Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 33 of 199

694Sunan At-Tirmidhi

کس چیز سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ وَمَنْ لَا فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَ هَذَا غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَلَا نَعْلَمُ لَهُ أَصْلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ رَوَى أَصْحَابُ شُعْبَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، وَهَكَذَا رَوَوْا عَنْ شُعُبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ سَلْمَانَ وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ شُعْبَةُ عَنِ الرَّبَاب، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ. وَابْنُ عُيَيْنَةَ وغير واحد، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحَوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنُ عَوْنٍ، يَقُولُ: عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، وَالرَّبَاب هي أم الرائح.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے کھجور میسر ہو، تو چاہیئے کہ وہ اسی سے روزہ کھولے، اور جسے کھجور میسر نہ ہو تو چاہیئے کہ وہ پانی سے کھولے کیونکہ پانی پاکیزہ چیز ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “One who finds dates must break his fast with it. And one who does not, must break it with water, for, indeed, water is purifying”.

ضعيف، ابن ماجة (1699) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (374) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 694
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں سلمان بن عامر ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- ہم نہیں جانتے کہ انس کی حدیث سعید بن عامر کے علاوہ کسی اور نے بھی شعبہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث غیر محفوظ ہے ١ ؎، ہم اس کی کوئی اصل عبدالعزیز کی روایت سے جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہو نہیں جانتے، اور شعبہ کے شاگردوں نے یہ حدیث بطریق: «شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، اور یہ سعید بن عامر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، کچھ اور لوگوں نے اس کی بطریق: «شعبة عن عاصم عن حفصة بنت سيرين عن سلمان» روایت کی ہے اور اس میں شعبہ کی رباب سے روایت کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور صحیح وہ ہے جسے سفیان ثوری، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے، اور ابن عون کہتے ہیں: «عن أم الرائح بنت صليع عن سلمان بن عامر» اور رباب ہی دراصل ام الرائح ہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ سعیدبن عامر «عن شعبة عن عبدالعزيز بن صهيب عن أنس» کے طریق سے اس کی روایت میں منفرد ہیں، شعبہ کے دوسرے تلامذہ نے ان کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے اسے «عن شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن سلمان بن عامر» کے طریق سے روایت کی ہے، اور عاصم الاحول کے تلامذہ مثلاً سفیان ثوری اور ابن عیینہ وغیرہم نے بھی اسے اسی طرح سے روایت کیا ہے۔ ٢ ؎: یعنی ابن عون نے اپنی روایت میں «عن الرباب» کہنے کے بجائے «عن ام الروائح بنت صلیع» کہا ہے، اور رباب ام الروائح کے علاوہ کوئی اور عورت نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک ہی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائی فی الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٠٢٦) (ضعیف) (سند میں سعید بن عامر حافظہ کے ضعیف ہیں اور ان سے اس کی سند میں وہم ہوا بھی ہے، دیکھئے الارواء رقم: ٩٢٢)
695Sunan At-Tirmidhi

کس چیز سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ح. وَحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ. وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ زَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سلمان بن عامر ضبی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو چاہیئے کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اور جسے (کھجور) میسر نہ ہو تو وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاکیزہ چیز ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Salman ibn Aamir Dabbi (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘When one of you breaks fast let him do it with dates, but if he does not find any then let him break his fast with water, for, it is purifying”. [Ahmed16231, Abu Dawud 2355, Ibn e Majah 1699 Nisai 2581] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيفصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 695
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ قولاً اس کی سند صحیح نہیں ہے، مگر فعلاً یہ حدیث دیگر طرق سے ثابت ہے۔ ٢ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر افطار میں کھجور میسر ہو تو کھجور ہی سے افطار کرے کیونکہ یہ مقوی معدہ، مقوی اعصاب اور جسم میں واقع ہونے والی کمزوریوں کا بہترین بدل ہے اور اگر کھجور میّسر نہ ہو سکے تو پھر پانی سے افطار بہتر ہے نبی اکرم ﷺ تازہ کھجور سے افطار کیا کرتے تھے اگر تازہ کھجور نہیں ملتی تو خشک کھجور سے افطار کرتے اور اگر وہ بھی نہ ملتی تو چند گھونٹ پانی سے افطار کرتے تھے۔ ان دونوں چیزوں کے علاوہ اجر و ثواب وغیرہ کی نیت سے کسی اور چیز مثلاً نمک وغیرہ سے افطار کرنا بدعت ہے، جو ملاؤں نے ایجاد کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصوم ٢١ (٢٣٥٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٥ (١٦٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٤٤٨٦)، مسند احمد (٤/، ١٧، ١٩، ٢١٣، ٢١٥)، سنن الدارمی/الصوم ١٢ (١٧٧٣)، وانظر أیضا ما تقدم برقم ٦٥٨ (ضعیف)
696Sunan At-Tirmidhi

