Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 36 of 199

756Sunan At-Tirmidhi

ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ . وَرَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ الْأَسْوَدِ، وَقَدِ اخْتَلَفُوا عَلَى مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ وَأَوْصَلُ إِسْنَادًا، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: الْأَعْمَشُ أَحْفَظُ لِإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے رکھتے کبھی نہیں دیکھا ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) said, “1 never saw the Prophet ﷺ keep fast during the first ten days (of the month of Dhul Hajjah’. [Abu Dawud 2439, Ibn e Majah 1729, Muslim 1176]

صحيح، ابن ماجة (1729)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 756
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اسی طرح کئی دوسرے لوگوں نے بھی بطریق «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے، ٢- اور ثوری وغیرہ نے یہ حدیث بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی» یوں روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا گیا، ٣- اور ابوالا ٔحوص نے بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی عن عائشہ» روایت کی اس میں انہوں نے اسود کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ٤- اور لوگوں نے اس حدیث میں منصور پر اختلاف کیا ہے۔ اور اعمش کی روایت زیادہ صحیح ہے اور سند کے اعتبار سے سب سے زیادہ متصل ہے، ٥- اعمش ابراہیم نخعی کی سند کے منصور سے زیادہ یاد رکھنے والے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر اس حدیث سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ان دنوں میں روزہ رکھنا مستحب ہے، خاص کر یوم عرفہ کے روزہ کی بڑی فضیلت وارد ہے، ویسے بھی ان دنوں کے نیک اعمال اللہ کو بہت پسند ہیں اس لیے اس حدیث کی تاویل کی جاتی کہ نبی اکرم ﷺ کا ان دنوں روزہ نہ رکھنا ممکن ہے بیماری یا سفر وغیرہ کسی عارض کی وجہ سے رہا ہو، نیز عائشہ ؓ کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ فی الواقع روزہ نہ رکھتے رہے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الاعتکاف ٤ (١١٧٦)، سنن ابی داود/ الصیام ٦٢ (٢٤٣٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٩)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٤٩) (صحیح)
757Sunan At-Tirmidhi

ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں اعمال صالحہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ هُوَ الْبَطِينُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذی الحجہ کے دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘None of the days when good deeds are done are dearer to Allah than during these ten days”. They asked, O Messenger of Allah! ﷺ Not even jihad in Allah’s cause?” So, he said, “Not even jihad in Allah’s cause except that a man goes out with his body and wealth and does not return with anyting”. [Ahmed1968, Bukhari 795, Abu Dawud 2438, Ibn e Majah 1727]

صحيح، ابن ماجة (1727)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 757
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ١١ (٩٦٩)، سنن ابی داود/ الصیام ٦١ (٢٤٣٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٥٦١٤)، مسند احمد (١/٢٢٤)، سنن الدارمی/الصوم ٥٢ (١٨١٤) (صحیح)
758Sunan At-Tirmidhi

ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں اعمال صالحہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَسْعُودِ بْنِ وَاصِلٍ، عَنْ النَّهَّاسِ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ مِثْلَ هَذَا. وقَالَ: قَدْ رُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا شَيْءٌ مِنْ هَذَا، وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے ۔

Sayyidina Abu Huryrah reported that the Prophet ﷺ said, ‘None of the days are dearer to Allah during which He is worshipped than the ten days ofDhul Hajjah. Fasting on each of these days is like fasting for a year and standing (in worship) on each of its nights is like standing on Laylatul Qadr. [Ibn e Majah 1728]

ضعيف، ابن ماجة (1728) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (377) مع بعض الاختلاف في الألفاظ، وانظر:، المشکاة (1471)، ضعيف الجامع الصغير (5161) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 758
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف مسعود بن واصل کی حدیث سے اس طریق کے علاوہ جانتے ہیں اور مسعود نے نہّاس سے روایت کی ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے کسی اور طریق سے نہیں جان سکے، ٤- اس میں سے کچھ جسے قتادہ نے بسند «قتادة عن سعيد بن المسيب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلا روایت کی ہے، ٤- یحییٰ بن سعید نے نہ اس بن قہم پر ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٨) (تحفة الأشراف: ١٣٠٩٨) (ضعیف) (سند میں نہ اس بن قہم ضعیف ہیں)
759Sunan At-Tirmidhi

