عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میری بہن مرگئی ہے۔ اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے تھے۔ بتائیے میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ذرا بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟ اس نے کہا: ہاں (ادا کرتی) ، آپ نے فرمایا: تو اللہ کا حق اس سے بھی بڑا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a woman came to the Prophet ﷺ and said, “My sister has died with two months successive fasts against her”. He said, “Listen, if she had a debt payable then would you have discharged it?” She said, “Yes!” He said, “The right of Allah is more important to discharge”. [Ahmed3224, Bukhari 1953, Muslim 1148, Abu Dawud 3310, Ibn e Majah 1759]
صحيح، ابن ماجة (1758)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 716
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص مرجائے اور اس کے ذمہ روزے ہو تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے، محدثین کا یہی قول ہے اور یہی راجح ہے۔
Abu Kurayb reported from Abu Khalid Ahmar, from A’mash, from the same sanad a hadith like it.
*صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 717
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوخالد احمر نے اعمش سے یہ حدیث بہت عمدہ طریقے سے روایت کی ہے، ٣- ابوخالد الاحمر کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اسے اعمش سے ابوخالد کی روایت کے مثل روایت کیا ہے، ابومعاویہ نے اور دوسرے کئی اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے سلمہ بن کہیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی عطاء اور مجاہد کے واسطے کا، ابوخالد کا نام سلیمان بن حیان ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ ,Lø said, “If a person dies with a month’s fasts due on him then a needy person must be fed against every day”.
ضعيف، ابن ماجة (1757) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (389)، المشکاة (2034 / التحقيق الثاني)، ضعيف الجامع الصغير (5853) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 718
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٢- صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عمر ؓ سے موقوف ہے یعنی انہیں کا قول ہے، ٣- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے روزے رکھے جائیں گے۔ یہ قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ یہ دونوں کہتے ہیں: جب میت پر نذر والے روزے ہوں تو اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے گا، اور جب اس پر رمضان کی قضاء واجب ہو تو اس کی طرف سے مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلایا جائے گا، مالک، سفیان اور شافعی کہتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٠ (١٧٥٧) (تحفة الأشراف: ٨٤٢٣) (ضعیف) (سند میں اشعث بن سوار کندی ضعیف ہیں، نیز اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزوں سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا: پچھنا لگوانے سے ١ ؎، قے آ جانے سے اور احتلام ہوجانے سے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed al-Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Three things do not break the fast of one who is fasting : cupping, vomitting and nocturnal emission”. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف تخريج حقيقة الصيام (21 - 22)، ضعيف أبي داود (409)، // عندنا برقم (513 / 2376)، ضعيف الجامع الصغير (2567)، المشکاة (2015) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 719
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث محفوظ نہیں ہے، ٢- عبداللہ بن زید بن اسلم اور عبدالعزیز بن محمد اور دیگر کئی رواۃ نے یہ حدیث زید بن اسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔ اور اس میں ان لوگوں نے ابو سعید خدری کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں، ٤- میں نے ابوداؤد سجزی کو کہتے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ بن زید بن اسلم میں کوئی حرج نہیں، ٤- اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے سنا کہ علی بن عبداللہ المدینی نے عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں اور عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں ٢ ؎ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کچھ روایت نہیں کرتا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر یہ روایت «أفطر الحاجم والمحجوم» کی مخالف ہے، تاویل یہ کی جاتی ہے کہ «أفطر الحاجم والمحجوم» کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے اپنے آپ افطار کے لیے خود کو پیش کردیا ہے بلکہ قریب پہنچ گئے ہیں، جسے سینگی لگائی گئی وہ ضعف و کمزوری کی وجہ سے اور سینگی لگانے والا اس لیے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کہ جب وہ خون کھینچ رہا ہو تو خون کا کوئی قطرہ حلق میں چلا جائے اور روزہ ٹوٹ جائے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور ناسخ انس ؓ کی روایت ہے جسے دارقطنی نے روایت کیا ہے، اس میں ہے «رخص النبي صلی اللہ عليه وسلم بعد في الحجامة الصائم وکان أنس يحتجم وهو صائم»۔ ٢ ؎: زید بن اسلم کے تین بیٹے ہیں: عبداللہ، عبدالرحمٰن اور اسامہ۔ امام احمد کے نزدیک عبداللہ ثقہ ہیں اور عبدالرحمٰن اور اسامہ دونوں ضعیف اور یحییٰ بن معین کے نزدیک زیدبن اسلم کے سبھی بیٹے ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤١٨٢) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف راوی ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء لازم نہیں ١ ؎ اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو اسے روزے کی قضاء کرنی چاہیئے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone gets vomit by itself then he is not obliged to redeem his fast, but if anyone vomits intentionally then he must make up for the fast (later on)’. [Ahmed10468, Abu Dawud 2380, Ibn e Majah 1676] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1676)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 720
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے بسند «هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» عیسیٰ بن یونس ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا، ٢- یہ حدیث دوسری اور سندوں سے بھی ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے، ٣- اس باب میں ابو الدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- ابو الدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قے کی تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نفلی روزے سے تھے۔ قے ہوئی تو آپ نے کچھ کمزوری محسوس کی اس لیے روزہ توڑ دیا، بعض روایات میں اس کی تفسیر اسی طرح مروی ہے، ٥- اور اہل علم کا عمل ابوہریرہ کی حدیث پر ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ روزہ دار کو جب قے آ جائے تو اس پر قضاء لازم نہیں ہے۔ اور جب قے جان بوجھ کر کرے تو اسے چاہیئے کہ قضاء کرے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس میں روزہ دار کی کوئی غلطی نہیں۔ ٢ ؎: اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ اس میں کفارہ نہیں صرف قضاء ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بھول کر کچھ کھا پی لیا، وہ روزہ نہ توڑے، یہ روزی ہے جو اللہ نے اسے دی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone eats or drinks forgetfully then he must not abandon his fast, for, it is only the provision that Allah has provided them”. [Ahmed9494, Bukhari 6669, Muslim 1155]
صحيح، ابن ماجة (1673)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 721
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Abu Sa’eed Ashaj reported from Abu Umamah who from Awf who from Sirin and Khilas, and they both from Abu Hurayrah .i . who from the Prophet, a hadith like this.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 722
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری اور ام اسحاق غنویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ٤- مالک بن انس کہتے ہیں کہ جب کوئی رمضان میں بھول کر کھا پی لے تو اس پر روزوں کی قضاء لازم ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٣)، و ( تحفة الأشراف: ١٢٣٠٣، و ١٤٤٧) (صحیح) وأخرجہ سنن ابی داود/ الصیام ٣٩ (٢٣٩٨) من غیر ہذا الطریق والسیاق، وانظر ما قبلہ
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بغیر کسی شرعی رخصت اور بغیر کسی بیماری کے رمضان کا کوئی روزہ نہیں رکھا تو پورے سال کا روزہ بھی اس کو پورا نہیں کر پائے گا چاہے وہ پورے سال روزے سے رہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone omits to fast one day in Ramadan without a reason, or without being ill, then even a lifelong fast will not make up for it, if he keeps fast (always)”. [Ahmed9712, Abu Dawud 2396] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (1672) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (368) مختصرا، المشکاة (2013)، ضعيف الجامع الصغير (5462)، ضعيف أبي داود (517 / 2396) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 723