کس چیز سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رُطَبَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرُوِيَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفْطِرُ فِي الشِّتَاءِ عَلَى تَمَرَاتٍ، وَفِي الصَّيْفِ عَلَى الْمَاءِ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (مغرب) پڑھنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے افطار کرتے تھے، اور اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to break his fast before praying (on eid ul-Fitr) with a few fresh dates, or if that was not possible then with some dry dates, or if there were not any then with a few sips of water. [Abu Dawud 2356]

صحيح، الإرواء (922)، الصحيح (2040)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 696
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سردیوں میں چند کھجوروں سے افطار کرتے اور گرمیوں میں پانی سے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٢١ (٢٣٥٦)، ( تحفة الأشراف: ٢٦٥) (صحیح)
697Sunan At-Tirmidhi

عید الفطر اس دن جس دن سب افطار کرین اور عیدا لاضحی اس دن جس دن سب قربانی کرین

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated that the Prophet ﷺ said, Fasting (Ramadan) is when you observe fast, all of you. And eid ul-Fitr is the day when all of you cease to fast. And (Eid UI-) Adha is when all you celebrate it (by making sacrifice)”. [Abu Dawud 2324]

صحيح، ابن ماجة (1660)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 697
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی کا اس حدیث پر عنوان لگانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب چاند دیکھنے میں غلطی ہوجائے اور سارے کے سارے لوگ غور و خوض کرنے کے بعد ایک فیصلہ کرلیں تو اسی کے حساب سے رمضان اور عید میں کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٩٩٧) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الصوم ٥ (٢٣٢٤) وسنن ابن ماجہ/الصیام ٩ (١٦٦٠) من غیر ہذا الطریق (صحیح)
698Sunan At-Tirmidhi

جب رات سامنے آئے اور دن گزرے تو افطار کرنا چاہئے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرْتَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رات آ جائے، اور دن چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو تم نے افطار کرلیا ١ ؎۔

Sayyidina Umar ibn al-Khattab (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When night approaches and the day ends and the sun disappears, break your fast”. [Ahmed231, Bukhari 1954, Muslim 1100, Abu Dawud 2351] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (2036)، الإرواء (916)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 698
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن ابی اوفی اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تم نے افطار کرلیا کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہارے روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم شرعاً روزہ کھولنے والے ہوگئے خواہ تم نے کچھ کھایا پیا نہ ہو کیونکہ سورج ڈوبتے ہی روزہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا اس میں روزہ کے وقت کا تعین کردیا گیا ہے کہ وہ صبح صادق سے سورج ڈوبنے تک ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٤٣ (١٩٥٤)، صحیح مسلم/الصیام ١٠ (١١٠٠)، سنن ابی داود/ الصیام ١٩ (٢٣٥١)، ٢٨، ٣٥، ( تحفة الأشراف: ١٠٤٧٤)، مسند احمد (١/٤٨)، سنن الدارمی/الصوم ١١ (١٧٤٢) (صحیح)
699Sunan At-Tirmidhi

جلدی روزہ کھولنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ح. قَالَ: وأَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍقِرَاءَةً، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ اسْتَحَبُّوا تَعْجِيلَ الْفِطْرِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ برابر خیر میں رہیں گے ١ ؎ جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے ٢ ؎۔

SahI ibn Sad reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The people will not cease to prosper as long as they hasten to break the fast”. [Ahmed22868, Bukhari 1957, Muslim 1098, Ibn e Majah 1957]

