Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 32 of 199

674Sunan At-Tirmidhi

صدقہ فطر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُنَادِيًا فِي فِجَاجِ مَكَّةَ، أَلَا إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ سِوَاهُ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ: عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ مِينَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ. حَدَّثَنَا جَارُودُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو مکہ کی گلیوں میں منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ سنو! صدقہ فطر ہر مسلمان مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، گیہوں سے دو مد اور گیہوں کے علاوہ دوسرے غلوں سے ایک صاع واجب ہے ۔

Amr ibn Shu’ayb reported from his father who from his grandfather that the Prophet ﷺ sent an announcer to the streets of Makkah (to proclaim) that sadaqah ul-Fitr is wajib on every Muslim; male or female, freeman or slave, young or old, (at the rate of) two mudd of wheat, or a sa’ of (any kind of) grain apart from it.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 674
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- عمر بن ہارون نے یہ حدیث ابن جریج سے روایت کی، اور کہا: «العباس بن ميناء عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» پھر آگے اس حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٧٤٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سالم بن نوح حافظے کے ضعیف ہیں، مگر اس حدیث کی اصل ثابت ہے)
675Sunan At-Tirmidhi

صدقہ فطر کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ . قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَدِّ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَاب، وَثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر، ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض کیا، راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر کرلیا۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ made sadaqatul-Fitr obligatory on (every Muslim), male or female freeman or slave, (at the rate of) one sa’ dates or barley. He said that people later changed it to a half sa’ of wheat. [Ahmed5174, Bukhari 1511, Muslim 984, Abu Dawud 1615, 2496, Ibn e Majah 1825]

صحيح، ابن ماجة (1825)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 675
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوسعید، ابن عباس، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے دادا (یعنی ابوذباب) ، ثعلبہ بن ابی صعیر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٧ (١٥١١)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن النسائی/الزکاة ٣٠ (٢٥٠٢)، و ٣١ (٢٥٠٣)، ( تحفة الأشراف: ٧٥١٠)، مسند احمد ( ٢/٥) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٧٠ (١٥٠٣)، و ٧١ (١٥٠٤)، و ٧٤ (١٥٠٧)، و ٧٤ (١٥٠٧)، و ٧٨ (١٥١٢)، وصحیح مسلم/الزکاة (المصدر السابق)، و سنن ابی داود/ الزکاة ١٩ (١٦١١)، وسنن النسائی/الزکاة ٣٢ (٢٥٠٤)، و ٣٣ (٢٥٠٥)، وسنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٥، و ١٨٢٦)، (٥٢)، و مسند احمد (٢/٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧)، و سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٦٦٨)، من غیر ہذا الطریق عنہ، وانظر الحدیث الآتی۔
676Sunan At-Tirmidhi

صدقہ فطر کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرَوَى مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَزَادَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَبِيدٌ غَيْرُ مُسْلِمِينَ لَمْ يُؤَدِّ عَنْهُمْ صَدَقَةَ الْفِطْرِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يُؤَدِّي عَنْهُمْ وَإِنْ كَانُوا غَيْرَ مُسْلِمِينَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام، مرد اور عورت پر فرض کیا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ made it obligatory to pay sadaqat ul-Fitr of Ramadan at a sa’ of dates or barley on every freeman or slave, male or female of the Muslims.

صحيح، ابن ماجة (1826)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 676
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- مالک نے بھی بطریق: «نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» ایوب کی حدیث کی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں «من المسلمين» کا اضافہ ہے۔ ٣- اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے روایت کی ہے، اس میں «من المسلمين» کا ذکر نہیں ہے، ٤- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس غیر مسلم غلام ہوں تو وہ ان کا صدقہ فطر ادا نہیں کرے گا۔ یہی مالک، شافعی اور احمد کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ غلاموں کا صدقہ فطر ادا کرے گا خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں، یہ ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں لفظ «فَرضَ» استعمال ہوا ہے جس کے معنی فرض اور لازم ہونے کے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ صدقہ فطر فرض ہے بعض لوگوں نے «فَرضَ» کو «قَدَّرَ» کے معنی میں لیا ہے لیکن یہ ظاہر کے سراسر خلاف ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ روایت میں «من المسلمين» کی قید اتفاقی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ٨٣٢١) (صحیح)
677Sunan At-Tirmidhi

