نفل روزہ توڑنا
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَيَقُولُ: أَعِنْدَكِ غَدَاءٌ فَأَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَتْ: فَأَتَانِي يَوْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، قَالَ: وَمَا هِيَ ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَتْ: ثُمَّ أَكَلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس آتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟ میں کہتی: نہیں۔ تو آپ فرماتے: تو میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا چیز ہے؟ میں نے عرض کیا: حیس ، آپ نے فرمایا: میں صبح سے روزے سے ہوں ، پھر آپ نے کھالیا۔
Sayyidah Ayshah the Mother of the Believers, said: Whenever the Prophet ﷺ came home, he asked, “Have you any food?” If I said, “No”, then he would say, “I am fasting”. So, when he came one day, I said, “O Messenger of Allah! ﷺ We have been presented some food”. He asked, “What is it?” I said, “It is hays”. He said, “Oh, I had resolved in the morning that I would fast”. But, he then ate it. [as for # 733]