صحيح، الإرواء (917)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 699
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سہل بن سعد ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، عائشہ اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور یہی قول ہے جسے صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم نے اختیار کیا ہے، ان لوگوں نے افطار میں جلدی کرنے کو مستحب جانا ہے اور اسی کے شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «خیر» سے مراد دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ٢ ؎: افطار میں جلدی کریں گے، کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورج ڈوبنے سے پہلے روزہ کھول لیں گے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ سورج ڈوبنے کے بعد روزہ کھولنے میں تاخیر نہیں کریں گے جیسا کہ آج کل احتیاط کے نام پر کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٤٥ (١٩٥٧)، ( تحفة الأشراف: ٤٧٤٦)، موطا امام مالک/الصیام ٣ (٦)، مسند احمد (٥/٣٣٧، ٣٣٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الصیام ٩ (١٠٩٨)، وسنن ابن ماجہ/الصیام ٢٤ (١٦٩٧)، مسند احمد (٥/٣٣١، ٣٣٤، ٣٣٦)، وسنن الدارمی/الصوم ١١ (١٧٤١) من غیر ہذا الطریق۔
700Sunan At-Tirmidhi

جلدی روزہ کھولنا

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: مجھے میرے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said that Allah, the Glorious, the Majestic, said : The dearest of My slaves to Me is he who hastens to break his fast. [Ahmed8368]

ضعيف، المشکاة (1989)، التعليق الرغيب (2 / 95)، التعليقات الجياد // ضعيف الجامع الصغير (4041) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 700
Notes · وضاحت
١ ؎: اس محبت کی وجہ شاید سنت کی متابعت، بدعت سے دور رہنے اور اہل کتاب کی مخالفت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٢٣٥)، وانظر: مسند احمد (٢/٢٣٨، ٣٢٩) (ضعیف) (سند میں قرة بن عبدالرحمن کی بہت سے منکر روایات ہیں، نیز ولید بن مسلم مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)۔
701Sunan At-Tirmidhi

جلدی روزہ کھولنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

اس سند سے بھی اوزاعی سے اسی طرح مروی ہے۔

Abdullah ibn Abdur Rahman reported the like of it from Abu Aasim and Abu Mughirah and they from Awza’i.

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 701
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف) (سابقہ حدیث کے رواة اس میں بھی ہیں)
702Sunan At-Tirmidhi

جلدی روزہ کھولنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا صَنَع رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَطِيَّةَ اسْمُهُ مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْهَمْدَانِيُّ وَيُقَالُ ابْنُ عَامِرٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَابْنُ عَامِرٍ أَصَحُّ.

ابوعطیہ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئے، ہم نے عرض کیا: ام المؤمنین! صحابہ میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار جلدی کرتا ہے اور نماز ١ ؎ بھی جلدی پڑھتا ہے اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے اور نماز بھی دیر سے پڑھتا ہے ٢ ؎ انہوں نے کہا: وہ کون ہے جو افطار جلدی کرتا ہے اور نماز بھی جلدی پڑھتا ہے، ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے تھے اور دوسرے ابوموسیٰ ہیں۔

Abu Atiyah narrated that he and a Masruq visited Sayyidah Ayshah (RA) and they said to her, “O Mother of the Believers! There are two men among the Companions of Muhammad ﷺ one of whom hastens to break the fast and hastens to pray while the other delays to break the fast and delays prayer. She asked, “Which of them hastens the iftar and hastens the salah?” They disclosed that he was Abduflah ibn Mas’ud (RA) and she said, “This is what Allah’s Messenger did”. The other man was Abu Musa (RA). [Ahmed2155, Muslim 1099, Abu Dawud 2354, Nisai 2154]

صحيح، صحيح أبي داود (2039)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 702
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوعطیہ کا نام مالک بن ابی عامر ہمدانی ہے اور انہیں ابن عامر ہمدانی بھی کہا جاتا ہے۔ اور ابن عامر ہی زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر اس سے مراد مغرب ہے اور عموم پر بھی اسے محمول کیا جاسکتا ہے اس صورت میں مغرب بھی من جملہ انہی میں سے ہوگی۔ ٢ ؎: پہلے شخص یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ عزیمت اور سنت پر عمل پیرا تھے اور دوسرے شخص یعنی ابوموسیٰ اشعری جواز اور رخصت پر۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٩)، سنن ابی داود/ الصوم ٢٠ (٢٣٥٤)، سنن النسائی/الصیام ٢٣ (٢١٦٠)، ( تحفة الأشراف: ١٧٧٩٩)، مسند احمد (٦/٤٨) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٦/١٧٣) من غیر ہذا الطریق۔
703Sunan At-Tirmidhi

سحری میں تاخیر کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانَ قَدْرُ ذَلِكَ ؟ قَالَ: قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً .

