadith from Hannad, from Abduh, from Muhammad ibn Amr from Abu Salamah (RA) from Sayyidah Ayshah (RA) from the Prophet ﷺ -‘ [Ahmed26112, Bukhari 1969, Muslim 1156, Abu Dawud 2434, Nisai 2347]

حسن صحيح، ابن ماجة (1648)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 737
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مبارک اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ کلام عرب میں یہ جائز ہے کہ جب کوئی مہینے کے اکثر ایام روزہ رکھے تو کہا جائے کہ اس نے پورے مہینے کے روزے رکھے، اور کہا جائے کہ اس نے پوری رات نماز پڑھی حالانکہ اس نے شام کا کھانا بھی کھایا اور بعض دوسرے کاموں میں بھی مشغول رہا۔ گویا ابن مبارک دونوں حدیثوں کو ایک دوسرے کے موافق سمجھتے ہیں۔ اس طرح اس حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ آپ اس مہینے کے اکثر ایام میں روزہ رکھتے تھے، ٢- سالم ابوالنضر اور دوسرے کئی لوگوں نے بھی بطریق ابوسلمہ عن عائشہ محمد بن عمرو کی طرح روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٧٥٦) (حسن صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٥٢ (١٩٦٩)، وصحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٦)، وسنن النسائی/الصیام ٣٤ (٢١٧٩، ٢١٨٠)، و ٣٥ (٢١٨١-٢١٨٧)، وسنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١٠)، وط/الصیام ٢٢ (٥٦)، و مسند احمد (٦/٣٩، ٥٨، ٨٤، ١٠٧، ١٢٨، ١٤٣، ١٠٣، ١٦٥، ٢٣٣، ٢٤٢، ٢٤٩، ٢٦٨)، من غیر ہذا الطریق ویتصرف یسیر فی السیاق
738Sunan At-Tirmidhi

تعظیم رمضان کے لئے شعبان کے دوسرے پندرہ دنوں میں روزے رکھنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَقِيَ نِصْفٌ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا تَصُومُوا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ مُفْطِرًا، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ شَعْبَانَ شَيْءٌ أَخَذَ فِي الصَّوْمِ لِحَالِ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُشْبِهُ قَوْلَهُمْ، حَيْثُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِصِيَامٍ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ وَقَدْ دَلَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّمَا الْكَرَاهِيَةُ عَلَى مَنْ يَتَعَمَّدُ الصِّيَامَ لِحَالِ رَمَضَانَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدھا شعبان رہ جائے تو روزہ نہ رکھو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allahs Messenger said, “When half of Sha’ban remains, do not keep fast”. [Abu Dawud 2337, Ibn e Majah ‘1651] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1651)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 738
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢- اور اس حدیث کا مفہوم بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی پہلے سے روزہ نہ رکھ رہا ہو، پھر جب شعبان ختم ہونے کے کچھ دن باقی رہ جائیں تو ماہ رمضان کی تعظیم میں روزہ رکھنا شروع کر دے۔ نیز ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے وہ چیزیں روایت کی ہے جو ان لوگوں کے قول سے ملتا جلتا ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ماہ رمضان کے استقبال میں پہلے سے روزہ نہ رکھو اس کے کہ ان ایام میں کوئی ایسا روزہ پڑجائے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کراہت اس شخص کے لیے ہے جو عمداً رمضان کی تعظیم میں روزہ رکھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شعبان کے نصف ثانی میں روزہ رکھنے کی ممانعت امت کو اس لیے ہے تاکہ رمضان کے روزوں کے لیے قوت و توانائی برقرار رہے، رہے نبی اکرم ﷺ اس ممانعت میں داخل نہیں اس لیے کہ آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا لیا کرتے تھے چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے روزہ آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ١٢ (٢٣٣٧)، سنن الدارمی/الصوم ٣٤ (١٧٨٢)، ( تحفة الأشراف: ١٤٠٥١) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/الصیام ٥ (١٦٥١)، وسنن الدارمی/الصوم ٣٤ (١٧٨١) من غیر ہذا الطریق۔
739Sunan At-Tirmidhi

شعبان کی پندرھویں رات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكرٍ الصِّدِّيقِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْحَجَّاجِ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ، وقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، لَمْ يَسْمَعْ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو غائب پایا۔ تو میں (آپ کی تلاش میں) باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان ٢ ؎ کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔