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوالمطوس کا نام یزید بن مطوس ہے اور اس کے علاوہ مجھے ان کی کوئی اور حدیث معلوم نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٣٨ (٢٣٩٦، ٢٣٩٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٢)، مسند احمد ( ٢/٤٥٨، ٤٧٠)، سنن الدارمی/الصوم ١٨ (١٧٥٦)، ( تحفة الأشراف: ١٤٦١٦) (ضعیف) (سند میں ابو المطوس لین الحدیث ہیں اور ان کے والد مجہول)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں ہلاک ہوگیا، آپ نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا؟ اس نے عرض کیا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا۔ آپ نے پوچھا: کیا تم ایک غلام یا لونڈی آزاد کرسکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے پوچھا: کیا ساٹھ مسکین کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا۔ اتنے میں آپ ﷺ کے پاس ایک بڑا ٹوکرہ لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: اسے لے جا کر صدقہ کر دو ، اس نے عرض کیا: ان دونوں ملے ہوئے علاقوں کے درمیان کی بستی (یعنی مدینہ میں) مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے ساتھ والے دانت دکھائی دینے لگے۔ آپ نے فرمایا: اسے لے لو اور لے جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that a man came and exclaimed, “O Messenger of Allah ﷺ I am done for (and a failure)”. He asked, “What has caused that?” The man said, ‘1 have had intercourse with my wife during (the fast of) Ramadan”. He asked, “Can you set a slave free?” The man said, “No”. He asked, “Then can you keep fast for two months running?” He said, “No!”. The Prophet ﷺ asked, “Then, can you feed sixty poor people?” He said, No!” The Prophet ﷺ Sit down”. So, he sat down. Shortly an araq full of dates was brought to the Prophet ﷺ An araq is a miktal of large size (said to contain between 15 and 3O sa of dates). The Prophet ﷺ said to him, “Give this away in sadaqah”. The man said, ‘There is none between the two mountains of Madinh poorer than we”. The Prophet ﷺ laughed till his molars were visible, and said, “Take it and feed it to your family”. [Ahmed7294, Nisai 1936,Abu Dawud 2390, Ibn e Majah 1671]
صحيح، ابن ماجة (1671)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 724
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، عائشہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں جو رمضان میں جان بوجھ کر بیوی سے جماع کر کے روزہ توڑ دے، اسی حدیث پر عمل ہے، ٤- اور جو جان بوجھ کر کھا پی کر روزہ توڑے، تو اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: اس پر روزے کی قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہے، ان لوگوں نے کھانے پینے کو جماع کے مشابہ قرار دیا ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔ بعض کہتے ہیں: اس پر صرف روزے کی قضاء لازم ہے، کفارہ نہیں۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ سے جو کفارہ مذکور ہے وہ جماع سے متعلق ہے، کھانے پینے کے بارے میں آپ سے کفارہ مذکور نہیں ہے، ان لوگوں نے کہا ہے کہ کھانا پینا جماع کے مشابہ نہیں ہے۔ یہ شافعی اور احمد کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کا اس شخص سے جس نے روزہ توڑ دیا، اور آپ نے اس پر صدقہ کیا یہ کہنا کہ اسے لے لو اور لے جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو ، کئی باتوں کا احتمال رکھتا ہے: ایک احتمال یہ بھی ہے کہ کفارہ اس شخص پر ہوگا جو اس پر قادر ہو، اور یہ ایسا شخص تھا جسے کفارہ دینے کی قدرت نہیں تھی، تو جب نبی اکرم ﷺ نے اسے کچھ دیا اور وہ اس کا مالک ہوگیا تو اس آدمی نے عرض کیا: ہم سے زیادہ اس کا کوئی محتاج نہیں۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے لے لو اور جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو ، اس لیے کہ روزانہ کی خوراک سے بچنے کے بعد ہی کفارہ لازم آتا ہے، تو جو اس طرح کی صورت حال سے گزر رہا ہو اس کے لیے شافعی نے اسی بات کو پسند کیا ہے کہ وہی اسے کھالے اور کفارہ اس پر فرض رہے گا، جب کبھی وہ مالدار ہوگا تو کفارہ ادا کرے گا۔
عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار نہیں کرسکتا۔
Abdullah ibn Aamir ibn Rabi’ah reported from his father that he said, “I saw the Prophet ﷺ umpteenth times using the siwak during his fasts”. [Ahmed15678, Abu Dawud 23641 --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، الإرواء (68) //، ضعيف أبي داود (511 / 2364)، المشکاة (2009) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 725