صدقہ فطر نماز عید سے پہلے دینے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ أَبُو عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَأْمُرُ بِإِخْرَاجِ الزَّكَاةِ قَبْلَ الْغُدُوِّ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُخْرِجَ الرَّجُلُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْغُدُوِّ إِلَى الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے صدقہ فطر نکالنے کا حکم دیتے تھے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ instructed them that sadaqat ul-Fitr must be paid before going out in the morning for the salah of eid ul-Fitr. [Ahmed5345, Bukhari 1509, Muslim 986, Abu Dawud 1610) --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح، صحيح أبي داود (1428)، الإرواء (832)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 677
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اور اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صدقہ فطر نماز کے لیے جانے سے پہلے نکال دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٦ (١٥٠٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٥ (٩٨٦)، سنن ابی داود/ الزکاة ١٨ (١٦١٠)، سنن النسائی/الزکاة ٤٥ (٢٥٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٨٤٥٢)، مسند احمد (٢/١٥١، ١٥٥) (صحیح) وأخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٣٣ (٢٥٠٦) من غیر ہذا الطریق
678Sunan At-Tirmidhi

وقت سے پہلے زکوة ادا کرنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ .

علی ؓ کہتے ہیں کہ عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی زکاۃ وقت سے پہلے دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی۔

Sayyidina Ali (RA) said that Sayyiddina Abbas (RA) asked Allah’s Messenger about paying Zakah before it came due. So ,he permitted to do so.

حسن، ابن ماجة (1795)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 678
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٢١ (١٦٢٤)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٧ (١٧٩٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٦٣)، سنن الدارمی/الزکاة ١٢ (١٦٧٦) (حسن)
679Sunan At-Tirmidhi

وقت سے پہلے زکوة ادا کرنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ جَحْلٍ، عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ: إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا زَكَاةَ الْعَبَّاسِ عَامَ الْأَوَّلِ لِلْعَامِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَحَدِيثُ إِسْمَاعِيل بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَجَّاجِ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ قَبْلَ مَحِلِّهَا، فَرَأَى طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُعَجِّلَهَا، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ لَا يُعَجِّلَهَا، وقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ عَجَّلَهَا قَبْلَ مَحِلِّهَا أَجْزَأَتْ عَنْهُ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر ؓ سے فرمایا: ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں ۔

Sayyidina Ali (RA) narrated that the Prophet ﷺ said to Sayyidina Umer (RA) , “We have already taken from Abbas last year Zakah for this Year”.

حسن أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 679
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- اسرائیل کی پہلے زکاۃ نکالنے والی حدیث کو جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٣- اسماعیل بن زکریا کی حدیث جسے انہوں نے حجاج سے روایت کی ہے میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث سے جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے، ٤- نیز یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٥- اہل علم کا وقت سے پہلے پیشگی زکاۃ دینے میں اختلاف ہے، اہل علم میں سے ایک جماعت کی رائے ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں: کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، اور اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وقت سے پہلے پیشگی ادا کر دے تو جائز ہے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی قول راجح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن)
680Sunan At-Tirmidhi

سوال کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ فَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنِ النَّاسِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَعَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَمَسْعُودِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَثَوْبَانَ، وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، وَأَنَسٍ، وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، وَسَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے (یعنی اس کی قیمت میں سے) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بےنیاز رہے (یعنی ان سے نہ مانگے) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے ١ ؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ٢ ؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو ۔