Savyidah Ashah said (RA) I missed Allah’s Messenger ﷺ one night. So I went out (to search him). He was at Baqi’ and he said. “Were you afraid that Allah and His Messenger would be unfair to you?” I said, “O Messenger of Allah! ﷺ I thought that you have gone to one of your wives. He said, “Indeed, Allah the Blessed and the Exalted descends on the night of the fifteenth of Sha’ban to the sky above the earth and forgives people more that the hair of the sheep of Banu Kaib”. [Ahmed26077, Ibn e Majah 1389] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، ابن ماجة (1389) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (295)، المشکاة (1299) الصفحة (406)، ضعيف الجامع الصغير (1761) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 739
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث کو ہم اس سند سے صرف حجاج کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا ہے، نیز فرمایا: یحییٰ بن ابی کثیر کا عروہ سے اور حجاج بن ارطاۃ کا یحییٰ بن ابی کثیر سے سماع نہیں، ٣- اس باب میں ابوبکر صدیق ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کا ذکر یہاں استطراداً شعبان کے ذکر کی وجہ سے کیا گیا ہے ورنہ گفتگو یہاں صرف روزوں کے سلسلہ میں ہے۔ ٢ ؎: اسی کو برصغیر ہندو پاک میں لیلۃ البراءت بھی کہتے ہیں، جس کا فارسی ترجمہ شب براءت ہے۔ اور اس میں ہونے والے اعمال بدعت وخرافات کے قبیل سے ہیں، نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے حوالے سے کوئی ایک بھی صحیح روایت اور حدیث احادیث کی کتب میں نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الاقامة ١٩١ (١٣٨٩)، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٥) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کردیا ہے کہ حجاج بن ارطاة ضعیف راوی ہے، اور سند میں دوجگہ انقطاع ہے)
740Sunan At-Tirmidhi

محرم کے روزوں کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینے ١ ؎ محرم کا روزہ ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying. “The most excellent fast after the fasts of the month of Ramadan is in the month of Allah, Muharram”. [Ahmed8542, Muslim 1163, Abu Dawud 2429, Nisai 1609, Ibn e Majah 1742]

صحيح، ابن ماجة (1742)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 740
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کی طرف اس مہینہ کی نسبت اس کے شرف و فضل کی علامت ہے، جیسے بیت اللہ اور ناقۃ اللہ وغیرہ ہیں، محرم چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، ماہ محرم ہی سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٨ (١١٦٣)، سنن ابی داود/ الصیام ٥٥ (٢٤٢٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٦ (١٦١٤)، سنن ابن ماجہ/قیام الصیام ٤٣ (١٧٤٢)، ( تحفة الأشراف: ١٢٢٩٢)، مسند احمد (٢/٣٤٢، ٢٤٤، ٥٣٥) (صحیح)
741Sunan At-Tirmidhi

محرم کے روزوں کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ لَهُ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَسْأَلُ عَنْ هَذَا إِلَّا رَجُلًا سَمِعْتُهُ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ: إِنْ كُنْتَ صَائِمًا بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ، فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ، فِيهِ يَوْمٌ تَابَ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ، وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ آخَرِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: ماہ رمضان کے بعد کس مہینے میں روزہ رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ تو انہوں نے اس سے کہا: میں نے اس سلسلے میں سوائے ایک شخص کے کسی کو پوچھتے نہیں سنا، میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے سنا، اور میں آپ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! ماہ رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر ماہ رمضان کے بعد تمہیں روزہ رکھنا ہی ہو تو محرم کا روزہ رکھو، وہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے کچھ لوگوں پر رحمت کی ١ ؎ اور اس میں دوسرے لوگوں پر بھی رحمت کرے گا ۔

Numan ibn Sad reported from Sayyidina Ali that a man asked him, “In which month after Ramadan, do you command me to fast?” He said, “I did not hear anyone ask about it except a man whom I heard ask Alah’s Messenger ﷺ while I was sitting by him. So, he had asked, O Messenger of Allah! ﷺ Which month, besides the month of Ramadan do you command me that I should fast?’ He had said, ‘If I were to fast besides the month of Ramadan then I would fast during Muharram, for, it is the month of Allah’ There is a day in it when Allah accepted the repentance of a people and, on it, will relent towards another people (too)”. [Ahmed1321]

ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 77) // ضعيف الجامع الصغير (1298) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 741
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٢٩٥) (ضعیف) (سند میں نعمان بن سعد لین الحدیث ہیں، اور ان سے روایت کرنے والے ” عبدالرحمن بن اسحاق بن الحارث ابو شیبہ “ ضعیف ہیں)
742Sunan At-Tirmidhi

جمعہ کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَطَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَقَلَّمَا كَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صِيَامَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّمَا يُكْرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَا يَصُومُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، قَالَ: وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر ماہ کے شروع کے تین دن روزے رکھتے۔ اور ایسا کم ہوتا تھا کہ جمعہ کے دن آپ روزے سے نہ ہوں۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger used to fast three days at the outset of every month, and it was very rare that he did not fast on Friday. [Abu Dawud 2450, Nisai 2367, Ibn e Majah 1725]

حسن تخريج المشکاة (2058)، التعليق علی ابن خزيمة (2149)، صحيح أبي داود (2116)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 742
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- شعبہ نے یہ حدیث عاصم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا، ٣- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اہل علم کی ایک جماعت نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ مکروہ یہ ہے کہ آدمی صرف جمعہ کو روزہ رکھے نہ اس سے پہلے رکھے اور نہ اس کے بعد۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٦٨ (٢٤٥٠) (تحفة الأشراف: ٩٢٠٦) (حسن)
743Sunan At-Tirmidhi

صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَجُنَادَةَ الْأَزْدِيِّ، وَجُوَيْرِيَةَ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْتَصَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ لَا يَصُومُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، إلا یہ کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی روزہ رکھے ١ ؎۔

Sayyadina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Noine of you must fast on Friday unless he fasts before it or he fasts after it”. [Ahmed10808, Bukhari 1985, Muslim 1144, Abu Dawud 2420, Ibn e Majah 1723]

صحيح، ابن ماجة (1723)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 743
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، جابر، جنادہ ازدی، جویریہ، انس اور عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ آدمی کے لیے مکروہ سمجھتے ہیں کہ وہ جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے مخصوص کرلے، نہ اس سے پہلے روزہ رکھے اور نہ اس کے بعد۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ممانعت کی وجہ کیا ہے، اس سلسلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، سب سے صحیح وجہ اس کا یوم عید ہونا ہے، اس کی صراحت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت میں ہے جس کی تخریج حاکم وغیرہ نے ان الفاظ کے ساتھ کی ہے «يوم الجمعة يوم عيد فلا تجعلوا يوم عيدكم صيامکم إلا أن تصوموا قبله وبعده» جمعہ کا دن عید کا دن ہے، اس لیے اپنے عید والے دن روزہ نہ رکھا کرو، إلا یہ کہ اس سے ایک دن قبل - جمعرات کا بھی۔ روزہ رکھو یا اس سے ایک دن بعد سنیچر کے دن کا بھی۔ اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی مفہوم کی ایک حدیث علی ؓ سے روایت کی ہے جس کی سند حسن ہے اس کے الفاظ یہ ہیں «من کان منکم متطوعاً من الشهر فليصم يوم الخميس ولا يصم يوم الجمعة فإنه يوم طعام وشراب» تم میں سے جو کوئی کسی مہینے کے نفلی روزے رکھ رہا ہو، وہ جمعرات کے دن کا روزہ رکھے، جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے، اس لیے کہ یہ کھانے پینے کا دن ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٤ (١١٤٤)، سنن ابی داود/ الصیام ٥٠ (٢٤٢٠)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٧ (١٧٢٣)، ( تحفة الأشراف: ١٢٥٠٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصیام ٦٣ (١٩٨٥)، و مسند احمد (٢/٤٥٨) من غیر ہذا الطریق۔
744Sunan At-Tirmidhi

ہفتے کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمَعْنَى كَرَاهَتِهِ فِي هَذَا أَنْ يَخُصَّ الرَّجُلُ يَوْمَ السَّبْتِ بِصِيَامٍ لِأَنَّ الْيَهُودَ تُعَظِّمُ يَوْمَ السَّبْتِ.