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عامر بن ربیعہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے۔ ٣- اسی حدیث پر اہل علم کا عمل ہے۔ یہ لوگ روزہ دار کے مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ١ ؎ سمجھتے، البتہ بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے تازی لکڑی کی مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے، اور دن کے آخری حصہ میں بھی مسواک کو مکروہ کہا ہے۔ لیکن شافعی دن کے شروع یا آخری کسی بھی حصہ میں مسواک کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ نے دن کے آخری حصہ میں مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خواہ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد، خواہ تازی لکڑی سے ہو، یا خشک، یہی اکثر اہل علم کا قول ہے اور یہی راجح۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٢٦ (٢٣٦٤)، ( تحفة الأشراف: ٥٠٣٤) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہے)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر پوچھا: میری آنکھ آ گئی ہے، کیا میں سرمہ لگا لوں، میں روزے سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں (لگا لو) ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated that a man came to the Prophet ﷺ and conpIained about his eyes troubling him. He said, “Shall I apply collyrium while I am fasting?” He said, “Yes!. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 726
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ٢- اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں، ٣- ابوعات کہ ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، ٤- اس باب میں ابورافع سے بھی روایت ہے، ٥- صائم کے سرمہ لگانے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض نے اسے مکروہ قرار دیا ہے ١ ؎ یہ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے اور بعض اہل علم نے روزہ دار کو سرمہ لگانے کی رخصت دی ہے اور یہ شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کی دلیل معبد بن ہوذہ کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا صائم اس سے پرہیز کرے، لیکن یہ حدیث منکر ہے، جیسا کہ ابوداؤد نے یحییٰ بن معین کے حوالے سے نقل کیا ہے، لہٰذا اس حدیث کے رو سے صائم کے سرمہ لگانے کی کراہت پر استدلال صحیح نہیں، راجح یہی ہے کہ صائم کے لیے بغیر کراہت کے سرمہ لگانا جائز ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ماہ صیام (رمضان) میں بوسہ لیتے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that the Prophet ﷺ used to kiss during the month of fasting. [Ahmed25905, Muslim 1106, Abu Dawud 2383, Ibn e Majah 1683]
صحيح، ابن ماجة (1683)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 727
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر بن خطاب، حفصہ، ابو سعید خدری، ام سلمہ، ابن عباس، انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صائم کے بوسہ لینے کے سلسلے میں صحابہ کرام وغیرہم کا اختلاف ہے۔ بعض صحابہ نے بوڑھے کے لیے بوسہ لینے کی رخصت دی ہے۔ اور نوجوانوں کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر رخصت نہیں دی کہ اس کا صوم محفوظ و مامون نہیں رہ سکے گا۔ جماع ان کے نزدیک زیادہ سخت چیز ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے: بوسہ اجر کم کردیتا ہے لیکن اس سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا، ان کا خیال ہے کہ روزہ دار کو اگر اپنے نفس پر قابو (کنٹرول) ہو تو وہ بوسہ لے سکتا ہے اور جب وہ اپنے آپ پر کنٹرول نہ رکھ سکے تو بوسہ نہ لے تاکہ اس کا روزہ محفوظ و مامون رہے۔ یہ سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے روزے کی حالت میں بوسہ کا جواز ثابت ہوتا ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس میں فرض اور نفل روزے کی تفریق صحیح نہیں، رمضان کے روزے کی حالت میں بھی بوسہ لیا جاسکتا ہے، لیکن یہ ایسے شخص کے لیے ہے جو اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھتا ہو اور جسے اپنے نفس پر قابو نہ ہو اس کے لیے یہ رعایت نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں مجھ سے بوس و کنار کرتے تھے، آپ اپنی خواہش پر تم میں سب سے زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, ‘Allahs Messenger ﷺ used to fondle with me while he was fasting and he had more control than any of you over his impulses [Ah25873 Bukhari 1927. Muslim 1106 Ibn e Majah 1687)
صحيح، ابن ماجة (1684)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 728
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور اپنی بیویوں کے ساتھ لپٹ کر لیٹتے تھے، آپ اپنی جنسی خواہش پر تم میں سب سے زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے۔
Sayyidah Ayshah said, “Ailahs Messenger ﷺ would kiss and fondle though he fasted. And he had a greater control over his sexual urge than any of you. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1687)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 729