Sayyidina Abu hurayrah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say , “One of you who goes out in the morning and returns carrying a wood on his back from which he gives Sadaqah is absolved from begging of men is better than one who begs from others who may or may not give him. For, the upper hand is better than the hand below. And begin to spend on those who are your responisibility” [ Ahmed10442, Bukhari 2074, Muslim 1042] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (834)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 680
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- وہ بیان کی حدیث سے جسے انہوں نے قیس سے روایت کی ہے غریب جانی جاتی ہے، ٣- اس باب میں حکیم بن حزام، ابو سعید خدری، زبیر بن عوام، عطیہ سعدی، عبداللہ بن مسعود، مسعود بن عمرو، ابن عباس، ثوبان، زیاد بن حارث صدائی، انس، حبشی بن جنادہ، قبیصہ بن مخارق، سمرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عزیمت کی راہ یہی ہے کہ آدمی ضرورت وحاجت ہونے پر بھی کسی سے سوال نہ کرے اگرچہ ضرورت و حاجت کے وقت سوال کرنا جائز ہے۔ ٢ ؎: اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد لینے والا ہاتھ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤٢)، ( تحفة الأشراف: ١٤٢٩٣) (صحیح) أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (٤٧٠)، و ٥٣ (١٤٨٠)، والبیوع ١٥ (٢٠٧٤)، والمساقاة ١٣ (٢٣٧٤)، وسنن النسائی/الزکاة ٨٣ (٢٥٨٥)، و ٨٥ (٢٥٩٠)، وسنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٥ (١٨٣٦)، وط/الصدقة ٢ (١٠)، و مسند احمد (٢/٢٤٣، ٢٥٧، ٣٠٠، ٤١٨، ٤٧٥، ٤٩٦) من غیر ہذا الطریق عنہ
681Sunan At-Tirmidhi

سوال کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِلاَّ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا أَوْ فِي أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنا چہرہ زخمی کرلیتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے ١ ؎ یا کسی ایسے کام کے لیے مانگے جو ضروری اور ناگزیر ہو ۔

Sayyidina Samurah ibnJundub narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely to beg is mutilating. A man distorts his face with it, except one who seeks from a ruler, or begs when there is no way out of it. [Abu Dawud 1639, Nisai 2589]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 2)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 681
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حاکم سے مانگنے کا مطلب بیت المال کی طرف رجوع کرنا ہے جو اس مقصد کے لیے ہوتا ہے کہ اس سے ضرورت مند کی آبرو مندانہ کفالت کی جائے اگر وہاں تک نہ پہنچ سکے تو ناگزیر حالات و معاملات میں دوسروں سے سوال کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٢٦ (١٦٣٩)، سنن النسائی/الزکاة ٩٢ (٢٦٠٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٦١٤) (صحیح)
682Sunan At-Tirmidhi

رمضان کے فضلیت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَاب، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَاب، وَيُنَادِي مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَسَلْمَانَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اور سرکش جن ١ ؎ جکڑ دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اور شر کے طلب گار! رک جا ٢ ؎ اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں (تو ہوسکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو) اور ایسا (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “When it is the first night of the month of Ramadan, the devils and the rebellious jinns are put in hackles. The gates of Hell are shut and not one of them is opened. And the gates of Paradise are unlocked and none of them is locked. And, an announcer calls, ‘O seeker of good, come forward. And O seeker of evil, desist’. And, freedom from fire is (allowed) by Allah. And, this happens every night”. [Ahmed8692, Bukhari 1898, Muslim 1079, Nisai 2094, Ibn e Majah 1642]