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، انس کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اس کی مقدار کتنی تھی؟ ١ ؎ انہوں نے کہا: پچاس آیتوں کے (پڑھنے کے) بقدر ٢ ؎۔

Sayyiclina Zayd ibn Thabit (RA) narrated that they had the sahr (pre-dawn meal) with Allahs Messenger Then they went for the salah of fajr. The sub-narrator asked him how much time they had and he said, “What it takes to recite fifty verses”. [Ahmed21677, Bukhari 575, Muslim 1097, Nisai 2151]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 703
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں کے بیچ میں کتنا وقفہ تھا۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری بالکل آخری وقت میں کھائی جائے، یہی مسنون طریقہ ہے تاہم صبح صادق سے پہلے کھالی جائے اور یہ وقفہ پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٨ (٥٧٥)، والصوم ١٩ (١٩٢١)، صحیح مسلم/الصیام ٩ (١٠٩٧)، سنن النسائی/الصیام ٢١ (٢١٥٧)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٣ (١٩٩٤)، ( تحفة الأشراف: ٣٦٩٦)، مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٥، ١٨٦، ١٨٨، ١٩٢)، سنن الدارمی/الصوم ٨ (١٧٠٢) (صحیح)
704Sunan At-Tirmidhi

سحری میں تاخیر کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: اسْتَحَبُّوا تَأْخِيرَ السُّحُورِ.

اس سند سے بھی ہشام سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے: پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر۔

Hanad reported the like of this hadith from Waki’ from Hisham. But the word (recital) is extra.

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 704
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- زید بن ثابت ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں حذیفہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ان لوگوں نے سحری میں دیر کرنے کو پسند کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح)
705Sunan At-Tirmidhi

صبح صادق کی تحقیق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، حَدَّثَنِي أَبِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الْأَحْمَرُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُ لَا يَحْرُمُ عَلَى الصَّائِمِ الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ حَتَّى يَكُونَ الْفَجْرُ الْأَحْمَرُ الْمُعْتَرِضُ. وَبِهِ يَقُولُ عَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ.

قیس بن طلق کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ طلق بن علی ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو، تمہیں کھانے پینے سے چمکتی اور چڑھتی ہوئی صبح یعنی صبح کاذب نہ روکے ١ ؎ کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ سرخی تمہارے چوڑان میں ہوجائے ۔

Talq ibn Ali reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Eat and drink and do not let the rising light confuse you. Eat and drink till redness (of dawn) is apparent to you”. [Abu Dawud 2348]

حسن صحيح، صحيح أبي داود (2033)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 705
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- طلق بن علی ؓ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عدی بن حاتم، ابوذر اور سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ صائم پر کھانا پینا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ فجر کی سرخ چوڑی روشنی نمودار نہ ہوجائے، اور یہی اکثر اہل علم کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «الساطع المصعد» سے مراد فجر کاذب ہے اور «الاحمر» سے مراد صبح صادق، اس حدیث سے بعض لوگوں نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ فجر کے ظاہر ہونے تک کھانا پینا جائز ہے، مگر جمہور کہتے ہیں کہ فجر کے متحقق ہوتے ہی کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ «الاحمر» کہنا مجاورت کی بنا پر ہے کیونکہ فجر کے طلوع کے ساتھ حمرہ ( سرخی ) آ جاتی ہے پس فجر تحقق کو «الاحمر» کہہ دیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ١٧ (٢٣٤٨) (تحفة الأشراف: ٥٠٢٥) (حسن صحیح)
707Sunan At-Tirmidhi

جو روزہ دار غیبت کرے اس کی برائی

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ بِأَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو («صائم» ) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If a person does not give up false speech and deeds corresponding to it then Allah is in no need of his giving up his food and his drink”. [Bukhari 1903]

صحيح، ابن ماجة (1689)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 707
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس تنبیہ سے مقصود یہ ہے کہ روزہ دار روزے کی حالت میں اپنے آپ کو ہر قسم کی معصیت سے بچائے رکھے تاکہ وہ روزہ کے ثواب کا مستحق ہو سکے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ رمضان میں کھانا پینا شروع کر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٨ (١٩٠٣)، والأدب ٥١ (٦٠٥٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢١ (١٦٨٩)، ( تحفة الأشراف: ١٤٣٢١) (صحیح)
708Sunan At-Tirmidhi

سحری کھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ .

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ ١ ؎، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, “Partake of the predawn meal, for there is blessing in it”. [Ahmed11950, Bukhari 1923, Muslim 1095, Nisai 2142]

صحيح، ابن ماجة (1692)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 708
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، عمرو بن العاص، عرباض بن ساریہ، عتبہ بن عبداللہ اور ابو الدرداء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانے کا ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امر کا صیغہ ندب و استحباب کے لیے ہے سحری کھانے سے آدمی پورے دن اپنے اندر طاقت و توانائی محسوس کرتا ہے اس کے برعکس جو سحری نہیں کھاتا اسے جلدی بھوک پیاس ستانے لگتی ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری کھانا اس امت کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٥)، سنن النسائی/الصیام ١٨ (٢١٤٨)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٨ و ١٤٣٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٢٠ (١٩٢٣)، وسنن ابن ماجہ/الصیام ٢٢ (١٦٩٢)، و مسند احمد (٣/٩٩، ٢١٥، ٢٥٨، ٢٨١)، وسنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٨)، من غیر ہذا الطریق۔
710Sunan At-Tirmidhi

سفر میں روزہ رکھنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ، وَإِنَّ النَّاسَ يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَأَفْطَرَ بَعْضُهُمْ وَصَامَ بَعْضُهُمْ، فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ: أُولَئِكَ الْعُصَاةُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْفِطْرَ فِي السَّفَرِ أَفْضَلُ، حَتَّى رَأَى بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ الْإِعَادَةَ إِذَا صَامَ فِي السَّفَرِ. وَاخْتَارَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق الْفِطْرَ فِي السَّفَرِ. وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: إِنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَحَسَنٌ، وَهُوَ أَفْضَلُ، وَإِنْ أَفْطَرَ فَحَسَنٌ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ. وقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ، وَقَوْلِهِ حِينَ بَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ: أُولَئِكَ الْعُصَاةُ ، فَوَجْهُ هَذَا إِذَا لَمْ يَحْتَمِلْ قَلْبُهُ قَبُولَ رُخْصَةِ اللَّهِ، فَأَمَّا مَنْ رَأَى الْفِطْرَ مُبَاحًا وَصَامَ وَقَوِيَ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ أَعْجَبُ إِلَيَّ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ کی طرف نکلے تو آپ نے روزہ رکھا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع غمیم ١ ؎ پر پہنچے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ رکھنا گراں ہو رہا ہے اور لوگ آپ کے عمل کو دیکھ رہے ہیں۔ (یعنی منتظر ہیں کہ آپ کچھ کریں) تو آپ نے عصر کے بعد ایک پیالہ پانی منگا کر پیا، لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے، تو ان میں سے بعض نے روزہ توڑ دیا اور بعض رکھے رہے۔ آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ (اب بھی) روزے سے ہیں، آپ نے فرمایا: یہی لوگ نافرمان ہیں ٢ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that when Allah’s Messnger ﷺ set out for Makkah in the year of conquest, he kept fast till he reached Kura’ al-Ghamim, and the people also fasted with him. He was told that some people found it burdensome to fast and they waited to see what he did. So he asked for a cup of water after asr and drank it. The People looked at him and some of them broke their fast and some of them continued to fast. So, he was told that people were fasting and he said, “They are the disobedient”. [Ahmed 14406, Muslim 1114 Nisai 2259] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (4 / 57)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 710
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں کعب بن عاصم، ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ، ٤- سفر میں روزہ رکھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے، یہاں تک بعض لوگوں کی رائے ہے کہ جب وہ سفر میں روزہ رکھ لے تو وہ سفر سے لوٹنے کے بعد پھر دوبارہ رکھے، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی سفر میں روزہ نہ رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ ٥- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وہ طاقت پائے اور روزہ رکھے تو یہی مستحسن اور افضل ہے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس اور عبداللہ بن مبارک اسی کے قائل ہیں، ٦- شافعی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے قول سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں اور جس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ روزے سے ہیں تو آپ کا یہ فرمانا کہ یہی لوگ نافرمان ہیں ایسے شخص کے لیے ہے جس کا دل اللہ کی دی ہوئی رخصت اور اجازت کو قبول نہ کرے، لیکن جو لوگ سفر میں روزہ نہ رکھنے کو مباح سمجھتے ہوئے روزہ رکھے اور اس کی قوت بھی رکھتا ہو تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ انہوں نے اپنے آپ پر سختی کی اور صوم افطار کرنے کے بارے میں انہیں جو رخصت دی گئی ہے اس رخصت کو قبول کرنے سے انہوں نے انکار کیا، اور یہ اس شخص پر محمول کیا جائے گا جسے سفر میں روزہ رکھنے سے ضرر ہو رہا ہو، رہا وہ شخص جسے سفر میں روزہ رکھنے سے ضرر نہ پہنچے تو وہ روزہ رکھنے سے گنہگار نہ ہوگا، یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سفر کے دوران مشقت کی صورت میں روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١٤١)، سنن النسائی/الصیام ٤٩ (٢٢٦٥)، ( تحفة الأشراف: ٢٥٩٨) (صحیح)
711Sunan At-Tirmidhi

سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ وَكَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ، فَقَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا، وہ خود مسلسل روزہ رکھا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔

Sayyidah Ayshah reported that Sayyidina Hamzah ibn Amr Aslam (RA) asked Allah’s Messenger about fasting during a journey, he being accustomed to fast without interruption. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Fast if you like, or cease to fast if you like”. [Ahmed16037, Muslim 1121, Abu Dawud 2402, Nisai 2380, Ibn e Majah 1662]

صحيح، ابن ماجة (1662)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 711
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ کی حدیث کہ حمزہ بن عمرو ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس بن مالک، ابو سعید خدری، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمرو، ابو الدرداء اور حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصوم ٥٨ (٢٣١٠)، ( تحفة الأشراف: ١٧٠٧١) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٣٣ (١٩٤٢، ١٩٤٣) وصحیح مسلم/الصیام ٧ (١١٢١)، و سنن ابی داود/ الصوم ٤٢ (٢٤٠٢)، وسنن النسائی/الصیام ٥٨ (٢٣٠٨-٢٣١٠)، و ٧٤ (٢٣٨٦)، وسنن ابن ماجہ/الصوم ١٠ (١٦٦٢)، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢٤) و مسند احمد (٦/٤٦، ١٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧)، وسنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٨)، من غیر ہذا الطریق۔
712Sunan At-Tirmidhi

سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمَا يَعِيبُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمَهُ وَلَا عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں سفر کرتے تو نہ آپ روزہ رکھنے والے کے روزہ رکھنے پر نکیر کرتے اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والے کے روزہ نہ رکھنے پر۔

Sayidina Abu Sa’eed said, “We used to trayel with Allah’s Messenger in the month of Ramadan. Neither those who fasted nor those who broke fast found fault with the other”. [Ahmed11083, Muslim 1116, Abu Dawud 2406, Nisai 2305] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 712
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٦)، سنن النسائی/الصیام ٥٩ (٢٣١٢)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٤٤) (صحیح)
713Sunan At-Tirmidhi

سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ح. قَالَ: وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَجِدُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، وَلَا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَحَسَنٌ، وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَحَسَنٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کرتے تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے ہوتے اور بعض روزے سے نہ ہوتے۔ تو نہ تو روزہ نہ رکھنے والا رکھنے والے پر غصہ کرتا اور نہ ہی روزہ رکھنے والے نہ رکھنے والے پر، ان کا خیال تھا کہ جسے قوت ہو وہ روزہ رکھے تو بہتر ہے، اور جس نے کمزوری محسوس کی اور روزہ نہ رکھا تو بھی بہتر ہے۔

Sayyidina Abu Sa’eed al-Khudri (RA) reported. “We would travel with Allah’s Messenger ﷺ There were with us those who kept fast and those who did not. So, neither did he who did not fast find fault with him who kept fast nor did he who fasted find fault with one who did not. They held that he who had strength and fasted did good and he who was weak and did not fast also did good”.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 713
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٦)، سنن النسائی/الصیام ٥٩ (٢٣١١)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٢٥) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٣/٤٥، ٧٤، ٨٧) من غیر ہذا الطریق۔
714Sunan At-Tirmidhi

لڑنے والے کے لئے افطار کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حُيَيَّةَ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَحَدَّثَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ غَزْوَتَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَالْفَتْحِ، فَأَفْطَرْنَا فِيهِمَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ بِالْفِطْرِ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ نَحْوُ هَذَا، إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْإِفْطَارِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ، وَبِهِ يَقُولُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ.