شوال کے چھ روزے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ . وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَثَوْبَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ صِيَامَ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: هُوَ حَسَنٌ هُوَ مِثْلُ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ وَيُلْحَقُ هَذَا الصِّيَامُ بِرَمَضَانَ، وَاخْتَارَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أَنْ تَكُونَ سِتَّةَ أَيَّامٍ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قَالَ: إِنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ مُتَفَرِّقًا فَهُوَ جَائِزٌ، قَالَ: وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ أَبِي مُوسَى، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ: كَانَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ صِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ، فَيَقُولُ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ بِصِيَامِ هَذَا الشَّهْرِ عَنِ السَّنَةِ كُلِّهَا.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ (نفلی) روزے رکھے تو یہی صوم الدھر ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Ayyub (RA) reported that Allah’s Messenger ,L said, “If anyone fasts during Ramadan and follows it up with six (fasts) during Shawwal then that is like perpetual fasting”. [Ahmed23592, Muslim 1164, Abu Dawud 2433, Ibn e Majah 1716]

حسن صحيح، ابن ماجة (1716)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 759
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوایوب ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- عبدالعزیز بن محمد نے اس حدیث کو بطریق: «صفوان بن سليم بن سعيد عن عمر بن ثابت عن أبي أيوب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، ٣- شعبہ نے یہ حدیث بطریق: «ورقاء بن عمر عن سعد بن سعيد» روایت کی ہے، سعد بن سعید، یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں، ٤- بعض محدثین نے سعد بن سعید پر حافظے کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ ٥- حسن بصری سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس شوال کے چھ دن کے روزوں کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتے: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ اس ماہ کے روزوں سے پورے سال راضی ہے، ٦- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ثوبان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٧- ایک جماعت نے اس حدیث کی رو سے شوال کے چھ دن کے روزوں کو مستحب کہا ہے، ٨- ابن مبارک کہتے ہیں: یہ اچھا ہے، یہ ہر ماہ تین دن کے روزوں کے مثل ہیں، ٩- ابن مبارک کہتے ہیں: بعض احادیث میں مروی ہے کہ یہ روزے رمضان سے ملا دیئے جائیں، ١٠- اور ابن مبارک نے پسند کیا ہے کہ یہ روزے مہینے کے ابتدائی چھ دنوں میں ہوں، ١ ١- ابن مبارک سے نے یہ بھی کہا: اگر کوئی شوال کے چھ دن کے روزے الگ الگ دنوں میں رکھے تو یہ بھی جائز ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہے کے اصول کے مطابق رمضان کے روزے دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہوئے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے اگر رکھ لیے جائیں تو یہ دو مہینے کے روزوں کے برابر ہوں گے، اس طرح اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب مل جائے گا، جس کا یہ مستقل معمول ہوجائے اس کا شمار اللہ کے نزدیک ہمیشہ روزہ رکھنے والوں میں ہوگا، شوال کے یہ روزے نفلی ہیں انہیں متواتر بھی رکھا جاسکتا ہے اور ناغہ کر کے بھی، تاہم شوال ہی میں ان کی تکمیل ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٩ (١١٦٤)، سنن ابی داود/ الصیام ٥٨ (٢٤٣٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٣ (١٧١٦)، سنن الدارمی/الصوم ٤٤ (١٧٩٥)، ( تحفة الأشراف: ٣٤٨٢) (حسن صحیح)
760Sunan At-Tirmidhi

ہر مہینے میں تین روزے رکھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةً: أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَصَوْمَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الضُّحَى .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے تین باتوں کا عہد لیا: ١- میں وتر پڑھے بغیر نہ سووں، ٢- ہر ماہ تین دن کے روزے رکھوں، ٣- اور چاشت کی نماز (صلاۃ الضحیٰ ) پڑھا کروں۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ took a promise from him for three things : that he should not sleep without (offering) the witr (salah); he should keep three’fasts every month and he should pray the (salah of) duha. [Bukhari 1178, Muslim 721, Nisai 1673]

صحيح، الإرواء (946)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 760
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٨٨٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/التہجد ٣٣ (١١٧٨)، والصیام ٦٠ (١٩٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٨ (١٦٧٨)، والصیام ٧٠ (٢٣٦٨)، و ٨١ (٢٤٠٣)، (٢/٢٢٩، ٢٣٣، ٢٥٤، ٢٥٨، ٢٦٠، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٧٧، ٣٢٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٥)، والصوم ٣٨ (١٧٨٦)، من غیر ہذا الطریق وبتصرف یسیر فی السیاق۔
761Sunan At-Tirmidhi