صحيح، ابن ماجة (1642)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 682
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابن مسعود اور سلمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مردة الجن کا عطف الشياطين پر ہے، بعض اسے عطف تفسیری کہتے ہیں اور بعض عطف مغایرت یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ جب شیاطین اور مردۃ الجن قید کر دئیے جاتے ہیں تو پھر معاصی کا صدور کیوں ہوتا ہے؟ اس کا ایک جواب تو یہ کہ معصیت کے صدور کے لیے تحقق اور شیاطین کا وجود ضروری نہیں، انسان گیارہ مہینے شیطان سے متاثر ہوتا رہتا ہے رمضان میں بھی اس کا اثر باقی رہتا ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ لیڈر قید کردیئے جاتے لیکن رضاکار اور والنیٹر کھلے رہتے ہیں۔ ٢ ؎: اسی ندا کا اثر ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی نیکیوں کی جانب توجہ بڑھ جاتی ہے اور وہ اس ماہ مبارک میں تلاوت قرآن ذکر و عبادات خیرات اور توبہ واستغفار کا زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٢ (١٦٤٢)، ( تحفة الأشراف: ١٢٤٩) (صحیح) وأخرج الشق الأول کل من: صحیح البخاری/الصوم ٥ (١٨٩٨، ١٨٩٩)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٧٧)، وصحیح مسلم/الصوم ١ (١٠٧٩)، وسنن النسائی/الصوم ٣ (٢٠٩٩، ٢١٠٠)، و ٤ (٢١٠١، ٢١٠٢، ٢١٠٣، ٢١٠٤)، و ٥ (٢١٠٦، ٢١٠٧)، وط/الصوم ٢٢ (٥٩)، و مسند احمد (٢/٢٨١، ٣٥٧، ٣٧٨، ٤٠١)، وسنن الدارمی/الصوم ٥٣ (١٨١٦)، من غیر ہذا الطریق عنہ۔
683Sunan At-Tirmidhi

رمضان کے فضلیت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ الَّذِي رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلَهُ: إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ ١ ؎ بخش دئیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے بھی سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

Sayyidina Abu Hurayah narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who fasts during Ramadan and prays during its night with faith, seeking reward will be forgiven his past sins. And he who prays during Iaylatul qadr (the night of power) with faith, seeking reward, will be forgiven his past sins”. [Ahmed10308, Bukhari 37, Muslim 759, Abu Dawud 1371, Nisai 1598]

صحيح، ابن ماجة (1326)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 683
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی (پچھلی) حدیث، جسے ابوبکر بن عیاش نے روایت کی ہے غریب ہے، اسے ہم ابوبکر بن عیاش کی روایت کی طرح جسے انہوں نے بطریق: «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة» روایت کی ہے۔ ابوبکر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بسند «حسن بن ربیع عن أبی الأحوص عن الأعمش» مجاہد کا قول نقل کیا کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے … پھر آگے انہوں نے پوری حدیث بیان کی، ٣- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٠٣٨ و ١٥٠٥١) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٧)، و ٢٨ (٣٨)، والصوم ٦ (١٩٠١)، والتراویح ١ (٢٠٠٨، ٢٠٠٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣ (١٦٠٣)، والصوم ٣٩ (٢١٩٣)، والإیمان ٢١ (٥٠٢٧-٥٠٢٩)، و ٢٢ (٥٠٣٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٣ (١٣٢٦)، موطا امام مالک/ رمضان ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٤١، ٣٨٥، ٤٧٣، ٥٠٣)، سنن الدارمی/الصوم ٥٤ (١٨١٧)، من غیر ہذا الطریق عنہ وبتصرف بسیر فی السیاق وانظر ما یأتی عند المؤلف برقم: ٨٠٨۔
684Sunan At-Tirmidhi