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور «لإربه» کے معنی «لنفسه» اپنے نفس پر کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ١٢ (١١٠٦)، سنن ابی داود/ الصیام ٣٣ (٢٣٨٢)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٥ و ١٧٤٠٧) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٢٣ (١٩٢٧)، وصحیح مسلم/الصیام (المصدرالسابق)، وسنن ابن ماجہ/الصیام ١٩ (١٦٨٤)، وسنن الدارمی/الصوم ٢١ (١٧٦٣)، من غیر ہذا الطریق۔
ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے روزے کی نیت فجر سے پہلے نہیں کرلی، اس کا روزہ نہیں ہوا ١ ؎۔
Sayyidah Hafsah (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, “He, who has not formed an intention (to fast) before dawn, has not fasted”. [Ahmed26519, Abu Dawud 2454, Nisai 2331, Ibn e Majah 1700]
صحيح، ابن ماجة (1700)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 730
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حفصہ ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، نیز اسے نافع سے بھی روایت کیا گیا ہے انہوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے اور اسے ابن عمر ہی کا قول قرار دیا ہے، اس کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، اور اسی طرح یہ حدیث زہری سے بھی موقوفاً مروی ہے، ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اسے مرفوع کیا ہے یحییٰ بن ایوب کے سوا، ٢- اس کا معنی اہل علم کے نزدیک صرف یہ ہے کہ اس کا روزہ نہیں ہوتا، جو رمضان میں یا رمضان کی قضاء میں یا نذر کے روزے میں روزے کی نیت طلوع فجر سے پہلے نہیں کرتا۔ اگر اس نے رات میں نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہوا، البتہ نفل روزے میں اس کے لیے صبح ہوجانے کے بعد بھی روزے کی نیت کرنا مباح ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر یہ عام ہے فرض اور نفل دونوں قسم کے روزوں کو شامل ہے لیکن جمہور نے اسے فرض کے ساتھ خاص مانا ہے اور راجح بھی یہی ہے، اس کی دلیل عائشہ ؓ کی روایت ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس آتے اور پوچھتے: کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو اگر میں کہتی کہ نہیں تو آپ فرماتے: میں روزے سے ہوں۔
ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اتنے میں آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی، آپ نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی پیا۔ پھر میں نے عرض کیا: میں نے گناہ کا کام کرلیا ہے۔ آپ میرے لیے بخشش کی دعا کر دیجئیے۔ آپ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: میں روزے سے تھی اور میں نے روزہ توڑ دیا تو آپ نے پوچھا: کیا کوئی قضاء کا روزہ تھا جسے تم قضاء کر رہی تھی؟ عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو اس سے تمہیں کوئی نقصان ہونے والا نہیں ۔
Sayyidah Umm Hani (RA) said : I was sitting with the Prophet ﷺ He was brought something to drink. He drank from it and then gave something of it to me and I too drank it. Afterwards, I said, “I have committed a sin. Do seek forgiveness for me”. He asked, ‘What is the sin?” I said that I was fasting but my fast is void. He asked, “Were you fasting a redeeming fast?” I said, “No”. So, he said, “There is no harm in that”. [Ahmed27453, Abu Dawud 2456]
صحيح تخريج المشکاة (2079)، صحيح أبي داود (2120)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 731
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابو سعید خدری اور ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٨٠١٥) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ” سماک “ جب منفرد ہوں تو ان کی روایت میں بڑا اضطراب پایاجاتا ہے، یہی حال اگلی حدیث میں ہے)
شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ ام ہانی ؓ کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا، اس کا نام جعدہ تھا، ام ہانی اس کی دادی تھیں، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے ۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے؟ کہا: نہیں، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے۔
Mahmud ibn Ghaylan learnt from Abu Dawood who from Shu’bah and he from Simak ibn Harb that he heard from one of the children of Sayyidah Umm Hani Thereafter, he met the most superior of them whose name was Ja’dah. Sayyidah Umm Hani (RA) reported to him and he narrated (to Simak) from her (his grandmother) that Allah’s Messenger visited her and asked for water. He drank it and gave it to her. She too drank it. Having done that, she exclaimed, “O Messenger of Allah! ﷺ But, I was fasting!” He said, “One who keeps an optional fast is the turstee of his own soul. If he wishes, he may fast, or, if he wishes, he may cease to fast”. Shu’bah asked him, “Did you hear that directly from Umm Hani?” He said, “No. I was told of it by Abu Salih and my family”. [Ahmed26958] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح تخريج المشکاة (2079)، صحيح أبي داود (2120)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 732