ہر مہینے میں تین روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ بَسَامٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي عَقْرَبٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَقَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، وَجَرِيرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ أَنَّ مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ كَانَ كَمَنْ صَامَ الدَّهْرَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! جب تم ہر ماہ کے تین دن کے روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو رکھو ۔

Musa ibn Talhah said that he heard Sayyidina Abu Dharr (RA) say that Allah’s Messenger ﷺ said to him, “O Abu Dharr! If you keep three fasts during a month then keep them on the thirteenth, fourteenth and fifteenth. --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح، الإرواء (947)، (، المشکاة / التحقيق الثاني 2057)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 761
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوذر ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوقتادہ، عبداللہ بن عمرو، قرہ بن ایاس مزنی، عبداللہ بن مسعود، ابوعقرب، ابن عباس، عائشہ، قتادہ بن ملحان، عثمان بن ابی العاص اور جریر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے صوم الدھر رکھا ۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٨٤ (٢٤٢٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٩٨٨) (حسن صحیح) وأخرجہ: سنن النسائی/الصیام (المصدر المذکور (برقم: ٢٤٢٤-٢٤٣١)، مسند احمد (٥/١٥، ٥٢، ١٧٧) من غیر ہذا الطریق وبسیاق آخر۔
762Sunan At-Tirmidhi

ہر مہینے میں تین روزے رکھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160 الْيَوْمُ بِعَشْرَةِ أَيَّامٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ، وَأَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو یہی صیام الدھر ہے ، اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ارشاد باری ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» (الأنعام: ١٦٠) جس نے ایک نیکی کی تو اسے (کم سے کم) اس کا دس گنا اجر ملے گا گویا ایک دن (کم سے کم) دس دن کے برابر ہے۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “if anyone keeps fast for three days every month then that is perpetual fasting. Indeed, Allah, the Blessed and Exalted, revealed a confirmation of that in His Book {Whoever comes with a good deed, receives ten times as much. (6 : 160)}. So, each is like ten days. [Ahmed21359, Nisai 2405, Ibn e Majah 1708]

صحيح الإرواء أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 762
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شعبہ نے یہ حدیث بطریق: «أبي شمر وأبي التياح عن أبي عثمان عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٨٢ (٢٤١١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٩ (١٧٠٨)، ( تحفة الأشراف: ١١٩٦٧) (صحیح)
763Sunan At-Tirmidhi

ہر مہینے میں تین روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَال: سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: قُلْتُلِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ كَانَ يَصُومُ، قَالَتْ: كَانَ لَا يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ صَامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَيَزِيدُ الرِّشْكُ هُوَ يَزِيدُ الضُّبَعِيُّ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ الْقَسَّامُ، وَالرِّشْكُ هُوَ الْقَسَّامُ بِلُغَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ.

معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں رکھتے تھے، میں نے کہا: کون سی تاریخوں میں رکھتے تھے؟ کہا: آپ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سی تاریخ ہے۔

Yazid ar-Rishk said that Mu’adhah said that she asked Sayyidah Ayshah (RA),“Did Allahs Messenger ﷺ fast three days every month?” She said, “Yes!” She asked. “On which days of it, did he fast?” She said, “He was not particular on which of these he fasted”. [Ahmed25181, Muslim 1160, Abu Dawud 2453, Ibn e Majah 1709]

صحيح، ابن ماجة (1708)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 763
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یزید الرشک یزید ضبعی ہی ہیں، یہی یزید بن قاسم بھی ہیں اور یہی قسّام ہیں، رشک کے معنی اہل بصرہ کی لغت میں قسّام کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٦ (١١٦٠)، سنن ابی داود/ الصیام ٧٠ (٢٤٥٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٩ (١٧٠٩)، ( تحفة الأشراف: ١٧٩٧٧) (صحیح)
764Sunan At-Tirmidhi

روزہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَبَّكُمْ يَقُولُ: كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَإِنْ جَهِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ جَاهِلٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ . وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَسَلَامَةَ بْنِ قَيْصَرٍ، وَبَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ وَاسْمُ بَشِيرٍ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، وَالْخَصَاصِيَةُ هِيَ أُمُّهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب فرماتا ہے: ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اگر تم میں سے کوئی جاہل کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہہ دینا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, your Lord says: every good deed is like ten times to seven hundred times, and the fast is for Me and I give a reward for it. And, fasting is a shield from Hell. And the bad breath of one who is fasting is better in Allah’s sight than the fragrance of musk. If an ignorant person reviles one of you who is fasting then let him say (to him), “I am fasting”. [Ahmed7793, 9720, Bukhari 1904, Muslim 1151, Ibn e Majah 1638, Nisai 2214]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 57 - 58)، صحيح أبي داود (2046)، الإرواء (918)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 764
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں معاذ بن جبل، سہل بن سعد، کعب بن عجرہ، سلامہ بن قیصر اور بشیر بن خصاصیہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بشیر کا نام زحم بن معبد ہے اور خصاصیہ ان کی ماں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ اعمال سبھی اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں اور وہی ان کا بدلہ دیتا ہے پھر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ روزہ میں ریا کاری کا عمل دخل نہیں ہے جبکہ دوسرے اعمال میں ریا کاری ہوسکتی ہے کیونکہ دوسرے اعمال کا انحصار حرکات پر ہے جبکہ روزے کا انحصار صرف نیت پر ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ دوسرے اعمال کا ثواب لوگوں کو بتادیا گیا ہے کہ وہ اس سے سات سو گنا تک ہوسکتا ہے لیکن روزہ کا ثواب صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ ہی اس کا ثواب دے گا دوسروں کے علم میں نہیں ہے اسی لیے فرمایا: «الصوم لي و أنا أجزي به»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٠٩٧) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٢ (١٨٩٤)، و ٩ (١٩٠٤)، واللباس ٧٨ (٥٩٢٧)، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٢)، و ٥٠ (٧٥٣٨)، صحیح مسلم/الصیام ٣٠ (١١٥١)، سنن النسائی/الصیام ٤٢ (٢٢١٦-٢٢٢١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١ (١٦٣٨)، و ٢١ (١٦٩١)، موطا امام مالک/الصیام ٢٢ (٥٨)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٥٧، ٢٦٦، ٢٧٣، ٤٤٣، ٤٧٥، ٤٧٧، ٤٨٠، ٥٠١، ٥١٠، ٥١٦)، سنن الدارمی/الصوم ٥٠ (١٧٧٧)، من غیر ہذا الطریق وبتصرف فی السیاق۔
765Sunan At-Tirmidhi

روزہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَبَابا يُدْعَى الرَّيَّانَ، يُدْعَى لَهُ الصَّائِمُونَ فَمَنْ كَانَ مِنَ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزہ رکھنے والوں ١ ؎ کو اس کی طرف بلایا جائے گا، تو جو روزہ رکھنے والوں میں سے ہوگا اس میں داخل ہوجائے گا اور جو اس میں داخل ہوگیا، وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ۔

Sayyidina SahI ibn Sad (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, In Paradise, there is a gate called Rayan to which those who keep fasts are invited. Thus, he who is among those who observe fasting will enter it. And whoso enters it will never feel thirsty”. [Bukhari 3257, Muslim 1152, Ibn e Majah 1640]

صحيح، ابن ماجة (1640)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 765
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: روزہ رکھنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرض روزوں کے ساتھ نفلی روزے بھی کثرت سے رکھتے ہوں، ورنہ رمضان کے فرض روزے تو ہر مسلمان کے لیے ضروری ہیں، اس خصوصی فضیلت کے مستحق وہی لوگ ہوں گے جو فرض کے ساتھ بکثرت نفلی روزوں کا اہتمام کرتے ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ١ (١٦٤٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٧٧١) (صحیح) (مَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا) کا جملہ ثابت نہیں ہے، تراجع الالبانی ٣٥١) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٤ (١٨٩٦)، وبدء الخلق (٣٢٥٧)، صحیح مسلم/الصیام ٣٠ (١١٥٢)، مسند احمد (٥/٣٣٣، ٣٣٥)، من غیر ہذا الطریق۔
766Sunan At-Tirmidhi

روزہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کرتے وقت ہوتی ہے اور دوسری اس وقت ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملے گا ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported Allah’s Messenger as saying, “For one who fasts, there are two pleasures : joy at the time of breaking his fast and joy when he will meet his Lord”. [Ahmed972, Bukhari 1940, Muslim 1151, Nisai 2212, Ibn e Majah 1638] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1638)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 766
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: ٧٦٤ (التحفہ: ١٢٧١٩) (صحیح)
767Sunan At-Tirmidhi