معمر بن ابی حیّیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن مسیب سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو ابن مسیب نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں: ہم نے رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو غزوے کئے۔ غزوہ بدر اور فتح مکہ، ہم نے ان دونوں میں روزے نہیں رکھے ١ ؎۔

Ma’mar ibn Abu Huyiyah asked Ibn Musayyib about fasting during a journey. He narrated that Sayyidina Umar ibn Khattab ‘iii said, “We travelled with Allah’s Messenger in two expeditions in Ramadan, the day of Badr and the conquest (of Makkah) and we broke fast both times”. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 714
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر ؓ کی حدیث ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے، ٣- ابو سعید خدری سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے (لوگوں کو) ایک غزوے میں افطار کا حکم دیا۔ عمر بن خطاب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ البتہ انہوں نے روزہ رکھنے کی رخصت دشمن سے مڈبھیڑ کی صورت میں دی ہے۔ اور بعض اہل علم اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یا تو سفر کی وجہ سے یا طاقت کے لیے تاکہ دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت کمزوری لاحق نہ ہو اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٤٥٠) (ضعیف الإسناد) (سعیدبن المسیب نے عمر فاروق ؓ کو نہیں پایا ہے، لیکن دوسرے دلائل سے مسئلہ ثابت ہے)
715Sunan At-Tirmidhi

حاملہ اور دودھ پلانے والی کے لئے افطار کی اجازت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: ادْنُ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّوْمِ أَوِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحَامِلِ أَوِ الْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّيَامَ . وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلْتَيْهِمَا أَوْ إِحْدَاهُمَا، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي أَنْ لَا أَكُونَ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْكَعْبِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ هَذَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَاحِدِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ تُفْطِرَانِ وَتَقْضِيَانِ وَتُطْعِمَانِ. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ، وَمَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: تُفْطِرَانِ وَتُطْعِمَانِ وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ شَاءَتَا قَضَتَا وَلَا إِطْعَامَ عَلَيْهِمَا، وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق.

انس بن مالک کعبی ؓ ١ ؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سواروں نے ہم پر رات میں حملہ کیا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ کو پایا کہ آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ کھالو ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا: قریب آؤ، میں تمہیں روزے کے بارے میں بتاؤں، اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز ٢ ؎ معاف کردی ہے، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی روزہ کو معاف کردیا ہے۔ اللہ کی قسم نبی اکرم ﷺ نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت دونوں لفظ کہے یا ان میں سے کوئی ایک لفظ کہا، تو ہائے افسوس اپنے آپ پر کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کیوں نہیں کھایا۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that a man of Banu Abdullah ibn Ka’b said that the army of Allah’s Messenger ﷺ attacked his tribe. He went to the Prophet ﷺ and found him having his meal. He said, “Come close and eat”, The man said, “I am fasting”. The Prophet ﷺ said, “Come close. I will tell you about fasting. Allah has for given the traveller half the prayer and the pregnant woman and she who suckles the fasts”. The man said, “By Allah, he mentioned both the pregnant woman and the suckling mother, or one of them. Alas for me! why did I not eat the food of the Prophet ﷺ ?“ [Ahmed 19069, Abu Dawud 6408, Nisai 2314, Ibn e Majah 1667]

حسن صحيح، ابن ماجة (1667)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 715
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس بن مالک کعبی کی حدیث حسن ہے، انس بن مالک کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث ہم نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، ٢- اس باب میں ابوامیہ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں روزہ نہیں رکھیں گی، بعد میں قضاء کریں گی، اور فقراء و مساکین کو کھانا کھلائیں گی۔ سفیان، مالک، شافعی اور احمد اسی کے قائل ہیں، ٥- بعض کہتے ہیں: وہ روزہ نہیں رکھیں گی بلکہ فقراء و مساکین کو کھانا کھلائیں گی۔ اور ان پر کوئی قضاء نہیں اور اگر وہ قضاء کرنا چاہیں تو ان پر کھانا کھلانا واجب نہیں۔ اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہ انس بن مالک نہیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں، بلکہ یہ کعبی ہیں۔ ٢ ؎: مراد چار رکعت والی نماز میں سے ہے۔ ٣ ؎: اور اسی کو صاحب تحفہ الأحوذی نے راجح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ میرے نزدیک ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں مریض کے حکم میں ہیں لہٰذا ان پر صرف قضاء لازم ہوگی۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٤٣ (٢٤٠٨)، سنن النسائی/الصیام ٥١ (٢٢٧٦)، و ٦٢ (٢٣١٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٢ (١٦٦٧)، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٢)، مسند احمد (٤/٣٤٧)، و (٥/٢٩) (حسن صحیح)