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے، اس میں «أمين نفسه» ہے، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ ٢- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے۔ یہی سفیان ثوری، احمد، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی جمہور کا قول ہے، ان کی دلیل ام ہانی کی روایت ہے جس میں ہے «فإن شئت فأقضی وإن شئت فلا تقضی» نیز ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے جس میں ہے «أفطر فصم مکانه إن شئت» یہ دونوں روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نفل روزہ توڑ دینے پر قضاء لازم نہیں، حنفیہ کہتے ہیں کہ قضاء لازم ہے، ان کی دلیل عائشہ و حفصہ ؓ کی روایت ہے جو ایک باب کے بعد آرہی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٨٠٠١) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس آئے اور آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: تو میں روزے سے ہوں ۔
Sayyidah Ayshah (RA), the Mother of the Believers, said, “One day when Allah’s Messenger ﷺ came home, he asked if I had anything (for him to eat). When I said that there was nothing, he said, ‘I am fasting’.” [Ahmed25789, Muslim 1154, Abu Dawud 2455, Muslim 2321, Ibn e Majah 1701]
حسن صحيح، الإرواء (965)، صحيح أبي داود (2119)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 733
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس آتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟ میں کہتی: نہیں۔ تو آپ فرماتے: تو میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا چیز ہے؟ میں نے عرض کیا: حیس ، آپ نے فرمایا: میں صبح سے روزے سے ہوں ، پھر آپ نے کھالیا۔
Sayyidah Ayshah the Mother of the Believers, said: Whenever the Prophet ﷺ came home, he asked, “Have you any food?” If I said, “No”, then he would say, “I am fasting”. So, when he came one day, I said, “O Messenger of Allah! ﷺ We have been presented some food”. He asked, “What is it?” I said, “It is hays”. He said, “Oh, I had resolved in the morning that I would fast”. But, he then ate it. [as for # 733]
حسن صحيح، الإرواء (965)، صحيح أبي داود (2119)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 734
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قسم کا کھانا جو کھجور، ستّو اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور حفصہ دونوں روزے سے تھیں، ہمارے پاس کھانے کی ایک چیز آئی جس کی ہمیں رغبت ہوئی، تو ہم نے اس میں سے کھالیا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ آ گئے، تو حفصہ مجھ سے سبقت کر گئیں - وہ اپنے باپ ہی کی بیٹی تو تھیں - انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم لوگ روزے سے تھے۔ ہمارے سامنے کھانا آگیا، تو ہمیں اس کی خواہش ہوئی تو ہم نے اسے کھالیا، آپ نے فرمایا: تم دونوں کسی اور دن اس کی قضاء کرلینا ۔
Sayyidah Ayshah (RA) bi narrated : Hafsah and I were fasting when food was presented to us. We were inclined to it and ate it. When Allah’s Messenger ﷺ came, Hafsah preceded me in asking him indeed, she was her father;s daughter. She said, “O Messenger .of Allah’ We were fasting when food was presented to us. We were drawn to it and ate it”. He said, “Redeem it on some other day. [Ahmed26327, Abu Dawud 2457] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ضعيف أبي داود (423) // عندنا برقم (531 / 2457) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 735
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- صالح بن ابی اخضر اور محمد بن ابی حفصہ نے یہ حدیث بسند «زہری عن عروہ عن عائشہ» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ اور اسے مالک بن انس، معمر، عبیداللہ بن عمر، زیاد بن سعد اور دوسرے کئی حفاظ نے بسند «الزہری عن عائشہ» مرسلاً روایت کی ہے اور ان لوگوں نے اس میں عروہ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن جمہور نے اسے تخییر پر محمول کیا ہے کیونکہ ام ہانی کی ایک روایت میں ہے «وإن کان تطوعاً فإن شئت فأقضي وإن شئت فلا تقضي» اور اگر نفلی روزہ ہے تو چاہو تو تم اس کی قضاء کرو اور چاہو تو نہ کرو اس روایت کی تخریج احمد نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائی فی الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٦٤١٩) (ضعیف) (جعفر بن برقان زہری سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عروہ کا واسطہ غلط ہے سند میں عروہ ہیں ہی نہیں)