رمضان کے استقبال کی نیت سے روزے نہ رکھے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا . رَوَى مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ الَّنَبِيِّ صَلى الله عليه وسَلم بِنَحْوِ هَذَا، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَتَعَجَّلَ الرَّجُلُ بِصِيَامٍ قَبْلَ دُخُولِ شَهْرِ رَمَضَانَ لِمَعْنَى رَمَضَانَ، وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يَصُومُ صَوْمًا فَوَافَقَ صِيَامُهُ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ عِنْدَهُمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس ماہ (رمضان) سے ایک یا دو دن پہلے (رمضان کے استقبال کی نیت سے) روزے نہ رکھو ١ ؎، سوائے اس کے کہ اس دن ایسا روزہ آپڑے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو ٢ ؎ اور (رمضان کا) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (شوال کا) چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کرو۔ اگر آسمان ابر آلود ہوجائے تو مہینے کے تیس دن شمار کرلو، پھر روزہ رکھنا بند کرو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, ‘Do not seek to welcome the month (of Ramadan) by fasting a day or two days prior to it, except that one is accustomed to those fasts which he always keeps. Keep fast after seeing the new moon and cease to fast on seeing the moon but if there are clouds over you then count thirty days and then break fast”. [Ahmed10188, Bukhari 1914, Muslim 1082, Abu Dawud 2335] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1650 و 1655)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 684
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں بعض صحابہ کرام سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے۔ وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے ہیں کہ آدمی ماہ رمضان کے آنے سے پہلے رمضان کے استقبال میں روزے رکھے، اور اگر کسی آدمی کا (کسی خاص دن میں) روزہ رکھنے کا معمول ہو اور وہ دن رمضان سے پہلے آپڑے تو ان کے نزدیک اس دن روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ فرض روزے نفلی روزوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہوجائیں اور کچھ لوگ انہیں فرض نہ سمجھ بیٹھیں، لہٰذا تحفظ حدود کے لیے نبی اکرم ﷺ نے جانبین سے روزہ منع کردیا کیونکہ امم سابقہ میں اس قسم کے تغیر وتبدل ہوا کرتے تھے جس سے زیادتی فی الدین کی راہ کھلتی تھی، اس لیے اس سے منع کردیا۔ ٢ ؎: مثلاً پہلے سے جمعرات یا پیر یا ایام بیض کے روزے رکھنے کا معمول ہو اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آ جائے تو اس کا روزہ رکھا جائے کہ یہ استقبال رمضان میں سے نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٠٥٧) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ١٤ (١٩١٤)، صحیح مسلم/الصیام ٣ (١٠٨٢)، سنن ابی داود/ الصیام ١١ (٢٣٣٥)، سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢١٧٤)، و ٣٨ (٢١٨٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥ (١٦٠)، مسند احمد (٢/٢٣٤، ٣٤٧، ٤٠٨، ٤٣٨، ٤٧٧، ٤٩٧، ٥١٣)، سنن الدارمی/الصوم ٤ (١٧٣١)، من غیر ہذا الطریق۔
685Sunan At-Tirmidhi

رمضان کے استقبال کی نیت سے روزے نہ رکھے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِصِيَامٍ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے (رمضان کے استقبال میں) روزہ نہ رکھو سوائے اس کے کہ آدمی اس دن روزہ رکھتا آ رہا ہو تو اسے رکھے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported Allah’s Messenger as saying, “Do not approach the month of Ramadan with fasting in advance by a day or two except if a man is used to fast (on those days) then he may fast”.

صحيح، ابن ماجة (1650)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 685
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٥٤٠٦) (صحیح)
686Sunan At-Tirmidhi

شک کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ النَّاسُ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَمَّارٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: كَرِهُوا أَنْ يَصُومَ الرَّجُلُ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، وَرَأَى أَكْثَرُهُمْ إِنْ صَامَهُ فَكَانَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَقْضِيَ يَوْمًا مَكَانَهُ.

صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم عمار بن یاسر ؓ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی تو انہوں نے کہا: کھاؤ۔ یہ سن کر ایک صاحب الگ گوشے میں ہوگئے اور کہا: میں روزے سے ہوں، اس پر عمار ؓ نے کہا: جس نے کسی ایسے دن روزہ رکھا جس میں لوگوں کو شبہ ہو ١ ؎ (کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں) اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