ہمیشہ روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَنْ صَامَ الدَّهْرَ ؟ قَالَ: لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صِيَامَ الدَّهْرِ وَأَجَازَهُ قَوْمٌ آخَرُونَ، وَقَالُوا: إِنَّمَا يَكُونُ صِيَامُ الدَّهْرِ إِذَا لَمْ يُفْطِرْ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى وَأَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فَمَنْ أَفْطَرَ هَذِهِ الْأَيَّامَ فَقَدْ خَرَجَ مِنْ حَدِّ الْكَرَاهِيَةِ وَلَا يَكُونُ قَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق نَحْوًا مِنْ هَذَا، وَقَالَا: لَا يَجِبُ أَنْ يُفْطِرَ أَيَّامًا غَيْرَ هَذِهِ الْخَمْسَةِ الْأَيَّامِ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی صوم الدھر (پورے سال روزے) رکھے تو کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Qatadab (RA) reported that it was said, “O Messsenger of Allah! How is he who fasts always?” He said, “He neither kept fast not broke it”. (or, he said, “He never fasted and never broke fast)”. [Ahmed22600, Muslim 1162, Abu Dawud 2425, Nisai 2379, Ibn e Majah 1713]

صحيح، الإرواء (952)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 767
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن شخیر، عمران بن حصین اور ابوموسیٰ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے صوم الدھر کو مکروہ کہا ہے اور بعض دوسرے لوگوں نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صیام الدھر تو اس وقت ہوگا جب عید الفطر، عید الاضحی اور ایام تشریق میں بھی روزہ رکھنا نہ چھوڑے، جس نے ان دنوں میں روزہ ترک کردیا، وہ کراہت کی حد سے نکل گیا، اور وہ پورے سال روزہ رکھنے والا نہیں ہوا مالک بن انس سے اسی طرح مروی ہے اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی طرح کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ ان پانچ دنوں یوم الفطر، یوم الاضحی اور ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، بقیہ دنوں میں افطار کرنا واجب نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ راوی کو شک ہے کہ «لا صام ولا أفطر» کہا یا «لم يصم ولم يفطر» کہا ( دونوں کے معنی ایک ہیں ) ظاہر یہی ہے کہ یہ خبر ہے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی، اور افطار نہیں کیا کیونکہ وہ بھوکا پیاسا رہا کچھ کھایا پیا نہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ بد دعا ہے، یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اس کے اس فعل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٤٩ (تحفة الأشراف: ١٢١١٧) (صحیح)
768Sunan At-Tirmidhi

پے درپے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ قَالَتْ: وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ شَهْرًا كَامِلًا إِلَّا رَمَضَانَ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ نے خوب روزے رکھے، پھر آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ نے بہت دنوں سے روزہ نہیں رکھے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے پورے روزے نہیں رکھے ١ ؎۔

Ahdullah ibn Shafiq said that he asked Sayyidah Ayshah (RA) about the fasts of the Prophet ﷺ . She said, “He used to fast till we thought that he would continue to fast, and he would cease to fast till we thought that he would never again fast.And Allahs Messenger ﷺ never fasted during a whole month, except during Ramadan”. [Ahmed26112, Muslim 1156, Nisai 2345]

صحيح، ابن ماجة (1710)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 768
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ تھی تاکہ کوئی اس کے وجوب کا گمان نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٦)، سنن النسائی/الصیام ٧٠ (٢٣٥١)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٠٢)، وانظر ما تقدم عند المؤلف برقم: ٧٣٧ (صحیح)
769Sunan At-Tirmidhi

پے درپے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكُنْتَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ مُصَلِّيًا وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ نَائِمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: آپ کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے: اب آپ کا ارادہ روزے بند کرنے کا نہیں ہے، اور کبھی بغیر روزے کے رہتے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ آپ کوئی روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اور آپ کو رات کے جس حصہ میں بھی تم نماز پڑھنا دیکھنا چاہتے نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جس حصہ میں سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو سوتے ہوئے دیکھ لیتے۔

--------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 769
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٨٤) (صحیح)
770Sunan At-Tirmidhi

پے درپے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ الْمَكِّيُّ الْأَعْمَى وَاسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ أَنْ تَصُومَ يَوْمًا وَتُفْطِرَ يَوْمًا، وَيُقَالُ: هَذَا هُوَ أَشَدُّ الصِّيَامِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل روزہ میرے بھائی داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے، اور جب (دشمن سے) مڈبھیڑ ہوتی تو میدان چھوڑ کر بھاگتے نہیں تھے ۔