عبداللہ بن بسر کی بہن بہیہ صمّاء ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہفتہ کے دن روزہ مت رکھو ١ ؎، سوائے اس کے کہ جو اللہ نے تم پر فرض کیا ہو، اگر تم میں سے کوئی انگور کی چھال اور درخت کی ٹہنی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو اسی کو چبا لے (اور روزہ نہ رکھے) ۔

Sayyidina Abdullah ibn Busr reported from his sister that Allah’s Messenger ﷺ said : “Do not fast on Saturday except the fast that is prescribed on you. If one of you does not find anything to eat on this day then he must chew the peel of vine or shoots of a tree and break his fast”. [Ahmed27143, Abu Dawud 2421, Ibn e Majah 1726]

صحيح، ابن ماجة (1726)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 744
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور اس کے مکروہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی روزہ کے لیے ہفتے (سنیچر) کا دن مخصوص کرلے، اس لیے کہ یہودی ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے اسے نہی تنزیہی پر محمول کیا ہے یعنی روزہ نہ رکھنا بہتر ہے، سوائے اس کے کہ اللہ نے تم پر فرض کیا ہو کے لفظ میں فرض نذر کے کفاروں کے روزے شامل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٥١٢ (٢٤٢١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٨ (١٧٢٦)، سنن الدارمی/الصوم ٤٠ (١٧٩٠)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩١٠) (صحیح) (اس کی سند میں تھوڑا کلام ہے، دیکھئے: الإرواء رقم: ٩٦٠)
745Sunan At-Tirmidhi

پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْرَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَفْصَةَ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سوموار اور جمعرات کے روزے کی تلاش میں رہتے تھے ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) said that the Prophet ﷺ kept fast on Monday and Thursday with regularity. [Ahmed175, Nisai 688, Ibn e Majah 739, Abu Dawud 449]

صحيح، ابن ماجة (1739)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 745
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عائشہ ؓ کی حدیث حسن ہے اور اس سند سے غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں دنوں میں اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں، ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «تعرض الأعمال يوم الإثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم» اور دوسری وجہ وہ ہے جس کا ذکر مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوموار ( دوشنبہ ) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں میری پیدائش ہوئی اور اسی میں میں نبی بنا کر بھجا گیا، یا اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٣٦ (٢١٨٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٢ (١٧٣٩)، ( تحفة الأشراف: ١٦٠٨١) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/الصیام السابق: ٢١٨٨، وباب ٧٠ (الأرقام: ٢٣٥٨، ٢٣٦٢-٢٣٦٥)، و مسند احمد (٦/٨٠، ٨٩، ١٠٦)، من غیر ہذا الطریق۔
746Sunan At-Tirmidhi

پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ السَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَالِاثْنَيْنِ وَمِنَ الشَّهْرِ الْآخَرِ الثُّلَاثَاءَ وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سُفْيَانَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مہینہ ہفتہ (سنیچر) ، اتوار اور سوموار (دوشنبہ) کو اور دوسرے مہینہ منگل، بدھ، اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔

Sayyidah Ayshah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ used to keep fast on Saturday, Sunday, and Monday one month, and Tuesday, Wesnesday and Thursday next month.

ضعيف تخريج المشکاة / التحقيق الثاني (2059)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 746
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٠٧٠) (ضعیف) (سند میں خیثمہ بن ابی خیثمہ ابو نصر بصری لین الحدیث ہیں)
747Sunan At-Tirmidhi

پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَاب حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کو اعمال (اللہ کے حضور) پیش کئے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Deeds are presented on Monday and Thursday. So, I love that my deeds should be presented while I am fasting

صحيح تخريج المشکاة / التحقيق الثانی (2056)، التعليق الرغيب (2 / 84)، الإرواء (949)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 747
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس باب میں حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٢ (١٧٤٠)، ( تحفة الأشراف: ١٢٧٤٦)، وأخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٩) (صحیح) (سند میں محمد بن رفاعہ لین الحدیث راوی ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
748Sunan At-Tirmidhi

بدھ اور جمعرات کے دن روزہ کھنا

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَيْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْه، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ وَأَفْطَرْتَ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ.