Silah ibn Zufar narrated that they were with Ammar ibn Yasir when a roasted sheep was brought. So he said, “Eat”. one of the people went aside, saying, “I am fasting”. So Ammar said, “He who fasts on the day about which there is doubt has, indeed, disobeyed Abul Qasim”. [Abu Dawud 2334, Nisai 2187, Ibn e Majah 1645] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1645)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 686
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمار ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان لوگوں نے اس دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے جس میں شبہ ہو، (کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں) اور ان میں سے اکثر کا خیال ہے کہ اگر وہ اس دن روزہ رکھے اور وہ ماہ رمضان کا دن ہو تو وہ اس کے بدلے ایک دن کی قضاء کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جس میں شبہ ہو سے مراد ٣٠ شعبان کا دن ہے یعنی بادل کی وجہ سے ٢٩ ویں دن چاند نظر نہیں آیا تو کوئی شخص یہ سمجھ کر روزہ رکھ لے کہ پتہ نہیں یہ شعبان کا تیسواں دن ہے یا رمضان کا پہلا دن، کہیں یہ رمضان ہی نہ ہو، اس طرح شک والے دن میں روزہ رکھنا صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصیام ٣٧ (٢١٩٠)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣ (١٦٤٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٣٥٤)، سنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٤) (صحیح)
687Sunan At-Tirmidhi

رمضان کے لئے شعبان کے چاند کا خیال رکھنا چاہئے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَجَّاجٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ . وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو اللَّيْثِيِّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Calculate the moon of Sha’ban for Ramadan”. --------------------------------------------------------------------------------

حسن، الصحيحة (565)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 687
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے اس طرح ابومعاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور صحیح وہ روایت ہے جو (عبدہ بن سلیمان نے) بطریق «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن پہلے روزہ شروع نہ کر دو، اسی طرح بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥١٢٣) (حسن)
688Sunan At-Tirmidhi

چاند دیکھ کر روزہ رکھے اور چاند دیکھ کر افطار کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان سے پہلے ١ ؎ روزہ نہ رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور دیکھ کر ہی بند کرو، اور اگر بادل آڑے آ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کرو ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not fast before Ramadan. Fast on seeing the new moon and break fast on seeing it. If the atmosphere is cloudy then complete the thirty days”. [Ahmed1985, Abu Dawud 2327, Nisai 2128] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (2016)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 688
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔ ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رمضان سے پہلے سے مراد شعبان کا دوسرا نصف ہے، مطلب یہ ہے کہ ١٥ شعبان کے بعد نفلی روزے نہ رکھے جائیں تاکہ رمضان کے فرض روزوں کے لیے اس کی قوت و توانائی برقرار رہے۔ ٢ ؎ یعنی بادل کی وجہ سے مطلع صاف نہ ہو اور ٢٩ شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کئے جائیں، اسی طرح اگر ٢٩ رمضان کو چاند نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس روزے پورے کر کے عید الفطر منائی جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٧ (٢٣٢٧)، سنن النسائی/الصیام ١٢ (٢١٢٦)، ( تحفة الأشراف: ٦١٠٥)، وأخرجہ موطا امام مالک/الصیام ١ (٣)، و مسند احمد (١/٢٢١)، وسنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٥) من غیر ہذا الطریق عنہ (صحیح)
689Sunan At-Tirmidhi

مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیس دن کے روزے رکھنے سے زیادہ ٢٩ دن کے روزے رکھے ہیں۔

Sayyidina lbn Mas’ud (RA) said, “I kept fast with the Prophet ﷺ for twenty nine days, but most that we fasted was thirty days’. [Abu Dawud 2322]

صحيح، ابن ماجة (1658)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 689
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں عمر، ابوہریرہ، عائشہ، سعد بن ابی وقاص، ابن عباس، ابن عمر، انس، جابر، ام سلمہ اور ابوبکرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہینہ ٢٩ دن کا (بھی) ہوتا ہے ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصوم ٤ (٢٣٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٤٧٨)، مسند احمد (١/٤٤١) (صحیح)
690Sunan At-Tirmidhi

مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَوْمًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا، فَقَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا (یعنی اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھائی) پھر آپ نے اپنے بالاخانے میں ٢٩ دن قیام کیا (پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے) تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے کا ایلاء کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: مہینہ ٢٩ دن کا (بھی) ہوتا ہے ۔