Sayyidina Abdullah (RA) narrrated that Allahs Messenger ﷺ said, “The most excellent fast said, is the fast of my brother Dawood L_i, He used to fast one day and go without fasting the next day. And, he would never flee when he encountered (an enemy)”. [Ahmed6891, Bukhari 1977, Muslim 1159, Nisai 2374, Ibn e Majah 1706]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 770
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ سب سے افضل روزہ یہ ہے کہ تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہو، کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے سخت روزہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بہذا السیاق ( تحفة الأشراف: ٨٦٣٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٥٧ (١٩٧٧)، و ٥٩ (١٩٧٩)، والانبیاء ٣٨ (٣٤٢٠)، وفضائل القرآن ٣٤ (٥٠٥٢)، والنکاح ٨٩ (٥١٩٩)، والأدب ٨٤ (٦١٣٤)، سنن ابی داود/ الصیام ٥٣ (٢٤٢٧)، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩)، سنن النسائی/الصیام ٧١ (٢٣٨٠)، و ٧٦ (٢٣٩٠-٢٣٩٥)، و ٧٧ (٢٣٩٦-٢٣٩٨)، و ٧٨ (٢٣٩٩-٢٤٠١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٨ (١٧٠٦)، و ٣١ (١٧١٢)، مسند احمد ٢/١٦٠، ١٦٤، ١٨٨، ١٨٩، ١٩٠، ١٩٤، ١٩٥، ١٩٨، ١٩٩، ٢٠٠، ٢٠٦، ٢١٦، ٢٢٤، ٢٦٥)، سنن الدارمی/الصوم ٤٢ (١٧٩٣)، من غیر ہذا الطریق وبتصرف في السیاق۔
771Sunan At-Tirmidhi(772)

پے درپے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ: وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْمَازِنِيُّ الْمَدَنِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ، رَوَى لَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو روزوں سے منع فرمایا: یوم الاضحی (بقر عید) کے روزے سے اور یوم الفطر (عید) کے روزے سے ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri i said that Allah’s Messenger ﷺ disallowed two fasts, the fast of day of al-Adha and the day of al-Fitr. [Ahmed11804, Bukhari 1991, Muslim 827, Abu Dawud 2417, Ibn e Majah 1721]

صحيح (1721)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 772
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، علی، عائشہ، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- عمرو بن یحییٰ ہی عمارہ بن ابی الحسن مازنی ہیں، وہ مدینے کے رہنے والے ہیں اور ثقہ ہیں۔ سفیان ثوری، شعبہ اور مالک بن انس نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ /الصوم ٦٦ (١٩٩١)، صحیح مسلم/الصیام ٢٢ (٨٢٧)، سنن ابی داود/ الصیام ٤٨ (٢٤١٧)، ( تحفة الأشراف: ٤٤٠٤) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢١)، مسند احمد (٣/٣٤)، سنن الدارمی/الصوم ٤٣ (١٧٩٤)، من غیر ہذا الطریق۔
772Sunan At-Tirmidhi(771)

پے درپے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صَوْمِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صَوْمِكُمْ وَعِيدٌ لِلْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِكُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْمُهُ سَعْدٌ وَيُقَالُ لَهُ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ أَيْضًا، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ هُوَ ابْنُ عَمِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے مولیٰ ابو عبید سعد کہتے ہیں کہ میں عمر بن الخطاب ؓ کے پاس دسویں ذی الحجہ کو موجود تھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرماتے سنا ہے، عید الفطر کے دن سے، اس لیے کہ یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن اور مسلمانوں کی عید ہے اور عید الاضحی کے دن اس لیے کہ اس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاؤ ١ ؎۔

Abu Ubayd (RA) the freedman of Abdur Rahman ibn Awf said that he saw Umar ibn al-Khattab (RA) begin with salah on the day of sacrifice before the sermon. He said, “I heard Allahs Messenger ﷺ disallow fasting on these two days. As for the Fed ul-Fitr, it is your breakfast after your fasts, and an eid for Muslims. And, as for the day of sacrifice (adha), eat the flesh of your sacrifice”. [Ahmed224, Bukhari 1990, Muslim 1137, Abu Dawud 2416, Ibn e Majah 1722]