مسلم قرشی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے صیام الدھر (سال بھر کے روزوں) کے بارے میں پوچھا، یا آپ سے صیام الدھر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تم پر تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے، رمضان کے روزے رکھو، اور اس مہینے کے رکھو جو اس سے متصل ہے، اور ہر بدھ اور جمعرات کے روزے رکھو، جب تم نے یہ روزے رکھ لیے، تو اب گویا تم نے سال بھر روزہ رکھا اور افطار کیا۔

Ubaydullah al-Muslim al-Qurashi reported his father as saying that he asked-or someone else asked-the Prophet ﷺ about perpetual fasting. So, he said. ‘Indeed, your family membes have i right over yuu”. He also said, Fast dunng Ramadan and that which follows itO and ever Wednesday and.Thursday. So then you have indeed kept fast perpetually and also broken fist (meaning you will earn reward for fasting throughout). [Abu Dawud 2432]

ضعيف، ضعيف أبي داود (420) // عندنا برقم (527 / 2432)، المشکاة (2061)، ضعيف الجامع الصغير (1914) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 748
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مسلم قرشی ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢- بعض لوگوں نے بطریق «ہارون بن سلمان عن مسلم بن عبیداللہ عن عبیداللہ بن مسلم» روایت کی ہے، ٣- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٥٧ (٢٤٣٢) (تحفة الأشراف: ٩٧٤) (ضعیف) (صحیح سند اس طرح ہے ” عن مسلم بن عبیداللہ، عن أبیہ ” عبیداللہ بن مسلم “ اور مسلم بن عبیداللہ لین الحدیث ہیں اور ان کے باپ ” عبیداللہ بن مسلم “ صحابی ہیں)
749Sunan At-Tirmidhi

عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقْدِ اسْتَحَبَّ أَهْلُ الْعِلْمِ صِيَامَ يَوْمِ عَرَفَةَ إِلَّا بِعَرَفَةَ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن ١ ؎ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دے گا ٢ ؎۔

Ubaydullah al-Muslim al-Qurashi reported his father as saying that he asked-or someone else asked-the Prophet ﷺ about perpetual fasting. So, he said. ‘Indeed, your family membes have i right over yuu”. He also said, Fast dunng Ramadan and that which follows itO and ever Wednesday and.Thursday. So then you have indeed kept fast perpetually and also broken fist (meaning you will earn reward for fasting throughout). [Abu Dawud 2432]

صحيح، ابن ماجة (1730)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 749
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم نے عرفہ کے دن کے روزے کو مستحب قرار دیا ہے، مگر جو لوگ عرفات میں ہوں ان کے لیے مستحب نہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یوم عرفہ سے مراد ٩ ذی الحجہ ہے جب حجاج کرام عرفات میں وقوف کرتے ہیں اور ذکر و دعا میں مشغول ہوتے ہیں، اس دن ان کے لیے یہی سب سے بڑی عبادت ہے اس لیے اس دن کا روزہ ان کے لیے مستحب نہیں ہے، البتہ غیر حاجیوں کے لیے اس دن روزہ رکھنا بڑی فضیلت کی بات ہے، اس سے ان کے دو سال کے وہ صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوتا ہے۔ ( یہ خیال رہے کہ مکہ سے دور علاقوں کے لوگ اپنے یہاں کی رویت کے حساب سے ٩ ذی الحجہ کو عرفہ کا روزہ نہ رکھیں، بلکہ مکہ کی رویت کے حساب سے ٩ ذی الحجہ کا روزہ رکھیں کیونکہ حجاج اسی حساب سے میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں مطلع اور ملک بدل جائے وہاں کے لوگ اپنے حساب نو ذی الحجہ کا روزہ رکھیں، بلکہ افضل یہ ہے کہ یکم ذی الحجہ سے ٩ تک مسلسل روزہ رکھے، اس لیے کہ ان دنوں میں کیے گئے اعمال کی فضیلت حدیث میں بہت آئی ہے اور سلف صالحین کا اس ضمن میں تعامل بھی روایات میں مذکور ہے، اور اس سے یوم عرفہ سے مراد مقام عرفات میں ٩ ذی الحجہ پر بھی عمل ہوجائے گا، واللہ اعلم۔ ٢ ؎: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بعد والے سال کے گناہوں کا وہ کفارہ کیسے ہوجاتا ہے جب کہ آدمی نے وہ گناہ ابھی کیا ہی نہیں ہے تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ایک سال بعد کے گناہ مٹا دیئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس سال اللہ تعالیٰ اسے گناہوں سے محفوظ رکھے گا یا اتنی رحمت و ثواب اسے مرحمت فرما دے گا کہ وہ آنے والے سال کے گناہوں کا بھی کفارہ ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٦ (١١٦٢)، سنن ابی داود/ الصیام ٥٣ (٢٤٢٥)، سنن النسائی/الصیام ٧٣ (٢٣٨٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧٣٠)، (التحفہ: ١٢١١٧)، مسند احمد (٥/٢٩٧) (صحیح)
750Sunan At-Tirmidhi

عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، وَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأُمِّ الْفَضْلِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الْإِفْطَارَ بِعَرَفَةَ لِيَتَقَوَّى بِهِ الرَّجُلُ عَلَى الدُّعَاءِ، وَقَدْ صَامَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَوْمَ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا، ام فضل ؓ نے آپ کے پاس دودھ بھیجا تو آپ نے اسے پیا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ did not keep fast of the day til Arafah. Sayyidah Umm FadI sen him milk and he drank it.

صحيح، صحيح أبي داود (2109)، التعليق علی ابن خزيمة (2102)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 750
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر اور ام الفضل ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا تو آپ نے اس دن کا (یعنی یوم عرفہ کا) روزہ نہیں رکھا اور ابوبکر ؓ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، عمر کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، اور عثمان کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، ٤- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ عرفات میں روزہ نہ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں تاکہ آدمی دعا کی زیادہ سے زیادہ قدرت رکھ سکے، ٥- اور بعض اہل علم نے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أوأخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٦٠٠٢) (صحیح)
751Sunan At-Tirmidhi

عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ يَسَارٌ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ.

ابونجیح یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا۔ آپ نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔ ابوبکر کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی نہیں رکھا، عمر کے ساتھ کیا۔ انہوں نے بھی نہیں رکھا۔ عثمان کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی نہیں رکھا ؓ ، میں بھی اس دن (وہاں عرفات میں) روزہ نہیں رکھتا ہوں، البتہ نہ تو میں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔

Ibn Abu Najih reported from his father that Sayyidina Ibn Umar (RA) was asked about the fast of the day of Arafah at Arafat. He said, “I performed Hajj with the Prophet ﷺ but he did not keep fast. Simiarly, Abu Bakr (RA) Umar (RA) and Uthman (RA) also did not keep fast on this day. So, I too do not fast on this day, and neither do I command anyone to fast nor prohibit anyone”. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 751
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یہ حدیث ابن ابی نجیح سے بطریق: «عن أبيه عن رجل عن ابن عمر» بھی مروی ہے۔ ابونجیح کا نام یسار ہے اور انہوں نے ابن عمر سے سنا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ ابونجیح نے اس حدیث کو پہلے ابن عمر سے ایک آدمی کے واسطے سے سنا تھا پھر بعد میں ابن عمر سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اسے براہ راست بغیر واسطے کے ابن عمر ؓ سے سنا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائی فی الکبری) ( تحفة الأشراف: ٨٥٧١) (صحیح الإسناد)
752Sunan At-Tirmidhi

عاشورہ کے روزہ کی ترغیب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَهِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَمِّهِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ذَكَرُوا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَثَّ عَلَى صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا نَعْلَمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ، أَنَّهُ قَالَ: صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ كَفَّارَةُ سَنَةٍ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ، وَبِحَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء ١ ؎ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا ۔

Sayyidina Abu Qatadah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “I hope from Allah that the fast of the day of AshuraO will atone for (the sins of) the past year”. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1738)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 752
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی، محمد بن صیفی، سلمہ بن الاکوع، ہند بن اسماء، ابن عباس، ربیع بنت معوذ بن عفراء، عبدالرحمٰن بن سلمہ خزاعی، جنہوں نے اپنے چچا سے روایت کی ہے اور عبداللہ بن زبیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے دن کے روزہ رکھنے پر ابھارا، ٢- ابوقتادہ ؓ کی حدیث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی اور روایت میں آپ نے یہ فرمایا ہو کہ عاشوراء کے دن کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ احمد اور اسحاق کا قول بھی ابوقتادہ کی حدیث کے مطابق ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: محرم کی دسویں تاریخ کو یوم عاشوراء کہتے ہیں، نبی اکرم ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی اس دن روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی اس خوشی میں ہم روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے فرمایا: ہم اس کے تم سے زیادہ حقدار ہیں، چناچہ آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو اس کے ساتھ ٩ محرم کا روزہ بھی رکھوں گا تاکہ یہود کی مخالفت بھی ہوجائے، بلکہ ایک روایت میں آپ نے اس کا حکم دیا ہے کہ تم عاشوراء کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھو۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ٧٤٩ (صحیح)
753Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ عاشورے کے دن روزہ نہ رکھنا بھی جائز ہے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَمُعَاوِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ، وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا يَرَوْنَ صِيَامَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ رَغِبَ فِي صِيَامِهِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ مِنَ الْفَضْلِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ عاشوراء ایک ایسا دن تھا کہ جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی اس دن روزہ رکھتے تھے، جب آپ مدینہ آئے تو اس دن آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو صرف رمضان ہی کے روزے فرض رہے اور آپ نے عاشوراء کا روزہ ترک کردیا، تو جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔

Sayyidah Ayshah (RA) said that the Quraysh used to fast on the day of Ashura in the Days of Jahiliyah. And Allah’s Messenger ﷺ also used to fast. When he came to Madinah, he used to fast and he commanded the people to fast. But when the fasts of Ramadan were prescribed, they became lard and the Ashura was given up. So he who wished fasted (on that day) and he who wished did not (fast). [Ahmed26127, Bukhari 4502, Muslim 1125, Ibn e Majah 1733, Abu Dawud 2442]

صحيح، صحيح أبي داود (2110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 753
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے ١ ؎، ٢- اس باب میں ابن مسعود، قیس بن سعد، جابر بن سمرہ، ابن عمر اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا عمل عائشہ ؓ کی حدیث پر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، یہ لوگ یوم عاشوراء کے روزے کو واجب نہیں سمجھتے، الا یہ کہ جو اس کی اس فضیلت کی وجہ سے جو ذکر کی گئی اس کی رغبت رکھے۔
Notes · وضاحت
فائدہ ا ؎: مولف نے حدیث پر حکم تیسرے فقرے میں لگایا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (التحفہ: ١٧٠٨٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢)، وصحیح مسلم/الصیام ١٩ (١١٢٥)، و سنن ابی داود/ الصیام ٦٤ (٢٤٤٢)، وط/الصیام ١١ (٣٣)، وسنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) من غیر ہذا الطریق۔
754Sunan At-Tirmidhi

اس برے میں کہ عاشو رہ کونسا دن ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَىابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَيُّ يَوْمٍ هُوَ أَصُومُهُ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ثُمَّ أَصْبِحْ مِنَ التَّاسِعِ صَائِمًا ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ .

حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس کے پاس پہنچا، وہ زمزم پر اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: مجھے یوم عاشوراء کے بارے میں بتائیے کہ وہ کون سا دن ہے جس میں میں روزہ رکھوں؟ انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو دن گنو، اور نویں تاریخ کو روزہ رکھ کر صبح کرو۔ میں نے پوچھا: کیا اسی طرح سے محمد ﷺ رکھتے تھے؟ کہا: ہاں (اسی طرح رکھتے تھے) ۔

Hakam ibn A’raj reported that he went to Sayyidina Ibn Abbas (RA) who was sitting by the zamzam reclined on his cloak. He asked him, “Tell me about the day of Ashura, which day do I fast on?” He said, “When you see the new moon of Muharram, begin to count and get up on the ninth day fasting”. He asked, “Is this how Muhammad ﷺ kept fast on it?” He said, “Yes!” [Muslim 1133, Abu Dawud 2446]

صحيح، صحيح أبي داود (2114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 754
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٣٣)، سنن ابی داود/ الصیام ٦٥ (٢٤٤٦)، (التحفہ: ٥٤١٢)، مسند احمد (١/٢٤٧) (صحیح)
755Sunan At-Tirmidhi

اس برے میں کہ عاشو رہ کونسا دن ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ يَوْمُ الْعَاشِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَوْمُ التَّاسِعِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يَوْمُ الْعَاشِرِ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوا الْيَهُودَ، وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دسویں تاریخ کو عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ enjoined on us the fast of the day of Ashura on the tenth (of Muharram)”.

صحيح، صحيح أبي داود (2113)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 755
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا عاشوراء کے دن کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: عاشوراء نواں دن ہے اور بعض کہتے ہیں: دسواں دن ١ ؎ ابن عباس سے مروی ہے کہ نویں اور دسویں دن کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر علماء کی رائے بھی ہے کہ محرم کا دسواں دن ہی یوم عاشوراء ہے اور یہی قول راجح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٣٩٥) (صحیح)