Sayyidina Anas said Allah’s Messenger ﷺ swore not to meet his wives for a month. So, he retired to an upper chamber for twenty nine days. The sahabah (RA) reminded him that he had taken an oath for a month. He said that a month is also made up of twenty-nine days”. [Bukhari 5289, Nisai 3452]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 690
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٨٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨)، والصوم ١١ (١٩١١)، والمظالم ٢٥ (٢٤٦٩)، والنکاح ٩١ (٥٢٠١)، والأیمان والنذور ٢٠ (٦٦٨٤)، سنن النسائی/الطلاق ٣٢ (٣٤٨٦)، مسند احمد (٣/٢٠٠) من غیر ہذا الطریق عنہ
691Sunan At-Tirmidhi

مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا بِلَالُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں نے چاند دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور کیا گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں دیتا ہوں، آپ نے فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a villager came to the Prophet ﷺ and confirmed that he had seen the new moon. So, he asked him, “Do you bear witness that there is no God but Allah? Do you bear witness that Muhammad is Allah’s Messenger?” He said, “Yes!” The Prophet ﷺ said, “O Bilal (RA) ! Proclaim to the men that they should fast tomorrow”. [Abu Dawud 2340, Nisai 2112, Ibn e Majah 1652] --------------------------------------------------------------------------------

692Sunan At-Tirmidhi

عید کے دو مہینے ایک ساتھ کم نہیں ہوتے

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ أَحْمَدُ: مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ، يَقُولُ: لَا يَنْقُصَانِ مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ شَهْرُ رَمَضَانَ وَذُو الْحِجَّةِ، إِنْ نَقَصَ أَحَدُهُمَا تَمَّ الْآخَرُ، وقَالَ إِسْحَاق: مَعْنَاهُ لَا يَنْقُصَانِ، يَقُولُ: وَإِنْ كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَهُوَ تَمَامٌ غَيْرُ نُقْصَانٍ، وَعَلَى مَذْهَبِ إِسْحَاق يَكُونُ يَنْقُصُ الشَّهْرَانِ مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان ١ ؎ اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے (یعنی دونوں ٢٩ دن کے نہیں ہوتے) ۔

Abdur Rahman ibn Abu Bakrah reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “The months of eid, Ramadan and DhuI Hajjah, do not diminish together”. [Ahmed20501, Bukhari 1912, Muslim 1089, Abu Dawud 2323, Ibn e Majah 1659]

صحيح، ابن ماجة (1659)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 692
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوبکرہ کی حدیث حسن ہے، ٢- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٣- احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس حدیث عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے کا مطلب یہ ہے کہ رمضان اور ذی الحجہ دونوں ایک ہی سال کے اندر کم نہیں ہوتے ٢ ؎ اگر ان دونوں میں کوئی کم ہوگا یعنی ایک ٢٩ دن کا ہوگا تو دوسرا پورا یعنی تیس دن کا ہوگا، ٤- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ٢٩ دن کے ہوں تو بھی ثواب کے اعتبار سے کم نہ ہوں گے، اسحاق بن راہویہ کے مذہب کی رو سے دونوں مہینے ایک سال میں کم ہوسکتے ہیں یعنی دونوں ٢٩ دن کے ہوسکتے ہیں ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ عید تو شوال میں ہوتی ہے پھر رمضان کو شہر عید کیسے کہا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قرب کی وجہ سے کہا گیا ہے چونکہ عید رمضان ہی کی وجہ سے متحقق ہوتی ہے لہٰذا اس کی طرف نسبت کردی گئی ہے۔ ٢ ؎: اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بعض اوقات دونوں انتیس ( ٢٩) کے ہوتے ہیں، تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عام طور سے دونوں کم نہیں ہوتے ہیں۔ ٣ ؎: اور ایسا ہوتا بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١٢ (١٩١٢)، صحیح مسلم/الصوم ٧ (١٠٨٩)، سنن ابی داود/ الصوم ٤ (٢٣٢٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٩ (١٦٥٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٦٧٧)، مسند احمد (٥/٣٨) (صحیح)
693Sunan At-Tirmidhi

ہر شہر والوں کے لئے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَأَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ؟ فَقُلْتُ: رَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، قَالَ: لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ ؟ قَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ لِكُلِّ أَهْلِ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ.