صحيح، ابن ماجة (1722)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 771
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا اجماع ہے کہ ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنا کسی بھی حال میں جائز نہیں خواہ وہ نذر کا روزہ ہو یا نفلی روزہ ہو یا کفارے کا یا ان کے علاوہ کوئی اور روزہ ہو، اگر کوئی تعیین کے ساتھ ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر مان لے تو جمہور کے نزدیک اس کی یہ نذر منعقد نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کی قضاء اس پر لازم آئے گی اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں نذر منعقد ہوجائے گی لیکن وہ ان دونوں دنوں میں روزہ نہیں رکھے گا، ان کی قضاء کرے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٦ (١٩٩٠)، والأضاحی ١٦ (٥٥٧١)، صحیح مسلم/الصیام ٢٢ (١١٣٧)، سنن ابی داود/ الصیام ٤٨ (٢٤١٦)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢٢)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٦٣)، موطا امام مالک/العیدین ٢ (٥) مسند احمد (١/٤٠) (صحیح)
773Sunan At-Tirmidhi

ایام تشریق میں روزہ رکھنا حرام ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَنُبَيْشَةَ، وَبِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ، وَأَنَسٍ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الصِّيَامَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، إِلَّا أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ رَخَّصُوا لِلْمُتَمَتِّعِ إِذَا لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَلَمْ يَصُمْ فِي الْعَشْرِ أَنْ يَصُومَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَهْلُ الْعِرَاقِ يَقُولُونَ: مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ: مُوسَى بْنُ عُلِيٍّ، وقَالَ: سَمِعْت قُتَيْبَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: قَالَ مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ: لَا أَجْعَلُ أَحَدًا فِي حِلٍّ صَغَّرَ اسْمَ أَبِي.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوم عرفہ ١ ؎، یوم نحر ٢ ؎ اور ایام تشریق ٣ ؎ ہماری یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The day of Arafah, the day of sacrifice and the days of tashriq are eid days (festivals) for us, the people of Islam. These are days to eat and drink”. [Abu Dawud 2419, Nisai 3001]

صحيح، صحيح أبي داود (2090)، الإرواء (4 / 130)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 773
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عقبہ بن عامر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، سعد، ابوہریرہ، جابر، نبیشہ، بشر بن سحیم، عبداللہ بن حذافہ، انس، حمزہ بن عمرو اسلمی، کعب بن مالک، عائشہ، عمرو بن العاص اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ البتہ صحابہ کرام وغیرہم کی ایک جماعت نے حج تمتع کرنے والے کو اس کی رخصت دی ہے جب وہ ہدی نہ پائے اور اس نے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن میں روزہ نہ رکھے ہوں کہ وہ ایام تشریق میں روزہ رکھے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ یوم عرفہ سے مراد وہ دن ہے جس میں حاجی میدان عرفات میں ہوتے ہیں یعنی نویں ذی الحجہ مطابق رؤیت مکہ مکرمہ۔ ٢ ؎ قربانی کا دن یعنی دسویں ذی الحجہ۔ ٣ ؎ ایام تشریق سے مراد گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٤٩ (٢٤١٩)، سنن النسائی/المناسک ١٩٥ (٣٠٠٧)، ( تحفة الأشراف: ٩٩٤١)، سنن الدارمی/الصوم ٤٧ (١٨٠٥) (صحیح)
774Sunan At-Tirmidhi

پچھنے لگانا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ومحمود بن غيلان، ويحيى بن موسى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعْدٍ، وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، وَثَوْبَانَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَمَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ وَيُقَالُ ابْنُ يَسَارٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَبِلَالٍ، وَسَعْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَذُكِرَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَاب حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَذُكِرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَاب حَدِيثُ ثَوْبَانَ، وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ رَوَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا، حَدِيثَ ثَوْبَانَ، وَحَدِيثَ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ. وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ، حَتَّى أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ احْتَجَمَ بِاللَّيْلِ، مِنْهُمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، وَابْنُ عُمَرَ، وَبِهَذَا يَقُولُ ابْنُ الْمُبَارَكِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت إِسْحَاق بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: مَنِ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، قَالَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ: وَهَكَذَا قَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق. حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: وقَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ وَلَا أَعْلَمُ وَاحِدًا مِنْ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ ثَابِتًا، وَلَوْ تَوَقَّى رَجُلٌ الْحِجَامَةَ وَهُوَ صَائِمٌ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ، وَلَوِ احْتَجَمَ صَائِمٌ لَمْ أَرَ ذَلِكَ أَنْ يُفْطِرَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا كَانَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ بِبَغْدَادَ، وَأَمَّا بِمِصْرَ فَمَالَ إِلَى الرُّخْصَةِ وَلَمْ يَرَ بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ.

رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سینگی (پچھنا) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ نہیں رہا ۔

Sayyidina Rafi’ ibn Khadij (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “The fast of one who gets himself cupped and one who cups are invalidated.” [Ahmed15828]

صحيح، ابن ماجة (1679 - 1681)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 774
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- رافع بن خدیج ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے صحیح رافع بن خدیج کی روایت ہے، ٣- اور علی بن عبداللہ (ابن المدینی) کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے صحیح ثوبان اور شداد بن اوس کی حدیثیں ہیں، اس لیے کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوقلابہ سے ثوبان اور شداد بن اوس دونوں کی حدیثوں کی ایک ساتھ روایت کی ہے، ٤- اس باب میں علی، سعد، شداد بن اوس، ثوبان، اسامہ بن زید، عائشہ، معقل بن سنان (ابن یسار بھی کہا جاتا ہے) ، ابوہریرہ، ابن عباس، ابوموسیٰ، بلال اور سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہاں تک کہ بعض صحابہ نے رات کو پچھنا لگوایا۔ ان میں موسیٰ اشعری، اور ابن عمر بھی ہیں۔ ابن مبارک بھی یہی کہتے ہیں: ٦- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ جس نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا، اس پر اس کی قضاء ہے، اسحاق بن منصور کہتے ہیں: اسی طرح احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کہا ہے، ٧- شافعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ اور نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ توڑ دیا ، اور میں ان دونوں حدیثوں میں سے ایک بھی صحیح نہیں جانتا، لیکن اگر کوئی روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے سے اجتناب کرے تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے، اور اگر کوئی روزہ دار پچھنا لگوا لے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس سے اس کا روزہ ٹوٹ گیا، ٨- بغداد میں شافعی کا بھی یہی قول تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ مصر میں وہ رخصت کی طرف مائل ہوگئے تھے اور روزہ دار کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں احرام کی حالت میں پچھنا لگوایا تھا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا ان کا موقف یہ تھا کہ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ جانے کا حکم منسوخ ہوگیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٥٥٦) (صحیح)
775Sunan At-Tirmidhi

روزہ دار کو پچھنے لگانے کی اجازت

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. هَكَذَا رَوَى وَهِيبٌ نَحْوَ رِوَايَةِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَرَوَى إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا، آپ محرم تھے اور روزے سے تھے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger had himself cupped when he was in the state of ihram and was fasting. [Ahmed1849, Bukhari 1835, Muslim 1202, Abu Dawud 1835, Nisai 2843]

صحيح - بلفظ: .... واحتجم وهو صائم -، ابن ماجة (1682)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 775
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اسی طرح وہیب نے بھی عبدالوارث کی طرح روایت کی ہے، ٣- اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے ایوب سے اور ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور، عکرمہ نے اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٢ (١٩٣٨)، والطب ١٢ (٥٦٩٥)، سنن ابی داود/ الصیام ٢٩ (٢٣٧٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٩٨٩) (صحیح) ” احتجم وھو صائم “ کے لفظ سے صحیح ہے جو بسند عبدالوارث صحیح بخاری میں موجود ہے، اور ترمذی کا یہ سیاق سنن ابی داود میں بسند یزید عن مقسم عن ابن عباس موجود ہے، جب کہ حکم اور حجاج نے مقسم سے روایت میں ” محرم “ کا لفظ نہیں ذکر کیا ہے، در اصل الگ الگ نبی اکرم ﷺ نے دونوں حالت میں حجامت کرائی، جس کا ذکر صحیح بخاری میں بسند وہیب عن ایوب، عن عکرمہ، عن ابن عباس ہے کہ أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احتجم وهو محرم، واحتجم وهو صائم: ١٨٣٥، ١٩٣٨) پتہ چلا کہ پچھنا لگوانے کا یہ کام حالت صوم و احرام میں ایک ساتھ نہیں ہوا ہے، بلکہ دو الگ الگ واقعہ ہے) وقد أخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٥)، واطلب ١٥ (٥٧٠٠)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٢)، سنن ابی داود/ الحج ٣٦ (١٨٣٥، ١٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٨٧ (٣٠٨١)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٢٢، ٢٣٦، ٢٤٨، ٢٤٩، ٢٦٠، ٢٨٣، ٢٨٦، ٢٩٢، ٣٠٦، ٣١٥، ٣٣٣، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٧٢، ٣٧٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٢٠)، من غیر ہذا الطریق۔