کریب بیان کرتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث نے انہیں معاویہ ؓ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور (اسی درمیان) رمضان کا چاند نکل آیا، اور میں شام ہی میں تھا کہ ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ١ ؎، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ آیا تو ابن عباس ؓ نے مجھ سے وہاں کے حالات پوچھے پھر انہوں نے چاند کا ذکر کیا اور کہا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہم نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم نے بھی جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ تو میں نے کہا: لوگوں نے اسے دیکھا اور انہوں نے روزے رکھے اور معاویہ ؓ نے بھی روزہ رکھا، اس پر ابن عباس ؓ نے کہا: لیکن ہم نے اسے ہفتہ (سنیچر) کی رات کو دیکھا، تو ہم برابر روزے سے رہیں گے یہاں تک کہ ہم تیس دن پورے کرلیں، یا ہم ٢٩ کا چاند دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا آپ معاویہ کے چاند دیکھنے اور روزہ رکھنے پر اکتفا نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی حکم دیا ہے ١ ؎۔

Kurayb said that Umm Fadi bint Harith sent him to Muawiyah (RA) in Syria. He said that he reached and accomplished the task she had assigned him. Meanwhile, he observed the new moon of Ramadan. He was in Syria and sighted the moon on Friday night. Then he came to Madinah towards the end of the month. Ibn Abbas (RA) asked him when he had seen the new moon. He said, “We saw it on the night of Friday”. He asked. “Did you see it yourself?” He said, “The people saw it and kept fast. Mu’awiyah also kept fast”. Ibn Abbas (RA) said, ‘We saw the new moon on Saturday, so we shall keep fast for thiry days unless the new moon for eid is visible”. Kurayb said, “Is not the seeing of Mu’awiyah and fasting enough for you?” He said, “No! Allah’s Messenger ﷺ has commanded us to do like this”. [Muslim 1078, Abu Dawud 2332, Nisai 2107] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1021)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 693
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ہر شہر والوں کے لیے ان کے خود چاند دیکھنے کا اعتبار ہوگا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے اور توڑنے کے سلسلہ میں چاند کی رویت ضروری ہے، محض فلکی حساب کافی نہیں، رہا یہ مسئلہ کہ ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقے کے لیے معتبر ہوگی یا نہیں؟ تو اس سلسلہ میں علماء میں اختلاف ہے جو گروہ معتبر مانتا ہے وہ کہتا ہے کہ «صوموا» اور «افطروا» کے مخاطب ساری دنیا کے مسلمان ہیں اس لیے کسی ایک علاقے کی رویت دنیا کے سارے علاقوں کے لیے رویت ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقے کے لیے کافی نہیں ان کا کہنا ہے کہ اس حکم کے مخاطب صرف وہ مسلمان ہیں جنہوں نے چاند دیکھا ہو، جن علاقوں میں مسلمانوں نے چاند دیکھا ہی نہیں وہ اس کے مخاطب ہی نہیں، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ہر علاقے کے لیے اپنی الگ رویت ہے جس کے مطابق وہ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے فیصلے کریں گے، اس سلسلہ میں ایک تیسرا قول بھی ہے کہ جو علاقے مطلع کے اعتبار سے قریب قریب ہیں یعنی ان کے طلوع و غروب میں زیادہ فرق نہیں ہے ان علاقوں میں ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقوں کے لیے کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٥ (١٠٨٧)، سنن ابی داود/ الصیام ٩ (٢٣٣٢)، سنن النسائی/الصیام ٧ (٢١١٣)، ( تحفة الأشراف: ٦٣٥٧)، مسند احمد (١/٣٠٦) (صحیح)